Baaghi TV

Category: لاہور

  • وزیر اعلیٰ پنجاب  کی گھروں کی توسیع کے لیے بلاسود قرضوں کی منظوری

    وزیر اعلیٰ پنجاب کی گھروں کی توسیع کے لیے بلاسود قرضوں کی منظوری

    لاہور: وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے میں رہائشی مسائل کے حل کے لیے ایک اور اہم اقدام اٹھاتے ہوئے گھروں کی توسیع کے لیے بلاسود قرضوں کے اجراء کی منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے سے جوائنٹ فیملی سسٹم میں رہنے والے ہزاروں خاندانوں کو براہِ راست فائدہ پہنچے گا۔

    وزیر اعلیٰ مریم نواز کی زیر صدارت ’’اپنی چھت اپنا گھر‘‘ پروجیکٹ سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں منصوبے کی پیش رفت، اہداف اور آئندہ حکمتِ عملی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں گھروں کی توسیع کے لیے بلا سود قرضوں کے اجرا کی باضابطہ منظوری دی گئی، جس کے بعد اب مشترکہ خاندانوں میں رہائش پذیر افراد اپنے موجودہ گھروں کی توسیع کے لیے اس منصوبے کے تحت قرض حاصل کر سکیں گے۔اجلاس کے دوران جون 2026ء تک 1 لاکھ 60 ہزار گھروں کی تعمیر کا ہدف مقرر کیا گیا، جسے وزیر اعلیٰ نے قابلِ عمل قرار دیتے ہوئے متعلقہ اداروں کو رفتار تیز کرنے کی ہدایت کی۔ مریم نواز نے کہا کہ حکومت پنجاب عام شہری کو باعزت اور محفوظ چھت فراہم کرنے کے لیے ہر ممکن وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔

    اجلاس میں ’’اپنی زمین اپنا گھر‘‘ منصوبے کے تحت 1 ہزار 531 پلاٹوں کی الاٹمنٹ کی بھی منظوری دی گئی، جس سے بے گھر اور کم آمدن افراد کے لیے گھر بنانے کا خواب حقیقت میں بدلنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔حکام نے اجلاس کو بتایا کہ اس وقت پنجاب بھر میں ’’اپنی چھت اپنا گھر‘‘ پروجیکٹ کے تحت 53 ہزار 843 مکانات زیر تعمیر ہیں، جو منصوبے کی کامیابی کا واضح ثبوت ہیں۔ مزید بتایا گیا کہ صوبے میں اب تک 164 ارب 66 کروڑ روپے کے ریکارڈ بلاسود قرضے فراہم کیے جا چکے ہیں، جو ملکی تاریخ میں اپنی نوعیت کا ایک بڑا اقدام ہے۔وزیر اعلیٰ مریم نواز نے اس موقع پر کہا کہ گھر صرف اینٹوں کا ڈھانچہ نہیں بلکہ خاندان کے تحفظ، عزت اور مستقبل کی ضمانت ہوتا ہے۔ انہوں نے ہدایت دی کہ قرضوں کی فراہمی کے عمل کو مزید شفاف، تیز اور آسان بنایا جائے تاکہ مستحق افراد بلا رکاوٹ فائدہ اٹھا سکیں۔

  • جوہر ٹاؤن لاہور سے نجی کالج کے سی ای او اغوا

    جوہر ٹاؤن لاہور سے نجی کالج کے سی ای او اغوا

    لاہور کے علاقے جوہر ٹاؤن سے معروف تعلیمی ادارے KIPS ایجوکیشن سسٹم کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عابد وزیر خان کے مبینہ اغوا کا مقدمہ تھانہ جوہر ٹاؤن میں درج کر لیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق یہ مقدمہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 365 کے تحت درج کیا گیا ہے۔

    پولیس ریکارڈ کے مطابق مقدمہ نمبر 122/26 تھانہ جوہر ٹاؤن ضلع لاہور میں درج کیا گیا، جس کی ابتدائی اطلاعی رپورٹ 21 جنوری 2026 کو رات 11 بج کر 40 منٹ پر درج کی گئی۔ واقعہ کی اطلاع KIPS کے ڈائریکٹر فنانس طاہر وزیر خان نے پولیس کو دی، جو مغوی عابد وزیر خان کے حقیقی بھائی بھی ہیں۔درخواست گزار کے مطابق عابد وزیر خان 21 جنوری کو شام 6 بج کر 34 منٹ پر KIPS کے کارپوریٹ آفس واقع 1.5/D مین بلیوارڈ جوہر ٹاؤن سے اپنی سفید رنگ کی ٹویوٹا کیمری (نمبر 534/18 LEF) خود ڈرائیو کرتے ہوئے روانہ ہوئے۔ کچھ ہی دیر بعد انہوں نے ادارے کی جنرل منیجر اسکولز میڈم لبنیٰ کو فون کیا۔دورانِ فون کال میڈم لبنیٰ نے بتایا کہ گاڑی کے شیشے پر زور سے دستک کی آواز آئی اور ایک نامعلوم شخص کی آواز سنائی دی جس نے کہا کہ "تم نے میری گاڑی کے ساتھ ایکسیڈنٹ کر دیا ہے”۔ اس کے فوراً بعد فون کال منقطع ہو گئی اور دوبارہ رابطہ ممکن نہ ہو سکا۔

    درخواست گزار کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے بعد ان کے بھائی سے کسی قسم کا رابطہ نہیں ہو سکا، جس سے یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ نامعلوم افراد نے منصوبہ بندی کے تحت انہیں اغوا کر لیا ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ مغوی کی جان کو شدید خطرہ لاحق ہے۔پولیس کے مطابق یہ مقدمہ اے ایس آئی ارشد اقبال کی جانب سے درج کیا گیا، جبکہ ابتدائی تفتیش کے بعد کیس کو مزید کارروائی کے لیے انویسٹی گیشن ونگ (INV) کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کے مقام کے اطراف نصب سیف سٹی کیمروں اور دیگر شواہد کی مدد سے ملزمان کی تلاش کی جا رہی ہے۔

    درخواست گزار نے پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے بھائی کو فوری طور پر بازیاب کرایا جائے اور اغوا میں ملوث عناصر کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے۔ لاہور پولیس کے اعلی افسران تفتیش میں لگ گئے،لاہور پولیس نے اعلی افسران نے سیف سٹی میں کیمروں کی نگرانی شروع کردی،چار ایس پیز کی نگرانی میں مغوی کی تلاش کیلئے ٹیمیں متحرک ہییں

  • ‎بچی پر شیرنی کے حملے کا معاملہ: 11 غیر قانونی شیر برآمد، ملزمان گرفتار

    ‎بچی پر شیرنی کے حملے کا معاملہ: 11 غیر قانونی شیر برآمد، ملزمان گرفتار

    ‎لاہور میں شیرنی کے بچی پر حملے کے واقعے میں مزید پیش رفت سامنے آ گئی ہے۔ خفیہ اطلاع پر ایس پی اقبال ٹاؤن کی سربراہی میں بڑی کارروائی کرتے ہوئے پولیس نے 11 غیر قانونی شیروں کو تحویل میں لے لیا جبکہ ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا۔
    ‎ترجمان ڈی آئی جی آپریشنز کے مطابق برآمد کیے گئے جانوروں میں 5 شیرنیاں، 3 شیر اور 3 شیر کے بچے شامل ہیں۔ یہ شیر نواں کوٹ کے علاقے میں واقع ایک فیکٹری میں رکھے گئے تھے جہاں گراؤنڈ فلور پر ایمبرائیڈری کا کام جاری تھا جبکہ فرسٹ فلور پر شیروں کو رکھا گیا تھا۔
    ‎ترجمان کے مطابق ملزمان چند ماہ قبل شیخوپورہ سے شیروں کو لاہور منتقل کر کے لائے تھے تاہم ان کے پاس لاہور میں خطرناک جنگلی جانور رکھنے کا کوئی لائسنس موجود نہیں تھا۔
    ‎پولیس نے ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے جبکہ تمام شیروں کو محکمہ وائلڈ لائف کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے کامیاب کارروائی پر ایس پی اقبال ٹاؤن ڈاکٹر عمر اور ان کی پوری ٹیم کو شاباش دی ہے۔
    ‎ترجمان کا کہنا ہے کہ ڈی آئی جی آپریشنز نے گزشتہ روز بچی کے زخمی ہونے کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے شہر بھر میں وسیع پیمانے پر سرچ آپریشن کا حکم دیا تھا۔ حملے میں ملوث شیرنی اور اس کے مالکان کو پہلے ہی گرفتار کیا جا چکا ہے۔
    ‎ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کے مطابق ملزمان خطرناک جانوروں کے غیر قانونی کاروبار میں ملوث تھے، جس سے شہریوں کی زندگیوں کو سنگین خطرات لاحق تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس عمل سے جانوروں کی جان بھی خطرے میں ڈالی گئی۔ معاملے میں قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔

  • لاہور پریس کلب پر شب خون مارنے کی اجازت نہیں دیں گے:ایگزیکٹو کونسل پی یو جے

    لاہور پریس کلب پر شب خون مارنے کی اجازت نہیں دیں گے:ایگزیکٹو کونسل پی یو جے

    وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کے لاہور پریس کلب کے انتخابات پر اثر انداز ہونے اور صحافیوں کی تضحیک کرنے پر پنجاب یونین آف جرنلسٹس کی ایگزیکٹو کونسل کا اجلاس جنرل سیکرٹری قاضی طارق عزیز کی زیر صدارت منعقد ہوا ۔اجلاس میں وزیر اطلاعات کے غیر شائستہ اور اپنے منصب کے منافی طرز تکلم اور انتہائی سطحی الزامات کی پرزور مذمت کی گئی ۔

    ایگزیکٹو کونسل کا کہنا تھا کہ لاہور پریس کلب آزادیء اظہار کی علامت ہونے کے ساتھ ساتھ کسی بھی سیاسی سوچ کی عکاسی نہیں کرتا ۔یہ آزاد صحافت اور انسانی حقوق کی تحریکوں کا وہ مرکز ہے جو کبھی سیاسی یا حکومتی دبائوکا شکار نہیں ہوا ۔عظمیٰ بخاری نے انتہائی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ جیسے لاہور پریس کلب منہاج برنا یا نثار عثمانی کے نظریات کا محافظ ہونے کی بجائے سرکارکا گماشتہ ہے۔ ایگزیکٹو کونسل نے کہا کہ ہم محترمہ عظمیٰ بخاری کو یاد دلانا چاہتے ہیں کہ یہ ادارہ اس وقت بھی آزادی ء صحافت کے علمبرداروں کا گھر تھا جب وہ شریف خاندان پر تبرہ کیا کرتی تھیں اور یہ اب بھی آزادی اظہار رائے کی علامت ہے جب انہیں شریف خاندان درجہ ولایت پر فائز دکھائی دیتا ہے اور وہ بھٹو تاریخ کے کٹہرے میں نظر آتا ہے جس کے نظریات کبھی ان کی سوچ کا مظہر ہوا کرتے تھے ۔ جنرل سیکرٹری قاضی طارق عزیز نے کہا کہ لاہور پریس کلب نہ تو کل کسی سیاسی جماعت کا گماشتہ تھا اور نہ ہی آج کوئی سیاسی قوت یا سرکار اس پر اثر انداز ہوسکتی ہے ،ہم کل بھی سچائی کا آئینہ تھے اور آج بھی اس آئینے کو دھندلا نہیں ہونے دیا۔اگر محترمہ کو اس آئینے میں اپنے چہرے کے داغ دکھائی دیتے ہیں تو اس میں قصور آئینے کا نہیں بلکہ اخلاقیات سے گرنے کی اس کالک کا ہے جس میں مسلسل کچھ کردار اپنے ضمیر ، روح اور وجود تک لتھڑے ہوئے ہیں ۔اس آئینے کو کالی بھیڑ یا ایسا کوئی اور لقب دینا یا اس کے عکس کو برا کہنا درحقیقت اپنے اندر کی گندگی پر تبصرہ کرنا ہے ۔ایگزیکٹو کونسل نے متفقہ طور پر یہ قرار داد منظور کی کہ نابالغ سیاسی رہنما اور حادثاتی وزیر اطلاعات کو کسی بھی طور پر آزادی ء صحافت کی علامت لاہورپریس کلب پر شب خون مارنے کی اجازت نہیں دیں گے ۔یہ کل بھی آزادانہ سوچ اور اظہار رائے رکھنے والوں کا مرکز تھا اور انشا اللہ آئندہ بھی سچائی کی علامت کے طور پر جانا جائے گا ۔ جب تک نثار عثمانی اور منہاج برنا کی سوچ کے وارث اور قلم کی حرمت کے پاسبان زندہ ہیں ،لاہور پریس کلب کسی سیاسی جماعت کا میڈیا سیل نہیں بنے گا ۔اس موقع پر یہ بھی کہا گیا کہ جب وزیر اطلاعات یہ مغلظات بک رہی تھیں تو اس وقت صدر لاہور پریس کلب محترم ارشد انصاری وہاں تشریف فرما تھے لیکن ان کی جانب سے نہ تو لاہور پریس کلب کے معزز ممبران کو کالی بھیڑیں یا شرپسند کہنے پر ردعمل کا اظہار کیا گیا ، نہ ہی یہ اعتراض اٹھایا گیا کہ آپ تو سیاستدان ہیں لاہور پریس کلب کے انتخابات یا کسی بھی صحافتی تنظیم کے انتخاب کی ڈیڈ لائن کیسے دے سکتی ہیں ۔ایگزیکٹو کونسل نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں اور عہدے دار ہمارے لئے برابر ہیں ۔ہم کوریج کے معاملے یا اظہار رائے کے حوالے سے کوئی تفریق نہیں رکھتے۔لہٰذا واضح کیا جاتا ہے کہ اہل قلم یا پاسبان حرف و حق کا کردار پوری ذمہ داری سے نبھاتے رہیں گے ۔

    ایگزیکٹو کونسل نے قائد پاکستان مسلم لیگ (ن) محترم میاں محمد نواز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز کو بھی اس معاملے پر نوٹس لینے کا کہا ہے تاکہ صحافتی اداروں کی یہ روایت برقرار رہ سکے کہ وہ کسی سیاسی دبائو میں آئے بغیر حق گوئی کا فرض نبھائیں۔اجلاس کے آخر پر یہ بھی کہا گیا کہ آزادی صحافت کے سپاہی اپنے حقوق کا تحفظ کرنے کیلئے ہر حد تک جائیں گے اور کسی بھی طور دبائو میں آئے بغیر وہ فرض نبھائیں گے جو اس قوم نے ان کے سپرد کیا ہے ۔

  • پنجاب یونیورسٹی میں  درختوں کی کٹائی، شیخ زید اسلامک سنٹر کے ڈائریکٹر کے خلاف مقدمہ

    پنجاب یونیورسٹی میں درختوں کی کٹائی، شیخ زید اسلامک سنٹر کے ڈائریکٹر کے خلاف مقدمہ

    
پنجاب یونیورسٹی میں غیر قانونی طور پر درختوں کی کٹائی کے واقعے پر جوڈیشل واٹر اینڈ انوائرمنٹ کمیشن نے شیخ زید اسلامک سنٹر کے ڈائریکٹر اور متعلقہ ٹھیکیدار کے خلاف چوری کا مقدمہ درج کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
    چیئرمین جوڈیشل واٹر اینڈ انوائرمنٹ کمیشن کی زیر صدارت سماعت کے دوران کمیشن نے واضح کیا کہ ہائیکورٹ کے اسٹے آرڈر کے باوجود درختوں کی کٹائی کی گئی، جس پر توہین عدالت کی کارروائی بھی شروع کر دی گئی ہے۔
    ‎کمیشن کے مطابق کٹی گئی لکڑی کی مالیت کروڑوں روپے میں ہے، جبکہ مبینہ فروخت صرف 5 لاکھ 50 ہزار روپے میں کی گئی۔ کمیشن نے وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی کو تین روز میں انکوائری مکمل کرنے کی ہدایت دی اور معاملے کو بدعنوانی کے پہلو سے اینٹی کرپشن کو بھی بھیجنے کا حکم دیا۔
    ‎کمیشن نے کہا کہ مبینہ طور پر شفاف نیلامی اور قانونی تقاضے پورے کیے بغیر لکڑی فروخت کی گئی، جس سے ماحولیات اور سرکاری اثاثہ جات کو شدید نقصان پہنچا۔ عدالتی احکامات اور عوامی مفاد کی خلاف ورزی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

  • صحافی کالی بھیڑیں نہیں،عظمیٰ بخاری  معافی مانگیں،ورنہ الیکشن نہیں ہوں‌گے،اعظم چوہدری

    صحافی کالی بھیڑیں نہیں،عظمیٰ بخاری معافی مانگیں،ورنہ الیکشن نہیں ہوں‌گے،اعظم چوہدری

    لاہور پریس کلب کے انتخابات میں صدر کے امیدوار، سینئر صحافی اعظم چوہدری نے پنجاب کی صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کی جانب سے صحافیوں کو کالی بھیڑیں اور شرپسند کہنے ،لاہور پریس کلب کے انتخابات دسمبر سے جنوری تک کروانے کے فیصلے پر سخت ردعمل دیا ہے

    اعظم چوہدری کا کہنا تھاکہ عظمیٰ بخاری نے پریس کانفرنس کی اور پریس ریلیز جاری کی، صحافیوں کو شرپسند ،کالی بھیڑیں کہا، یہ بھی کہا کہ انتخابات پریس کلب کے انکی مرضی کے مطابق دسمبر اور جنوری میں ہوں گے، آپ کو کیسے یہ حق مل گیا کہ مداخلت کریں،صحافیوں کی تقسیم کریں، پریس کلب کے انتخابات کا فیصلہ کریں، صحافیوں کو کالی بھیڑیں کہیں ہم الیکشن لڑیں،ہاریں جیتیں یہ صحافیوں کا اندرونی معاملہ ہے، ہم الیکشن لڑ رہے تھے ، ایک سیدھا ایجنڈہ ہوتا ہے کمیونٹی کے مفاد کا، روزگار کے تحفظ کا ،پلاٹوں کا، یہ اب انہوں نے نیا ایجنڈہ پیدا کر دیا، کہ صحافیوں کو کالی بھیڑیں کہا،شرپسند کہا، یہ انتخاباب تب ہو گا جب حکومت معافی نہیں مانگے گی اور صدر جنہوں نے پریس ریلیز جاری کروائی جب تک وہ معافی نہیں مانگیں گے تب تک ہم انتخابات نہیں ہونے دیں گے

  • لاہور پریس کلب انتخابات،عظمیٰ بخاری کی مداخلت،صحافی سیخ پا،عبدالمجید ساجدبھی خاموش نہ رہ سکے

    لاہور پریس کلب انتخابات،عظمیٰ بخاری کی مداخلت،صحافی سیخ پا،عبدالمجید ساجدبھی خاموش نہ رہ سکے

    لاہور پریس کلب کے انتخابات سے دو روز قبل پنجاب کی صوبائی وزیر اطلاعات نے لاہور پریس کلب کے سابق صدر ارشد انصاری کو اجلاس میں مدعو کر لیا، ارشد انصاری اس بار بھی صدر کے امیدوار ہیں،جس پر لاہور کے صحافیوں نے عظمیٰ بخاری پر لاہور پریس کلب میں مداخلت کا الزام عائد کیا اور کہا کہ عظمیٰ بخاری کو چاہئے کہ خود لاہور پریس کلب کی باڈی نامزد کر کے نوٹفکیشن جاری کر دیں.

    وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمٰی بخاری کی زیر صدارت جرنلسٹ ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کے بورڈ آف گورنرز کا 14واں اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں سیکرٹری اطلاعات پنجاب طاہر رضا ہمدانی، صدر لاہور پریس کلب ارشد انصاری، ایم پی اے بلال یامین ستی، ڈپٹی سیکرٹری عدنان رشید، پاکستان جرنلسٹس فاؤنڈیشن کے اسد حسین اور محمد یٰسین نے شرکت کی۔اجلاس میں جرنلسٹ ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کے بورڈ نے متفقہ طور پر صحافی کالونی فیز ٹو کے ماسٹر پلان کی منظوری دے دی۔سیکرٹری اطلاعات پنجاب طاہر رضا ہمدانی نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ہاؤسنگ کالونی میں جدید سہولیات کے تحت اسکول، 40 فٹ سے 100 فٹ چوڑی سڑکیں، کمرشل ایریاز اور پارکس تعمیر کیے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ 400 ملین روپے روڈا کو ادا کیے جا چکے ہیں جبکہ زمین کی خریداری کا عمل تقریباً مکمل کر لیا گیا ہے۔ زمین سیکشن فور کے تحت روڈا سے حاصل کی جا رہی ہے۔وزیر اطلاعات پنجاب عظمٰی بخاری نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صحافی کالونی فیز ٹو کے تحت 5 مرلہ کے 3200 پلاٹس صحافیوں کو فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف لاہور کے 3200 صحافیوں کو اپنی چھت فراہم کرنے جا رہی ہیں اور فروری میں وزیراعلیٰ خود صحافیوں کو الاٹمنٹ لیٹرز دیں گی۔عظمٰی بخاری نے واضح کیا کہ پنجاب حکومت خلوصِ نیت سے صحافیوں اور ان کے خاندانوں کے لیے رہائشی سہولت فراہم کر رہی ہے، تاہم بدقسمتی سے کچھ عناصر صحافت کے لبادے میں اپنے ہی صحافی بھائیوں کے مستقبل کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے عناصر کو شرم آنی چاہیے جو صحافیوں کے بچوں کے مستقبل کو ذاتی سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ ان عناصر کو واضح پیغام ہے کہ صحافیوں کی چھت پر گندی سیاست نہ کی جائے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند دنوں سے ایک سیاسی جماعت کے میڈیا ونگ کی جانب سے صحافی کالونی فیز ٹو کے حوالے سے منفی پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے، تاہم آئندہ چند دنوں میں ایسے عناصر کو منہ کی کھانی پڑے گی۔ اس موقع پر انہوں نے لاہور پریس کلب کی موجودہ انتظامیہ کے تعاون کو بھی سراہا۔وزیر اطلاعات نے بتایا کہ صحافی کالونی فیز ٹو کے 1400 صحافی ممبران اپنے ڈویلپمنٹ چارجز کے ایڈوانس جمع کروا چکے ہیں جبکہ وزارت اطلاعات پنجاب کے 635 ملازمین نے بھی ایڈوانس چارجز جمع کروا دیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ باقی ممبران بھی جلد اپنے واجبات جمع کروائیں۔عظمٰی بخاری نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ 3200 صحافیوں اور ان کے خاندانوں کے مستقبل کے ساتھ کسی کو کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ نان ممبران کی بیلٹنگ کا عمل مکمل شفاف طریقے سے کیا جائے گا اور مافیا یا پریشر گروپس بنا کر حکومت کو بلیک میل نہیں کیا جا سکتا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ راولپنڈی اور ملتان کی جرنلسٹ ہاؤسنگ اسکیموں کے معاملات آئندہ اجلاس تک مؤخر رہیں گے جبکہ ملتان پریس کلب سے کونسل ممبران صحافیوں کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا گیا ہے۔ مزید برآں، لاہور کی صحافی کالونی میں ایل ڈی اے کے کمرشل پلان کو بھی اپنانے کی منظوری دی گئی۔آخر میں وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمٰی بخاری نے کہا کہ تمام پریس کلبز دسمبر سے جنوری کے دوران اپنے انتخابات کرانے کے پابند ہوں گے-

    عظمیٰ بخاری کے بیان اور امیدوار برائے صدر ارشد انصاری کے اجلاس میں شرکت پر لاہور کے صحافیوں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے، امیدوار برائے سیکرٹری جنرل لاہور پریس کلب عبدالمجید ساجد نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ لاہور پریس کلب کے انتخابات میں پنجاب حکومت کی اس قدر کھلی مداخلت سے تو بہتر تھا کہ وہ کلب میں پنجاب اسمبلی کے ممبرز پر مشتمل اپنا پینل ہی دے دیتی،پستی کا حد سے گزرنا دیکھو

    مختلف واٹس ایپ گروپس میں بھی صحافیوں نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے اور عظمیٰ بخاری کے عمل کو لاہور پریس کلب کے انتخابات میں کھلی مداخلت قرار دیتے ہوئے کہا کہ عظمیٰ بخاری ڈی جی پی آر سے نوٹفکیشن جاری کروا کر پریس کلب کی باڈی منتخب کر دیں.

  • لاہور: پالتو شیرنی کے حملے میں 8 سالہ بچی زخمی

    لاہور: پالتو شیرنی کے حملے میں 8 سالہ بچی زخمی

    لاہور کے علاقے بھیکے وال پنڈ میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں گھر میں پالی گئی شیرنی کے حملے کے نتیجے میں 8 سالہ معصوم بچی زخمی ہو گئی۔

    پولیس کے مطابق بچی کو کان، گردن اور ٹانگ پر گہرے زخم آئے، جس کے بعد اسے فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں اس کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب شیرنی کسی طرح قابو سے باہر ہو گئی اور قریب موجود بچی پر حملہ کر دیا۔ زخمی بچی کے اہلِ خانہ نے فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی، جس پر پولیس اور محکمہ وائلڈ لائف کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔

    ترجمان ڈی آئی جی آپریشنز کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ایک شہری نے غیر قانونی طور پر گھر میں شیرنی پال رکھی تھی۔ واقعے کے بعد ملزمان شیرنی کو ساتھ لے کر فرار ہو گئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ شیرنی کے مالک کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں اور جلد ملزمان کو قانون کی گرفت میں لے لیا جائے گا۔

    محکمہ وائلڈ لائف کے حکام نے واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگلی جانوروں کو گھروں میں پالنا نہ صرف غیر قانونی بلکہ انسانی جانوں کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وائلڈ لائف قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

  • 
سابق ڈی ایس پی عثمان حیدر کی بیوی اور بیٹی کے دوبارہ پوسٹ مارٹم کے لیے قبر کشائی

    
سابق ڈی ایس پی عثمان حیدر کی بیوی اور بیٹی کے دوبارہ پوسٹ مارٹم کے لیے قبر کشائی

    
لاہور میں سابق ڈی ایس پی عثمان حیدر کی بیوی اور بیٹی کے قتل کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں دونوں مقتولہ کے دوبارہ پوسٹ مارٹم کے لیے قبر کشائی کی گئی۔
    پولیس کے مطابق مقتولہ خاتون اور اس کی بیٹی کی قبریں کھود کر لاشیں نکالی گئیں، جن سے جسمانی نمونے حاصل کر کے فرانزک تجزیے کے لیے بھجوا دیے گئے ہیں۔
    ‎پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر دونوں کو لاوارث سمجھ کر سپرد خاک کیا گیا تھا، تاہم بعد میں ملزم کے انکشاف پر قتل اور لاشیں پھینکنے کے مقام کا علم ہوا۔
    ‎برکی پولیس کے مطابق مقتولہ خاتون کی بہن کو مقدمے کا مدعی بنایا گیا ہے، جبکہ قبر کشائی کے بعد دونوں میتیں ورثا کے حوالے کر دی گئی ہیں۔ میتوں کی تدفین اوچ شریف میں کی جائے گی۔
    ‎حکام کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم رپورٹس موصول ہونے کے بعد کیس میں مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور تفتیش جاری ہے۔

  • 
سابق ڈی ایس پی عثمان حیدر کی بیوی اور بیٹی کے دوبارہ پوسٹ مارٹم کے لیے قبر کشائی

    
لاہور میں سابق ڈی ایس پی عثمان حیدر کی بیوی اور بیٹی کے قتل کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں دونوں مقتولہ کے دوبارہ پوسٹ مارٹم کے لیے قبر کشائی کی گئی۔
    پولیس کے مطابق مقتولہ خاتون اور اس کی بیٹی کی قبریں کھود کر لاشیں نکالی گئیں، جن سے جسمانی نمونے حاصل کر کے فرانزک تجزیے کے لیے بھجوا دیے گئے ہیں۔
    ‎پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر دونوں کو لاوارث سمجھ کر سپرد خاک کیا گیا تھا، تاہم بعد میں ملزم کے انکشاف پر قتل اور لاشیں پھینکنے کے مقام کا علم ہوا۔
    ‎برکی پولیس کے مطابق مقتولہ خاتون کی بہن کو مقدمے کا مدعی بنایا گیا ہے، جبکہ قبر کشائی کے بعد دونوں میتیں ورثا کے حوالے کر دی گئی ہیں۔ میتوں کی تدفین اوچ شریف میں کی جائے گی۔
    ‎حکام کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم رپورٹس موصول ہونے کے بعد کیس میں مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور تفتیش جاری ہے۔