پنجاب حکومت کی جانب سے گندم خریداری کیلئے تمام معاملات کو تحریری شکل دینے کی ہدایت
باغی ٹی وی :وزیرخوراک پنجاب کی زیرصدارت گندم خریداری پر اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا جس میں سینئر وزیر عبدالعلیم خان کی چیف سیکرٹری سے پنجاب بارڈر سیل کرنے پر مشاورت ہوئی ، گندم خریداری کیلئے تمام معاملات کو تحریری شکل دینے کی ہدایت کی گئی ، کرونا وائرس کے پیش نظر حکومت پنجاب نے گندم خریداری کے لیے ٹوکن سسٹم متعارف کرا دیا
عبدالعلیم خان نے ہدایت کی کہ پنجاب کے تمام بارڈر سیل کرینگے،گندم باہر نہیں جائے گی.گندم خریداری کا ہدف حاصل ہونے تک گندم کہیں نہیں بھیجیں گے لاہور:دیگر صوبوں کے ساتھ گندم خریداری کے باقاعدہ معاہدے ہونگے:
لاہور:کسی پرائیویٹ خریدار کو پنجاب سے گندم اٹھانے کی اجاز ت نہیں ہوگی:
کرونا بارے پنجاب کی پارلیمانی کمیٹی کا ویڈیولنک اجلاس آج پھر ہوگا
باغی ٹی وی :کرونا وائرس سے بچاؤ کے اقدامات کرونا بارے قائم پنجاب کی پارلیمانی کمیٹی کا ویڈیولنک اجلاس آج پھر ہوگا . پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس کی صدارت اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویزالہی کریں گے .اجلاس میں سینئر وزیر عبد العلیم خان ، وزیر قانون راجہ بشارت شریک ہوں گے . وزیر زراعت نعمان لنگڑیا ل بھی اجلاس میں شریک ہوں گے .
اجلاس میں مسلم لیگ ن ، پیپلزپارٹی ،مسلم لیگ ق کے نامزد ارکان بھی شریک ہوں گے.اجلاس میں کرونا وائرس کے سدباب کے لئے حکومتی اقدامات کاجائزہ لیاجائے گا. کمیٹی اجلاس کے اختتام پر اپنی سفارشات پیش کرے گی
عظمیٰ بخاری کا یاسمین راشد کو ہٹانے کا مطالبہ ،کہا کارکردگی صرف مریضوں کی تعداد بتانے تک محدود
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ (ن) پنجاب کی ترجمان عظمیٰ بخاری نے پنجاب میں ڈاکٹروں پر پولیس تشدد کی مذمت کرتے ہوئے صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کو ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے
عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ کورونا لوگوں کی جانیں لے رہا ہے حکومت ڈاکٹروں پر ڈنڈے برسارہی ہے،رونا وائرس والے کرونا سے نہیں لڑ سکتے،نیب نیازی گٹھ جوڑ شہبازشریف کو نوٹسز بھجوانے میں مصروف ہے، جن کو نوٹس جانے چاہیں وہ وزیراعظم ہاوس میں ہیں
نیب اور نیازی قوم،ملک اور معیشت کےلئے سنگین خطرہ بن چکے ہیں ،چیف جسٹس گرینڈ ہیلتھ الائنس پر پولیس تشدد کا نوٹس لیں
عظمیٰ بخاری کا مزید کہنا تھا کہ ڈاکٹرز مسیحا ہوتے ہیں،لیکن افسوس عمران خان کی جماعت کی ڈاکٹر بھی ان کی طرح فاشسٹ سوچ رکھتی ہیں ،یاسمین راشد اپوزیشن میں ینگ ڈاکٹرز کی خالق اور اقتدار میں آنے کے بعد فرعون بن چکی ہیں ،تحریک انصاف نے پانچ سال جو بویا وہی ان کے سامنے آرہا ہے ،گرینڈ ہیلتھ الائنس ایک ہفتے سے حفاظتی کٹس کی فراہمی کا مطالبہ کررہا ہے
عظمیٰ بخاری کا مزید کہنا تھا کہ پنجاب حکومت کورونا کےخلاف جنگ لڑنے والے مسیحاوں پر پولیس سے حملے کروارہی ہے،پوری دنیا میں طبی عملے کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے ،لاہور میں پنجاب پولیس کے جواں نہتے ڈاکٹروں کو تشدد کا نشانہ بنارہے ہیں ،محکمہ صحت پنجاب کی کارکردگی صرف کورونا کے مریضوں کی تعداد بتانے تک محدود ہے ،وزیراعلیٰ پنجاب کو خواتین کو راشن بیگ دینے کی تصویریں بنوانے سے کب فرصت ملے گی؟ پنجاب کے وزیر صحت محکمہ صحت پر توجہ دینے کی بجائے گندم کی قیمتیں مقرر کرنے میں مصروف ہے
نیب میں پیش نہیں ہو سکتا، شہباز شریف نے کیوں کیا انکار؟
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف آج نیب میں پیش نہیں ہوں گے، ن لیگی رہنما عطاء اللہ تارڑ نے اس بات کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ شہباز شریف آج پیش نہیں ہوں گے،شہبازشریف نے نیب کو اپنا تحریری جواب جمع کرادیا ہے،شہبازشریف 130دن زیر حراست رہے جس میں سے 61 دن نیب کی تحویل میں رہے،
دوسری جانب اپوزیشن لیڈر شہبازشریف نے منی لانڈرنگ کیس میں نیب نوٹس کا جواب دے دیا، شہباز شریف نے نیب کو بھجوائے گئے جواب میں کہا کہ منی لانڈرنگ سے متعلق حالیہ جسمانی ریمانڈ کے دوران تمام معلومات فراہم کرچکا ہوں،
شہباز شریف کا کہنا ہے کہ نیب کی طرف سے طلبی کے تمام نوٹسز کا وقت پرجواب دیا،ہربار ذاتی حیثیت میں پیش ہوکر نیب کے ساتھ مکمل تعاون کیا،تمام نوٹسز کے جواب کو غیرتسلی بخش قرار دینا بدقسمتی ہے
شہبازشریف نے نیب میں طلبی کی تاریخ لاک ڈاوَن کے خاتمے سے مشروط کرنے کی درخواست کی ہے،شہباز شریف نے کہا ہے کہ لاک ڈاوَن کی وجہ سے مطلوبہ ریکارڈ اورتفصیلات کیلیے اسٹاف دستیاب نہیں
ن لیگی رہنما عطاء اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ دو سال سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے باوجود نیب ایک دھیلے کی کرپشن ثابت نہیں کر سکا، ثبوت نہ پیش کرنے کے باعث نیب کی اعلیٰ عدالتوں میں سبکی ہوئی،لاک ڈاؤن ختم ہونے پر نیب جب بھی بلائے گا میاں شہباز شریف صاحب ڈاکٹروں کے مشورے کے بعد ضرور پیش ہونگے ،تفتیشی عمل کے دوران میاں شہباز شریف نے نیب سے ہمیشہ تعاون کیا ہے ،عدالت میں نہ تو ریفرنس دائر کیا جارہا ہے اور نہ ہی کوئی ثبوت پیش کیے جارہے ہیں،نیب کا ادارہ آخر کب تک عمران نیازی کی انا کی تسکین کے لئے اپوزیش رہنماؤں کے خلاف انتقامی کارروائیاں کرے گا ،احتساب کا یہ ڈھونگ چینی اور آٹا چوری سے توجہ ہٹانے کی ایک مذموم کوشش ہے ,نیب نیازی گٹھ جوڑ کے نتیجے میں ہونے والی انتقامی کاروائیوں سے ہمارے حوصلے پست نہیں ہوں گے
واضح رہے کہ شہباز شریف کو نیب نے آج طلب کر رکھا تھا،
نیب نے شہباز شریف کو ایک سوالنامہ بھی بھجوایا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سال 1998 سے سال 2018 کے دوران فیملی کے اثاثے بڑھ کر 549 ارب ہوئے۔ پبلک آفس ہولڈر ہونے کی حیثیت سے ان اثاثوں میں اضافے کی وضاحت دیں۔ بیرون ملک کون کون سے اثاثے اور بینک اکاوَنٹس موجود ہیں ان کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔ سال 2005 سے سال 2007 کے دوران لیے جانے والے قرض کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔ فیملی کو دیے جانے والے اور موصول ہونے والے تمام تخائف کی تفصیلات فراہم کی جائیں اور سال 2008 سے سال 2019 کے دوران زرعی آمدنی کی تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔ ماڈل ٹاوَن 96 ایچ کتنے سال تک وزیر اعلیٰ کیمپ ہاوَس رہا، اس کا بھی جواب دیں
احد چیمہ کی درخواست ضمانت پر تفصیلی فیصلہ جاری،لاہور ہائیکورٹ کا بڑا حکم
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاہور ہائیکورٹ نے احتساب عدالت کو شہباز شریف، احد چیمہ اور دیگر کے خلاف آشیانہ ریفرنس کا ٹرائل چار ماہ میں مکمل کرنے کا حکم دے دیا۔
لاہور ہائیکورٹ نے احد چیمہ کی درخواست ضمانت کا 16 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ عدالت کی جانب سے تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ احد چیمہ کی ضمانت سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ ٹرائل پر اثرانداز نہیں ہوگا، ریکارڈ کے مطابق احد چیمہ اور دیگر نے فوائد حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے کو سہولت فراہم کی، احد چیمہ کے کیے گئے اقدامات عوامی مفاد میں نہیں تھے۔
لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ وائٹ کالر کرائم پورے معاشرے کو متاثر کرتے ہیں،ضمانت کی سطح پر وائٹ کرائم کالر کے پس منظر مقاصد کو دیکھا جاتا ہے ریکارڈ کے مطابق ملزم احد چیمہ نے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے شریک ملزم شاہد شفیق کو کنٹریکٹ دیا، ملزم اس وقت ضمانت کا حقدار ہوتا ہے جب ریکارڈ اور ملزم کے کیے گئے ایکٹ کا آپس میں تضاد ہو، احد چیمہ ضمانت کے حقدار نہیں ہیں
واضح رہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے آشیانہ سکینڈل اور ناجائز اثاثوں کے کیس میں سابق ڈی جی ایل ڈی اے احد چیمہ کی ضمانت کی درخواستیں خارج کر دی تھیں ۔جسٹس سردار احمد نعیم اور جسٹس فاروق حیدر نے درخواستوں پر سماعت کی تھی۔ نیب پراسیکیوٹر فیصل بخاری نے عدالت کو بتایا تھا کہ احد چیمہ کے نام 8 کنال اراضی کی ادائیگی پیراگون کے اکائونٹ سے کی گئی،احد چیمہ کی آمدن 9 کروڑ کے قریب جبکہ اثاثے 47 کروڑ کے ہیں،
احد چیمہ کے وکیل نے موقف اختیار کیا تھا کہ میرے موکل پر لگائے گئے الزامات 90 روز کے ریمانڈ میں ثابت نہیں ہو سکے ، دو سال دو ماہ سے احد چیمہ نیب کی حراست میں ہیں، شریک ملزمان کی ضمانتیں منظور ہوچکی ہیں، ٹرائل کورٹ میں ابھی تک صرف 13 گواہان کے بیانات قلمبند ہوئے ہیں، ٹرائل میں تاخیر کی وجہ سے ملزم کو زیادہ دیر تک قید نہیں رکھا جاسکتا۔لاہور ہائیکورٹ نے آشیانہ سکینڈل میں گرفتارملزم شاہد رفیق کی درخواست ضمانت خارج کردی تھی.
اتنے لوگ کرونا سے نہیں مریں گے جتنے رویوں اور بھوک سے مر جائیں گے، عدالت کا بڑا حکم
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پرائیویٹ سکولوں کی جانب سے فیس کی وصولی کے لئے ایک روز دفاتر کھولنے کی درخواست پر لاہور ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی
دوران سماعت عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیوں نہ گریڈ 19 اوراس سے اوپرکے تمام افسران کوپرائیوٹ اسکول کے ایک ایک کمرے میں رکھا جائے ، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کا کہنا تھا کہ اتنے لوگ کوروناسے نہیں مریں گے جتنے انکے رویوں،بھوک سے مرجائیں گے،
عدالت نے حکم دیا کہ حکومت 20 اپریل تک نجی اسکولوں کے دفاترعارضی طور پر کھولنے کا نوٹیفکیشن جاری کرے، عدالت نے حکومت کی جانب سے سکول کے دفاتر عارضی طور پر کھولنے کی اجازت نہ دینے پر برہمی کا اظہار کیا.
عدالت نے کہا کہ افسران کو انکی فیملی کیساتھ بند کیا جائے تو پھرانکو پتا لگے گا کہ تنخواہ نہ ملنے سے کیا مشکلات پیدا ہوتی ہیں، ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ سیکرٹری اسکولزنے درخواست گزار کے تحفظات دور کرنےکیلئے کمیٹی تشکیل دی ہے،چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سیکرٹری اسکولزاتنانکما ہے کہ وہ چارلائنیں خود سے تحریر نہیں کرسکتا،
واضح رہے کہ کرونا لاک ڈاؤن کی وجہ سے حکومت نے تعلیمی اداروں میں یکم جون تک تعطیلات کا اعلان کر رکھا ہے، پنجاب سمیت ملک بھر میں تعلیمی ادارے بند ہیں، حکومت پنجاب نے پرائیویٹ سکولوںکی فیس میں 20 فیصد کمی کا اعلان کیا جسے بعض سکولوں نے ماننے سے انکار کر دیا، کئی سکولوں نے حکومت کے احکامات مان بھی لئے
سندھ حکومت نے بھی فیسوں میں کمی کی تو پرائیویٹ سکولز عدالت پہنچ گئے جس پر عدالت نے سندھ حکومت کا فیسوں میں کمی کا نوٹفکیشن معطل کر دیا
آل سندھ پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن کے چیئرمین سید حیدرعلی اور آل پاکستان پرائیویٹ اسکولزایسوسی ایشن کے صدر کاشف مرزا نے فیسوں میں کمی کے سرکاری حکم کے حوالے سے میڈیا ٹاک کرتے ہوئے کہا کہ اسکول فیسوں کا معاملہ بہت حساس ہے،سندھ میں نجی اسکولز 33 لاکھ سے زائد بچوں کو تعلیم دے رہے ہیں۔ نجی اسکولز پہلے ہی 10 فیصد مفت تعلیم دے رہے ہیں، اسکول فیسوں میں 20 فیصد کمی نہیں کر سکتے، نجی اسکولوں میں 20 فیصد کمی کاحکم عدالت میں چیلنج کریں گے۔
کاشف مرزاکا کہنا تھا کہ اسکولز فیسوں میں 20 فیصد کمی کے حکومتی فیصلے کو مسترد کرتے ہیں۔ یہ فیصلہ قانون سے متصادم ہے ہم سپریم کورٹ کے فیصلے کے پابند ہیں. اس فیصلے کو واپس لیا جائے، ابھی تک حکومت نے کوئی نوٹفکیشن جاری نہیں کیا، صرف زبانی احکامات جاری کئے ہیں جس کو مسترد کرتے ہیں، کرونا کے لئے ریلیف فنڈ قائم کیا گیا ہے ،سکولوں کو قرنطینہ سنٹر بنایا جائے، اساتذہ رضاکارانہ طور پر کام کرین گے
عوام کرونا سے اور نیب شہباز شریف سے لڑ رہا ہے، مریم اورنگزیب
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے شہباز شریف کو نیب نوٹس کی مذمت کی ہے
مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ عوام کورونا سے لڑ رہے ہیں ، نیب شہباز شریف سے لڑ رہا ہے ،اعلیٰ عدلیہ نے شہباز شریف کی ایمانداری پر مہر تصدیق ثبت کی، شہباز شریف کا جرم ڈاکٹرز اور طبی عملے کو حفاظتی سامان کی فراہمی ہے، چوری عمران صاحب کی پکڑی گئی ہے اور نیب میں طلبی شہباز شریف کی ہو رہی ہے،سرٹیفائیڈ آٹا،چینی،گیس چوروں کے لیے نیب نیازی گٹھ جوڑ کی آنکھیں بند ہیں، شہباز شریف کیخلاف جب کچھ نہ ملاتو نیب نیازی گٹھ جوڑکووراثتی جائیداد یاد آگئی،کوروناعوام کی جان لے رہا ہےاور نیب نیازی گٹھ جوڑ سیاسی انتقام لے رہا ہے،
مریم اورنگزیب کا مزید کہنا تھا کہ حکومت میں موجود آٹا , چینی ، گیس بجلی چوری کرنے والوں کی فائلیں اور نیب کی آنکھیں بند ہی رہیں گی،جہانگیر ترین اور حکومتی وزراء کی نیب انکوائریاں بند پڑی ہیں ، کسی میں انہیں کھولنے کی ہمت نہیں ہے ،اپوزیشن اور میڈیا کے لوگوں کو محض انکوائری اور الزام پر گرفتار کر لیا جاتا ہے ،عمران مافیا عوام کی جیب پر ڈاکہ ڈالے تو کوئی پوچھنے والا نہیں
مریم اورنگزیب کا مزید کہنا تھا کہ دس ماہ سے حمزہ شہباز کی گرفتاری سیاسی انتقام اور نیب نیازی گٹھ جوڑ کی بدترین مثال ہے،10 ماہ ہوگئے لیکن نیب نیازی گٹھ جوڑ کوئی ریفرنس دائر نہیں کرسکا،آج بھی الحمدللّٰہ شہبازشریف کی ٹیم میدان عمل میں نکلی ہوئی ہے جو چوک چوراہوں میں نکلی ہوئی ہے اگر گیس اور بجلی بل گھر تک پہنچ سکتا ہے تو راشن بھی پہنچ سکتا ہے ،لاک ڈائون کےمعاملے پر وفاق لوگوں کو کنفیوژ کررہی ہے جس کے نتائج خوفناک ہو سکتے ہیں
مریم اورنگزیب نے مزید کہا کہ شہبازشریف ملک بھر میں ڈاکٹروں اور عوام کو حفاظتی ماسکس اور کٹس دے رہے ہیں ،کرونا کے ٹیسٹ مفت کئے جائیں ،ٹیسٹ نہیں کئے جارہے اس لئے وائرس پھیل رہاہے، لاہور ڈرائی پورٹ پر تھرمل گنز کو ڈیوٹی معاف کر کے عوام کے کئے ریلیز کیا جائے
واضح رہے کہ نیب نے آج شہباز شریف کو طلب کر رکھا ہے
جنہوں نے غلط بیانی کی وہ نوکری پر نہیں رہیں گے، عدالت کے ریمارکس
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں طبی عملے کو کرونا سے بچاؤ کی حفاطتی کٹس فراہم نہ کرنے کی درخواست پر سماعت ہوئی
درخواست گزار نے عدالت میں کہا کہ جنرل اسپتال لاہور،سرگودھا کے اسپتال کے ڈاکٹرز کو کٹس فراہم نہیں کی گئیں، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے کہا کہ آپکے الزامات غلط ہوئے تو ڈاکٹرز کیخلاف کارروائی کا حکم جاری کرینگے،سپریم کورٹ نےاس حوالےسے ازخود نوٹس لیا ہے ہم کیسے سماعت کرسکتے ہیں؟ جن ڈاکٹرزکا آپ بتا رہیں ہیں اگرانہوں نےغلط بیانی کی تو وہ نوکری پرنہیں رہیں گے،
عدالت نے صوبائی محکمہ صحت سے جواب طلب کر لیا اور کیس کی سماعت ملتوی کر دی
واضح رہے کہ پاکستان میں کرونا وائرس پھیل چکا ہے نہ صرف عام آدمی بلکہ کرونا کا علاج کرنے والے ڈاکٹر اور پیرا میڈیکل سٹاف بھی کرونا سے متاثر ہو رہے ہیں، پاکستان بھر میں اس وقت 90 ڈاکٹر کورونا وائرس سے متاثر ہیں
پاکستان میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے طبی اور نیم طبی عملے کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، طبی اور نیم طبی عملے کے 180 افراد کورونا وائرس سے متاثر ہیں،ملک کے مختلف اسپتالوں کے 60 سے زیادہ پیرامیڈیکس اور دیگر عملہ کورونا سے متاثر ہوگیا،ملک بھر میں اس وقت 30 نرسز میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے،
گزشتہ 24گھنٹوں میں 11 ڈاکٹرز، نرسز اور پیرامیڈیکس میں کورونا کی تشخیص ہوئی،پاکستان بھر میں اس وقت 90 ڈاکٹر کورونا وائرس سے متاثر ہیں،پاکستان میں گزشتہ 2 مہینوں میں ایک نرس اور 2 ڈاکٹر کورونا وائرس کےباعث انتقال کرچکے ہیں
لاہور:گرینڈہیلتھ الائنس کی طرف سے حفاظتی کٹس کی فراہمی پرن لیگ کا شکریہ ،اطلاعات کےمطابق ن لیگ کی طرف سے گرینڈ ہیلتھ الائنس کو حفاظتی کٹس فراہم کی گئی ، اس موقع پرگرینڈ ہیلتھ الائنس کا کہنا کہا کہ ہم گرینڈ ہیلتھ الائنس لاہور جنرل ہسپتال پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنماوں کے مشکورہیں ،
گرینڈ ہیلتھ الائنس کی طرف سے شکریہ کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہا گیا ہےکہ خواجہ عمران نذیر صاحب، خواجہ سلمان رفیق صاحب، کرنل مبشر جاوید سابقہ مئیر لاہور، شائستہ پرویز صاحبہ ایم این اے، رابعہ فاروقی ایم پی اے، سعدیہ تیمور ایم پی اے، کنول لیاقت ایم پی اے، عمران گورائیہ صاحب اور تمام ن لیگی وفد کے انتہائی مشکور ہیں جنہوں نے آج جنرل ہسپتال کے عملہ کے لیے حفاظتی کٹس اور ماسکس سمیت حفاظتی سامان مہیا کیا.
اس موقع پر جنرل سیکرٹری وائی ڈی اے پنجاب ڈاکٹر قاسم اعوان بھی موجود تھے.انہوں نے کہا کہ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ حالیہ وباء کے دنوں ہیلتھ پروفیشنلز پر محدود وسائل کے ساتھ فرنٹ لائن پر موجود ہیں اور انہی محدود وسائل کی وجہ سے ہیلتھ پروفیشنلز میں کورونا وائرس کا تناسب بڑھ رہا ہے.
وائی ڈی اے لاہور جنرل ہسپتال نے خواجہ عمران نذیر صاحب، خواجہ سلمان رفیق صاحب سے گزارش کی کہ اوکاڑہ، ساہیوال، قصور، وہاڑی سمیت لاہور سے باہر کے ہسپتالوں میں حفاظتی سامان کی شدید کمی ہے، برائے مہربانی وہاں سامان مہیا کرانے میں ہماری مدد کریں جس پر انہوں نے وعدہ کیا کہ آئندہ دو دنوں میں ساہیوال میں حفاظتی سامان مہیا کر دیا جائے گا. اور اگلی فیز میں باقی جگہوں میں سامان مہیا کریں گے
اس مشکل وقت میں فرنٹ لائن پر موجود ہیلتھ پروفیشنلز کی مدد کو آنے والے ہر شخص کو ہم خوش آمدید کہتے ہیں اور کہتے رہیں گے.
جنات کے 11 گروہ کون سے ہیں؟ حیرت انگیز اور دلچسپ معلومات سنیے مبشر لقمان کی زبانی
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ جنات پر بحث ازل سے جاری ہے بہت سے لوگ اس کھوج میں رہتے ہیں کہ وہ ہوتے ہیں کرتے کیا ہیں،ان کی شکلیں کیسی ہیں، جانوروں جیسی ہیں یا انسانوں جیسی، جنات کے موضوعات پر کتابیں لکھی جا چکی ہیں، فلمیں بھی بن چکی ہیں یہاں تک کہ مشہور کارٹوں سیریز بھی بن چکی ہیں،کہا جاتا ہے کہ جنات کے 11 گروہ ہیں
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ جن اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے جنہیں انسان کی پیدائش سے قبل پیدا کیا گیا اور اس مخلوق کے وجود پر کسی بحث کی ضرورت نہیں، مسلمان جنات کے وجود کا انکار نہیں کر سکتے،کفار بھی جنات کے وجود کے قائل ہیں، وہ کہتے ہیں کہ معمولی سی ایک جماعت ہے، اسلامی عقائد میں بھی جنات کے وجود کو متفقہ طور پر تسلیم کیا گیا ہے، اب جنات کی تخلیق کب اور کیسے ہوئی،بعض تاریخ دان لکھتے ہیں کہ حضرات آدم کی تخلیق سے سے بھی دو ہزار سال قبل جنات کی تخلیق ہوئی تھی جنات میں نیک و بد دونوں اقسام ہوتی ہیں بزرگ بھی ہوتے ہیں ،وہ روئے زمین پر وارد ہوتے ہیں انہی میں سے ایک جن کا نام ابلیس ہے جو انسانوں کی دشمنی میں اندھا ہوگیا، اس نے نفس آدم کو بہکانے کے لئے قیامت تک کے لئے مہلت مانگی ہے.
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ جنات کے 11 گروہ ہیں،پہلا گروہ کسی گھر یا مکان میں رہتے ہیں اور اس گھر کے مکینوں کو ڈراتے ہیں یا تلیف پہنچاتے ہیں ، دنیا کے ہر علاقے میں کوئی نہ کوئی ایسا گھر ہو گا جہاں یہ موجود ہوتے ہیں اور ہم ایسے علاقے کو آسیب زدہ کہتے ہیں، یہ گھروں اور دکانوںکی برکت صلب کر لیتے ہیں،گھروں میں فساد او رجھگڑے پیدا کرتے ہیں،گھر میں رہنے والے افراد کے مابین تفرقہ اور عداوت پیدا کرتے ہیں،اسلئے عاملین اسی گروہ کی مدد سے اپنا کام کرتے ہیں
دوسرا گروہ یہ وہی گروہ ہے جو انسانوں پر مسلط ہو جاتے ہیں جس سے صحت خراب ہو جاتی ہے،لاعلاج امراض میں مبتلا ہو جاتے ہیں،ڈاکٹروں اور حکیموں سے علاج نہیں ہو پاتا ، بعض اوقات یہ انسان کے جسم کے کسی خاص حصے کو متاثر کرتے ہیں،اور وہ حصہ مفلوج یا بیکار ہو جاتا ہے، بعض اوقات یہ ذہنوں پر مسلط ہو جاتے ہیں،یہ انسانوں کو طرح طرح کی تکلیف میں مبتلا کر دیتے ہیں،اس گروہ کو تسخیر کیا جا سکتا ہے، ہندوستان کے لوگوں میں اس قسم کے سفلی عاملین بکثرت پائے جاتے ہیں
تیسرا گروہ اس گروہ میں شامل جنات اکثر قبرستانوں میں اور ان کے گردونواح میں اپنا بسیرا کرتی ہیں۔ یہ جنات زندگی میں انسانوں کے ہمراہ رہنے والے طبعی اور ہمزاد بھی ہوتے ہیں۔ ہندوؤں میں یہ عقیدہ عام طور پر پایا جاتا ہے کہ مرنے کے بعد اس کی روح بھوت بن کر مردہ کے خویش و اقارب پر بعض دفعہ مسلط ہو جاتی ہیں ۔اس لیے یہ لوگ جب کبھی اپنے مردے جلانے کیلئے مر گھٹ پر جاتے ہیں تو اپنا لباس اور حلیہ تبدیل کر کے اس قدر مبالغہ کرتے ہیں کہ اپنے مردہ کے بعد سر، داڑھی اور مونچھوں تک منڈوا ڈالتے ہیں تاکہ موت کے بعد ان کے عزیز کی روح بھوت بن کر انہیں پہچان نہ سکے۔ نیز ہندو لوگوں میں یہ بھی رواج ہے کہ شمشان گھاٹ میں جس وقت یہ لوگ اپنا مردہ جلاتے ہیں اور مردے کی کھوپڑی جل کر تڑاخ سے پھٹتی ہے تو وہاں جس قدر ہندو جمع ہوتے ہیں سب کے سب الٹے پاوں اپنے گھروں کی طرف دوڑ پڑتے ہیں اور پیچھے دیکھنے کا نام نہیں لیتے ۔دراصل ان کا خوف بے وجہ نہیں ہوتا ۔مردے کی روح بھوت نہیں بن جایا کرتی بلکہ اس کا ہمزاد جو پیدائش سے اس کے ساتھ لگا رہتا ہے۔ موت کے بعد اس کے جسد سے الگ ہو جاتا ہے اور بعض اوقات وہ ہمزاد موت کے بعد متوفی کے کسی عیز یا دوسرے شخص پر مسلط ہو جاتا ہے۔
چوتھا گروہ شیاطین اور جنوں کا یہ گروہ بوچڑ خانوں اور مزبحہ گاہوں کے آس پاس منڈلاتا رہتا ہے ار جانوروں کے خون اور ہڈیوں وغیرہ سے اپنی غذاء حاصل کرتا ہے۔ دراصل بات یہ ہے کہ جنات ہڈی، گوبر اور کوئلے کو بعینہ کھا نہیں لیتے بلکہ ان میں سے فاسفورس اور کاربن کی قسم کی خارج ہونے والی گیسوں میں ان کی خوراک موجود ہوتی ہے اس لیے بوچڑ خانوں کے پاس اس قسم کے جنات اپنی مخصوص خوراک حاصل کرنے کیلئے آتے ہیں اور بعض اوقات انسانوں کو تنگ کرتے ہیں۔
پانچواں گروہ جنات کا یہ گروہ پرندوں کی طرح گھومتا ہے،ہوا میں چکر لگاتا رہتا ہے۔ اسی گروہ کے جنات حضر ت سلیمان علیہ السلام کے تخت کو اٹھائے رہتے تھے۔ اس قسم کے جنات کو اگر تسخیر کر لیا جائے تو یہ اپنے عامل کو مختلف ممالک کی سیر کراتے ہیں۔ اس گروہ کے جنات کا عامل ہوا میں بھی اڑ سکتا ہے ،کہا جاتا ہے کہ تبت کے علاقہ میں اس قسم کے عامل پائے جاتے ہیں۔
چھٹا گروہ، اس گروہ کے جن شیاطین کسی شخص پر مسلط ہو جائیں تو مریض انگارے کھاتا اور شعلے نگلتا ہے۔ ان جنات کے عامل آگ میں گھس جاتے ہیں اور آگ سے کھیلتے ہیں اور صحیح سلامت نکلتے ہیں ۔۔یہ جنّ اگر کسی مرد یا عورت پر مسلط ہو جائیں تو اسے سخت درد ناک عذاب میں مبتلا کر دیتے ہیں ۔ایسے مریض چوبیس گھنٹے بھی غسل کریں تو ابھی ان کا جسم آگ کی طرح رہتا ہے۔
ساتواں گروہ،اس گروہ کے جن شیاطین اکثر جنگلوں، باغوں اور کھیتوں ، درختوں اور جھاڑیوں پر بسیرا کرتے ہیں ۔اس گروہ کے جن و بھوت مختلف شکلوں ، صورتوں میں دکھائی دیتے ہیں ان میں بعض بہت چھوٹے ہوتے ہیں اور بعض بڑے قوی ہیکل بھیانک شکل و صورت کے ہوتے ہیں اور رنگ برنگ کی سرخ ، زرد اور سبز وردیوں میں ملبوس رہتے ہیں۔ جو لوگ جنگل میں درخت کاٹتے ہیں وہ لوگ بعض دفعہ اس قسم کے جن اور شیاطین کے آسیب میں آجاتے ہیں ۔
آٹھواں گروہ،یہ جنات و شیاطین کا گروہ ہے جو جوان مردوں ، لڑکوں اور عورتوں نیز خوبصورت کنواری نوجوان لڑکیوں پر مسلط ہو کر ہو جاتے ہیں ۔اس گروہ کے متاثرہ مریض مرد عورت کا علاج کرنا ذرا مشکل ہوتا ہے ،اللہ تعالیٰ اس گروہ کے جنات و شیاطین سے ہر ایک کو محفوظ رکھے۔ آمین
نواں گروہ اس گروہ میں شامل جنات و شیاطین انسانوں پر مسلط ہو کر انہیں بیمار کر دیتے ہیں اور انسانوں کا خون چوستے ہیں۔ اور یہی ظلم حیوانات پر بھی مسلط ہوجایا کرتے ہیں۔ اکثر دودھ دینے والی گائے ، بھینس اور بکریوں، بھیڑوں پر ان کا تسلط ہو جاتا ہے اس قسم کے جن شیاطین کے عامل بھی اکثر لوگوں کے مال مویشیوں پر انہیں مسلط کر دیتے ہیں اور جانوروں کے بچے مرنے شروع ہو جاتے ہیں۔ جانوروں کے دو دودھ اور مکھن میں کمی بیشی میں ان جنّ شیاطین کا بڑا اثر ہوتا ہے۔
دسواں گروہ،اس گروہ میں شامل جن شیاطین بتوں اور مورتیوں میں گھس کر لوگوں میں بت پرستی کے مشرکانہ رسم و رواج کا موجب بنتے ہیں اس قسم کے جن شیاطین طرح طرح کے مکرو فریب سے اپنے پجاریوں کو اپنی پرستش میں پھنسائے رکھتے ہیں ۔ جب کبھی ان کے پجاری ان کو چوکی بھرنے یا سلام اور سجدے کے روزانہ فرائض ادا کرنے میں کوتاہی کرتے ہیں تویہ جن شیاطین ان پر اور ان کے گھرو الوں پر مسلط ہو کر انہیں ستاتے ہیں اور دکھ پہنچا تے ہیں۔ بعض چڑھاوے طلب کرتے ہیں اور قربانیاں مانگتے ہیں۔ کلکتہ کی کالی دیوی جو اس معاملے میں بہت مشہور چلی آتی ہے اور یہ چڑیل دیوی اپنے پجاریوں سے انسانوں کی قربانی طلب کرتی رہی ہے۔اس کی خوفناک اور ڈراونی سیاہ صورت جس کے گلے میں انسانی کھوپڑیوں کی بڑی مالا پڑی ہوئی ہے آج تک اس کے شیطانی ظلم و ستم کی شہادت دے رہی ہے۔
گیارہواں گروہ اس گروہ میں وہ جنات اور شیاطن شامل ہیں جو کاہنوں ، ساحروں، جادوگروں اور سفلی عاملوں کے پا س خبریں لاتے ہیں یا اپنے عاملوں کے دم تعویز گنڈے ، جھاڑ پھونکوں اور ٹونے ٹونکوں جا دوسر میں ان کی امداد اور اعانت کرتے ہیں۔ اور یوں ان کے دم قدم سے ا سفلی عامل اور کالے علم کی دوکان گرم رہتی ہے ہر قسم کے سفلی عامل اپنے خبیث موکلوں کی طرح پلید رہنے اور طیب ارواح سے بچنے کی خاطر اپنے اردگرد گوبر اور گندگی کا حصار کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو جنوں کے شر سے بچا کر رکھے، آمین