Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • آئی ٹی ڈپلومیسی سے آپکے موبائل کی جاسوسی تک از طہ منیب

    آئی ٹی ڈپلومیسی سے آپکے موبائل کی جاسوسی تک از طہ منیب

    ہم خود اجازت دیتے ہیں جب بھی ہم کوئی ایپ انسٹال کرتے ہیں، اگر ہم اسکی اجازت نا دیں تو ہم اس ایپ سے درست فائدہ ہی نہیں اٹھا سکتے ، جیسا کہ گیلری، آڈیو، کیمرہ تک ایکسس اور اس سے وہ ہمارا سب کہا ، دیکھا، بولا سنتے ریکارڈ کرتے اور اسکے مطابق اسکی بنیاد پر ہمیں گائیڈ یا ڈکٹیٹ کرتے ہیں۔ مزید جب بھی کسی ایپ کو انسٹال کرنا ہوتا ہے تو وہ ایک صفحہ سامنے لاتے ہیں جس پر انکی جانب سے اصول و ضوابط لکھے ہوتے ہیں جسے ٹک کیے بغیر آپ آگے بڑھ ہی نہیں سکتے اور جسے ہم ہمیشہ آنکھیں بند کر کے جلدی میں اسے پڑھے بغیر ہی ٹک کر کے انسٹال کے بٹن پر کلک کر کے ہی دم لیتے ہیں، اگر اسے ہم پڑھ لیں تب شروع میں ہی ہم محتاط ہو جائیں یا شاید باز آجائیں لیکن ایسا ہوتا نہیں ہے کیونکہ یہ ہمارے مزاج میں شامل نہیں ہے۔

    یہ ٹیکنالوجی میں خود مختار ممالک کا باقیماندہ دنیا پر اسی طرح کا استحصال ہے جیسا کہ وہ کمزور معیشتوں سے تعاون کے نام پر قرضوں کے بعد انکی خودمختاری گروی رکھوا لیتے ہیں اور داخلی خارجی معاملات پر کنٹرول کر لیتے ہیں۔

    بالکل اسی طرز پر انہیں بڑے ممالک کی ٹیکنالوجی میں برتری نے خطرناک حد تک دنیا کے ہر شخص کا ہر طرح کا بائیو ڈیٹا انکی گود میں ڈال دیا ہے جس سے اس شخص کو چلانا اسکی پسند نا پسند اسکی نفسیات غرض سب کچھ ان کے ہاتھ چلا گیا ہے، اور آپکی میری ہم سب کی مجبوری ہے اگر دنیا کے ساتھ چلنا ہے تو ” یہ تو ہو گا”۔ ٹیکنالوجی کا کنٹرول معاشی کنٹرول سے سو گنا بڑھ کر ہے کیونکہ یہاں چند ڈکٹیٹرز حکمرانوں یا ملکی سطح کے مرکزی اداروں تک انکی ڈکٹیشن نہیں ہوتی بلکہ اس کا دائرہ کار ہر فرد تک پہنچ جاتا ہے ۔ آپ یہ دیکھیں کہ صرف فیس بک کے ڈاؤنلوڈز پانچ سے چھ ارب کے درمیان ہیں جو دنیا کی کل آبادی کا نوے فیصد ہیں، تقریباً یہی اعداد و شمار باقی بڑی ویب سائٹس و ایپس کے بھی ہیں۔

    ٹیکنالوجی میں خود مختار دنیا کے بڑے ملکوں کی جنگیں پالیسیاں اب اسی طرز پر ہوتی ہیں جیسا کہ آپ نے دیکھا چند ماہ پہلے امریکہ نے چینی کمپنی ہواوے کو بین کیا ، روسی ایپس پہلے سے بین تھیں، روس و چائنہ میں امریکی ایپس بین ہیں۔ اور تو اور لداخ میں چین سے پڑنے والی مار کا جواب بھارت نے 59 چینی ایپس کو بین کر کے دیا ہے۔

    فی الحال پاکستان جیسے معاشی اعتبار سے کمزور ملک کے بس کی بات نہیں کہ ٹیکنالوجی کے اس میدان میں خود کوئی بڑی ایجادات کرے یا ان کمپینوں سے اپنا کچھ منوا سکے ۔ تقریباً دو ماہ حکومت پاکستان نے تقریباً ان تمام بڑی ایپس کو کچھ اصول و ضوابط پر پابند کرنے کی کوشش کی جس پر ان سب نے پاکستان سے اپنے تمام آپریشنز کو بند کرنے کی دھمکی دی اور تاحال حکومت اس پر کسی قسم کی معمولی شرائط نہیں منوا سکی، بلکہ چند ہفتے قبل پاکستان میں ٹویٹر ڈاؤن پر یہ شبہ کیا گیا تھا کہ یہ پاکستان کو ٹریلر دیکھایا گیا ہے کہ ہمارے سے اپنی سروسز کو بند کرنا کوئی بڑا سودا نہیں۔

    بہرحال ٹیکنالوجی ایک ایسا وسیع موضوع ہے جسے ایک فیس بک پوسٹ یا تحریر میں مکمل کرنا ناممکن ہے، کوشش ہوگی کہ مستقبل میں اس کے دفاعی، معاشی، معاشرتی، ثقافتی، نفسیاتی اثرات پر بات کروں ، فی الوقت اتنا ہی۔

  • انٹرنیٹ سے جڑا "اسمارٹ ماسک”  آگیا جو میسج بھی بھیجے گا اور آٹھ زبانوں میں ترجمہ بھی کرے گا

    انٹرنیٹ سے جڑا "اسمارٹ ماسک” آگیا جو میسج بھی بھیجے گا اور آٹھ زبانوں میں ترجمہ بھی کرے گا

    چونکہ وبائی مرض کورونا وائرس کے دوران اس جان لیوا وائرس سے بچاؤ کے لئےچہرہ ڈھانپنا اور ماسک پہننا انتہائی ضروری ہے تاہم اب جاپانی اسٹارٹ اپ ڈونٹ روبوٹکس نے انٹرنیٹ سے منسلک ایک "سمارٹ ماسک” تیار کیا ہے جو پیغامات منتقل اور جاپانی زبان سے آٹھ دیگر زبانوں میں ترجمہ کرسکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : جاپان عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق جاپانی اسٹارٹ اپ ڈونٹ روبوٹکس نے انٹرنیٹ سے منسلک ایک "سمارٹ ماسک” تیار کیا ہے جو پیغامات منتقل اور جاپانی زبان سے آٹھ دیگر زبانوں میں ترجمہ کرسکتا ہے۔

    جاپان عرب نیوز نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ سفید پلاسٹک کا "سی ماسک” معیاری چہرے کے ماسک سے زیادہ فٹ بیٹھتا ہے اور بلوٹوتھ کے ذریعے اسمارٹ فون اور ٹیبلٹ ایپلی کیشن سے جوڑتا ہے جو تقریر کو ٹیکسٹ پیغامات میں لکھ سکتا ہے ، کال کرسکتا ہے یا ماسک پہننے والے کی آواز کو بڑھا سکتا ہے۔

    جاپان عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق ڈونٹ روبوٹکس کے چیف ایگزیکٹو تائسوک اوونو نے کہا ، "ہم نے روبوٹ کی تیاری کے لئے سالوں سے سخت محنت کی اور ہم نے اس ٹیکنالوجی کو ایک ایسی مصنوع کی تشکیل کے لئے استعمال کیا ہے جس کا جواب ملتا ہے کہ کورونا وائرس نے معاشرے کو کس طرح تبدیل کیا ہے۔”

    ڈونٹ روبوٹکس کے انجینئروں نے ماسک کے بارے میں خیال کیا جب انہوں نے کمپنی کو وبائی مرض سے بچانے میں مدد کے لئے ایک مصنوعات کی تلاش کی۔ جب کورونا وائرس نے حملہ کیا ، تو اس نے ٹوکیو کے ہنیڈا ہوائی اڈ ہ پر روبوٹ گائیڈز اور مترجمین کی فراہمی کا معاہدہ کیا تھا ، یہ ایسی مصنوعات ہے جو ہوائی سفر کے خاتمے کے بعد ایک غیر یقینی مستقبل کا سامنا کرتی ہے۔

    عرب نیوز نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ ڈونٹ روبوٹکس کے پہلے 5،000 سی ماسک جاپان میں خریداروں کو ستمبر میں شروع کیے جائیں گے ، اونونو چین ، ریاست ہائے متحدہ اور یورپ میں بھی فروخت کرنے کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس میں دلچسپی رہی ہے۔

    فی ماسک تقریبا $ 40 (00 4200) پر فروخت کیا جائے گا، ڈونٹ روبوٹکس ایک بڑے پیمانے پر مارکیٹ میں ہدف بنا رہا ہے جو کچھ مہینے پہلے تک موجود نہیں تھا۔ انہوں نے کہا ، اس کا ایک مقصد یہ ہے کہ صارفین کو ان ایپ کے ذریعہ پیش کردہ صارفین کی خدمات سے ریوینیو وصول کیا جاسکے جو صارفین ڈاؤن لوڈ کریں گے۔

    ڈونٹ روبوٹکس نے اپنے روبوٹ اور ماسک ڈیزائن کے لئے تیار کردہ ٹرانسلیشن سافٹ ویئر کو اپناتے ہوئے ایک مہینے کے اندر اندر ایک پروٹو ٹائپ منسلک ماسک بنایا ، جسے کمپنی کے ایک انجینئر ، شانسوک فوجیبیاشی نے چار سال قبل چہرے کے عضلات کی نقاب کشائی کے ذریعے تقریر کی ترجمانی کرنے کے لئے طالب علموں کے منصوبے کے لئے تشکیل دیا تھا۔

    اونو نے جاپانی ہجوم فنڈنگ ​​سائٹ فنڈننو کے ذریعہ ڈونٹ روبوٹکس حصص فروخت کرکے ترقی کے لئے 28 ملین ین (260،000)) اکٹھا کیا۔

    انہوں نے کہا ، "ہم نے اپنا ابتدائی ہدف تین منٹ کے اندر اندر اٹھایا اور 37 منٹ کے بعد جب ہم 28 ملین ین تک پہنچ گئے تو رک گئے۔”

    ٹویٹر صارفین کیلئے زبردست فیچر لے آی

  • مکتبہ شاملہ کی نئی ایپ استعمال کرنے کا طریقہ

    مکتبہ شاملہ کی نئی ایپ استعمال کرنے کا طریقہ

    الحمد للہ مکتبہ شاملہ نے موبائل کے لیے نئی ایپلیکیشن پلے سٹور پر اپ لوڈ کر دی۔ اس کے استعمال کرنے کا طریقہ کار جاننے کے لئے نیچے دیئے گئے لنک پہ کلک کریں

    باغی ٹی وی :مکتبہ شاملہ مدارس کے علماء یونیورسٹیز کے سکالرز اسلامک ریسرچرز اور جتنے بھی اہل علم ہیں سب بخوبی جانتے ہیں کہ مکتبہ شاملہ سوفٹ وئیرز کی دنیا میں اسلماک سوفٹ وئیرز اور ایپلیکیشنز کی دنیا میں سب سے نمایاں اور سب سے اعلی مقام رکھتا ہے

    علماء اس ایپ کو اس قدر استعمال کرتے ہیں اور اس قدر اس کے استعمال کی ترغیب دلاتے ہیں کہ اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ حافظ عبدالسلام بھٹوی کے بارے میں آتا ہے کہ وہ یہاں تک کہا کرتے ہیں کہ اگر تمہیں بھینس بیچ کر لیپ ٹاپ لینا پڑے تا کہ تم اس میں مکتبہ شاملہ انسٹال کر سکو اور اسے استعمال کر سکو یہ نقصان کا سودا نہیں یہ بڑی اہمیت کا حامل ہے اس کے استعمال کا طریقہ ضرور آنا چاہیئے

    مکتبہ شاملہ موبائل ایپلیکیشن

    کیا آپ کے اسمارٹ فون میں ان میں سے کوئی پن ہے؟ اسے جلدی سے تبدیل کریں

  • ‏کراچی میں PUBG کھیلنے سے نوجوان ذہنی مریض بن گیا

    ‏کراچی میں PUBG کھیلنے سے نوجوان ذہنی مریض بن گیا

    عالمی وبا کورونا وائرس سے بچاؤ کے پیش نظر دنیا بھر میں لاک ڈاؤن کا سلسلہ جاری ہے کاروباری نظام سمیت تعلیمی نظام بھی بند ہے بچوں کو سکولز کالجز اور یونیورسٹیز سے چھٹیاں ہیں اور موجودہ حالات کی وجہ سے گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں لوگ خود کو سوشل میڈیا پر اور کچھ نوجوان مختلف گیمز کھیلنے میں خود کو مصروف رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں

    باغی ٹی وی : کورونا وائرس کی وجہ سے جاری لاک ڈاون کے دوران بچے گھروں سے باہر نہیں جا سکتے اس لئے وہ ایسی گیمز کھیلتے ہیں ، جن بچوں کے پاس اینڈرائیڈ موبائل فون نہیں وہ دن بھر ٹی وی پر کارٹون دیکھتے ہیں یا لیپ ٹاپ پر گیمز کھیلتے ہیں جن میں سر فہرست پپ جی اور دوسری گیمز ہیں ں ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک جگہ پر مسلسل گھنٹوں بیٹھ کر ‘ٕپب جی اوردوسرے گیمز کھیلنے سے بچوں کے ذہنی وجسمانی صحت پر مضر اثرات مرتب ہوسکتے ہیں اور آنکھوں کی بینائی بھی متاثر ہوسکتی ہے

    پب جی ایک آن لائن ملٹی پلیئر بیٹل گیم ہے جو بچوں میں کافی مشہور ہے یہ اس وقت دنیا کے مقبول ترین موبائل فون گیمز میں سے ایک ہے جسے ایک تخمینے کے مطابق ماہانہ دس کروڑ افراد اپنے موبائل پر کھیلتے ہیں

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ پب جی ایک مزیدار گیم ہے لیکن اس کے عادی ہونے والوں کے ذہنی وجسمانی صحت پر مضر اثرات مرتب ہوسکتے ہیں یہ انتہائی جذباتی قسم کا گیم ہے اس سے کھیلنے والوں میں انتہائی جذباتی اور جارحانہ خیالات پیدا ہوسکتے ہیں

    ایسے ہی کراچی کے علاقے بہار کالونی کا نوجوان مزمل دن رات پب جی کھیلنے کی وجہ سے نفسیاتی مریض بن گیا ہے مزمل نامی نوجوان کی نفسیاتی مسائل کی وجہ سے جب ڈاکٹرزچیک اپ کروایا گیا تو ڈاکٹرز نے نفسیاتی مسائل کی وجہ پب جی گیم کو قرار دیا

    ڈاکٹرز کے مطابق اس نوجوان مزمل میں آن لائن مار دھاڑ کی وجہ سے انتہائی جذبات پیدا ہوئے ہیں

    جبکہ ماہر نفسیات کا کہنا ہے کہ آن لائن گیمز کھیلنے کے عادی نوجوان خودکشی جیسے اقدام کی طرف مائل ہو جاتے ہیں اور پب جی کے عادی لوگ سماجی طور پر بھی تنہا ہو جاتے ہیں

    خیال رہے کہ اس سے قبل مقبوضہ کشمیر سے بھی والدین نے بچوں کی رات گئے تک پب جی گیم کھیلنے پر تشویش اور پریشانی کا ظہار کیا تھا جبکہ بھارت میں پب جی گیم بہت زیادہ معروف ہوچکی ہے جس پر پابندی کا مطالبہ کیا گیا ہے رواں برس چند ماہ قبل بھارتی ریاست گجرات میں یہ گیم کھیلنے کی عادی ایک خاتون نے پب جی کی خاطر خاوند سے طلاق کا مطالبہ کردیا تھا

    کرونا لاک ڈاؤن، رات میں بچوں نے کیا کام شروع کر دیا؟ والدین ہوئے پریشان

  • کورونا وائرس کی جھوٹی افواہوں سے نمٹنے کے لئے فیس بک میسنجر نے اہم قدم اٹھا لیا

    کورونا وائرس کی جھوٹی افواہوں سے نمٹنے کے لئے فیس بک میسنجر نے اہم قدم اٹھا لیا

    کورونا وائرس کی جھوٹی افواہوں سے نمٹنے کے لئے فیس بک میسنجر نے بڑے پیمانے پر پیغامات پر پابندی عائد کی ہے

    باغی ٹی وی : کورونا وائرس کی جھوٹی افواہوں سے نمٹنے کے لئے فیس بک میسنجر نے بڑے پیمانے پر پیغامات پر پابندی عائد کی ہے غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق فیس بک میسینجر کمپنیز نے دعوی کیا ہے کہ کورونا وائرس کے بارے میں غلط معلومات پھیلانے سے روکنے کی کوشش میں فیس بک بہت سارے لوگوں کو پیغامات بھیجنے سے روک سکتا ہے

    رپورٹ کے مطابق کمپنی اس حوالے سے میسنجر کے لئے ایک نئی خصوصیت کی جانچ کر رہی ہے جس میں صرف پانچ افراد کو پیغامات بھیجنے کی اجازت دی گئی ہے جس سے ان کے بارے میں سوچے بغیر دھوکہ دہی یا افواہوں کو پھیلانا مشکل ہو جائے گا

    تاحال فیچر دستیاب نہیں ہے لیکن فیس بک نے تصدیق کی ہے کہ کمپنی میں اس کی جانچ کی جارہی ہے

    یہ سب واٹس ایپ نے گروپوں میں غلط فہمی پھیلانے سے روکنے کے لئے اسی طرح کی پابندی شامل کرنے کے بعد کیا ہے

    چونکہ واٹس ایپ اور فیس بک میسنجر جیسی چیٹ ایپس نجی ہیں ، لیکن کمپنیزصارفین کو آسانی سے معلومات بھیجنے کی اجازت دیتی ہیں لہذا وہ خاص طور پر دھوکہ دہی اور افواہوں کا مروجہ ذریعہ بن چکے ہیں

    میسنجر میں ہونے والی تبدیلیوں کی تحقیق جین منچنگ وونگ نے دریافت کیں ، جنہوں نے ایک ایسی ٹویٹ کی جسمیں ایپ کے اندر چھپی ہوئی ایک کمانڈ مل گئی ، جس میں بتایا گیا کہ یہ کیسے کام کرسکتا ہے

    فیس بک کے ترجمان نے تصدیق کی کہ اس فیچر کی غلط خبروں کو روکنے کے طریقے کے طور پر جانچ پڑتال کی جا رہی ہے ، خاص طور پر جھوٹی کہانیوں اورافواہوں پر توجہ دی جارہی ہے جو کورونا وائرس کے بارے میں ہیں

    انہوں نے کہا کہ ہم اپنے پلیٹ فارمز پر غلط معلومات پھیلانے کو محدود کرنے کے لئے سخت کوشش کر رہے ہیں ، خاص طور پر # COVID19 کے ساتھ ، اور ہم مزید فیچرز کی تلاش کر رہے ہیں جیسے کہ آپ ایک وقت میں کتنے چیٹس پر پیغام بھیج سکتے ہو ، اس کے لئے سخت حدود کی جانچ کرنا”

    ٹویٹرمیں "اس فیچر پر ابھی بھی کام ہو رہا ہے اور ابھی تک بیرونی طور پر جانچ نہیں کررہی ہے

    اس نئے فیچر کی تصدیق اس وقت ہوئی جب فیس بک نے اعلان کیا کہ وہ میسنجر کو کورونا وائرس پھیلنے کے بارے میں قابل اعتماد اور مستند معلومات پھیلانے کیلئے استعمال کرنے کی کوشش کرے گا

    انہوں نے کہا کہ وہ سرکاری اداروں کو ترقی پذیر شراکت داروں کے ساتھ ملا کر ان کی مدد کرنا چاہے گی جو ان کو پلیٹ فارم کو ہر ممکن حد تک موثر طریقے سے استعمال کرنے کی اجازت دے گی۔

    انہوں نے کہا ڈویلپرز کا مقصد اقوام متحدہ کی صحت کی ایجنسیوں جیسی تنظیموں کو معلومات کو زیادہ تیزی سے شیئر کرنے کی اجازت دینا ، اور خودکار ردعمل کے ذریعہ عام طور پر پوچھے گئے سوالات کے جوابات تیزی سے دینے کا اہل ہونا ہے

    فیس بک نے یہ بھی کہا کہ وہ ایک آن لائن ہیکتھون چلائے گا جس کا مقصد ڈویلپرز کو "پیغام رسانی کے حل کی تشکیل کیلئے حوصلہ افزائی کرنا ہے جس میں کورونا وائرس سے متعلق امور جیسے کہ سماجی دوری اور درست معلومات تک رسائی” کو حل کرنا ہے

    فیس بک نے کہا ، شرکاء کو میسنجر ٹولز اور تعلیمی مواد پر خصوصی معاونت حاصل ہوگی ، اور یہ معلومات کمپنی سے اساتذہ حاصل کریں گے تاکہ وہ اپنے خیالات کی تشکیل میں ان کی مدد کرسکیں

    کورونا وائرس کے 80 فیصد مریض پیناڈول سے ٹھیک ہو سکتے ہیں، ڈاکٹر یاسمین راشد

    کیا آپ کے اسمارٹ فون میں ان میں سے کوئی پن ہے؟ اسے جلدی سے تبدیل کریں

  • کورونا وائرس کے 80 فیصد مریض پیناڈول سے ٹھیک ہو سکتے ہیں،  ڈاکٹر یاسمین راشد

    کورونا وائرس کے 80 فیصد مریض پیناڈول سے ٹھیک ہو سکتے ہیں، ڈاکٹر یاسمین راشد

    80 فیصد مریض پیناڈول سے ٹھیک ہو سکتے ہیں، ڈاکٹر یاسمین راشد

    باغی ٹی وی :صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے بتایا ہے کہ کرونا کے 80 فیصد مریض پیناڈول سے ٹھیک ہو سکتے ہیں۔پنجاب میں کرونا وائرس میں مبتلا مریضوں کی تعداد 78 ہو چکی ہے۔

    لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں 384 ٹیسٹ کیے گئے ہیں جن میں سے جو کیس مثبت آئے ان کی تعداد 78 ہے۔ کرونا وائرس کی تشخیص والے افراد کو الگ کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 80 فیصد لوگ پیناڈول کیساتھ ہی ریکور کر لیں گے۔

    انہوں نے بتایا کہ اس وقت لاہور کے میو ہسپتال میں کرونا وائرس میں مبتلا 4 مریضوں کا علاج جاری ہے اور وہ ریکور کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ گجرات میں بھی دو مریض سامنے آئے ہیں۔ ڈیرہ غازی خان میں سب کے ٹیسٹ ہو رہے ہیں۔ جیسے جیسے نمبر آئیں گے ہم بتاتے رہیں گے۔ زائرین کا اگلا گروپ آ رہا ہے، ان کو ملتان میں رکھا جائے گا۔

    ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ رات دس بجے کے بعد سب کچھ بند ہو جائے گا۔ ہم نے مدارس، کالج اور تعلیمی ادارے بند کر دیے ہیں۔ کرونا وائرس کے خطرات کے پیش نظر حکومت پنجاب نے بہت پہلے کام کرنا شروع کر دیا تھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ایران والوں نے کہا ہے کہ پاکستانی زائرین کو سنبھالنا مشکل ہو رہا ہے۔ اگلے دو سے تین ہفتے کے اندر 5 ہزار کے قریب زائرین اور طالبعلم وطن واپس آئیں گے

  • کیا آپ کے اسمارٹ فون میں ان میں سے کوئی پن ہے؟ اسے جلدی سے تبدیل کریں

    کیا آپ کے اسمارٹ فون میں ان میں سے کوئی پن ہے؟ اسے جلدی سے تبدیل کریں

    کیا آپ کے اسمارٹ فون میں ان میں سے کوئی پن ہے؟ اسے جلدی سے تبدیل کریں حققین نے ایپل اوراینڈروئیڈ اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کے لئے خطرے کی گھنٹی بجا دی اگر آپ کے آئی فون یا اینڈروئیڈ اسمارٹ فون کا پن 1234 ، 0000 ، 2580 ، 123456 یا 654321 سے شروع ہوتا ہے تو آپ خطرے میں ہیں کیونکہ یہ پن سب سے زیادہ ہیکنگ کا شکار ہیں کیونکہ آپ کی ڈیوائس کو کسی دوسرے طریقہ کار سے آسانی سے کھولاجاسکتا ہے

    باغی ٹی وی : خلیج ٹائم کی رپورٹ کے مطابق اگر آپ کے آئی فون یا اینڈروئیڈ اسمارٹ فون کا پن 1234 ، 0000 ، 2580 ، 123456 یا 654321 سے شروع ہوتا ہے تو آپ خطرے میں ہیں کیونکہ یہ پن سب سے زیادہ ہیکنگ کا شکار ہیں کیونکہ آپ کی ڈیوائس کو کسی دوسرے طریقہ کار سے آسانی سے کھولاجاسکتا ہے

    مطالعہ کے مطابق 10 سب سے زیادہ مشہور چار ہندسوں والے پن مندرجہ ذیل ہیں: 1234 ، 0000 ، 2580 ، 1111 ، 5555 ، 5683 ، 0852 ، 2222 ، 1212 ، 1998

    سب سے زیادہ مشہور چھ ہندسوں والے پن ہیں اور وہ 123456 ، 654321 ، 111111 ، 000000 ، 123123 ، 666666 ، 121212 ، 112233 ، 789456،159753 یہ ہیں

    جرمنی میں روہر یونیورسٹی کے محققین کے مطابق ایپل کے ذریعہ خاص طور پر بار بار ہیک ہونے والے پنوں کو روکنے کے لئے استعمال کی جانے والی بلیک لسٹ کو بہتر بنایا جاسکتا ہے اور یہ اینڈرائیڈ ڈیوائسز پر عمل درآمد کرنے میں اور بھی زیادہ اہمیت پیدا کرے گا

    ریسرچ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ چھ ہندسوں والے PINs چار ہندسوں سے زیادہ سیکیورٹی فراہم نہیں کرتے ہیں

    میتھمیٹکلی لحاظ سے یقینا یہاں ایک بہت بڑا فرق ہے روہر یونیورسٹی میں آئی ٹی سیکیورٹی کے لئے ہورسٹ گورٹز انسٹی ٹیوٹ کے مطالعے کے محقق فلپ مارکر نے کہا ، چار ہندسوں والے پن کو دس ہزار مختلف مرکب بنانے کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے ، جبکہ ایک چھ عددی پن کو ایک ملین مرکب بنانے کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے

    تاہم ، صارفین کچھ مجموعے کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں کچھ پن زیادہ کثرت سے استعمال ہوتے ہیں ، مثال کے طور پر ، 123456 اور 654321 ، اس کا مطلب ہے کہ صارف چھ ہندسوں کے کوڈ کی مکمل صلاحیت سے فائدہ نہیں اٹھاتے ہیں

    محققین کے مطابق ، ایسا لگتا ہے کہ صارفین فی الحال بدیہی طور پر سمجھ نہیں پائے کہ یہ کیسے کیا جائے جس کی وجہ سے چھ ہندسوں کا پن محفوظ ہوجاتا ہے

    ان نتائج کو تلاش کرنے کے لئے ، تحقیقاتی ٹیم نے اس بات کی تحقیقات کیں کہ صارف اپنے موبائل فون کے لئے پن کا انتخاب کس طرح کرتے ہیں اور زیادہ محفوظ نمبر کے مجموعے کو استعمال کرنے کے لئے انہیں کس طرح قائل کیا جاسکتا ہے

    ٹیم نے ایپل اور اینڈروئیڈ صارفین سے کہا کہ وہ چار یا چھ ہندسوں والے PINs سیٹ کریں اور بعد میں ان ہندسوں کے مجموعے کا تجزیہ کیا کہ ان کوڈزکا اندازہ کرنا کتنا آسان ہے

    اس تجربے میں ، انہوں نے یہ فرض کیا کہ ہیکر متاثرہ شخص کو نہیں جانتا تھا اور اسے اس کی پرواہ نہیں تھی کہ موبائل فون لاکڈ ہے اس کے مطابق ، ڈیوائس ہیک کرنے کی بہترین حکمت عملی یہ ہوگی کہ پہلے ممکنہ طور پر PIN تلاشنے کی کوشش کی جائے

    کچھ لوگون نے بے ترتیب طور پر اپنا پن کوڈ منتخب کیا دوسرے صرف ایسے پن کا انتخاب کرسکتے تھے جو بلیک لسٹ میں شامل نہیں تھے اگر انھوں نے بلیک لیسٹ میں شامل پنوں میں سے ایک کو استعمال کرنے کی کوشش کی تو انہیں ایک انتباہی پیغام موصول ہوا کہ ہندسوں کے اس مجموعے کا اندازہ لگانا آسان ہے

    اس تجربے میں ، آئی ٹی سیکیورٹی ماہرین نے مختلف بلیک لسٹوں کا استعمال کیا ، جن میں ایپل کی اصلی فہرست بھی شامل تھی ، جو انہوں نے آئی فون پر کمپیوٹر کے ہر ممکنہ پن کمبینشن کی مدد سے حاصل کی مزید یہ کہ انہوں نے اپنی کم سے کم جامع بلیک لسٹس بھی بنائیں

    سمجھداری سے منتخب کردہ چار ہندسوں کا پن کافی محفوظ ہے بنیادی طور پر اس کی وجہ یہ ہے کہ مینوفیکچررز پن کوڈ لگانے کی کوششوں کی تعداد کو محدود کرتے ہیں محقق نے کہا ، ایپل دس غلط اندراجات کے بعدڈیوائس کو مکمل طور پر لاک کردیتا ہے

    محققین نے مزید کہا کہ اینڈرائڈ اسمارٹ فون پر ، یکے بعد دیگرے مختلف کوڈ داخل نہیں کیے جاسکتے ہیں مارکرٹ نے کہا ، "گیارہ گھنٹوں میں ، 100 نمبر کے مجموعے کی جانچ کی جاسکتی ہے

    مفت خوری ختم :2020 سےونڈوز7اپ ڈیٹ کرنے کے لیے اب پیسے دینے پڑیں گے


    اس ریسرچ کے دوران محققین کو ایپل کی بلیک لسٹ میں چار ہندسوں والے پنوں کے لئے 274 نمبر کے مزید اور مجموعے بھی ملے

    محققین نے کہا "چونکہ صارفین کے پاس آئی فون پر پن کا اندازہ لگانے کے لئے صرف 10 کوششیں ہوتی ہیں ، لہذا بلیک لسٹ اس کو مزید محفوظ نہیں بناتی ہے

    پاکستانی طالبعلم نے گندے پانی کو صاف کرنے والی مشین بنا لی


    محققین کے مطابق، بلیک لسٹ اینڈرائیڈ ڈیوائسز پر زیادہ لاگو ہو سکتی ہے ، کیونکہ ہیکرز وہاں مزید پن کی کوشش کر سکتے ہیں

    تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ چار ہندسوں والے پنوں کے لئے مثالی بلیک لسٹ میں تقریبا 1،000 اندراجات ہونگے اور فی الحال ایپل کے ذریعہ استعمال کردہ فہرست سے تھوڑا سا فرق رکھنا پڑے گا

    واٹس ایپ نے اپنی سروسز بند کرنے کا اعلان کر دیا

  • پاکستانی طالبعلم نے گندے پانی کو صاف کرنے والی مشین بنا لی

    پاکستانی طالبعلم نے گندے پانی کو صاف کرنے والی مشین بنا لی

    ضرورت ایجاد کی ماں ہے ،پاکستانی طالبعلم نے گندے پانی کو صاف کرنے والی مشین بنا لی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاہور کی نجی یونورسٹی کے طالبعلم اسامہ نے گندے پانی کو پینے کے قابل بنانے کے لئے مشین بنالی یہ مشین پانی میں موجود مالیکیولز کو توڑ کر پانی کو دوبارہ صاف بنا دیتی ہے

    ہونہار طالبعلم نے ثابت کیا کہ اس کے لئے نہ تو بڑا پلانٹ درکار ہے اور نہ ہی زیادہ جگہ کی ضرورت ہے

    نوجوان طالبعلم نے نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ والی مشین پول ٹائپ ہے ہماری یہ ایک منٹ میں بھی سٹیٹس صاف کرتی ہے اور اس پر ہونے والے خرچے کے بارے میں اسامہ نے بتایا کہ اس کی ریسرچ کا ٹیسٹنگ کا پیپرز کا ٹوٹل خرچ تقریباً 5.8 ملین روپے ہیں اور اس کو بنانے میں انہیں ساڑھے نو ماہ لگے ہیں

    اسامہ نے شکوہ کیا کہ اس مشین کی حد تک پانی کو چیک کرنے کے لئے وہ کچھ ضروری ٹیسٹ اپنی جیب سے ہی کرو چکے ہیں نوجوان طالبعلم نے کہا مہ وہ اس مشین میں جدت لانا چاہتے ہیں لیکن حکومت یا فکٹری مالکان اس سے کساتھ تعاون کرنے پر تیار نہیں ہیں

    اسامہ نے کہا کہ ویسٹ واٹر کی ٹیسٹنگ بہت مہنگی ہے لیکن ابھی تک وہ اپنی جیب سے کروا رہے ہیں جبکہ ان کے لئے یہ خرچ برداشت کرنا بہت مشکل ہے اسامہ نے کہا اس کے لئے وہ فنڈز چاہ رہے ہیں تاکہ وہ اس پلانٹ کو بڑے پیمانے پر لے کر جا سکیں اور اس پلانٹ کو پاکستان کو سرو کرنے میں لگا سکیں

    اسامہ نے دعوی کیا کہ اس کی ایجاد مل مالکان کے خرچے کو بھی کم کر سکتی ہے

    خیال رہے کہ پانی کا مسئلہ پاکستان کے بڑے مسائل میں سے ایک ہے گندے پانی کو صاف کرنے والی مشین اور اس کو بنانے والے نوجوان طالبعلم اسامہ کا یہ دعوی ہے کہ اگر حکومتی تعاون ملے تو پاکستان میں پانی کے مسائل کے حل میں وہ اپنا کردار ادا کر سکتا ہے

  • مفت خوری ختم :2020 سےونڈوز7اپ ڈیٹ کرنے کے لیے اب  پیسے دینے پڑیں گے

    مفت خوری ختم :2020 سےونڈوز7اپ ڈیٹ کرنے کے لیے اب پیسے دینے پڑیں گے

    نیویارک:2020 سےونڈوز7اپ ڈیٹ کرنے کے لیے پیسے دینے پڑیں گے،اطلاعات کےمطابق مائیکروسافٹ نےآئندہ سال جنوری سےونڈوز7 ٹیکنیکل سپورٹ اورسسٹم اپڈیٹس کاسلسلہ بند کرنےکااعلان کردیاہے ۔

    جمعیت علمائے ہند کی مودی نوازپالیسی سےنئی نسل نالاں

    ذرائع کےمطابق اب مائیکروسافٹ نےاعلان کیا ہے کہ اس کے مشہورآپریٹنگ سسٹم ’’ونڈوز 7‘‘ کی ٹیکنیکل سپورٹ اور سسٹم اپ ڈیٹس کا سلسلہ 14 جنوری 2020ء تک ختم کردیا جائے گا۔ مطلب یہ کہ اگر آپ قانونی طور پر ونڈوز 7 استعمال کررہے ہیں تو آپ کو اگلے سال 14 جنوری کے بعد ونڈوز کی جانب سے اپ ڈیٹس موصول نہیں ہوں گی۔

    مدراس یونیورسٹی کے طلباء کا شہریت بل کے خلاف سخت احتجاج جاری

    البتہ، اگر آپ ونڈوز 7 کے تجارتی و کاروباری صارف ہیں تو اضافی معاوضے پر آپ کو مائیکرو سافٹ کی جانب سے ونڈوز 7 کی سیکیورٹی اپ ڈیٹس موصول ہوتی رہیں گی۔

    امریکی اسٹیبلشمنٹ ٹرمپ کوہٹانےکےلیےسرگرم،مواخذے کی کارروائی، ووٹنگ

    ’’ونڈوزایکس پی‘‘ مائیکرو سافٹ کا سب سے کامیاب آپریٹنگ سسٹم رہاہے ، جو اگست 2001ء میں لانچ کیا گیا اور اس کی سپورٹ 8 اپریل 2014ء کو ختم کی گئی۔

    پی آئی سی حملہ کیس: کن کوپکڑاجائے اورکن کوچھوڑا جائے،لاہور ہائیکورٹ بتادیا

    اس کے بعد 22 جولائی 2009ء کو ونڈوز 7 آپریٹنگ سسٹم لانچ کیا گیا۔ اگرچہ یہ بھی بہت کامیاب رہا لیکن اس کی کامیابی کی شرح ونڈوز ایکس پی کے مقابلے میں کم تھی۔

  • واٹس ایپ نے اپنی سروسز بند کرنے کا اعلان کر دیا

    واٹس ایپ کی جانب سے صارفین کو خبردار کیاکہ 2019 میں سروسز بند کر دی جائیگی۔ اطلاعات کےمطابق واٹس ایپ انتظامیہ کا کہنا ہےکہ اب وہ وقت دور نہیں جب یہ فون استعمال کرنے والے صارفین کے لئے واٹس ایپ کی سروسز کو مکمل طور پر بند کر دیا جاے گا۔ واٹس ایپ نے اپنی ویب سائٹ پر اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ونڈوز فون کے صارفین 31 دسمبر 2019 کے بعد یہ سروس حاصل نہیں کر سکیں گے

    عمران خان کی مخالفت کرتے رہیں گے،یہ میرے قائد کا فرمان ہے ، خواجہ آصف

    ذرائع کےمطابق واٹس ایپ نے اس بات کا عندیہ بھی دیا ہے کہ اس کے بعد مزید فونز اور آپریٹنگ سسٹمز پر بھی سروس کو بند کر دیا جاے گا۔ ان میں ایسے فونز شامل ہیں جوآئی فون کے IOS 7 سے پرانا آپریٹنگ سسٹم استعمال کر رہے ہیں اور اینڈرائیڈ کے ایسے صارفین جو 2.3.7سے پرانا ورژن استعمال کر رہے ہیں۔آئی فون اور اینڈرائیڈ کے پرانے ورژن پر پابندیوں کا اطلاق یکم فروری 2020 سے ہو گا

    یاد رکھیں‌ ! کرپٹ معاشرے میں سرمایہ کاری نہیں آتی، وزیراعظم

    واٹس ایپ کی جانب سے جاری کردہ بلاگ پوسث میں اپنے فیصلے کے دفاع میں لکھا ہے کہ ” ہم اپنی تمام تر طوانائی ایسے فونز پر استعمال کرنا چاہتے ہیں جو زیادہ لوگ استعمال کرتے ہیں”۔ واٹس ایپ نے مزید لکھا کہ “جن فونز پر ہم اپنی سروسز بند کرنے جا رہے ہیں دراصل ان میں وہ صلاحیت موجود نہیں جو ہماری سروس کو سپورٹ کرے- یہ ایک مشکل فیصلہ تھا مگر درست بھی ہے تاکہ ہم اپنے صارفین کو اپنے دوستوں اور فیملی ممبرز کے ساتھ کمیونیکیشن کے موئثر ذرائع فراہم کر سکیں-

    کون کرے گا کمنٹری اورکون کریں تبصرے،پی سی بی نے نام بتادیئے