Baaghi TV

Category: لاہور

  • پنجاب کے کن کن اضلاع میں قرنطینہ سنٹر قائم ؟وزیراعلٰی نے دیا بڑا حکم

    پنجاب کے کن کن اضلاع میں قرنطینہ سنٹر قائم ؟وزیراعلٰی نے دیا بڑا حکم

    پنجاب کے کن کن اضلاع میں قرنطینہ سنٹر قائم ؟وزیراعلٰی نے دیا بڑا حکم

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعلٰی پنجاب کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی کا کرونا وائرس سے نمٹنے کے حوالہ سے اجلاس ہوا

    اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کرونا وائرس کے لئے 8 ارب کے اضافی فنڈز جاری کئے گئے ہیں، کمشنر لاہور کو ایکسپو سنٹر میں 24 گھنٹوں میں فیلڈ ہسپتال بنانے کا کہا گیا ہے، دفتر کی بجائے گھروں‌سے کام کروانے کے حکم پر سختی سے عملدرآمد کروایا جائے گا

    وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ قرنطینہ کیلئے 880 بیڈوں پر مشتمل 8 ہوٹلوں کی نشاندہی کرکے تیار کر لیا گیاہے،گجرات، فیصل آباد، ٹیکسلا اور تمام ضلعی ہیڈ کوارٹرز میں قرنطینہ کیلئےمراکز تیار ہیں،قرنطینہ میں موجود متاثرین اور ان کے خاندانوں کو فوڈ پیکیج فراہم کیا جائے گا،

    کمشنر لاہور نے اجلاس میں بتایا کہ لاہور کے10ہوٹلز میں سے2کو آج قرنطینہ بنانے کیلئے فائنل کیاجائیگا،ہزاروں کی تعداد میں سینیٹائزرز آج کیمپس سے شہریوں میں تقسیم ہوں گے،

    وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی ہدایت پر چیف منسٹر فنڈ برائے کورونا کنٹرول قائم کر دیا گیا ہے،مخیر حضرات اکاؤنٹ نمبر 6010204028500013 بینک آف دی پنجاب سول سیکرٹریٹ میں عطیات جمع کروا سکتے ہیں۔

    وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے چیف منسٹر ایمرجنسی فنڈ کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے اپیل کی ہے کہ چیف منسٹر ایمرجنسی فنڈ میں مخیرحضرات دل کھول کر عطیات دیں۔آپ کی پائی پائی کورونا وائرس کی روک تھام کیلئے کیے جانے والے اقدامات پر خرچ کی جائے گی۔ لاہور میں 8ہوٹلوں میں 880 بیڈز کی نشاندہی کرلی گئی ہیں،ضرورت پڑنے پر انہیں استعمال کیا جاسکے گا۔دیگربڑے شہروں میں بھی ہوٹلوں میں قرنطینہ سینٹر بنانے کے لئے کام شروع کردیاگیا ہے۔

    حکومت پنجاب نے تعلیمی و میڈیکل ایمرجنسی کے بعدصوبہ بھر میں دفعہ 144 کے تحت گھروں میں تقریبات پر پابندی لگا دی۔ پابندی پرائیویٹ پراپرٹیز کے اندر تقریبات پر بھی ہوگی۔ اس ضمن میں چیف سیکریٹری داخلہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ پابندی 4 اپریل تک برقرار رہےگی، پابندی کا حکم صوبے بھر میں فوری طور پر نافذ العمل ہوگا

    وزیراعظم پرتنقید کا وقت نہیں، کرونا وائرس کا پاکستان مقابلہ کر سکتا ہے، بلاول

    کرونا وائرس، سندھ حکومت نے انتہائی اقدامات کا فیصلہ کر لیا،بین الصوبائی بارڈر ہوں گے بند

    گائے کا پیشاب پینے سے کرونا وائرس ہو گا ختم،ہندو مہاسبھا کے صدر کے علاج پر سب حیران

    بھارت میں کرونا کے 44 مریض، مندر میں بتوں کو بھی ماسک پہنا دیئے گئے

    صوبہ بھر میں ایمرجنسی کے لیے مختص 236ملین میں 217ملین کی خریداری کر لی گئی ہے۔ ترجمان پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کئیر کا کہنا تھا کہ160ملین کے گاون، 20ملین کے N95ماسک، 9.3ملین کے گلوز، 1.1ملین کے سرجیکل ماسک خریدے گئے ہیں۔اسی طرح8.4ملین کی عینکیں، 4.46ملین کے شو کور، 0.7ملین کے لونگ شوز، 3.5ملین کے سینی ٹائزر،2.9 ملین کی فیس شیلڈ، 1.2ملین کے ایگزامی نیشن گلوزاور4.84ملین کے سرجیکل گلوز بھی خریدے گئے ہیں

  • جہاں بڑے ملک صحت کی بہترین سہولیات کے باوجود ناکام ہو گئے وہاں ہماری کیا اوقات ہے۔ طہ منیب

    سلام ہے حکومتی عہدیداران کو جو کرونا سے متعلق احتیاطی تدابیر صحافیوں اور لوگوں کے جھرمٹ میں بیان کر رہے۔ سوشل ڈسٹینسنگ گیدرنگ میں کھڑے ہو کر بیان کی جا رہی۔ آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔

    لوگ کرونا سے متعلق احتیاط کی بجائے سیر سپاٹے اور رشتہ داروں ، میکے و سسرال کے پروگرام بنا رہے ہیں، سوشل میڈیا پر میمز اور شغل لگ رہے، فرقہ فرقہ کھیلا جا رہا ہے، پارکوں، بازاروں میں رش ویسے کا ویسا ، ریسٹورینٹ، اڈے ، بسیں، ٹرینیں سب روٹین کے مطابق، اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے، توکل کے ساتھ احتیاط اور عمل بھی ضروری ہے، علماء سنجیدہ ہونے کی بجائے مقابلے بازی پر اتر آئے ہیں، پیر فقیر آن لائن دم درود کی دکانیں چلا رہے،

    اللہ نا کرے کے یہ وبا پھیلے ، اگر ایسا ہوا تو ہمارا نظام صحت اس سب کو برداشت کرنے کے قابل نہیں، جہاں اٹلی، امریکہ، سپین ، جرمنی سمیت بڑے بڑے ملک بہترین صحت کی سہولیات کے باوجود ناکام ہو گئے وہاں ہماری کیا اوقات ہے۔ "او کچھ نہیں ہوتا” سے بہت کچھ ہو سکتا ہے۔ لہٰذا احتیاط کریں، یہ علاج سے بہتر ہے۔

  • مبشرلقمان کی وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات ، وباء سے متعلق خصوصی پیغام کیا دیں گے؟؟؟

    مبشرلقمان کی وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات ، وباء سے متعلق خصوصی پیغام کیا دیں گے؟؟؟

    مبشرلقمان کی وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات ، وباء سے متعلق خصوصی پیغام کیا دیں گے؟؟؟

    باغی ٹی وی رپورٹ :سینئراینکر پرسن مبشر لقمان وزیراعظم پاکستان سے ملاقات کے دوران کیا اہم بات کرنے جارہے ہیں. اس بات کا انکشاف انہوں نے اپنے یوٹیوب چینل کی تازہ ویڈیو میں‌کیا ہے .موجودہ صورت حال کے تناظر میں مبشر لقمان نے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ میری کوشش ہوگی کہ عمران خان صاحب کو بنفس نفیس ا ہم باتیں باور کراؤں، آگے ماننا اور عمل کرنا یہ ان کا کام ہے اور میں کوئی تھانیدار نہیں ہوں جو زبردستی عمل کروا سکوں . مبشر لقمان نے کہا کہ ہمارا کام صرف حکومتوں اور حکمرانوں کے لیے معاملات کی نشاندہی کرنا ہوتا ہے اور اگر کوئی خامی یا خرابی سسٹم میں کہیں‌دیکھتے ہیں اور اس کی نشاند ہی کرتے ہیں تو اس کا ہرگز مطلب نہیں ہوتا کہ ہم تنقید برائے تنقید کررہے ہیں بلکہ اس نشاندہی کا مطلب ہوتا ہے کہ متعلقہ ادارے ان خامیوں کو دور کر کے اپنی اصلاح کر لیں اور بہتری آسکے.

    سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا کہ ہم لوگ جو صحافت سے وابستہ ہیں ان کے پاس معلومات کا ایک بہت بڑا خزانہ روزانہ کی بنیاد پر آتا ہے کیونکہ ہماری پروفیشنلز اور اپنے اپنے فن کے ماہرین سے ملاقات ہوتی ہے اور ہم ان تجربات کی بنا پر ایک رائے رکھتے ہیں. انہوں نے کہا کہ موجودہ وبا کےسلسلے میں میری جتنے بھی ڈاکٹرز اور ماہرین سے ملاقات ہوئی ان کی جو مشترکہ بات اور فکر تھی وہ یہی تھی کہ کرونا کے مرض نے ابھی زور پکڑنا ہے اور اس کا عروج ابھی ہونا ہے.اور وباء کی شدت اس ہفتے کے آغاز یعنی پیر سے شروع ہونے والی ہے .
    انہوں نے کہا کہ ہم ہمیشہ حکومتوں پر یہی زور دیتے آئے ہیں کہ آپ جنگلہ بس ضرور بنائیں ، موٹرز وے بھی بنائیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ ضلعی اور تحصیل سطح پر بنائے گئے ہسپتالوں بر بھی زور دیں ان کو اپ گریڈکریں اور صحت کی سہولیات کو پورا کریں، .انہوں نےکہا کہ پچھلے پندرہ سال سے ہمارا صحت کا جو بجٹ ہے اور صحت کو جو ترجیحات دی ہیں وہ ہمارے سامنے ہے اور ہمیں اس کے اثرات دکھائی دے رہے ہیں.

    سینئر اینکر پرسن نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی نشان دہی کرتے ہوئے کہا کہ جب چین میں ہمارے طلبہ محصور تھے اور حکومت پر ان کو واپس لانے کا زور تھا تو ہم نے حکومت کے سامنے یہ سوال اٹھایا لیکن اس کا جو جواب دیا گیا اس کو ہم نے تسلیم کیا کہ یہ طلبہ وہاں زیادہ محفوظ ہیں اور ادھر اگر آتے ہیں‌تو وبا پھیلنے کا اندیشہ ہے.ہم نے ان کی یہ توجیہ مان لی. لیکن جو پاکستانی تفتان کے بارڈر سے ایران سے واپس آئے ان کو کیوں نہ سنبھالا گیا اور یہ بارڈر کس کے کہنے پر کھولا گیا. یہ بات تو کسی تحقیقاتی عدالتی کمیشن میں سامنے آئے گی کہ کس کے کہنے پر یہ بارڈر کھولا گیا . میں تو کچھ نہیں‌کہہ سکتا.انہوں نے کہا کہ اس طرح سعودی عرب سے بھی ایک دن میں چھے چھے فلائٹس میں‌تین تین سو مسافر لائے گئے اور ان کو بناچیک کئے اپنے اپنے گھروں اور علاقوں میں جانے دیا گیا جس سے یہ مرض پھیلا .مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ مذہبی سفر کی وجہ سے یہ کرونا ہمارے ملک میں پھیلا ہے .

    مبشر لقمان نے کہا کہ 9 دسمبر کو اس کوورونا وائرس کی نشاندہی ہوئی تھی اور 11 دسمبر کو مکمل طور پر اسکی تفصیلات سامنے آگئی تھیں کہ یہ ایک وبائی مرض ہے . ہماری حکومت کے پاس 3 مہینے کا وقت تھا اس میں بہتر تیاری کی جاسکتی تھی. انہوں نے کہا کہ جو فلائٹس ملک میں‌آئی ان کو روکا جاسکتا تھا. اور اسی طرح جو زائرین تھے انکو بہتر طریقے سے قرنطینہ کیا جاسکتا تھا تاکہ یہ نوبت نہ آتی .
    مبشر لقمان نے مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ وہ ممالک جن کے پاس بہت زیادہ وسائل اور صحت کی صہولیات ہیں وہ اس سے بری طرح متاثر ہیں. ہمارا ملک تو ایک ترقی پزیر ملک ہے ہمیں بہتر پلاننگ سے کام کرنا ہوگا . انہوں نے کہا کہ حکومت نے ابھی دو دن پہلے جو ویب سائٹ لانچ کی ہے وہ انگریزی میں کردی ہے اب بھلا کتنے فیصد پاکستانی انگریزی کو سمجھ سکتے ہیں.یہ ویب سائٹ اردو میں ہونی چاہیے تھی اسی طرح علاقائی زبانوں میں اس ویب سائٹ کو بنایاجاتا تاکہ ہر کوئی اس سے مستفید ہوسکتا.

    انہوں نے کہا کہ جو باہر سے پیرا شوٹرز ہمارے اوپر مسلط ہوگئے ہیں. ان سے ہماری جان چھوٹنی چاہیے ، مبشر لقمان نے کہا کہ میں آج اپنی ملاقات میں یہی وزیراعظم کو بتانا چاہوں گا خدارا ان پر اعتماد کریں اور ان کو ترجیح دیں جو یہاں پاکستان کے رہنے والے ہیں جن کے کاروباریہاں ہیں.جن کا مرنا جینا یہاں ہے اور جن کے بزرگوں کی قبریں یہاں ہیں.مبشر لقمان نے ایک اہم بحران کی پیشگی اطلاع دینے ہوئے باور کرایا کہ میں آج اپنے قارئین اور ناظرین کو بتا رہا ہوں جس کا مہینہ ڈیڑھ مہینے بعد حکومت کو اثر پڑناہے کہ اس وقت کاروبار تقریبا چالیس فیصد تک بند ہوچکا ہے صرف کھانے پینے اور عام کھریلو استعمال کی اشیا کی خرید و فروخت ہو رہی ہے . کپڑوں اور دیگر ملبوسات کی خرید و فروخت بالکل بند ہوگئ ہے. اب اس کا لامحالہ جی ایس ٹی پر بھی اثر بھی پڑنا ہے .انہوں نے کہا کہ ہاٹ منی جو کہ بینکوں اور سٹاک مارکیٹ میں تھی اس کو لوگوں نے نکالنا شروع کردیا.جس سے ڈالر مزید مہنگا ہوگیا ، جب کہ دنیا میں تیل کی قیمتوں کی کمی کی وجہ سے ڈالر سستا ہو رہا ہے انہوں نے کہا کہ پاکستان سٹاک مارکیٹ کریش کر گئی ہے جسیے دنیا بھر میں‌ ہوا ، اس صورت حال میں سٹاک مارکیٹ کو بند کردینا چاہیے تھا.
    انہوں نے کہا کہ آپ کو اس وقت پیٹرول تاریخ کی کم ترین قیمت پر مل رہا ہے لیکن آپ یہ ریلیف عوام کو نہیں دے رہے . آپ کو چاہیے تھا کہ جنہوں نے گھر، گاڑی اور بزنس کے لیے لون لیا تھا ان کو کچھ ریلیف دیا جاتا.آپ بجلی پر ریلیف نہیں دے رہے . مبشر لقمان نے ایک انتہائی سنجیدہ اور قابل تشویش صورت حال سے متنبہ کرتےہوئے کہا کہ پچھلے سال ایک محتاط اندازے کے مطابق ایک کروڑ کے قریب لوگ بے روز گار ہوگئے تھے ، اب جب کام نہیں‌ چلنا تو بے روزگاری کا ایک بڑا سیلاب آنے والا ہے. جبکہ ایک عام آدمی جو ڈیلی ویجز پر کام کرتا ہے جیسے چھابڑی فروش، پنکچر لگانے والا ، دیہاڑی کرنے والا وہ کیا کمائے گا اور گھر میں کیا لے کرجائے گا.
    انہوں نےکہا کہ یہ وقت آنے والا ہے جب ویسٹ اور کوڑے اٹھانے والے لوگ نہیں ملیں گے اور اس گندگی کے ڈھیر کی وجہ سے جو بیماریاں پھلنے والی ہیں وہ ایک الگ مسئلہ ہے .

    انہوں نے کہا کہ اس وجہ سے جب بلیک ڈاؤن ہوگا اور بجلی نہیں ہوگی تب ہاتھ کہان سے دھوئیں گے اور کیسے ہاتھوں کو سینیٹائز کریں گے. انہوں نے کہا کہ گھرمیں خواتین سینیٹائر مت کریں کیوں‌ کہ جب وہ ککنگ کریں‌گی تو ہاتھ جلنے کا اندیشہ ہے کیونکہ سینی ٹائیزر میں آتش گیر مادہ ہوتا ہے .گھریلو خواتین صرف صابن سے ہاتھ دھوئئیں ان کے لیے یہی کافی ہے .
    سینئر اینکر پرسن نے کہا کہ ہم حکومت کے وسائل پر بات نہیں کر رہے وہ تو جو ہے وہ ہے . بلکہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ
    پنجاب میں 8 سو وینٹی لیٹر ہیں جب ان میں سے اڑھائی سو خراب تھے تو ان کو ابھی تک ٹھیک کیوں نہیں‌کرایا گیا.ان خو ٹھیک کرنے میں‌کتنا وقت لگتا ہے صرف دس یا پندرہ دن ؟ لیکن آپ نے تین ماہ گزر جانے کے بعد بھی کچھ نہیں‌ کیا.انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں اس وقت صرف 9 وائرل ایکسپرٹ ہیں بائس کروڈ کی آبادی میں صرف نو ہیں تو آپ نے ان کے ساتھ کتنی میٹنگز کیں کیوں کہ اصل گائیڈ تو انہوں نے کرنا ہے کیونکہ اصل میدان کے بندے تو وہ ہیں. انہوں نے بتانا ہے کہ وائرل انفیکشن سے کیسے بچنا ہے اور کمیونٹی میڈیسن والے کتنے آن بورڈ ہیں کہ وہ آپ کو بتانے کے کمیونی کو کس طرح سیف گارڈ کرنا ہے . کل اگر خدا نخواستہ لاک ڈاؤن کرنا پڑتا ہے تو کیسے گھر گھر جاکر کر لوگوں کو راشن پہنچانا ہے .
    انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کے عملے کو ہم خراج تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے لندن ہیھترو ایئر پورٹ پر آگے بڑھ بڑھ کر لوگوں کی مدد کی انہوں نے کہا کہ میرا بیٹا بھی وہیں تھا اس نے بتایا کہ ایمریٹس اور اتحاد ایئر لائن والے الگ تھلک کھڑے تھے اور ان کے مسافر خوار ہو رہے تھے جبکہ پی آئی اے کے سٹاف کے اہلکار لوگوں کی بڑھ بڑھ کر مدد کررہے تھے انہوں نے کہا کہ اس دوران اگر کسی فلائیٹ سے کوئی متاثرہ شخص نکل آتا ہے تو یہ عملا تو کرونا کا شکار ہو گیا حکومت پی آئی اے کے عملے کےلیے کیا کرہی ہے . انہوں نے کہا کہ عملہ اگر اتنا کچھ کرہا ہے تو ان کی حفاظت کے لیے حکومت نے کیا لائحہ عمل اختیار کیا ہے . کیا ان کو اس لیے چھوڑ دیا گیا ہے کہ وہ بھی متاثر ہوجائیں یا وہ کام کرنے سے انکا ر کردیں. ؟ کم از کم ان کو تو سکیورٹی فراہم کرا دیں‌.اسی طرح دوسرے ڈیپارٹمنٹ والے افراد کو بھی ایسے خطرات سے محفوظ کرنا ہے حکومت کو ان کی حفاظت اور صحت کو ترجیحا دیکھنا ہو گا

    سینئر ا ینکر پرسن نے کہا کہ یہ وہ باتیں ہیں جو میں وزیر اعظم صاحب سے بنفس نفیس کرنے کی کوشش کروں گا.انہون نے کہا کہ وبا کوئی گھر دیکھ کر نہیں آتی وبا مذہب دیکھ کر نہیں آتی ، اور نہ وبا کوئی رنگ و نسل دیکھتی ہے . وبا سیاستدان نہیں دیکھتی اور وبا پڑھا لکھا اور ان پڑھ نہیں دیکھتی . ہم سب کو مل کر اس کے خلاف لڑنا ہے اور ایک زندہ قوم بن کر سامنے آنا ہے . کم از کم اتنا ضرور کر لیں کہ ہم اپنے اردگرد یہ دیکھ لیں کہ کوئی غریب بھوکا تو نہیں سو رہا اور جتنا ہو سکے ایک ہفتے میں اتنا راشن ان کے گھر پہنچا دیں چاہے ایک ہزار کا ہو ، دو ہزار کا ہو. آخر میں مبشر لقمان نے بڑے ہمدردانہ اور درد بھر لہجے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی بچہ ہمارے گھر کے سامنے بھوکا سو گیا اور ہمیں اس کا خیال تک نہ ہوا تو ہماری ساری خوبیاں اور اچھائیاں ایک طرف اور یہ لعنت ایک طرف ہے جو ہمارے منہ پر برسے گے. آئیں ایک قوم کی طرح آزمائش کی اس گھڑی میں ایک دوسرے کا ساتھ دیں.

  • پنجاب میں مریضوں میں اضافہ،چیف منسٹر ایمرجنسی فنڈ قائم، 8 ہوٹلوں میں لگیں گے متاثرین کیلئے 800 بیڈز

    پنجاب میں مریضوں میں اضافہ،چیف منسٹر ایمرجنسی فنڈ قائم، 8 ہوٹلوں میں لگیں گے متاثرین کیلئے 800 بیڈز

    پنجاب میں مریضوں میں اضافہ،چیف منسٹر ایمرجنسی فنڈ قائم، 8 ہوٹلوں میں لگیں گے متاثرین کیلئے 800 بیڈز

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب میں کرونا وائرس کے مریضوں میں اضافہ ہو گیا ہے

    وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے تصدیق کی ہے کہ پنجاب میں اب تک 96مریضوں میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے،

    وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے ڈاکٹروں اورہیلتھ پروفیشنلز کے مسائل کے حل کےلیے بھی کمیٹی بنا دی،وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے مریضوں کی دیکھ بھال کرنیوالے ڈاکٹرز ہمارے ہیروہیں،وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے ڈیلی ویجز ملازمین کے معاشی مسائل حل کرنے کا اعلان کر دیا، ان کا کہنا تھا کہ ڈیلی ویجز ملازمین کوتنخواہوں کی ادائیگی جاری رکھی جائے گی،مشکل حالات میں ڈیلی ویجز ملازمین کو تنہا نہیں چھوڑیں گے،

    بلوچستان حکومت سے تعاون اورتفتان میں قرنطینہ مرکز کے قیام کا جائزہ لینے کے حوالے سے وزارتی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے، وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا ہے کہ بلوچستان حکومت کی ہر ممکن مدد کریں گے۔میڈیکل کالجوں میں ٹیلی میڈیسن کا پروگرام شروع کردیاگیا ہے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے چیف منسٹر ایمرجنسی فنڈ کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے اپیل کی ہے کہ چیف منسٹر ایمرجنسی فنڈمیں مخیرحضرات دل کھول کر عطیات دیں۔آپ کی پائی پائی کورونا وائرس کی روک تھام کیلئے کیے جانے والے اقدامات پر خرچ کی جائے گی۔ لاہور میں 8ہوٹلوں میں 880 بیڈز کی نشاندہی کرلی گئی ہیں،ضرورت پڑنے پر انہیں استعمال کیا جاسکے گا۔دیگربڑے شہروں میں بھی ہوٹلوں میں قرنطینہ سینٹر بنانے کے لئے کام شروع کردیاگیا ہے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ صوبائی وزراء کو مختلف شہروں میں ذمہ داریاں تفویض کردی ہیں۔ صوبائی وزراء فی الفور اپنے شہروں میں جاکر صورتحال کا جائزہ لیں اور ضروری اقدامات کریں۔ عوام کوبلوں میں ریلیف دینے کیلئے وفاقی حکومت سے بات چیت کریں گے۔ تفتان سے آنے والے زائرین کو پنجاب میں قائم قرنطینہ سینٹرز میں ہر طرح کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ اجلاس میں ایران میں موجود زائرین کو ایئر لفٹ کرنے کی تجویز پر غورآئی،

    وزیراعلیٰ پنجاب کا مزید کہنا تھا کہ 1250زائرین ملتان کے لیبر کمپلیکس میں قائم قرنطینہ مرکز میں پہنچ چکے ہیں۔ گجرات ،فیصل آباد اور ٹیکسلا میں بھی قرنطینہ مرکز قائم کیے جارہے ہیں۔ نجی ہسپتالوں میں کورونا وائرس کے مریضوں کے علاج معالجے کیلئے خصوصی فلورمختص کیے جائیں گے۔ پنجاب میں اب تک 96مریضوں میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے ہسپتالوں میں ماسک اوردیگر ضروری سامان فی الفورمہیا کرنے کی ہدایت کی ہے،
    اجلاس میں‌ وزیراعلیٰ کو بریفنگ دی گئی کہ پنجاب میں اب تک جن مریضوں میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے ان سب کی ٹریول ہسٹری ہے۔ گھروں میں آئسولیشن کے حوالے سے ایس او پیز مرتب کرلی گئی ہیں۔

    حکومت پنجاب نے تعلیمی و میڈیکل ایمرجنسی کے بعدصوبہ بھر میں دفعہ 144 کے تحت گھروں میں تقریبات پر پابندی لگا دی۔ پابندی پرائیویٹ پراپرٹیز کے اندر تقریبات پر بھی ہوگی۔ اس ضمن میں چیف سیکریٹری داخلہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ پابندی 4 اپریل تک برقرار رہےگی، پابندی کا حکم صوبے بھر میں فوری طور پر نافذ العمل ہوگا

    وزیراعظم پرتنقید کا وقت نہیں، کرونا وائرس کا پاکستان مقابلہ کر سکتا ہے، بلاول

    کرونا وائرس، سندھ حکومت نے انتہائی اقدامات کا فیصلہ کر لیا،بین الصوبائی بارڈر ہوں گے بند

    گائے کا پیشاب پینے سے کرونا وائرس ہو گا ختم،ہندو مہاسبھا کے صدر کے علاج پر سب حیران

    بھارت میں کرونا کے 44 مریض، مندر میں بتوں کو بھی ماسک پہنا دیئے گئے

    صوبہ بھر میں ایمرجنسی کے لیے مختص 236ملین میں 217ملین کی خریداری کر لی گئی ہے۔ ترجمان پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کئیر کا کہنا تھا کہ160ملین کے گاون، 20ملین کے N95ماسک، 9.3ملین کے گلوز، 1.1ملین کے سرجیکل ماسک خریدے گئے ہیں۔اسی طرح8.4ملین کی عینکیں، 4.46ملین کے شو کور، 0.7ملین کے لونگ شوز، 3.5ملین کے سینی ٹائزر،2.9 ملین کی فیس شیلڈ، 1.2ملین کے ایگزامی نیشن گلوزاور4.84ملین کے سرجیکل گلوز بھی خریدے گئے ہیں

  • کرونا وائرس سے نمٹنے کے لئے وزیراعلیٰ پنجاب سندھ کو فالو کرنے لگے

    کرونا وائرس سے نمٹنے کے لئے وزیراعلیٰ پنجاب سندھ کو فالو کرنے لگے

    کرونا وائرس، وزیراعلیٰ پنجاب نے اجلاس میں کیے اہم فیصلے، سندھ کو فالو کرنے لگے
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدارنے کورونا وائرس کی روک تھام کےلیے اہم فیصلے کئے ہیں

    ایکسپوسینٹر لاہور میں 900بستروں پر مشتمل خصوصی فیلڈ اسپتال کے قیام کی منظوری دے دی گئی ہے،وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے کمشنر لاہور کو فیلڈ اسپتال کے قیام کےلیے فوری اقدامات کی ہدایت کر دی،وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے محکمہ صحت اورپی ڈی ایم اے کے لیے 8ارب روپے فنڈزکا اعلان کر دیا،وزیراعلیٰ عثمان بزدا ر کی ہدایت پر محکمہ خزانہ نے ہنگامی بنیادوں پر فنڈز کا اجراء کردیا.

    واضح رہے کہ کراچی کے ایکسپوسنٹر میں گزشتہ روز ہسپتال بنانے کا اعلان کیا گیا تھا ، آج وزیراعلیٰ پنجاب نے لاہور میں اعلان کر دیا، اس سے قبل وزیراعلیٰ سندھ نے سکھر زائرین کو لانے کے لئے اپنا ہیلی کاپٹر دے دیا تھا جس کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب نے بھی اپنا ہیلی کاپٹر کرونا سے نمٹنے کے لئے دینے کا اعلان کیا تھا،

    وزیراعلیٰ پنجاب نے کورونا وائرس کے خطرے سے لڑنے والے ہیلتھ کیئر پروفیشنلز خصوصاً ڈاکٹرز کے لیے خصوصی مراعات دینے کی ہدایت کی ہے، غریب افراد اور مریضوں کے لواحقین کے لیے راشن مہیا کرنے کی بھی ہدایت کی ہے،وزیراعلی پنجاب نے ریٹائرڈ ڈاکٹروں کو واک ان انٹرویو کے ذریعے بھرتی کرنے کی منظوری دے دی

    پنجاب حکومت نے ملتان میں پاکستان کا سب سے بڑا قرنطینہ سینٹر بنا دیا۔ اس قرنطینہ سینٹر میں کورونا وائرس کے 6 ہزار کنفرم مریضوں کو رکھا جا سکتا ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب نے18 مارچ کو اس قرنطینہ سینٹر کا وزٹ کر کے انتظامات کا جائزہ لیا تھا.

    پنجاب میں کورونا وائرس کے 80 کنفرم مریض ہیں۔ ترجمان پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کئیر کا کہنا ہے کہ 55 زائرین، 15 لاہور، 2 ملتان، 3 مظفر گڑھ، 1 راولپنڈی اور 4 گجرات کے مریضوں میں وائرس کی تصدیق ہوئی،تمام کنفرم مریض آئسولیشن وارڈز میں داخل ہیں۔ کنفرم مریضوں کو دیگر افراد سے الگ آئسولیشن وارڈز میں رکھا گیا ہے۔

    حکومت پنجاب نے تعلیمی و میڈیکل ایمرجنسی کے بعدصوبہ بھر میں دفعہ 144 کے تحت گھروں میں تقریبات پر پابندی لگا دی۔ پابندی پرائیویٹ پراپرٹیز کے اندر تقریبات پر بھی ہوگی۔ اس ضمن میں چیف سیکریٹری داخلہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ پابندی 4 اپریل تک برقرار رہےگی، پابندی کا حکم صوبے بھر میں فوری طور پر نافذ العمل ہوگا

    وزیراعظم پرتنقید کا وقت نہیں، کرونا وائرس کا پاکستان مقابلہ کر سکتا ہے، بلاول

    کرونا وائرس، سندھ حکومت نے انتہائی اقدامات کا فیصلہ کر لیا،بین الصوبائی بارڈر ہوں گے بند

    گائے کا پیشاب پینے سے کرونا وائرس ہو گا ختم،ہندو مہاسبھا کے صدر کے علاج پر سب حیران

    بھارت میں کرونا کے 44 مریض، مندر میں بتوں کو بھی ماسک پہنا دیئے گئے

    صوبہ بھر میں ایمرجنسی کے لیے مختص 236ملین میں 217ملین کی خریداری کر لی گئی ہے۔ ترجمان پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کئیر کا کہنا تھا کہ160ملین کے گاون، 20ملین کے N95ماسک، 9.3ملین کے گلوز، 1.1ملین کے سرجیکل ماسک خریدے گئے ہیں۔اسی طرح8.4ملین کی عینکیں، 4.46ملین کے شو کور، 0.7ملین کے لونگ شوز، 3.5ملین کے سینی ٹائزر،2.9 ملین کی فیس شیلڈ، 1.2ملین کے ایگزامی نیشن گلوزاور4.84ملین کے سرجیکل گلوز بھی خریدے گئے ہیں

    پنجاب میں کرونا کے مریضوں کے انتظامات کی ایسی حقیقت سامنے آئی کہ جان کر ہوں پریشان، بزدار سرکار ہوئی ناکام

  • ایمرا باڈی کا صحافیوں‌ کے بچاؤ کی خاطر قابل ستائش کام

    ایمرا باڈی کا صحافیوں‌ کے بچاؤ کی خاطر قابل ستائش کام

    ایمرا باڈی کا صحافیوں‌ کے بچاؤ کی خاطر قابل ستائش کام
    باغی ٹی وی :ایمرا باڑی نے کرونا وائرس سے بچاؤ کے سلسلے میں کیا اہم فیصلہ ، ایمرا باڑی نے اس سلسلے میں اپنے ایک بیان میں بتایا ہے کہ "الحمد للہ اللہ تعالی کا کرم ہے .ایمرا باڈی نے فیصلہ کیا ہے پاکستان میں پھیلتے ہوئے کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے لاہور کی صحافتی برادری کے ساتھ ساتھ اسلام آباد اور ملتان کی صحافتی برادری کو بھی ماسک اور دستانے تقسیم کئے جائے گے
    انشاءاللہ
    اللہ تعالی بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے
    شکریہ
    صدر ایمرا
    محمد آصف بٹ
    سئنیر نائب صدر
    جواد ملک،
    نائب صدر
    عرفان ملک
    سیکرٹری ایمرا
    سلیم احمد شیخ
    ایڈیشنل سیکرٹری
    نعمان شیخ
    فنانس سیکرٹری
    ارشد چودھری
    سئنیر جوائنٹ سیکرٹری
    کنور عزیر
    جوائنٹ سیکرٹری
    خواجہ قادر
    انفارمیشن سیکرٹری
    شفیق شریف
    آفس سیکرٹری
    افضل سیال
    ایمرا باڈی

  • حمزہ شہباز کے لئے ایک بار پھر بڑی مشکل، نیب نے بڑا فیصلہ کر لیا

    حمزہ شہباز کے لئے ایک بار پھر بڑی مشکل، نیب نے بڑا فیصلہ کر لیا

    حمزہ شہباز کے لئے ایک بار پھر بڑی مشکل، نیب نے بڑا فیصلہ کر لیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ ن کے رہنما، پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز کی ضمانت منسوخی کے لئے نیب نے سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا

    نیب کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیکرضمانت منسوخ کی جائے۔ حمزہ شہباز کولوکل گورنمنٹ کو جاری 360 ملین کی رقم میں مبینہ کرپشن کے الزام میں گرفتارکیا گیا، یہ رقم نو کلومیٹر لمبے ویسٹ واٹر کی نکاسی کے منصوبہ کے لیے استعمال ہونا تھی، رمضان شوگر ملز کے منصوبہ کو عوامی منصوبہ ظاہر کیا گیا۔

    نیب کی درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ حمزہ شہباز شریف کے خلاف شکایت آنے پر انکوائری کی گئی، تحقیقات سے ظاہر ہوا کہ وزیرِاعلیٰ پنجاب شہبازشریف نے اپنےاختیارات کا ناجائزاستعمال کیا، شہباز شریف نے رمضان شوگر ملز کو سرکاری خزانے سے فائدہ پہنچایا۔ شہباز شریف نے دباؤ ڈال کر این او سی حاصل کیا، لاہور ہائیکورٹ نے حقائق کا درست جائزہ نہیں لیا لہذا لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ضمانت منسوخ کی جائے۔

    واضح رہے کہ رمضان شوگرملز کیس میں حمزہ شہباز کی ضمانت 6 فروری کو منظورہوئی تھی جبکہ حمزہ شہباز کی آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں درخواست ضمانت مسترد کر دی گئی تھی، حمزہ شہباز کوٹ لکھپت جیل میں قید ہیں، نیب نے انہیں لاہور ہائیکورٹ سے ضمانت کی درخواست مسترد ہونے پر گرفتار کیا تھا.

    حمزہ شہباز کا فرنٹ مین بن گیا نیب میں وعدہ معاف گواہ،بیان ریکارڈ کروا دیا

    مریم نواز کے وکلاء نے ہی مریم نواز کی الیکشن کمیشن میں مخالفت کر دی، اہم خبر

    صرف اللہ کوجوابدہ ،کوئی کچھ بھی رائے رکھےانصاف کے مطابق فیصلہ دیں گے، عدالت کےحمزہ کیس میں ریمارکس

    نیب نے احتساب عدالت میں رپورٹ جمع کروائی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ شہبازشریف فیملی نے اپنے مختلف ملازموں کے ناموں پرکمپنیاں بنا رکھی ہیں،منی لانڈرنگ کی رقوم بے نامی کمپنیوں میں منتقل کی جاتی رہیں ،اور ان بے نامی کمپنیوں سے شریف فیملی کے اکاؤنٹس میں رقم منتقل ہوتی رہی. نیب رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ نیب کو 10 غیرملکی منی ایکس چینجرزکا ریکارڈمل چکاہے، شہبازشریف، حمزہ،سلمان کوبرطانیہ کی 4 منی ایکس چینج سے رقوم منتقل ہوئیں، دبئی کی 6 منی ایکس چینج سے بھی رقوم منتقل کی گئیں۔ نیب رپورٹ کے مطابق شہبازشریف فیملی کو 10 کمپنیوں سے 37 کروڑبھیجے گئے

  • قرنطینہ سنٹرز میں دی جانیوالی سہولیات کے حوالے سے تفصیلات عدالت نے کیں طلب

    قرنطینہ سنٹرز میں دی جانیوالی سہولیات کے حوالے سے تفصیلات عدالت نے کیں طلب

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاہور ہائیکورٹ نے قرنطینہ سنٹرز میں دی جانیوالی سہولیات کے حوالے سے تفصیلات طلب کرلیں.

    لاہور ہائیکورٹ مین کرونا وائرس سے متعلق درخواستوں پر سماعت ہوئی،چیف جسٹس قاسم خان کی سربراہی میں چار رکنی رکنی بینچ نے 24 مارچ کو حکومت سے رپورٹ طلب کرلی ،چیف جسٹس نے معاون خصوصی برائے صحت ظفر مرزا اور اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کر دیے ،چیف جسٹس نے وفاقی سیکریڑی صحت کو بھی آئندہ منگل کے لیے نوٹس جاری کردیے

    چیف جسٹس نے کہا کہ سب لوگ عدالت میں فاصلے پر کھڑے ہوں۔ حفاظتی انتظامات پر پنجاب حکومت کی کیا رپورٹ ہے۔ سییکرٹری سپیشلایزڈ ہیلتھ نے کہا کہ بہاولپور میں قرنطینہ بنا رہے ہیں۔جبکہ ڈی جی خان میں بنا ہوا ہے۔ ہم اس پر رپورٹ دے دیں گے۔

    عدالت نے استفسار کیا کہ ٹیسٹنگ کتنی جگہوں پر ہو رہی ہیں۔ کیپٹن عثمان نے کہا کہ دو جگہوں پر ٹیسٹنگ کی سہولت ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کیا دو جگہیں دس کروڑ عوام کے لیے کافی ہیں۔ دو تین ہفتوں سے شور مچ رہا ہے۔ حکومت نے تو سامان ہی مکمل نہیں دیا۔

    سیکرٹری سپیشلایزڈ ہیلتھ نے کہا کہ تفتان سے متعلق وفاقی حکومت سے پوچھا جانا چاہیے۔ جسٹس قاسم نے کہا کہ وفاقی حکومت کو ہم نوٹس کریں گے۔۔آپ اب کیا کر رہے اور آگے کیا کرنا ہے اس پر رپورٹ دیں۔ جیلیں بہت بھری ہیں۔ وہاں کیا انتظامات ہیں۔ یہ بھی آیندہ سماعت پر بتائیں۔ عدالتوں میں آنے والے وکلا اور سائیلین سے متعلق بھی میکانزم بنائیں ،چاہیتے ہیں ایک ہفتے میں لیبارٹری بننی چاہیے جس میں کرونا کے مکمل ٹیسٹ ہوں میں وہ باتیں کر رہا ہوں جو کل ظفر مرزا نے وزیر اعظم کو کہیں۔ آپ نے تو صرف کیمیکل مہیا کیا ہے۔ اللہ کرے سب محفوظ رہیں۔ آپ دو دو ہزار کلومیٹر سے لوگ قرنطینہ میں لا رہے جو راستے میں مرض پھیلا رہے ہوں،دنیا میں قرنطینہ کا مطلب الگ الگ رکھنا ہے ۔اگر کمرے میں چار چار لوگ رکھ دیں گے تو کیا سہولت دے رہے ہیں۔ کیا آپ بیان دے سکتے ہیں کہ کہ سب کو الگ الگ رکھا جایے گا۔ جب تک بین الاقوامی سٹینڈرڈ پر نہیں جائیں گے رزلٹ نہیں آئے گا۔

    لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے کہا کہ جہاں قرنطینہ بنائے گئے ہیں وہاں اردگرد کے لوگوں کیلئے کیا حفاظتی اقدامات کیے ہیں. جیل میں آنے جانیوالی قیدیوں کی. طبی سہولیات بارے بھی بتایا جائے. قیدیوں کے رشتے داروں سے ملاقات کے شیشیے لگائے جاسکتے ہیں.
    جس لحاظ سے امداد مل رہی ہے اس سے قیدیوں کو سہولت دی جاسکتی ہے.ہماری عدالتوں کیلئے آپ کیا کررہے ہیں.

    چیف جسٹس نے کہا کہ ہم ہائیکورٹ کو تو محدود کرسکتے ہیں وکلا سے درخواست کی ہے،حافظ آباد کی. جو عدالت ہے وہاں کا رش شاید کہیں بھی اتبا نہ ہو. ہم عدالتوں میں وکلا سائلین کیلئے ایس او پی مرتب کرتے ہیں.رجسٹرار آفس سے میٹنگ کرکے سہولتیں فراہم کرتے ہیں،ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ ہم ایمرجنسی میں ہیں ،آگاہی کو پبلک میں عام کریں عوام صرف ناقد نہیں. کہیں نہ کہیں کچھ غلط ہو رہا ہے.
    اپنے ملازمین کی تربیت کرین تاکہ ایس او پی پر عملدرآمد ہو.

    چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ نے کہا کہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو ان بورڈ لیں. آگاہی مہم کو پبلک سروس میسج کے طور پر چلائیں. فاقی حکومت کتنا فنڈر صوبائی حکومت کو دے رہی ہے تفصیلات فراہم کریں. ہم چاہتے ہیں کہ ایک ہفتے کے اندر اندر کورونا ٹیسٹ کی مفت سہولت موجود ہو.

    کیس کی سماعت 24 مارچ تک ملتوی کر دی گئی.

    کرونا وائرس کے پاکستان میں کیسز کے بڑھنے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی کا اجلاس آج طلب کرلیا۔ نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی کا اجلاس آج دوپہر وزیراعظم ہاؤس میں ہوگا۔

    وزیراعظم پرتنقید کا وقت نہیں، کرونا وائرس کا پاکستان مقابلہ کر سکتا ہے، بلاول

    کرونا وائرس، سندھ حکومت نے انتہائی اقدامات کا فیصلہ کر لیا،بین الصوبائی بارڈر ہوں گے بند

    گائے کا پیشاب پینے سے کرونا وائرس ہو گا ختم،ہندو مہاسبھا کے صدر کے علاج پر سب حیران

    بھارت میں کرونا کے 44 مریض، مندر میں بتوں کو بھی ماسک پہنا دیئے گئے

    وزیراعظم عمران خان اجلاس کی صدارت کریں گے،اجلاس میں قومی سلامتی کمیٹی کے فیصلوں پر عملدرآمدکا جائزہ لیا جائے گا۔ اجلاس میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے اقدامات کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔ چاروں صوبوں کے وزراء اعلیٰ اجلاس میں ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوں گے

    اجلاس میں کرونا وائرس اور حکومتی اقدامات کے پیش نظر اہم فیصلے متوقع ہیں، فضائی آپریشن سے متعلق کیے گئے فیصلوں پر نظر ثانی کا بھی امکان ہے

  • پنجاب میں کرونا کے مریضوں کے انتظامات کی ایسی حقیقت سامنے آئی کہ جان کر ہوں پریشان، بزدار سرکار ہوئی ناکام

    پنجاب میں کرونا کے مریضوں کے انتظامات کی ایسی حقیقت سامنے آئی کہ جان کر ہوں پریشان، بزدار سرکار ہوئی ناکام

    پنجاب میں کرونا کے مریضوں کے انتظامات کی ایسی حقیقت سامنے آئی کہ جان کر ہوں پریشان، بزدار سرکار ہوئی ناکام

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب میں کرونا وائرس کے انتظامات کے حوالہ سے کرونا کے مریض کی والدہ نے قوم کو حقیقت سے آگاہ کر دیا گیا، کرونا کے مریض کو لندن سے ایئر پورٹ پہنچنے پر اسلام آباد میں کلیر قرار دے دیا گیا، لاہور میں مریض کو لانے کے لئے تین گھنٹے بعد ایمبولینس پہنچی، گنگام رام مریض کو لے جا کر چار گھنٹے باہر بٹھا کر واپس گھر بھجوا دیا گیا، اگلے روز ایک آئسولیشن سنٹر میں منتقل کیا گیا جہاں مریضوں کی کوئی دیکھ بھال کا انتظام نہین، نہ ہی مناسب کھانا دیا جا رہا ہے اور نہ ہی کوئی خیال رکھا جا رہا ہے،مریض کی والدہ نے قوم سے اپیل کی کہ کرونا سے بچنے کے لئے حکومت پر نہ رہیں، خود ہی اپنی دیکھ بھال کریں

    کرونا وائرس کی مریض تانیہ کی والدہ کا کہنا تھا کہ میری بیٹی لندن میں پڑھ رہی ہے، دو دن پہلے اس نے لاہور آنا تھا لیکن لاہور کی فلائٹ نہ ملنے کی وجہ سے وہ اسلام آباد آئی، راستے میں اس کی طبیعت خراب ہوئی اس کو لگا بخار ہے، اس نے ایئر پورٹ پر اترتے ہی گھر فون کیا کہ گھر میں جو بوڑھے ملازمین ہیں ان کا آنا بند کر دیں اور کوئی بچہ بھی گھر نہ آئے کیونکہ میری طبیعت ٹھیک نہیں اور خدشہ ہے کہ کہیں کرونا نہ ہو،اسکے بعد اسکو اسلام آباد میں چیک کیا گیا اور اسکو بالکل کلیئر قرار دے دیا گیا کہ اس میں کرونا وائرس کی تشخیص نہیں ہوئی.

    جیسے ہی وہ لاہور پہنچی تو اس نے لاہور مین اپنا پرائیویٹ ٹیسٹ کروایا،سیلف آئسولیشن میں خود کو لے گئی اور کسی سے نہیں ملی، چغتائی لیب سے ٹیسٹ ہوا اور وہ 16 گھنٹے کمرے سے نہیں نکلی جب تک ٹیسٹ کا ریزلٹ نہیں آیا، جب اس کا ریزلٹ مثبت آیا، تو لیب نے ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کو بھی اطلاع کر دی تو ایک گھنٹے بعد ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کی ٹیم ہمارے گھر آ گئی،ان کی ٹیم جب آئی تو میں خود ملی اور کہا کہ ہم تعاون کریں گے لوگوں کی حفاظت کے لئے،انہوں نے کہا کہ ایمبولینس آ رہی ہے ہم آپکے بچے کو گنگا رام شفٹ کریں گے، گنگا رام میں کو جب میں نے چیک کیا کہ وہاں کیا سہولیات ہیں تو پتہ چلا کہ وہاں سہولیات مریض کے لئے موجود ہیں،

    ایمبولینس کا انتظار کر رہے تھے کہ میڈیا بھی آگیا، پولیس کے لوگ بھی آ گئے، وزارت صحت کے لوگ بھی آ گئے،ساٹھ ستر لوگ جمع ہو گئے میں نے کہا کہ میڈیا کو ہٹا دیں، جو خبر چلانا تھی چلا دی اب کوئی خبر نہ چلائیں میرے بچے کو ہسپتال جانے دیں، تین گھنٹے بعد ایمبولینس آئی اور میرے بچے کو بھیج دیا گیا، ایمبولینس کے پیچھے کار تھی جس مین ہم تھے، جب گنگا رام گئے تو اس کو دو گھنٹے تک بٹھایا گیا اور کہا گیا کہ گنگا رام میں کرونا کے حوالہ سے کوئی انتظامات نہیں اس کو کہیں اور لے جائیں، رات کے ڈیڑھ بجے انہوں نے باہر بٹھانے کے بعد کہا کہ ہمیں نہیں لگتا کہ یہاں کوئی انتظام ہو سکے ، آپ گھر چلے جائیں اور خود جا کر اپنا دھیان رکھیں،

    تین سے چار گھنٹے تک کرونا کی مریض میری بیٹی کو ایمبولینس میں بٹھائے رکھا،اور اس کے بعد گھر واپس پہنچا دیا گیا، اگلے روز سے اس کا دھیان کرنا شروع کر دیا،ہمیں معلوم ہو اکہ وہ کور ہو رہی ہے، اگلے دن رات کو ہمیں کہا گیا کہ آئسولیشن سنٹر قائم کر دیئے گئے ہیں اب بچے کو بھجوا دیں، میں نے اس کو بھجوا دیا، مجھے تین چار کالز آئی، فیز 6 کا ہسپتال ہے جہاں وہ زیر علاج ہے، پچھلے چوبیس گھنٹوں میں اس کو کوئی وٹامن نہیں دی گئی، پینے کے لئے کچھ نہیں دیا گیا، کھانا اسکو پراپر نہین دیا گیا ، کل سے آج تک وہ کمرے میں ہے وہاں مچھر ہیں اور وہان وہ مشکل میں ہے، اس طرح کے انتظامات ہیں کرونا کے.

    سوشل میڈیا پر آرہا ہے کہ تانیہ ڈاکٹر ہے لیکن میں کنفرم کرتی ہوں کہ وہ ڈاکٹر نہیں ہے، اس کو معلوم ہے کہ کیسے اپنے آپ کو اور لوگوں کو سنبھالنا ہے، کہا جا رہا ہے کہ ایئر پورٹ اور گھر سے زبردستی پکڑنے کی کوشش کی گئی اور 15 گھنٹے لگائے گئے تو اصل حقیقت یہ ہے کہ پہلے تین گھنٹے بعد ایمبولینس آئی اور پھر گنگا رام سے ہمیں واپس بھجوا دیا گیا، جیسے ہی ایمبولینس آئی 20 منٹ میں بچہ گھر سے چلا گیا تھا، اس کا کسی نے ٹیسٹ نہیں کیا، خود کروایا تھا، ایسے ہسپتال مین ہے جہاں کوئی دیکھ بھال نہیں،

    کرونا مریض کی والدہ کا کہنا تھا کہ شہریوں سے اپیل ہے کہ اپنی فیملی کا خود دھیان رکھیں ،کرونا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے، فیملی کا خود سے دھیان رکھنا ہے کیونکہ جو صورتحال ہے وہ صحیح نہیں،

    واضح رہے کہ پنجاب حکومت دعوے کر رہی ہے کہ کرونا سے بچاؤ کے لئے بہترین انتظامات کئے گئے ہیں، آئسولیشن سنٹر قائم کئے گئے ہیں، حفاظتی چیزیں خرید لی گئی ہین، فنڈز جاری کر دیا گیا ہے، وزیراعظم بھی مطمئن ہیں لیکن اصل میں‌صورتحال مخلتف ہے، کرونا کے مریضوں کو جہاں رکھا گیا ہے وہاں سے کرونا کے ساتھ ساتھ انہیں دیگر بیماریاں بھی لاحق ہونے کا خدشہ ہے.

    واضح رہے کہ پنجاب میں کورونا وائرس کے 80 کنفرم مریض ہیں،ترجمان پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کئیر کا کہنا ہے کہ 55 زائرین، 15 لاہور، 2 ملتان، 3 مظفر گڑھ، 1 راولپنڈی اور 4 گجرات کے مریضوں میں وائرس کی تصدیق ہوئی،تمام کنفرم مریض آئسولیشن وارڈز میں داخل ہیں۔ کنفرم مریضوں کو دیگر افراد سے الگ آئسولیشن وارڈز میں رکھا گیا ہے۔

    ترجمان پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کئیر کے مطابق مریضوں کو مکمل طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہے۔ اب تک صوبہ بھر کے ہسپتالوں میں 467 مشتبہ مریضوں کے لیب ٹسٹ کیے جا چکے ہیں۔ 357 ٹیسٹ نیگیٹیو آئے۔ 110 مشتبہ افراد کے ٹیسٹ رزلٹ آنا باقی ہیں۔ عوام سے گزارش ہے کہ حفاظتی تدابیر اختیار کرکے خود کو محفوظ بنائیں۔ گزشتہ 14 روز میں متاثرہ ممالک سے آئے افراد گھر میں آئسولیشن اختیار کریں متاثرہ ممالک سے آئے افراد میں آئسولیشن کے دوران علامات ظاہر ہوں تو 1033 پر رابطہ کریں۔ محکمہ صحت کی ریپڈ رسپانس ٹیمیں مشتبہ مریض کو ہسپتال منتقل کر کے ٹیسٹ کروایں گی

  • پنجاب میں کرونا کے 80 کنفرم مریض، لاہور میں کتنے؟

    پنجاب میں کرونا کے 80 کنفرم مریض، لاہور میں کتنے؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب میں کورونا وائرس کے 80 کنفرم مریض ہیں۔

    ترجمان پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کئیر کا کہنا ہے کہ 55 زائرین، 15 لاہور، 2 ملتان، 3 مظفر گڑھ، 1 راولپنڈی اور 4 گجرات کے مریضوں میں وائرس کی تصدیق ہوئی،تمام کنفرم مریض آئسولیشن وارڈز میں داخل ہیں۔ کنفرم مریضوں کو دیگر افراد سے الگ آئسولیشن وارڈز میں رکھا گیا ہے۔

    ترجمان پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کئیر کے مطابق مریضوں کو مکمل طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہے۔ اب تک صوبہ بھر کے ہسپتالوں میں 467 مشتبہ مریضوں کے لیب ٹسٹ کیے جا چکے ہیں۔ 357 ٹیسٹ نیگیٹیو آئے۔ 110 مشتبہ افراد کے ٹیسٹ رزلٹ آنا باقی ہیں۔ عوام سے گزارش ہے کہ حفاظتی تدابیر اختیار کرکے خود کو محفوظ بنائیں۔ گزشتہ 14 روز میں متاثرہ ممالک سے آئے افراد گھر میں آئسولیشن اختیار کریں متاثرہ ممالک سے آئے افراد میں آئسولیشن کے دوران علامات ظاہر ہوں تو 1033 پر رابطہ کریں۔ محکمہ صحت کی ریپڈ رسپانس ٹیمیں مشتبہ مریض کو ہسپتال منتقل کر کے ٹیسٹ کروایں گی۔