شوبز اور فٹ بال کی دنیا میں ’بیکہم فیملی‘ ہمیشہ ایک مثالی خاندان کے طور پر دیکھی جاتی رہی ہے، لیکن 2026 کے آغاز تک، ڈیوڈ اور وکٹوریہ بیکہم کے بڑے بیٹے بروکلین بیکہم اور ان کی اہلیہ نکولا پیلٹز کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج نے ایک سنگین خاندانی جنگ کی صورت اختیار کر لی ہے۔
برطانوی میڈیا اور حالیہ رپورٹس کے مطابق، یہ تنازع صرف "ساس بہو کی لڑائی” تک محدود نہیں رہا بلکہ انا، کاروباری مفادات اور ذاتی آزادی جیسے پہلو بھی شامل ہو گئے ہیں۔
تنازع کی جڑ: شادی سے شروع ہونے والی سرد جنگ
یہ کہانی 2022 میں بروکلین اور نکولا کی پرتعیش شادی سے شروع ہوئی۔ بتایا جاتا ہے کہ وکٹوریہ بیکہم اور نکولا کے درمیان شادی کے جوڑے کو لے کر پیدا ہونے والی غلط فہمی نے اس تنازع کو بڑھاوا دیا۔ نکولا کا دعویٰ ہے کہ وکٹوریہ نے وقت پر جوڑا تیار کرنے سے معذرت کی، جبکہ بیکہم خاندان ان الزامات کو مسترد کرتا رہا ہے۔
2026 کے بڑے انکشافات: بروکلین کا دو ٹوک مؤقف
حالیہ مہینوں میں بروکلین نے اپنے والدین سے فاصلے اختیار کیے اور چند بیانات دیے جو سوشل میڈیا پر تنازع کا سبب بن گئے:
* برانڈ بیکہم کا دباؤ: بروکلین کا کہنا ہے کہ انہیں بچپن سے ہی "بیکہم برانڈ” کی چمک برقرار رکھنے کے لیے ایک کٹھ پتلی کی طرح استعمال کیا گیا، اور والدین کی سخت نگرانی میں رکھا گیا۔
* تجارتی حقوق کا تنازع: رپورٹس کے مطابق ڈیوڈ بیکہم اور ان کی ٹیم نے دباؤ ڈالا کہ بروکلین اپنے نام کے تجارتی حقوق والدین کے پاس رہنے دیں، تاکہ پیلٹز خاندان اس سے فائدہ نہ اٹھا سکے۔
* بیوی کی حمایت: بروکلین نے کہا کہ وہ اپنی زندگی کے نئے سفر میں اپنی اہلیہ نکولا کے ساتھ کھڑے ہیں اور والدین کی مداخلت مزید برداشت نہیں کریں گے۔
والدین کا ردعمل: خاموشی یا حکمتِ عملی؟
دوسری جانب ڈیوڈ اور وکٹوریہ نے عوامی سطح پر شرافت کا دامن تھامے رکھا ہے۔ ڈیوڈ کے مطابق بروکلین جذباتی فیصلے کر رہے ہیں اور وقت کے ساتھ سب ٹھیک ہو جائے گا، جبکہ اندرونی ذرائع کے مطابق وکٹوریہ بروکلین کی بغاوت پر شدید رنجیدہ ہیں اور انہیں لگتا ہے کہ نکولا نے ان کے بیٹے کو ان سے دور کر دیا ہے۔
Category: شوبز
-

بروکلین بیکہم اور نکولا پیلٹز میں اختلافات , بیکہم خاندان میں تنازع
-

انکل اپنی آواز بھی نہیں نکال سکتے،پاکستان مخالف ڈائیلاگ پر یاسر حسین کا سنی دیول پر طنز
بھارت نے ایک اور پاکستان مخالف فلم “بارڈر 2” بنائی ہے، جس میں سنی دیول مرکزی کردار میں نظر آئیں گے۔
تفصیلات کے مطابق فلم میں 1971 کی پاک بھارت جنگ کو موضوع بنایا گیا ہے اور ٹیزر میں سنی دیول کو ایک بار پھر جنگی نعروں اور جارحانہ مکالموں کے ساتھ پیش کیا گیا ہے،فلم کی پروموشن کے دوران سنی دیول نے ایک پاکستان مخالف ڈائیلاگ دیتے ہوئے کہا کہ “آواز کتنی دور تک جانی چاہیے؟ سیدھی لاہور تک!”
ویڈیو میں سنی نے یہ ڈائیلاگ ہچکچاہٹ کے ساتھ دیا، جو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا،پاکستانی اداکار اور ہدایت کار یاسر حسین نے سنی دیول کے پاکستان مخالف ڈائیلاگ پر طنزیہ ردعمل دیا اور اس وائرل ویڈیو کو اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ “انکل اپنی آواز بھی نہیں نکال سکتے”۔
واضح رہے کہ بھارتی میڈیا کے مطابق فلم کو دنیا بھر میں 23 جنوری 2026 کو ریلیز کرنے کا شیڈول تھا، تاہم ادیتیہ دھر کی فلم ‘دھریندر’ کی طرح بارڈر 2 بھی بحرین، کویت، عمان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں سینما ہالز میں نمائش کی اجازت حاصل کرنے میں ناکام رہی۔
-

بھارتی اداکار رہائشی عمارت پر فائرنگ کے الزام میں گرفتار
بالی ووڈ کے معروف اداکار، فلم ساز اور متنازع تبصروں کے لیے مشہور کمال رشید خان المعروف کے آر کے کو رہائشی عمارت میں فائرنگ کرنے کے الزام میں ممبئی پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔
پولیس کے مطابق یہ واقعہ 18 جنوری 2026 کو آندھیری کے اوشیواڑہ علاقے میں نالندا سوسائٹی میں پیش آیا، جہاں دو گولیاں رہائشی عمارت کی دیواروں میں لگی پائی گئیں ان میں سے ایک گولی دوسری منزل کے فلیٹ سے اور دوسری چوتھی منزل کے فلیٹ سے برآمد ہوئی، تاہم عمارت میں کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔
ابتدائی طور پر سی سی ٹی وی فوٹیج سے گولیاں چلانے کے ماخذ کا پتہ نہیں چل سکا، تاہم فارنزک تجزیے سے ظاہر ہوا کہ یہ گولیاں ممکنہ طور پر کے آر کے کے قریب واقع بنگلے سے چلائی گئی تھیں، جس کے بعد پولیس نے انہیں جمعہ کی شب تفتیش کے لیے حراست میں لیا۔
پولیس کے مطابق بیان کے دوران کے آر کے نے مبینہ طور پر اعتراف کیا کہ انہوں نے اپنے لائسنس یافتہ ہتھیار سے دو گولیاں چلائیں پولیس نے اس ہتھیار کو ضابطے کے مطابق قبضے میں لے لیا ہے اور مزید قانونی کارروائی جاری ہے،تفتیش ابھی جاری ہے اور یہ واضح نہیں ہو سکا کہ فائرنگ حادثاتی تھی یا دانستہ۔ پولیس نے معاملے میں متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کر رکھا ہے۔
-

شمالی کوریا کی سینما دنیا میں غیر معمولی تبدیلی، فلم میں تشدد، سنسنی اور ممنوعہ مناظر
شمالی کوریا کی ایک نئی ریاستی منظور شدہ فلم نے ملکی اور غیر ملکی مبصرین کو حیران کر دیا ہے، کیونکہ اس میں ایسے مناظر اور کہانی دکھائی گئی ہے جو ماضی میں اس سخت گیر ملک کے سینما میں ناقابلِ تصور سمجھے جاتے تھے۔
فلم “ڈیز اینڈ نائٹس آف کنفرنٹیشن” (Days and Nights of Confrontation) میں ایک شخص کو پلاسٹک بیگ سے دم گھونٹ کر قتل کرنے کا منظر، خودکش بم جیکٹ، خاندانی غداری، ازدواجی بے وفائی، حتیٰ کہ مختصر جزوی عریانی بھی دکھائی گئی ہے۔ ایک خاتون کردار کو پہلے اس کے شوہر کے ہاتھوں چھرا گھونپا جاتا ہے، پھر گاڑی کی ٹکر سے زخمی ہوتی ہے اور آخرکار قتل کر دیا جاتا ہے۔یہ فلم گزشتہ سال شمالی کوریا کے سینما گھروں میں دکھائی گئی جہاں اس نے بڑی تعداد میں ناظرین کو متوجہ کیا، تاہم اس ماہ اسے پہلی بار سرکاری ٹی وی پر نشر کیا گیا، جسے مبصرین سرکاری منظوری اور اعتماد کی واضح علامت قرار دے رہے ہیں۔اس فلم کو کوریَن اپریل 25 فلم اسٹوڈیو نے پروڈیوس کیا ہے، جو شمالی کوریا کی نظریاتی اور انقلابی فلموں کے لیے جانا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس میں کھلے تشدد اور تھرلر انداز کی کہانی کو خاص طور پر غیر معمولی سمجھا جا رہا ہے۔
امریکی فلم ساز جسٹن مارٹیل، جنہوں نے گزشتہ سال پیانگ یانگ انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں شرکت کی، کا کہنا ہے “پلاسٹک بیگ سے دم گھونٹنے کا منظر میں نے اس سے پہلے کسی شمالی کوریائی فلم میں نہیں دیکھا۔ جزوی عریانی بھی ایک بالکل نیا تجربہ تھا۔”
فلم کی کہانی 2000 کی دہائی کے وسط میں ترتیب دی گئی ہے اور اس کا مرکزی موضوع ذاتی اور ریاستی غداری ہے۔ پلاٹ کا نقطۂ عروج سابق شمالی کوریائی رہنما کم جونگ اِل کے قتل کی سازش ہے، جس میں ان کی ٹرین کو دھماکے سے اڑانے کا منصوبہ بنایا جاتا ہے۔یہ کہانی 2004 میں چین کی سرحد کے قریب ریونگ چون ریلوے اسٹیشن پر ہونے والے دھماکے سے مماثلت رکھتی ہے، جسے سرکاری طور پر حادثہ قرار دیا گیا تھا، مگر بیرونِ ملک اسے قتل کی کوشش سے جوڑا جاتا رہا۔فلم کے اختتام پر سازش ناکام ہو جاتی ہے، مرکزی کردار گرفتار ہو جاتا ہے اور واضح پیغام دیا جاتا ہے کہ ریاست سے غداری کا انجام ہمیشہ تباہی ہے۔
اگرچہ فلم کا مواد اشتعال انگیز ہے، تاہم اس کا پیغام مکمل طور پر ریاستی نظریے کے مطابق ہے۔ غداری تباہی کی طرف لے جاتی ہے اور ریاست سے وفاداری ہی واحد محفوظ راستہ ہے۔ماہرین کے مطابق یہ تبدیلی کم جونگ اُن کی حکومت کی اس سوچ کی عکاسی کرتی ہے کہ نوجوان نسل کی توجہ حاصل کرنے کے لیے جدید انداز اپنانا ضروری ہو چکا ہے۔
شمالی کوریا میں فلم کو ہمیشہ غیر معمولی اہمیت حاصل رہی ہے۔ سابق رہنما کم جونگ اِل خود فلمی صنعت کی نگرانی کرتے تھے اور ان کے پاس 15 ہزار سے زائد فلموں کا ذاتی ذخیرہ تھا۔اسی دور میں جنوبی کوریا کی معروف اداکارہ چوئی اُن ہی اور ہدایتکار شن سانگ اوک کو اغوا کر کے پیانگ یانگ لایا گیا، جہاں انہوں نے ریاست کے لیے متعدد فلمیں بنائیں، جن میں مشہور فلم “پلگاساری” بھی شامل ہے۔آج کے شمالی کوریا میں اسمارٹ فونز، ریاستی ایپس اور اندرونی اسٹریمنگ سروسز عام ہو رہی ہیں، جبکہ خفیہ طور پر جنوبی کوریائی ڈرامے اور موسیقی بھی نوجوانوں میں مقبول ہیں۔ اگرچہ ان پر سخت سزائیں دی جاتی ہیں، مگر ماہرین کے مطابق صرف جبر اب کافی نہیں رہا۔
“ڈیز اینڈ نائٹس آف کنفرنٹیشن” اسی نئی حکمتِ عملی کا حصہ ہے ، زیادہ سنسنی خیز، زیادہ تاریک، مگر پیغام وہی پرانا،ریاست اور رہنما کے خلاف سازش کا انجام ہمیشہ ہلاکت اور تباہی ہے۔
-

خلیل الرحمان قمر نازیبا ویڈیو کیس: ملزمہ آمنہ عروج کی ضمانت منظور
معروف ڈرامہ نگار خلیل الرحمان قمر کی مبینہ نامناسب ویڈیو وائرل کرنے کے مقدمے میں نامزد ملزمہ آمنہ عروج کی ضمانت منظور کر لی گئی ہے۔
ایڈیشنل سیشن جج منصور احمد قریشی نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد محفوظ کیا گیا فیصلہ سنا دیا عدالت نے ملزمہ کی درخواستِ ضمانت بعد از گرفتاری تین لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض منظور کی۔ ملزمہ آمنہ عروج نے اپنے وکیل کے ذریعے ضمانت کی درخواست دائر کر رکھی تھی، جس پر عدالت نے قانونی نکات کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ سنایا۔
عدالتی کارروائی کے دوران بتایا گیا کہ ملزمہ کے خلاف نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے مبینہ طور پر نامناسب ویڈیو وائرل کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کر رکھا ہے۔
عدالت نے حکم دیا کہ ملزمہ مقررہ مچلکے جمع کرانے کے بعد ضمانت پر رہا کی جائے، جبکہ کیس کی مزید سماعت آئندہ تاریخ پر ہوگی۔
واضح رہے کہ گزشتہ بر س جولا ئی میں معروف رائٹر خلیل الرحمان قمر کی ہنی ٹریپ ہونے کی خبر سامنے آئی تھی، آمنہ عروج نامی خاتون نے خلیل الرحمان کو گھربلا کر ساتھیوں کے ہمراہ تشدد کا نشانہ بنایا اور انہیں لوٹ لیا تھاڈرامہ نگار خلیل الرحمان قمرکوآمنہ عروج نامی خاتون نے ڈرامہ بنانے کا جھانسہ دے کر ا پنے گھر بلایا خلیل الرحمان کمرے میں بیٹھے ہی تھے کہ 7 سے 8 مسلح افراد داخل ہوئےان کی آنکھوں پرپٹی باندھی اورتشدد کا نشانہ بنایا۔
ایف آئی آرکے مطابق ملزمان نے خلیل الرحمان کوگاڑی میں بیٹھایا اورایک کروڑ روپےکا مطالبہ کیا گن پوائنٹ پران سے اے ٹی ایم کارڈ کے ذریعے 2 لاکھ 60 ہزاربھی نکلوائے گئے ان سے نقدی، پرس، موبائل اور قیمتی گھڑی بھی چھین لی گئی تھی،خلیل الرحمان کوکہا گیا کہ تمھیں مارنےکا حکم ہے کلمہ پڑھ لو اورایک فائرپاؤں کےقریب مارا گیا،آرگنائزڈ کرائم یونٹ نے ہنی ٹریپ کرنے والی خاتون سمیت چار ملزمان کو پکڑ ا تھا جبکہ استعمال کی گئی گاڑی بھی برآمد کی تھی۔
-

ممبئی: اکشے کمار کی سیکیورٹی گاڑی حادثے کا شکار
ممبئی میں بالی ووڈ اداکار اکشے کمار کی سیکیورٹی میں شامل ایک گاڑی پیر کی شام سڑک حادثے کا شکار ہوگئی۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب اکشے کمار اپنی اہلیہ ٹوئنکل کھنہ کے ہمراہ ایئرپورٹ سے اپنے جوہو کے رہائشی مکان واپس جا رہے تھے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق ایک کار نے پیچھے سے ایک آٹو رکشہ کو ٹکر ماری، جس کے نتیجے میں رکشہ الٹ گیا اور اکشے کمار کی سیکیورٹی میں شامل اسکارٹ گاڑی سے جا ٹکرایا۔ ٹکر اتنی شدید تھی کہ سیکیورٹی گاڑی سڑک پر دائیں جانب الٹ گئی۔حادثے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور دیگر متعلقہ حکام موقع پر پہنچ گئے اور صورتحال کو قابو میں لے لیا۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اکشے کمار کی اسکارٹ گاڑی سڑک پر ایک طرف الٹی ہوئی ہے، جبکہ آٹو رکشہ بری طرح تباہ نظر آتا ہے اور اوپر سے دب چکا ہے۔ خوش قسمتی سے حادثے میں کسی کے شدید زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔
واضح رہے کہ اکشے کمار اور ٹوئنکل کھنہ حال ہی میں بیرونِ ملک سفر سے واپس آئے تھے، جہاں وہ اپنی ذاتی زندگی کے ایک خاص موقع کی مناسبت سے گئے تھے۔ دونوں نے حال ہی میں اپنی شادی کی 25ویں سالگرہ منائی ہے۔اس موقع پر ٹوئنکل کھنہ نے ہفتے کے روز انسٹاگرام پر ایک ویڈیو بھی شیئر کی تھی جس میں وہ اور اکشے کمار پیراگلائیڈنگ کرتے نظر آئے۔ ویڈیو کے ساتھ ٹوئنکل نے لکھا کہ ان کی شادی کی سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ وہ ہمیشہ ایک دوسرے کو آگے بڑھنے اور “اڑان بھرنے” کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔یاد رہے کہ اکشے کمار اور ٹوئنکل کھنہ کی شادی 17 جنوری 2001 کو ممبئی میں ہوئی تھی۔ ان کے دو بچے ہیں، جن میں 23 سالہ بیٹا آراو اور 13 سالہ بیٹی نتارا شامل ہیں۔
-

لیجنڈری مارشل آرٹس اداکار 77 برس کی عمر میں انتقال کر گئے
ہانگ کانگ فلم انڈسٹری کے معروف اور لیجنڈری مارشل آرٹس اداکار سیو لونگ لیونگ 77 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ان کے اہلِ خانہ نے ان کے انتقال کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ وہ پُرسکون انداز میں اس دنیا سے رخصت ہوئے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سیو لونگ لیونگ کے اہلِ خانہ نے ان کے انتقال کی تصدیق ہانگ کانگ کے ایک معروف میڈیا ادارے کو کی۔ خاندان کا کہنا ہے کہ تدفین کے انتظامات نجی طور پر کیے جا رہے ہیں، جبکہ ان کی آخری رسومات اور الوداعی تقریب 26 جنوری 2026 کو چین کے صوبہ گوانگ ڈونگ کے شہر شین ژین کے علاقے لونگ گانگ میں منعقد کی جائے گی۔
رپورٹس کے مطابق سیو لونگ لیونگ ہانگ کانگ فلم انڈسٹری کا ایک بڑا نام تھے اور 1970 اور 1980 کی دہائی میں مارشل آرٹس فلموں کے صفِ اول کے اداکاروں میں شمار ہوتے تھے۔ انہیں فلمی دنیا میں خاص شہرت اُس وقت ملی جب انہوں نے فلموں میں کردار ’’چن ژن‘‘ ادا کیا، جو بعد ازاں کنگ فو فلموں کا ایک یادگار کردار بن گیا۔
سیو لونگ لیونگ نے نئی نسل کے ناظرین میں بھی اپنی پہچان برقرار رکھی، خاص طور پر عالمی شہرت یافتہ فلم کنگ فو ہسل میں ’’دی بیسٹ‘‘ کے کردار کے ذریعے۔ اس فلم میں ان کی اداکاری آج بھی فلم کے نمایاں اور پسندیدہ پہلوؤں میں شمار کی جاتی ہے۔
سیو لونگ لیونگ اُن اداکاروں میں شامل تھے جنہوں نے نہ صرف اسکرین پر بلکہ حقیقی زندگی میں بھی مارشل آرٹس میں مہارت حاصل کی، اور اپنی فنی صلاحیتوں کے ذریعے ہانگ کانگ سنیما پر گہرے نقوش چھوڑے۔ -

’دی لائن کنگ‘ اور ’الہٰ دین‘ کے تخیلق کار انتقال کر گئے
ڈزنی کے معروف اینیمیٹر، ہدایت کار اور کہانی نویس راجر ایلرز 76 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔
راجر ایلرز کے انتقال سے عالمی اینیمیشن انڈسٹری ایک ایسے تخلیق کار سے محروم ہو گئی ہے جس کے کام نے کروڑوں ناظرین کے بچپن کی یادوں کو ایک نئی شکل دی،راجر ایلرز نے دی لائن کنگ، الہٰ دین، دی لِٹل مرمیڈ اور بیوٹی اینڈ دی بیسٹ جیسی لازوال فلموں کی تخلیق میں کلیدی کردار ادا کیا۔
ان کی وفات کی تصدیق ان کے قریبی ساتھی اور پروڈیوسر ڈیو بوسرٹ نے کی،بوسرٹ کے مطابق وہ چند روز قبل ہی مصر کے سفر کے دوران راجر ایلرز سے ای میل کے ذریعے رابطے میں تھے، جس کے باعث یہ خبر مزید ناقابلِ یقین محسوس ہو رہی ہےانہوں نے راجر ایلرز کو ڈزنی اینیمیشن کے سنہری دور کا مضبوط ستون بھی قرار دیا۔
پولیو مہم کی تاریخ کا اعلان ہوگیا
راجر ایلرز نے اپنے کیریئر کا آغاز 1982 میں فلم ٹرون کے لیے اسٹوری بورڈ آرٹسٹ کے طور پر کیا تھابعد ازاں انہوں نے اولیور اینڈ کمپنی اور دی لِٹل مرمیڈ پر کام کیا، جبکہ بیوٹی اینڈ دی بیسٹ میں ہیڈ آف اسٹوری کی حیثیت سے نمایاں مقام حاصل کیا1994 میں دی لائن کنگ کی مشترکہ ہدایت کاری نےانہیں عالمی شہرت دلائی،راجر ایلرز اپنی عاجزی، شفقت اور خوش مزاج شخصیت کے لیے جانے جاتے تھے۔
-

ہم اب بھی ساتھ رہتے ہیں، سنیتا آہوجا کی گووندا سے طلاق کی تردید
بالی ووڈ گووندا کی اہلیہ سنیتا آہوجا نے شوہر کے ساتھ طلاق کی خبروں کی تردید کی ہے-
ایک پوڈکاسٹ میں سنیتا آہوجا نے گووندا سے علیحدگی کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کے درمیان نہ طلاق ہوئی ہے اور نہ ہی اس کا کوئی ارادہ ہے، دونوں اب بھی ساتھ رہتے ہیں وہ شوہر کی زندگی میں آنے والی دیگر خواتین کے معاملات کو نظرانداز نہیں کرتیں ان کا رشتہ مضبوط ہے تاہم اگر بے وفائی ثابت ہوئی تو وہ معاف نہیں کریں گی، گفتگو کے دوران انہوں نے خاندانی ذمہ داریوں اور بچوں کے مستقبل پر بھی بات کی اور بیٹے کے لیے خاطرخواہ کردار ادا نہ کرنے پر گووندا پر ناراضی ظاہر کی۔
واضح رہے کہ گووندا اور سنیتا آہوجا کی شادی 1987 میں ہوئی تھی اور ان کے دو بچے، ٹینا اور یش وردھن آہوجا ہیں۔
خطے میں بھارت کا علاقائی اثر و رسوخ کمزور ہونے لگا،سفارتی تنہائی کا سامنا
-

بشنوئی گینگ کی بھارتی گلوکارکو جان سے مارنے کی دھمکی
بھارت کے بدنام زمانہ گینگسٹر لارنس بشنوئی کے گینگ نے پنجابی گلوکار پراتیک بچن المعروف بی پراک کو مبینہ طور پر جان سے مارنے کی دھمکی دی ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق بی پراک کو لارنس بشنوئی گینگ کے ایک رکن کی جانب سے جان سے مارنے کی دھمکی دی گئی اور 10 کروڑ روپے بھتّے کا بھی مطالبہ کیا گیا بی پراک کے قریبی ساتھی اور پنجابی گلوکار دلنور کو 5 جنوری کو ایک غیر ملکی نمبر سے2 مسڈ کالز موصول ہوئیں، جنہیں انہوں نے نظر انداز کیا لیکن پھر اگلے دن ایک مختلف غیر ملکی نمبر سے کال آئی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق فون کرنے والے نے اپنی شناخت ارجو بشنوئی کے نام سے کروائی اور بی پراک کے قریبی ساتھی دلنور کو کہا کہ ہمارا پیغام بی پراک تک پہنچا دوکہ ہمیں 10 کروڑ روپے چاہیے تمہارے پاس ایک ہفتہ ہے تم کسی بھی ملک چلے جاؤ، لیکن اگر اس سے وابستہ کوئی شخص ہمارے قریب پایا گیا تو نقصان پہنچایا جائے گا، اگر مطالبہ پورا نہ کیا گیا تو وہ بی پراک کو مٹی میں ملا دیں گے اور انہیں جان سے مار دیا جائے گا۔
دلنور کی شکایت پر پولیس نے فوری طور پر مقدمہ درج کر کے تحقیقات شروع کر دی ہیں فون کالز کا سراغ لگایا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ پراتیک بچن، جو بی پراک کے نام سے مشہور ہیں، پنجابی اور ہندی موسیقی کے نمایاں گلوکار اور میوزک ڈائریکٹر ہیں،ان کے مشہور گانوں میں “من بھرّیا” اور فلم اینیمل کا مشہور گانا “ساری دنیا جلا دیں گے” وغیرہ شامل ہیں۔