Baaghi TV

Category: پشاور

  • لکی مروت میں  دہشتگردوں سے جھڑپ،2 جوان شہیدجبکہ 2 دہشتگرد ہلاک

    لکی مروت میں دہشتگردوں سے جھڑپ،2 جوان شہیدجبکہ 2 دہشتگرد ہلاک

    خیبر پختونخوا: لکی مروت میں سیکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان جھڑپ میں پاک فوج کے 2 جوان شہید جبکہ 2 دہشتگرد ہلاک ہوگئے۔

    باغی ٹی وی: پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق لکی مروت میں سیکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کا شدید تبادلہ ہوا، دہشت گردوں کی فائرنگ سے 2 سیکیورٹی اہلکار شہید ہوگئے،سپاہی محمد افضل اور سپاہی ابرار حسین نے دہشت گردوں کے خلاف بہادری سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کا کامیابی سے محاصرہ کیا، جھڑپ کے دوران 2 دہشت گرد آفتاب ملنگ اور مسعود شاہ بھی مارے گئے دہشت گرد سیکیورٹی فورسز کے خلاف دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں میں سرگرم تھے، دہشتگرد معصوم شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ میں بھی سرگرم رہے جبکہ دہشتگردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولا بارود اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد ہوا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے سینی ٹائزیشن آپریشن کیا جا رہا ہے، سیکیورٹی فورسز ملک سے دہشت گردی کی لعنت کو ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں، ہمارے بہادر سپاہیوں کی ایسی قربانیاں ہمارے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔

  • پشاور ہائیکورٹ نے تحریک انصاف کو ایک بار پھر بلے کا نشان واپس کردیا

    پشاور ہائیکورٹ نے تحریک انصاف کو ایک بار پھر بلے کا نشان واپس کردیا

    پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم قرار دینے اور انتخابی نشان واپسی کیخلاف کیس،پشاور ہائیکورٹ میں درخواست پر سماعت ہوئی

    پشاور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کا پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات سے متعلق 22 دسمبر کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا، بلے کا نشان بحال ہو گیا،پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس اعجاز انور اور سید ارشد علی نے فیصلہ سنا دیا ۔پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کو بلے کے نشان پر انتخابات لڑنے کی اجازت دے دی۔پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کی درخواست منظور کر لی

    جسٹس اعجاز انور اور جسٹس ارشد علی نے سماعت کی، کیس میں فریق جہانگیر کے وکیل نوید اختر ایڈووکیٹ پیش ہوئے اور کہا کہ آج سپریم کورٹ میں بھی کیس لگا ہے، جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ یہ بات کل ختم ہوچکی ہے، انہوں نے بتایا وہ وہاں کیس نہیں کررہے، اگر کل یہ نہ بتایا ہوتا تو ہم پھر پرسوں کی تاریخ دیتے، بیرسٹر ظفر نے سپریم کورٹ میں کیس پرسو نہ کرنے کی یقین دہانی کرادی،

    قاضی جواد ایڈوکیٹ نے کہا کہ میرے موکل پی ٹی آئی کے سابقہ ضلعی جنرل سیکرٹری رہے ہیں،میرے موکل کو میڈیا سے پتہ چلا کہ انٹرا پارٹی انتخابات ہورہے ہیں،وہ الیکشن میں حصہ لینا چاہتے تھے لیکن ان کو موقع نہیں دیا گیا،جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ آپ نے یہ نہیں کہا کہ انٹرا پارٹی الیکشن دوبارہ کرائے جائے، الیکشن کمیشن نے انٹرا پارٹی انتخابات کو کالعدم قرار دیا تو آپ کو چاہیئے تھا کہ دوبارہ انتخابات کا مطالبہ کرتے،آپ اگر پارٹی سے تھے تو پارٹی نشان واپس لینے پر آپ کو اعتراض کرنا چاہیئے تھا آپ نے نہیں کیا،قاضی جواد نے کہا کہ ہمیں تو انتخابات میں موقع نہیں دیا گیا اس کے خلاف الیکشن کمیشن گئے،انٹرا پارٹی انتخابات پورے ملک کے لیے ہے، ہائیکورٹ صرف صوبے کو دیکھ سکتا ہے، جسٹس ارشد علی نے استفسار کیا کہ کیا ہر صوبے میں الگ الگ کیس کرنا چاہئے تھا انکو۔?انٹرا پارٹی الیکشن پشاور میں ہوا تو یہاں پر کیسے کیس نہیں کرسکتے۔ جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ جو الیکشن ہوئے اس میں تمام ممبران الیکٹ ہوئے یا صرف صوبے کی حد تک,قاضی جواد ایڈوکیٹ نے کہا کہ پورے ملک کے نمائندے منتخب ہوئے۔

    جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ اچھا آپ یہ بتائیں آپکی پارٹی ہے تو کیا انکو انتخابی نشان ملنا چایئے،قاضی جواد نے کہا کہ میں رولز کی بات کرتا ہوں جو قانون ہے وہی ہونا چاہئے،جسٹس ارشد علی نے کہا کہ نہیں ویسے آپ کیا چاہتے ہیں ان کیخلاف انتخابی نشان واپسی کی کارروائی ٹھیک ہے،قاضی جواد ایڈوکیٹ نے کہا کہ میں تو قانون کی بالادستی کی بات کرتا ہوں قانون کے مطابق کارروائی کو سپورٹ کرتا ہوں،ماضی میں ایک پارٹی دو حصوں میں تقسیم ہوئی اور ایک ہی انتخابی پر مسئلہ کھڑا ہوا،الیکشن کمیشن نے انتخابی نشان پر مسئلہ حل کیا کیونکہ اس کا اختیار حاصل تھا،میں چاہتا ہوں کہ دوبارہ انٹرا پارٹی انتخابات ہوں اور اس میں حصہ لوں ،مختلف ادوار میں پارٹیز کو ختم کیا گیا تو نئی بن گئی،جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ دیکھ لیں وہ مارشل لا کا وقت تھا،

    کیس میں فریق کوہاٹ کے شاہ فہد کے دوسرے وکیل احمد فاروق بھی عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ یہ پارٹی جیسے ہی بنی وہیں سے لاڈلہ پن شروع ہوا، جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ آپ قانونی بات کریں، یہاں پر کبھی ایک اور کبھی دوسرا لاڈلہ بن جاتا ہے،احمد فاروق ایڈوکیٹ نے کہا کہ اپنے کارکنوں کو لیول پلینگ فیلڈ نہیں دیا ، انٹرا پارٹی انتخابات کا اچانک بلبلا اٹھا اور اعلان کیا گیا کہ کابینہ بن گئی، جسٹس اعجاز انور نے ریمارکس دیے کہ وہی بلبلا ابھی پھٹا ہے، جسٹس اعجاز انور کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے گونج اٹھے، احمد فاروق ایڈوکیٹ نے کہا کہ انتخابات آئین کے مطابق نہیں کرائے گئے،الیکشن کمیشن فیصلہ کے خلاف بھی سول کورٹ جانا چاہیئے تھا،

    وقفے کے بعد دوبارہ سماعت ہوئی،پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس اعجاز انور اور جسٹس ارشد علی سماعت کر رہے ہیں، پشاور ہائیکورٹ نے تحرہک انصاف انٹرا پارٹی انتخابات کے شواہد دیکھنے سے انکار کر دیا، جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ ہم نے انٹرا پارٹی الیکشن پر بات کی اجازت نہیں دے سکتے اگر اس پر دلائل کی اجازت دی تو بات شواہد پر آئے گی۔نوید اختر نے کہا کہ میں نے اس پر بات کرنی ہے کہ انٹرا پارٹی انتخابات کیسے ہوئے،جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ نہیں آپ اس پر بات نہیں کرسکتے ہیں، ہم نے انکو بھی اس پر نہیں سنا، الیکشن کیسے ہوا یہ شواہد پر پھر بات جائیگی،

    کیس میں فریق چارسدہ کے جہانگیر کے وکیل نوید اخترنے دلائل دیئے، جسٹس ارشد علی نے کہا کہ انٹرا پارٹی انتخابات پر جرمانہ ہوسکتا ہے، کیا الیکشن کمیشن نے یہ کارروائی کی ہے،نوید اختر نے کہا کہ نہیں، الیکشن کمیشن نے الیکشن ایکٹ 215 کے تحت کارروائی کی، جسٹس ارشد علی نے کہا کہ اس سکیشن میں تو انٹرا پارٹی انتخابات کی بات نہیں ہے،نوید اختر نے کہا کہ قانون کے مطابق انٹرا پارٹی انتخابات پارٹی آئین اور الیکشن ایکٹ کے مطابق ہونے چاہئے،اس رو سے انٹرا پارٹی انتخابات خود بخود 215 سکشن میں آتے ہیں، میرے موکل نے پہلے انٹرا پارٹی انتخابات کرانے کیلئے درخواست دی تھی، جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ وہ بات تو ختم ہوگئی نا، جب الیکشن کمیشن نے 20 دن کا وقت دیدیا، جسٹس سید ارشد علی نے استفسار کیا کہ الیکشن کمیشن نے کونسے سیکشن کے تحت اس پارٹی کے خلاف کارروائی کی، وکیل شکایت کنندہ نے کہا کہ الیکشن ایکٹ سکیشن 215 کے تحت کارروائی کی گئی،عدالت نے کہا کہ 209 کی اگر خلاف ورزی ہو تب ہوسکتا ہے 208 پر تو 215 کے تحت کارروائی نہیں ہوسکتی، سیکشن 209 کہتا ہے رزلٹ 7 دن کے اندر کمیشن میں جمع کیے جائیں انھوں نے تو رزلٹ سات دن کے اندر جمع کیے، وکیل شکایت کنندہ نوید اختر نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے دیکھنا تھا کہ سیکشن 208 کے تحت انٹرا پارٹی انتخابات ہوئے یا نہیں.میرے موکل کی بات اہم ہے،جب آنکھ کھلی تو تب سے اس پارٹی میں ہیں، جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ آپکا مطلب ہے کہ نظریاتی ہے،نوید اختر نے کہا کہ متنازع انتخابات ہوئے، سب نے کہا قبول ہے قبول ہے، سب نے کہا کہ جو بانی چئیرمین کہیں گا وہی ہوگا، جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ یہاں تو سب جماعتیں ایک ہی لوگ چلاتے آرہے ہیں، صرف یہی اور ایک اور پارٹی ہے جو ورکر کو آگے آنے دے رہی ہے،

    بیرسٹر علی ظفر ایک بار پھر دلائل کے لیے روسٹرم پر آگئے اور کہا کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ اسلام آباد ہو یا پشاور ہائیکورٹ، کہی بھی چیلنج ہوسکتا ہے،انتخابات یہاں ہوئے اور سیکرٹری جنرل عمر ایوب کا تعلق بھی اس صوبے سے ہے،اس صوبے میں 2 بار اس پارٹی نے حکومت بھی کی ہے،پورے ملک کی مخصوص سیٹیں اس سے متاثر ہونگی،

    مجھے بلے کی آفر ہوئی میں نے انکار کر دیا

    بلے کے نشان کے بعد پی ٹی آئی کا نام و نشان بھی ختم ہوجائےگا ۔

     پی ٹی آئی کے ساتھ آج جو کچھ ہو رہا ہے وہ اسکا اپنا کیا دھرا ہے ،

    عمران خان نے تبدیلی کے نام پر عوام کو دھوکہ دیا

    الیکشن میں میں جہاں بھی ہوں گا وہاں جیت ہماری ہی ہوگی

     بانی پی ٹی آئی اب قصہ پارینہ بن چکے

    عمران خان ملک میں الیکشن نہیں چاہتا ، وہ صدارتی نظام چاہتاہے 

  • بیر سٹر گوہر علی خان   پر امید، سپریم کورٹ کا  تحریک انصاف کو  بلے  کانشان دینے کی اپیل پر بینچ  کی تشکیل

    بیر سٹر گوہر علی خان پر امید، سپریم کورٹ کا تحریک انصاف کو بلے کانشان دینے کی اپیل پر بینچ کی تشکیل

    پشاور ہائیکورٹ میں سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما بیرسٹرگوہر نے کہا کہ پشاورہائیکورٹ نے 5 گھنٹے سماعت کی، کل بھی فریقین کو سنا جائے گا، پشاور ہائیکورٹ کل بلے کے نشان کے حوالے سے فیصلہ سنا دے گی، امید ہے فیصلہ ہمارے حق میں آئے گا۔پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیئر رہنما بیرسٹر گوہر خان نے کہا ہے کہ اگر پی ٹی آئی کو بلے کا نشان واپس نہ ملا تو ہمارے پاس پلان بی موجود ہے۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہمیں امید ہے بلے کا نشان واپس ملے گا، اگر فیصلہ حق میں آیا تو 12 جنوری تک امیدواروں میں ٹکٹ تقسیم کر دیں گے، وکلاء کو بھی ٹکٹ دیں گے، ان کا حصہ ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا کسی پارٹی کے ساتھ فی الحال کوئی اتحاد نہیں، ٹکٹوں کے حوالے سے خواتین کی تعداد زیادہ رکھی ہے۔ بیرسٹر گوہر کا یہ بھی کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے سامنے ایک آرڈر چیلنج کیا تھا، پشاورہائیکورٹ کا فیصلہ آتا ہے تو سپریم کورٹ کیس کی ضرورت نہیں۔
    دوسری جانب سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کی بلا کانشان دینے کی اپیل پر بینچ تشکیل دیدیا۔چیف جسٹس قاضیٰ فائزعیسیٰ کی سربراہی میں 3رکنی بینچ کل تحریک انصاف کی اپیل پرسماعت کرے گا ۔واضح رہے کہ تحریک انصاف نے بلے کے نشان کیلئے سپریم کورٹ میں پشاورہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف اپیل دائر کی تھی ۔
    درخواست میں مؤقف اختیار کیا کہ پشاورہائیکورٹ کےجج نےقانون کی غلط تشریح کی جس کےباعث ناانصافی ہوئی، 26 دسمبر 2023 کو عارضی ریلیف دیا گیا تھا، عارضی ریلیف سے قبل فریقین کو نوٹس دیا جانا ضروری نہیں۔ناقابل تلافی نقصان کے خدشات کے تحت عبوری ریلیف دیا جاتا ہے، پشاور ہائیکورٹ کو بتایا کہ بلے کا نشان نہ ملنے سے ناقابل تلافی نقصان ہو گا۔

  • شمالی وزیرستان میں  شہید ہونے والے حوالدار محمد ظاہر کی نماز جنازہ ادا

    شمالی وزیرستان میں شہید ہونے والے حوالدار محمد ظاہر کی نماز جنازہ ادا

    شمالی وزیرستان میں گزشتہ روز شہید ہونے والے حوالدار محمد ظاہر کی نماز جنازہ ادا کردی گئی۔ شہید کو پورے فوجی اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کر دیا گیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق شمالی وزیرستان میں شہید ہونے والے حوالدار محمد ظاہر کی نماز جنازہ ان کے آبائی گاؤں میں ادا کردی گئی۔ نماز جنازہ کے بعد مردان سے تعلق رکھنے والے شہید حوالدار محمد ظاہر کو پورے فوجی اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کر دیا گیا۔نماز جنازہ میں سینئر حاضر سروس فوجی افسران، شہید کے لواحقین اور اہل علاقہ نے شرکت کی پاک فوج کے ترجمان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مسلح افواج مادر وطن سے دہشت گردی کی لعنت کو ہر قیمت پر ختم کرنے کے لئے پرعزم ہیں۔ یاد رہے کہ گزشتہ روز وزیرستان میں دہشت گردوں سے فائرنگ کے تبادلے میں حوالدار محمد ظاہر شہید ہوگئے تھے، جب کہ ایک دہشت گرد زخمی حالت میں گرفتار کرلیا گیا تھا۔
    واقعہ کے بعد پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے کہا تھا کہ ضلع شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ سیکیورٹی فورسز کے جوانوں نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا اور ایک دہشت گرد کو زخمی حالت میں گرفتار کیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق شدید فائرنگ کے تبادلے کے دوران حوالدار محمد ظاہر شہید ہوگئے، 41 سالہ شہید ضلع مردان کے رہائشی ہیں، جس نے بہادری سے لڑنے کے بعد شہادت کو گلے لگا لیا۔

  • پرویز خٹک کی پارٹی نے اپنے 27 نکاتی انتخابی منشور کا اعلان کردیا

    پرویز خٹک کی پارٹی نے اپنے 27 نکاتی انتخابی منشور کا اعلان کردیا

    پشاور: پاکستان تحریک انصاف پارلیمنٹرینز (پی ٹی آئی پی)کے سربراہ پرویز خٹک کا کہنا ہے کہ ملکی ترقی کے لیے امن و امان کا قیام ضروری ہے۔

    باغی ٹی وی: پی ٹی آئی پارلیمنٹرینز نے اپنے 27 نکاتی انتخابی منشور کا اعلان کردیا، جس میں امن، ترقی اور خوشحالی کو منشور کا بنیادی نکتہ قرار دیا گیا پی ٹی آئی پارلیمنٹیرینز کے منشور میں کہا گیا ہے کہ مستحق طلبہ کے لیے ایجوکیشن کارڈ لایا جائے گا منشور میں وہ چیزیں شامل کی گئی ہیں جو ہم پانچ سالوں میں مکمل کریں گے، اس میں زیادہ تر وہ چیزیں ہیں جن پر ساڑھے 8 سال کام کیا، ان کو ہم مزید مضبوط کریں گے۔

    انہوں نے کہا کہ ایجوکیشن، صحت اور پولیس کے محکموں کو مضبوط کریں گے، سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کو ایک ہی سطح پر لائیں گے، تمام تعلیمی بورڈز کو ایک کرکے باقی کو سب کیمپسز کریں گے، لڑکیوں کے لئے وظیفے میں اضافہ کریں گے، تعلیمی ادراوں میں سیاسی مداخلت ختم کرکے انہیں خودمختار بنائیں گے ہم نے پولیس میں ریفارمز کی ہیں لیکن مزید اصلاح کی ضرورت ہےپولیس قانون کے مطابق کسی کے گھر میں جا سکے گی۔

    سینکڑوں پاکستانی ڈاکٹرز غزہ میں اپنی خدمات ادا کرنے کے لیے تیار ہیں،ندیم جان

    انہوں نے کہا کہ ایم ٹی آئیز میں کام کرنے والے ملازمین کو ریگولر کریں گے اسپتالوں میں دوائیاں جنریٹک نام سے لکھی جائیں گی ریفریل سسٹم کو بہتر کریں گے نوزائیدہ بچوں کے لئے تین اسپتال اور ایک اور کارڈیالوجی اسپتال بنائیں گےگندم کی پیدوار بڑھانے کے لئے کام کریں گے، زرعی سامان رعایتی قیمتوں پر دیں گےسیاحتی علاقوں میں سہولیات دی جائیں گی ہم پالیسی دیں گے باور یوکریسی اس پر عمل کرے گی میرے دور میں تعلیمی نظام میں بہتری آئی، تعلیم کے شعبے میں اصلاحات ضروری ہےپہلے سسٹم ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔

    عمران خان نے شیر افضل مروت سے ملاقات کرنے سے انکار کردیا

    ساری پارٹیاں کے الیکٹرک مافیا کو سپورٹ کرتی ہیں،حافظ نعیم

  • بلا بحالی کیس: ہم سے بلے کا نشان لے لیا جاتا ہے تو ہم غیر فعال ہو جائیں گے،بیرسٹر علی ظفر

    بلا بحالی کیس: ہم سے بلے کا نشان لے لیا جاتا ہے تو ہم غیر فعال ہو جائیں گے،بیرسٹر علی ظفر

    پشاور ہائیکورٹ میں انٹرا پارٹی انتخابات اور انتخابی نشان واپسی کے خلاف کیس کی سماعت کچھ دیر کے لئے ملتوی کر دی گئی-

    باغی ٹی وی : پشاور ہائیکورٹ میں انٹرا پارٹی انتخابات اور انتخابی نشان واپسی کے خلاف کیس کی سماعت جاری ہے ،جسٹس اعجاز انور اور جسٹس ارشد علی نے کیس کی سماعت شروع کی تو پی ٹی آئی وکیل شاہ فیصل اتمانخیل اور الیکشن کمیشن کے وکیل سکندر شاہ مہمند عدالت میں پیش ہوئے،پی ٹی آئی وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ بیرسٹر گوہر راستے میں ہیں، کیس کو کچھ دیر کے لیے ملتوی کردیا جائے۔اس دوران الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ ہم جواب جمع کرتے ہیں جس پر جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ آپ ابھی جواب جمع کرلیں، عدالت نے سماعت کچھ دیر کے لیے ملتوی کردی۔

    کافی دیر گزرنے کے بعد بھی بیرسٹر گوہر نہ پہنچے تو پی ٹی آئی وکلاء نے ساڑھے بارہ بجے تک وقت دینے کی استدعا کی، تاہم، بیرسٹر گوہر ساڑھے بارہ بجے بھی پیش نہ ہوسکے، عدالت نے برہمی کا اظہار کیا تو ایڈووکیٹ قاضی انور نے کہا کہ بس 5 سے 10 منٹ میں پہنچ جائیں گے۔

    جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ صبح سے ہم اس کے لیے انتظار کر رہے ہیں، سپریم کورٹ میں جب ہمارے کیسز ہوتے تھے تو ہم صبح پہنچتے تھے، یہ کونسا طریقہ ہےبینچ کوانتظار کروایا جارہا ہے،قاضی انور ایڈووکیٹ نے استدعا کی کہ بس تھوڑا وقت دیا جائے، کچھ دیر میں پہنچ جائیں گے۔

    اس کے بعد عدالت نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے اپنا جواب جمع کردیا ہے، جسٹس اعجاز انور نے پی ٹی آئی وکیل سے استفسار کیا کہ آپ سپریم کورٹ سے سماعت میں تو دلچسپی نہیں لے رہے، آپ یہاں سے آج سماعت چاہتے ہیں؟، جس پر وکیل قاضی انور نے کہا کہ نہیں ہم یہاں سماعت چاہتے ہیں، عدالت نے کہا کہ پھر ٹھیک ہے وہ آجائیں تو کیس سنتے ہیں۔

    عدالت میں بیرسٹر گوہر اور بیرسٹر ظفر کا انتظار جاری تھا کہ اس دوران جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ اعتراض کرنے والے وکلا کو بھی طلب کیا جائے، جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ تحریک انصاف کے انتخابات پر سب سے پہلا اعتراض اکبر ایس بابر کا ہے، وہ کہاں ہیں؟

    الیکشن کمیشن میں درخواست دینے والے جہانگیر رضا نے عدالت میں بیان دیا کہ میرا وکیل ہڑتال کی وجہ سے کورٹ میں نہیں آرہا جس پر جسٹس انور اعجاز نے کہا کہ یہ کورٹ ہے ہمارا ہڑتال سے کوئی سروکار نہیں۔

    الیکشن کمیشن کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ 13 تاریخ کو الیکشن کمیشن امیدوار کو انتخابی نشانات الاٹ کرے گا، پی ٹی آئی کو اگر نشان الاٹ نہیں ہوتا تو وہ آزاد تصور ہوں گے، ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کو عبوری ریلیف دیا تھا وہ ختم ہوگیا ہے۔

    جسٹس ارشد علی نے استفسار کیا کہ اگر ہم آج فیصلہ کرلیں تو یہ مسئلہ ختم ہوسکتا ہے؟ سپریم کورٹ میں کیس کی ضرورت نہیں؟، جس پر الیکشن کمیشن نے کہا کہ بالکل پھر ضرورت نہیں۔

    جسٹس اعجاز انور نے پی ٹی آئی وکلا کو کہا کہ آپ ان کو سمجھا دیں کہ وقت پر آیا کریں، مزید انتظار نہیں ہوگا،ایک بج کر 15 منٹ پر دوبارہ سماعت ہوگی، مزید وقت نہیں دیا جائے گا اتنے میں پی ٹی آئی وکیل بیرسٹر علی ظفر اور بیرسٹر گوہر علی خان ہائیکورٹ پہنچ گئے سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو بیرسٹر علی ظفر نے عدالت سے تاخیر سے پہنچنے پر معذرت کرلی۔

    اس کے بعد پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر کی جانب سے دلائل کا آغاز کیا گیا، بیرسٹر علی ظفر نے عدالت کو بتایا کہ الیکشن کمیشن کو شکایات دینے والوں نے دوبارہ انٹرا پارٹی انتخابات کرانے کی استدعا کی تھی، پی ٹی آئی نے انٹرا پارٹی انتخابات جون 2022 میں کرائے، ہم نے الیکشن کمیشن کو ریکارڈ پیش کیا، بعد میں الیکشن کمیشن نے اس پر سوالات اٹھانا شروع کئے اور آخر میں الیکشن کمیشن نے 20 روز میں دوبارہ انٹرا پارٹی انتخابات کرانے کا حکم دیا۔

    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ الیکشن کمیشن حکم کے مطابق دوبارہ انٹرا پارٹی انتخابات کرائے، جب الیکشن کرائے تو الیکشن کمیشن نے کہا کہ اعتراض آگئے ہیں،الیکشن کمیشن کو اعتراضات دینے والے غیر متعلقہ لوگ ہیں، الیکشن کمیشن نے انٹرا پارٹی انتخابات پر کوئی سوال نہیں اٹھایا، الیکشن کمیشن نے کہا سیکرٹری جنرل عمر ایوب کی تعیناتی درست نہیں اور عمر ایوب کی تعیناتی پر انتخابات کو کالعدم قرار دیا۔

    بیرسٹر علی ظفرنے کہا کہ انتخابات کالعدم قرار دینے کے بعد انتخابی نشان لے لیا گیا، اب پی ٹی آئی کے امیدوار آزاد ہوں گے، پی ٹی آئی مخصوص نشستوں سے بھی محروم ہوگی جنہوں نے اعتراضات اٹھائے ہیں ان میں کوئی بھی پارٹی کے ممبر نہیں ہیں، ہمارے 8 لاکھ ووٹرز میں اعتراض کرنے والوں نے نام شامل نہیں۔

    بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ ہمارے ووٹرز کی جان بلے میں ہے ہم سے بلے کا نشان لے لیا جاتا ہے تو ہم غیر فعال ہو جائیں گے، جسٹس ارشد علی نے استفسار کیا کہ آپ کو یہ اعتراض ہے کہ انٹراپارٹی الیکشن کا معاملہ الیکشن کمیشن کے اختیار میں نہیں آتا، پی ٹی آئی مخصوص 227 نشستوں میں اپنے حصے سے محروم ہوجائے گی اگر آج فیصلہ نہ ہوا تو کروڑوں لوگ پارٹی کے حقوق سے محروم رہ جائیں گے، ہمارے 8 لاکھ ووٹرز میں اعتراض کرنے والوں کے نام شامل نہیں-

    وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ اعتراضات کرنیوالوں نے کہا ہے کہ انٹرا پارٹی انتخابات پی ٹی آئی آئین کے مطابق نہیں،وکیل تحریک انصاف نے کہا کہ انتخابات کالعدم قرار دینے کے بعد انتخابی نشان لے لیا گیا، پی ٹی آئی کے امیدوار آزاد ہوں گے، پی ٹی آئی مخصوص نشستوں سے بھی محروم ہوگی-

    الیکشن کمیشن کے وکیل نے پشاور ہائیکورٹ سے بلے کے نشان کی واپسی کا کیس جمعرات تک ملتوی کرنے کی استدعا کی، جسٹس سید ارشد علی نے کہا کہ 13 جنوری کو انتخابی نشان الاٹ ہونے ہیں تو ایسے میں انٹرا پارٹی الیکشن ہوسکتے ہیں؟ جسٹس اعجاز انور نے استفسار کیا کہ علی ظفر صاحب اگر کیس کو پرسوں تک ملتوی کردیا تو آپ کو کیا نقصان ہوگا ؟

    جس پر بیرسٹر علی ظفر نے جواب دیا کہ 12 جنوری تک امیدوار کاغذات واپس لے سکیں گے، 13 کو نشانات الاٹ ہو رہے ہیں، جسٹس اعجاز انور نے ریمارکس دیئے کہ ٹھیک ہے ہم کیس کو سُنتے ہیں، دلائل جاری رکھیں،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے حکم کے مطابق 20 دن میں انٹرا پارٹی انتخابات کرائے گئے، بیرسٹر گوہر انتخابات کے نتیجے میں پارٹی چئیرمین منتخب ہوئے، بیرسٹر گوہر نے ریکارڈ پر دستخط کرکے الیکشن کمیشن کو دئیے،الیکشن کمیشن کے پاس انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم قرار دینے کا اختیار نہیں، اگر انٹرا پارٹی انتخابات نہ بھی کرائے جائیں تو الیکشن کمیشن کسی پارٹی کو انتخابی نشان سے محروم نہیں کرسکتا، الیکشن کمیشن صرف ”ریکارڈ کیپر“ ہےلیکشن کمیشن کو 7 دن کے اندر سرٹیفکیٹ جاری کرنا لازمی ہے-

    وکیل تحریک انصاف نے کہا کہ اگر کوئی سیاسی پارٹی انتخابات کا انعقاد نہ کرے تو جرمانہ ہوگا،الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی پر کس قسم کا جرمانہ عائد کیا، جسٹس ارشد علی نے استفسار کیا کہ آپ بیٹ کیوں مانگ رہے ہیں، آپ کیا دلائل دیں گے، آپ کو ’’بلا‘‘ ہی کیوں چاہیئے؟ جس پر بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ سیاسی جماعت کے پاس اختیار ہے کہ وہی نشان مانگے جس پر پہلے کبھی الیکشن لڑا ہو، سپریم کورٹ فیصلے کے مطابق اگر کسی پارٹی سے انتخابی نشان لے لیا گیا تو پارٹی غیر فعال ہو جائے گئی، پارٹی نشان سیاسی کارکنوں کیلئے بہت اہمیت رکھتا ہے-

    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ انتخابی نشان واپس لیا جانا پارٹی کو تحلیل کرنے مترادف ہے، آئین اور الیکشن ایکٹ کے مطابق الیکشن کمیشن کا فیصلہ غیرقانونی و غیرآئینی ہے کسی قانون میں الیکشن کمیشن کے پاس اختیار ہی نہیں، یہ اختیار شاید ہائیکورٹ کے پاس ہے، جس پر جسٹس ارشد علی نے کہا کہ نہیں ہمارے پاس بھی نہیں ہے۔

    یرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کوئی کورٹ آف لاء نہیں، ایسے تنازعے کے حل کے لیے ٹرائل ضروری ہے، ایسے تنازعات میں سول کورٹ ہی ٹرائل کرسکتی ہے الیکشن کمیشن نے سمری میں فیصلہ کیا ہے۔

    جس پر جسٹس ارشد علی نے کہا کہ ایسے میں تو پھر کیس الیکشن کمیشن کو ریمانڈ ہوگا، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ بالکل ریمانڈ ہوگا لیکن اگر الیکشن کمیشن کے پاس اختیار ہو, الیکشن کمیشن کے پاس اختیار ہی نہیں، الیکشن کمیشن نے صرف یہ اعتراض کیا کہ تعیناتی صحیح نہیں ہوئی انہوں نے استدعا کی کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ بدنیتی پر مبنی ہے، اسے کالعدم قرار دیا جائے۔

    بیرسٹر علی ظفر نے مسلسل 2 گھنٹے دلائل دیے، جس پر جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ چائے پی لیں، آپ نے سفر بھی کیا ہے، 3 بج کر 30 منٹ پر جمع ہوں گے،عدالت نے سماعت میں ساڑھے تین بجے تک وقفہ کردیا۔

  • خسرہ نمبر 33،   سال 1919 ریونیو ریکارڈ کے مطابق ہماری ملکیت ہے : ابودرداء شینواری

    خسرہ نمبر 33، سال 1919 ریونیو ریکارڈ کے مطابق ہماری ملکیت ہے : ابودرداء شینواری

    ابودرداء شینواری کلیم اللہ،شینواری اور ملک قاسم نے لنڈیکوتل پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ھوئے کہا کہ ہم جملہ بازمیر خاندان اشرف خیل خوگا خیل خسرہ نمبر 33، 1919 ریونیو ریکارڈ کے مطابق ہماری ملکیت ھے . خسرہ نمبر 33 میں مشہور پشتو شاعر اور ادیب بابائے غزل امیر حمزہ خان شینواری کا مزار بھی واقع ہے جو ہمارا چچازاد بھی ہے.

    انہوں نے کہا کہ 1919 ریونیو ریکارڈ میں درج شدہ اراضی 99 سال کے بعد لیز ختم ہوچکا ہے لہذا اس زمیں میں کسی بھی سرکاری ادارے کا مداخلت برداشت نہیں کرتے۔ریسکیو ڈیپارٹمنٹ کی دلچسپی اور عوامی مطالبے کے بعد ہم جملہ خاندان نے علاقے کے ملکان اور مشران کے باہمی مشورے کے بعد زمین land Acquisition ایکٹ کے تحت پراپر چینل کے ذریعے اور عوام کے فلاح و بہبود کے لیے ریسکیو 1122 کو دو کنال کی زمین دے دی پہلے مرحلے میں پٹوار اور علاقے کے قومی مشران کمیشن کے تصدیق کے بعد ریٹ اور زمین کی مالک کی نشاندہی کی گئی۔کام شروع ہوا مگر بند کروا دیا گیا،

    انہوں نے کہا کہ ہم جملہ خاندان اور علاقے کے عوام اس عمل پر کافی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کمشنر پشاور سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ فلاح و بہبود کے اس کام میں زاتی دلچسپی لیکر اس مسئلہ کو احسن طریقے سے حل کریں ایک ہفتے کے اندر اگر عملدرآمد نہیں کیا گیا تو ہم قوم خوگا خیل پاک افغان شاہراہ کو ہر قسم آمدروفت کے لئےبند کریں گے۔

    لنڈیکوتل پریس کلب کے سالانہ انتخابات مکمل

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    میرے خلاف لطیف کھوسہ کی فرم کے وکلا پیش ہوئے،خواجہ سرانایاب علی

    مسجد کے سامنے خواجہ سراؤں کی ڈانس پارٹی

    پیپلز پارٹی کی ایک کارنر میٹنگ میں اپنے ہی جیالوں کو دھمکی

  • شاہ رحمان شینواری لنڈی کوتل پریس کلب کے صدر منتخب

    شاہ رحمان شینواری لنڈی کوتل پریس کلب کے صدر منتخب

    لنڈیکوتل پریس کلب کے سالانہ انتخابات مکمل ہوگئے ہیں۔

    شاہ رحمان شینواری صدر ، جبکہ عمر شینواری بلا مقابلہ جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے ہیں،الیکشن کمیٹی کے چیئر مین راحت شینواری نے لنڈی کوتل پریس کلب کے سالانہ انتخابات کا اعلان کرتے ھوئے کہا کہ سال 2024 شاہ رحمان شینواری کو صدر جبکہ عمر شینواری کو بلا مقابلہ جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے، چیئرمین نے کہا کہ کل 20ووٹ کاسٹ ھوئے جس میں 17 ووٹ شاہ رحمان کو پول ھوئے اور مد مقابل کو دو ووٹ ملے جبکہ ایک ووٹ کو مسترد کیا گیا .

    الیکشن کے دن سیاسی اور سماجی رہنماوں نے مبصرین کے حیثیت سے انتخاباتی عمل کو بہت نزدیک سے دیکھا اور انتخاباتی عمل کو تسلی بخس قرار دیدیا . چیئرمین نے سال 2024 کے الیکشن کے نتائج کا باقاعدہ نوٹیفیکیشن جاری کر دیا.اس موقع پرنو منتخب صدر شاہ رحمان نے اس عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پریس کلب کے مسائل کے حل کے لیے تمام تر توانائیاں بروئے کار لائیں اور تمام ممبرز کو لیکر آگے چلیں گے

    میرے خلاف لطیف کھوسہ کی فرم کے وکلا پیش ہوئے،خواجہ سرانایاب علی

    مسجد کے سامنے خواجہ سراؤں کی ڈانس پارٹی

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    تمام امیدواران کو الیکشن کا برابر موقع ملنا چاہئے

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

    پیپلز پارٹی کی ایک کارنر میٹنگ میں اپنے ہی جیالوں کو دھمکی

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے الیکشن کے دن ووٹر کا امتخان لینے کا فیصلہ کرلیا،

  • باجوڑ دھماکے میں زخمی اہلکار شہید،تعداد 6 ہوگئی

    باجوڑ دھماکے میں زخمی اہلکار شہید،تعداد 6 ہوگئی

    باجوڑ میں ہوئے بم دھماکے میں زخمی اہلکار پشاور اسپتال میں دم توڑ گیا، شہید پولیس اہلکاروں کی تعداد 6 ہوگئی۔باجوڑ میں پولیس وین پر بم دھماکے میں 28 افراد زخمی بھی ہوگئے۔ ترجمان پولیس کا کہنا ہے کہ ماموند کے علاقہ بیلوٹ فرش کے مقام پولیس گاڑی پر ریموٹ کنٹرول کے ذریعے پیر کی صبح بم دھماکا ہوا۔پولیس اہلکار انسداد پولیو مہم ٹیم کی سیکیورٹی کیلئے جا رہے تھے، جاں بحق ہونے و الے اہل کاروں کی نماز جنازہ پولیس لائن سول کالونی خار میں ادا کی گئی۔

  • جے یو آئی ف  نے خیبرپختونخوا میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں پر ٹکٹ جاری کردیے

    جے یو آئی ف نے خیبرپختونخوا میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں پر ٹکٹ جاری کردیے

    جمعیت علماء اسلام نے خیبر پختونخوا میں قومی اور صوبائی سیٹوں پر ٹکٹ جاری کر دیئے،

    جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان خود ڈیرہ اسماعیل خان سے امیدوار ہونگے ،مولانا فضل الرحمان کے دو صاحبزادے بھی الیکشن لڑیں گے ،مولانا اسعد محمود این اے 43 ٹانک سے امیدوار ہونگے جبکہ مولانا اسجد محمود کو این اے 41 لکی مروت سے ٹکٹ جاری کردیا گیا۔سابق ڈپٹی سپیکر زاہد خان درانی این اے 39بنوں سے الیکشن لڑیں گے ،کرک اے شاہ عبدالعزیز، ہنگو سے مولانا عبید اللہ، کوہاٹ سے گوربنگش امیدوار ہونگے ،نوشہرہ سے پرویزخان خٹک ، چارسدہ سے مولانا گوہر شاہ اور مفتی گوہر علی امیدوار ہونگے ،مردان سے اعظم خان ،قاری نیاز علی اور کلیم اللہ امیدوار ہونگے ۔پشاور سے نور عالم خان ، عرفان اللہ شاہ ، ناصر خان ، سعیدجان اور حسین احمد ،صوابی سے مولانا فضل علی اور عبدالرحیم ،ہری پورسے محمد ایوب ،ایبٹ آباد سے عدنان اور احمد نصیر جے یو آئی امیدوار ہونگے۔دیر لوئر سے محمد شیر اور سراج الدین دیر بالا سے محمد نبی شاہ امیدوار نامز دکئے گئے ہیں،سوات سے عبد الغفور ، قیصر خان اور رحیم اللہ کو ٹکٹ جاری کردی گی،جے یو آئی نے کوہستان چترال اور شانگلہ سے ابھی ٹکٹ کا فیصلہ نہیں کیا۔جے یو آئی کے مطابق مانسہرہ سے کفایت اللہ اور سردار وقار الملک امیدوار ہونگے،بٹگرام سے قاری یوسف ، بونیر اے ولی الرحمان اور ملاکنڈ سے مفتی کفایت اللہ کو ٹکٹ جاری کردی گیا۔دوسری جانب جے یو آئی خیبر پختونخوا میں صوبائی اسمبلی کی کئی نشستوں پر ٹکٹ جاری کر دیئے گئے،اکرم خان درانی بنوں کی دو نشستوں پر امیدوار نامزد کئے گئے ہیں،بنوں سے عدنان خان اور شیراعظم وزیر کو بھی ٹکٹ جاری کر دیا گیا،کرک سے میاں نثار اور عماد اعظم امیدوار ہونگے۔مانسہرہ اور ایبٹ آباد سے خواتین بھی جنرل نشستوں پر امیدوار ہونگی،پی کے 36مانسہرہ سے صائمہ بی بی کو ٹکٹ جاری کیا گیا ہے،پی کے 43 ایبٹ آباد اے بصیرت ارباب عباسی اور پی کے 44 سے عائشہ حمید اللہ امیدوار نامزد کی گئی ہیں،پی کے 48 ہری پور اے رقیہ بی بی کو جے یو آئی کا ٹکٹ جاری کردیاگیا،صوابی اے نورالاسلام اور غفور جدون امیدوار نامزد کئے گئے ہیں،مردان سے حافظ اختر علی ، عدنام خان عبید اللہ کو ٹکٹ جاری کیا گیاہے۔

    میک اپ کے بغیر خاتون نے مقابلہ حسن جیت لیا

    خواجہ سراؤں نے بھی خود کو بطور ووٹرز رجسٹرڈ کرالیا

    نوجوان مرد ہم جنس پرست ایڈز کے مریض بننے لگے،اسلام آباد میں شرح بڑھ گئی

    خیبرپختونخوا کے خواجہ سراوں کو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں شامل

    خواجہ سراؤں سمیت ڈانس،موسیقی اور ہوائی فائرنگ پر پابندی 

    اسی طرح چارسدہ سے ارشد عبداللہ ، الٰہی جان اور محمد احمد کو ٹکٹ جاری کیا گیاہے،مولانا عطاالحق درویش پی کے 79 سے امیدوار نامزد کئے گئے ہیں،مولانا امان اللہ حقانی کو پی کے 80 کا ٹکٹ جاری کیا گیاہے،ارباب فاروق ، صدیق پراچہ اور عمر خان بھی پشاورسے جے یو آئی کے امیدوار ہونگے ،نوشہرہ سے سابق وزیر داخلہ پرویز خٹک کے بھائی اور بھتیجے کو جے یو آئی کا ٹکٹ جاری کیا گیا ہے،لیاقت خان پی کے 87، احد خٹک پی کے 88 سے امیدوار ہونگے۔ لکی مروت سے منور خان اور ٹانک سے محمود احمد امیدوار ہونگے ،چترال سے مولانا ہدایت الرحمان صوبائی اسمبلی کے امیدوارنامزد کئے گئے ہیں،سوات سے بخت زادہ، سید قمر ،ثنااللہ ، حجت اللہ امیدوار نامزدکئے گئے ہیں،شاہی نواب ،حاجی ممتاز حفیظ الرحمان اور امجد علی کو بھی ٹکٹ جاری کردیاگیا،ان کے علاوہ دیر بالا سے گل نور شاہ ، عزیزالرحمان،احسان اللہ ، جے یو آئی کے امیدوار نامزد کئے گئے ہیں،دیر لوئر سے فرید اللہ ،عمران خان ، محمد نبی شاہ کوبھی ٹکٹ جاری کیا گیا ہے۔
    jui

    صحافی محمد فہیم نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ جمعیت علماء اسلام نے عمران خان اور ذوالفقار علی بھٹو کو عام انتخابات کیلئے صوبائی اسمبلی کے ٹکٹ جاری کردئے،پی کے 15 لوئر دیر سے عمران خان اور نوشہرہ کے حلقے پی کے 89 سے ذوالفقار علی بھٹو جمعیت کے امیدوارہونگے