شہبازشریف نے اگر آج یہ کام نہ کیا تو گرفتاری یقینی
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو آج نیب نے طلب کر رکھا ہے اگر وہ نیب میں پیش نہ ہوئے تو انہیں گرفتار کیا جا سکتا ہے
گزشتہ طلبی پر شہباز شریف پیش نہ ہوئے تو نیب نے ایک اعلامیہ جاری کیا تھا جس میں نیب نے کہا تھا کہ اگر شہباز شریف نے تعاون نہیں کیا تو ان کے خلاف نیب قانونی راستہ اپنائے گا۔ عدم تعاون کی بنا پر نیب قانونی راستہ اپنانے پر حق بجانب ہوگا۔
نیب کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کو آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس میں 17 اپریل کو طلب کیا گیا لیکن وہ کرونا وائرس کا عذر کر کے پیش نہیں ہوئے، آج دوپہر 12 بجے انھیں دوبارہ طلب کیا گیا ہے، شہباز شریف آج نیب آفس میں پیش ہوں، پیشی کے موقع پر مکمل حفاظتی اقدامات اپنائے جائیں گے
واضح رہے کہ شہباز شریف کو نیب نے آج طلب کر رکھا تھا،
نیب نے شہباز شریف کو ایک سوالنامہ بھی بھجوایا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سال 1998 سے سال 2018 کے دوران فیملی کے اثاثے بڑھ کر 549 ارب ہوئے۔ پبلک آفس ہولڈر ہونے کی حیثیت سے ان اثاثوں میں اضافے کی وضاحت دیں۔ بیرون ملک کون کون سے اثاثے اور بینک اکاوَنٹس موجود ہیں ان کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔ سال 2005 سے سال 2007 کے دوران لیے جانے والے قرض کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔ فیملی کو دیے جانے والے اور موصول ہونے والے تمام تخائف کی تفصیلات فراہم کی جائیں اور سال 2008 سے سال 2019 کے دوران زرعی آمدنی کی تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔ ماڈل ٹاوَن 96 ایچ کتنے سال تک وزیر اعلیٰ کیمپ ہاوَس رہا، اس کا بھی جواب دیں
گریٹ گیم، اصل کہانی تو مئی کے بعد شروع ہو گی، مبشر لقمان کے اہم انکشافات
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ اصل کہانی تو مئی کے بعد شروع ہو گی
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ عالمی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ بڑھتی ہوئی وبائی بیماری کی وجہ سے تیل کی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے اور طلب میں کمی آئی ہے لہذا تیل کی قیمت منفی سطح پر آئی یعنی تیل کی قدو قیمت اس وقت ٹوائلٹ پیپر سے بھی کم ہے، آئل کی صنعت میں 50 ملین ملازمتیں ختم ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا، توانائی کی صنعت بھی متاثر ہو گی تیل کی منڈی کریش کرنے کی وجہ سے اضافی تیل ذخیرہ کرنا پڑ رہا ہے. امریکہ کی تیل کی کمپنیوں کی کمپنیوں کے مطابق تیل کی قیمت منفی کی کم ترین سطح پر آ چکی ہے، امریکی تیل ساز کمپنی کا رواں برس جون کے لئے خام تیل کی قیمت کم ہے، پیر کے روز اسکا کاروبار 20 ڈالر سے چلا، یورپ اور دیگر ممالک میں تیل کی قیمت 8 ڈالر تک آئی،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ تیل کی تجارت مستقبل کی قیمت کے حساب سے کی جاتی ہے، مئی تک کے معاہدے منگل کو ختم ہو رہے ہیں ، کمپہنیاں تیل کو ان ممالک کے حوالہ کرنا چاہ رہی ہیں جنہوں نے خریدا تا کہ ان کو اضافی اخراجات نہ ادا کرنے پڑیں،لیکنصورتحال یہ ہے کہ کسی بھی ملک کے پاس تیل کو ذخیرہ کرنے کی جگہ موجود نہیں کیونکہ تیل تو دھڑا دھڑ آ رہا ہے لیکن لاک ڈاؤن کی وجہ سے تیل کے استعمال کی کھپت کم ہے، امریکہ اور کینیڈا میں تیل نکالنے والی کمپنیاں کام بند کر رہی ہیں
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ عالمی سطح پر تیل کی پیداوار کو کم کرنے کے لئے شدید اختلافات سامنے آئے تھے ،اپریل کے آخر میں اویپک ممالک جس میں سعودی عرب سر فہرست ہے اور اس کے اتحادیوں نے تیل کی پیداوار میں 10 فیصد کمی کا اعلان کیا تھا،لیکن تیل کی پیداوار میں کی جانے والی کٹوتی اتنی زیادہ نہیں تھی کہ اس سے صنعت پر کچھ فرق پڑتا ،تیل برآمد کرنے والے اوپیک ممالک اور اس کے اتحادی جیسا کہ روس پہلے ہی تیل کی پیدوارا کم کرنے پر اتفاق کر چکا ہے، امریکا سمیت دیگر ممالک نے تیل کی پیداوار کو کم کرنے کا فیصلہ کاروباری سطح پر کیا خام تیل کی سپلائی اب بھی زیادہ ہو رہی ہے، ایک بڑا مسئلہ اس کو سٹور کرنے کا ہے، کہ اضافی تیل کو کیسے سٹور کیا جائے،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ جب تک ساری دنیا سے وبا کے باعث لاک ڈاؤن میں نرمی نہ ہو جائے اور تیل کے ڈیمانڈ میں اضافہ نہ ہو،دنیا میں زمین و سمند ر میں تیل کے ذخائر تیزی سے بڑھ رہے ہیں اگر یہی سلسلہ چلتا رہا تو تیل کی قیمتیں مزید کم ہوں گی ، عالمی منڈی کا انحصار تیل پر ہے،
امریکا میں تیل ذخیرہ کرنے کی سہولیات ختم ہو چکی ہیں، سرمایہ کاری میں کمی آئے گی، تیل برآمد کرنے والے کچھ ممالک کے لئے مسئلہ پیچیدہ ہو جائے گا، کئی ممالک میں تیل کی پیداوار بالکل گر جائے گی،سعودی عرب سیف دکھائی دیتا ہے اس نے چین کے ساتھ بڑی ڈیل کر رکھی ہے،غیر مستحکم مارکیٹ میں بچے گا کون جو خرچ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے،توانائی کی صنعت میں بھی تبدیلی آنے والی ہے، تیل کی منڈی میں گریٹ گیم شروع ہو چکی ہےسعودی عرب روس اور چین فائدہ اٹھا سکتے ہیں جن کے پاس تیل زیادہ ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہو گی
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ چائنہ میں یہ صلاحیت ہے کہ وہ دنوں میں تیل ذخیرہ کرنے کے یونٹس بنا سکتا ہے، انہوں نے چھ دن میں ہسپتال بنایا، ممالک پریشان ہیں ، یہ ایک گیم ہے ان حالات میں لڑائی بڑے کھلاڑیوں کے درمیان ہو گی امریکہ کی خواہش ہو گی کہ بال سعودی عرب روس یا چائنہ جیسے ممالک کے پاس نہ جائے،پرائیویٹ کمپنیز کو ریاستیں خریدنا شروع کر دیں گی، تیل کے حوالہ سے جنگ بھی چھڑ سکتی ہے لیکن یہ جنگ ماضی کی جنگوں سے الگ ہو گی دیکھتے ہیں کون جیتتا ہے اور کون ہارتا ہے، کون غلط فیصلے کرتا ہے اصل کہانی تو مئی کے مہینے میں شروع ہو گی.
احساس کفالت پروگرام کے سلسلے میں ضلعی انتظامیہ نے کتنے افراد کو رقم تقسیم کردی ، تفصیلات جاری
باغی ٹی وی : ڈی سی لاہور دانش افضال کے مطابق ضلعی انتظامیہ لاہور نے احساس کفالت سنڑز پر رقم ادائیگی کی تفصیلات جاری کر دیں.گذشتہ روز 31 سنٹرز سے 8842 افراد کو 12 ہزار فی کس ادائیگی کی گئی.
گذشتہ روز 10 کروڑ، 89 لاکھ 35 ہزار کی ادائیگی کی گئی. دس دنوں میں مجموعی طور پر 93411 افراد کو احساس کفالت کی رقم ادا کر دی گئی ہے. دس دنوں میں مجموعی طور پر 1 ارب 13 کروڑ 91 لاکھ 53 ہزار روپے کی رقم ادا کی گئی ہے. آج گیارہویں روز بھی رقم کی ادائیگی کا سلسلہ جاری ہے. 31 سنٹرز اور ان کے 145 کیش کاونٹرز پر بھر پور انتظامات کیے گئے ہیں. تمام سنٹرز پر کورونا کے حوالے سے انتظامات کیے گئے ہیں.
احساس کفالت پروگرام کے ساتھ 8171 سے مسیج آنے والوں کو بھی رقم کی ادائیگی کی جا رہی ہے.
پاکستان میں فروخت کی جانے والی سوزوکی ویگنار بمقابلہ بھارتی ویگنار ، تقابلی جائزہ
باغی ٹی وی : پاکستان میں گاڑیوں کی قیمت دوسرے ممالک کی نسبت بہت زیادہ ہے . اس کی مثال سوزوکی ویگنار ہی سے لگا لیں کہ بھارت میں سوزوکی ویگنار پاکستان میں بیچی جارنے والی ویگنار سے قیمت میں بہت کم ہے اور اس کی انجن کی استعداد اور دیگر خوبیاں پاکستان میں بیچی جانے والی ویگنار سے زیادہ ہیںَ.
پاکستان میںبیچی جانے والی ویگنار اے جی ایس 18 لاکھ 90 ہزار کی ہے اور بھارت میں ویگنار زید ایکس آئی 5 لاکھ 44 ہزار بھارتی روپے کی ہے جس کو اگر پاکستانی روپے میں تبدیل کیا جائے تو یہ 11 لاکھ 84 ہزار 385 روپے بنتے ہیں.اگر دیکھا جائے کہ بھارت میں فروخت ہونے والی سوزوکی ویگنار اپنے فنکشن اور کوالٹی کے لحاظ سے پاکستانی ویگنار سے ایڈوانس ہے. بھارتی ویگنار کا انجن 1197 سی سی ہے جبکہ پاکستانی ویگنار کا انجن 998 سی سی ہے.
اسی طرح پاکستانی سوزوکی ویگنار صرف فرنت ونڈو کی خوبی رکھتی ہے جبکہ بھارتی ویگنار فرنٹ اور ریئر ونڈو کی کوالٹی کی حامل ہے.اس کے علاوہ ایئر گیس ، فرنٹ فوگ گیس.ٹچ انفو ٹینمنٹ ، سٹیرنگ کنٹرول، اے بی ایس ایج، الاؤ وہیل جیسی اضافی خوبیاں پاکستانی ویگنار میں نہیں ہیں جبکہ بھارتی ویگنار میں موجود ہیں.
تمام تر خوبیوں کے باوجود بھارت کی سوزوکی ویگنار پاکستان میں بیچی جانے والی ویگنار کے مقابلے میں سات لاکھ روپے سستی ہے جبکہ بھارت کی طرف سے دی جارنے والی ویگنار کم قیمت ہونے کے باوجود زیادہ خوبیوں کی حامل ہے.
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق احتساب عدالت میں پیراگون اسکینڈل کیس کی سماعت ہوئی،
خواجہ سلمان رفیق جج جواد الحسن کی عدالت میں پیش ہوئےجبکہ مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی خواجہ سعد رفیق اسلام آباد مصروفیت کے باعث عدالت پیش نہ ہوئے۔عدالت نے پیراگون اسکینڈل کیس میں خواجہ برادران کو آئندہ سماعت پر پیش ہونے کے احکامات جاری کرتے ہوئے سماعت چھ مئی تک ملتوی کردی۔
دوران سماعت چوہدری نواز ایڈووکیٹ کی وساطت سے خواجہ سعد رفیق نے حاضری معافی کی درخواست دائر کی جبکہ عدالت میں خواجہ سلمان رفیق نے اپنی حاضری مکمل کرائی،جج جواد الحسن نے سابق وفاقی وزیرخواجہ سعد رفیق کی حاضری معافی کی درخواست منظور کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر پیش کرنے کا حکم دے دیا
واضح رہے کہ خواجہ برادران کو 17 مارچ کو سپریم کورٹ نے رہا کرنے کا حکم دیا تھا،خواجہ برادران پر فرد جرم عائد کی جا چکی ہے۔عدالت نے ریفرنس کے 3 ملزموں ندیم ضیاء، عمر ضیاء اور فرحان علی کو اشتہاری قرار دے رکھا ہے جنہوں نے پیراگون سوسائٹی میں سادہ لوح شہریوں سے 59 کروڑ کا فراڈ کیا ہے۔
لاہور کی احتساب عدالت نے 4 ستمبر کو مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی خواجہ سعد رفیق اور ان کے بھائی خواجہ سلمان رفیق کے خلاف پیراگون ہاؤسنگ سوسائٹی میں بے ضابطگیوں پر دائر ریفرنس میں فرد جرم عائد کی تھی۔ خواجہ سعد رفیق اور خواجہ سلمان رفیق نے صحت جرم سے انکار کیا تھا۔
واضح رہے کہ 11 دسمبر کو لاہور ہائی کورٹ نے مسلم لیگ ن کے رہنماؤں خواجہ سعد رفیق اور ان کے بھائی سلمان رفیق کی عبوری ضمانت خارج کردی تھی، جس کے بعد نیب نے دونوں بھائیوں کو حراست میں لے لیا تھا۔
کرونا وائرس، پنجاب میں روزانہ کتنے ٹیسٹ کئے جا رہے ہیں؟
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چیف سیکرٹری پنجاب میجر (ر) اعظم سلیمان خان کی زیر صدارت اجلاس ہوا،اجلاس میں سیکرٹری سپیشلائزڈ ہیلتھ نبیل اعوان، سیکرٹری پرائمری ہیلتھ.کیپٹن (ر) محمد عثمان، کمشنر لاہور سیف انجم، سی سی پی او لاہور ذوالفقار حمید اور متعلقہ افسران نے شرکت کی
ڈویژنل کمشنرز اور آرپی اوز ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے۔ اجلاس میں کنسٹرکشن انڈسٹری کی سہولت کے پیش نظر لاہور میں ایل ڈی اے کے علاوہ اضلاع میں سرکاری محکموں کے تعمیرات سے متعلق شعبوں کو ضروری سٹاف کیساتھ کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے
چیف سیکرٹری کا کہنا تھا کہ متعلقہ شعبے کھولنے سے تعمیرات کے کاروبار سے وابستہ افراد کو نقشے پاس کروانے اور دیگر ضروری سروسز کی فراہمی ممکن ہو سکے گی۔ تعمیراتی شعبے سے وابستہ افراد کی سہولت کیلئے محکمہ ریونیو کے فرد ملکیت اور جائیداد کی منتقلی سمیت مخصوص شعبوں کو 4یا5گھنٹے کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے
چیف سیکرٹری کا کہنا تھا کہ کھولے جانیوالے شعبوں میں کورونا وائر س سے بچاؤ سے متعلق ایس او پیز پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ صوبے میں روزانہ کورونا ٹیسٹ کرنے کی استعداد بڑھانے کیلئے آٹھ لیبارٹریوں کو اپ گریڈ کیا گیا ہے۔
سیکرٹری پرائمری ہیلتھ.کیپٹن (ر) محمد عثمان نے اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کے سرٹیفکیٹ کے بعد ان اپ گریڈ کی گئی لیبارٹریوں کو مکمل فعال کر دیا گیا ہے،لاہور میں دو، راولپنڈی، ڈی جی خان، بہاولپور، وزیر آباد، فیصل آباد اور ملتا ن میں ایک ایک لیبارٹری کو اپ گریڈ کیا گیا ہے۔ لیبارٹریوں کی اپ گریڈیشن کے بعد صوبے میں 24 گھنٹوں میں کورونا وائرس کے 4620 مینوئل ٹیسٹ کئے جا سکیں گے۔
ملزم پولیس کی غفلت سے چھوٹ جاتے ہیں اورکہا جاتا ہےعدالتیں چھوڑدیتی ہیں، عدالت پولیس پر برہم
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں ڈکیتی کے مقدمے میں ملوث ملزم کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی،
عدالت کے طلب کرنے پر ایس پی انویسٹی گیشن صدر منصور عدالت میں پیش ہوئے،جسٹس اسجد جاوید گھرال نے ملزم کومل شہزاد کی درخواست ضمانت پر سماعت کی،ملزم کی طرف سے میاں داؤد ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے
عدالت نے قانون کےمطابق ملزم کی شناخت پریڈنہ کرنے پرایس پی انویسٹی گیشن صدرکی سرزنش کی، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پولیس ناقص تفتیش کرتی ہے جس سے ملزم چھوٹ جاتے ہیں،تفتیشی نے شناخت پریڈ نہ کراکر،ناقص تفتیش کرکے کیس کابیڑاغرق کر دیا ،
جسٹس سجاد جاوید گھرال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملزم پولیس کی غفلت سے چھوٹ جاتے ہیں اورکہا جاتا ہےعدالتیں چھوڑدیتی ہیں، ایس پی انویسٹی گیشن صدر نے عدالت میں کہا کہ یہ کیس میری تعیناتی سے پہلے کا ہے،جو کوتاہی ہوئی ، اس پر متعلقہ تفتیشی کیخلاف کارروائی کرینگے، جس پر عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پولیس نے اپنی کوتاہی چھپانے کیلئے نیا طریقہ سیکھ لیا ہے،جس کیس میں دیکھیں، پولیس افسر کہتا ہے کیس میری تعیناتی سے پہلے کا ہے،پولیس کا یہی حال رہا تو پھر یہ سسٹم نہیں چلنے والا،
ایس پی انویسٹی گیشن نے کہا کہ غفلت کرنے پر متعلقہ پولیس افسر کیخلاف کارروائی کرینگے،جس پر عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا کارروائی کرینگے، ایک دن معطل کر کے دوسرے دن بحال کر دینگے،
عدالت نے ملزم کی 1 لاکھ روپے کےمچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی
وزیر خارجہ کو کسی نے غلط بریف کیا، ڈاکٹر یاسمین راشد کہاں پہنچ گئیں؟
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کی صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا ہے کہ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کو کسی نے غلط بریف کیا،کچھ روز قبل شاہ محمود قریشی نے تحفظات رکھا تھا،شاہ محمود قریشی کو یقین دہانی کرائی تھی خود جاکر نشتر اسپتال کی صورتحال دیکھوں گی،
ملتان نشتر ہسپتال کے دورے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ پاکستان میں خطے میں سب سےزیادہ ٹیسٹ ہورہے ہیں،ملتان میں 2ہزار82ٹیسٹنگ کٹس موجود ہیں،پنجاب میں 10نئے فیلڈ اسپتال بن چکے ہیں،مزید بھی بنا رہے ہیں،ملتان قرنطینہ میں 652افراد موجودہیں،رواں ہفتے سے 5 ہزار ٹیسٹ روزانہ کی بنیاد پر کریں گے،
ڈاکٹر یاسمین راشد کا مزید کہنا تھا کہ دارالامان ، جیل اور یتیم خانوں میں بھی ٹیسٹ کئے جائیں گے ،کورونا وائرس کے 19مریضوں کی حالت تشویشناک ہے،پنجاب میں 12ہزار افراد قرنطینہ سینٹر میں موجود ہیں،جنوبی پنجاب میں کورونا کے 183مریض صحت یاب ہوچکے ہیں ،پنجاب کے140چھوٹے بڑےعلاقوں میں لاک ڈاوَن کیاہواہے،
ڈاکٹر یاسمین راشد کا مزید کہنا تھا کہ نشتر اسپتال میں مریض زیادہ ہونے پر آئیسولیشن بنایاگیا،ہر ڈاکٹر کواین 95ماسک دیاگیا ہے جو ہر ہفتے تبدیل کیاجاتاہے،نشتراسپتال سے کوئی وینٹی لیٹر دوسرے اسپتال نہیں بھجوایا،طیب اردگان اسپتال کے پاس 35 وینٹی لیٹرز موجود ہیں،نشتراسپتال ملتان میں 26 ڈاکٹرز کا ٹیسٹ منفی آچکا ہے،27 ڈاکٹرز اور7 پیرا میڈیکس نشتر میں کورونا سے متاثر ہوئے ،کورونا سے نمٹنے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لارہے ہیں
لاک ڈاؤن میں حکومت سے امداد کی درخواست پر عدالت نے کیا تاجر رہنما کو جرمانہ
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ قاسم خان نے میں لاک ڈاون کے خاتمے کے لیے تاجروں کی درخواست خارج کردی
چیف جسٹس قاسم خان نے انجمن تاجران کے سیکرٹری نعیم میر کو 50ہزار روپے جرمانہ کر دیا،چیف جسٹس قاسم خان نے جرمانہ کی رقم ان لینڈ ریونیو ایکٹ کے تحت وصول کرنے کا حکم دیدیا
دوران سماعت چیف جسٹس قاسم خان کا کہنا تھا کہ لاک ڈاون برقرار رکھنا ہے یا ختم کرنا یہ حکومتی پالیسی ہے ،سستی شہرت کے لیے عدالتوں میں درخواستیں دائر کی جاتیں ہیں ،غیر ضروری اور سستی شہرت کے لیے درخواستیں دائر کرنے والوں سے کوئی رعایت نہیں ہوگی ،عدالتی وقت ضیاع کرنے کی اجازت کسی کو نہیں دیں گے
چیف جسٹس قاسم خان نے ریمارکس دیتے ہوئے مزید کہا کہ کرونا کے باعث ہزاروں لوگوں کی زندگیاں ختم ہوں گی تو تب سمجھ آئے گی کرونا وائرس سے پوری دنیا درہم برہم ہوچکی ہے
چیف جسٹس نے انجمن تاجران کے مرکزی سیکرٹری جنرل نعیم میر کی درخواست پر سماعت کی ۔درخواست میں مرکزی اور صوبائی حکومت کے علاوہ وزیراعظم ریلیف فنڈز کے سربراہ کو فریق بنایا گیا ہے ۔درخواست گزار نے کہا کہ کروانا وائرس کئ وجہ سے ملک میں لاک ڈوان ہے۔ اس لاک دوان کی وجہ سے صوبائی اور مرکزی ادارے بند ہیں ۔اس وائرس کی وجہ سے تمام مکاتب فکر کے لوگ متاثر ہوئے ۔
درخواستگزار نے اپنی درخواست میں مزید کہا کہ اس وائرس سے تاجر طبقہ بھی بری طرح متاثر ہوا وزیر اعظم ریلف فنڈز کی وجہ سے غریب طبقہ کے لوگوں کو فی کس بارہ ہزار دیا جا رہا ہے ۔اس ریلف فنڈز میں متاثر ہونے والے تاجروں کو محروم رکھا گیا ہے ،عدالت وزیراعظم ریلف فنڈز کی رقم تاجروں کو بھی دینے کا حکم دے استدعا
سعودی عرب میںوباء کی آڑ میں کیا کھیل کھیلا جا رہا ، مبشر لقمان کے اہم انکشافات
باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق :معروف صحافی اور اینکر پرسن مبشر لقمان نے اپنی تازہ یو ٹیوب ویڈیو میں کہا ہے کہ شہزادہ محمد بن سلمان جب سے اقتدار میں آئے ہیں ان کی شخصیت متنا زعہ رہی ہے اور انہوں نے اس دوران اقتدار کی کرسی کو مضبوط بھی کیاہے .ان کا کہنا تھا کہ وباء کی آڑ میں وہ اپنے آپ کو اور بھی مضبوط کررہے ہیں. محمد بن سلمان نے اس وباء کے دوران مزید سخت اقدام کیے ہیں، اور 20 کے قریب شہزادے ، شاہی خاندان کے افراد اور فوج کے ذمہ داران کو بھی گرفتار کر لیا ہے . ان میں اہم ترین سابق ولی عہد نائف اور شاہ سلمان کے بھائی احمد بن عبدالعزیز بھی شامل ہیں. سعودی حکومت نے ابھی تک واضحنہیں کیا کہ انہوں نے ان کو بغاوت کے الزام میںگرفتار کیا ہے یا کسی اور وجہ سے صرف تین سال میں محمد بن سلمان نے اپنے خلاف اٹھنےوالی تمام آوازوں کو خاموش کر دیا ہے.
مبشر لقمان نے کہا کہ جب سے محمد بن سلمان اقتدار میں آئے ہیں انہوں نے چند ایسے اقدامات کیے ہیں جس وجہ سے ان پر شدید تنقید کی جاتی ہے .جن میں سب سے اہم کرپشن کے خلاف اقدام ہے. اس سلسلے میں انہوں نے بہت بڑے بزنس مین اور شاہی گھرانے کے افراد کو حراست میں لیا اور بعض کی ہلاکت کی خبریں بھی ہیں. جب مال ملا توانہوں نے کافی کو چھوڑ بھی دیا اس طرح کی کاروائی کا سٹائل مافیا کے ڈان والا ہوتا ہے . جیسے کوئی بھتہ وصول کرتا ہے . ان کی کاروائی سے ، ایکٹر ، صحافی ، ایکٹیوسٹ حتی کہ ہر کوئی شکار ہوا ،محمد بن سلمان نے کئ ایسے اقدام کیے جس کی وجہ سے ان پر کافی تنقید کی جارہی ہے. جیسے جمال کشوگی کا قتل اور یمن کی جنگ ان ایشوز کی وجہ سے ان پر کافی تنقید کی جارہی ہے.
انہوں نے کہا کہ جمال کشوگی اور یمن جنگ کی وجہ سے ملک کے اندرسے اور باہر سے ان پر دباؤ تھا لیکن اب انہوں نے اس پر کافی حد تک قابو پا لیا ہے .تیل کی قیمتوں کی کمی اور مذہبی فریضے پر پابندی کی وجہ سے اب سعودی معیشت کافی دباؤ کا شکار ہے اور معیشت پر دباؤ کا مطلب ہے کہ محمد بن سلمان پر بھی دباؤ ہے لیکن اب ان پر ایک ہی دھن سوار ہے کہ اقتدار کو مضبوط سے مضبوط کس طرحکرنا ہے . اور وہ اس جدوجہد میں بظاہر کامیاب دکھائی دیتے ہیں.
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اب شاہ عبدالعزیز کی بادشاہت ختم کر کے شاہ سلمان ک بادشاہت لائی جارہی ہے. لیکن یہ یاد رہے کہ بغاوت اور سازش کے سلسلے رکیں گے نہیں جاری رہیں گے. آگے شاہ سلمان کے خاندان میں بھی ایسی کوششیں جاری رہیںگی. بادشاہت آ ل سعود سے آل سلمان میںمنتقل ہوگئی ہے . اب طاقت کا منبع آل سلمان ہے جو کہ پہلے آل سعود ہوا کرتا تھا . محمد بن سلمان سعودی عرب کے سیاہ سفید کے مالک ہیں ، سیکیورٹی ہو ، ایلیٹ گارڈ ہو یا آرامکو سب پر محمد بن سلمان کا کنٹرول ہے .
سینئر اینکر پرسن نے انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ اب دیکھا جائے تو شاہ سلمان بادشاہ تو ہیں لیکن حقیقت میں بادشاہت محمدبن سلمان کے پاس ہے . محمد بن سلمان ایک سفاک آدمی ہے جس نے اپنی والدہ اور علیل بزرگ چچا کو بھی قید کر رکھا ہے. ثابت ہوتا ہے ایسا شخص اقتدار کے لیے کچھ بھی کر سکتا ہے . اور کوئی شخص محمد بن سلمان کی اجازت کے بغیر شاہ سلمان سے ملاقات تک نہیں کرسکتا،خیال کیا جاتا ہے کہ کہیں وہ بھی تو قید میں نہیں ہیں؟ انہوں نے کہا کہ اب شاہ سلمان اپنے جن ساتھیوں کے ساتھ تاش کھیلتے تھے ان کا ساتھ بھی میسر نہیں ہے . اب تو ایسا لگتا ہے جیسے شاہ سلمان کسی بلڈنگ پر لٹکی ہوئی پینٹنگ ہو.
سینئر صحافی اور اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا کہ تجزیہ نگاروں کے مطابق اس ظلم و ستم کا خاتمہ تب ہی ہو سکتا ہے یا تو محمد بن سلمان بادشاہ بن جائیں یا ان کو راستے سے ہٹا دیا جائے لیکن یہ ممکنہ طور پر اب دکھائی نہیں دیتا .انہوں نے مزید کہا کہ مجھے بعض دوستوں نے مشورہ دیا ہے کہ آپ لاہور میں بیٹھ ان کے خلا ف نہ بولا کریں کیونکہ ان کے ہاتھ بہت لمبے ہیں، اس بات کا جواب دیتے ہوئے مبشر لقمان نے کہا کہ جو بھی” مجھے ہے حکم اذاں لا الہ الا اللہ …”