Baaghi TV

Category: شوبز

  • دنیا میں کہیں بھی امتیازی سلوک اور ناانصافی کو برداشت نہیں کیا جاسکتا  انجلینا جولی

    دنیا میں کہیں بھی امتیازی سلوک اور ناانصافی کو برداشت نہیں کیا جاسکتا انجلینا جولی

    معروف امریکی اداکارہ، فلمساز اور سماجی کارکن انجلینا جولی نے اپنی 45ویں سالگرہ کے موقع پر 2 لاکھ ڈالر کی بڑی رقم عطیہ کردی۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اداکارہانجلینا جولی نے اپنی سالگرہ کے موقع پر شہری حقوق کی تنظیم ،این اے اے سی پی کو دو لاکھ ڈالر کا عطیہ کیا۔

    اداکارہ نے دنیا بھر میں موجود سیاہ فام کمیونٹی سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے تیزی سے مقبول ہوتی مہم ’بلیک لائیوز میٹر،کی حمایت کی اور امریکی ریاست مینیسوٹا میں گذشتہ پیر سیاہ فام شخص جارج فلائیڈ کی سفید فام پولیس افسر کی جانب سے حراست کے دوران تشدد کی وجہ سے موت پر افسوس کا اظہار بھی کیا۔

    اپنی سالگرہ کے موقع پرانجلینا کا کہنا تھا کہ حقوق کسی ایک گروپ یا گروہ سے تعلق نہیں رکھتے کہ دوسرا گروپ اپنے حقوق اس سے لینے کا پابند ہو انہوں نے کہا کہ دنیا میں کہیں بھی امتیازی سلوک اور ناانصافی کو برداشت نہیں کیا جاسکتا۔

    اداکارہ و سماجی کارکن نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ ہم اپنے معاشرے میں موجود سختی اور غلطیوں کو دور کرنے کے لیے اکٹھے ہوں گے اور بہترین نتائج سامنے لائیں گے۔

    انجلینا نے مزید کہا کہ میں نسلی مساوات، سماجی انصاف، اور قانون سازی میں فوری اصلاح کے لیے سیاہ فاموں کی جدوجہد میں این اے اے سی پی لیگل ڈیفنس فنڈ کے ساتھ کھڑی ہوں۔

    سیاہ فاموں، فلسطینیوں اور مقبوضہ کشمیر پر ڈھائے جانے والےدرد ناک مظالم دیکھتی ہوں تو میرا دل روتا ہے نیلم منیر

    نسل پرستی انسان کی ایجاد کی جانے والی سب سے مکروہ چیز ہے حمزہ علی عباسی

    پاکستانی فنکار بھی امریکی سیاہ فاموں کی حمایت میں بول پڑے

  • رنگت گورا کرنے والی مصنوعات کی  تشہیرکی کبھی حمایت نہیں کی  پاکستانی اداکارائیں

    رنگت گورا کرنے والی مصنوعات کی تشہیرکی کبھی حمایت نہیں کی پاکستانی اداکارائیں

    پاکستان فلم انڈسٹری کی معروف اداکارہ ماہرہ خان اور نامور اداکارہ عائشہ عمر کا کہنا ہے کہ انہوں نے کبھی رنگت گورا کرنے والی مصنوعات کی تشہیرکی حمایت نہیں کی۔

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بی بی سی اردو کے سینئیر جرنلسٹ ہارون راشد نے سوال کرتے ہوئے لکھا کہ ایک اہم سوال یہ ہے کہ کیا کوئی مجھے کسی بھی پاکستانی یا بالی وڈ اداکارہ کا نام بتا سکتا ہے جس نے کبھی جلد چمکانے والی مصنوعات کی حمایت نہ کی ہو۔


    صارف کی اس ٹویٹ کاماہرہ خان نےجواب دیتے ہوئے لکھا کہ وہ ان مصنوعات کی تشیہر کا تب سے انکار کرتی آ ئی ہیں جب سے وہ وی جے تھیں-


    ماہرہ نے لکھا کہ انہوں نے کبھی بھی جلد چمکانے والی مصنوعات کی حمایت نہیں کی۔


    گلوکارہ مومنہ مستحسن نے بھی ماہرہ خان کی اس ٹوئٹ پر جوابی ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بھی ہمیشہ جلد گورا کرنے والی مصنوعات میں کام کرنے سے انکار کیا ہے۔ آپ کی جلد میں موجود میلا نن کی مقدار کاآپ کے خوبصورت ہونے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا اگر ہم سب ذمہ داری کے ساتھ رنگ گورا کرنے والی مصنوعات سے انکار کریں گے تو یہ مارکیٹ میں تبدیلی کا سبب بن سکتا ہے۔ ہم سب چیزوں کو تبدیل کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔


    دوسری جانب اداکارہ عائشہ عمر نے بھی ہارون راشد نامی صارف کی ٹویٹ کا جواب دیا لکھا کہ وہ گذ شتہ 12 برسوں سے گوری رنگت کی مصنوعات کی تشہیر سے انکار کرتی آئی ہیں کیونکہ انہوں نے اس کے خلاف سخت موقف اختیار کر رکھا ہے۔


    اداکارہ صنم سعید اور حریم فاروق نے بھی ایموجی شئیر کرتے ہوئے اپنا ردعمل دیا-


    انڈین اداکارہ اور اینکر نے بھی رد عمل دیا-


    دی نیوز کی ایڈیٹر آمنہ نے لکھا کہ ماہرہ خان


    جرنلسٹ فاطمہ اشرف نے لکھا کہ اب یہ ایک مشکل بات ہے۔


    https://www.instagram.com/p/B9imnd7nlJ2/?utm_source=ig_embed
    واضح رہے کہ کچھ عرصہ قبل ایک انٹرویو کے دوران اداکارہ اقرا عزیز نے کہا تھا کہ انہوں نے رنگ گورا کرنے والی مصنوعات کی حمایت سے انکار کیا تھا کیونکہ ان کے نزدیک یہ صحیح نہیں ہے۔ رنگ گورا ہونا کامیاب زندگی کی علامت نہیں ہے۔ میں نہیں چاہتی کہ لڑکیوں پر یہ اثر پڑے کہ ان کا رنگ اس طرح سے گورا ہو گا تو ان کے والدین ان پر فخر کریں گے-

    ماہرہ خان کی بیٹی ہوتی تو اس کا کیا نام رکھتیں؟

    کرونا سے نمٹنے کیلئے گورنر ہاؤس پنجاب میں ٹک ٹاک سٹارز کا اجلاس

  • ماہرہ خان کی بیٹی ہوتی تو اس کا کیا نام رکھتیں؟

    ماہرہ خان کی بیٹی ہوتی تو اس کا کیا نام رکھتیں؟

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اور عالمی شہرت یافتہ اداکارہ ماہرہ خان کا کہنا ہے کہ اگر میری بیٹی ہوتی تو اس کا نام رانیہ رکھتی۔

    باغی ٹی وی : عالمی شہرت یافتی پاکستانی اداکارہ ماہرہ خان نے سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹوئٹر پر شہریار نامی صارف کا ٹوئٹ اپنے اکاؤنٹ پر شیئر کیا جس میں صارف نے اپنی آٹھ سالہ بیٹی کے ماہرہ خان کے لئے لکھے گئے خط کی تصویر شیئر کی۔


    ماہرہ خان کی آٹھ سالہ ننھی مداح نے اپنے خط میں اُن کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ پیاری ماہرہ میرا نام رانیہ ہے اور میں آپ کی تب سے بہت بڑی فین ہوں جب میں نے آپ کو ایوارڈ شو میں بیسٹ ایکٹریس کا ایوارڈ لیتے ہوئے دیکھا-

    ننھی مداح نے لکھا کہ میں نے آپ کی سُپر سٹار فلم دیکھی مجھے آپ کا ڈانس اور ایکٹنگ بہت اچھی لگی میں آپ کی بہت بڑی مداح ہوں اور میں چاہتی ہوں کہ آپ مجھے اپنا آٹوگراف دیں تاکہ میں اُس کو فریم کروا کے اپنے کمرہ کی دیوار پر لگا سکوں۔

    ننھی مداح نے پسندیدہ اداکارہ کے مستقبل کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا-

    ننھی مداح رانیہ کے والد نے اپنے ٹویٹ میں ماہرہ خان کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ میری آٹھ سالہ بیٹی رانیہ نے آپ کے لیے خط لکھا ہے اُمید ہے کہ آپ کو یہ خط پسند آئے گا اور اگر آپ میری بیٹی کے خط کا جواب دیں گی تو وہ بہت زیادہ خوش ہوگی۔


    ٹوئٹر صارف کے ٹوئٹ کا جواب دیتے ہوئے ماہرہ خان نے لکھا کہ آپ کی بیٹی بہت ہی پیاری ہے۔

    ماہرہ خان نے لکھا کہ آپ اپنی بیٹی کو بتائیں کہ اگر میری کوئی بیٹی ہوتی تو میں اُس کا نام رانیہ ہی رکھتی۔

    اداکارہ نے لکھا کہ ننھی رانیہ کے لیے میری طرف سےبہت سارا پیار۔

    وسیم اکرم کی سالگرہ کے موقع پر اہلیہ کا محبت بھرا پیغام

  • ہماری عوام تُرک سیریز دیکھ تو رہی ہے لیکن عمل نہیں کر رہی  وینا ملک

    ہماری عوام تُرک سیریز دیکھ تو رہی ہے لیکن عمل نہیں کر رہی وینا ملک

    اداکارہ وینا ملک کا ملک کے موجودہ حالات میں کورونا کیسز کی تیزی سے بڑھتی ہوئی تعداد پر کے پیش نظر کہنا ہے کہ ہماری عوام’ ارطغرل غازی‘ دیکھ تو رہی ہے لیکن عمل نہیں کررہی۔

    باغی ٹی وی : اداکارہ وینا ملک نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ٹویٹ میں عوام میں مقبول مسلمانوں کی اسلامی فتوحات پرپر مبنی ترکش سیریز کے حوالے سے لکھا کہ تُرک ڈرامہ سیریل ہماری عوام ارطغرل دیکھ تو رہی ہے لیکن عمل نہیں کررہی ارطغرل ڈرامہ میں بھی کورونا جیسی وبا آئی تھی جس کی وجہ سے انہوں نے اپنے جانور تلف کیے اور اپنے اہلِ خانہ کو قرنطینہ کردیا


    اداکارہ نے کہا کہ جو قوم وبا سے بچنے والی احادیث پر عمل نہیں کرتی وہ ڈرامے پر کیا عمل کرے گی-


    اداکارہ میزبان نے اپنی ایک ٹویٹ میں وعام کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یقیناً تعلیم انسان کو شعور دیتی ہے لیکن ہمارے معاشرے میں ایسے پڑھے لکھے جاہل بھی ہیں جو کورونا کو ڈرامہ کہہ کر دوسروں کو بھی سیکھا رہے ہیں کہ جو مریض ہسپتال جاتا ہے ڈاکٹر اسکو مار کر کورونا کے نام سے پیسے کھاتے ہیں

    وینا نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ جاہلو! کورونا سے دنیا بھر میں ہزاروں ڈاکٹر بھی مرچکے ہیں

    واضح رہے کہ ملک بھر میں کورونا کے مجموعی کیسز کی تعداد 93 ہزار 9 سو 83 ہو چکی ہے جبکہ وبائی مرض میں ہلاکتوں کی تعداد 1ہزار 9 سو 35 جبکہ اب تک 32 ہزار 5 سو81 مریض صحتیاب ہو چکے ہیں-

    ہماری قوم ارطغرل ڈرامے کو حقیقت جبکہ کورونا کو ڈرامہ سمجھ رہی ہے فیصل قریشی

    کورونا وائرس : معلوم نہیں مستقبل قریب میں سینما کا کیا ہو گا صنم سعید

  • کرونا سے نمٹنے کیلئے گورنر ہاؤس پنجاب میں ٹک ٹاک سٹارز کا اجلاس

    کرونا سے نمٹنے کیلئے گورنر ہاؤس پنجاب میں ٹک ٹاک سٹارز کا اجلاس

    لاہور:کرونا سے نمٹنے کیلئے گورنر ہاؤس پنجاب میں ٹک ٹاک سٹارز کا اجلاس ،اطلاعات کے مطابق آج گورنرہاوس لاہورمیں ہونے والے اہم اجلاس کے سوشل میڈیا پربڑے چرچے ہیں جس میں پاکستان کے ٹک ٹاک فنکاروں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی

    کرونا سے نمٹنے کیلئے گورنر ہاؤس پنجاب میں ٹک ٹاک سٹارز کا اجلاس کے بعد اس وقت سوشل میڈیا پرایک تنقید سننے میں آرہی ہے کہ حکومت کے فیصلے بھی عجیب ہیں کہ ایک طرف 27 ڈاکٹرز اور نرسز وائرس سے مر چکے ہیں انہیں پوچھنے والا بھی کوئی نہیں۔ یہ آخر ہو کیا رہا ہے؟

    سوشل میڈیا پرمزید گفتگوجاری ہے جس میں کہا گیا ہےکہ گورنمنٹ کی سوچ کا معیار چیک کریں ڈاکٹر جو اپنی جان پر کھیل کر لوگوں کا اعلاج کر رہے ہیں اور گورنمنٹ ٹک ٹاکر سے عوام کو اگاہی دے رہی ہے؟؟اس کے علاوہ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ انہیں ٹک ٹاک سٹارکے عجیب عجیب کھیل تماشوں سے پہلے ہی قوم کی بڑی بدنامی ہوچکی ہے اب یہ کیا گل کھلائیں‌گی

  • ارطغرل ڈرامے کی کی مقبولیت میں مزید اضافہ، ایک اور سنگ میل عبور ہو گیا

    ارطغرل ڈرامے کی کی مقبولیت میں مزید اضافہ، ایک اور سنگ میل عبور ہو گیا

    لاہور:ارطغرل ڈرامے کی کی مقبولیت میں مزید اضافہ، ایک اور سنگ میل عبور ہو گیا ،اطلاعات کےمطابق ارطغرل پی ٹی وی ہوم پر روزانہ رات 8.00 بجے نشر ہورہا ہے،رات 12 بجے اور دن 12 بجے دوبارہ نشر ہوتا ہے. ارطغرل پی ٹی وی نے یوٹیوب چینل پر ایک اور سنگ میل عبور کر لی.ایک ہی مہینے میں 50 لاکھ سبسکرائبرزحا صل کرلیے.

    یورپ، مڈل ایسٹ، افریقہ اور یورپ سے 700 ملین ناظرین کو اپنے سحر میں گرفتار کرنے والا ڈراما غازی ارطغرل آذربائیجان، ترکمانستان، قازقستان، ازبکستان، البانیہ، پولینڈ، سربیا، بوسنیا، ہزروگوینا، ہنگری اور یونان میں ریکارڈ توڑنے کے بعد اب پاکستان میں بھی یکم رمضان سے پی ٹی وی پر روزانہ رات آٹھ بجے پیش کیا جا رہا ہے۔

     

    یہ وہ ڈراما ہے جس نے ترکی کو ان پانچ ممالک کی صف میں لا کھڑا کیا جن سے امریکا، برطانیہ، جرمنی اور فرانس جیسے ملک بھی سیریل امپورٹ کر کے اپنے ہاں چلاتے ہیں۔ ارطغرل غازی نے جہاں ترکی کے زرمبادلہ میں بے پناہ اضافہ کیا وہیں اس ڈرامے نے امت مسلمہ کے خوابیدہ نوجوانوں کے سینوں میں عظمت گم گشتہ کو تلاشنے کا جذبہ بھی بیدار کیا۔ اسلامی دنیا کی عوام اس ڈرامے کو طیب اردگان کی طرف سے امت مسلمہ کو جگانے کی کوشش کے طور دیکھ کر اس خیر مقدم کر رہی ہے وہیں مغربی دنیا یہ کہہ رہی ہے کہ یہ ڈراما مسلم نوجوان میں شدت پسند کو فروغ دے گا۔

    دراصل مغربی دنیا کو غم اس بات کا ہے کہ وہ مسلم نوجوان جو عرصہ دراز سے سپائیڈر مین، بیٹ مین، آنٹ مین، ایکس مین، ٹارزن اور سپرمین جیسے جھوٹے کرداروں کے سحر میں گرفتار تھا وہ نوجوان یکایک غازی ارطغرل کے سحر میں گرفتار ہو گیا ہے۔ مغرب کو مسئلہ اس بات سے ہے کہ ان کا برسوں سے بنایا گیا بیانیہ اس ڈرامے نے ہفتوں میں تحلیل کر دیا ہے۔ اس ڈرامے نے مسلم دنیا پر بالخصوص یہ واضح کر دیا کہ مرد ڈاڑھی اور عورت مکمل لباس میں کتنی خوبصورت نظر آتی ہے۔

    یہ وہ ڈراما ہے جس نے مسلمانوں کو ان کے حقیقی ہیروز سے متعارف کرایا ہے۔ یہ وہ ڈراما ہے جس کے بارے میں رجب طیب اردگان نے کہا ”جب تک شیر اپنی تاریخ خود نہیں لکھیں گے ان کے شکاری ہی ہیرو ٹھہریں گے“ اور ”ہم اسلامی تاریخ اس طرح لکھیں گے جس طرح وہ تھی“ اور جب یہ اسلامی تاریخ ارطغرل نامی ڈرامے کے ذریعے دنیا کی دکھائی تو لوگ اسلام قبول کرنے لگے۔ یہ وہی ڈراما ہے جس نے اغیار کی ان کوششوں پر پانی پھیر دیا جو اسلام کے سنہری ماضی کو داغدار کرنے میں صرف کی گئی تھیں۔

    یہ تو اغیار کا رویہ تھا اور ان کی تکلیف کی تو سمجھ بھی آتی ہے لیکن مسلم ممالک کا رویہ بھی اس ڈرامے کے بارے میں بڑا عجیب ہے اور یہی بات مجھے ہی کیا ہر ذی فہم انسان کو یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ یہ صرف ڈراما ہی نہیں بلکہ اس سے بڑھ کر کچھ اور بھی ہے ورنہ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب اس کی نشر و اشاعت پر نہ تو پابندی لگاتے، نہ ہی وہ چالیس ( 40 ) ملین ڈالر کی لاگت سے اینٹی خلافت عثمانیہ ”ممالک النار“ نامی ڈراما بناتے اور نہ ہی ممالک النار کا ڈائریکٹر یاسر حراب لاس اینجلس ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے خلافت عثمانیہ کو مجرم کہتا۔

    اگر غازی ارطغرل محض ڈراما ہی ہوتا تو مصر کی حکومت اپنی سرکاری فتوی کمیٹی سے اس ڈرامے پر پابندی کا فتوی کیوں جاری کراتی اور یہ کہتی کہ یہ ڈراما طیب اردگان کے خلافت عثمانیہ کا احیاء اور نشاۃ ثانیہ کے منصوبے کا حصہ ہے۔ یہ تو ان کی باتیں ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس ڈرامے نے وہاں کے نوجوانوں کے سینوں میں وہ تلاطم بپا کیا ہے جو کسی بھی طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ باتیں کرتے وقت وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ سلطنت عثمانیہ کے خلاف عربوں نے بغاوت کی تو نہ صرف انہیں برطانیہ کی مکمل حمایت حاصل تھی بلکہ ”عرب مزاحمت“ کا پرچم بھی ایک برطانوی سفارت کار مارک سکائیز نے تیار کیا تھا۔

    مصر میں عوام اس ڈرامے سے اس قدر متاثر ہوئے کہ ایک من چلے نے وہاں کے شمالی شہر ”موسی المطروح“ میں ارطغرل کے نام پر ایک ہوٹل کھڑا کر دیا۔ نہ جانے وہاں کے ڈکٹیٹر کو اس ہوٹل سے کیا خطرہ ٹھہرا ہو گا کہ بزوربازو اس کا نام تبدیل کرا دیا گیا۔ بقول شخصے کچھ طاقتیں 2023 میں معاہدہ لوزان کے ختم ہونے سے خوفزدہ ہیں اور وہ اس بات سے خوفزدہ ہیں کہ کہیں غازی ارطغرل طیب اردگان کی شکل میں دوبارہ اسلامی دنیا کا پرچم بلندیوں پر نہ لہرا دے۔

    بہرحال تمام تر کوششوں کے باوجود یہ ڈراما اب بھی ان ممالک میں مقبولیت کی بلندیوں کو چھو رہا ہے۔ اس ڈرامے نے دنیا کے ایک سو چھالیس ( 146 ) ممالک سے نہ صرف ناظرین کی توجہ حاصل کی بلکہ وہاں ڈراموں کی دنیا کا بے تاج بادشاہ بھی قرار پایا۔ آج کل دنیا میں سرمایہ ہی سب کچھ ہے اور محض دولت کمانے کی خاطر کوئی بھی ملک نہ صرف فلم بیچنے بلکہ خرید کر مقامی زبان میں ڈبنگ کر کے اسے اپنے سینما کی زینت بنانے میں بھی کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتا۔

    ایسی دنیا میں ارطغرل ہی وہ واحد ڈراما ہے جسے دنیا کے کم و بیش ساٹھ ( 60 ) ممالک میں ڈب کر کے دکھایا گیا۔ ایک ایسا ڈراما جس کے پانچ سیزن ہوں اور ہر سیزن کم و بیش ستر اقساط پر مشتمل ہو اور پھر بھی انسان اسے دیکھے بلکہ دیکھتا ہی چلا جائے یہ ارطغرل کی کامیابی نہیں تو اور کیا ہے اور وہ بھی ایک ایسے مصروف دور میں جب انسان کو سر کھجانے کی فرصت بھی نہیں ہے۔

    اس ڈرامے میں کام کرنے والے اداکاروں کا پروفائل دیکھیں تو ان میں کوئی بھی ترکی کے ٹاپ ٹین میں بھی شمار نہیں ہوتا تھا لیکن آج وہ نہ صرف پوری دنیا میں مشہور ہیں بلکہ مسلم نوجوانوں نے ارطغرل، حلیمہ سلطان، نورگل، بابر، سلیمان شاہ اور حائمہ خاتون وغیرہ کی ڈی پیز لگا لی ہیں۔ ترک صدر طیب اردگان اور اس وقت کے وزیراعظم احمد داؤد اوغلو نے خود اداکاروں سے شوٹنگ والے مقام پر جا کر ملاقاتیں کیں۔ وینزویلا کے صدر نکولاس مدروس اپنی بیگم سمیت شوٹنگ سیٹ پر آ بیٹھا اور سر پر قائی قبیلے کی ٹوپی سجا کر ہاتھ میں تلوار تھام کر تصویر کھچوائی۔

    چیچنیا میں اس ڈرامے کے لکھاری ”محمد بوزداغ“ کو دو روزہ دورے پر بلوایا گیا جہاں عوام نے سڑک کے دونوں اطراف کھڑے ہو کر ان کا شاہانہ استقبال کیا۔ ایک ایک ڈراما نہیں بلکہ ایک ایسا مشروب ہے جس میں اطاعت الہی، محبت رسول، اسلامی تفاخر، ملی غیرت، دینی حمیت، عزت نفس اور فلاح انسانی جیسے کلیدی اجزائے ترکیبی شامل ہیں۔

    اور آخر میں فقط اتنی گزارش ہے کہ اس ڈرامے کو خود بھی دیکھیں، فیملی کو بھی دکھائیں، دوستوں بھی بتائیں اور ہر گز اس پروپیگنڈے میں نہ آئیں کہ یہ ڈراما شدت پسندی کو بھارے گا اور یہ کہ ڈراما تو ایک آرٹ ہے اس میں مذہب کا کیا کام؟ اور اگر کوئی یہ کہے تو ان سے پوچھیں کہ کیا انڈیا اور ہالی وڈ کی کوئی فلم ہے جس میں مندر، بھگوان اور جیززکرائسٹ کا ذکر نہ ہو؟ اگر بالی وڈ کی فلموں میں مندر کے تقدس اور مورتیوں کی پوجا پاٹ اور ہالی وڈ کی فلموں مشکل وقت میں گھرے افراد کے منہ سے ”جیزز کرائسٹ“ کی بلند ہوتی صداؤں اور سینے پر بنتے صلیب کے نشان سے آرٹ کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا تو نبی کریم ﷺ نام سن کر ترکوں کا تعظیما اپنے ہاتھ سینے پر رکھ کر ادب سے جھک جانا آرٹ کو کیسے نقصان پہنچا سکتا ہے؟

  • راجہ ریپسٹارکا تحریک آزادی جموں و کشمیر کے ترانے کے حوالے سےپوسٹر ریلیز

    راجہ ریپسٹارکا تحریک آزادی جموں و کشمیر کے ترانے کے حوالے سےپوسٹر ریلیز

    پاکستان کے معورف گلوکار راجہ ریپسٹار نے ترانہ یوم تکبیر کے بعد تحریک آزادی جموں و کشمیر کے ترانے کے حوالے سے ایک پوسٹر ریلیز کر دیا ہے-

    لاہور : پاکستان کے معروف گلوکار راجہ ریپسٹار تحریک آزادی جموں و کشمیر پر اپنے ترانوں کی وجہ سے ساری دنیا میں مقبول ہیں، اور مقبوضہ وادی کا بچہ بچہ بھارتی قابض فوج کے سامنے سینہ تان کر انکے گائے ہوئے ترانوں کے ذریعے دشمن کو للکارتا ہے

    راجہ ریپسٹار نے اپنے آئندہ آنے والے تحریک آزادی جموں و کشمیر کے ترانے کے حوالے سے ایک پوسٹر ریلیز کیا ہے جس میں صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک کشمیری بچہ بینر اٹھائے کھڑا ہے جس پر لکھا ہے "ہم کیا چاہتے آزادی” اور دوسری جانب دیوار پر لکھا ہے "وی وانٹ فریڈم”

    راجہ ریپسٹار نے اپنے آنے والے ترانے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس ترانے کا عنوان "فری ڈم” رکھا گیا ہے، جس میں کشمیری نوجوانوں کے جزبات اور ان پر قابض بھارتی فوج کے مظالم دنیا کو دکھائے جائیں گے

    گلوکار نے کہا کہ ترانہ جلد ریلیز کیا جائے گا، تمام پاکستانیوں سے درخواست کرتا ہوں کے اس ترانے کو بھرپور شیئر کریں تاکے ہمارے مظلوم کشمیری مسلمانوں کی آواز بہری دنیا کو سنائی دے،

    واضح رہے کہ اس سے پہلے گلوکار نے کورونا وائرس کے حوالے سے رمضان المبارک کے حوالے سے کلام رحمت کا مہینہ اور یوم تکبیر پر بھی ترانے جاری کئے تھے جنیہں مداحوں کی طرف سے بے حد پذیرائی ملی تھی-

    یومِ تکبیر پر "راجہ ریپسٹار” کا ترانہ "یومِ تکبیر” ریلیز کر دیا گیا

    "راجہ ریپسٹار” کا پہلا رمضان کلام "رحمت کا مہینہ” ریلیز

  • ہماری قوم ارطغرل ڈرامے کو حقیقت جبکہ کورونا کو ڈرامہ سمجھ رہی ہے  فیصل قریشی

    ہماری قوم ارطغرل ڈرامے کو حقیقت جبکہ کورونا کو ڈرامہ سمجھ رہی ہے فیصل قریشی

    پاکستان شوبز انڈسٹری کعے معروف اداکار و میزبان فیصل قریشی نے پاکستانی عوام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہماری قوم ارطغرل ڈرامے کو حقیقت جبکہ کورونا کو ڈرامہ سمجھ رہی ہے-

    باغی ٹی وی : سوشل میڈیا ویب سائٹ انسٹاگرام پر فیصل قریشی نے اسٹوریز شئیر کیں جن میں لکھا کہ یہ سچ ہے کہ ہم وہ قوم ہیں جو کورونا وائرس کو تو ایک ڈرامہ لگتا ہے لیکن ہم ارطغرل ڈرامےکو حقیقت سمجھتے ہیں۔

    فیصل قریشی نے اپنے اگلی انسٹاگرام اسٹوری میں وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ میں نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری میں جو کہا ہے اس میں ارطغرل غازی ڈرامہ کے کرداروں کے بارے میں بات ہو رہی ہے-

    انہوں نے اپنی ایک اور انسٹاگرام اسٹوری میں پاکستان میں کورونا وائرس کیسز کے اعدادو شمار شیئر کئے اور آخر میں لکھا کہ نظر انداز کرنے کے لیے آپ سب کا بہت شکریہ۔

    شوبز شخصیات کے بعد سیاسی شخصیات بھی ارطغرل غازی کو پی ٹی وی پر نشر کرنے پر منقسم

  • سیاہ فاموں، فلسطینیوں اور مقبوضہ کشمیر پر ڈھائے جانے والےدرد ناک مظالم دیکھتی ہوں تو میرا دل روتا ہے  نیلم منیر

    سیاہ فاموں، فلسطینیوں اور مقبوضہ کشمیر پر ڈھائے جانے والےدرد ناک مظالم دیکھتی ہوں تو میرا دل روتا ہے نیلم منیر

    پاکستانی شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ نیلم منیر نے سیاہ فاموں ، فلسطینیوں اور کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی بھر پور مذمت کرتے ہوئے درد ناک قرار دیا اور کہا کہ جب میں یہ دیکھتی ہوں تو میرا دل روتا ہے-

    باغی ٹی وی :پاکستانی شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ نیلم منیر نے سیاہ فاموں ، فلسطینیوں اور کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی بھر پور مذمت کرتے ہوئے درد ناک قرار دیا اور کہا کہ جب میں یہ دیکھتی ہوں تو میرا دل روتا ہے- سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹا گرام پر نیلم منیر نے دنیا کے موجودہ حالات کے مدنظر ایک پیغام جاری کیا-
    https://www.instagram.com/p/CA8ZJ9wFpCa/?igshid=ym0rx4mul859
    اداکارہ نے لکھا کہ جی ہاں سیاہ فام لوگوں کی زندگیاں اہمیت رکھتی ہیں۔

    نیلم منیر نے لکھا کہ ہم مسلمانوں کیلئے ہر انسان کی زندگی اہمیت رکھتی ہے کیونکہ ہمارا قرآن پاک بھی ہمیں مساوات کا درس دیتا ہے اور یہ کہ ایک انسان کے نیک عمل اور اچھا اخلاق ہی دوسرے لوگوں کی نظروں میں اُس کا رتبہ بڑھاتا ہے۔

    اداکارہ نے لکھا کہ کہا کہ سیاہ فاموں، فلسطینیوں اور مقبوضہ کشمیر کے عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم درد ناک ہیں جب میں یہ دیکھتی ہوں تو میرا دل روتا ہے۔

    نیلم نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک با آسانی پوری دُنیا کے سامنے بے شرمی سے انسانیت پر ظلم کر رہے ہیں-

    نیلم منیر نے کہا کہ مجھے اُمید ہے کہ انشاءاللہ ایک دن یہ ظلم ختم ہوگا، اللہ ہم سب کی حفاظت کرے آمین۔

    نسل پرستی انسان کی ایجاد کی جانے والی سب سے مکروہ چیز ہے حمزہ علی عباسی

    پاکستانی فنکار بھی امریکی سیاہ فاموں کی حمایت میں بول پڑے

  • نسل پرستی انسان کی ایجاد کی جانے والی سب سے مکروہ چیز ہے  حمزہ علی عباسی

    نسل پرستی انسان کی ایجاد کی جانے والی سب سے مکروہ چیز ہے حمزہ علی عباسی

    پاکستان کے معروف اداکار حمزہ علی عباسی کا امریکہ میں سیاہ فام شہری جارج فلائیڈ کی سفید فام پولیس اہلکاروں کے ہاتھوں ہلاکت پر رد عمل دیتے ہوئے کہنا ہے کہ نسل پرستی انسان کی ایجاد کی جانے والی سب سے مکروہ اور بیکار چیز ہے بالکل شرمناک بات ہے کہ آپ کیسے رنگ و نسل کی بنیاد پر کسی سے محبت کرنے یا نفرت کرنے اور قتل کرنے کا جواز پیش کرسکتے ہیں۔

    باغی ٹی وی :سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر حمزہ علی عباسی نےلکھا کہ نسل پرستی انسانیت کی ایجاد کی جانے والی سب سے مکروہ ، بیکار چیز ہے۔


    اداکار نے لکھا کہ آپ کس طرح کسی کی محبت کرنے ، نفرت کرنے یا قتل کرنے یا کسی کو بچانے کا جواز پیش کرسکتے ہیں جس کی بنیاد پر ان کی جلد کا رنگ رنگین ہے۔

    حمزہ عباسی نے اس کو شرمناک قرارد دیتے ہوئے کہا کہ شرمناک … بالکل شرمناک آپ کیسے رنگ و نسل کی بنیاد پر کسی سے محبت کرنے یا نفرت کرنے اور قتل کرنے کا جواز پیش کرسکتے ہیں۔

    انہوں نے ہیش ٹیگ GeorgeFloyd #GeorgeFloydProtests# بھی استعما ل کئے-

    اداکار حمزہ علی عباسی نے دُنیا بھر کی موجودہ صورتحال پر اپنے ایک اور ٹویٹ میں معنی خیز پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات ذہن میں رکھیں کہ ہم سب کی آخری منزل قبر ہے۔


    اداکار نے لکھا کہ سو سال کے اندر اندر ہم ایک ایسی دُنیا میں چلے جائیں گے جہاں ہمارے منصوبے اس دُنیا سے مختلف ہوں گے اور ہم چاہ نے کے باوجود بھی دوبارہ اپنی اس زندگی میں واپس نہیں آسکیں گے-

    حمزہ علی نے لکھا کہ آئیے ہم سب یہ بات ذہن میں رکھیں کہ ہماری آخری منزل قبر ہے۔ کیا اب یہ وقت نہیں ہے جب ہم سب کو زندگی اور موت کا خیال کرنا چاہیئے کہ اس کے بعد ہمارے ساتھ اُس دنیا میں کیا ہوسکتا ہے یا نہیں؟


    اپنے ایک اور ٹویٹ میں حمزہ علی عباسی نے لکھا کہ یہ دُنیا بہت تیزی سے کسی چیزمیں تبدیل ہو رہی ہے اس بات کا یقین نہیں ہے کہ وہ "کچھ” کیا ہے لیکن مجھے یقین ہے کہ مجھے کیا یقین ہے کہ کچھ ہی سالوں میں ، ہم اس دنیا سے بہت مختلف دنیا میں رہ رہے ہوں گے جسے ہم میں سے کوئی بھی آج تک نہیں جان سکا-


    اداکار نے اپنے ایک ٹویٹ میں بھارت میں مرنے والی مادہ ہتھنی کے افسوسناک واقعے پر بھی دکھ کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ خدا انصاف کرے گا انشاءاللہ۔ ساتھ ہی ہیش ٹیگ RIPHumanity #ElephantDeath# بھی استعمال کئے

    واضح رہے کہ 25 مئی کو منیسوٹا میں ایک امریکی پولیس اہلکار کے تشدد سے سیاہ فام امریکی شہری ہلاک ہوگیا تھا اور اِس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی تھی جس کے بعد سے امریکا میں سیاہ فام امریکی شہریوں کی جانب سے مظاہرے کیے جارہے ہیں۔

    ہماری کامیابی اور ناکامی کا انحصار اخلاقی بنیاد کے اوپر ہے حمزہ علی عباسی