بجلی کے بھاری بھرکم بلوں کے باوجود رات بھر قہر ڈھاتی گرمی میں فورسڈ لوڈشیڈنگ سے معصوم بچوں بزرگوں اور مریضوں کا جینا محال
خود ساختہ مہنگائی اور ایل پی جی مافیا کی لوٹ مار عروج پر عوام دورِ جدید میں بھی پتھر کے زمانے کی زندگی گزارنے پر مجبور
گوجرخان (قمرشہزاد) جدید دور کا پسماندہ ترین خطہ، گوجرخان مسائل کی آماجگاہ بن چکا ہے جہاں بنیادی انسانی ضرورتیں بھی خواب بن کر رہ گئی ہیں۔ واپڈا کی جانب سے رات کے وقت کی جانے والی بدترین اور غیر اعلانیہ فورسڈ لوڈشیڈنگ نے شدید حبس، گھٹن اور قہر ڈھاتی گرمی میں شہریوں سے راتوں کا سکون چھین لیا ہے۔ معصوم بچے، بوڑھے اور تڑپتے ہوئے مریض رات بھر بستروں پر تڑپنے پر مجبور ہیں، جبکہ دوسری جانب بھاری بھرکم بجلی کے بل غریب عوام کی کھال اتار رہے ہیں۔ بجلی غائب تو گیس بھی ناپید ہو چکی ہے، اور رہی سہی کسر پانی کے شدید بحران نے پوری کر دی ہے جہاں سرکاری پینے کے صاف پانی کی بوند بوند کو عوام ترس چکے ہیں۔ تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال گوجرخان شفاخانے کے بجائے ذلت اور رسوائی کا گڑھ بن چکا ہے، جہاں علاج معالجے کی بنیادی سہولیات تک دستیاب نہیں اور مریض سسکتے ہوئے دم توڑنے پر مجبور ہیں۔ جبکہ دوسری جانب ایل پی جی مافیا نے اوگرا کے سرکاری نوٹیفیکیشن کو ردی کی ٹوکری میں پھینک کر لوٹ مار کا بازار گرم کر رکھا ہے اور غریب شہری مہنگے داموں سلنڈر خریدنے پر مجبور ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ پٹرولیم مصنوعات میں نمایاں کمی کے باوجود اشیائے خوردونوش، پھلوں اور سبزیوں، بیف، مٹن، چکن کے نرخ آسمان سے باتیں کر رہے ہیں، عوامی جیبوں پر ڈاکا ڈالنے کے لیے لینڈ ریونیو ڈیپارٹمنٹ میں مبینہ کرپشن کا ناسور عروج پر ہے، جہاں رشوت کے بغیر کوئی کام نہیں ہوتا۔ ان تمام روح فرسا مسائل، لٹتے ہوئے عوام اور سسکتی ہوئی زندگیوں کے باوجود مقامی سیاسی رہنماؤں کی مجرمانہ چشم پوشی اور عدم دلچسپی حکومتی ایوانوں پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ عوامی مینڈیٹ لے کر اسمبلیوں کی زینت بننے والے نمائندے آج اسمبلی فلورز پر گوجرخان کی آواز اٹھانے سے بالکل قاصر ہیں اور اہلیانِ گوجرخان اس بدترین دور میں بے یار و مددگار کسی مسیحا کے منتظر ہیں۔ حکومتِ وقت اور اعلیٰ حکام فوری طور پر اس ظلم کا نوٹس لیں، ورنہ عوامی صبر کا پیمانہ لبریز ہونے پر لگنے والی آگ ایوانوں تک پہنچ جائے گی۔
گوجرخان بجلی گیس اور پانی نایاب ہسپتال علاج کے نام پر ذلت گاہ عوامی نمائندے تماشائی
