5000 کا جرمانہ معاف کروانے چودھری پرویز الہیٰ دو برس بعد عدالت پہنچ گئے
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ ق کے رہنما، سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الہیٰ نے الیکشن کے دوران ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر ہونے والے جرمانے کے خلاف عدالت سے رجوع کر لیا
چودھری پرویز الہیٰ نے لاہور ہائیکورٹ میں وکیل کے توسط سے درخواست دائر کی ہے،چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ چوہدری پرویزالہٰی کی درخواست پرسماعت کریں گے،درخواست میں چوھدری پرویز الہیٰ کا کہنا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی نہیں کی الیکشن کمیشن نے غیر قانونی جرمانہ کیا ، عدالت سے استدعا ہے کہ اس کو ختم کیا جائے.
واضح رہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے چوھدری پرویز الہیٰ کو نوٹس 12 جولائی 2018 کو جاری ہوا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پینا فلیکس کا استعمال کیا گیا،یہ ضابطہ اخلاق کی شق 26 کی خلاف ورزی ہے اسلئے پیش ہو کر جواب دیں، بعد ازاں الیکشن کمیشن نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر 5000 روپے جرمانہ عائد کر دیا
دو برس بعد اب چودھری پرویز الہیٰ 5000 کا جرمانہ ختم کروانے عدالت پہنچ گئے اور لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی.
نیب طلبی نوٹس، رانا ثناء اللہ کی درخواست پر سماعت کے دوران عدالت میں ہوا "ابھینندن” کا تذکرہ
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق نیب کی جانب سے طلبی کے نوٹسز کے خلاف رانا ثناء اللہ کی درخواست پر لاہور ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی
لاہورہائیکورٹ کے2رکنی بینچ نےرانا ثنااللہ کی درخواست پر سماعت کی،عدالت نے استفسار کیا کہ کیا دو مختلف ادارے کسی چیز پر انوسٹی گیشن کر سکتے ہیں،یہ ابتدائی اسٹیج ہے ابھی تو انوسٹی گیشن ہے جو ابتدائی مراحل میں ہے، لاہور ہائیکورٹ نے نیب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا، عدالت نے کیس کی سماعت 25 مارچ تک ملتوی کر دی
دوران سماعت رانا ثناء اللہ نے عدالت میں کہا کہ نیب والے چائے پربلاتے ہیں اورگرفتارکرلیتے ہیں،جس پر عدالت نے کہا کہ چائے پر تو ابھی نندن کوبھی بلایا تھا، عدالت کےریمارکس پرکمرہ عدالت میں قہقہے گونج اٹھے
عدالت نے کہا کہ رانا ثناء اللہ کو گرفتاری کا خدشہ ہے تو ضمانت کی درخواست دائر کر سکتے ہیں،
مسلم لیگ ن کے رہنما، رکن قومی اسمبلی رانا ثنا اللہ نے امجد پرویز ایڈووکیٹ کی وساطت سے آئینی درخواست لاہورہائیکورٹ میں دائرکی تھی ،درخواست میں چیئرمین نیب اور ڈی جی نیب سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا.عدالت نے درخواست کو سماعت کے لئے مقرر کر دیا ہے،
رانا ثناء اللہ کی جانب سے لاہور ہائکورٹ میں دائردرخواست میں موقف اختیار کیاگیا کہ نیب کی جانب سے تحقیقات کیلئے خلاف قانون طلب کیا گیا ہے،انسداد منشیات اورنیب دونوں ادارے وفاق کے زیرسایہ ہیں،نیب انہیں اثاثوں کی تحقیقات کررہا ہے جواے این ایف عدالت نے منجمد کررکھے ہیں، ایک وقت میں دونوں وفاقی ادارے کیسے تحقیقات کر سکتے ہیں,درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ نیب نے اپنے دائرہ اختیار سے تجاوز کر کے شامل تفتیش کیا ہے، درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ عدالت نیب کی جانب سے طلبی کال اپ نوٹسز کو کالعدم قرار دے
کیا ہے پی آئی اے کی فلائٹ پی کے 786 کے اندر کی کہانی، سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان نے بتا دی
باغی ٹی وی روپورٹ :سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان نے پی آئی اے کی فلائٹ پی کے 786 کے اندر کی کہانی بتادی.انہوں نے اپنے یو ٹیوب چینل پر پروگرام کرتے ہوئے بتایا کہ کس طرح برطانیہ سے پرواز بھرنے والے پی آئی اے کے طیارے کہ جس نے اسلام آباد آنا تھا 153 منٹ اسکا ریڈیو رابطہ منقطع رہا .انہوں نے کہا کہ اگرچہ اس پر پی آئی اے نے انکوائری کا آغاز کردیا ہے . لیکن اہم سوال یہ ہےکہ پائلٹ نے اپنی ڈی بریفنگ میں اس مسئلے کو لکھا کیوں نہیں اور اسے لاک کیوں نہیں؟ اس کا مطلب تو یہی بنتا ہے کہ پائلٹ کو اس کی امید ہی نہیں تھی کہ اس بات کا کسی کو پتہ بھی چلے گا. یاد رہے کہ چھوٹی بات نہیں یہ بہت بڑی لاپرواہی ہے .جو کہ 300 کے قریب جانوں کا مسئلہ تھا.
انہوں نےکہا کہ جب پی آئی اے کے پائلٹ اور اس کی ساتھی پائلٹ کو ہیڈ آفس میں بلایا گیا تو انہوں نے پلی یہ دی کہ جرمنی کی ٹریفک کنٹرول نے انہیں ایک فریکوئینسی الاٹ کردی کہ اس پر رابطہ کریں.اور اپنا روٹ اسی پر جاری رکھیں. اس بات پر تبصرہ کرتے ہوئے مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ یہ بات ٹھیک ہے لیکن اتنے منٹ جو رابطہ منقطع رہا اس کی کیا منطق پیش کی جاسکتی ہے.، آپ تین سو مسافروں کو لے کر جارہے ہیں . آپ کی ذمہ داری ہے کہ آپ خود رابطہ کرتے .ہیڈ کواٹر سے رابطہ نہیں ہوتا تھا تو کسی پائلٹ سے رابطہ کرلیتے.اسی طرح ہنگر ی اور چیک ریبلک ٹریفک کنٹرول والے بھی کہہ رہے ہیں کہ ہمارا ان سے رابطہ نہیں ہوا.اور وہ ہمیں جواب بھی نہیں دے رہے تھے.
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اس وقت 4 جہاز اس طیارے کے آس پاس محو سفر تھے . دو چار ہزار فٹ پر تھے اور یہ طیارہ سینتیس سو فٹ پر تھا دو اور طیارے تھے ان سے بھی ایئر ٹریفک کنٹرول والوں نے کہا کہ آپ ان سے رابطہ کریں اور پائلٹ ٹو پائلٹ رابطہ کریں.اور ان سے بات کر کے بتائیں کہ ان کو ہمارا میسج مل رہا ہے کہ نہیں.؟
انہوں نے کہا کہ اب تو اس بات کے اور بھی گواہ آگئے ہیں کہ ان سے رابطہ کیا گیا .لیکن اصل بات یہ ہے کہ کیا یہ دوران پرواز سو گئے تھے یا ان کی تربیت میں کمی ہے . پائلٹ اورنگ زیب تو بہت سینئر پائلٹ ہیں ان سے یہ امید نہیںکی جاسکتی .ارم صاحبہ کے متعلق میں کچھ نہیں کہہ سکتا کیونکہ ان کے چیکس کس طرح اپروو ہوتے ہیں سب کو علم ہے ..
مبشر لقمان نےاصل کہانی بتاتے ہوئے کہا کہ اب یورپین ایئر کنٹرول پی آئی اے پر سوالیہ نشان اٹھا رہے ہیں.انہوں نے کہا ایتھوپین ایئر لائن کے لے 34 پی آئی اے کے پائلٹوں اور اہم عہدوں پر براجمان اہلکاروں نے انٹرویو دیے ان میںسے 80 فیصد فیل ہوگئے. اس طرح اورایئر لائنز کے لیے بھی کوشش کی تا کہ بہتر تنخواہ اور مراعات حاصل کی جا سکیں.
انہوں نے کہا کہ یا تو آپ کی تربیت کا معیار ناقص ہے یا آپ کے پاس ایسی لاٹ آچکی ہے جو اس معیار پر پورا نہں اترتی اور سیکھ نہیں سکتی .انہوں نے کہا کہ اگر مجھے جہاز اڑانا آتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ میں ایک کمرشل فلائٹ بھی اڑا کر پائلٹ بن جاؤں ، پائلٹ کو بہت زیادہ مہارت ، تربیت اور علم ہونا چاہیے اور بہت زیادہ ذمہ داری کا احساس بھی ہونا چاہیے . انہوں نے کہا کہ اب پی آئی اے نے انکوئر شروع کردی ہے یہ توقع کی جارہی ہے کہ حسب معمول ان کو اس انکوائری سے کلیئر کر دیا جائے گا . حق تو یہ ہے کیپٹن اورنگ زیب اور ارم کو انکوائری آنے تک گراؤنڈ کردینا چاہیے .
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ہمارا بحیثیت پاکستانی یہ حق بنتا تھا ہے کہ ہم یورپ سے اصل حقیقت جانیں اور اس سلسلے میں ہم کوشش بھی کر رہیں ہیں ،جب ان کی طرف سے جوا ب آئے گا آپ کو مزید آگاہی دی جائے گی ، کیونکہ یہ قیمتی جانوں کا مسئلہ ہے .
عورت مارچ میں اس کام سے اجتناب کیا جائے، چیف جسٹس کا بڑا حکم
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاہورہائیکورٹ میں عورت مارچ کےخلاف مرکزی درخواست پرسماعت ہوئی،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مامون رشیدشیخ نے منیراحمدکی درخواست پرسماعت کی
عدالت نے عورت مارچ کے منتظمین کی درخواست پرضلعی انتظامیہ کوجلد فیصلہ کرنے کی ہدایت کی،عدالت نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ آئین،قانون کیمطابق عورت مارچ کےمنتظمین کی درخواست پرفیصلہ کرے،عدالت نےعورت مارچ کے منتظمین کو آئین اورقانون کے دائرے میں رہنےکی ہدایت کردی،
عدالت نے کہا کہ متعلقہ حکام سےعورت مارچ کے منتظمین ملاقات کریں اورتعاون کریں،عورت مارچ کے داخلی راستوں اورمارچ کے دوران سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے جائیں، چیف جسٹس نے کہا کہ عورت مارچ میں ایسے نعروں سے اجتناب کیاجائے جس سے کسی کی دل آزاری ہو،آئین میں مردوں اورخواتین کودیے حقوق بڑے واضح ہیں،
وکیل عورت مارچ نے کہا کہ متفرق درخواست میں درخواستگزارنے عورت مارچ پرپابندی کی بات کی،عورت مارچ کوڈ آف کنڈکٹ میں نفرت انگیزتقریر،پلےکارڈزکی ممانعت ہے،چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال کےعورت مارچ میں بڑی قابل اعتراض باتیں سامنےآئیں، میراجسم میری مرضی جیسے پلے کارڈزسے پہلے آپ دیکھیں دوسرے قوانین بھی ہیں،
وکیل نے کہا کہ ہم ایسےمتنازع پلے کارڈزکوروکنے کے ذمے دار نہیں،چیف جسٹس نے کہا کہ عورت مارچ کے لیے پہلے متعلقہ حکام سے این اوسی لیں اوروہاں بیان حلفی دیں،حکومت پنجاب کے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل آصف چیمہ نےجواب جمع کروادیا
وکیل درخواست گزار کا کہنا تھا کہ میرامقصدعورت مارچ کورکوانا نہیں بلکہ اسے ریگولیٹ کرانا تھا،عورت معاشرے کا حسن ہے مارچ میں شامل خواتین اوربچوں کونقصان نہ ہو، حکومتی جواب سے واضح ہواکہ سیکیورٹی ایجنسیزنےمعاملہ ٹیک اپ کر لیا، اسلام میں عورت کی بڑی عزت وتکریم لیکن آئین میں دیےحقوق حاصل ہیں،
خیال رہے کہ اس سال بھی خواتین کے حقوق سے متعلق کام کرنے والی مختلف تنظیموں نے لاہور کے علاوہ، اسلام آباد، راولپنڈی، ملتان، کراچی، حیدرآباد، سکھر، کوئٹہ اور پشاور سمیت ملک کے بڑے اور اہم شہروں میں 8 مارچ کو عالمی یوم خواتین کے موقع پر ’عورت مارچ‘ منعقد کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔
لاہور میں نجی اکیڈمی کے واش روم سے طالب علم کی لاش برآمد
باغی ٹی وی:لاہور میں چند دنوں میں اندھے قتل کا دوسرا واقعہ لاہور میں نجی اکیڈمی کے واش روم سے طالب علم کی لاش ملی ہے، نوجوان سیکنڈ ایئر کا طالب علم تھا۔
مسلم ٹاؤن کی نجی اکیڈمی سے ملنے والی لاش کی شناخت نعیم کے نام سے ہوئی ہے جو نواں کوٹ کا رہائشی تھا اور گزشتہ رات سے لاپتہ تھا۔ آج جب اکیڈمی کھولی گئی تو اس کے واش روم میں نوجوان کی لاش موجود تھی۔
پولیس کے مطابق متوفی نعیم کے جسم پر کوئی تشدد کا نشان موجود نہیں ہے تاہم مقتول کی موت کی وجہ جاننے کے لیے مختلف پہلوؤں سے تفتیش کی جا رہی ہے۔واضح رہےکہ لاہور کےعلاقےشاہدرہ سے چند روز قبل اغوا ہونےوالے بچے کی لاش پڑوسن کےصندوق سےبرآمد کرلی گئی ہے۔لاہور پولیس کےمطابق 10سالہ تنزیل گزشتہ روز پڑوسن کے گھر گیا تھا، پڑوسن زینب نےبچےکوقتل کرکےاس کی لاش اپنے صندوق میں بند کررکھی تھی۔پولیس کے مطابق زینب نے 10سالہ بچےکومنہ پرکپڑاڈال کرقتل کیاتھا۔
پولیس کے مطابق بچےکی لاش بر آمد کر کےقبضےمیں لے لی گئی ہےجبکہ ملزمہ کوحراست میں لےکرکارراوئی کاآغاز کردیاگیاہے۔ملزمہ خاتون زینب نےپولیس کوابتدائ بیان دیتےہوئےکہاہےکہ دس سالہ تنزیل نےکچھ عرصہ قبل میری تین سالہ بیٹی کیساتھ نازیبا حرکات کی کوشش کی تھی ۔ جس پرمجھےاس بچے پرغصہ تھا۔پولیس کاکہناہےکہ 10 سالہ تنزیل کےاغواکامقدمہ والدین کی جانب سےتھانہ شاہدرہ میں درج کروایاگیا تھا.
نیب کا شہباز شریف کے خلاف ایک بار پھر گھیرا تنگ کرنیکا فیصلہ،عدالت میں درخواست دائر
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاہورہائیکورٹ میں شہبازشریف کی ٹرائل کورٹ سے مستقل حاضری معافی کیخلاف نیب کی درخواست پر سماعت ہوئی،
نیب نے اپنی درخواست میں شہبازشریف کوفریق بنایا ہے ،نیب کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیاگیا ہے کہ شہبازشریف کیخلاف آشیانہ اقبال اور رمضان شوگر ملز ریفرنس زیر سماعت ہیں ،ٹرائل کورٹ نے قانون کے برعکس مستقل حاضری معافی کی درخواست منظور کی ،
درخواست میں مزید کہا گیا کہ شہباز شریف آشیانہ اوررمضان شوگر ملز ریفرنس میں مرکزی ملزم ہیں ۔درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ لاہورہائیکورٹ شہبازشریف کو مستقل حاضری معافی دینے کا فیصلہ کالعدم قراردے ،عدالت شہباز شریف کو ٹرائل میں شامل ہونے کا حکم دے۔
وکیل نیب نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ شہبازشریف کے پیش نہ ہونے پر مستقل حاضری معافی کی درخواست منظورکرلی گئی ،حاضری معافی کی درخواست میں ملزم کا عدالت میں پیش ہونالازمی ہے۔ عدالت نے نیب کے وکیل سے استفسار کیا کہ شہبازشریف کے پیش نہ ہونے سے ٹرائل کیسے متاثر ہوگا؟
نیب نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ شہبازشریف کے خلاف احتساب عدالت میں دو ریفرنسز کا ٹرائل جاری ہے ،لاہور ہائیکورٹ نے شہبازشریف کو نوٹس جاری کرتے ہوئے24مارچ کو جواب طلب کرلیا۔
واضح رہے کہ ماہ جنوری میں احتساب عدالت میں آشیانہ اقبال اور رمضان شوگر ملز ریفرنسز کی سماعت ہوئی تھی، دوران سماعت وکیل امجد پرویز نے شہباز شریف کی مستقل حاضری معافی کی درخواستوں پر دلائل دئیے اور کہا شہباز شریف اپنے بھائی کے علاج کے لیے بیرون ملک گئے ہیں، ان کا اپنا علاج بھی جاری ہے، ڈاکٹرز نے چیک اپ کے لئے انہیں 9 اور 15 جنوری کا وقت دیا ہے، عدالت شہباز شریف کو مستقل طور پر حاضری سے استثنیٰ کا حکم دے۔
نیب نے شہباز شریف کی مستقل حاضری معافی کی درخواست کی مخالفت کی تھی اور موقف اختیار کیا کہ شہباز شریف کے وکیل کو خود علم نہیں ہے کہ ان کے موکل کب واپس آئیں گے، شہباز شریف عدالت کی اجازت کے بغیر بیرون ملک گئے ہیں، عدالت مستقل حاضری معافی کی درخواست مسترد کرے اور ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرے، عدالت نے شہباز شریف کو تاحکم ثانی حاضری سے استثنیٰ دے دیا تھا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ ن کے رہنما، رکن قومی اسمبلی رانا ثنا اللہ نے امجد پرویز ایڈووکیٹ کی وساطت سے آئینی درخواست لاہورہائیکورٹ میں دائر کر دی،درخواست میں چیئرمین نیب اور ڈی جی نیب سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا.عدالت نے درخواست کو سماعت کے لئے مقرر کر دیا ہے،
رانا ثناء اللہ کی جانب سے لاہور ہائکورٹ میں دائردرخواست میں موقف اختیار کیاگیا کہ نیب کی جانب سے تحقیقات کیلئے خلاف قانون طلب کیا گیا ہے،انسداد منشیات اورنیب دونوں ادارے وفاق کے زیرسایہ ہیں،نیب انہیں اثاثوں کی تحقیقات کررہا ہے جواے این ایف عدالت نے منجمد کررکھے ہیں، ایک وقت میں دونوں وفاقی ادارے کیسے تحقیقات کر سکتے ہیں ۔
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ نیب نے اپنے دائرہ اختیار سے تجاوز کر کے شامل تفتیش کیا ہے، درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ عدالت نیب کی جانب سے طلبی کال اپ نوٹسز کو کالعدم قرار دے. رانا ثنااللہ نے اپنے وکیل امجد پرویز اور طاہر نصراللہ کے ذریعے درخواست دائر کی،جسٹس علی باقرنجفی کی سربراہی میں بنچ درخواست پر کل سماعت کرے گا۔
مسلم لیگ ن کے رہنما، رکن قومی اسمبلی رانا ثناء اللہ کی گرفتاری کے ایک بارپھر امکانات ظاہر ہو گئے، نیب نے رانا ثناء اللہ کو طلب کر لیا، نیب کے مطابق رانا ثناء اللہ تحقیقات میں تعاون نہیں کر رہے ,نیب نے ن لیگ کے رہنماؤں رانا ثناء اللہ کو 6 مارچ اور جاوید لطیف کو 13 مارچ کو طلب کیا ہے، دونوں رہنماؤں کو نیب لاہور میں پیشی کے نوٹس موصول ہو گئے ہیں.
نیب تفتیشی ٹیم نے ن لیگ کے رہنما رانا ثناء اللہ کو عدم تعاون اور سوالوں کے نامکمل جوا ب دینے پر دوبارہ طلب کیا ہے، لیگی رہنما رانا ثناء اللہ نیب ترمیمی آرڈیننس کی آڑ میں تفتیشی ٹیم سے مکمل تعاون نہیں کر رہے،رانا ثناء اللہ نیب ٹیم کے سامنے بضد ہیں کہ ان کی پراپرٹی کا تخیمہ خریداری کے وقت کے ڈی سی ریٹ کے مطابق لگایا جائے۔
واضح رہے کہ منشیات کیس میں رانا ثناء اللہ کو لاہور ہائیکورٹ نے رہا کیا تھا،سپریم کورٹ میں راناثنااللہ کی ضمانت منسوخی کی درخواست دائرکر دی گئی،راناثنااللہ کی ضمانت منسوخی کی درخواست نےاے این ایف نےدائر کی،ضمانت منسوخی کی درخواست 17 صفحات پر مشتمل ہے ،
واضح رہے کہ منشیات کیس میں رانا ثناء اللہ چھ ماہ کے بعد رہا ہوئے تھے ،منشیات کیس میں رہائی پانے والے رکن قومی اسمبلی ،مسلم لیگ ن پنجاب کے صدر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ اس مقدمے کا کوئی سر اور پاؤں نہیں ہے۔ جن حالات میں مجھے جیل میں رکھا گیا، اس کا ذکر نہیں کروں گا۔ میری چھ ماہ بعد ضمانت ہوئی لیکن پورا انصاف نہیں ہوا۔ جن لوگوں نے جھوٹا مقدمہ درج کرایا اللہ کا قہر اور غضب ان پہ نازل ہو ، اگر میں جھوٹا ہوں تو مجھ پہ اللہ کا قہر اور غضب نازل ہو
امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی ممکن، کیسے؟ سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے بتا دیا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ ڈاکتر عافیہ صدیقی کو پاکستان واپس لایا جا سکتا ہے، حکومت کو چاہئے کہ وہ درخواست دائر کر دے،
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر عافیہ کے حوالہ سے جذباتی باتیں کی گئیں، لیکن اس کیس کو سمجھا ہی نہیں گیا، لوگ اسکے حق میں ہیں اور خلاف بھی ہیں، کسی کو کیس کی نوعیت کا نہیں پتہ،مجھے بھی صحیح معلوم نہیں تھا، اب آگہی ہوئی ہے،اگر اس کوو سیاسی استحصال کا المیہ قراد دیا جائے تو غلط نہ ہو گا
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ مجھ سے داؤد غزنوی نے رابطہ کیا، داؤد غزنوی نے کتاب لکھی اور اس میں حوالے دیئے کہ کیس میں کونسی چیزیں کمزور ہیں،ڈاکٹر عافیہ کے وکلاء بھی اس کے ساتھ شامل ہیں. ڈاکٹر عافیہ 2008 تک کہاں رہیں کوئی مصدقہ اطلاعات نہیں،انہوں نے اپنی تعلیم امریکہ کی مختلف یوینورسٹیز میں حاصل کی، وہ 2003 میں لاپتہ ہوئی، امریکی عدالت میں انکے خلاف مقدمہ چلایا گیا جس نے انہیں 86 برس قید کی سزا سنائی، داؤد غزنوی نے جو تفصیلات دیں کہ کن بنیادوں پر رہائی ممکن ہے، میں لائر نہین ، قانون کو نہیں سمجھتا، انفارمیشن شیئر کر رہا ہوں، افغان ڈیل کے بعد ایک بار پھر ڈاکٹر عافیہ کے حؤالہ سے بات چیت شروع ہو گئی ہے،عافیہ صدیقی کے کیس کے اہم نکات کو سمجھا جائے، عافیہ صدیقی کو کسی امریکی عدالت نے دہشت گردی کے الزامات میں کبھی بھی مورد الزام نہیں ٹھہرایا،یہ بات کم لوگوں کو پتہ ہے، صرف جذباتی باتیں سنی جاتی ہیں.
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ دوسرا اہم نقطہ یہ ہے کہ امریکی پراسیکیوشن نے کبھی بھی القاعدہ یا کسی دہشت گرد تنظیم کے ساتھ عافیہ کے روابط پر دلچسپی نہیں رکھی، عافیہ صدیقی پر امریکی اہلکاروں کے قتل کی کوشش کا کا الزام لگایا گیا،2010 میں مقدمے کی سماعت سے پہلے اور دوران عافیہ صدیقی کی ذہنی صحت بارے سوال اٹھے، مجھے پتہ چلا کہ انکی ذہنی حالت ایسی نہیں تھی کہ وہ اپنے وکیلوں کو اپنے ہی کیس کے بارے میں بتا سکیں، اب ڈاکٹر عافیہ کو 86 برس کی سزا سنائی ہے، ذہنی طور پر بیمار قیدیوں کی جیل میڈیکل سنٹر میں عافیہ کو رکھا گیا ہے،عافیہ صدیقی کی حقیقی اور غیر افسانوی کہانی تفصیل سے کتاب میں ہے،
مبشر لقمان نے مزید کہا کہ اگر ساری باتیں صحیح ہیں تو انکو پاکستان واپس لانے کا ایک طریقہ ہے، پاکستان پر اس حوالہ سے امریکہ کا دباؤ نہیں، امریکی ڈاکٹرز کہتے ہیں کہ عافیہ بیمار ہے، انہیں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر پاکستان لایا جا سکتا ہے، اس پر امریکی صدر کی اجازت کی بھی ضرورت نہیں نہ ہی کسی سودے کی..پاکستانی حکومت کو امریکہ کے ساتھ کوئی بارگین بھی نہیں کرنا پڑے گی، امریکی عدالت اگر عافیہ کو ہمدردی کی بنیاد پر پاکستان بھجوانے کا فیصلہ دیتی ہے تو حکومت پر کوئی دباؤ نہیں ہو گا.
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ یہ واحد ایک قانونی راستہ ہے جس کے ذریعے سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا رہائی مل سکتی ہے، ایسا کرنے سے نہ پاکستان پر کوئی سیاسی دباؤ ہو گا اور نہ ہی اسکے بدلے میں کوئی ڈیل کی جائیگی، یہ خالص عدالت کا فیصلہ ہو گا۔ اس حوالے سے عافیہ صدیقی کے وکیل داؤد غزنوی نے سابق اٹارنی جنرل کے مشورے سے وزیراعظم عمران خان کو خط بھی لکھا ہے، جس میں پاکستانی طلبہ کو ہمدردی کی بنیاد پر واپس لانے کے لیے طریقہ کار کی وضاحت کی گئی ہے۔ پی ٹی آئی حکومت کو اپنی سیاست جمکانے کا اس سے اچھا موقع نہیں مل سکتا، اس سےقبل ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو واپس لانے کا کوئی بھی قانونی طریقہ نہیں بتایا گیا تھا
مبشر لقمان نے مزید کہا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو واپس لانے کے لئے گورنر پنجاب نے بھی کوشش کی، پی ٹی آئی کے منشور میں بھی ڈاکٹر عافیہ کی رہائی شامل ہے، کچھ جماعتیں اس پر سیاست کرتی ہیں، ڈاکٹر داؤد غزنوی ڈاکٹر عافیہ کیس میں سپریم کورٹ میں بھی پیش ہوئے تھے،عافیہ صدیقی کا پاکستان آنا اس لئے بھی ضروری ہے کہ اس کا نام غلط طور پر سیاست یا دیگر مقاصد کے لئے استعمال نہ ہو، یہ حقیقت ہے کہ وہ ذہنی طور پر بیمار ہیں، انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رہائی ہونی چاہئے، امن معاہدے سے ماحول بہتر ہو رہا ہے، اب پاکستان کو چاہئے کہ وہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو واپس لانے کے لئے درخواست دائر کر دیں،آنے والے دنوں میں داؤد غزنوی اور ڈاکٹر عافیہ کے امریکہ میں جو وکیل ہیں ان کا موقف بھی لیں گے اور انکا انٹرویو بھی کریں گے، میں قانونی ماہر نہیں ہوں،لیکن وہ بات بتا رہا ہوں کہ جو عافیہ کے وکیل کہہ رہے ہیں کہ اس طرح سے ڈاکٹر عافیہ کی رہائی ممکن ہے.
شریف فیملی کے اثاثہ جات کیوں منجمند کئے؟ نیب نے عدالت میں جمع کروایا جواب
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق احتساب عدالت لاہورمیں شہباز شریف خاندان کے اثاثہ جات منجمند کیس میں نیب لاہورنے شہباز شریف خاندان کےاعتراضات پرجواب جمع کرادیا
نیب کی جانب سے جواب میں کہا گیا کہ شہبازشریف اوربیٹوں سمیت دیگرکےخلاف غیرقانونی اثاثوں پرتفتیش جاری ہے، شہباز شریف نے اپنی بیویوں کےنام پرجائیدادیں بنا رکھی ہیں،شہبازشریف فیملی جائیدادوں کے ذرائع بتانے میں ناکام رہی ،منی لانڈرنگ اورفنانس ایکٹ کے مطابق جائیدادوں کے ذرائع بتانا لازم ہے،شہبازشریف خاندان سے جائیدادوں کے متعلق باربارجواب مانگا گیا لیکن کوئی تسلی بخش جواب نہیں دیا گیا.
واضح رہے کہ سلمان شہباز کی جائیداد ضبط کرنے کیلئے دائر کردہ درخواست میں نیب نے موقف اختیار کیا کہ منی لانڈرنگ کیس میں سلمان شہباز کو 6 دفعہ کال اپ نوٹس جاری کیے گئے تاہم انہوں نے نیب انوسٹی گیشن جوائن نہیں کی، سلمان شہباز ملک سے باہر فرار ہو چکے ہیں۔ اس کے بعد احتساب عدالت نے سلمان شہباز کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے پولیس کو انھیں پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔
وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے معاون خصوصی شہزاد اکبر نے کہا تھا کہ حسن،حسین نواز،سلیمان شہباز،علی عمران اشتہاری مجرم ڈکلیئر ہوچکےہیں، حسن،حسین نواز،سلیمان شہبازواپس نہ آئےتوجائیدادیں ضبط ہوسکتی ہیں،
نواز شریف کی صحت بارے ڈاکٹر عدنان نے دی صحافیوں کو بریفنگ ،کیا کہا؟
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف کے معالج ڈکٹر عدنان نے نواز شریف کے بیٹے حسین نواز کے ساتھ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کا علاج جاری ہے، یہ ممکن نہیں کہ ان کا پلیٹ لٹ کاؤنٹ مینٹین کیا جائے، انکا اچھے ہسپتال میں علاج جاری ہے، بہترین کارڈیالوجسٹ پروفیسرسائمن سے بات ہوئی ہے، وہ بین الاقوامی کارڈیالوجسٹ ہیں ،
ڈاکٹر عدنان نے مزید کہا کہ سروسز ہسپتال میں نواز شریف کو ہارٹ اٹیک ہوا تھا، انہیں ہارٹ کا پرابلم بھی ہے، جب میڈیکل ٹیم کلیرنس دے گی کہ علاج کے وقت ان کا خون کںٹرول میں ہو گا نہیں بھے گا پھر علاج شروع ہو گا، انکا علاج جاری ہے، جب تک ڈاکٹرون کی ٹیم کلیئر نہیں کرے گی،ہم کچھ نہیں بتا سکتے کہ کب تک علاج رہے گا. بلڈ کی جو بیماریاں ہوتی ہیں وہ ایکسپرٹ ہوتے ہیں، کراچی کے پروفیسر شمسی صاحب کو لاہور میں بلایا گیا تھا،
حسین نواز نے کہا کہ ہم آپ کو ذاتی طور پر ڈاکٹر عدنان سے ملوا رہے ہیں، ہر دفعہ ہسپتال میںوزٹ کے بعد میڈیا کو بریفنگ دی گئی، آنے والے چند دنوں میں میڈیکل رپورٹ عدالت میں داخل ہو گی اور ہمارے وکلا کیس دائر کریں گے، اس سے ساری چیزیں واضح ہو جائیں گی.
حکومت کی جانب سے کہا جاتا رہا کہ نواز شریف کے ذاتی معالج نواز شریف کی صحت بارے آگاہ نہیں کر رہے ایک ہی رپورٹ بار بار بھجوا دیتے ہیں تا ہم اب ڈاکٹر عدنان نے لندن میں میڈیا کو نواز شریف کی صحت بارے بریفنگ دی،
واضح رہے کہ پنجاب حکومت میں نواز شریف کی ضمانت میں توسیع کی درخواست مسترد کر دی ہے
خیال رہے سابق وزیراعظم نوازشریف کے علاج کے سلسلہ میں 20 نومبر سے لندن میں موجود ہیں، اسپتال ذرائع کے مطابق نوازشریف کے دل کوخون پہنچانے والی شریان سکڑ گئی ہے ، خون کی روانی کو برقراررکھنےکیلئے’’کورنری انٹروینشن‘‘ کی ضرورت ہے اور اگر علاج کامیاب نہ ہوا تو مسلم لیگ ن کے تاحیات صدر کا بائی پاس کیا جائے گا۔
العزیزیہ ریفرنس میں نوازشریف 8 ہفتوں کے لیے دی گئی ضمانت ختم ہو چکی ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ نے 8ہفتوں کیلئے نوازشریف کی ضمانت منظور کی تھی،عدالت نے ضمانت میں توسیع کیلئے پنجاب حکومت سےرجوع کرنےکاحکم دیاتھا