Baaghi TV

Category: لاہور

  • ماریہ بی کے باورچی کا کرونا کے دوسرے ٹیسٹ کا ریزلٹ کیا آیا؟ سب حیران رہ گئے

    ماریہ بی کے باورچی کا کرونا کے دوسرے ٹیسٹ کا ریزلٹ کیا آیا؟ سب حیران رہ گئے

    ماریہ بی کے باورچی کا کرونا کے دوسرے ٹیسٹ کا ریزلٹ کیا آیا؟ سب حیران رہ گئے
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی معروف فیشن ڈیزائنر ماریہ بی کے باورچی کا کرونا کا ٹیسٹ منفی آ گیا

    ماریہ بی کے باورچی میں کرونا کی تشخیص کے بعد وہ لاہور سے گاؤں روانہ ہو گیا تھا جس کے بعد پولیس نے ماریہ بی کے شوہر کے خلاف مقدمہ درج کرتے ہوئے گھر پر چھاپہ مار کر اسے گرفتار کر لیا تھا

    تا ہم مقامی اخبار ڈان کے مطابق ماریہ بی کے باورچی کا کرونا کا ٹیسٹ جو 26 مارچ کو لیا گیا تھا وہ منفی آیاہے، وہاڑی کے ڈی ایچ کیو ہسپتال کے ایم ایس نے اس بات کا دعویٰ کیا ہے، ایم ایس نے ڈان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ماریہ بی کے 30 سالہ باورچی کو کرونا کی تشخیص کے بعد 22 مارچ کو وہاڑی کے ہسپتال میں داخل کروایا گیا تھا تحصیل میلسی کے کے علاقے حسن شاہ میں ماریہ بی کا باورچی اپنے گھر آیا تو سیکورٹی اداروں نے اسے فوری ہسپتال منتقل کر دیا،

    ایم ایس کے مطابق اس کے خون کے نمونے لے کر لاہور میں انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ لیب میں بھیجے گئے تھے جس کی رپورٹ 26 مارچ کو آئی اور اس کا نتیجہ منفی نکلا، ڈاکٹر فاضل کا کہنا تھا کہ مریض میں کرونا کی کوئی علامت ظاہر نہیں ہوئی ،اگلے 24 گھنٹوں میں اسے ہسپتال سے فارغ کر دیا جائے گا

    قبل ازیں سوئی گیس کالونی لاہور کے رہائشی طاہر سعید معروف برانڈ ماریہ بی کے مالک ہیں اور انہوں نے عمر فاروق نام کا ایک باورچی رکھا ہوا تھا. طاہر سعید نے عمر فاروق کی طبیعت مسلسل خراب رہنے پر مقامی نجی لیبارٹری سے اس کا کورونا کا ٹیسٹ کرایا جو مثبت آیا تھا

    پولیس کے مطابق طاہر سعید نے متعلقہ حکام کو آگاہ کرنے کی بجائے مجرمانہ عمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے عمر فاروق کو اس کے آبائی شہر وہاڑی کی بس میں بٹھا دیا. عمر فاروق دو بسیں بدل کر وہاڑی پہنچا. کورونا وائرس کا مریض ہوتے ہوئے بھی عمر فاروق بغیر حفاظتی اقدامات کئے عام مسافروں کے ساتھ سفر کر کہ گھر پہنچا اور اہلخانہ سے بھی ملا. نجی لیبارٹری کی طرف سے معمول کے مطابق جب ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کو عمر فاروق کا کورونا کا ٹیسٹ مثبت آنے کی رپورٹ دی تو حکام حرکت میں آئے. لیبارٹری سے دستیاب ڈیٹا کے پیش نظر حکام نے طاہر سعید سے رابطہ کیا تو اس نے بتایا کہ عمر فاروق اپنے گاؤں چلا گیا ہے.

    محکمہ صحت کے حکام نے پولیس کی مدد سے عمر فاروق کو اپنی تحویل میں لے کر آئسولیشن وارڈ میں منتقل کر دیا ہے جبکہ تفتیش کے بعد ماریہ بی کے مالک طاہر سعید کو حراست میں لے لیا ہے. ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے ملازم کی مہلک بیماری چھپائی, اس کو عام شہریوں تک جانے دیا اور باقی عوام کی زندگی خطرے میں ڈالی۔

    پولیس نے ماریہ بی کے شوہر کو گرفتار کر لیا تھا بعد ازاں انہیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا

    ماریہ بی کے شوہر کی گرفتاری کی اصل وجہ سامنے آگئی

  • اپوزیشن کرونا مسئلے پر ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنا رہی ہے، منفی کردار افسوسناک،وزیراعلیٰ پنجاب

    اپوزیشن کرونا مسئلے پر ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنا رہی ہے، منفی کردار افسوسناک،وزیراعلیٰ پنجاب

    اپوزیشن کرونا مسئلے پر ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنا رہی ہے، منفی کردار افسوسناک،وزیراعلیٰ پنجاب

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے کہا ہے کہ کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے بروقت اقدامات اٹھائے گئے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی وفاقی حکومت اور پنجاب حکومت نے دیہاڑی دار طبقے کو ریلیف دینے کیلئے بہترین پیکیج کا اعلان کیا ہے۔ کورونا وائرس کسی ایک ملک کا مسئلہ نہیں بلکہ اقوام عالم کا مشترکہ چیلنج ہے۔ اہم قومی مسئلے پر بھی اپوزیشن سیاست کر رہی ہے۔افسوسناک امر ہے کہ اپوزیشن نے کورونا وباء پر پوائنٹ سکورنگ کی کوشش کی۔اپوزیشن کی جانب سے کورونا وائرس جیسے اہم مسئلے پر ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنانا غیر منطقی اور افسوسناک ہے۔

    عثمان بزدار کا مزید کہنا تھا کہ آزمائش کی اس گھڑی میں اپوزیشن کے منفی کردار کو تاریخ میں اچھے الفاظ سے یاد نہیں رکھا جائے گا۔
    اپوزیشن صرف کھوکھلے نعرے لگا رہی ہے، عملی طور پر کچھ نہیں کیا۔آج قوم کو یکجہتی اور اتحاد کی ضرورت ہے۔ پاک دھرتی کی مٹی ہم سب سے یگانگت اور بھائی چارے کا تقاضا کر رہی ہے۔ پاکستان کا قرض مشترکہ کاوشوں اور اجتماعی فیصلوں سے ہی اتارا جا سکتا ہے۔ وزیراعظم عمران خا ن نے ہمیشہ مشترکہ اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

  • کرونا وائرس، تبلیغی جماعت کے اراکین کے حوالہ سے حکومت پنجاب نے کیا بڑا فیصلہ

    کرونا وائرس، تبلیغی جماعت کے اراکین کے حوالہ سے حکومت پنجاب نے کیا بڑا فیصلہ

    کرونا وائرس، تبلیغی جماعت کے اراکین کے حوالہ سے حکومت پنجاب نے کیا بڑا فیصلہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب حکومت نے تبلیغی جماعت کے تمام ملکی و غیر ملکی شرکاء کی سکرینگ کا فیصلہ کر لیا ہے

    تبلیغی جماعت کے شرکا ء کو انہی اضلاع میں رکھا جائے گاجہاں وہ موجودہیں ،سکریننگ کے بعد کرونا وائرس کی علامات والوں کوقرنطینہ میں رکھا جائے گا ،

    چیف سیکرٹری کی زیر صدارت اجلاس میں پہلی سے آٹھویں جماعت کے طلباء کو امتحانات کے بغیرچھٹیوں کے کام میں کارکردگی کی بنیاد پر اگلی کلا س میں ترقی دینے کی تجویز پر غور کیا گیا ،پہلی سے آٹھویں جماعت کے طلباء کیلئے سائنس اور ریاضی کے مضامین کی آن لائن کلاسزہونگی،جماعت نہم اور دہم کے تمام مضامین کے آن لائن لیکچرز ہونگے ،یہ لیکچرز کیبل ٹی وی پر بھی نشر کئے جائیں گے

    چیف سیکرٹری کی زیر صدارت اجلاس میں بریفنگ دی گئی کہ تمام اضلاع میں ہسپتالوں کیلئے پرسنل پروٹیکشن اکویپمنٹ (PPE) بھجوا دیا گیا ہے۔ 38500سرجیکل ماسک،5750 95 -ماسک، 14600گاؤن، 36500دستانے، 12900 گاگلز دیئے ہیں،

    واضح رہے کہ ملک بھر میں تبلیغی جماعت کے کئی اراکین میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے،سرگودھا کے علاقہ سیٹلاٸیٹ ٹاٶن کی دو مساجد میں کراچی سے تبلیغی جماعت کی آمد پر کرونا کے شواہد پاۓ گۓ ۔ جس پر انتظامیہ ہنگامی بنیادوں پر متحرک ہو گٸ ۔ اور دونوں مساجد کو سیل کر کے انہیں قرنطینہ سنٹر کا درجہ دے دیا گیا ۔ سیل کی جانیوالی مساجد میں سیٹلاٸیٹ ٹاٶن کے علاوہ گِل والا چوک کی مساجد شامل ھے ۔ جن میں 20 افراد موجود ھیں ۔ اور ان سب کے نمونہ جات ٹیسٹ کیلیۓ بھجوا دیۓ گۓ ھیں ۔ ٹیسٹ رپورٹ آنے کے بعد ہی ان تبلیغی جماعت اراکین کے مستقبل کا تعین کیا جاۓ گا ۔ جبکہ ٹیسٹ رپورٹ آنے تک دونوں مساجد سیل ھیں ۔ ان مساجد میں کسی کو بھی آنے جانے کی اجازت نہیں ۔ ان مساجد پر ڈی پی او سرگودھا عمارہ اطہر کے حکم پر پولیس اہلکار ڈیوٹی پر متعین ھیں ۔ تاکہ حالات پر کنٹرول برقرار رکھا جا سکے ۔

    قصور میں کورونا وائرس کا شبہ تبلیغی جماعت کے 47 افراد ڈی پی ایس سکول میں قائم قرنطینہ سنٹر قصور میں منتقل کردیے گئے. عارضی قرنطینہ سنٹر عملہ نے تبلغی جماعت سے تعلق رکھنے والے 47 مشتبہ افراد کو حفاظتی طور پر منتقل کیا. سب افراد کے ٹیسٹ مکمل کر لیے ہیں اور یہ چودہ دن آئسولیشن وارڈ میں رھیں گے.

    سندھ کے شہر حیدر آباد میں تبلیغی جماعت کے ساتھ مسجد میں موجود ایک چینی باشندے میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جس کے بعد تبلیغی جماعت کے دیگر اراکین اور ان سے ملنے والے 200 اراکین کو مسجد میں ہی آئسولیٹ کر دیا گیا،حیدرآباد کے علاقہ قاسم آباد میں تبلیغی جماعت کے ساتھ وقت لگانے والے چینی باشندے میں کرونا کی تشخیص کے بعد محکمہ صحت کے حکام مسجد پہنچ گئے اور وہاں 2 سو سے زائد افراد کو آئسولیٹ کر دیا گیا،

    اسلام آبا د میں تبلیغی جماعت کے ایک اور شخص میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے،ڈی سی اسلام آباد نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ تبلیغی اجتماع لاہور سے انے والے ایک اور صاحب میں کرونا ٹیسٹ پاذیٹیو آیا ہے ۔ ان کا گھر شہزاد ٹاون میں ہے ۔ علاقے کو رات کو سیل کر دیا گیا ہے ۔ اللہ سب کی حفاظت فرمائے ۔ گردو نواح کے لوگوں سے گزارش ہے کہ گھر سے نہ نکلیں

    ایک اور ٹویٹ میں ڈی سی اسلام آباد کا کہنا تھا کہ اس مسجد اور اس کے گردو نواح میں مزید ۹ لوگوں کو کرونا ہو چکا ہے ۔ ٹوٹل 16۔ کوٹ ہتھیال اور بارہ کہو کو پوری طرح سیل کیا جا چکا ہے ۔ سب سے گزارش ہے کہ انتظامیہ سے تعاون کریں ۔ بارہ کہو روڈ بھی ہر قسم کی ٹریفک کے لئے بند کی جا چکی ہے .

    اسلام آبا دکے علاقے بارہ کہو کی یوسی کوٹ ہتھیال کو پانچ روز قبل اسوقت لاک ڈاؤن کر دیا گیا تھا جب ایک تبلیغی جماعت کے رکن میں کرونا کی تشخیص کے بعد اہلیان علاقہ کے ٹیسٹ کروائے گئے جس میں سے کچھ کے مثبت آئے، علاقہ سیل کر دیا گیا ہے، پولیس، فوج کی بھاری نفری علاقہ میں موجود ہے

    واضح رہے کہ کرونا وائرس کے بڑھتے کیسز کے بعد تبلیغی جماعت نے اپنی سرگرمیان معطل کر رکھی ہیں،

  • عمران نیازی کا رویہ جنگ میں ہتھیار ڈالنے کے مترادف،بڑھتے مریضوں پر شہباز شریف کا اظہار تشویش

    عمران نیازی کا رویہ جنگ میں ہتھیار ڈالنے کے مترادف،بڑھتے مریضوں پر شہباز شریف کا اظہار تشویش

    عمران نیازی کا رویہ جنگ میں ہتھیار ڈالنے کے مترادف،بڑھتے مریضوں پر شہباز شریف کا اظہار تشویش
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے کہا ہے کہ پنجاب میں کورونا کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہورہاہے،

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پنجاب میں تیزی سے کرونا کے مریضوں میں اضافہ کا فی الفور نوٹس کیاجائے ،فوری اقدامات نہ ہوئے توپنجاب میں بالخصوص خدانخواستہ بڑی تباہی دیکھ رہا ہوں ،حکومت کرونا وائرس کا ٹیسٹ نہ کرنے کے فیصلے سے قوم کی جان خطرے میں ڈال رہی ہے ،کورونا کے مریضوں، ٹیسٹنگ، سکریننگ سے متعلق تمام ڈیٹا سامنے لایا جائے ،حکومت کا کرونا کے متاثرین ، ٹیسٹ اور سکریننگ کا کا اعداد چھپانا جرم ہے

    شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ حقائق چھپانے سے زمینی حقائق چھپ سکتے ہیں، نہ ہی کورونا کی پھلتی وباءرک سکتی ہے ،مسئلے کا حل بڑے پیمانے پر ٹیسٹنگ اور ہسپتالوں سے الگ کورنٹین سینٹرز کا قیام ہے ،ڈسٹرکٹ اور تحصیل ہسپتالوں میں حفاظتی کٹس ، ادویات اور متعلقہ طبی سہولیات کا شدید فقدان ہے ،واضح حکمت عملی، ضروری حفاظتی سامان فراہم نہ کرکے وزیراعظم کورونا پھیلانے کی راہ ہموار کررہے ہیں ،عمران نیازی کا رویہ کورونا کے خلاف جنگ میں ہتھیار ڈالنے کے مترادف ہے

    شہباز شریف نے مطالبہ کیا کہ ڈاکٹرز، نرسز اور طبی عملے کے لئے حفاظتی لباس کو یقینی بنایا جائے ،‎ڈی ایچ کیو اور ٹی ایچ کیو ہسپتالوں میں کٹس ، ادویات سمیت طبی سہولیات کا شدید فقدان ہے ،ہسپتالوں میں مریضوں کو کورونا کے متاثرین سے فی الفور الگ کیاجائے ورنہ بڑی تباہی ہوگی .پنجاب میں ہنگامی بنیادون پر الگ کورنٹین مراکزکے قیام کو اورلین ترجیح دی جائے ،سرکاری سکول، کالج ، ہوٹل ، شادی ہال اور مساجد کو کورنٹین سینٹرز بنایا جائے ،‎حکومت کم ٹیسٹ کر کے حالات اور کنفرم مریضوں کی ریشو کو قابو میں رکھنے کی ناکام کوشش کر رہی ہیں جس سے وائرس کا خوفناک حد تک پھیلنے کا خدشہ ہے ،‎حکومت ابھی تک پاکستان میں ٹیسٹ اور سکریننگ کا صحیح ڈیٹا نہیں بتا رہی ،‎کروناوائرس کے حوالے سے ڈاکٹرز، نرسز اور پیرا میڈیکل سٹاف کی ٹریننگ نہ ہونا مزید خطرے کی علامت ہے ،وینٹی لیٹرز کی کمی کے علاوہ انہیں چلانے کے لئے متعلقہ عملے کی بھی شدیدقلت ہے

    ‎شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ شہری آبادی میں آئسولیشین وارڈز قائم کرنے سے عام مریضوں میں کروناوائرس کا خطرہ بڑھ رہا ہے ،‎دورافتادہ علاقوں سمیت ڈسٹرکٹ و تحصیل کی سطح پہ کے عوام کو کورونا سے آگاہ کرنے کی ہنگامی مہم چلائی جائے، انتظامات کئے جائیں ،ڈاکٹرز و نرسز کے کروناوائرس کے ٹیسٹ باقائدگی کرائے جائیں

  • کرونا وائرس آزمائش کے ساتھ ساتھ کئی مثبت تبدیلیاں بھی لا سکتا ہے۔ فیصل بخاری

    اسے سیلف آئسولیشن کہیں لوارنٹائین پکاریں یا کچھ اور مگر یہ حقیقت ھے ھم سب جہاں بھی ھیں ایک مختلف دنیا دیکھ رھے ھیں۔ میں پچھلے کچھ دنوں سے بدلتی دنیا کا مشاھدہ کر رھا ھوں اور درج ذیل حقائق میرے سامنے آۓ ھیں جو اگر یاد رکھے جائیں تو اس وبا کے بعد مثبت تبدیلی معاشرہ میں لا سکتے ھیں۔

    ۱۔ کئ کمپنیوں اور سرکار کے ملازم گھر بیٹھے کام کر سکتے ھیں۔ یعنی بے وجہ کی چھٹیوں سے چھٹکارا پایا جا سکتا ھے۔
    ۲۔ ھم اور ھمارے بچے فاسٹ فوڈ اور جنک فوڈ کے بغیر جی سکتے ھیں۔
    ۳۔ معمولی سزا یافتہ غریب اور لاچار قیدیوں کو آسانی سے رھائ مل سکتی ھے۔ عدالت اورجیل کےوسائل بچاۓ جا سکتے ھیں اور تھانہ کچہری کی سیاست ختم نہیں تو کم کی جا سکتی ھے۔
    ۴۔ ھم دنوں میں ھسپتال اورلیبارٹری قائم کر سکتے ھیں اوروہ بھی مفت!
    ۵۔ ھم اربوں روپے غریبوں کےبلئے جاری کر سکتے ھیں اورکمیٹیوں اور خزانہ کی وزارتوں سے باآسانی پاس کرا سکتے ھیں۔ قانون میں گنجائش موجود ھے۔
    ۶۔ ھم امریکہ اوریورپ میں چھٹیاں نہ گذارنےپر مر نہیں جائیں گے۔
    ۷۔ ترقی یافتہ ممالک اتنے ھی کمزور ھیں جتنے ترقی پزیر اور غریب ممالک۔ میری نظر میں ذیادہ کمزور!
    ۸۔ ھمارا خاندانی نظام ابھی بھی موجود اور قائم و دائم ھے۔ الحمد للہ۔
    ۹۔ اسکول میں جو پڑھایا جاتا ھے اس کی اصلیت کھل گئ ھے۔ بچوں کے وقت کا ضیاں کیا جاتا ھے خصوصی طور پر پرائیویٹ اسکول۔
    ۱۱۔ اگرھم پیسہ اسی احتیاط سے استعمال کریں تو پیسہ وافرھے۔
    ۱۱۔ ھم غیر ضروری طور پر کروڑوں ڈالر کا پیٹرول استعمال کرتے ھیں کو قومی خزانے اور زر مبادلہ پر بوجھ ھے۔
    ۱۲۔ امیر لوگ دراصل غرباء سے کمزور اور بزدل ھیں۔
    ۱۳۔ اشرافیہ طاقتورنہیں بلکہ کھوکھلی ھے۔
    ۱۴۔ ھر نیا ڈیزائنر لان کق جوڑا خریدنا ضروری نہیں۔ آپ پرانے سوٹ میں بھی گھر والوں کے لئے اتنی ھی اھم ھیں۔
    ۱۵۔ شوھر پارلر جاۓ بغیر بھی آپ سے محبت کرتا ھے اور اسے فرق نہیں پڑتا۔
    ۱۶۔ بزرگ ھمارے خاندانی نظام کی ریڑھ کی ھڈی ھیں۔
    ۱۷۔ میڈیا منافقت سے بھرا پڑا ھے اور اسے ذھن سازی کا مستند ادارہ نہ سمجھیں۔
    ۱۸۔ میرا جسم میری مرضی والے سمجھ گئے ھیں کہ ان کا جسم ان کے رب کی مرضی۔

    دنیا یقیناً بدل گئ ھے مگرپاکستان ایک مثبت انداز سے بدلے اور آگے بڑھے گا انشاءاللہ۔

  • ملک کے بیشتر حصوں‌ میں کرونا ٹیسٹ کی سہولت موجود نہیں ہے، خواجہ سعد رفیق

    ملک کے بیشتر حصوں‌ میں کرونا ٹیسٹ کی سہولت موجود نہیں ہے، خواجہ سعد رفیق

    ملک کے بیشتر حصوں‌ میں کرونا ٹیسٹ کی سہولت موجود نہیں ہے، خواجہ سعد رفیق

    باغی ٹی وی : خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ ملک کے بیشتر علاقوں میں کرونا ٹیسٹ کی سہولت ھی موجود نہیں ہیں، حکومت تمام پرائیویٹ لیب کے لئے کرونا ٹسٹ کے کم از کم نرخ مقرر کرے .سرکاری ھسپتالوں اور ھیلتھ سنٹرز میں کرونا ٹسٹ کی مفت سہولت مہیا کی جائے .

    انہوں نےکہا کہ ہم نے ڈینگی ٹسٹ کے کئے 800 روپے کو 80 روپے تک لاکر دکھایا تھا.کرونا ٹیسٹ کا دائرہ سرکاری ہسپتالوں سے رورل ہیلتھ سنٹرز تک پھیلایا جائے. ہر ڈسٹرکٹ ھسپتال کو ونٹی لیٹر مہیا کیے جائیں ڈاکٹرز نرسز پیرا میڈکس پولیس اور ریسکیو اھلکاروں کے پاس حفاظتی کٹس نہ ھونے کے برابر ہیں ‘حکومتیں مقامی سطح پر پرائیویٹ مینو فیکچررز کے ذریعے کرونا حفاظتی کٹس تیار کرواۓ

    خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ کرونا ٹیسٹ ، حفاظتی کٹس ، وینٹی لیٹرزکے فوری حصول کے لئے چین سے مدد لی جاۓ .صدر یا وزیر اعظم فی الفور چین کا ایک روزہ دورہ کر کے مدد کی اپیل کریں .حکومت پنجاب میں کرونا کے خلاف اقدامات کے لئے ڈینگی کو شکست دینے والی شھباز شریف کی ھیلتھ ٹیم سے استفادہ کرے .کرونا کے خلاف حکومتی اقدامت ناکافی اور سست رفتاری کا شکار ھیں .مریضوں کا ڈیٹا اور اقدامات قوم کے سامنے کیوں نہیں لاۓ جا رھے ؟

  • آج کا وقتی فاصلہ ہمیشہ کے فاصلوں سے محفوظ بنائےگا ان شاء اللہ ، گورنر پنجاب

    آج کا وقتی فاصلہ ہمیشہ کے فاصلوں سے محفوظ بنائےگا ان شاء اللہ ، گورنر پنجاب

    آج کا وقتی فاصلہ ہمیشہ کے فاصلوں سے محفوظ بنائے گا ان شاء اللہ ، گورنر پنجاب

    باغی ٹی وی :چودھری سرور نے کہا کہ آج کا وقتی فاصلہ ہمیشہ کے فاصلوں سے محفوظ بنائے گا، انسدادکورونا کیلئے افواج پاکستان کا تاریخی کردار قابل تحسین ہے۔

    انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس سب بڑا خطرہ بن چکا ہمیں حفاظتی تدابیرپر عمل کر نا ہوگا، ہم سب وزیراعظم کی قیادت میں کورونا کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں۔

    گورنر پنجاب کا کہنا تھا کہ قوم مشکل کی گھڑی میں ڈاکٹرز اور دیگر طبی عملے کو خراج تحسین پیش کرتی ہے۔

    گور نر پنجاب چوہدری محمدسرور اور وزیر اعلی سردار عثمان بزدار کی ملاقات ہوئی ،جس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ ان شاء اللہ پوری قوم متحد ہوکرکورونا کو شکست دیں گی ‘عوام کو کورونا سے بچانے کیلئے تمام وسائل استعمال کیے جائیں گے ‘گور نر اور وزیر اعلی کی کوروناسے بچائو کیلئے عوام سے گھروں میں رہنے کی اپیل ہے. ملاقات میں کورونا سے پیدا ہونیوالے حالات اور حکومتی اقدامات بارے گفتگو کی گئی .:گور نر او ر وزیر اعلی کے در میان ملاقات لاہور ایئر پور ٹ پر ہوئی ہے ‘ملاقات کے بعد گور نر اور وزیر اعلی کور کمیٹی اجلاس میں شرکت کیلئے بنی گالہ روانہ ہو گئے.

  • اس بار نئے اور خفیہ دشمن سے پالا پڑا ہے، احتیاط سے شکست دینی ہوگی، فیصل بخاری

    اس بار نئے اور خفیہ دشمن سے پالا پڑا ہے، احتیاط سے شکست دینی ہوگی، فیصل بخاری

    پشتو کی ایک کہاوت ھے "پہ جنگ کے مڑی کیگی” جس کا اردو ترجمہ "جنگ میں لوگ مرتے ھیں!” ھم سب اس وقت حالت جنگ میں ھیں اور دشمن پوشیدہ اور نیا ھے۔ کوئ حکومت چاھے جتنی بھی طاقتور، وسائل سے لیس ھو اس جنگ سے تنہا نہیں لڑ سکتی۔ یہ ھر شخص اور ھر انسان کی جنگ ھے۔ الحمدلللا ھم اشیاۓ خورد و نوش میں خود کفیل ھیں اور یہ ان حالات میں احسان خداوندی ھے۔

    ھمیں صرف مضبوط، متحد اور مثبت رھنا ھے اور ھر اس بات کی پابندی کرنی ھے جو حکومت اور ریاست کہہ رھی ھے۔ گھروں سے نہ نکلنا ھمارا احسان نہیں بلکہ قانونی اور شرعی ذمہ داری ھے اور اس کی خلاف ورزی قانون اور احادیث کی خلاف ورزی ھے۔ یہ ھمارے ضعیف والدین اور معاشرے کے بزرگوں اور عمر رسیدہ لوگوں کے لئے ھے۔ ھمارے بچوں کے لئے ھے۔ ھم ایک بہادر قوم ھیں اور انشاءاللہ اس عذاب سے نکلنے والی پہلی قوموں میں ھوں گے۔ یاد رکھیں یہ کوئ جھڑپ یا لڑائ نہیں ھے بلکہ ایک بہت بڑی جنگ ھے۔ اس جنگ کے لئے ذھنی طور پر تیار رھیں کیونکہ یہ دنوں اور ھفتوں کی نہیں مہینوں پر محیط ھو گی۔ ھم نے دھشتگردی کے خلاف ایک دھائ کی جنگ جیتی ھے۔ وھاں بھی دشمن ھمارے اپنے درمیان پوشیدہ تھا۔ مگر ھم نے اسے مل کر شکست دی۔ ایک لاکھ جانیں گنوائیں مگر گھبراۓ نہیں اور دنیا کو جیت کر حیران کر دیا۔

    مضبوط رھیں۔ مثبت رھیں۔ گھر پر رھیں۔ ھاتھ دھوئیں۔ اپنے پیاروں سے جڑے رھیں۔ سلامت رھیں۔ ایمان اتحاد اور تنظیم کی جو تلقین ھمیں کی گئ تھی آج بس انہی تینوں چیزوں کی ضرورت ھے۔ خصوصاً تنظیم ہعنی ڈسپلن۔ اللہ سب کو اپنی حفاظت میں رکھے۔

    (فیصل بخاری )

  • کرونا کی افرا تفری نے بہت لوگ بے نقاب کر دئیے،فیصل بخاری

    کرونا کی افرا تفری نے بہت لوگ بے نقاب کر دئیے،فیصل بخاری

    جب ٹائٹینک TITANIC جہاز ڈوب رھا تھا تو اس میں چار طرح کے لوگ سوار تھے:
    ۱۔ امیر ترین لوگ جنہوں نے ٹکٹ کے ساتھ ھی حفاظتی جیکٹ اور ریسکیو والی کشتیوں کا بندوبست کررکھا تھا۔
    ۲۔ مڈل کلاس جنہوں نے کم از کم حفاظتی جیکٹس کا بندوبست کر رکھا تھا۔
    ۳۔ غریب ترین مزدور مفرور اور معتوب طبقہ جن کی اکثریت تھی مگر کسی تباھی سے بچاؤ کا کوئ سلسلہ نہیں تھا ان کے پاس۔ ان کی تعداد سب سے زیادہ تھی۔
    ۴۔ اس جہاز کا اپنا عملہ اور کپتان جن کی ڈیوٹی ان تمام مسافرو ں کو بچانا تھا اور آخر دم تک جہاز سے نہ کودنا ان کی ذمہ داری تھی۔

    ھمارےمعاشرہ میں آج کل کے بحران میں کیا آپ کو من و عن یہی تفریق نظر نہیں آ رھی؟ ماریہ بی پہلے طبقہ کی روشن مثال ھے۔ ھم سب فیس بک اور ٹویٹر والے دوسرے طبقہ سے تعلق رکھتے ھیں۔ جبکہ دھاڑی والا ریڑھی والا مزدور تیسرا طبقہ ھے۔ جمھوریت میں اکثریت ترجیح ھوتی ھے مگر یہاں الٹ نظام چل رھا ھے۔
    آخری طبقہ آپ کی حکومت اور سرکاری ملازم، افواج، پولیس اور ڈاکٹر نرس اور تمام لوگ ھیں جو جہاز سے نہیں کودیں گے آخری دم تک۔ کہتے ھیں اگر افراتفری نہ ھوتی اور تقسیم متوازن ھوتی تو شاید اتنی جانوں کا ضیاں نہ ھوتا۔ بے شک جہاز نے ڈوبنا تھا۔ بے شک لوگوں نے مرنا تھا مگر اس سانحہ کو تاریخ طبقاتی ناانصافی کے حوالے سے یاد رکھتی ھے۔

    میرے بہت پیارے دوست اس افراتفری میں میری نظروں میں ایکسپوز ھوے ھیں۔ بزدلی، نفرت اور تقسیم کا اظہار کر رھے ھیں۔ اگر آپ کو یاد ھو تو اس جہاز پر ایک گروپ وائلن بجانے والا بھی تھا۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ آخری سانس تک وائلن بجائیں گے تاکہ لوگوں میں امید پیدا ھو۔ مجھے وہ وائلن والا سمجھ لیجئے۔ آئیں اپنا اپنا وائلن اٹھائیں اور لوگوں کی ھمت باندھیں!!

    (فیصل بخاری)