Baaghi TV

Category: لاہور

  • 22 لاکھ کا جہیز،27 تولہ سونا واپسی کی درخواست پر عدالت نے کہا کہ بتائیں لڑکی کا والد کیا کام کرتا ہے

    22 لاکھ کا جہیز،27 تولہ سونا واپسی کی درخواست پر عدالت نے کہا کہ بتائیں لڑکی کا والد کیا کام کرتا ہے

    22 لاکھ کا جہیز،27 تولہ سونا واپسی کی درخواست پر عدالت نے کہا کہ بتائیں لڑکی کا والد کیا کام کرتا ہے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاہورہائیکورٹ نے 22 لاکھ کے جہیز اور27 تولہ سونے کی واپسی کی درخواست پر سماعت خاتون کے سابق شوہر محمد خان سے 27 اکتوبر کو جواب طلب کرلیا۔

    لاہورہائیکورٹ میں 22لاکھ کے جہیز اور27 تولہ سونے کی واپسی کی درخواست پر سماعت ہوئی ،عدالت نے کہاکہ کیا اتنا جہیز اور سونا دینے کی خاتون کے والد کی مالی حیثیت تھی ،پہلے بتائیں لڑکی کا والد کیا کام کرتا ہے،ماتحت عدالت میں دعویٰ پر یک طرفہ فیصلہ ہوا ہے.

    وکیل درخواست گزارنے عدالت میں کہا کہ خاتون کے والد کے پاس کروڑوں روپے کے پلاٹس اور دیگر پراپرٹی ہے ، عدالت نے کہا کہ کیا یہ پراپرٹی کی ملکیتی دستاویزات ماتحت عدالت میں پیش کی گئیں ، وکیل نے کہا کہ جی ماتحت عدالت میں جائیدادوں کی ملکیتی ریکارڈ پیش نہیں کیا گیا ، ماتحت عدالت کے فیصلے کے باوجود جہیزاورسونا واپس نہیں کیا جارہا،

    عدالت نے خاتون کے سابق شوہر محمد خان سے 27 اکتوبر کو جواب طلب کرلیا،

  • جس اسکول میں کورونا کیس سامنے آیا اسے فوری طور پر بند کر دیا جائے گا، مراد راس

    جس اسکول میں کورونا کیس سامنے آیا اسے فوری طور پر بند کر دیا جائے گا، مراد راس

    وزیر تعلیم پنجاب مراد راس نےکہا ہے کہ جس اسکول میں کورونا کیس سامنے آیا اسے فوری طور پر بند کر دیا جائے گا۔

    باغی ٹی و ی : نجی ٹی وی چنیل ہم نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں ایک لاکھ 20 ہزار اسکولز ہیں، بعض اسکولوں میں ایس او پیز پر عمل درآمد ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسکولز کے کورونا سے متاثرہ عملہ یا اساتذہ کو حاضری سے گریز کرنا چاہیے، عرصہ بعد تعلیمی ادارے کھلے ہیں، ہم تمام اسکولوں کو بند نہیں کریں گے۔ مراد راس نے کہا کہ پنجاب کے بعض سرکاری تعلیمی اداروں میں حاضری اچھی تھی، اساتذہ اور اسکول انتظامیہ تعلیمی اداروں کو کھولنے کے لیے اصرار کررہے تھے۔انہوں نے کہا کہ اب وقت ہے کہ اساتذہ اور انتظامیہ ذمہ داری کامظاہرہ کریں

    کرونا ایس او پیز کی خلاف ورزی، این سی او سی ان ایکشن، مزید 13 تعلیمی ادارے سیل


    کرونا ایس او پیز کی خلاف ورزی پر مزید 13 تعلیمی ادارے سیل کر دیئے گئے

    این سی او سی کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پاکستان بھر میں کورونا ایس او پیز پر عملدرآمد نہ کرنے والے 13 تعلیمی ادارے بند کر دئیے گئے ہیں، 10 تعلیمی اداروں کا تعلق خیبرپختونخوا جبکہ 3 کا تعلق سندھ سے ہے، پاکستان میں اب تک سیل کیے گئے اداروں کی تعداد 35 ہوگئی۔

    قبل ازیں گزشتہ روز این سی او سی نے کہا تھا کہ کرونا ایس او پیز کی خلاف ورزی پر گزشتہ 48 گھنٹے کے دوران 22تعلیمی اداروں کو بند کردیا گیا، این سی او سی کے مطابق تعلیمی اداروں کو کورونا ایس او پیزکی خلاف ورزی پر بند کردیا گیا ،خیبرپختونخوا 16،اسلام آباد ایک اور آزاد کشمیر کے 5 تعلیمی ادارے بند کیے گئے ہیں

    دوسری جانب حیدر آباد کے ڈسڑکٹ مٹیاری کے دو کالجز میں عملےکے 8 افراد میں کورونا کی تشخیص ہوئی ہے، کورونا وائرس کے کیسز آنے کے بعد دونوں کالجز کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے

  • زیادتی کیس کا مقدمہ درج نہ کرنے پر ایس ایچ او اور محرر گرفتار

    زیادتی کیس کا مقدمہ درج نہ کرنے پر ایس ایچ او اور محرر گرفتار

    زیادتی کیس کا مقدمہ درج نہ کرنے پر ایس ایچ او اور محرر گرفتار

    باغی ٹی وی : تحصیل خیرپور ٹامیوالی میں لڑکی سے زیادتی کی مبینہ کوشش پر پولیس کی جانب سے بروقت مقدمہ درج نہ کرنے پر متعلقہ تھانہ کے ایس ایچ او رانا انوارالحق اور محرر کو گرفتار کرکے حوالات میں بند کر دیا گیا ہے۔

    پنجاب کے ضلع بہاولپور کی تحصیل خیرپورٹا میوالی میں مبینہ زیادتی کی کوشش پر 19 سالہ لڑکی نے مبینہ طور پر زہر کھا کر خود کشی کرلی۔ بہاول پور کی تحصیل خیر پور ٹامیوالی میں 19 سالہ لڑکی سے مبینہ زیادتی کی کوشش کی گئی اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ پولیس نے تاخیر سے پرچہ درج کیا، جس کی وجہ سے مبینہ زیادتی کا شکار لڑکی نے دلبرداشتہ ہو کر خودکشی کرلی۔مٹاثرہ لڑکی اور اس کے والدین نے تھانہ خیرپور ٹامیوالی میں درخواست دی۔ پولیس نے درخواست وصول کی لیکن کارروائی عمل میں نہ لائی اور ملزم لقمان آزادانہ گھومتا رہا۔

    طلبا کے ساتھ زیادتی کرنے، ویڈیو بنا کر بلیک میل کرنے والے سابق پولیس اہلکار کو عدالت نے سنائی سزا

    لاہور میں 2 بچیوں کے اغوا کی کوشش ناکام،ملزم گرفتار

    پولیس ناکے پر 100روپے کے تنازعے پر دو پولیس اہلکار آپس میں لڑ پڑے

    خاتون کی غیر اخلاقی ویڈیو وائرل کرنیوالا ملزم لاڑکانہ سے گرفتار

    موٹروے کے قریب خاتون سے مبینہ زیادتی ،پولیس کی 20 ٹیمیں تحقیقات میں مصروف

    ‏موٹروے پر اجتماعی زیادتی کا سن کر دل دہل گیا ، ملوث تمام افراد کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے ، مریم نواز

    موٹر وے کے قریب خاتون سے اجتماعی زیادتی،سراج الحق کا ملزمان کی گرفتاری کیلئے 48 گھنٹوں کا الٹی میٹم

    پولیس سے انصاف نہ ملنے پر متاثرہ لڑکی دلبرداشتہ ہوگئی اور زہر پی لیا۔ طبیعت بگڑنے پر والدین بیٹی کو اسپتال لے کر گئے جہاں اس کی جان نہ بچ سکی۔متاثرہ لڑکی کی خودکشی کی خبر میڈیا پر نشر ہوئی تو ڈی پی او بہاول پور کے حکم پر کارروائی کرکے پولیس نے ملزم کو گرفتار کر لیا۔ مقدمہ درج نہ کرنے اور انصاف نہ دلانے پر تھانہ خیرپورٹامیوالی کے ایس ایچ او رانا انوارالحق سمیت عملے کو بھی گرفتار کرکے حوالات میں بند کردیا گیا

    دریں اثنا وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے زیادتی کا نشانہ بننے والی لڑکی کی مبینہ خودکشی کا نوٹس لیتے ہوئے ریجنل پولیس آفیسر (آر پی او) بہاولپور سے رپورٹ طلب کرلی اور واقعہ کی تحقیقات کا حکم دیا ہے

  • غیر قانونی شراب لائسنس کیس،ملزم جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے

    غیر قانونی شراب لائسنس کیس،ملزم جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق غیر قانونی شراب لائسنس کیس میں عدالت نے ملزم اکرم اشرف گوندل کو 10 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کردیا

    عدالت نے ملزم اکرم اشرف گوندل کو دوبارہ 28 ستمبر کو پیش کرنے کاحکم دے دیا، عدالت نے سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا تھا جو اب عدالت نے سنا دیا ہے

    احتساب عدالت لاہورمیں نجی ہوٹل کو مبینہ غیر قانونی شراب لائسنس اجرا سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،سابق ڈی جی ایکسائز و ٹیکسیشن ملزم اکرم اشرف گوندل کو احتساب عدالت میں پیش کیا گیا،عدالت نے نیب کے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ ملزم کا اس کیس میں کیا کردار ہے؟ جس پر نیب تفتیشی افسر نے عدالت کو جواب دیا کہ ملزم نے اختیارات کا غلط استعمال کیا،

    عدالت نے استفسار کیا کہ عدالت میں کیس زیر التوا ہے اس کا کیا بنا؟ آخری لائسنس کب جاری کیا گیا تھا، نیب تفتیشی افسر نے کہا کہ 20 سال پہلے آخری لائسنس جاری ہوا تھا،اکرم اشرف گوندل نے عدالت میں کہا کہ سندھ میں 200 سے زیادہ لائسنس جاری ہو چکے ہیں، عدالت نے استفسار کیا کہ پنجاب نے ابتک کتنے لائسنس جاری کیے؟ جس پر ملزم اکرم اشرف گوندل نے کہا کہ پنجاب میں ابتک 9 لائسنس جاری ہوچکے ہیں،

    بڑی خوشخبری، پاکستان کی قسمت جاگنے والی ہے، کیسے؟ سنیے مبشر لقمان کی زبانی

    آصف زرداری کے کلفٹن کراچی میں گھر کی ادائیگی کس نے کی؟ نیب نے عدالت میں جمع کروایا جواب

    تحریک انصاف کے ایک اور رہنما،رکن قومی اسمبلی نیب کے ریڈار پر

    وزیراعلیٰ پنجاب کی نیب میں طلبی،ترجمان پنجاب حکومت کا موقف آ گیا

    مریم نواز کے وکلاء نے ہی مریم نواز کی الیکشن کمیشن میں مخالفت کر دی، اہم خبر

    صرف اللہ کوجوابدہ ،کوئی کچھ بھی رائے رکھےانصاف کے مطابق فیصلہ دیں گے، عدالت کےحمزہ کیس میں ریمارکس

    حمزہ شہباز کو جیل میں کیوں رکھا ہوا ہے؟ مریم اورنگزیب نے کیا بڑا انکشاف

    نیب قانون میں اپوزیشن کی جانب سے ترامیم کا مسودہ، قریشی نے کھری کھری سنا دیں، کہا تحریک انصاف کیلئے یہ ممکن نہیں

    عثمان بزدار وزیراعلیٰ رہیں گے یا نہیں؟ گورنر پنجاب نے بڑا اعلان کر دیا

    عدالت نے ریمارکس دیئے کہ سندھ والے بہت لبرل ہیں،اکرم اشرف گوندل نے کہا کہ سندھ میں غیر مسلم زیادہ ہیں،ملزم کے وکیل نے کہا کہ نیب نے خلاف قانون گرفتار کیا ،یہ معاملہ ہائیکورٹ میں چل رہا ہے،جو لائسنس جاری ہوا تھوڑے عرصے بعد ہی معطل کر دیا گیا،

  • غیر قانونی شراب لائسنس اجرا کیس،نیب نے گرفتار ملزم عدالت پیش کر دیا،ملزم نے کیا اہم انکشاف

    غیر قانونی شراب لائسنس اجرا کیس،نیب نے گرفتار ملزم عدالت پیش کر دیا،ملزم نے کیا اہم انکشاف

    غیر قانونی شراب لائسنس اجرا کیس،نیب نے گرفتار ملزم عدالت پیش کر دیا،ملزم نے کیا اہم انکشاف
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق احتساب عدالت لاہورمیں نجی ہوٹل کو مبینہ غیر قانونی شراب لائسنس اجرا سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    سابق ڈی جی ایکسائز و ٹیکسیشن ملزم اکرم اشرف گوندل کو احتساب عدالت میں پیش کیا گیا،عدالت نے نیب کے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ ملزم کا اس کیس میں کیا کردار ہے؟ جس پر نیب تفتیشی افسر نے عدالت کو جواب دیا کہ ملزم نے اختیارات کا غلط استعمال کیا،

    عدالت نے استفسار کیا کہ عدالت میں کیس زیر التوا ہے اس کا کیا بنا؟ آخری لائسنس کب جاری کیا گیا تھا، نیب تفتیشی افسر نے کہا کہ 20 سال پہلے آخری لائسنس جاری ہوا تھا،اکرم اشرف گوندل نے عدالت میں کہا کہ سندھ میں 200 سے زیادہ لائسنس جاری ہو چکے ہیں، عدالت نے استفسار کیا کہ پنجاب نے ابتک کتنے لائسنس جاری کیے؟ جس پر ملزم اکرم اشرف گوندل نے کہا کہ پنجاب میں ابتک 9 لائسنس جاری ہوچکے ہیں،

    عدالت نے ریمارکس دیئے کہ سندھ والے بہت لبرل ہیں،اکرم اشرف گوندل نے کہا کہ سندھ میں غیر مسلم زیادہ ہیں، احتساب عدالت لاہور نے نیب کے ملزم کی جسمانی ریمانڈ کی استدعا پر فیصلہ محفوظ کرلیا

    واضح رہے کہ نیب لاہور کیجانب سے لاہور کے نجی ہوٹل کو مبینہ غیر قانونی طور پر شراب لائسنس اجراء کے کیس کی تحقیقات میں اہم پیشرفت کے طور پر سابق ڈی جی ایکسائز و ٹیکسیشن ملزم اکرم اشرف گوندل کی گزشتہ روز قانون کے مطابق گرفتاری عمل میں لائی گئی تھی

    نیب لاہور نے محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے افسران و اہلکاران اور نجی ہوٹل کی انتظامیہ کیخلاف مبینہ غیر قانونی طور پر شراب لائسنس کیٹگری ایل 2- کے اجراء و حصول کے حوالے سے تحقیقات کا آغاز کیا جبکہ دورانِ تحقیقات انکشاف ہوا کہ مذکورہ نجی ہوٹل شراب لائسنس کے حصول کیلئے درکار قانونی معیار4\5 سٹا رریٹینگ کا حامل نہ تھا۔اگرچہ مذکورہ نجی ہوٹل کیجانب سے پنجاب ٹورسٹ سروسز ڈیپارٹمنٹ سے 4\5 سٹا ر رینٹنگ سرٹیفیکیٹ بھی حاصل نہ کیا گیا۔

    سابق ڈی جی ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ملزم اکرم اشرف گوندل کیجانب سے شراب لائسنس کے اجراء کیلئے دیگر ضروری اقدامات کو بھی مد نظر نہ رکھا گیا اگرچہ ملزم نے بطور ڈی جی ایکسائز قانون کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اور دیگر قانونی مندرجات کو مدنظر رکھے بغیر نجی ہوٹل کو L-2کیٹگری لائسنس کے اجراء میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ملزم نے مبینہ طور پر نجی ہوٹل کو فائدہ پہنچانے کیلئے اپنے ایکسائز ٹیکسیشن آفیسر (ETO) کے ذریعے دیگر مختلف اداروں سے غیر قانونی لائسنس کے اجراء کیلئے No Objection Certificateحاصل کیا۔ نیب تحقیقات میں مزید انکشاف ہوا کہ ملزم کیجانب سے اہلیت نہ ہونے کے باوجودنجی ہوٹل کیلئے L-2کیٹگری کے شراب لائسنس کے اجراء کیلئے قانونی طریقہ کار میں انتہائی چالاکی کے ساتھ رد و بدل بھی کیا گیا۔

    شراب کیس میں نیب نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو بھی طلب کیا تھا،وزیراعلیٰ پنجاب چند روز قبل بھی نیب میں پیش ہوئے تھے نیب میں گزشتہ پیشی پر وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے ایک گھنٹہ40 منٹ تک سول وجواب کیے گئے تھے اور انہیں سوالنامہ دیا تھا۔ نیب کی 3 رکنی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم نے وزیر اعلیٰ سے سوال وجواب کیے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدارسے سی ایم پالیسی 2009 سے متعلق پوچھا گیا۔

    اس کیس میں دو اعلی سرکاری افسر وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کے خلاف شراب کیس میں وعدہ معاف گواہ بننے کو تیار۔ ان میں ایک ڈائریکٹر جنرل محکمہ ایکسائز شامل ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب کے سابق پرنسپل سیکریٹری راحیل صدیقی بھی نیب میں پیش ہوئے تھے۔ نیب دستاویزات کے مطابق شراب کے خلاف قانون لائسنس کے حصول کیلئے مبینہ طور پر 5 کروڑ کی رشوت دینے کا الزام ہے۔ نجی ہوٹل نے شراب کی فروخت کیلئے ایل-2 کیٹگری لائسنس کے حصول کیلئے محکمہ ایکسائز میں درخواست دی۔

    نجی ہوٹل کی جانب سے پنجاب ٹورسٹ ڈپارٹمنٹ سے پاکستان ہوٹل ایکٹ 1976 کے تحت 4-5 سٹار ریٹنگ کا لائسنس نہیں لیا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق 4 اور 5 سٹارز ہوٹلز کے لائسنس سے متعلق 2009 میں سی ایم آفس سے پالیسی جاری کی جا چکی تھی جسکی خلاف ورزی کی گئی۔

    سی ایم پالیسی کے تحت جس ہوٹل کے پاس 4 یا 5 اسٹار کی کیٹگری ہوگی صرف ان کو لائسنس جاری کیا جا سکے گا۔ایکسائزاینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ نے سی ایم پالیسی 2009 کیخلاف ورزی کرتے ہوئے نجی ہوٹل کو لائسنس جاری کیا۔ نجی ہوٹل کے پاس اس وقت پنجاب ڈیپارٹمنٹ ٹورسٹ کا لائسنس بھی موجود نہیں تھا۔ ایکسائز ڈپارٹمنٹ نے سی ایم آفس کو 3 بار مذکورہ کیس ریفر کرتے ہوئے معاملہ کی نزاکت سے آگاہ بھی کیا۔ تاہم سی ایم آفس محکمہ ایکسائز کو نجی ہوٹل کا لائسنس روکنے میں ناکام رہا

    بڑی خوشخبری، پاکستان کی قسمت جاگنے والی ہے، کیسے؟ سنیے مبشر لقمان کی زبانی

    آصف زرداری کے کلفٹن کراچی میں گھر کی ادائیگی کس نے کی؟ نیب نے عدالت میں جمع کروایا جواب

    تحریک انصاف کے ایک اور رہنما،رکن قومی اسمبلی نیب کے ریڈار پر

    وزیراعلیٰ پنجاب کی نیب میں طلبی،ترجمان پنجاب حکومت کا موقف آ گیا

    نیب کے مطابق وزیراعلیٰ عثمان بزدار سمیت دیگر افراد کے خلاف شکایات موصول ہوئی تھیں کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے اپنا اثرو رسوخ استعمال کرتے ہوئے اپنے قریبی عزیز کو مالی فائدہ پہنچانے کیلئے نجی ہوٹل کو شراب کا لائسنس جاری کیا تھا جو کہ خلاف قانون ہے۔

    مریم نواز کے وکلاء نے ہی مریم نواز کی الیکشن کمیشن میں مخالفت کر دی، اہم خبر

    صرف اللہ کوجوابدہ ،کوئی کچھ بھی رائے رکھےانصاف کے مطابق فیصلہ دیں گے، عدالت کےحمزہ کیس میں ریمارکس

    حمزہ شہباز کو جیل میں کیوں رکھا ہوا ہے؟ مریم اورنگزیب نے کیا بڑا انکشاف

    نیب قانون میں اپوزیشن کی جانب سے ترامیم کا مسودہ، قریشی نے کھری کھری سنا دیں، کہا تحریک انصاف کیلئے یہ ممکن نہیں

    عثمان بزدار وزیراعلیٰ رہیں گے یا نہیں؟ گورنر پنجاب نے بڑا اعلان کر دیا

    ‏شراب کے غیر قانونی لائسنس کیس میں وزیر اعلیٰ پنجاب کی جانب سے جواب نیب میں جمع

  • بزدار جیسے نااہلوں کو حکمرانی کا حق نہیں،جنسی درندوں کو کیا دی جائے سزا؟ سراج الحق کا بڑا مطالبہ

    بزدار جیسے نااہلوں کو حکمرانی کا حق نہیں،جنسی درندوں کو کیا دی جائے سزا؟ سراج الحق کا بڑا مطالبہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے میں ماؤں بہنوں بیٹیوں کی عزتیں محفوظ نہیں ہیں،جس پاکستان میں بچے اور بچیاں محفوظ نہیں ہیں، ایسے ماحول میں حکمرانوں کو شرم آنی چاہئے،

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی وسطی پنجاب کے زیر اہتمام موٹر وے واقعہ کے خلاف وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ کے سامنے دیئے گئے احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ دو سو ستر دن گز رگئے عوام وزیر اعلیٰ پنجاب سے پوچھتے ہیں کہ آپ نے اب تک کچھ سیکھا ہے یا ابھی سیکھ رہے ہیں،اگر دو سال میں بھی آپ کچھ نہیں سیکھ سکے توآپ جیسے نااہلوں کو حکمرانی کا کوئی حق نہیں ۔

    سراج الحق کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی پاکستان کے 22 کروڑ عوام ، ماؤں بہنوں بیٹیوں کے تحفظ کی بات کرتی ہے، ایک بہن حکومت اور ریاست سے اپنی حفاظت کے واسطے دیتی رہی مگر حکومت اور ریاست ایک بے بس بیٹی اور بہن کو تحفظ نہیں دے سکی،جنسی درندوں کو سر عام پھانسی پر لٹکایا جائے۔

    سراج الحق کا مزید کہنا تھا کہ کہا کہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ چھ مہینوں میں 322 بچوں اور بچیوں پر جنسی حملے ہوئے، 24گھنٹوں میں جنوبی پنجاب میں 11 بچوں پر حملے ہوئے اور چار بچوں کو بے دردی سے قتل کردیا گیا،پی ٹی آئی کے دو سال میں 32 فیصد جرائم کی شرح میں اضافہ ہوا ہے ۔

    سینیٹر سراج الحق کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی حکومت میں عوام کا جینا مشکل ہو گیا ہے،اس حکومت میں مالی ، اخلاقی و نظریاتی کرپشن میں اضافہ ہوا۔ زینب بل پاس ہوئے ایک سال گزر گیا لیکن آج تک اسکا نوٹیفیکیشن تھانوں تک نہیں پہنچایا گیا،ہم نے زینب الرٹ بل میں ترمیم پیش کی کہ پھانسی کی سزا ہونی چاہئے، مگرکسی جماعت نے ساتھ نہیں دیا اور کہا کہ یہ وحشت اور بربریت ہے،میں وزیر اعظم سے پوچھتا ہوں کہ جو سزا اللہ اور اللہ کے رسول نے مقرر کی آپ اسکا نام لیتے ہوئے کیوں گھبراتے ہیں،جو سزا وزیر اعظم نے تجویز کی ہے تو کیا اس کے بعد وہ شخص اس معاشرے سے انتقام نہیں لے گا؟۔

  • لاہور کے والٹن ایئر پورٹ پر طیارہ حادثہ

    لاہور کے والٹن ایئر پورٹ پر طیارہ حادثہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاہور کے والٹن ایئر پورٹ پر طیارہ حادثہ ہوا ہے

    والٹن ایئرپورٹ پر لاہور فلائنگ کلب سیسنا 152 کو حادثہ پیش آیا۔ جب ایک نوجوان طالب علم نے اپنی پہلی تنہا پروازکی، دوران پرواز طالب علم شاید تناؤ میں پڑ گیا تھا اور لینڈنگ کے وقت وہ ٹھیک سے کام نہیں کرسکا،

    دوران لینڈنگ طیارہ کچھ بار اچھلا ،طیارے کا اگلا حصہ زمین پر ٹکرا گیا تھا، تاہم حادثے میں طالب علم محفوظ رہا ، حادثے کے وقت تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ فائر بریگیڈ کی گاڑی بھی موقع پرموجود ہے

    واضح رہے کہ والٹن ایئر پورٹ پر فلائنگ کلب کی تربیتی پروازیں جاری ہیں، تربیتی پروازیں بے خطر انداز میں جاری ہیں،دنیا بھر میں پروازوں کے لئے احتیاطی تدابیر اختیار کی جاتی ہیں لیکن والٹن ایئر پورٹ پر ایسا نہیں ہو رہا

  • لاہور ہائیکورٹ نے دو الگ الگ مقدمات میں آئی جی اور سی سی پی او کو کیا طلب

    لاہور ہائیکورٹ نے دو الگ الگ مقدمات میں آئی جی اور سی سی پی او کو کیا طلب

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاہور ہائیکورٹ نے متروکہ وقف املاک بورڈ کی اراضی پر پولیس کے قبضہ کے خلاف درخواست پر آئی جی پولیس کو طلب کر لیا.

    چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس قاسم خان نے متروکہ وقف املاک بورڈ کی اراضی پر قبضہ کے معاملے پر سماعت کی۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے ریمارکس دیئے کہ کہ پہلے پولیس اراضی کے بدلے اپنی اراضی بورڈ کو سرنڈر کی اب اسی پر اراضی پر قبضہ کیا ہوا ہے ، اگر پولیس قبضہ گروپ بن جائے گی تو موٹر وے جیسے واقعات ہوتے رہیں گے۔

    عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر سوسائٹی کو زندہ رکھنا ہے تو بڑے افسروں کو معاف کرنا چھوڑ دیں۔ درخواست گزار نے بتایا کہ متروکہ وقف املاک بورڈ کی 72کینال 6مرلہ اراضی پر ایلیٹ ٹریننگ سنٹر بنایا گیا۔ متروکہ وقف املاک بورڈ کی اراضی کے بدلے میں محکمہ پولیس نے 72کینال اراضی دی لیکن اب پر قبضہ ریلیز نہیں کیا جا رہا۔ چیف جسٹس قاسم خان نے ڈی آئی جی ایلیٹ فورس کو متروک وقف املاک بورڈ کی اراضی پر قبضہ سے روک دیا,

    قبل ازیں بچہ حوالگی کیس کی لاہورہائیکورٹ میں سماعت ہوئی ،لاہورہائیکورٹ کے جسٹس مشتاق احمد نے سماعت کی، عدالت نے کہا کہ پولیس والوں کے فرائض میں شامل ہے کہ بچے کوتلاش کریں،آپ لوگ خود ملزمان کے ساتھ ملے ہوتے ہیں۔

    عدالت نے سی سی پی اولاہورکوذاتی حیثیت میں طلب کرلیا،عدالت نے کہا کہ آئندہ سی سی پی اوخود آئیں اورکارروائی سے آگاہ کریں۔

  • لڑکی کو ہراساں کرنے پر ایف آئی اے نے کتنا عرصہ کاروائی نہیں کی،اب ملزم باپ سمیت گرفتار، فیاض الحسن چوہان

    لڑکی کو ہراساں کرنے پر ایف آئی اے نے کتنا عرصہ کاروائی نہیں کی،اب ملزم باپ سمیت گرفتار، فیاض الحسن چوہان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کے صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ آج سے 3دن پہلے سوشل میڈیا پر خبر وائرل ہوئی تھی، یہ نوجوان بچی اور فیملی کو دھمکیاں دیتا رہا،

    فیاض الحسن چوہان کا کہنا تھا کہ درندے کو نشانہ عبرت نہ بنایا تو کل کسی اور بچی کو پریشان کرے گا، لڑکی کے والد نے پہلے منع کیا پھر تفصیلی بات کےبعد راضی ہوئے،لڑکی کے والد نے بتایا سواسال پہلے ایف آئی اے کو درخواست دی،ایسے معاملات پر ہم سب لوگوں کو اپنا رویہ ٹھیک کرنا چاہیے، لڑکی کے والد کے مطابق ایف آئی اے نے کارروائی نہیں کی،عثمان بزدار کی ہدایت تھی 24گھنٹے میں ملزمان گرفتار کریں،سی سی پی او عمر شیخ نے 10گھنٹے میں باپ اور بیٹے کو گرفتار کرایا،

    https://twitter.com/RegnlTelegraph/status/1306477955686772736

    فیاض الحسن چوہان کا کہنا تھا کہ لاہور اور پنجاب پولیس پر آوَٹ آف وے کام شروع کیا ہے،بچی کو ہراساں کرنے والے لڑکے کو راولپنڈی سے گرفتار کیا گیا لڑکی کو ہراساں کرنے والا لڑکا اور اس کا باپ بدمعاشی کر رہے تھے،جو لوگ عوام کی زندگیوں کو اجیرن کرتے ہیں وہ سخت سزا کے مستحق ہیں،کوئی شخص اگر کسی کو بلیک میل کر ے تو وہ ڈائیریکٹ وزیر اعلیٰ آفس سے رجوع کرے،

    فیاض الحسن چوہان کا مزید کہنا تھا کہ قبضہ گروپ،منشیات فروشوں کو ن لیگ کی سپورٹ رہی،پولیس کی غفلت اورنااہلی پرسمجھوتہ نہیں کریں گے،پولیس نےسی سی پی اوکی قیادت میں اچھی کارکردگی دکھائی،

    واضح رہے کہ ابشام نامی شخص نے فاطمہ کے والد کو بیٹی کا ریپ کرنے کی دھمکی دی اور ساتھ ہی لڑکی کو بھی غیر اخلاقی میسج کئے اور اس کے باپ کو قتل کرنے کی دھمکی دی- جس کے بعد ٹویٹر پر ملزم کی گرفتاری کے حوالہ سے ٹرینڈ بھی چلایا گیا،اس ٹرینڈ کے سامنے آنے پر صارفین شدید غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں اور اس شخص کو سزا دینے اور فوری طور پر گرفتار کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں-

  • نیب نے سنائی چودھری برادران کو 20 برس بعد بڑی خوشخبری

    نیب نے سنائی چودھری برادران کو 20 برس بعد بڑی خوشخبری

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق احتساب بیورو سے چوہدری شجاعت الہی اور چوہدری پرویز الہی کے لیے بڑی خوشخبری سامنے آ گئی

    احتساب بیورو نے 20 سال پرانی چوہدری برادران کیخلاف بنکوں سے نادہندگی کی انکوائری بند کردی،نیب لاہور نے انکوائری بند کرنے کی رپورٹ ہائیکورٹ میں جمع کروا دی

    نیب رپورٹ میں کہا گیا کہ چوہدری برادران کیخلاف بنک نادہندگی کی انکوائری بند کر چکے ہیں،چوہدری برادران کیخلاف شواہد ناں ملنے پر انکوائری بند کی گئی، چوہدری برادران پر جو قرضہ حاصل کرنے کےلیے الزام وہ ان پر لاگو نہیں ہوتا، ناکافی شواہد کی بنا پر چوہدری برادران کیخلاف انکوائری بند کردی گئی

    نیب رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ چوہدری برادران کیخلاف 12 اپریل 2000 میں انوسٹی گیشن شروع کی گئی، چوہدری برادران کیخلاف 3 انوسٹی گیشن کی منظوری 14 فروری 2019 کو دی گئیں، چوہدری شجاعت کیخلاف دوران وفاقی وزیر آمدن سے زائد اثاثے بنانے کا الزام ہے، چوہدری پرویز الہی پر بطور اسپیکر اسمبلی آمدن سے زائد اثاثہ جات سمیت دیگر الزامات ہیں، چوہدری پرویز الہی پر بطور سابق لوکل منسٹر غیر قانونی تعیناتیوں کا الزام ہے، درخواست گزاروں نے جو درخواست دائر کی اسے مسترد کیا جائے،

    واضح رہے کہ چوھدری برادران نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کر رکھا تھا،درخواستگزاران نے کہا ہے کہ نیب سیاسی انجینئرنگ کرنیوالا ادارہ ہے۔ نیب کے کردار اور تحقیقات کے غلط انداز پر عدالتیں فیصلے بهی دے چکی ہیں چیئرمین نیب نے ہمارے کیخلاف 19 سال پرانے معاملے کی دوبارہ تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ نیب نے 19 سال قبل آمدن سے زائد اثاثہ جات کی مکمل تحقیقات کیں مگر ناکام ہوا۔ چیئرمین نیب کو 19 سال پرانے اور بند کی جانیوالی انکوائری دوبارہ کهولنے کا اختیار نہیں۔

    چودھری برادران کی جانب سے عدالت میں دائر درخواست میں مزید کہا گیا کہ ہمارا سیاسی خاندان ہے، سیاسی طور انتقام کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے نیب کا 19 برس پرانے آمدن سے زائد اثاثہ جات کی انکوائری دوبارہ کهولنے کا اقدام غیرقانونی قرار دیا جائے،