Baaghi TV

Category: پشاور

  • شمالی وزیرستان:سکیورٹی فورسز اور دہشتگردوں کے درمیان فائرنگ، 2  جوان شہید

    شمالی وزیرستان:سکیورٹی فورسز اور دہشتگردوں کے درمیان فائرنگ، 2 جوان شہید

    خیبرپختونخوا : شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں 2 جوان شہید ہوگئے۔

    باغی ٹی وی : پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کےمطابق میرعلی میں سکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان 12اور 13 نومبر کی رات فائرنگ کے تبادلے میں ایک دہشت گرد مارا گیا، فائرنگ کے تبادلے میں دو جوان بھی شہید ہوگئے جن میں سپاہی عبداللہ اور سپاہی محمد سہیل شامل ہیں۔

    آئی ایس پی آر نے بتایاکہ سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانے کا مؤثر انداز میں پتہ لگایا جبکہ علاقے میں دیگر دہشتگردوں کے خاتمے کیلئے کلیرنس آپریشن جاری ہے سکیورٹی فورسزدہشتگردی کی لعنت ختم کرنےکیلئے پرعزم ہیں، ہمارےبہادرجوانوں کی ایسی قربانیاں ہمارا عزم مزید مضبوط کرتی ہیں۔

    القادر ٹرسٹ،توشہ خانہ کیس میں نیب کا عمران خان کو گرفتارکرنے کا فیصلہ

    توہین الیکشن کمیشن،اڈیالہ جیل میں اگلی سماعت ہونے کا امکان

    سینیٹ اجلاس میں ملٹری کورٹس بنانے کے حوالے سے قرارداد منظور

  • خیبرپختونخوا کی نئی نگران کابینہ کو وزارتوں کے قلمدان سونپ دئیے گئے

    خیبرپختونخوا کی نئی نگران کابینہ کو وزارتوں کے قلمدان سونپ دئیے گئے

    پشاور: خیبرپختونخوا کی نئی نگراں کابینہ اراکین کو وزارتوں کے قلمدان سونپ دئیے گئے۔

    باغی ٹی وی : نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اعظم خان کے انتقال کے بعد گزشتہ روز جسٹس (ر) ارشد حسین نے بطور نگران وزیراعلی کے پی حلف اٹھایا تھا، اوراب نگراں خیبرپختونخوا کابینہ میں شامل وزرا نے حلف اٹھا یا، گورنرخیبرپختونخوا حاجی غلام علی نے نگراں وزرا سے حلف لیا، تقریب حلف برداری گورنر ہاؤس کے پی میں ہوئی۔

    نگران صوبائی کابینہ میں سید مسعود شاہ، ارشاد قیصر اور آصف رفیق ، نجیب اللہ، سید عامر عبداللہ اور فیروز جمال شاہ بھی کابینہ کا حصہ ہیں احمد رسول بنگش، محمد قاسم خان، عامر ندیم اور احمد جان بھی کابینہ میں شامل ہیں۔

    ٹی ایل پی نے فنڈنگ کے ذرائع نہیں بتائے،سپریم کورٹ کا حکمنامہ

    اس سے قبل گورنر خیبرپختونخوا حاجی غلام علی نے نگراں کابینہ کی سمری پر دستخط کیے، جس کے تحت خیبر پختونخواکی نگراں کابینہ میں 10 وزرا شامل کئے گئے ہیں،جسٹس ریٹائرڈ ارشد حسین شاہ نے نے صوبے کے معاملات چلانے کے لیے 10 رکنی کابینہ تشکیل دی تھی-

    القادر ٹرسٹ،توشہ خانہ کیس میں نیب کا عمران خان کو گرفتارکرنے کا فیصلہ

    خیبرپختونخوا کی نگران کابینہ میں شامل وزرا کو مختلف محکموں کے قلمدان حوالے کردیئے گئے، جس کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے، محکمہ داخلہ اور قانون کے قلمدان وزیراعلیٰ کے پاس ہی رہیں گے۔

    محکمہ ای اینڈ اے کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق سید مسعود شاہ کو اسٹیبلشمنٹ اینڈ ایڈمنسٹریشن وبین الصوبائی امور، جسٹس(ر) ارشاد قیصر کو جیل خانہ جات، ریلیف وبحالی اور زکوٰة وعشر وسماجی بہبود، احمد رسول بنگش کو خزانہ، ریونیو اورایکسائز اینڈٹیکیسشن ،آصف رفیق کوموسمیاتی تبدیلی، جنگلات، لائیو اسٹاک ،زراعت اور خوراک جبکہ ڈاکٹر نجیب اللہ کو سائنس اینڈٹیکنالوجی وانفارمیشن ٹیکنالوجی و کھیل وامور نوجوانان کا محکمہ دیا گیا ہے۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق ڈاکٹر قاسم جان کو ابتدائی و ثانوی اور اعلیٰ تعلیم ، سید عامر عبداللہ کو امور ضم اضلاع ،صنعت وکامرس ، انجنیئر عامر ندیم درانی کو پبلک ہیلتھ اینڈ انجنیئرنگ اور بلدیات جبکہ انجنیئر احمد جان کو سی اینڈڈبلیو اور ایریگیشن کے محکموں کے قلمدان حوالے کیے گئے ہیں۔

    خیال رہے کہ 11 نومبر کو خیبرپختونخوا کے نگراں وزیراعلیٰ اعظم خان 90 سال کی عمر میں انتقال گرگئے تھے، جس کے بعد ان کی کابینہ بھی خود کار طریقے سے تحلیل ہوگئی تھی، جس کے بعد صوبائی حکومت نے خیبرپختونخوا کے نگران وزیر اعلیٰ کی تقرری کیلئے سابق وزیر اعلیٰ اور اپوزیشن لیڈر سے رائے طلب کی،گورنر نے آئینی اختیارات کے تحت ایڈوکیٹ جنرل، سابق قائد ایوان اور اپوزیشن لیڈر کو فیصلہ کرنے کیلئے مراسلہ بھیجا، سابق وزیراعلیٰ محمود خان اور اپوزیشن لیڈر اکرم درانی نے نگران وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کیلئے باہمی مشاورت سے جسٹس (ر) ارشد حسین شاہ کے نام پر اتفاق کیا۔

    سموگ کا تدارک،ڈپٹی کمشنر کے تبادلے ،ہفتے میں چھٹی،ورک فرام ہوم کا حکم

  • پی ٹی آئی   اور عوامی نیشنل پارٹی  کا نگران وزیر اعلی کے تقرری پر تحفظات

    پی ٹی آئی اور عوامی نیشنل پارٹی کا نگران وزیر اعلی کے تقرری پر تحفظات

    پشاور: تحریک انصاف کا نگراں وزیراعلیٰ کے پی کی تقرری کیو عدالت میں چیلنچ کرنے کا فیصلہ، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے نگراں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی تقرری کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے کا اعلان کردیا۔ پشاور سے جاری بیان میں ترجمان پی ٹی آئی معظم بٹ نے کہا کہ جسٹس (ر) سید ارشد حسین شاہ کی تقرری میرٹ کے برعکس کی گئی ہے۔ ترجمان نے مزید کہا کہ گورنر خیبر پختونخوا نگراں وزیراعلیٰ کی تقرری کے لیے سابق وزیراعلیٰ سے مشاورت نہیں کرسکتے تھے۔
    انہوں نے یہ بھی کہا کہ سابق وزیراعلیٰ محمود خان کو تحریک انصاف نے چیف منسٹر بنایا تھا، وہ اب پارٹی چھوڑ چکے ہیں۔
    واضح رہے کہ گزشتہ روز کے پی کے کے نگران وزیر اعلی کے وفات کے بعد نئے نگران وزیر اعلی کے تقرری کا مسئلہ سامنے آیا تھا ،جس کے بعد گورنر خیبر پختونخوانے پی ٹی آئی کے سابق وزیر اعلی سے مشاورت کی اور سید ارشد حسین کو نامزد کیا گیا،
    تاہم عوامی نیشنل پارٹی نے بھی نئے وزیر اعلی کے تقرری پر تحفظات کا اظہار کیا ہے اور کہا کہ یہ تقرری میر پر نہیں ہوئی لہذا عوامی نیشنل پارٹی انکو سی ایم ماننے سے انکار کرتی ہے.

  • خیبر پختونخوا کے نئے نگران وزیر اعلی نے حلف اٹھا لیا

    خیبر پختونخوا کے نئے نگران وزیر اعلی نے حلف اٹھا لیا

    جسٹس ریٹائرڈ ارشد حسین شاہ نے حلف اٹھا لیا، گورنر خیبر پختونخوا نے ارشد حسین سے حلف لیا . راشد حسین نئے نگران وزیر اعلی بن گئے.
    گورنر خیبر پختونخوا غلام علی نے نگراں وزیر اعلیٰ کی تقرری کا حکم نامہ جاری کردیا۔ جسٹس ریٹائرڈ ارشد حسین شاہ آرٹیکل 224 کے تحت نگراں وزیراعلیٰ مقرر ہوگئے۔
    حکم نامے کے مطابق محمود خان اور اکرم درانی نے جسٹس (ر) ارشد حسین شاہ کے نگراں وزیراعلیٰ کے نام پر اتفاق کیا۔ وزیر اعلیٰ کی تقرری کےلیے سابق وزیراعلیٰ محمود خان اور اپوزیشن لیڈر اکرم درانی کو بلایا گیا۔
    حکم نامے میں مزید کہا گیا کہ اعظم خان کے انتقال کے باعث نگراں وزیر اعلیٰ کا تقرر ضروری ہے۔ یاد رہے کہ نگراں وزیراعلیٰ اعظم خان گزشتہ روز دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے تھے۔نگراں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی تقرری کے معاملے پر اکرم درانی نے کہا تھا کہ صوبے میں سیاسی بحران ہے، آج ہی نگراں وزیراعلیٰ کی تقرری کا مسئلہ حل کریں گے۔
    ان کا کہنا تھا کہ نگراں وزیراعلیٰ کےلیے متوقع نام سیاست دان اور بیوروکریٹ کے ہوسکتے ہیں۔ کوئی اعظم خان کے کردار پر انگلی نہیں اٹھا سکا، ان کا چناؤ اس لیے کیا تھا کہ وہ نیک انسان تھے۔

  • نگران وزیراعلیٰ  خیبر پختونخوا کے لئے  جسٹس ریٹائرڈ ارشد حسین شاہ کے نام پر اتفاق

    نگران وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے لئے جسٹس ریٹائرڈ ارشد حسین شاہ کے نام پر اتفاق

    پشاور: نگران وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے لئے جسٹس ریٹائرڈ ارشد حسین شاہ کے نام پر اتفاق ہو گیا،جسٹس ریٹائرڈ ارشد حسین شاہ کا نام منظوری کے لیے گورنر خیبر پختوخوا کو بھیجا جائےگا-

    باغی ٹی وی : گزشتہ روز نگران وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اعظم خان دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے تھے جس کے باعث صوبائی کابینہ تحلیل ہو گئی تھی جس کے بعد آج نگران وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے نام پر مشاورت کے لیے سی ایم ہاؤس میں اجلاس ہوا جس میں سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان اور سابق اپوزیشن لیڈر اکرم درانی شریک ہوئے-

    سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ نگران وزیراعلیٰ کے پی کے لیےجسٹس ریٹائرڈ ارشد حسین شاہ کے نام پر اتفاق ہو گیا ہےجسٹس ریٹائرڈ ارشد حسین شاہ کا نام سابق اپوزیشن لیڈر اکرم درانی نےتجویز کیا جسے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیاہے۔

    میو ہسپتال میں زخمی مریض کے لواحقین کی فائرنگ

    پشاور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے گورنر حاجی غلام علی کا کہنا تھا کہ آئین کے تحت نئےنگراں وزیراعلیٰ کو نامزدکیا، اکرم درانی اور محمود خان نے اس نام پر اتفاق کیا ہے، اور نگراں وزیراعلیٰ کے پی کے نام کی سمری گورنرہاؤس موصول ہوگئی ہے۔

    واضح رہے کہ جسٹس ریٹائرڈ ارشد حسین شاہ کا تعلق ایبٹ آباد سے ہے، وہ چیف جسٹس سپریم ایپلیٹ کورٹ گلگت بلتستان رہ چکے ہیں اور خیبر پختونخوا کی نگران کابینہ کا حصہ بھی تھے۔

    ڈاکوؤں سے مقابلے میں ایک پولیس اہلکار شہید اور ایک زخمی

    دوسری جانب پی ٹی آئی نے اس نام کو مسترد کرتے ہوئے عدالت جانے کا فیصلہ کیا ہے،پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کےسیکرٹری اطلاعات ظاہر شاہ کا کہنا ہے کہ یہ آئینی فورم نہیں کہ یہ لوگ وزیراعلی کو نامزد کریں، گورنرغیر قانونی اقدامات اُٹھارہے ہیں گورنر نے کس حیثیت میں سابق وزیراعلی اوراپوزیشن لیڈر کو خط لکھا، تمام پہلوؤں کا قانونی جائزہ لینےکے بعد عدالت جائیں گے۔

  • نگران وزیراعلیٰ کی وفات کے بعد کابینہ بھی تحلیل

    نگران وزیراعلیٰ کی وفات کے بعد کابینہ بھی تحلیل

    نگراں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اعظم خان کے انتقال کے بعد کابینہ بھی تحلیل ہوگئی

    نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے انتقال سے صوبے میں آئینی بحران پیدا ہوگیا ،آئین کا آرٹیکل 224 اور 224-A نگراں وزیر اعلیٰ کی نامزدگی و تقرری کا طریقہ کار فراہم کرتا ہے،آئین میں نگران وزیر اعلیٰ کی موت کی صورت میں نئی تقرری کے طریقہ کار پر مکمل خاموشی ہے،نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے انتقال کے بعد نئی تقرری اپنی نوعیت کا نیا کیس ہو گا

    سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد کے مطابق جب تک نئے نگران وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا فیصلہ نہیں ہو جاتا اس وقت تک تمام اختیارات گورنر کے پاس چلے گئے ہیں ، نئے نگران وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے لیے سینیٹ میں قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف باہمی مشاورت سے ایک ہفتے میں کسی ایک نام پر اتفاق سے فیصلہ کرنا ہے دونوں بیٹھ کر فیصلہ کریں گے پھر 6 رکنی کمیٹی تشکیل دی جائے گی، سینیٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی فیصلہ کرےگی، اگر سینیٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی کسی نتیجے پر نہ پہنچی تو فیصلہ الیکشن کمیشن کرےگا

    واضح رہے کہ نگران وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اعظم خان وفات پا گئے ہیں،اعظم خان علیل تھے اور وہ ہسپتال میں زیر علاج تھے، ترجمان آر ایم آئی نے تصدیق کی ہے کہ اعظم خان کی موت ہو گئی ہے،انہیں گزشتہ شب ہسپتال منتقل کیا گیا تھا،

  • نگران وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اعظم خان وفات پا گئے

    نگران وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اعظم خان وفات پا گئے

    نگران وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اعظم خان وفات پا گئے

    اعظم خان علیل تھے اور وہ ہسپتال میں زیر علاج تھے، ترجمان آر ایم آئی نے تصدیق کی ہے کہ اعظم خان کی موت ہو گئی ہے،انہیں گزشتہ شب ہسپتال منتقل کیا گیا تھا،اعظم خان کی وفات کی خبر سن کر خیبر پختونخوا کی نگران کابینہ کے اراکین اور اعظم خان کی فیملی کے ارکان اسپتال پہنچ گئے ہیں،، نگران وزیر اعلی کو معدے کی بیماری لاحق تھی اور آج صبح دس بجے دل کا دورہ پڑنے سے اس دنیا فانی سے رخصت ہوئے، وہ بیماری کے باعث کل ہونے والے کابینہ اجلاس میں بھی شریک نہیں ہوئے تھے، اعظم خان ایک اعلی تعلیم یافتہ خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور اعلی عہدوں پر رہ چکے ہیں، اعظم خان کی نماز جنازہ ساڑھے تین بجے انکے آبائی گاؤں چارسدہ میں ادا کی جائے گی

    اعظم خان کی بطور نگراں وزیراعلیٰ تقرری کا نوٹی فیکیشن 21 جنوری کو جاری کیا گیا تھا،انکا تعلق چارسدہ سے ہے،محمد اعظم خان صوبے کے چیف سیکرٹری اور 2007.08 میں نگران صوبائی کابینہ کے رکن رہ چکے تھے،وہ سابق انسپکٹر جنرل پولیس، سابق نگران صوبائی وزیر عباس خان کے بھائی، قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ کے کزن اور اٹک سے ن لیگ کے سابق رکن پنجاب اسمبلی خانزادہ تاج کے داماد ہیں جو سابق وزیرداخلہ پنجاب شجاع خانزادہ کے چچا ہیں۔اعظم خان 80 کے عشرے کے آخر میں چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا رہے ۔وہ وفاقی سیکرٹری پٹرولیم اور سیکرٹری مذہبی امور کے طور پر خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔ انہوں نے پاکستان ٹوبیکو بورڈ خیبر پختونخوا کے چیئرمین کے طور پر بھی کام کیا ہے اور سرکاری ملازمت سے ریٹائرمنٹ کے بعد وہ کئی نیم سرکاری اداروں کے ساتھ منسلک رہے ۔

    اعظم خان کی وفات،نگران وزیراعظم،صدر مملکت،شہبازشریف،آصف زردری و دیگر کا اظہار افسوس
    اعظم خان کی وفات پر سیاسی رہنماؤں کی جانب سے افسوس کا اظہار کیا گیا ہے اور مرحوم کے لئے دعائے مغفرت کی گئی ہے،صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ اعظم خان کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا،صدر مملکت نے نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختون خواہ کے لواحقین سے اظہار تعزیت کی اور کہا کہ مرحوم اعظم خان کے ساتھ ملاقاتوں میں اُنہیں ایک شریف النفس انسان پایا ،صدر مملکت نے اہل خانہ کے ساتھ اظہار ہمدردی ، صبر جمیل کی دعا کی،صدر مملکت نے مرحوم اعظم خان کیلئے دعائے مغفرت ، بلندی درجات کی دعا بھی کی

    نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کا کہنا ہے کہ نگران وزیر اعلی خیبر پختونخواہ اعظم خان کے انتقال کی تکلیف دہ خبر ملی وہ یقینا ایک ایماندار اور نیک انسان تھے۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے ۔ آمین

    پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے خیبرپختونخوا کے نگران وزیراعلی اعظم خان کے انتقال پر اظہار افسوس کیا اور کہا کہ مرحوم اعظم خان نے اہم ترین انتظامی ذمہ داریوں کو خوش اسلوبی سے نبھایا،مرحوم اعظم خان کے عوام کی خدمت کے حوالے سے اٹھائے جانے والے اقدامات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا،بلاول بھٹو زرداری نے خیبرپختونخوا کے مرحوم نگران وزیراعلی اعظم خان کے بلندی درجات اور لواحقین کے صبرجمیل کی دعا کی.

    اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہارکیا ، انہوں نے مرحوم اعظم خان کے صوبے کی عوام کے لیے اٹھائے گئے اقدامات پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ اعظم خان کی سیاسی و سماجی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، دکھ کی گھڑی میں سوگوار خاندان کے غم اور صدمے میں برابر کا شریک ہوں، اسپیکرنے اللہ تعالیٰ سے مرحوم کے درجات کی بلندی اور سوگوار خاندان کو اس ناقابل تلافی نقصان کو برداشت کرنے کے لیے صبر جمیل عطاء فرمانے کی دعا کی

    سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے نگران وزیراعلی خیبر پختون خواہ محمد اعظم خان کے انتقال پر اظہار افسوس اور تعزیت کیا اور کہا کہ اعظم خان نے بطور سول سرونٹ ایمانداری اور پروفیشنل ازم خدمات انجام دیں ،وہ ایک ایسے خاندان سے تعلق رکھتے تھے جن کے کئی افراد نے ملک وقوم کی بڑے خلوص سے خدمت کی ،16 ماہ کی مخلوط حکومت کے دوران ان کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا، ان کا جذبہ خدمت دیکھ کر بہت متاثر ہوا،سیلاب متاثرین کی مدد کی مہم کے دوران اعظم خان نے نہایت جانفشانی اور اخلاص سے کام کیا ،وہ کم گو لیکن نہایت ذہین اور بیدار ذہن شخص تھے،ملک وقوم کے لئے ان کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں،اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے ، اہل خانہ اور تمام وابستگان کو صبر جمیل دے۔ آمین

    سابق صدر آصف علی زرداری نے نگران وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمد اعظم خان کے انتقال پر اظہار افسوس کیا،آصف علی زرداری نے محمد اعظم خان مرحوم کے خاندان سے اظہار تعزیت کیا ،آصف علی زرداری نے محمد اعظم خان کی مغفرت اور بلند درجات کیلئے دعاکی،

    چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی طرف سے خیبرپختونخوا کے نگران وزیر اعلی محمد اعظم خان کی ناگہانی وفات پر نہایت دکھ کا اظہار کیا گیا، ترجمان الیکشن کمیشن کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان غم اور صدمے کے ان لمحات میں مرحوم وزیراعلی کے خاندان کے ساتھ دلی ہمدردی کا اظہار کرتا ھے، اللہ تعالٰی ان کو جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائیں۔آمین

  • غیرقانونی تارکین وطن کی افغانستان منتقلی سے متعلق7 نومبر کی رپورٹ جاری

    غیرقانونی تارکین وطن کی افغانستان منتقلی سے متعلق7 نومبر کی رپورٹ جاری

    محکمہ داخلہ خیبر پختونخوا نےغیرقانونی تارکین وطن کی افغانستان منتقلی سے متعلق7 نومبر کی رپورٹ جاری کر دی

    رپورٹ میں کہا گیا کہ خیبرپختونخوا سمیت ملک بھر سے غیر قانونی غیر ملکیوں کی رضاکارانہ واپسی و جلاوطنی کا عمل جاری ہے ،منگل کے روزبراستہ طور خم بارڈرمزید 5085 غیر ملکیوں کی انخلا کاعمل مکمل ہوگیاہے،طور خم بارڈرکے راستے 829 خاندان جس میں 1403 مرد، 1394 خواتین اور 2122 بچے شامل تھے افغانستان بھیجے گئے، طورخم بارڈر ،کے راستے166 جلاوطنوں کو بھی سرحد پارافغانستان بھجوا دیا گیا، خیبرپختونخوا سمیت ملک بھر سے اب تک طورخم بارڈر کے ذریعے ایک لاکھ 90 ہزار418 افراد افغانستان داخل ہوئے، 31اکتوبرسے 7نومبر تک 13327 خاندان، 53327 مرد، 40976 خواتین اور94956 بچے براستہ طور خم واپس بھیجے گئے، پشاورٹرانزٹ سنٹرسے گزشتہ روز دوقافلوں میں 147 افرادکو طورخم بارڈر بھجوایا گیا ،پہلے قافلے میں86 اوردوسرے قافلے میں 61 افرادتھے جن میں 46 مرد،29خواتین اور64بچے شامل تھے،

    غیر قانونی طور پر رہائش پزیر افغان مہاجرین کو ہر صورت واپس اپنے وطن جانا ہوگا، نگراں وزیر اطلاعات

    پاکستان میں غیر قانونی مقیم تمام غیر ملکی شہریوں کو 31 اکتوبر 2023 تک پاکستان چھوڑنے کا حکم

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    حکومت کا پیغام پاکستان میں مقیم تمام غیرقانونی مقیم افراد کے لیے ہے 

    افغان باشندوں کا انخلا،ڈیڈ لائن تک پاکستان چھوڑنا ہی ہو گا

    ویزا مدت ختم ہونے پر کوئی پاکستانی سعودی عرب یا کسی اور ملک میں رہ سکتا ہے؟ عدالت
    دوسری جانب غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کی بے دخلی سے متعلق سماجی کارکن شیما کرمانی سمیت دیگر نے سندھ ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی،سندھ ہائیکورٹ نے درخواست پر وفاقی اور صوبائی حکومت کو نوٹس جاری کرنے سے انکار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے اور کہا کہ غیر قانونی مقیم افراد کی بے دخلی رہاست کی پالیسی ہے، عدالت اس معاملے میں مداخلت نہیں کر سکتی، دوران سماعت سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس نعمت اللہ پھلپوٹو نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پہلے درخواست قابل سماعت ہونے پر دلائل دیے جائیں درخواست گزار حکومت کے اس فیصلے سے کیسے متاثر ہے؟درخواست گزار کے وکیل نے کہا یہ مفاد عامہ کا مسئلہ ہے،جسٹس امجد علی سہتو نے استفسار کیا کہ ریاست کی پالیسی اور فیصلے میں عدالت کیسے مداخلت کر سکتی ہے؟ جسٹس نعمت اللہ پھلپوٹو نے کہا ہم کسی بھی صورت ریاست کی پالیسی میں مداخلت نہیں کر سکتے،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ افغان مہاجرین کو سننے کا حق نہیں دیا جا رہا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہورہی ہے، جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ ویزا مدت ختم ہونے پر کوئی پاکستانی سعودی عرب یا کسی اور ملک میں رہ سکتا ہے؟ ویزا ختم ہونے کے بعد ایک دن بھی کسی ملک میں نہیں رہ سکتے

  • منشیات اسمگلنگ معاملہ،گاڑیوں پر محکموں اور پروفیشنلز کی نمبر پلیٹ لگانے پر پابندی عائد

    منشیات اسمگلنگ معاملہ،گاڑیوں پر محکموں اور پروفیشنلز کی نمبر پلیٹ لگانے پر پابندی عائد

    پشاورہائیکورٹ نےگاڑیوں پر محکموں اور پروفیشنلز کی نمبر پلیٹ لگانے پر پابندی عائد کردی ۔

    باغی ٹی وی :پشاور ہائیکورٹ کی جانب سے جاری منشیات کیس کا تحریری فیصلہ جسٹس اشتیاق ابراہیم نے تحریر کیا، جس میں لکھا گیا ہے کہ سرکاری نمبر پلیٹ کے علاوہ محکموں، پروفیشنل یا کوئی بھی پرائیویٹ نمبر پلیٹس کو گاڑیوں سے ہٹایا جائے گا بہت سے کیسز میں مشاہدے میں آیا کہ منشیات کی اسمگلنگ کے لئے ڈیپارٹمنٹ، پروفیشنل اور پرائیوٹ نمبرز پلیٹ کی گاڑیاں استعمال ہوتی ہے ،9 ستمبر کو بھی مردان میں پولیس نے گاڑی پکڑی جس کی نمبر پلیٹ ممبر پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن( APL 2023-KPk) کے نام سے تھی –

    الیکٹرک سکوٹرز کیلئے مینوفیکچرنگ اور بیٹری سوئیپنگ نیٹ ورک کا قیام

    پشاور ہائی کورٹ نے مختلف محکموں اور پروفیشنلزکی نمبر پلیٹ لگانے پر پابندی عائد کرتے ہوئے حکومت کو ایسی نمبر پلیٹ لگانے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کا حکم دے دیاعدالت کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نظر سے بچنے کے لیے اسمگلر ہیلتھ ڈپارٹمنٹ، لائرز، جوڈیشری، پولیس اور ایکسائز وغیرہ کی نمبر پلیٹ استعمال کرتے ہیں آفیشل ہوں یا پرائیویٹ تمام افسران وہی نمبر پلیٹ لگائیں گے جو حکومت کی طرف سے الاٹ کی گئی ہو-

    آٹے،چاول ،چینی اور گھی کی قیمت میں اضافہ

    عدالت نے حکم دیا کہ ایڈیشنل رجسٹرار ہائی کورٹ فیصلے کی کاپی چیف سیکرٹری، آئی جی پولیس، سیکرٹری ایکسائز، ڈائریکٹر پراسیکیوشن، رجسٹرار ہائی کورٹ اور سیکرٹری کے پی بارکونسل ارسال کریں۔

  • کے پی کے میں ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ کے لئے پلان تیار

    کے پی کے میں ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ کے لئے پلان تیار

    محکمہ داخلہ خیبرپختونخوا نے صوبے میں 26 نومبر کو منعقد ہونے والے ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ کے لیے حتمی پلان تیار کرلیا۔ محکمہ داخلہ خیبر پختونخوا کے مطابق ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ کے لیے قواعد و ضوابط طے کرلیے۔ جس کا اعلامیہ جاری کر لیا گیا ہے .اعلامیے کے مطابق پشاور، ڈی آئی خان، کوہاٹ، مردان، لوئر دیر، سوات اور ابیٹ آباد میں ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ کے لیے امتحانی مراکز قائم کر دیے جائیں گے، پشاور سمیت تمام اضلاع میں 11 امتحانی مراکز میں ٹسٹ منعقد کیا جائے گا۔
    محکمہ داخلہ خیبرپختونخوا کے مطابق ایم ڈی کیٹ ٹسٹ کے لیے پرنٹنگ اور دیگر اہم اقدامات پشاور پولیس کی زیر نگرانی کیے جائیں گے، امتحانات کے لیے ڈیوٹی عملے کی تفصیلات خیبر میڈیکل یونیورسٹی جاری کرے گی، خیبر میڈیکل یونیورسٹی سے امتحانی مراکز تک تمام تر امتحانی سامان کی ترسیل پولیس کی نگرانی میں ہوگی۔ محکمہ داخلہ کے جاری اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ امتحان کے لیے واک تھرو گیٹ سمیت تمام تر سیکیورٹی اقدامات کے لیے پولیس کو ایف آئی اے کی معاونت حاصل ہوگی، امتحانی حال پر لیڈیز پولیس کو بھی تعینات کیا جائے گا، امتحانی ہال کے باہر اور آس پاس ٹریفک کا نظام محکمہ ٹریفک سنبھالے گا، ٹیسٹ کے اوقات کے دوران تمام مراکز کے نزدیکی موبائل ٹاورز کی سروسز کو معطل کیا جائے گااس کے علاوہ خیبر پختونخوا کے تمام محکموں کے سیکرٹریز اور دیگر انتظامی افسران کو اعتماد میں لے کر تمام تر امتحانی معاملات سے دور رکھا جائے گا، پولیس صرف سیکیورٹی کے فرائض انجام دے گی، صوبے کے تمام مختص امتحانی مراکز میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے جائیں گے۔محکمہ داخلہ کے جاری اعلامیے میں مزید بتایا گیا کہ ڈیوٹی عملہ، طلباء اور طالبات پر موبائل کے استعمال پر مکمل پابندی عائد ہوگی، کسی بھی ایمرجنسی صورتحال سے نمٹنے کے لیے محکمہ صحت کا عملہ تعینات رہے گا، تمام 7 اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز بھی بطور ریجنل کوآرڈی نیٹر آفیسرز اپنے فرائض سرانجام دیں گے۔
    محکمہ داخلہ خیبر پختونخوا کے اعلامیے کے مطابق تمام متعلقہ ادارے آپس میں بہترین کوآرڈی نیشن رکھنے کے پابند بنا دیے گئے ہیں۔