6 ستمبر کی شام جوڈیشل مجسٹریٹ علی بیگ اس وقت مبینہ طور پر لاپتہ ہوگئے جب وہ اپنے آبائی گاؤں شییشہ ڈگر، کلات سے خضدار کی جانب سفر کر رہے تھے۔
تفصیلات کے مطابق علی بیگN-25 کے راستے سفر کر رہے تھے، تاہم سفر کے دوران ان سے اچانک رابطہ منقطع ہوگیا۔ ان کی آخری معلوم لوکیشن کلات کے علاقے بنچہ میں سامنے آئی، جس کے بعد ان کے بارے میں کوئی معلومات نہیں مل سکیں۔ اہلِ خانہ کی جانب سے گمشدگی کی اطلاع کے بعد پولیس نے ان کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔بلوچستان حکومت اور سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ علی بیگ کی گمشدگی کے پیچھے بی ایل اے دہشتگردوں کا ہاتھ ہے یہ محض ایک فرد کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ قانون اور انصاف کے نظام پر براہِ راست حملہ ہے۔ جوڈیشل افسران کو نشانہ بنا کر دہشتگرد عناصر ریاستی اداروں کو خوفزدہ اور عوام میں عدم تحفظ پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ بی ایل اے کی دہشتگردی کا مقصد صرف سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ ایسے سرکاری اہلکاروں کو بھی خوفزدہ کرنا ہے جو قانون کے مطابق اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ ایک جوڈیشل مجسٹریٹ کی مبینہ اغوا کاری یہ ظاہر کرتی ہے کہ دہشتگرد عناصر قانون کی بالادستی کو کمزور کرنے اور ریاستی اداروں کو دباؤ میں لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جو دہشت گرد قانون، عدالت اور ریاستی اداروں کو نشانہ بناتے ہیں، وہ بلوچستان کے عوام کے حقوق کے محافظ نہیں بلکہ ان کے امن اور مستقبل کے دشمن ہیں۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ بلوچستان میں عدالتی افسران کو دہشتگردی کا نشانہ بنایا گیا؛ 23 جولائی 2026 کو مستونگ میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین بھی شہید اور ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری زخمی ہوئے۔ بلوچستان کے عوام کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ان کے بچوں کا مستقبل عدالتوں، تعلیم اور ترقی سے وابستہ ہوگا یا بندوق اٹھانے والے دہشتگردوں سے۔ ریاستی اہلکار کا اغوا صرف اس کے خاندان کا نقصان نہیں، بلکہ پورے معاشرے میں قانون کی حکمرانی کے خلاف ایک جرم ہے۔
