Baaghi TV

Category: لاہور

  • معاہدہ منسوخ کرنے پر خلیل الرحمان قمر نے کیا جیو ٹی وی کے خلاف بڑا اعلان، کہا زندگی بھر…..

    معاہدہ منسوخ کرنے پر خلیل الرحمان قمر نے کیا جیو ٹی وی کے خلاف بڑا اعلان، کہا زندگی بھر…..

    معاہدہ منسوخ کرنے پر خلیل الرحمان قمر نے کیا جیو ٹی وی کے خلاف بڑا اعلان، کہا زندگی بھر…..
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق نجی ٹی وی چینل جیو کی جانب سے خلیل الرحمان قمر کے ساتھ معاہدہ منسوخ کرنے اور معافی مانگنے کے اعلان کے بعد خلیل الرحمان قمر بھی میدان میں آ گئے

    خلیل الرحمان قمر کا کہنا ہے کہ جیوانٹر ٹیمنٹ کی جانب سے کنٹرنکٹ منسوخ کیے جانے کے آفیشل بیان کا جواب ہے جو کہ چاہتے ہیں کہ میں چند غیر ملکی فنڈنگ پر چلنے والی فیمنسٹ کے شرمناک سلوگنز اور مذموم مقاصد کو تقویت بخشنے کیلئے ان سے معافی مانگوں ۔ یہ میری خوش قسمتی ہے کہ مجھے اپنے نیک مقصد کیلئے قربانی دینے کا موقع ملا اور میں اپنے آپ کو اللہ کی مرضی کے مطابق پیش کروں ، اس لیے میں جیوکے ساتھ کنٹرنکٹ کو فی الفور منسوخ کرنے کا اعلان کرتا ہوں اور اپنے لوگوں کو یقین دلاتا ہوں کہ میں اپنی آنے والی زندگی میں کبھی اس چینل کے ساتھ کام نہیں کروں گا ۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز جیو انٹر ٹیمنٹ کی جانب سے کہا گیا تھا کہ یہ ایک غیر خصوصی معاہدہ ہے جو کہ خلیل الرحمان قمر نے دیگر چینلز کے ساتھ بھی کر رکھا ہے۔جیو خیالات کے تبادلے پر یقین رکھتا ہے ،ہم جیو اور جینے دو کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں ،خلیل الرحمان قمر نے نہ صرف ایک خاتون کو گالیاں دیں بلکہ اپنی غلطی پر معافی مانگنے سے بھی انکار کیا اس لیے جیو کی انتظامیہ نے ان کے ساتھ معاہدہ ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    ڈراما نویس خلیل الرحمٰن قمر نے 3 مارچ کی شب نجی ٹی وی ’نیو‘ کے پروگرام ’آج عائشہ احتشام کے ساتھ‘ عورت مارچ پر بحث کے دوران معروف خاتون سماجی رہنما ماروی سرمد کے خلاف نازیبا زبان کا استعمال کیا تھا جس پر انہیں خوب تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا

    خلیل الرحمٰن قمر نے براہ راست پروگرام میں بات کرتے ہوئے ماروی سرمد کو ’گھٹیا عورت‘ کہنے سمیت ان کے خلاف انتہائی نامناسب زبان استعمال کی تھی اور انہیں ’جسم کے طعنے‘ بھی دیے تھے۔

    ماروی سرمد کے خلاف ایسی زبان استعمال کیے جانے پر کئی سیاستدانوں، اداکاروں، سماجی رہنما اور دیگر افراد نے بھی خلیل الرحمٰن قمر کے رویے کی مذمت کی اور سوشل میڈیا پر مہم چلائی کہ ڈراما نویس کا بائیکاٹ کیا جائے اور انہیں کسی پروگرام میں نہ بلایا جائے

  • میری زندگی میری مرضی ۔ن لیگی رہنما حنا پرویز بٹ بھی میدان میں آ گئی

    میری زندگی میری مرضی ۔ن لیگی رہنما حنا پرویز بٹ بھی میدان میں آ گئی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق عورت مارچ کو لے کر سوشل میڈیا پر بحث جاری ہے ۔سوشل میڈیا پر عورت مارچ کے خلاف دو دن ٹرینڈ چلتا رہا اور عورت مارچ کے نعروں کے خلاف آواز اٹھائی ایسے میں مسلم لیگ ن کی رہنما حنا پرویز بٹ نے بھی جاندار انٹری ڈال دی

    حنا پرویز نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنی ایک تصویر شیئر کی ہے جس میں وہ موٹر سائیکل چلا رہی ہیں ساتھ انہوں نے پیغام لکھا کہ میری زندگی میرا حق

    حنا پرویز بٹ کی ٹویٹ پر صارفین نے مختلف انداز میں رائے دی ہے کسی نے ان کے اس اقدام کو سراہا ہے اور کسی نے مخالفت کی ہے تاہم یہ بات ضرور ہے کہ لاہور کی سڑکوں پر اب موٹر سائیکل چلانے والی خواتین کی تعداد میں آئے روز اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ۔خواتین آزادانہ موٹر سائیکل چلاتی ہیں اور کسی نے انکی مخالفت نہیں کی

    حنا پرویز بٹ نے عورت مارچ کے نعرے میرا جسم میری مرضی کی نفی کرتے ہوئے میری زندگی میری مرضی کا نعرہ دیا

  • خلیل الرحمان قمر vs ماروی سرمد | مبشر لقمان بھی میدان میں آگئے۔

    خلیل الرحمان قمر vs ماروی سرمد | مبشر لقمان بھی میدان میں آگئے۔

    خلیل الرحمان قمر vs ماروی سرمد | مبشر لقمان بھی میدان میں آگئے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ گزشتہ دو روز سے میڈیا اور سوشل میڈیا پر ایک ہنگامہ برپا ہے، ایک ٹی وی شو سے شروع ہونے والے ڈرامہ ٹویٹر ، فیس بک تک جا پہنچا ہے اور صارفین دو دھڑوں میں بٹے نظر آ رہے ہیں،کوئی کہہ رہا ہے گالی کیوں نہیں نکالی کوئی کہتا ہے کہ اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جاتا ہے، کوئی کہہ رہا ہے میرا جسم میری مرضی کوئی کہہ رہا ہے میری زبان میری مرضی،

    مبشر لقمان نے مزید کہا کہ یہ اچانک شروع نہیں ہوا، ہمارے ملک میں کچھ لوگوں کو سکون راس ہی نہیں آتا نہ خود سکون سے رہتے ہیں نہ کسی کو رہنے دیتے ہیں، اصل بات یہ ہے کہ سیاسی ماحول ٹھنڈا ہے، پی ایس ایل چل رہا ہے، لوگ ڈپریشن سے باہر آ رہے ہیں بھارتی مظالم کے خلاف آوازیں اٹھ رہی ہیں لیکن کچھ لوگ چاہتے ہی نہیں کہ سکون سے رہیں، اب خلیل الرحمان قمر نے جو کیا اسے کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، انہیں تھوڑے عرصے کے لئے ٹی وی پر پابندی لگانی چاہئے، کم از کم تین ماہ کی پابندی لگنی چاہئے، رائیٹر کے پاس اسلحہ اس کے الفاظ ہیں، سخت الفاظ میں بات ہو تو لوگ بات کرتے ہیں، جو ادیب ہو، ادب سے تعلق ہو، الفاظ کا ذخیرہ ہوتا ہے وہ الفاظ کی حرمت کا پاس نہ کریں تو بہت غلط ہے، لیکن بدقسمتی کیا ہے، بدقسمتی سے عورت مارچ کو بھی معاشرے میں مردوں سے بغاوت اور نفرت کا سمبل بنا دیا گیا ہے، ہر معاشرے میں اچھے مرد بھی ہوتے ہیں.اگر آپ ایک بری مثال اٹھا کر معاشرے کے تمام مردوں پر لگا دیں تو یہ ٍغلط بات ہے،

    مبشر لقمان نے مزید کہا کہ خواتین بھی بہت زیادہ اچھی ہیں، شاید چند ایک ہوں‌جن پر بات کر سکیں، لیکن بات نہیں کرنی چاہئے، یہ دیکھیں عورت ایک ماں بھی ہے ،بہن بھی ،بیٹی بھی اس کی ہر مرد عزت کرتا ہے،احترام کرتا ہے اور اس کے پیروں کے نیچے جنت تلاش کرتا ہت، اس کا تحفظ کرتا ہے، اس کی ضروریات پوری کرنے کے لئے اپنی زندگی وقف کر دیتا ہے جبکہ عورت جس کے ہاتھ میں قوم کا مستقبل ہوتا ہے، نسل کی پرورش کرتی ہے تا کہ بڑا ہو کر اچھا بھائی، خاوند، بیٹا بنے، اگر عورت مارچ میں اس طرح کے بینر ہوں کہ اپنا ٹائم آ گیا اور اس طرح کے عجیب قسم کے نشان بنے ہوں ، ہاتھوں کے سگریٹ بنے ہوں اس کا کیا مطلب ہے، سگریٹ نوشی سب کے لئے مضر ہے، مجھے حق ہونا چاہئے کہ جو تنخواہ مردوں کو ملتی ہے وہ خواتین کو ملیں لیکن سگریٹ نوشی کی اجازت کیوں؟ سگریٹ نہ مرد کو دیکھتا ہے نہ عورت کو دیکھتا ہے، جو سب سے زیادہ سگریٹ پینے والے لوگ ہیں ان کی زندگی کو کھوکھلا کر دیتا ہے.

    مبشر لقمان نے مزید کہا کہ میرا جسم میری مرضی کا کہا جا رہے کہ مطلب غلط لیا جا رہا ہے،بچوں کی تعداد پر عورتوں کی مرضی ہونی چاہئے،یہ شوہر ،بیوی دونوں کا آپس کا فیصلہ ہے ،لیکن اگر کوئی ایک فیصلہ کر لے تو دوسرے کو بھی اعتراض نہیں ہونا چاہئے، لیکن اگر پلے کارڈ پر یہ لکھ دیں کہ …میں الفاظ استعمال نہیں کرنا چاہتا، جو تصاویر ہیں وہ بھی کسی صورت قابل برداشت نہیں، بے حیائی کو کوئی معاشرہ برادشت نہیں کرتا، دنیا کے کسی ملک میں چلے جائیں جہاں ہر قسم کی آزادی ہے وہاں ان کی روایات ہوں گی اس کے مطابق وہ چلیں گے، مادرپدر آزادی نہیں ہوتی

    مبشر لقمان نے مزید کہا کہ عورت مارچ میں ایک اور پلے کارڈ سامنے آیا تھا کہ کھانا گرم کر دوں گی لیکن…میں پورا بولنا نہیں چاہتا کیوں کہ بچے بھی دیکھ رہتے ہیں، اس کا مطلب کیا ہے ،عورتوں کی برابری کا مطلب یہ نہیں کہ انکو اسلحہ دے کر بارڈر پر بھیج دیا جائے، ان سے ڈھائی من کی آٹے اور سیمنٹ کی بوریاں اٹھوائی جائیں کہ مرد اپنے کام گھر میں خود کر رہا ہے، روزگار کی ٹینشن اب عورت خود لے گی، نہیں ایسا نہیں ہے، دین اسلام سے زیادہ عورت کو حق کسی نے نہیں دیا ، اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں عورتوں کے حقوق بتائے،

    مبشر لقمان نے مزید کہا کہ پلے کارڈ سے تو یوں لگتا ہے کہ عورت مارچ کا مقصد کچھ اور ہے، ایک شوشہ چھوڑا گیا،پھر عوام کو ہیجان میں مبتلا کرنے کے لئے شوز کرنا شروع کر دئے گئے، شو میں ایک ایسے متنازعہ شخص کو بلایا گیا جو خود عجیب و غریب مخمصے کا شکار ہے، میں اس پر کم ہی بات کروں تو اچھا ہے، بی بی سی اور ٹی وی پر متنازعہ بیان دے کر خود ساختہ دانشور بھی بن گئے، اب وہی خلیل الرحمان قمر عورتوں اور مردوں کے حقوق کا علمبردار بن کر سامنے آ گیا، اب عوام سے ویڈیو میں دعا کی درخواست کر رہے ہیں کہ میرے لئے دعا کرے کہ میں مشن میں کامیاب ہو جاؤں اور بے حیائی کا خاتمہ ہو، یہ عوام کا مسئلہ ہے ہی نہیں اس کو اس میں ایسے ہی لایا جا رہا ہے،عوام کو تقسیم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ایک طر مارچ کا شوشہ چھوڑا جا رہا ہے، دوسری طرف خلیل صاحب بے حیائی کو روکنے کے لئے میدان میں نکل پڑے ہیں. جن باتوں کو خلیل صاحب جائز سمجھتے ہیں ہو سکتا ہے لوگ ان کو بھی بے حیائی سمجھتے ہیں،میں بہت سے ایسے لوگوں کو جانتا ہوں میرے رشتے داروں کے گھر میں بھی ٹی وی دیکھنا منع ہے اور فلم دیکھنا اس کو تو بہت بڑا عیب سمجھا جاتا ہے،خلیل کہتے ہیں فلم لکھی ،اچھی لکھتا ہوں.

    مبشر لقمان نے مزید کہا کہ قانون سوسائٹی کے لئے بنا ہوتا ہے کسی ایک شخص کے لئے نہیں، یہ ایک سازش ہے عوام کو ایسے الجھا دیا گیا جو عوام کا مسئلہ ہی نہیں، دوسری طرف عورت مارچ کے نعرے دیکھ لیں، طلاق یافتہ لیکن خوش، ان نعروں کی اخلاقیات اجازت نہیں دیتی، عورت مارچ والوں سے پوچھا جائے کہ ان کے مقاصد کیا ہیں، فنڈڈ این جی اوز، پیسہ لے کر میرا جسم میری مرضی کا نعرہ لگا کر اس ملک کی عورتوں کو بے وقوف بنانے کی کوشش ہے، یہ نہ تو سماجی مسائل، نہ معاشی مسائل کا حل ہے،وہ خواتین جو ڈرائیور کے بغیر گھر سے نہیں نکلتی، انہیں یہ معلوم نہیں کہ دوران زچگی کتنی خواتین مر جاتی ہیں اب وہ خواتین کے حقوق مانگ رہی ہیں،میں دیکھتا ہوں کہ ابھینندن پکڑا جاتا ہے ،کلبھوشن پکڑا جاتا ہے توچند خؤاتین پلے کارڈ لے کر آ جاتی ہیں اور ان کے حق میں احتجاج کرتی ہیں،لیکن جب کشمیر میں 18 ہزار بچیوں کی عصمت دری ہوئی تو ان پر تو کوئی آواز نہیں اٹھائی گئی، عورت مارچ والوں نے کوئی احتجاج نہیں کیا،اب بھارت میں جو ہو رہا ہے، دہلی میں شاہین باغ میں جس طرح عورتوں کی بے حرمتی کی گئی اس پر کیوں نہیں بولتے، ہم محدود کیوں ہو گئے ،کیا وہ عورتیں نہیں ، کیا ان کے حقوق نہیں، پاکستان ان ممالک میں ہے جہاں عورت کو چیف ایگزیکٹو بنا یا گیا ، پاکستان میں عورت کو وہ مسائل نہیں جو دیگر ممالک میں ہیں، یہاں ورکنگ وومین کے مسائل کا کسی کو پتہ نہیں، خواتین کے اصل مسائل کے حل میں رکاوٹ یہ خود ہیں، گزشتہ برس عورت مارچ کو دیکھئے کہ یہ عورت کو بنانا کیا چاہتے ہیں، ایسے مارچ کرنا خواتین کی بھی تذلیل ہے، جن کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے، تیزاب پھینکا جاتا ہے کیا ان کے لئے آواز نہیں اٹھانی چاہئے،

    مبشر لقمان نے مزید کہا کہ عورت مارچ والوں سے سوال پوچھنا چاہئے کہ لبرلز ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ میں اپنی زبان کو بد زبان کر لوں،میں کپڑے اتار کر شو کرنا شروع کر دوں ،کہ میں لبرل ہوں جو دل میں آئے کروں، یہ آزادی کی بات نہیں، رضیہ سلطانہ جیسی عورت کا کیا جس نے خود کو بغیر آوارہ کہے پورے برصغیر پر حکومت کی،فاطمہ جناح جنہوں نے مردوں کے شانہ بشانہ کام کیا، پاکستان بنانے میں مردوں سے زیادہ خواتین کی محنت تھی، محنت کر کے جو خواتین چولہا جلاتی ہیں ان کے مسائل کا ذکر سامنے نہیں آیا، کیا یہ سازش ہے؟ اس کو ختم کرنا ہو گا، ہمیں برداشت کا مادہ ہاتھ سے نہیں چھوڑنا، مرد ہے جو خواتین کی عزت بناتا ہے اور عورت مرد کی طاقت بناتی ہے یہی خوبصورتی ہے، جن الفاظ کا چناؤ خلیل الرحمان قمر نے کیا اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، اس تقسیم کی ایک اور بڑی وجہ ہے ماروی سرمد اور خلیل الرحمان قمر کی ٹویٹس دیکھیں، انہوں نے جو ٹاک شو پر بات کی یہ ظلم ہو گیا، اس کو نہیں ہونا چاہئے، ناشائستہ گفتگو کی معاشرے میں اجازت نہیں ہو سکتی.

  • عورت مارچ کا توڑ،مذہبی جماعتوں نے 8 مارچ کو پیغام شرم و حیا ریلی نکالنے کا اعلان کر دیا

    عورت مارچ کا توڑ،مذہبی جماعتوں نے 8 مارچ کو پیغام شرم و حیا ریلی نکالنے کا اعلان کر دیا

    عورت مارچ کا توڑ،مذہبی جماعتوں نے 8 مارچ کو پیغام شرم و حیا ریلی نکالنے کا اعلان کر دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اہل سنت جماعتوں کے سربراہوں نے 8 مارچ کی “ پیغام شرم و حیا ریلی “ کی تاہید و حمایت کا اعلان کر دیا

    صاحبزادہ حامد رضا ، ابوالخیر زبیر ، مظہر سعید کاظمی ، ڈاکٹر اشرف آصف جلالی ، ثروت اعجاز قادری ، پیر میاں عبدالخالق ، الحاج حنیف طیب ، بلال سلیم قادری اور پیر معصوم نقوی کی جانب سے مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ حکومت خواتین مارچ کے حوالے سے عدالتی فیصلے پر عمل یقینی بنائے

    تحفظ ناموس رسالت محاذ کے زیراہتمام 8 مارچ کو داتا دربار سے پنجاب اسمبلی تک ہونے والی “ پیغام شرم و حیا ریلی “ کے انتظامات مکمل کر لئے گئے ۔ ریلی میں تیس اہل سنت جماعتوں کے عہدیداران و کارکنان شریک ہوں گے ۔ ریلی کے سلسلہ میں رابطہ مہم جوش و جذبے سے جاری ہے ۔ اہل سنت جماعتوں کے سربراہوں نے 8 مارچ کو یوم شرم و حیا منانے کی تائید کر دی ۔

    تحفظ ناموس رسالت محاذ کے صدر صاحبزادہ رضائے مصطفے نقشبندی کے رابطوں کے نتیجے میں سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا ، جمعیت علماء پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر ابوالخیر محمد زبیر ، تحریک لبیک یا رسول اللہ کے سربراہ علامہ ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی ، جماعت اہل سنت کے مرکزی امیر پیر سید مظہر سعید کاظمی ، پاکستان سنی تحریک کے سربراہ ثروت اعجاز قادری ، نظام مصطفے پارٹی کے صدر الحاج محمد حنیف طیب ، مرکزی جماعت اہل سنت کے امیر پیر میاں عبدالخالق ، سنی تحریک کے سربراہ بلال سلیم قادری ، انجمن طلباء اسلام کے مرکزی صدر معظم شہزاد ساہی ، جے یو پی نیازی کے صدر پیر سید معصوم حسین نقوی نے 8 مارچ کی پیغام شرم و حیا ریلی میں شرکت کا اعلان کر دیا ہے ۔

    اہل سنت جماعتوں کے سربراہوں کی طرف سے جاری کئے گئے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ مغرب زدہ خواتین حقوق نسواں کی آڑ میں معاشرتی اقدار کا جنازہ نکالنے پر تلی ہوئی ہیں ۔ حکومت خواتین مارچ کے حوالے سے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کروائے ۔ حکومت خواتین مارچ میں نفرت آمیز اور ہیجان انگیز نعروں ، سلوگن اور تقریروں کو روکنے کے لئے اپنا کردار ادا کرے ۔ عدالتی فیصلے پر اس کی روح کے مطابق عمل یقینی بنایا جائے ۔ مغرب زدہ خواتین دنیا کو پاکستان میں عورتوں پر ظلم کا تاثر دے کر ملک کو بدنام کرنے کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں ۔ این جی اوز کو اخلاقی اور سماجی روایات و اقدار کی دھجیاں اڑانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ۔ سنجیدہ طبقات مٹھی بھر مغرب زدہ خواتین کے طوفان بدتمیزی کو روکنے کے لئے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں ۔

  • زینب الرٹ بل کو نہیں مانتے،ہر فورم پر مخالفت کریں گے، سراج الحق کا ایک بار پھر اعلان

    زینب الرٹ بل کو نہیں مانتے،ہر فورم پر مخالفت کریں گے، سراج الحق کا ایک بار پھر اعلان

    زینب الرٹ بل کو نہیں مانتے،ہر فورم پر مخالفت کریں گے، سراج الحق کا ایک بار پھر اعلان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ قرآن وسنت کی روشنی میں بولنا چاہیے اور اچھی بات کہنی چاہیے،ہم آئی ایم ایف اور جعلی شہزادوں کے غلام بن گئے ہیں،سب نے دیکھ لیا، امریکا نے افغانستان میں شکست کھائی،

    سراج الحق نے مزید کہا کہ جوبچوں سے زیادتی کرے یا قتل کرے،اس کوقرآن کے مطابق سزا دی جائے،عوام نے بے رحم لوگوں کومنتخب کرکے پارلیمنٹ میں بھیجا،زینب الرٹ بل کونہیں مانتے،ہرفورم پرمخالفت کریں گے، فرشتہ،نوراورزینب کے ساتھ جو ہوا مجرموں کو پھانسی ہونی چاہیے. بچوں کے قتل کی سزا کو صرف جیل تک محدود کردیا ہے، قتل کی سزاتو پہلے ہی قصاص ہے،اس بل میں دفعہ 201 اور302 کو شامل کیا جائے،

    سراج الحق نے مزید کہا کہ خواتین کو ورک پلیس پر مکمل سیکورٹی نہیں ملتی انہیں مکمل تحفظ ملنا چاہیے ،جو بہن کو وراثت میں حصہ نہ دے اس کے الیکشن لڑنے پر پابندی عائد کی جائے.

    نیب نے مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال کو گرفتار کر لیا، اس حوالہ سے نیب نے اعلامیہ جاری کر دیا ہے،

    نواز شریف کے قریبی دوست میاں منشا کی کمپنی کو نوازنے پر نیب کی تحقیقات کا آغاز

    نواز شریف سے جیل میں نیب نے کتنے گھنٹے تحقیقات کی؟

    تحریک انصاف کا یوٹرن، نواز شریف کے قریبی ساتھی جو نیب ریڈار پر ہے بڑا عہدہ دے دیا

    بچوں سے زیادتی کے مجرموں کوسرعام سزائے موت ،علامہ ساجد میر نے ایسی بات کہہ دی کہ سب حیران

    واضح رہے کہ سینیٹ کا اجلاس چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیر صدارت گزشتہ روز ہوا تھا، قائمہ کمیٹی سے ترامیم کے بعد منظور ہونے والے زینب الرٹ بل کو سینیٹ میں پیش کیا گیا جسے منظور کر لیا گیا,سینیٹ میں زینب الرٹ بل سینیٹر اعظم سواتی نے پیش کیا تھا، جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے سینیٹ میں بھی زینب الرٹ بل کی مخالفت کی تھی.

  • جان بچانے والی ادویات کی قلت کے خلاف درخواست پر لاہور ہائیکورٹ میں ہوئی سماعت

    جان بچانے والی ادویات کی قلت کے خلاف درخواست پر لاہور ہائیکورٹ میں ہوئی سماعت

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں جان بچانے والی ادویات کی قلت کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی،عدالت نے وفاقی حکومت کے وکیل سے 9 مارچ کو حکومت کی جانب سے کئے گئے اقدامات کی رپورٹ طلب کرلی

    چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مامون رشید شیخ نے جوڈیشل ایکٹوازم پینل کی درخواست پر سماعت کی،ڈریپ کے ایڈیشنل سیکرٹری سہیل عدالت میں پیش ہوئے،ایڈیشنل سیکرٹری ڈریپ نے کہا کہ جان بچانے والی ادویات کی قیمتوں کا تعین کرنا وفاقی کابینہ کا اختیار ہے، فروری 2019ء میں ادویات کی قیمتوں کے تعین کیلئے سمری وفاقی حکومت کو بھجوا رکھی ہے،

    چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے کہا کہ ڈریپ ادویات کی رجسٹریشن میں تاخیر کی وجوہات وفاقی حکومت بتائے، عدالت نے سماعت 9 مارچ تک ملتوی کر دی

    ہمارے سامنے ماسٹر نہ بنیں، کسی کے لاڈلے ہونگے،ہمارے نہیں،چیف جسٹس کے ریمارکس

    سپریم کورٹ نے دیا شہر قائد میں پارک کی زمین پر بنائے گئے فلیٹ گرانے کا حکم

    ماضی میں توجہ نہیں ملی،اب ہم یہ کام کریں گے، زرتاج گل کا حیرت انگیز دعویٰ

    عمران خان مایوس کریں گے یا نہیں؟ زرتاج گل نے کیا حیرت انگیز دعویٰ

    نہر کنارے درخت کاٹ کر ان کے ساتھ دہشت گردی کی گئی، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

    ملزم نے دو شادیاں کر رکھی ہیں،وکیل کے بیان پر چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے کیا ریمارکس دیئے؟

    سرکلرریلوے کی بحالی ،چیف جسٹس نے کی سماعت،سندھ حکومت نے دیا جواب

    درخواست گزار کا کہنا تھا کہ جان بچانے والی 37 قسم کی ادویات کی رجسٹریشن تاخیر کا شکار ہے، جان بچانے والی ادویات میں فالج، دل کے امراض اور دیگر بیماریوں کو ادویات شامل ہیں،مارکیٹ میں سمگل شدہ جان بچانے والی ادویات مہنگے داموں فروخت ہو رہی ہیں،جان بچانے والی ادویات کی فوری رجسٹریشن کرنے کا حکم دیا جائے،

    اللہ کا شکر ہے پنجاب میں کرونا کا کوئی کیس نہیں،حکومت فوری یہ کام کرے، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے دیا بڑا حکم

  • بے نظیر کی شہادت کے بعد پاکستان کی ہر عورت میری والدہ ہے، بلاول زرداری

    بے نظیر کی شہادت کے بعد پاکستان کی ہر عورت میری والدہ ہے، بلاول زرداری

    بے نظیر کی شہادت کے بعد پاکستان کی ہر عورت میری والدہ ہے، بلاول زرداری

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے لاہور میں خواتین کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ بے نظیر کی شہادت کے بعد پاکستان کی ہر عورت میری والدہ ہے ، میں بے نظیر کی طرح پر عورت کی خدمت کرنا چاہتا ہوں، پیپلز پارٹی نے خواتین کے حقوق کے لئے کام کیا، اگر پاکستان میں خواتین کو حقوق ملے ہیں تو وہ پیپلز پارٹی کی وجہ سے، خواتین کو حقوق اسلام دیتا ہے ، بھٹو کا آئین دیتا ہے، ہم عورتوں کے لئے بھیک نہیں مانگتے بلکہ مطالبہ کرتے ہیں کہ جو حقوق اسلام دیتا ہے ، قانون دیتا ہے وہ حقوق دیئے جائیں. مزدوروں کو مساوات،کسانوں کو بھی برابری کے حقوق ملنے چاہئے،

    بلاول زرداری نے مزید کہا کہ اگر مرد کے حقوق 50 فیصد ہیں تو عورت کے بھی 50 فیصد ہونے چاہئے،سیاست میں خواتین کے حقوق میں اضافہ ہوا تو پی پی کے دور میں ہوا، جب بھی خواتین کے حقوق کی بات آتی ہے تو بے نظیر بھٹو کا نام آتا ہے، پیپلز پارٹی تاریخ بناتی ہے، آپ کی جدوجہد اور قربانیوں سے خاتون وزیراعظم کو منتخب کیا تھا، بے نظیر دو بار وزیراعظم منتخب ہوئی تھیں،مسلم امہ میں پاکستان واحد ملک تھا جہاں خاتون وزیراعظم بنی، پہلی جج خاتون بھی پی پی کے دور میں بنی، غریب عورتوں کو پی پی کے دور میں حقوق دیئے گئے یہ سب کارکنان کی محنت کی وجہ سے ہے کہ آج بھی ملک کے کونے کونے میں لیڈیز ہیلتھ ورکرز کام کر رہی ہیں یہ بے نظیر کا منصوبہ تھا جس سے خواتین کو روزگار ملا،

    بلاول زرداری نے مزید کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ تاریخی پروگرام تھا، دنیا اس کو مانتی ہے کہ زرداری کی حکومت نے بے نظیر کے منشور پر عمل کیا اور پروگرام شروع کیا لیکن موجودہ حکومت نے اس کا نام بدل دیا، اس سے غریب عورتوں کو مالی مدد ملتی ہے،تا کہ ان کا گھر چل سکے، ریاست مدد کرتی ہے غریبوں کی،اس ملک کی عورتوں کو پی پی نے اپنے پاؤں پر کھڑا کیا، پیپلز پارٹی کا انقلابی منصوبہ جو بے نظیر کا خواب تھا کچھ لوگوں کو برداشت نہیں ہوتا ،شروع دن سے اس کے خلاف سازشیں شروع ہوئیں، اس پروگرام کا نام بدل دیا گیا، حالانکہ باقی ممالک نے اس پروگرام کو کاپی کرنا شروع کر دیا تھا عالمی اداے بھی کہتے تھے کہ یہ پروگرام شاندار ہے، عمران خان کی حکومت نے خواتین کے لئے کوئی نیا منصوبہ لانے کی بجائے نام مٹایا، انہوں نے کبھی خواتین کے لئے انقلابی پروگرام لانے کا نہیں سوچا.

  • اللہ کا شکر ہے پنجاب میں کرونا کا کوئی کیس نہیں،حکومت فوری یہ کام کرے، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے دیا بڑا حکم

    اللہ کا شکر ہے پنجاب میں کرونا کا کوئی کیس نہیں،حکومت فوری یہ کام کرے، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے دیا بڑا حکم

    اللہ کا شکر ہے پنجاب میں کرونا کا کوئی کیس نہیں،حکومت فوری یہ کام کرے، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے دیا بڑا حکم
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاہور ہائی کورٹ میں سرجیکل ماسک کی قیمتوں میں اضافے کیخلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی،عدالت نے سرجیکل ماسک کی قیمت کے تعین اور دستیابی کیلئے اقدامات کی رپورٹ طلب کرلی، عدالت نے چیف سیکرٹری پنجاب اور محکمہ صحت سے کورونا وائرس سے عوام کو آگاہی بارے رپورٹ طلب کرلی

    ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب آصف چیمہ نے رپورٹ عدالت میں پیش کر دی، رپورٹ میں کہا گیا کہ ماسک کی قیمت کا تعین کرنا وفاقی حکومت کا اختیار ہے، اجلاس کے بعد ماسک کی قیمت کے تعین کیلئے وفاق کو خط لکھ دیا،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ ابھی تک پنجاب میں کورونا کا کوئی کیس نہیں، یہ ساری کارروائی کرنے کا مقصد عوام کو آگاہی دینا اور حفاظتی اقدامات کو یقینی بنانا ہے، کورونا وائرس سے آگاہی کے لئے میڈیا پر مہم چلائی جائے، اس سے قبل ڈینگی مچھر سے بچائو کے لئے بڑی موثر میڈیا مہم چلائی گئی،

    ایڈیشنل سیکرٹری ڈرگ کنٹرول نے کہا کہ صحت مند شخص کے لیے ماسک پہننا ضروری نہیں ہے، ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ پنجاب حکومت کی جانب سے سمری پہنچنے کے بعد قیمت کے تعین کیا جائے گا،

    چیف جسٹس مامون رشید شیخ نے درخواست پر سماعت کی،درخواست گزار نے کہا کہ کرونا وائرس کے خدشے کے باعث سرجیکل ماسک کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا ہے،80 روپے والے سرجیکل ماسک کی قیمت 480 سے ایک ہزار روہے تک کردی گئی ہے، کرونا وائرس کی وجہ سے ذخیرہ اندوزوں کی جانب سے قیمتوں میں اضافہ کیا گیا،عدالت ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کو ماسک کی دستیابی یقینی بنانے کا حکم دے ،عدالت ذخیرہ اندوزوں کیخلاف سخت کارروائی کاحکم دے،

  • رانا ثناء اللہ کی درخواست ضمانت پر لاہور ہائیکورٹ کا بڑا حکم

    رانا ثناء اللہ کی درخواست ضمانت پر لاہور ہائیکورٹ کا بڑا حکم

    رانا ثناء اللہ کی درخواست ضمانت پر لاہور ہائیکورٹ کا بڑا حکم

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاہور ہائیکورٹ نے مسلم لیگ ن کے رہنما ،رکن قومی اسمبلی کی ضمانت منظور کر لی، رانا ثناء اللہ نے گزشتہ روز ضمانت کے لئے عدالت سے رجوع کیا تھا

    لاہورہائیکورٹ میں سابق وزیر قانون پنجاب رانا ثنا اللہ کی آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں نیب انکوائری کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی،عدالت نے رانا ثنااللہ کی عبوری ضمانت منظور کرلی اورنیب کو گرفتاری سے روک دیا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز ایک درخواست کے سماعت کے دوران عدالت نے کہا تھا کہ رانا ثناء اللہ کو اگر گرفتاری کا خطرہ ہے تو وہ ضمانت کے لئے عدالت سے رجوع کر لیں جس کے بعد رانا ثناء اللہ نے اپنے وکیل کے توسط سے درخواست دی تھی.

    رانا ثناء اللہ ایک بار پھرمشکل میں پھنس گئے، حکومت نے اب کیا کیا؟ جان کر ہوں حیران

    رانا ثناء اللہ نے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کوجیل سے لکھا خط، کیا کہا؟

    رانا ثناء اللہ کی ضمانت، شہر یار آفریدی میدان میں آ گئے، بڑا اعلان کر دیا

    مسلم لیگ ن کے رہنما، رکن قومی اسمبلی رانا ثنا اللہ نے امجد پرویز ایڈووکیٹ کی وساطت سے آئینی درخواست لاہورہائیکورٹ میں دائرکی تھی ،درخواست میں چیئرمین نیب اور ڈی جی نیب سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا.عدالت نے درخواست کو سماعت کے لئے مقرر کر دیا ہے،

    رانا ثناء اللہ کی جانب سے لاہور ہائکورٹ میں دائردرخواست میں موقف اختیار کیاگیا کہ نیب کی جانب سے تحقیقات کیلئے خلاف قانون طلب کیا گیا ہے،انسداد منشیات اورنیب دونوں ادارے وفاق کے زیرسایہ ہیں،نیب انہیں اثاثوں کی تحقیقات کررہا ہے جواے این ایف عدالت نے منجمد کررکھے ہیں، ایک وقت میں دونوں وفاقی ادارے کیسے تحقیقات کر سکتے ہیں,درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ نیب نے اپنے دائرہ اختیار سے تجاوز کر کے شامل تفتیش کیا ہے، درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ عدالت نیب کی جانب سے طلبی کال اپ نوٹسز کو کالعدم قرار دے

  • سینئر صحافی نعیم حنیف  کو اے آر وائی نیوز چینل لاہور کا بیورو چیف بننے پر ایمرا کی طرف سے مبارکباد

    سینئر صحافی نعیم حنیف کو اے آر وائی نیوز چینل لاہور کا بیورو چیف بننے پر ایمرا کی طرف سے مبارکباد

    سینئر صحافی نعیم حنیف کو اے آر وائی نیوز چینل لاہور کا بیورو چیف بننے پر ایمرا کی طرف سے مبارکباد

    باغی ٹی وی : صدر ایمرا محمد آصف بٹ، سیکرٹری ایمرا سلیم احمد شیخ اور ایمرا باڈی کی جانب سے ایمرا کے سئنیر ممبر اور سئنیر صحافی و صحافی رہنما ،صحافی دوست اور اپنے پیارے دوست نعیم حنیف صاحب کو اے آر وائی نیوز چینل لاہور کا بیورو چیف بننے پر مبارکباد پیش کرتے ہیں اور دعا گو ہے کہ اللہ تعالی انہیں مزید ترقی و خوشحالی اور شہرت عطاء کرے اور صحت و تندوستی کے ساتھ ان کے رزق میں اضافہ کریں .

    ایمرا باڈی کے رہنماؤں اور ممبران کی طرف سے امید کا اظہار کیا گیا کہ وہ صحافیوں کے لئے بہترین اقدامات کرنے میں اپنا کردار ادا کریں گے بیسٹ آف لک نعیم حنیف صاحب اللہ تعالی آپکو خوش رکھے اور آباد رکھے