Baaghi TV

Category: راولپنڈی

  • پولیس اور ڈاکوؤں کا آمنا سامنا، کراس فائرنگ، دو ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار

    پولیس اور ڈاکوؤں کا آمنا سامنا، کراس فائرنگ، دو ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار

    موت کا رقص اور پولیس کی جرات، سی پی او سید خالد ہمدانی کا دو ٹوک اعلان پولیس پر گولی چلانے والوں کا انجام ہسپتال یا قبرستان ہوگا
    یہ محض ایک گرفتاری نہیں بلکہ علاقے میں چھپے گینگز کے لیے واضح پیغام ہے شہریوں کے مال و جان سے کھیلنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں سید دانیال

    گوجرخان (قمرشہزاد) تھانہ مندرہ کا علاقہ گزشتہ رات میدانِ جنگ بن گیا جہاں فرض شناس پولیس پارٹی اور سنگین وارداتوں میں مطلوب چار سفاک ڈاکوؤں کے درمیان آمنا سامنا ہونے اور پولیس کی جانب سے مشکوک موٹرسائیکل کو رکنے کا اشارہ کرنے پر ملزمان نے خوف و ہراس پھیلانے کی نیت سے اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ اس ہولناک مقابلے کے دوران کانسٹیبل علی کو براہِ راست گولی لگی، مگر سینے پر لگی بلٹ پروف جیکٹ سیسہ پلائی دیوار ثابت ہوئی اور کانسٹیبل کی جان بچ گئی۔ پولیس کی بھرپور جوابی کارروائی اور پیشہ ورانہ حکمت عملی کے نتیجے میں دو خطرناک ڈاکو گولیوں کی زد میں آکر زخمی ہوئے، جنہیں پولیس نے گرفتار کر لیا۔ ملزمان کے قبضے سے وہ موٹر سائیکل بھی برآمد کر لیا گیا جو ڈیڑھ ماہ قبل ایک شہری سے اسلحہ کے زور پر چھینا گیا تھا۔گرفتار ملزمان ڈکیتی اور وہیکل لفٹنگ کی درجنوں سنگین وارداتوں میں پولیس کو مطلوب تھے۔ اے ایس پی سید دانیال حسن نے دو ٹوک الفاظ میں کہا پولیس پر فائرنگ کرنا دراصل ریاست کی رِٹ کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔ ہمارے جوانوں نے جس بہادری سے موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ان خطرناک مجرموں کو دبوچا ہے، وہ محکمہ پولیس کے لیے باعثِ فخر ہے۔ ہم واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ گوجرخان کی حدود میں شہریوں کے مال و جان سے کھیلنے والے درندوں کے لیے کوئی جگہ نہیں، قانون کا آہنی ہاتھ ان کا تعاقب جاری رکھے گا۔ جبکہ ایس ایچ او مندرہ ملک تنویر اشرف نے کہا کہ یہ محض ایک گرفتاری نہیں بلکہ علاقے میں چھپے گینگز کے لیے ایک واضح پیغام ہے۔ ملزمان انتہائی شاطر اور مسلح تھے، لیکن ہماری ٹیم کی بروقت جوابی فائرنگ نے انہیں سر اٹھانے کا موقع نہیں دیا۔ مفرور ساتھیوں کے گرد گھیرا تنگ کر دیا گیا ہے اور بہت جلد وہ بھی اپنے عبرتناک انجام کو پہنچیں گے۔ سی پی او راولپنڈی سید خالد محمود ہمدانی نے کامیاب کارروائی پر پوری ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے شاباش دی اور تعریفی اسناد کا اعلان کیا ہے۔

  • یوٹیلیٹی بل زیادہ آنے پر 22 سالہ نوجوان نے خودکشی کرلی

    یوٹیلیٹی بل زیادہ آنے پر 22 سالہ نوجوان نے خودکشی کرلی

    راولپنڈی میں 22 سالہ نواجوان نے یوٹیلیٹی بل زیادہ آنے پر مبینہ طور پر خودکشی کر لی۔

    تفصیلات کے مطابق تھانہ پیرودھائی کے علاقے گلی لوہاراں میں فاروق خان نے شہ رگ پر چھری پھیر کر زندگی کا خاتمہ کر لیا پولیس موقع پر پہنچ گئی اور سی سی ٹی کیمروں کی فوٹیج حاصل کرکے تحقیقات شروع کر دی ہیں،علاقے میں مبینہ اطلاع پھیل گئی کہ متوفی نے یوٹیلیٹی بل زیادہ آنے پر زندگی کا خاتمہ کرلیا تاہم واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔ایس ایچ او پیر ودھائی کا کہنا ہے کہ خودکشی ہوئی ہے لیکن وجہ کا تعین نہیں ہو سکا اس لیے تحقیقات میں صورتحال واضح ہوگی۔

  • گوجرخان سبزی منڈی نہیں ڈاکوؤں کی کمین گاہ مارکیٹ، کمیٹی غائب

    گوجرخان سبزی منڈی نہیں ڈاکوؤں کی کمین گاہ مارکیٹ، کمیٹی غائب

    مارکیٹ کمیٹی کی مجرمانہ خاموشی یا آڑھتی مافیا سے حصہ داری؟ سی ایم کے ریلیف مشن کا جنازہ نکل گیا
    گوجرخان سبزی منڈی نہیں ڈاکوؤں کی کمین گاہ مارکیٹ کمیٹی غائب، پرائس مجسٹریٹس کا شکار صرف غریب ریڑھی بان، بڑے مگرمچھوں کو کھلی چھوٹ
    گوجرخان میں قانونِ جنگل نافذ نجی منڈی میں آڑھتیوں کی غنڈہ گردی، مارکیٹ کمیٹی پرائس مجسٹریٹس بھتہ خوری میں برابر کے شریک؟ شہریوں کی دہائی
    گوجرخان (قمرشہزاد) گوجرخان میں ریاست نام کی کوئی چیز باقی نہ رہی، رمضان المبارک کی آمد سے قبل ہی گوجرخان میں گراں فروشوں اور آڑھتیوں نے پنجے گاڑ لیے، گلیانہ موڑ سبزی منڈی مڈل مین آڑھتی مافیا کے ٹارچر سیل میں تبدیل ہو چکی ہے جہاں ہر صبح چھوٹے سبزی و پھل فروشوں کی جیبوں پر سرِ عام ڈاکہ ڈالا جاتا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کی جانب سے عوام کو سستی اشیائے خوردونوش فراہم کرنے کے بلند بانگ دعوے گوجرخان کی سبزی منڈی میں دم توڑتے نظر آ رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق گلیانہ موڑ نیو سبزی و فروٹ منڈی میں بولی کے دوران مارکیٹ کمیٹی کا عملہ پراسرار طور پر غائب رہتا ہے، جس کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے آڑھتیوں اور مڈل مینوں نے غریب عوام کو لوٹنے کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ عوامی ریلیف کے دعوے گوجرخان کی گرد آلود گلیوں میں دم توڑ رہے ہیں۔ مارکیٹ کمیٹی پیرا فورس اور پرائس مجسٹریٹس نے عوامی ریلیف کے ویژن کو آڑھتیوں کے قدموں میں ڈھیر کر دیا ہے۔ متعلقہ حکام کی منافقت کا یہ عالم ہے کہ نام نہاد پرائس کنٹرول مجسٹریٹس اور پیرا فورس کے شیر صرف نہتے ریڑھی بانوں اور دیہاڑی دار دکانداروں پر گرجتے ہیں۔ چند روپوں کے فرق پر غریب کا چالان کرنے والے ان افسران کی زبانیں آڑھتیوں کے سامنے گنگ ہو جاتی ہیں۔ حیرت انگیز طور پر جہاں سے مہنگائی کا طوفان اٹھتا ہے یعنی کہ نیو سبزی منڈی کے وہ آڑھتی جو من مانی بولی لگا کر ریٹ بڑھاتے ہیں انہیں قانون سے بالاتر قرار دے دیا گیا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان مجسٹریٹس کی قانون پسندی صرف کمزور ریڑھی و چھابہ فروشوں کے لیے ہے، جبکہ منڈی کے بڑے مگرمچھوں نے شاید ان کے ضمیروں کی قیمت لگا دی ہے۔ مارکیٹ کمیٹی کا عملہ بولی کے وقت کسی پراسرار غار میں روپوش ہو جاتا ہے تاکہ آڑھتی اپنی مرضی کے ریٹ مقرر کر کے غریب کی کھال ادھیڑ سکیں۔گوجرخان کی سبزی منڈی پنجاب کا وہ کالا دھبہ ہے جو سرکاری اراضی کے بجائے نجی قبضے میں پل رہی ہے۔ یہاں قانون نہیں، کمیشن مافیا کا سکہ چلتا ہے۔

    آڑھتیوں، مڈل مینوں نے مل کر ایسا جال بنا رکھا ہے کہ کسان کو صلہ ملتا ہے نہ عوام کو ریلیف۔ مارکیٹ کمیٹی کی خاموشی اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ دال میں کچھ کالا نہیں بلکہ پوری دال ہی کالی ہے۔ کیا یہ سمجھا جائے کہ متعلقہ حکام ان آڑھتیوں سے ماہانہ نذرانہ وصول کر کے عوامی چیخوں پر کان نہیں دھر رہے؟ عوامی سماجی حلقوں نے دو ٹوک الفاظ میں مطالبہ کیا ہے کہ اس پرائیویٹ ٹارچر سیل نیو سبزی منڈی کو فوری طور پر سرکاری جگہ حیلیاں منتقل کیا جائے اور بولی کا کنٹرول اسسٹنٹ کمشنر گوجرخان خود اپنے پاس رکھیں۔ اگر اس لوٹ مار کو روکا نہ گیا تو رمضان المبارک میں غریب کے لیے دو وقت کی روٹی بھی خواب بن جائے گی۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ان سفید پوش ڈاکوؤں اور ان کے سہولت کار افسران کے خلاف فوری ایکشن نہ لیا گیا، تو رمضان المبارک میں غریب طبقہ فاقہ کشی پر مجبور ہو جائے گا، جس کی تمام تر ذمہ داری مقامی انتظامیہ اور سوئی ہوئی مارکیٹ کمیٹی پر ہوگی۔

  • بلوچستان میں آپریشن رد الفتنہ ون کامیابی سے مکمل ،216 دہشتگرد جہنم واصل

    بلوچستان میں آپریشن رد الفتنہ ون کامیابی سے مکمل ،216 دہشتگرد جہنم واصل

    سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان میں آپریشن رد الفتنہ ون کامیابی سے مکمل کیا ہے جس کے تحت خواتین اور بچوں سمیت معصوم شہریوں کو نشانہ بنا کر امن و ترقی میں خلل ڈالنے والے بھارتی سپانسر شدہ دہشت گرد عناصر کے خلاف مربوط، تیز اور انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق 29 جنوری 2026 کو پنجگور اور ضلع ہرنائی کے مضافات میں آپریشن شروع کیا گیا جب مصدقہ اور تصدیق شدہ انٹیلی جنس نے دہشت گرد عناصر کی موجودگی کی تصدیق کی جو مقامی عوام کے لیے ایک خطرہ ہیں اس مرحلے کے دوران، سیکورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے شناخت شدہ ٹھکانوں کے خلاف کارروائیاں کیں، جس کے نتیجے میں ہندوستانی پراکسی نیٹ ورکس سے وابستہ 41 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا۔

    سیکورٹی فورسز کے جارحانہ اور ثابت قدم جوابات نے بلوچستان کے امن کو غیر مستحکم کرنے کے لیے فتنہ الہندستان کے مذموم حملوں کو مؤثر طریقے سے ناکام بنا دیا ان کے نتیجے میں انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیوں کا ایک وسیع سلسلہ متعدد علاقوں میں شروع کیا گیا تاکہ مسلسل کومبنگ اور سینیٹائزیشن آپریشنز کے ذریعے دہشت گردوں کے سلیپر سیلز کو ختم کیا جا سکے۔

    پیچیدہ منصوبہ بندی، قابل عمل انٹیلی جنس، اور بغیر کسی رکاوٹ کے مشترکہ عمل کے ذریعے پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں نے آپریشن ردالفتنہ-1 کے تحت انٹیلی جنس ایجنسیوں کے تعاون سے درستگی اور عزم کے ساتھ جواب دیا۔ ان اچھی طرح سے مربوط مصروفیات اور بعد ازاں کلیئرنس آپریشنز کے نتیجے میں، 216 دہشت گردوں کو جہنم میں بھیج دیا گیا ہے، جو دہشت گرد نیٹ ورکس کی قیادت، کمانڈ اینڈ کنٹرول ڈھانچے اور آپریشنل صلاحیتوں کو نمایاں طور پر تباہ کر رہے ہیں۔

    کارروائی کے دوران غیر ملکی ہتھیاروں، گولہ بارود، دھماکہ خیز مواد اور آلات کا کافی ذخیرہ بھی برآمد کیا گیا ہے ابتدائی تجزیہ ان انتہا پسند پراکسیوں کو منظم بیرونی سہولت اور لاجسٹک سپورٹ کی نشاندہی کرتا ہےان آپریشنز کے دوران خواتین اور بچوں سمیت 36 بے گناہ شہریوں نے شہادت کو گلے لگایا جب کہ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 22 بہادر جوانوں نے پاکستان کی علاقائی سالمیت اور اس کے شہریوں کے تحفظ کے لیے لازوال قربانیاں دیں ان کی ہمت، پیشہ ورانہ مہارت اور غیر متزلزل عزم خدمت کی اعلیٰ روایات کی عکاسی کرتے ہیں۔ قوم ان کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتی ہے اور تمام شہداء کے خاندانوں کے ساتھ یکجہتی کے لیے کھڑی ہے۔

    پاکستان کی مسلح افواج حکومت پاکستان کے قومی ایکشن پلان کے دائرہ کار میں دہشت گردی کی تمام شکلوں اور مظاہر سے نمٹنے کے اپنے عزم پر ثابت قدم ہیں اور دہشت گردی کے خطرات کے مکمل خاتمے تک انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں پورے عزم کے ساتھ جاری رہیں گی،آپریشن ردالفتنہ 1 پاکستان اور خصوصاً بلوچستان کے قابل فخر لوگوں کے ہمیشہ تشدد پر امن، تقسیم پر اتحاد اور تشدد پر ترقی کو ترجیح دینے کے غیر متزلزل عزم کا ثبوت ہے۔

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بلوچستان میں آپریشن ردّ الفتنہ-1 کی کامیابی پر پاک فوج اور سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ فتنہ الہندوستان کے 216 دہشتگردوں کو جہنم واصل کرنے پر سیکیورٹی فورسز کو سلام پیش کیا جاتا ہے۔

    محسن نقوی نے سیکیورٹی فورسز کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں، عزم اور حوصلے کو سراہا اور کہا کہ ان کی شجاعت اور مؤثر کارروائیوں نے بلوچستان میں بدامنی کی سازش کو ناکام بنایا انہوں نے واضح کیا کہ فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کا انجام عبرتناک موت ہے اور دہشتگردانہ نیٹ ورک کی قیادت اور آپریشنل صلاحیت کو شدید نقصان پہنچایا گیا۔

    وفاقی وزیر داخلہ نے جام شہادت نوش کرنے والے سیکیورٹی اہلکاروں اور معصوم شہریوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہدا ہمارا فخر ہیں اور ان کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گاانہوں نے قوم کو یقین دہانی کرائی کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز دہشتگردی کے ہر خطرے کے خلاف بھرپور مؤثر کارروائیاں جاری رکھیں گی۔

  • گوجرخان، بلدیہ کی جانب سے 55 پلازوں کو نوٹسز جاری

    گوجرخان، بلدیہ کی جانب سے 55 پلازوں کو نوٹسز جاری

    تجاوزات اور فائر سیفٹی جب عمارتیں بن رہی تھیں تو متعلقہ حکام کہاں سو رہے تھے؟ عوامی حلقوں کا تیکھا سوال
    برسوں کی مجرمانہ خاموشی کے بعد اچانک نوٹسز کی بوچھاڑ سابقہ افسران کے خلاف بھی کارروائی کا عوامی مطالبہ

    گوجرخان(قمرشہزاد) نوتعینات چیف آفیسر بلدیہ نے تحصیل میونسپل کمیٹی کی حدود میں برسوں سے قائم کمرشل پلازوں اور عمارتوں میں فائر سیفٹی آلات کی عدم دستیابی پر متعدد پلازوں کو نوٹسز جاری کر دئیے۔ اچانک شروع کی گئی کارروائی نے کئی سوالات کو جنم دے دیا ہے۔ چیف آفیسر طارق ضیاء ملک کی ہدایت پر اب تک 55 کمرشل پلازوں کو نوٹسز جاری کیے جا چکے ہیں، تاہم اس مہم نے جہاں حفاظتی اقدامات کی سنگینی کو اجاگر کیا ہے، وہاں انتظامیہ کی ماضی کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔ چیف آفیسر طارق ضیاء ملک کا کہنا ہے کہ فائر سیفٹی آلات کی تنصیب قانونی تقاضا ہے اور انسانی جانوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ مقررہ مدت میں حفاظتی انتظامات مکمل نہ کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی ہوگی۔ تاہم، عوامی حلقوں کا مطالبہ ہے کہ صرف نوٹسز تک محدود رہنے کے بجائے ان کرپٹ یا غافل افسران کا بھی تعین کیا جائے جنہوں نے ان غیر قانونی تعمیرات اور حفاظتی اقدامات کی خلاف ورزی پر عرصہ دراز تک آنکھیں بند کیے رکھیں۔

    شہری حلقوں کا مزید کہنا ہے کہ یہ عمارتیں کوئی ایک دن میں تعمیر نہیں ہوئیں، برسوں سے انسانی جانیں خطرے میں ڈال کر ان پلازوں میں تجارتی سرگرمیاں جاری تھیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ متعلقہ شعبے کے انسپکٹرز اور افسران اتنے طویل عرصے تک خوابِ خرگوش کے مزے کیوں لوٹتے رہے؟ کیا ان افسران کے خلاف کوئی محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی جنہوں نے اپنی آنکھوں کے سامنے ان عمارتوں کو بغیر فائر سیفٹی آلات کے مکمل ہونے دیا؟ حالات کی سنگینی اس وقت مزید واضح ہو رہی ہے جب گزشتہ دنوں جی ٹی روڈ پر نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی جانب سے متعدد کمرشل بلڈنگز کی مارکنگ کی گئی، جس میں انکشاف ہوا کہ ان عمارتوں کا کچھ حصہ تجاوزات کی زد میں ہے۔ شہریوں نے تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب یہ نقشے پاس ہو رہے تھے اور بھاری سرمایہ کاری سے یہ بلند و بالا عمارتیں کھڑی کی جا رہی تھیں، تب این ایچ اے اور میونسپل کمیٹی کے متعلقہ محکمے کے افسران اور دیگر متعلقہ ادارے کہاں تھے؟

  • ٹی ایچ کیو ہسپتال گوجرخان سٹی ہسپتال نہیں مردہ خانہ بن گیا

    ٹی ایچ کیو ہسپتال گوجرخان سٹی ہسپتال نہیں مردہ خانہ بن گیا

    گوجر خان (قمرشہزاد) لاکھوں کی آبادی، کروڑوں کا ٹیکس مگر صلہ صفر تحصیل گوجرخان کا سرکاری ہسپتال سیاسی لاوارثی اور شعبہ صحت کی نااہلی کی بھینٹ چڑھ گیا۔ چائلڈ اسپیشلسٹ ڈاکٹر بلال کی راولپنڈی روانگی نے ہسپتال کے شعبہ اطفال کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ ڈاکٹر کنزہ پہلے ہی جا چکی ہیں، ڈاکٹر زاہد چھٹیوں پر ہیں جبکہ ایک اکیلی لیڈی ڈاکٹر فائزہ لاکھوں بچوں کی مسیحائی کا بوجھ اٹھائے کھڑی ہے جو کہ اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہے۔ ڈاکٹر بلال صرف ایک نام نہیں بلکہ گوجرخان کے غریب والدین کے لیے امید کی آخری کرن تھے۔ ان کی موجودگی میں نومولود بچوں سے لے کر کم سن بچوں تک کو گھر کی دہلیز پر علاج میسر تھا، مگر اب ہسپتال کی راہداریوں میں صرف ماؤں کی آہیں اور بچوں کے رونے کی صدائیں گونجیں گی۔

    کیا محکمہ صحت نے گوجرخان کو صرف ٹرانسفر پوسٹنگ کا اکھاڑہ بنا رکھا ہے؟ حلقہ پی پی 8 کے سیاسی ٹھیکیداروں کے لیے یہ ڈوب مرنے کا مقام ہے جو ووٹوں کے وقت تو مسیحا بن کر آتے ہیں مگر اب گوجرخان کے بچے سسکیں گے اور ان کی زبانوں پر تالے ہوں گے۔ غریب عوام سوال کرتے ہیں کہ کیا وہ اپنے لختِ جگر کو لے کر راولپنڈی کی سڑکوں پر خوار ہوں یا پرائیویٹ ہسپتالوں کے قصابوں کے آگے ڈال دیں؟ اس مہنگائی میں جہاں دو وقت کا آٹا میسر نہیں وہاں ہزاروں روپے کی فیسیں کون بھرے گا؟ اہلیانِ گوجرخان نے اظہار تشویش کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب اور وزیرِ صحت سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ اگر فوری طور پر ڈاکٹر بلال کی واپسی یا ان کے متبادل دو قابل چائلڈ اسپیشلسٹ تعینات نہ کیے گئے تو مقامی باسی پرائیویٹ ہسپتالوں میں دھکے کھانے پر مجبور ہوں گے۔ یہ محض ایک خبر نہیں بلکہ ان ہزاروں ماؤں کی پکار ہے جن کے بچے آج سرکاری بے حسی کی وجہ سے خطرے میں ہیں۔

  • گوجرخان بی آئی ایس پی دفتر میں سفید پوشی کا جنازہ، امداد کے نام پر تذلیلِ نسواں

    گوجرخان بی آئی ایس پی دفتر میں سفید پوشی کا جنازہ، امداد کے نام پر تذلیلِ نسواں

    فرعون صفت افسران کے ایئرکنڈیشنڈ کمرے اور باہر تپتی دھوپ میں سسکتی انسانیت؛ کیا مائیں بہنیں صرف ووٹ اور ٹیکس کے لیے ہیں؟
    ڈیجیٹل بینکنگ کے دور میں قرونِ وسطیٰ کی اذیت گوجرخان کی خواتین کو بھکاری سمجھنے والے نظام کے خلاف عوامی غیظ و غضب

    گوجرخان (قمرشہزاد) بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام گوجرخان کا دفتر غریب پروری کے بجائے غریب دشمنی کی علامت بن گیا۔ قسط کے حصول کے لیے آنے والی خواتین کی عزتِ نفس کو جس بے رحمی سے پامال کیا جا رہا ہے، اس نے انسانیت کا سر شرم سے جھکا دیا ہے۔ دفتر کے وسیع و عریض دفتر میں افسرانِ بالا کے لیے تو شاہانہ آسائشیں موجود ہیں، مگر جن خواتین کے نام پر یہ بجٹ ہڑپ کیا جاتا ہے، ان کے لیے سر چھپانے کو چھت ہے نہ بیٹھنے کو بینچ سفید پوش گھرانوں کی مائیں اور بہنیں چند روپوں کی خاطر صبحِ کاذب سے شام تک کھلے آسمان تلے موسم کی تلخیاں جھیل رہی ہیں۔ انتظامیہ کی یہ مجرمانہ خاموشی اور فرعونیت اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کے نزدیک انسانی جان اور عزت کی کوئی وقعت نہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ امداد افسران کی جیب سے دی جا رہی ہے؟ یا یہ عوام کے ٹیکس کا وہ پیسہ ہے جسے بانٹنے کے بہانے غریبوں کی تذلیل کا لائسنس حاصل کر لیا گیا ہے؟ جدید ٹیکنالوجی کے دعوے کرنے والی حکومت کے لیے یہ ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ آج بھی خواتین کو بینک اکاؤنٹس کے بجائے لمبی لائنوں میں ذلیل کیا جا رہا ہے۔ یہ تذلیل محض بدانتظامی نہیں بلکہ ایک منظم جرم ہے جس کا مقصد غریب کی انا کو کچلنا ہے۔

    عوامی سماجی حلقوں نے گوجرخان بی آئی ایس پی دفتر کی ان کالی بھیڑوں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے جنہوں نے دفتر کو اذیت کدہ بنا رکھا ہے۔ خواتین کو فی الفور بینکوں کے ذریعے براہِ راست ادائیگیوں کا سلسلہ شروع کیا جائے اور جب تک یہ نظام نافذ نہیں ہوتا، دفتر کے اندر باعزت طریقے سے بیٹھنے اور پینے کے صاف پانی کا انتظام یقینی بنایا جائے۔ اگر انسانیت کی یہ تذلیل فوری طور پر نہ رکی تو عوام ان سرکاری فرعونوں کا گھیراؤ کرنے پر مجبور ہوں گے۔

  • علیمہ خان  کو گرفتار کرکے عدالت پیش کرنےکا حکم

    علیمہ خان کو گرفتار کرکے عدالت پیش کرنےکا حکم

    انسدادِ دہشتگردی عدالت راولپنڈی نے علیمہ خان کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ جاری کرتے ہوئے ایس پی راول کو ملزمہ کو گرفتار کرکے کل تک عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

    بانیٔ پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان کے خلاف تھانہ صادق آباد میں 26 نومبر کے احتجاج پر درج مقدمے کی سماعت ہوئی علیمہ خان کے وکیل فیصل ملک نے عدالت کو بتایا کہ علیمہ خان کے اکاؤنٹ، شناختی کارڈ جب تک ڈی فریز نہیں ہوں گے وہ عدالت پیش نہیں ہوں گی۔

    اسپیشل پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے کہا کہ ملزمہ عدالت کو ڈکٹیٹ نہیں کر سکتیں، نہ عدالت کو ہائی جیک کر سکتی ہیں، ملزمہ پیش ہی نہیں ہو رہیں تو شناختی کارڈ یا بینک اکاؤنٹ کیسے ڈی فریز کیے جائیں؟،عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد علیمہ خان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست مسترد کرتے ہو ئے ناقابلِ ضمانت وارنٹِ گرفتاری جاری کر دیئے۔

    عدالت نے کہا کہ ملزمہ جب تک عدالت میں پیش نہیں ہوں گی بینک اکاؤنٹ اور شناختی کارڈ بلاک رہیں گے ، بعد ازاں عدالت نے علیمہ خان کے ضامن کو بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت کل تک ملتوی کر دی۔

  • تھانہ مندرہ و جاتلی کی حدود میں ڈاکو راج شہری لٹ گئے

    تھانہ مندرہ و جاتلی کی حدود میں ڈاکو راج شہری لٹ گئے

    سنگھوری میں مسلح ڈاکوؤں کی گھر میں گھس کر غنڈہ گردی، اہلخانہ پر تشدد اور لاکھوں کی لوٹ مار ملزمان کو جلد گرفتار کیا جائے گا ملک تنویر اشرف
    چوروں اور ڈاکوؤں نے پولیس کا ناطقہ بند کر دیا، سنگین وارداتوں نے امن و امان کے دعوؤں کی دھجیاں اڑا دیں شہری حلقوں کا اصلاح و احوال کا مطالبہ
    گوجرخان (قمرشہزاد) سرکل گوجرخان کے مختلف علاقوں میں لاقانونیت کا جن بوتل سے باہر نکل آیا ہے، جہاں ڈاکوؤں اور چوروں نے پولیس کی رٹ کو چیلنج کرتے ہوئے شہریوں کا جینا محال کر دیا ہے۔ تھانہ مندرہ کے علاقے سنگھوری سرور شہید میں ہاؤس رابری کی ایک لرزہ خیز واردات نے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے پولیس نے مقدمہ درج کرکے اپنی تفتیش کا آغاز کر دیا ایس ایچ او ملک تنویر اشرف نے کہا کہ ملزمان کو جلد ہی گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں تھانہ مندرہ کی حدود میں کرائم کا گراف پیک پر تھا جرائم پیشہ عناصر کی سرکوبی اور گشت کے موثر نظام سے کافی حد تک کرائم کے گراف میں کمی آئی ہے۔

    تفصیلات کے مطابق، جمعہ 30 جنوری کی رات پونے آٹھ بجے، جب لوگ اپنے گھروں میں محصور تھے، 4 مسلح سفاک ڈاکو مظہر حسین کے گھر میں داخل ہوئے۔ ان درندہ صفت ڈاکوؤں نے اسلحہ کے زور پر زین مظہر اور دیگر اہلخانہ کو یرغمال بنا کر ایک کمرے میں بند کر دیا اور مزاحمت پر زین مظہر کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔ ڈاکو اطمینان کے ساتھ پورے گھر کو کھنگالتے رہے اور طلائی بالیاں، 35 ہزار نقدی اور موبائل فون چھین کر فرار ہو گئے۔ دوسری جانب تھانہ جاتلی کی حدود بھی جرائم کا گڑھ بن چکی ہے۔ بھیر کلیال میں عمیر یوسف کے قیمتی مویشی چوری کر لیے گئے، جبکہ دولتالہ میں قیصر محمود کے گھر کے تالے توڑ کر طلائی زیورات اور موٹر سائیکل اڑا لی گئی۔ اسی علاقے میں محمد عثمان نامی شہری کو بھی موبائل فون سے محروم کر دیا گیا۔ ان پے در پے وارداتوں نے پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے گھروں اور جان و مال کے تحفظ کے لیے ترس رہے ہیں۔ عوامی حلقوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان بے لگام ڈاکوؤں کو فوری نکیل ڈالی جائے اور عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔

  • گوجر خان جی ٹی روڈ کے خستہ حال پل پر گہرے شگاف،کارکردگی پر سوالیہ نشان

    گوجر خان جی ٹی روڈ کے خستہ حال پل پر گہرے شگاف،کارکردگی پر سوالیہ نشان

    گوجر خان(قمرشہزاد)جی ٹی روڈ گوجرخان سرور شہید کالج کے مقام پر واقع پل کا جہلم سائیڈ والا حصہ اس وقت کسی خوفناک حادثے کے لیے ڈیتھ ٹریپ بن چکا ہے۔ پل کے درمیانی ستونوں کے عین اوپر پڑنے والے گہرے اور چوڑے شگاف دن بدن بڑھتے جا رہے ہیں، جو نہ صرف سڑک کی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہے ہیں بلکہ تیز رفتار ٹریفک کے لیے موت کا پروانہ بن چکے ہیں۔ یہ شگاف گٹر کے کھلے ڈھکنوں سے بھی کہیں زیادہ خطرناک صورتحال اختیار کر چکے ہیں جہاں سے جھانکتا ہوا سریہ کسی بھی گاڑی کا ٹائر پھاڑ کر اسے نیچے ریلوے لائن یا گہری کھائی میں گرانے کے لیے کافی ہے۔

    حیرت انگیز اور لمحہ فکریہ بات یہ ہے کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور موٹروے پٹرولنگ پولیس، جن کی گاڑیاں روزانہ درجنوں بار اس پل سے گزرتی ہیں، اس سنگین خطرے کو دیکھ کر بھی انجان بنی ہوئی ہیں۔ کیا ان افسران کی نظریں ان بڑے شگافوں پر نہیں پڑتیں یا پھر کسی بڑے سانحے کے بعد فوٹو سیشن کے لیے اس مقام کو چھوڑ دیا گیا ہے؟ ان شگافوں میں تیز رفتار گاڑیوں کے ٹائر دھنسنے یا سریہ لگنے سے پبلک ٹرانسپورٹ کی الٹ جانے کا خدشہ موجود ہے، جس کی صورت میں ہونے والے جانی و مالی نقصان کی ذمہ داری براہ راست ان غافل افسران پر عائد ہوگی۔

    علاقہ مکینوں اور مسافروں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے سوال کیا ہے کہ کیا انتظامیہ کسی خونی حادثے کے بعد ہی حرکت میں آئے گی؟ اگر فوری طور پر ان شگافوں کی مرمت نہ کی گئی اور پل کی مضبوطی کا ازسرنو جائزہ نہ لیا گیا، تو یہ غفلت ایک ایسے سانحے کو جنم دے سکتی ہے جس کا تدارک ناممکن ہوگا۔