Baaghi TV

Category: کھیل

  • انگلینڈ نے پہلی بار ورلڈ کپ فتح کر لیا

    انگلینڈ نے پہلی بار ورلڈ کپ فتح کر لیا

    لورڈز: سنسنی خیز مقابلے اور سوپر اوور کے بعد انگلینڈ کی ٹیم نے پہلی بار ورلڈ کپ کا ٹائٹل اپنے نام کر لیا. بین سٹوکس مین آف دی میچ قرار.

    242 کا ہدف برابر ہونے کے بعد سوپر اوور ہوا جس میں انگلینڈ کی جانب سے بین سٹوکس اور جوس بٹلر کھیلنے آئے اور 15 رنز بنائے
    میزبان ٹیم انگلینڈ ہوم گراؤنڈ میں ورلڈ کپ جیتنے والی پہلی ٹیم بن گئی. نیوزیلینڈ نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کیا تھا لیکن اچھی بیٹنگ نہ کر سکے. اوپنر گپٹل 19 رنز بنا کر کرس ووکس کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہو گئے. کپتان ولیمسن بھی 30 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے. روز ٹیلر بھی اپنی کارگردگی نہ دکھا سکے اور مارک ووڈ کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہو گئے. نکولس 55 رنز بنا کر ٹاپ سکورر رہے.

    ہدف کے تعاقب میں انگلینڈ کی ٹیم بھی شروعات میں لڑکھڑا گئی پھر بین سٹوکس اور جوس بٹلر نے بیٹنگ لائن کو سنبھالا اور سکور آگے لے گئے.

    میچ برابر ہونے کے بعد سوپر اوور ہوا جس میں انگلینڈ کی جانب سے بین سٹوکس اور جوس بٹلر کھیلنے آئے اور 15 رنز بنائے

    واضح رہے انگلینڈ کی ٹیم نے پہلی بار ورلڈ کپ کا فائنل فتح کیا ہے. 1992 کے بعد پہلی بار ورلڈ کا کا فائنل کھیلنے والی ٹیم نے ہوم گراؤنڈ میں فتح سمیٹی

  • انگلینڈ نے نیوزی لینڈ سے فتح چھین لی، ورلڈ کپ جیت کر نئی تاریخ رقم کر دی

    انگلینڈ نے نیوزی لینڈ سے فتح چھین لی، ورلڈ کپ جیت کر نئی تاریخ رقم کر دی

    ورلڈ کپ کے فائنل میچ میں نیوزی لینڈ اورانگلینڈ کا میچ برابر ہونے پر سپر اوور کھیلا گیا. ورلڈ کپ کی تاریخ میں یہ پہلی مرتبہ ہے کہ ہار جیت کے فیصلہ کیلئے سپر اوور کھیلنا پڑا. میچ برابر ہونے پر سپر اوور میں پہلے انگلینڈ نے بیٹنگ کی اور سپر اوور میں‌ 15 سکور بنائے. یوں‌ انگلینڈ‌ نے نیوزی لینڈ کو ایک اوور میں فتح کیلئے 16 رنز کا ٹارگٹ‌ دیا. نیوزی لینڈ کی طرف سے سپر اوور بٹلر نے کیا.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ‌ کے مطابق نیوزی لینڈ‌ کی ٹیم نے بعد میں سپر اوور کھیلتے ہوئے پندرہ سکور بنائے. یوں‌ دونوں نے سپر اوور میں ایک جیسا سکور کیا تاہم انگلینڈ کی باؤنڈریز زیادہ ہونے کی وجہ سے اسے ورلڈ‌کپ کا فاتح قرار دیا گیا. بین سٹوکس مین آف دی میچ قرار دیے گئے.

    قبل ازیں‌ نیوزی لینڈ کی ٹیم نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے انگلینڈ کی ٹیم کو 242 رنز کا ہدف دیا تاہم انگلینڈ کی ٹیم بڑی مشکل سے یہ میچ برابر کرنے میں‌ کامیاب رہی جس پر میچ کے فیصلہ کیلئے سپر اوور کھیلا گیا، ورلڈ کپ کی تاریخ میں پہلی بارٹائٹل کا فیصلہ سپر اوور میں ہوا ،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق میچ کے دوران انگلینڈ کی ٹیم کو ابتدائی طور پر ہی مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑا جب 86 سکور پر اس کی چار وکٹیں‌ گر گئیں‌ تاہم بعد میں انگلینڈ کے کھلاڑیوں نے اچھی بیٹنگ کی اور اپنی ٹیم کو سہارا دینے کی کوشش کی تاہم اس دوران جب انگلینڈ کی ٹیم کی پوزیشن کچھ بہتر ہوئی تو انگلینڈ کے کھلاڑی جوزیٹیلر 59 رنز بنا کر آؤٹ‌ ہو گئے جس کے بعد انگلینڈ کی ٹیم ایک بار پھر مشکل کا شکار ہو گئی. انگلینڈ کے چھٹے کھلاڑی کرس ووکس صرف دو سکور بنا سکے. ساتویں‌اور آٹھویں‌ کھلاڑی بھی جلد آؤٹ ہو گئے. انگلینڈ کو آخری گیند پر دو رنز درکار تھے تاہم میچ کی آخری گیند پر انگلینڈ کا آخری کھلاڑی دوسرا رن بنانے کی کوشش میں رن آؤٹ ہو گیا. نیوزی لینڈ کی طرف سے فرگوسن نے بہت اچھی باؤلنگ کی اور پچاس رنز دے کر تین کھلاڑیوں‌ کو آؤٹ کیا.

    میچ میں‌ نیوزی لینڈ نے پہلے کھیلتے ہوئے انگلینڈ کو 242 سکور کا ٹارگٹ دیا . نیوزی لینڈ نے پچاس اوور کھیلتے ہوئے 241 رنز بنائے ہیں‌ اور اس کے آٹھ کھلاڑی آؤٹ ہوئے. نیوزی لینڈ کی بیٹنگ آج سست رہی، اوپنر گپٹل آج اپنے بیٹ کا جادو دکھانے میں ناکام رہے، مارٹن گپٹل اور ہنری نکولس نے انگلینڈ کے خلاف اننگز کا آغاز کیا لیکن گپٹل ایک بار پھر ناکام ثابت ہوئے اور 19 رنز بنا کر کرس ووکس کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہو گئے۔ گپٹل کے آؤٹ ہونے کے بعد نکولس اور راس ٹیلر محتاط انداز میں بیٹنگ کرتے ہوئے اپنی ٹیم کا اسکور آگے بڑھانے کی کوشش کرتے رہے لیکن بڑا سکور کرنے میں ناکام رہے. ہینری نکولس 55،کین ولیمسن 30،مارٹن گپٹل نے 19رنزبنائے، راس ٹیلر 15اورجیمزنیشم 19رنزبناکرآؤٹ ہوئے، ٹام لیتھم 47،گرینڈہوم نے 16رنزکی اننگزکھیلی، انگلینڈ کی جانب سے پلنکٹ اور ووکس نے 3 3 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا, ووڈ اور آرچر نے 1 1 وکٹ حاصل کی.

    ورلڈ کپ کی فیورٹ ٹیم اور میزبان انگلینڈ نے چوتھی مرتبہ ورلڈ کپ کا فائنل کھیلا، انگلش ٹیم 1992 کے بعد اب جاکے ستائیس برس بعد فائنل تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی تھی ۔ ادھر نیوزی لینڈ کی ٹیم مسلسل دوسری بار فائنل تک پہنچنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ 2015 کے ورلڈ کپ فائنل میں کیویز کو آسٹریلیا کے ہاتھوں شکست ہوئی تھی۔ دونوں ٹیمیں پہلی بار میگا ایونٹ میں تاریخی گراؤنڈ لارڈز میں آمنے سامنے ہیں جبکہ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ دونوں ٹیمیں ابھی تک کوئی ورلڈ کپ نہیں جیت سکی ہیں ۔

    دوہزار گیارہ اور 2015 کے ورلڈ کپ میں میزبان ٹیموں نے کامیابی حاصل کی۔ 2011 میں بھارت اور 2015 میں آسٹریلیا ورلڈ چیمپیئن بنا۔ ایک بار پھر ایسا موقع آیا ہے کہ میزبان انگلینڈ کی ٹیم اپنی سرزمین پر فائنل کھیل رہی ہے۔ ورلڈ کپ کی تاریخ پر نظردہرائی جائے تو آسٹریلیا کی ٹیم پانچ بار عالمی چیمپئن رہ چکی ۔ ویسٹ انڈیز اور بھارت نے 2،2 مرتبہ ورلڈ کپ جیتا۔ پاکستان اور سری لنکا نے ایک ، ایک مرتبہ ورلڈ چیمپئن ہونے کا اعزاز حاصل کیا ہے۔

  • ورلڈ کپ فائنل، انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کا میچ برابر، پہلی بار فیصلہ سپر اوور میں‌ ہو گا

    ورلڈ کپ فائنل، انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کا میچ برابر، پہلی بار فیصلہ سپر اوور میں‌ ہو گا

    ورلڈ کپ کے فائنل میچ میں نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کا میچ برابر ہو گیا ہے. نیوزی لینڈ کی ٹیم نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے انگلینڈ کی ٹیم کو 242 رنز کا ہدف دیا تاہم انگلینڈ کی ٹیم بڑی مشکل سے یہ میچ برابر کرنے میں‌ کامیاب رہی جس پر میچ کے فیصلہ کیلئے سپر اوور کھیلا جائے گا، ورلڈ کپ کی تاریخ میں پہلی بارٹائٹل کا فیصلہ سپر اوور میں ہو گا ، میچ کی آخری گیند پر انگلینڈ کا آخری کھلاڑی دوسرا رن بنانے کی کوشش میں رن آؤٹ ہو گیا.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ابتدائی طور پر انگلینڈ کی ٹیم کو ابتدائی طور پر ہی مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑا جب 86 سکور پر اس کی چار وکٹیں‌ گر گئیں‌ تاہم بعد میں انگلینڈ کے کھلاڑیوں نے اچھی بیٹنگ کی اور اپنی ٹیم کو سہارا دینے کی کوشش کی تاہم اس دوران جب انگلینڈ کی ٹیم کی پوزیشن کچھ بہتر ہوئی تو انگلینڈ کے کھلاڑی جوزیٹیلر 59 رنز بنا کر آؤٹ‌ ہو گئے جس کے بعد انگلینڈ کی ٹیم ایک بار پھر مشکل کا شکار ہو گئی. انگلینڈ کے چھٹے کھلاڑی کرس ووکس صرف دو سکور بنا سکے. ساتویں‌اور آٹھویں‌ کھلاڑی بھی جلد آؤٹ ہو گئے. نیوزی لینڈ کی طرف سے فرگوسن نے بہت اچھی باؤلنگ کی اور پچاس رنز دے کر تین کھلاڑیوں‌ کو آؤٹ کیا.

    میچ میں‌ نیوزی لینڈ نے پہلے کھیلتے ہوئے انگلینڈ کو 242 سکور کا ٹارگٹ دیا . نیوزی لینڈ نے پچاس اوور کھیلتے ہوئے 241 رنز بنائے ہیں‌ اور اس کے آٹھ کھلاڑی آؤٹ ہوئے. نیوزی لینڈ کی بیٹنگ آج سست رہی، اوپنر گپٹل آج اپنے بیٹ کا جادو دکھانے میں ناکام رہے، مارٹن گپٹل اور ہنری نکولس نے انگلینڈ کے خلاف اننگز کا آغاز کیا لیکن گپٹل ایک بار پھر ناکام ثابت ہوئے اور 19 رنز بنا کر کرس ووکس کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہو گئے۔ گپٹل کے آؤٹ ہونے کے بعد نکولس اور راس ٹیلر محتاط انداز میں بیٹنگ کرتے ہوئے اپنی ٹیم کا اسکور آگے بڑھانے کی کوشش کرتے رہے لیکن بڑا سکور کرنے میں ناکام رہے. ہینری نکولس 55،کین ولیمسن 30،مارٹن گپٹل نے 19رنزبنائے، راس ٹیلر 15اورجیمزنیشم 19رنزبناکرآؤٹ ہوئے، ٹام لیتھم 47،گرینڈہوم نے 16رنزکی اننگزکھیلی، انگلینڈ کی جانب سے پلنکٹ اور ووکس نے 3 3 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا, ووڈ اور آرچر نے 1 1 وکٹ حاصل کی.

    ورلڈ کپ کی فیورٹ ٹیم اور میزبان انگلینڈ نے چوتھی مرتبہ ورلڈ کپ کا فائنل کھیلا، انگلش ٹیم 1992 کے بعد اب جاکے ستائیس برس بعد فائنل تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی تھی ۔ ادھر نیوزی لینڈ کی ٹیم مسلسل دوسری بار فائنل تک پہنچنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ 2015 کے ورلڈ کپ فائنل میں کیویز کو آسٹریلیا کے ہاتھوں شکست ہوئی تھی۔ دونوں ٹیمیں پہلی بار میگا ایونٹ میں تاریخی گراؤنڈ لارڈز میں آمنے سامنے ہیں جبکہ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ دونوں ٹیمیں ابھی تک کوئی ورلڈ کپ نہیں جیت سکی ہیں ۔

    دوہزار گیارہ اور 2015 کے ورلڈ کپ میں میزبان ٹیموں نے کامیابی حاصل کی۔ 2011 میں بھارت اور 2015 میں آسٹریلیا ورلڈ چیمپیئن بنا۔ ایک بار پھر ایسا موقع آیا ہے کہ میزبان انگلینڈ کی ٹیم اپنی سرزمین پر فائنل کھیل رہی ہے۔ ورلڈ کپ کی تاریخ پر نظردہرائی جائے تو آسٹریلیا کی ٹیم پانچ بار عالمی چیمپئن رہ چکی ۔ ویسٹ انڈیز اور بھارت نے 2،2 مرتبہ ورلڈ کپ جیتا۔ پاکستان اور سری لنکا نے ایک ، ایک مرتبہ ورلڈ چیمپئن ہونے کا اعزاز حاصل کیا ہے۔

  • ورلڈ کپ فائنل، انگلینڈ کی چھٹی وکٹ 203 رنز پر گر گئی

    ورلڈ کپ فائنل، انگلینڈ کی چھٹی وکٹ 203 رنز پر گر گئی

    ورلڈ کپ کے فائنل میچ میں انگلینڈ کے کھلاڑیوں‌ کی بیٹنگ جاری ہے اور اس کی چھٹی وکٹ بھی 203 سکور پر گر گئی ہے. انگلینڈ کی ٹیم کو اس وقت یہ میچ جیتنے کیلئے 23 گیندوں‌ پر 39 رنز درکار ہیں.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ابتدائی طور پر انگلینڈ کی ٹیم کو بھی مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑا جب 86 سکور پر اس کی چار وکٹیں‌ گر گئیں‌ تاہم بعد میں انگلینڈ کے کھلاڑیوں نے اچھی بیٹنگ کی اور اپنی ٹیم کو سہارا دینے کی کوشش کی. اس موقع پر انگلینڈ کی ٹیم کی پوزیشن کچھ بہتر ہوئی تاہم انگلینڈ کے کھلاڑی جوزیٹیلر 59 رنز بنا کر آؤٹ‌ ہو گئے جس کے بعد انگلینڈ کی ٹیم ایک بار پھر مشکل کا شکار ہو گئی. انگلینڈ کے چھٹے کھلاڑی کرس ووکس صرف دو سکور بنا سکے. نیوزی لینڈ کی طرف سے فرگوسن نے بہت اچھی باؤلنگ کی اور پچاس رنز دے کر تین کھلاڑیوں‌ کو آؤٹ کیا.

    میچ میں‌ نیوزی لینڈ نے پہلے کھیلتے ہوئے انگلینڈ کو 242 سکور کا ٹارگٹ دیا ہے. نیوزی لینڈ نے پچاس اوور کھیلتے ہوئے 241 رنز بنائے ہیں‌ اور اس کے آٹھ کھلاڑی آؤٹ ہوئے. نیوزی لینڈ کی بیٹنگ آج سست رہی، اوپنر گپٹل آج اپنے بیٹ کا جادو دکھانے میں ناکام رہے، مارٹن گپٹل اور ہنری نکولس نے انگلینڈ کے خلاف اننگز کا آغاز کیا لیکن گپٹل ایک بار پھر ناکام ثابت ہوئے اور 19 رنز بنا کر کرس ووکس کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہو گئے۔ گپٹل کے آؤٹ ہونے کے بعد نکولس اور راس ٹیلر محتاط انداز میں بیٹنگ کرتے ہوئے اپنی ٹیم کا اسکور آگے بڑھانے کی کوشش کرتے رہے لیکن بڑا سکور کرنے میں ناکام رہے. ہینری نکولس 55،کین ولیمسن 30،مارٹن گپٹل نے 19رنزبنائے، راس ٹیلر 15اورجیمزنیشم 19رنزبناکرآؤٹ ہوئے، ٹام لیتھم 47،گرینڈہوم نے 16رنزکی اننگزکھیلی، انگلینڈ کی جانب سے پلنکٹ اور ووکس نے 3 3 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا, ووڈ اور آرچر نے 1 1 وکٹ حاصل کی.

    ورلڈ کپ کی فیورٹ ٹیم اور میزبان انگلینڈ چوتھی مرتبہ ورلڈ کپ کا فائنل کھیل رہی ہے۔ انگلش ٹیم 1992 کے بعد اب جاکے ستائیس برس بعد فائنل تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ ادھر نیوزی لینڈ کی ٹیم مسلسل دوسری بار فائنل تک پہنچنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ 2015 کے ورلڈ کپ فائنل میں کیویز کو آسٹریلیا کے ہاتھوں شکست ہوئی تھی۔ دونوں ٹیمیں پہلی بار میگا ایونٹ میں تاریخی گراؤنڈ لارڈز میں آمنے سامنے ہیں جبکہ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ دونوں ٹیمیں ابھی تک کوئی ورلڈ کپ نہیں جیت سکی ہیں ۔

    دوہزار گیارہ اور 2015 کے ورلڈ کپ میں میزبان ٹیموں نے کامیابی حاصل کی۔ 2011 میں بھارت اور 2015 میں آسٹریلیا ورلڈ چیمپیئن بنا۔ ایک بار پھر ایسا موقع آیا ہے کہ میزبان انگلینڈ کی ٹیم اپنی سرزمین پر فائنل کھیل رہی ہے۔ ورلڈ کپ کی تاریخ پر نظردہرائی جائے تو آسٹریلیا کی ٹیم پانچ بار عالمی چیمپئن رہ چکی ۔ ویسٹ انڈیز اور بھارت نے 2،2 مرتبہ ورلڈ کپ جیتا۔ پاکستان اور سری لنکا نے ایک ، ایک مرتبہ ورلڈ چیمپئن ہونے کا اعزاز حاصل کیا ہے۔

  • ورلڈ کپ فائنل، انگلینڈ کی 242 رنز کے تعاقب میں بیٹنگ جاری، چار وکٹوں پر 177 بنا لئے

    ورلڈ کپ فائنل، انگلینڈ کی 242 رنز کے تعاقب میں بیٹنگ جاری، چار وکٹوں پر 177 بنا لئے

    ورلڈ کپ کے فائنل میچ میں بیٹنگ کرتے ہوئے انگلینڈ کی ٹیم نے چار وکٹوں کے نقصان پر 177 سکور بنا لئے ہیں. ابھی انگلینڈ کی ٹیم کو جیتنے کیلئے 48 گیندوں‌ پر 65 رنز درکار ہیں.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ابتدائی طور پر انگلینڈ کی ٹیم کو بھی مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑا جب 86 سکور پر اس کی چار وکٹیں‌ گر گئیں‌ تاہم بعد میں انگلینڈ کے کھلاڑیوں نے اچھی بیٹنگ کی اور اپنی ٹیم کو سہارا دینے میں کامیاب رہے. میچ میں‌ نیوزی لینڈ نے پہلے کھیلتے ہوئے انگلینڈ کو 242 سکور کا ٹارگٹ دیا ہے. نیوزی لینڈ نے پچاس اوور کھیلتے ہوئے 241 رنز بنائے ہیں‌ اور اس کے آٹھ کھلاڑی آؤٹ ہوئے.

    نیوزی لینڈ کی بیٹنگ آج سست رہی، اوپنر گپٹل آج اپنے بیٹ کا جادو دکھانے میں ناکام رہے، مارٹن گپٹل اور ہنری نکولس نے انگلینڈ کے خلاف اننگز کا آغاز کیا لیکن گپٹل ایک بار پھر ناکام ثابت ہوئے اور 19 رنز بنا کر کرس ووکس کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہو گئے۔ گپٹل کے آؤٹ ہونے کے بعد نکولس اور راس ٹیلر محتاط انداز میں بیٹنگ کرتے ہوئے اپنی ٹیم کا اسکور آگے بڑھانے کی کوشش کرتے رہے لیکن بڑا سکور کرنے میں ناکام رہے. ہینری نکولس 55،کین ولیمسن 30،مارٹن گپٹل نے 19رنزبنائے، راس ٹیلر 15اورجیمزنیشم 19رنزبناکرآؤٹ ہوئے، ٹام لیتھم 47،گرینڈہوم نے 16رنزکی اننگزکھیلی، انگلینڈ کی جانب سے پلنکٹ اور ووکس نے 3 3 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا, ووڈ اور آرچر نے 1 1 وکٹ حاصل کی.

    ورلڈ کپ کی فیورٹ ٹیم اور میزبان انگلینڈ چوتھی مرتبہ ورلڈ کپ کا فائنل کھیل رہی ہے۔ انگلش ٹیم 1992 کے بعد اب جاکے ستائیس برس بعد فائنل تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ ادھر نیوزی لینڈ کی ٹیم مسلسل دوسری بار فائنل تک پہنچنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ 2015 کے ورلڈ کپ فائنل میں کیویز کو آسٹریلیا کے ہاتھوں شکست ہوئی تھی۔ دونوں ٹیمیں پہلی بار میگا ایونٹ میں تاریخی گراؤنڈ لارڈز میں آمنے سامنے ہیں جبکہ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ دونوں ٹیمیں ابھی تک کوئی ورلڈ کپ نہیں جیت سکی ہیں ۔

    دوہزار گیارہ اور 2015 کے ورلڈ کپ میں میزبان ٹیموں نے کامیابی حاصل کی۔ 2011 میں بھارت اور 2015 میں آسٹریلیا ورلڈ چیمپیئن بنا۔ ایک بار پھر ایسا موقع آیا ہے کہ میزبان انگلینڈ کی ٹیم اپنی سرزمین پر فائنل کھیل رہی ہے۔ ورلڈ کپ کی تاریخ پر نظردہرائی جائے تو آسٹریلیا کی ٹیم پانچ بار عالمی چیمپئن رہ چکی ۔ ویسٹ انڈیز اور بھارت نے 2،2 مرتبہ ورلڈ کپ جیتا۔ پاکستان اور سری لنکا نے ایک ، ایک مرتبہ ورلڈ چیمپئن ہونے کا اعزاز حاصل کیا ہے۔

  • ورلڈ کپ فائنل، انگلینڈ کی بیٹنگ لائن مشکل صورتحال سے دوچار، 86 سکور پر 4 وکٹ گر گئیں

    ورلڈ کپ فائنل، انگلینڈ کی بیٹنگ لائن مشکل صورتحال سے دوچار، 86 سکور پر 4 وکٹ گر گئیں

    ورلڈ کپ کے فائنل میچ میں بیٹنگ کرتے ہوئے انگلینڈ کی ٹیم نے 86 سکور بنائے ہیں اور اس کی چار وکٹیں گر گئی ہیں. یوں‌ انگلینڈ کی ٹیم ورلڈ کپ کے فائنل میچ میں‌ مشکل صورتحال سے دوچار ہو گئی ہے. انگلینڈ کو میچ جیتنے کیلئے ابھی 156 رنز درکار ہیں.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پہلی اننگ میں نیوزی لینڈ نے پہلے کھیلتے ہوئے انگلینڈ کو 242 سکور کا ٹارگٹ دیا ہے. نیوزی لینڈ نے پچاس اوور کھیلتے ہوئے 241 رنز بنائے ہیں‌ اور اس کے آٹھ کھلاڑی آؤٹ ہوئے.

    نیوزی لینڈ کی بیٹنگ آج سست رہی، اوپنر گپٹل آج اپنے بیٹ کا جادو دکھانے میں ناکام رہے، مارٹن گپٹل اور ہنری نکولس نے انگلینڈ کے خلاف اننگز کا آغاز کیا لیکن گپٹل ایک بار پھر ناکام ثابت ہوئے اور 19 رنز بنا کر کرس ووکس کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہو گئے۔ گپٹل کے آؤٹ ہونے کے بعد نکولس اور راس ٹیلر محتاط انداز میں بیٹنگ کرتے ہوئے اپنی ٹیم کا اسکور آگے بڑھانے کی کوشش کرتے رہے لیکن بڑا سکور کرنے میں ناکام رہے. ہینری نکولس 55،کین ولیمسن 30،مارٹن گپٹل نے 19رنزبنائے، راس ٹیلر 15اورجیمزنیشم 19رنزبناکرآؤٹ ہوئے، ٹام لیتھم 47،گرینڈہوم نے 16رنزکی اننگزکھیلی، انگلینڈ کی جانب سے پلنکٹ اور ووکس نے 3 3 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا, ووڈ اور آرچر نے 1 1 وکٹ حاصل کی.

    ورلڈ کپ کی فیورٹ ٹیم اور میزبان انگلینڈ چوتھی مرتبہ ورلڈ کپ کا فائنل کھیل رہی ہے۔ انگلش ٹیم 1992 کے بعد اب جاکے ستائیس برس بعد فائنل تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ ادھر نیوزی لینڈ کی ٹیم مسلسل دوسری بار فائنل تک پہنچنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ 2015 کے ورلڈ کپ فائنل میں کیویز کو آسٹریلیا کے ہاتھوں شکست ہوئی تھی۔ دونوں ٹیمیں پہلی بار میگا ایونٹ میں تاریخی گراؤنڈ لارڈز میں آمنے سامنے ہیں جبکہ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ دونوں ٹیمیں ابھی تک کوئی ورلڈ کپ نہیں جیت سکی ہیں ۔

    دوہزار گیارہ اور 2015 کے ورلڈ کپ میں میزبان ٹیموں نے کامیابی حاصل کی۔ 2011 میں بھارت اور 2015 میں آسٹریلیا ورلڈ چیمپیئن بنا۔ ایک بار پھر ایسا موقع آیا ہے کہ میزبان انگلینڈ کی ٹیم اپنی سرزمین پر فائنل کھیل رہی ہے۔ ورلڈ کپ کی تاریخ پر نظردہرائی جائے تو آسٹریلیا کی ٹیم پانچ بار عالمی چیمپئن رہ چکی ۔ ویسٹ انڈیز اور بھارت نے 2،2 مرتبہ ورلڈ کپ جیتا۔ پاکستان اور سری لنکا نے ایک ، ایک مرتبہ ورلڈ چیمپئن ہونے کا اعزاز حاصل کیا ہے۔

  • نیوزی لینڈ کے 242 رنز کے جواب میں انگلینڈ نے 39 سکور بنا لئے، ایک وکٹ گر گئی

    نیوزی لینڈ کے 242 رنز کے جواب میں انگلینڈ نے 39 سکور بنا لئے، ایک وکٹ گر گئی

    ورلڈ کپ کے فائنل میچ میں بیٹنگ کرتے ہوئے انگلینڈ کی ٹیم نے ایک وکٹ کے نقصان پر 39 سکور بنا لئے ہیں. نو اوورز میں‌ تقریبا ساڑھے چار رنز کی اوسط سے انگلینڈ کی ٹیم نے سکور کیا ہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پہلی اننگ میں نیوزی لینڈ نے پہلے کھیلتے ہوئے انگلینڈ کو 242 سکور کا ٹارگٹ دیا ہے. نیوزی لینڈ نے پچاس اوور کھیلتے ہوئے 241 رنز بنائے ہیں‌ اور اس کے آٹھ کھلاڑی آؤٹ ہوئے.

    نیوزی لینڈ کی بیٹنگ آج سست رہی، اوپنر گپٹل آج اپنے بیٹ کا جادو دکھانے میں ناکام رہے، مارٹن گپٹل اور ہنری نکولس نے انگلینڈ کے خلاف اننگز کا آغاز کیا لیکن گپٹل ایک بار پھر ناکام ثابت ہوئے اور 19 رنز بنا کر کرس ووکس کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہو گئے۔ گپٹل کے آؤٹ ہونے کے بعد نکولس اور راس ٹیلر محتاط انداز میں بیٹنگ کرتے ہوئے اپنی ٹیم کا اسکور آگے بڑھانے کی کوشش کرتے رہے لیکن بڑا سکور کرنے میں ناکام رہے. ہینری نکولس 55،کین ولیمسن 30،مارٹن گپٹل نے 19رنزبنائے، راس ٹیلر 15اورجیمزنیشم 19رنزبناکرآؤٹ ہوئے، ٹام لیتھم 47،گرینڈہوم نے 16رنزکی اننگزکھیلی، انگلینڈ کی جانب سے پلنکٹ اور ووکس نے 3 3 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا, ووڈ اور آرچر نے 1 1 وکٹ حاصل کی.

    ورلڈ کپ کی فیورٹ ٹیم اور میزبان انگلینڈ چوتھی مرتبہ ورلڈ کپ کا فائنل کھیل رہی ہے۔ انگلش ٹیم 1992 کے بعد اب جاکے ستائیس برس بعد فائنل تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ ادھر نیوزی لینڈ کی ٹیم مسلسل دوسری بار فائنل تک پہنچنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ 2015 کے ورلڈ کپ فائنل میں کیویز کو آسٹریلیا کے ہاتھوں شکست ہوئی تھی۔ دونوں ٹیمیں پہلی بار میگا ایونٹ میں تاریخی گراؤنڈ لارڈز میں آمنے سامنے ہیں جبکہ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ دونوں ٹیمیں ابھی تک کوئی ورلڈ کپ نہیں جیت سکی ہیں ۔

    دوہزار گیارہ اور 2015 کے ورلڈ کپ میں میزبان ٹیموں نے کامیابی حاصل کی۔ 2011 میں بھارت اور 2015 میں آسٹریلیا ورلڈ چیمپیئن بنا۔ ایک بار پھر ایسا موقع آیا ہے کہ میزبان انگلینڈ کی ٹیم اپنی سرزمین پر فائنل کھیل رہی ہے۔ ورلڈ کپ کی تاریخ پر نظردہرائی جائے تو آسٹریلیا کی ٹیم پانچ بار عالمی چیمپئن رہ چکی ۔ ویسٹ انڈیز اور بھارت نے 2،2 مرتبہ ورلڈ کپ جیتا۔ پاکستان اور سری لنکا نے ایک ، ایک مرتبہ ورلڈ چیمپئن ہونے کا اعزاز حاصل کیا ہے۔

  • ورلڈ کپ فائنل، نیوزی لینڈ کا انگلینڈ کو فتح کیلئے 242 کا ٹارگٹ، آٹھ کھلاڑی آؤٹ ہوئے

    ورلڈ کپ فائنل، نیوزی لینڈ کا انگلینڈ کو فتح کیلئے 242 کا ٹارگٹ، آٹھ کھلاڑی آؤٹ ہوئے

    ورلڈ کپ کے فائنل میچ میں نیوزی لینڈ نے انگلینڈ کو 242 سکور کا ٹارگٹ دیا ہے. نیوزی لینڈ نے پچاس اوور کھیلتے ہوئے 241 رنز بنائے ہیں‌ اور اس کے آٹھ کھلاڑی آؤٹ ہوئے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق نیوزی لینڈ نے میچ کے دوران پہلے بیٹنگ کی، اس دوران اوپنر گپٹل آج اپنے بیٹ کا جادو دکھانے میں ناکام رہے، مارٹن گپٹل اور ہنری نکولس نے انگلینڈ کے خلاف اننگز کا آغاز کیا لیکن گپٹل ایک بار پھر ناکام ثابت ہوئے اور 19 رنز بنا کر کرس ووکس کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہو گئے۔ گپٹل کے آؤٹ ہونے کے بعد نکولس اور راس ٹیلر محتاط انداز میں بیٹنگ کرتے ہوئے اپنی ٹیم کا اسکور آگے بڑھانے کی کوشش کرتے رہے لیکن بڑا سکور کرنے میں ناکام رہے. ہینری نکولس 55،کین ولیمسن 30،مارٹن گپٹل نے 19رنزبنائے، راس ٹیلر 15اورجیمزنیشم 19رنزبناکرآؤٹ ہوئے، ٹام لیتھم 47،گرینڈہوم نے 16رنزکی اننگزکھیلی، انگلینڈ کی جانب سے پلنکٹ اور ووکس نے 3 3 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا, ووڈ اور آرچر نے 1 1 وکٹ حاصل کی.

    ورلڈ کپ کی فیورٹ ٹیم اور میزبان انگلینڈ چوتھی مرتبہ ورلڈ کپ کا فائنل کھیل رہی ہے۔ انگلش ٹیم 1992 کے بعد اب جاکے ستائیس برس بعد فائنل تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ ادھر نیوزی لینڈ کی ٹیم مسلسل دوسری بار فائنل تک پہنچنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ 2015 کے ورلڈ کپ فائنل میں کیویز کو آسٹریلیا کے ہاتھوں شکست ہوئی تھی۔ دونوں ٹیمیں پہلی بار میگا ایونٹ میں تاریخی گراؤنڈ لارڈز میں آمنے سامنے ہیں جبکہ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ دونوں ٹیمیں ابھی تک کوئی ورلڈ کپ نہیں جیت سکی ہیں ۔

    دوہزار گیارہ اور 2015 کے ورلڈ کپ میں میزبان ٹیموں نے کامیابی حاصل کی۔ 2011 میں بھارت اور 2015 میں آسٹریلیا ورلڈ چیمپیئن بنا۔ ایک بار پھر ایسا موقع آیا ہے کہ میزبان انگلینڈ کی ٹیم اپنی سرزمین پر فائنل کھیل رہی ہے۔ ورلڈ کپ کی تاریخ پر نظردہرائی جائے تو آسٹریلیا کی ٹیم پانچ بار عالمی چیمپئن رہ چکی ۔ ویسٹ انڈیز اور بھارت نے 2،2 مرتبہ ورلڈ کپ جیتا۔ پاکستان اور سری لنکا نے ایک ، ایک مرتبہ ورلڈ چیمپئن ہونے کا اعزاز حاصل کیا ہے۔

  • نیوزیلینڈ کا انگلینڈ کو 242 رنز کا ہدف

    نیوزیلینڈ کا انگلینڈ کو 242 رنز کا ہدف

    ورلڈ کپ کے فائنل میں نیوزیلینڈ نے میزبان ٹیم انگلینڈ کو 242 رنز کا ہدف دیا ہے.

    نیوزیلینڈ نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کیا تھا لیکن اچھی بیٹنگ نہ کر سکے. اوپنر گپٹل 19 رنز بنا کر کرس ووکس کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہو گئے. کپتان ولیمسن بھی 30 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے. روز ٹیلر بھی اپنی کارگردگی نہ دکھا سکے اور مارک ووڈ کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہو گئے. نکولس 55 رنز بنا کر ٹاپ سکورر رہے.

    انگلینڈ کی جانب سے پلنکٹ اور ووکس نے 3 3 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا, ووڈ اور آرچر نے 1 1 وکٹ حاصل کی.

    واضح رہے انگلینڈ کی ٹیم 27 سال بعد ورلڈ کپ کے فائنل میں پہنچی ہے تاہم نیوزیلینڈ کی ٹیم گزشتہ ورلڈ کپ کے فائنل میں پہنچی تھی اور آسٹریلیا سے ہار گئی تھی. یہ ورلڈ کپ جیتنے کا دونوں ٹیموں کے پاس سنہری موقع ہے کیونکہ دونوں ٹیموں میں سے ابھی تک کوئی ٹیم ورلڈ کپ نہیں جیت چکی ہے.

  • نیوزی لینڈ کے 3 آوٹ135 رنز

    نیوزی لینڈ کے 3 آوٹ135 رنز

    نیوزی لینڈ کی 32 ویں اوور میں 135مکمل ہوگئی جبکہ اس کی 3 وکٹ گر چکی ہیں اوپنر گپٹل آج اپنے بیٹ کا جادو دکھانے میں ناکام رہے

    مارٹن گپٹل اور ہنری نکولس نے انگلینڈ کے خلاف اننگز کا آغاز کیا لیکن گپٹل ایک بار پھر ناکام ثابت ہوئے اور 19 رنز بنا کر کرس ووکس کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہو گئے۔

    گپٹل کے آؤٹ ہونے کے بعد نکولس اور راس ٹیلر محتاط انداز میں بیٹنگ کرتے ہوئے اپنی ٹیم کا اسکور آگے بڑھا رہے ہیں۔

    ورلڈ کپ کی فیورٹ ٹیم اور میزبان انگلینڈ چوتھی مرتبہ ورلڈ کپ کا فائنل کھیلے گی۔ انگلش ٹیم 1992 کے بعد اب جاکے فائنل تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔

    نیوزی لینڈ کی ٹیم مسلسل دوسری بار فائنل تک پہنچنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ 2015 کے ورلڈ کپ فائنل میں کیویز کو آسٹریلیا کے ہاتھوں شکست ہوئی تھی۔ دونوں ٹیمیں پہلی بار میگا ایونٹ میں تاریخی گراؤنڈ لارڈز میں آمنے سامنے ہوں گی ۔دونوں ٹیمیں ابھی تک کوئی ورلڈ کپ نہیں جیت پائیں۔

    دوہزار گیارہ اور 2015 کے ورلڈ کپ میں میزبان ٹیموں نے کامیابی حاصل کی۔ 2011 میں بھارت اور 2015 میں آسٹریلیا ورلڈ چیمپیئن بنا۔ ایک بار پھر ایسا موقع آیا ہے کہ میزبان انگلینڈ کی ٹیم اپنی سرزمین پر فائنل کھیل رہی ہے۔

    ورلڈ کپ کی تاریخ پر نظردہرائی جائے تو آسٹریلیا کی ٹیم پانچ بار عالمی چیمپئن رہ چکی ۔ ویسٹ انڈیز اور بھارت نے 2،2 مرتبہ ورلڈ کپ جیتا۔ پاکستان اور سری لنکا نے ایک ، ایک مرتبہ ورلڈ چیمپئن ہونے کا اعزاز حاصل کیا ہے۔