گوجرخان (قمرشہزاد) گوجرخان میں ترقیاتی منصوبوں اور انڈر پاسز کی تعمیر کے نام پر انتظامیہ کی جانب سے حالیہ کارروائی نے قانون کے یکساں نفاذ پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ سروس روڈ اور کھوکھا بازار میں غریب ریڑھی بانوں اور دکانداروں کے روزگار کو سیکنڈوں میں مسمار کر دیا گیا، اور قومی خزانے سے بنی سرکاری املاک پر بھی بلڈوزر چلا دیا گیا۔ تاہم، ذرائع کے مطابق اسسٹنٹ کمشنر گوجرخان خضر ظہور گورائیہ کے آفس میں آج ہونے والی حالیہ میٹنگ نے انتظامیہ کے دہرے معیار کو بے نقاب کر دیا ہے۔ ایک طرف غریب کا چولہا اجاڑ دیا گیا، تو دوسری طرف بااثر نجی بلڈنگ مالکان اور تاجروں کو یقین دہانی کرائی جا رہی ہے کہ ان کے نشان زدہ انفراسٹرکچر کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔
شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ کھلا دوہرا معیار ناقابل قبول ہے۔ اگر قانون غریب کے کھوکھے اور سرکاری املاک کے لیے سخت ہو سکتا ہے، تو بااثر نجی املاک کے سامنے بے بس کیوں دکھائی دیتا ہے؟ انصاف کا تقاضا ہے کہ تجاوزات اور ترقیاتی کاموں کے نام پر آپریشن بلاامتیاز ہونا چاہیے، نہ کہ صرف کمزور کو نشانہ بنا کر اشرافیہ کو تحفظ فراہم کیا جائے۔
