Baaghi TV

Category: لاہور

  • دوسرا ٹی ٹوئنٹی:  پاکستان کی آسٹریلیا کو 90 رنز سے شکست،سیریز اپنے نام کرلی

    دوسرا ٹی ٹوئنٹی: پاکستان کی آسٹریلیا کو 90 رنز سے شکست،سیریز اپنے نام کرلی

    لاہور: دوسرے ٹی 20 میچ میں پاکستان نے آسٹریلیا کو 90 رنز سے شکست دے کر 3 میچز کی سیریز 0-2 سے اپنے نام کرلی۔

    قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلے جارہے دوسرے میچ میں پاکستان نے پہلے اوور سے ہی جارحانہ کھیل کا آغاز کیا دوسرے ہی اوور میں صاحبزادہ فرحان کی وکٹ گرنے کے باجود کپتان سلمان علی آغا اور صائم ایوب نے آسٹریلوی بولرز کی دھلائی جاری رکھی،صائم ایوب چھٹے اوور میں 11 گیندوں پر 23 رنز بناکر آؤٹ ہوئے پاکستان نے پاور پلے میں 3 چھکوں اور 10 چوکوں کی مدد سے 2 وکٹوں کے نقصان پر 72 رنز بنائے،صاحبزادہ فرحان5 اور بابر اعظم 2 رنز پر آؤٹ ہوگئے۔

    بعد ازاں بابر اعظم 2 رنز بناکر ایڈم زیمپا کا شکار بن گئے تاہم کپتان سلمان علی آغا نے جارحانہ کھیل جاری رکھا اور 25 گیندوں پر نصف سنچری اسکور کی،یہ محمد حفیظ کی 23 گیندوں پر نصف سنچری کے بعد کسی بھی پاکستانی کپتان کی جانب سے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز میں دوسری تیز ترین نصف سنچری ہے۔

    عثمان خان نے ذمہ دارانہ اور جارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے 35 گیندوں پر 52 رنز بنائے، جن میں 4 چوکے اور 2 چھکے شامل تھے۔ شاداب خان 29 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے جبکہ محمد نواز نے صرف 3 گیندوں پر 9 رنز بنا کر اسکور کو مزید مضبوط کیا،آخری 5 اوورز میں پاکستان نے 59 رنز اسکور کیے اور صرف ایک وکٹ گری۔

    آسٹریلیا کی جانب سے ایڈم زمپا، میتھیو کوہنیمن، کوپر کونولی، شان ایبٹ اور زیویئر بارٹلیٹ نے ایک ایک وکٹ حاصل کی-

    ہدف کے تعاقب میں آسٹریلیا کی پوری ٹیم 15.4 اوورز میں 108 رنز پر ڈھیر ہوگئی،آسٹریلوی اننگز کا آغاز انتہائی مایوس کن رہا۔ کپتان مچل مارش 18 اور ٹریوس ہیڈ 4 رنز بنا کر جلد آؤٹ ہو گئے۔ جوش انگلس 5 اور میٹ رینشا 2 رنز کے مہمان ثابت ہوئے، جس کے باعث آسٹریلیا کی بیٹنگ لائن دباؤ کا شکار رہی۔

    کیمیرون گرین نے 20 گیندوں پر 35 رنز بنا کر کچھ مزاحمت کی، جبکہ میتھیو شارٹ نے 27 رنز اسکور کیے، تاہم کوئی بھی بیٹر وکٹ پر جم نہ سکا۔ دیگر کھلاڑیوں میں کوپر کونولی ایک، ژاویر بارٹلیٹ 10 اور ایڈم زمپا 3 رنز بنا سکے۔

    ابرار احمد نے 3 اوورز میں صرف 14 رنز دے کر 3 وکٹیں حاصل کیں اور میچ کے بہترین بولر ثابت ہوئے شاداب خان نے بھی 4 اوورز میں 26 رنز دے کر 3 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ عثمان طارق نے 2.4 اوورز میں 16 رنز کے عوض 2 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ محمد نواز نے ایک وکٹ اپنے نام کی۔

    دوسرے ٹی ٹوٹنٹی میچ کے لیے پاکستان کی پلیئنگ الیون میں تین تبدیلیاں کی گئی ہیں،عثمان طارق، فہیم اشرف اور نسیم شاہ کو پلیئنگ الیون میں شامل کیا گیا ہے جبکہ شاہین شاہ آفریدی، سلمان مرزا اور فخر زمان کو آرام دیا گیا ہےتین ٹی ٹوئنٹی میچوں کی سیریز میں پاکستان کو ایک صفر کی سبقت حاصل ہے، پہلے میچ میں پاکستان نے آسٹریلیا کو 26 رنز سے شکست دی تھی۔

  • سانحہ بھاٹی کیس،خاتون کے شوہر پر پولیس تشدد کی تصدیق،ابتدائی رپورٹ جاری

    سانحہ بھاٹی کیس،خاتون کے شوہر پر پولیس تشدد کی تصدیق،ابتدائی رپورٹ جاری

    لاہور کے علاقے بھاٹی میں مین ہول میں گر کر جاں بحق ہونے والی خاتون کے شوہر پر پولیس تشدد کی تصدیق ہو گئی۔

    انکوائری رپورٹ میں ایس پی سٹی اور ایس ایچ او بھاٹی کو تشدد کا ذمے دار قرار دے دیا گیا، دونوں کے خلاف کارروائی کی سفارش بھی کی گئی ہے، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایس پی اور ایس ایچ او خاتون کے شوہر غلام مرتضیٰ کو تھانہ بھاٹی لے گئے، پونے 5 گھنٹے غیر قانونی حراست میں رکھا اور تشدد کرتے رہے، رپورٹ آئی جی پنجاب کو پیش کر دی گئی جو وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز کو دیں گے۔

    دوسری جانب ضلع کچہری کی عدالت نے نامزد ملزمان کا 4 روزہ جسمانی ریمارنڈ منظور کر لیا،جاں بحق خاتون کے والد کی مدعیت میں درج مقدمے میں دفعہ 322 کے ساتھ 316 بھی لگا دی گئی،ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کا کہنا ہے کہ دفعہ 316 کے بعد ملزمان کا چالان پیش کرنے میں مدد ملے گی۔

  • سانحہ بھاٹی گیٹ،وزیرِ اطلاعات پنجاب، ڈپٹی سپیکر،افسروں کیخلاف کاروائی کی درخواست

    سانحہ بھاٹی گیٹ،وزیرِ اطلاعات پنجاب، ڈپٹی سپیکر،افسروں کیخلاف کاروائی کی درخواست

    سانحہ بھاٹی گیٹ میں خاتون اور بچی کی مین ہول میں ہلاکت کا معاملہ,واقعے کو جعلی قرار دینےپروزیرِ اطلاعات پنجاب، ڈپٹی سپیکراور افسروں کےخلاف کاروائی کی درخواست دائرکر دی گئی

    لاہور ہائیکورٹ میں یہ درخواست شہری آمنہ ملک نے وکیل کےتوسط سے دائر کی،درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ وزیرِ اطلاعات اورڈپٹی سپیکرنے ماں بیٹی کے سانحے کو فیک نیوز قرار دیا۔وزیرِ اطلاعات اورڈپٹی سپیکرکا بیان شواہد سے متصادم ہے۔سرکاری بیانات نے ریسکیوکاروائی متاثر کیں۔شواہد کے باوجود متاثرہ شوہرکو غیر قانونی حراست میں رکھ کرہراساں کیا گیا۔جھوٹے سرکاری بیانات پر سائبر کرائم انکوائری کا حکم دیا جائے۔وزیرِ اطلاعات سمیت ذمہ دار عہدیداروں کے خلاف کارروائی کی جائے،ڈی سی لاہور، ماتحت افسران اور ایس ایچ او کے خلاف ایف آئی آر کے اندراج کا حکم دیا جائے۔ملک میں مین ہولز کو موت کا کنواں بننے سے روکنے کے لیے نیشنل سیفٹی آرڈیننس نافذ کرنے کا حکم دیا جائے

  • سانحہ بھاٹی گیٹ،ملزمان عدالت پیش،4 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

    سانحہ بھاٹی گیٹ،ملزمان عدالت پیش،4 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

    لاہور کی ضلع کچہری میں بھاٹی گیٹ کے قریب مین ہول میں گر کر ماں اور بیٹی کے جاں بحق ہونے کے افسوسناک واقعے کے مقدمے میں اہم پیش رفت سامنے آ گئی ہے۔ جوڈیشل مجسٹریٹ شفقت عباس نے پولیس کی درخواست پر محفوظ کیا گیا فیصلہ سناتے ہوئے نامزد ملزمان کو چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔

    واقعے کے مقدمے میں نامزد پروجیکٹ منیجر اصغر سندھو، احمد نواز، دانیال سمیت مجموعی طور پر پانچ ملزمان کو سخت سکیورٹی میں، ہتھکڑی لگا کر عدالت میں پیش کیا گیا۔ سماعت کے دوران پولیس نے مؤقف اختیار کیا کہ تفتیش کے لیے ملزمان کا جسمانی ریمانڈ ناگزیر ہے تاکہ واقعے کی ذمہ داری، غفلت کے پہلو اور ممکنہ مجرمانہ کوتاہیوں کا تعین کیا جا سکے۔پولیس حکام نے عدالت کو بتایا کہ ابتدائی تفتیش کے مطابق مین ہول کی حفاظت اور دیکھ بھال میں سنگین غفلت برتی گئی، جس کے نتیجے میں یہ دلخراش حادثہ پیش آیا۔ پولیس نے مزید کہا کہ ملزمان سے ریکارڈ کی برآمدگی، متعلقہ محکموں کے درمیان رابطوں، اور حفاظتی اقدامات سے متعلق حقائق جاننے کے لیے جسمانی ریمانڈ ضروری ہے۔

    دوسری جانب ملزمان کے وکیل نے جسمانی ریمانڈ کی سخت مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ ملزمان کو بلاوجہ ہراساں کیا جا رہا ہے اور تفتیش کے لیے جوڈیشل ریمانڈ کافی ہے۔ وکیل نے کہا کہ واقعہ ایک حادثہ ہے، جسے دانستہ جرم کے طور پر پیش کرنا ناانصافی ہے۔فریقین کے دلائل سننے کے بعد جوڈیشل مجسٹریٹ شفقت عباس نے پولیس کی درخواست منظور کرتے ہوئے ملزمان کو چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کرنے کا حکم دیا اور تفتیش میں پیش رفت رپورٹ آئندہ سماعت پر پیش کرنے کی ہدایت کی۔

  • بسنت سے قبل ہی پتنگ بازی،ڈور پھرنے سے دو افراد زخمی

    بسنت سے قبل ہی پتنگ بازی،ڈور پھرنے سے دو افراد زخمی

    لاہور میں بسنت سے قبل ہی پتنگ بازی شروع،لاہور میں گزشتہ روز موٹرسائیکل سواروں پر ڈور پھرنے کے 2 واقعات سامنے آئے،ویلنشیا ٹاؤن میں 10 سالہ بچے کے گلے پر ڈور پھرگئی،فیروزپور روڈ پر گجومتہ کے قریب گلے پر ڈور پھرنے سے نوجوان زخمی ہو گیا ،20سالہ فیصل منظور موٹر سائیکل پر جاتے ہوئے حادثے کا شکار ہوا،متاثرہ نوجوان طبی امداد کیلئے جنرل ہسپتال منتقل کر دیا گیا جسے طبی امداد دی گئی ۔خوش قسمتی سے نوجوان کی حالت خطرے سے ہے۔

    ویلنشیاء ٹاؤن،10 سالہ بچے کے گلے پر ڈور پھرنے کا معاملہ،ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نےسخت نوٹس لے لیا،مصطفی آفندی کو ویلنشیاء ٹاؤن میں پتنگ ڈور سے کٹ لگا،ڈور پھرنے کا واقعہ گزشہ شام 5 بجے کے قریب پیش آیا، زخمی نوجوان کو فوری ہسپتال منتقل کیا گیا،حالت خطرے سے باہر، طبی امداد کے بعد شام کو ہی ڈسچارج کر دیا گیا،ڈی آئی جی آپریشنز نےسیف سٹی کیمروں کی مدد سے پتنگ بازوں کی نشاندہی کا حکم دے دیا،ڈی آئی جی آپریشنز نےذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لانے کا حکم دے دیا، شہر بھر میں غیر قانونی پتنگ بازی کے خلاف کریک ڈاؤن مزید تیز کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ مقررہ تاریخوں کے علاوہ پتنگ بازی مکمل ممنوع ہے. صرف مقررہ تواریخ میں ہی پتنگ بازی کی اجازت ہو گی.پتنگ بازی ایکٹ کی خلاف ورزی جان لیوا جرم، زیروٹالرنس پالیسی ہے، پابندی پر عملدرآمد نہ کروانے والے افسران بھی جوابدہ ہوں گے،

  • بسنت پر سیاسی شخصیات کی تصاویر،نک دا کوکا گانے پر پابندی،نوٹس جاری

    بسنت پر سیاسی شخصیات کی تصاویر،نک دا کوکا گانے پر پابندی،نوٹس جاری

    لاہور ہائیکورٹ،بسنت کے موقع پر سیاسی شخصیات کی تصاویر اور نک دا کوکا گانے پر پابندی کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے دو فروری کو جواب طلب کر کیا،جسٹس اویس خالد نے پی ٹی آئی ایم پی اے شیخ امتیاز کی درخواست پر سماعت کی،عدالت نے کہا کہ کیا درخواست گزار یہ گانا گنگناتا ہے؟وکیل اظہر صدیق نے کہا کہ درخواست گزار بھی گائے گا، یہ گانا میں بھی گنگاؤں گا، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپکی آواز تو ویسے بھی بہت سریلی ہے،پابندی تو فحش گانوں پر لگائی گئی،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ نک دا کوکا گانے میں فحاشی کا کوئی عنصر موجود نہیں،

    لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ حکومت نے سیاسی شخصیات کی تصویر والی پتنگ اڑانے پر پابندی عائد کی،حکومت نے فحش گانوں کی فہرست میں نک دا کوکا کو بلاجواز شامل کیا،عدالت حکومت کے ان اقدامات کو کلعدم قرار دے،

  • سیوریج لائن حادثہ، لاہور ہائیکورٹ کا انڈ گراؤنڈ پارکنگ منصوبہ روکنے کا حکم

    سیوریج لائن حادثہ، لاہور ہائیکورٹ کا انڈ گراؤنڈ پارکنگ منصوبہ روکنے کا حکم

    لاہور کے علاقے میں سیوریج لائن میں گر کر ماں بیٹی کے جاں بحق ہونے کے افسوسناک واقعے پر لاہور ہائیکورٹ نے ٹیکسالی گیٹ اور شیرانوالہ گیٹ کے علاقوں میں جاری انڈ گراؤنڈ پارکنگ پروجیکٹ کو فوری طور پر روکنے کا حکم دے دیا ہے۔

    لاہور ہائیکورٹ میں اس سانحے کے خلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ انڈ گراؤنڈ پارکنگ منصوبے کے دوران حفاظتی انتظامات نہ ہونے کے باعث شہریوں کی زندگیاں شدید خطرے میں ڈال دی گئی ہیں، جس کا نتیجہ ماں بیٹی کی جانوں کے ضیاع کی صورت میں سامنے آیا۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ شہری علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں کے دوران حفاظتی اقدامات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا اور کسی بھی منصوبے کی وجہ سے انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالنا ناقابلِ قبول ہے۔سماعت کے دوران لاہور ہائیکورٹ نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب امجد پرویز کو پیر کے روز ذاتی حیثیت میں عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے ہدایت کی کہ وہ واقعے سے متعلق صوبائی حکومت کا واضح مؤقف اور ذمہ داران کے خلاف کی گئی کارروائی کی تفصیلات پیش کریں۔

    اس کے ساتھ ہی عدالت نے ڈی جی پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی (پی ایچ اے) کو بھی آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دے دیا ہے تاکہ منصوبے کی منظوری، نگرانی اور حفاظتی اقدامات سے متعلق مکمل ریکارڈ عدالت کے سامنے رکھا جا سکے۔عدالت نے مزید کہا کہ اگر یہ ثابت ہوا کہ منصوبے کے دوران غفلت یا لاپرواہی برتی گئی تو ذمہ دار افسران اور متعلقہ اداروں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔لاہور ہائیکورٹ نے کیس کی مزید سماعت پیر تک ملتوی کرتے ہوئے واقعے سے متعلق مکمل رپورٹ طلب کر لی ہے۔

  • بھاٹی گیٹ حادثہ، آنکھوں سے بیوی ،بیٹی کو گرتے دیکھا،پولیس نے تشدد کیا،شوہر

    بھاٹی گیٹ حادثہ، آنکھوں سے بیوی ،بیٹی کو گرتے دیکھا،پولیس نے تشدد کیا،شوہر

    لاہور کے تاریخی علاقے بھاٹی گیٹ میں داتا دربار کے قریب سیوریج لائن میں گر کر جاں بحق ہونے والی خاتون اور اس کی کمسن بچی کے واقعے نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔

    جاں بحق خاتون کے شوہر غلام مرتضیٰ نے پولیس پر الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے کی اطلاع دینے پر انہیں ہی حراست میں لے لیا گیا، تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور بیوی و بچی کے قتل کا جھوٹا اعتراف کرانے کے لیے دباؤ ڈالا جاتا رہا۔جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے غلام مرتضیٰ نے بتایا کہ جب وہ اپنی اہلیہ اور بچی کے سیوریج لائن میں گرنے کی اطلاع دینے کے لیے پولیس اسٹیشن پہنچے تو پولیس نے ان کی بات سننے کے بجائے انہیں گرفتار کر لیا۔ ان کے مطابق ایس پی بلال اور ایس ایچ او زین نے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا اور بار بار یہ کہا جاتا رہا کہ وہ سچ نہیں بول رہے۔غلام مرتضیٰ کا کہنا تھا کہ ان کی اہلیہ کے ساتھ کسی قسم کی لڑائی یا تلخ کلامی نہیں ہوئی تھی، وہ اہلِ خانہ کے ہمراہ سیر کے لیے آئے تھے۔ انہوں نے پولیس کو بتایا کہ انہوں نے اپنی آنکھوں سے بیوی اور بچی کو سیوریج لائن میں گرتے دیکھا، تاہم پولیس افسران ان کے بیان کو جھوٹ قرار دیتے رہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ پولیس نے ان کا موبائل فون بھی تحویل میں لے لیا، جبکہ واقعے کے وقت ان کا ایک بیٹا اپنی والدہ کے پاس موجود تھا۔

    متاثرہ شخص نے مزید الزام عائد کیا کہ پولیس افسران مسلسل یہ کہتے رہے کہ وہ یہ بیان دے کہ اس نے خود اپنی بیوی اور بچی کو قتل کیا ہے۔ غلام مرتضیٰ کے مطابق پولیس زبردستی دونوں کے قتل کا اعتراف کروانا چاہتی تھی، جبکہ ان کے کزن تنویر کو بھی حراست میں رکھا گیا اور دونوں پر دباؤ ڈالا جاتا رہا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز بھاٹی گیٹ کے علاقے میں داتا دربار کے قریب ایک خاتون اور اس کی بچی کے سیوریج لائن میں گرنے کی اطلاعات سامنے آئیں، تاہم ابتدائی طور پر پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں نے اس واقعے کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایسا کوئی حادثہ پیش ہی نہیں آیا۔ بعد ازاں تقریباً دس گھنٹے کی تاخیر کے بعد خاتون اور اس کی بچی کی لاشیں جائے وقوعہ سے تقریباً تین کلومیٹر دور سے برآمد ہوئیں .

  • میانوالی، سی ٹی ڈی کی کاروائی،6 دہشتگرد ہلاک

    میانوالی، سی ٹی ڈی کی کاروائی،6 دہشتگرد ہلاک

    میانوالی میں چاپڑی ڈیم کے قریب کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) اور دہشتگردوں میں فائرنگ کے تبادلے میں 6 دہشتگرد اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے۔

    ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق سی ٹی ڈی نے دہشتگردوں کی گرفتاری کے لیے چاپڑی ڈیم کے قریب چھاپہ مارا تھا کہ اسی دوران دہشتگردوں نے سی ٹی ڈی ٹیم پر فائرنگ کردی، 6 خطرناک دہشتگرد اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے جبکہ 8 دہشتگرد اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہو گئی، دہشتگردوں سے ایک خودکش جیکٹ، 3 دستی بم، 3 ایس ایم جیز، 200 گولیاں اور بارودی مواد بھی برآمد ہوا ہے۔

    سی ٹی ڈی حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک دہشتگردوں کی شناخت کا عمل جاری ہے جبکہ فرار ہونے والے دہشتگردوں کی گرفتاری کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

  • بسنت  کی واپسی سے شہر میں خوشیوں اور کاروباری سرگرمیوں کی بہار

    بسنت کی واپسی سے شہر میں خوشیوں اور کاروباری سرگرمیوں کی بہار

    لاہور میں بسنت فیسٹیول کی خوشیاں ایک بار پھر لوٹ آنے سے نہ صرف شہریوں میں جوش و خروش پایا جا رہا ہے بلکہ اس سے وابستہ مختلف کاروبار بھی خوب چمک اُٹھے ہیں۔ شہر بھر میں رنگ برنگی پتنگوں، ڈور، روشنیوں اور دیگر سامان کی خریداری میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

    بسنت کی راتوں کو مزید یادگار بنانے کے لیے شہری خصوصی طور پر سرچ لائٹس کی خریداری کر رہے ہیں۔ مختلف مارکیٹوں میں چھوٹی، بڑی، جدید اور منفرد ڈیزائنز والی سرچ لائٹس دستیاب ہیں جو چھتوں اور کھلے مقامات پر پتنگ بازی کے دوران استعمال کی جا رہی ہیں۔ دکانداروں کے مطابق ان سرچ لائٹس کی قیمتیں 2 ہزار روپے سے لے کر 30 ہزار روپے تک ہیں، تاہم بسنت کی آمد کے ساتھ ہی ان کی فروخت میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    دکانداروں کا کہنا ہے کہ کئی سال بعد بسنت سے وابستہ کاروبار کو دوبارہ سانس لینے کا موقع ملا ہے۔ پتنگ فروش، ڈور بنانے والے، لائٹس اور دیگر سجاوٹی سامان کے تاجر اس بار خاصی پرامید نظر آ رہے ہیں اور ان کے مطابق فروخت میں گزشتہ برسوں کے مقابلے میں واضح فرق دیکھا جا رہا ہے۔

    دوسری جانب شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ اس بار بسنت کو نئے، مختلف اور محفوظ انداز میں منانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ احتیاطی تدابیر اختیار کر کے اور قانون کی پاسداری کرتے ہوئے بسنت منانا نہ صرف خوشیوں کو دوبالا کرے گا بلکہ اس بات کو بھی یقینی بنائے گا کہ آئندہ کبھی اس تہوار پر پابندی نہ لگےشہریوں اور تاجروں دونوں کا ماننا ہے کہ اگر بسنت کو ذمہ داری اور نظم و ضبط کے ساتھ منایا گیا تو یہ تہوار نہ صرف لاہور کی ثقافتی شناخت کو مزید مضبوط کرے گا بلکہ مقامی معیشت کے لیے بھی ایک مثبت اور خوش آئند ثابت ہوگا۔