Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • قومی اسمبلی اجلاس، رانا تنویر اور اسد قیصر میں لفظی جھڑپ

    قومی اسمبلی اجلاس، رانا تنویر اور اسد قیصر میں لفظی جھڑپ

    اسلام آباد: قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران وفاقی وزیر رانا تنویر حسین اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما، سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے درمیان شدید لفظی جھڑپ ہوئی، جس میں دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے پر سنگین الزامات عائد کیے۔ یہ جھڑپ اس وقت ہوئی جب ایوان میں تیز شور و غل کے دوران دونوں کے بیانات میں شدت آئی۔

    رانا تنویر نے اسد قیصر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف کا کردار فاشسٹ جماعت کا ہے اور یہ جماعت ہٹلر اور مسولینی کے نقش قدم پر چل رہی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی نے سرکاری وسائل کا غلط استعمال کیا اور وفاقی حکومت پر چڑھائی کی۔ رانا تنویر نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کی قیادت کو غلط اطلاعات فراہم کی جاتی ہیں، جیسے کہ پنجاب حکومت چھاپے مار رہی ہے، جو کہ حقیقت سے بعید ہیں۔

    اسد قیصر نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ انہیں تحریک انصاف کے خلاف اس قسم کے بے بنیاد الزامات سن کر افسوس ہوتا ہے، تاہم انہوں نے ان الزامات کو مسترد کر دیا اور کہا کہ رانا تنویر کے بیانات حقیقت سے عاری ہیں۔ اسد قیصر کا کہنا تھا کہ رانا تنویر اپنی حکومت کے ادوار میں ہونے والی بدعنوانیوں کا جواب دیں اور عوامی مسائل پر بات کریں۔

    رانا تنویر نے اس موقع پر کہا، "چار سالوں میں آپ نے ملک کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا، اور اس کے باوجود آپ کو شرم نہیں آئی۔ پنجاب حکومت اگر چاہے تو 10 لاکھ افراد کو سڑکوں پر لا سکتی ہے، لیکن آپ پنجاب سے 5 لوگ بھی نہیں نکال سکے۔” انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب میں پی ٹی آئی کی حکومت نے عوامی مسائل پر کوئی توجہ نہیں دی، اور ان کی حکومت صرف سیاسی مداخلت اور الزامات کے ذریعے کام کر رہی تھی۔

    اس دوران ایوان میں شور شرابا بڑھ گیا اور دیگر ارکان بھی اس بحث میں شامل ہوگئے، جس کے باعث اجلاس کی کارروائی کچھ دیر کے لیے معطل ہو گئی۔ اسپیکر قومی اسمبلی کو مداخلت کرنا پڑی تاکہ ایوان کی کارروائی دوبارہ بحال ہو سکے۔

    قومی اسمبلی سیکریٹریٹ ترمیمی بل 2024سید نوید قمر نے پیش کیا، پاکستان اینیمل کونسل ترمیمی بل مزید غور کے لے قائمہ کمیٹی کوبھیج دیاگیا ،عالیہ کامران نے کہا کہ بل سینیٹ سے منظور ہوچکا ہے اسے یہاں منظور کیا جائے، وفاقی وزیر رانا تنویر نے کہا کہ جانوروں سے متعلق کونسل کے بل سے اتفاق کرتا ہوں، بل میں کمی ہے جسے دور کرنے کے لیے کمیٹی میں غور کیاجائے.

    سکاٹ لینڈ کے سابق وزیراعظم حمزہ یوسف کا انتخاب نہ لڑنے کا اعلان

    امریکا کے مختلف حصوں میں پراسرار ڈرونز کی اصل حقیقت کیا؟

    ہم صرف تنقید پر توجہ دیتے ہیں تنقید کے ماحول سے نکلنا ہوگا، انوارالحق کاکڑ

  • کیا آئی ایم ایف کی ہدایات پر ہماری قانون سازی ہوگی؟ مولانا فضل الرحمان

    کیا آئی ایم ایف کی ہدایات پر ہماری قانون سازی ہوگی؟ مولانا فضل الرحمان

    جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ سوسائٹیز رجسٹریشن ترمیمی بل ایکٹ بن چکا، گزٹ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے،

    قومی اسمبلی اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھاکہ 26 ویں آئینی ترمیم اتفاق رائے سے منظور ہوئی، کوشش ہے تمام معاملات افہام و تفہیم سے حل کریں، دینی مدارس کے مالیاتی ڈھانچے پر بات کی گئی، وہ ایک اتفاق رائے کے ساتھ تھا،اپوزیشن پارٹی نے لاتعلقی ظاہر کی، تمام پارٹیاں حکومتی ،اپوزیشن بنچز پر آن بورڈ تھیں،سیاست میں مذاکرات ہوتے ہیں، دونوں فریق ایک دوسرے کو دلائل سے سمجھاتے ہیں اور مسئلہ حل تک پہنچ جاتا ہے، دینی مدارس کے حوالے سے ایک بل بھی تھا، ایک تاریخ ایوان کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں، 2004 میں حکومت اور دینی مدارس کے درمیان مذاکرات ہوئے، حکومت نے اس وقت مدارس کے حوالے سے تین سوال اٹھائے، مالیاتی نظام،دینی مدارس کا نصاب تعلیم اور تیسرا دینی مدارس کا تنظیمی ڈھانچہ کیا ہوتا ہے، تینوں سوالوں پر مذاکرات کے بعد حکومت مطمئن ہوگئی، کہا گیا دینی مدارس محتاط رہیں گے،شدت پیدا کرنےوالا مواد نہ شائع کیا جائے، 2010 میں ایک پھر معاہدہ ہوا، مہمارے نزدیک معاملات طے تھے، پھر اٹھارہویں ترمیم پاس ہوئی تو خود حکومت نےسوال اٹھایا، حکومت نے کہا مدارس سوسائٹی ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ ہوتے ہیں، یہ ایسا تھا جیسے ایک ڈاکخانہ تبدیل کررہے ہیں دوسرے سے، بعد میں ایک ایجوکیشن بورڈ بنا جس کے تحت 12مراکز بنائے گئے،

    نئے مدارس کی رجسٹریشن کے لئے حکومت تعاون کرے گی، مدارس کے حوالے سے ایکٹ بن چکا ہے، ایاز صادق سپیکر نے ایک انٹرویو میں الفاظ استعمال کیے یہ ایکٹ بن چکا ہے، یہ باتیں کرنا کہ وہ بھی تو مدارس ہیں ،تھوڑی سی تبدیلی کر دی جائے، گنجائش نکالی جائے، ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں، بحث اس پر ہے کہ ایکٹ بن چکا، گزٹ نوٹفکیشن کیوں نہیں ہو رہا، ہم نے ترمیم پر گفتگو کی،ایک ایسی غلط نظیر قائم کریں گے آپ جس سے آنے والے ہر ایوان کے لئے مشکل ہو گی، ایوان کا استحقاق مجروح نہ کیا جائے، دوسرا اعتراض آئینی لحاظ سے بھی درست نہیں ہے، تاویلیں نہیں چلیں گی، ہم بھی اسی مدرسہ سے پڑھے ہوئے، اس ہاؤس میں چند سال گزارے، میں قانون کا طالب علم ہو، عدالت قانون کے مطابق فیصلے دیتی ہے اس قانون کے مطابق جو ہم یہاں سے بنا کر بھیجتے، ہم قانون ساز ہیں، اس حوالہ سے ہمارے اس مطالبے کو تسلیم کیا جائے، یہ متفقہ چیز ہے،

    مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ 26 ویں ترمیم پر ایک ماہ بحث ہوتی رہی، پہلے ابتدائی ڈرافٹ، مذاکرات کے ذریعے حکومت 34 شقوں سے دستبردار ہوئی،22 پر آئی، پھر ہم نے پانچ شقیں اور شامل کیں، میں کراچی بھی گیا، بلاول ہاؤس گیا، لاہور آئے، نواز شریف کے گھر پانچ گھنٹے بیٹھے رہے، مدارس بل پر اتفاق رائے پایا گیا، میں نے پی ٹی آئی کے دوستوں کو اعتماد میں لیا، پارلیمنٹ کے کسی ایک رکن بھی اس سے غافل نہیں رکھا، اب مدارس کو کس چیز کی سزا دی جا رہی ہے، اتفاق رائے ہو چکا تو پھر اعتراضات کیوں، یہ راز آج کھلا کہ ہماری قانون سازی کسی اور کی مرضی کے مطابق ہو گی، کہہ دیا جائے ہم آزاد نہیں ہیں، غلام ہیں، یہ افسوسناک بات ہے، اگر امریکہ کے کانگریس میں کوئی رکن قرارداد پیش کرتا ہے وہ عمران کی رہائی کے لئے تو آپ یہاں قرار داد پیش کرتے ہیں کہ امریکہ کو دخل اندازی کا حق نہیں کیا یہ دخل صرف عمران خان اور پی ٹی آئی کے ساتھ ہے، باقیوں کے ساتھ نہیں، آئی ایم ایف ناراض ہو جائے گا، فلاں ناراض ہو جائے گا یہ تاویلات کیسے قبول کریں، ہم کوشش کر رہے ہیں کہ کسی تلخی کی طرف نہ جائیں کیونکہ پاکستان اس کا متحمل نظر نہیں آ رہا، دینی جماعتیں حکومت کے ساتھ تعاون کر رہی ہیں،دینی مدارس نے ثابت کر دکھا یا ہے کہ ہم پاکستان، آئین،جمہوریت، قانون کے ساتھ کھڑے ہیں، پھر کس بات کا امتحان لیا جا رہا ہے، کس کو تکلیف ہے کہ ملک میں مذہب کی تعلیم کیوں ہے، یہ بات آج سے نہیں بہت پرانی ہے.
    مدارس بل پر حکومت سب سے بڑی رکاوٹ ہے،

  • شہدا کا قرض ادا کرنا چاہتے  تو نیشنل ایکشن پلان پر پوری طرح عمل کیا جائے،سحر کامران

    شہدا کا قرض ادا کرنا چاہتے تو نیشنل ایکشن پلان پر پوری طرح عمل کیا جائے،سحر کامران

    قومی اسمبلی کے اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران رکن قومی اسمبلی سحر کامران نے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کی جانب سے ڈینگی کے ذمہ داروں کے خلاف لیے گئے اقدامات کے حوالے سے سوال کیا جس پر پارلیمانی سیکرٹری برائے نیشنل فوڈ سیکورٹی اینڈ ریسرچ نیلسن عظیم نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ابھی تک جن لوگوں کو پکڑا گیا، ان پر مقدمے درج ہوئے ہیں، ڈی ایچ او اسلام آباد کی ٹیم نے چند علاقوں کو وزٹ کیا اور وہاں سے جو کیس آئے، جو ذمہ دار تھے انکے خلاف مقدمات درج ہوئے، عدالتوں میں کیسز زیر سماعت ہیں.

    سحر کامران نے قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ اے پی ایس کے قاتلوں کو معاف کیا جا سکتا ہے نہ ہی سانحہ کو بھلایا جا سکتا ہے نیشنل ایکشن پلان اس واقعہ کے بعد سامنے آیا تھا، میں سمجھتی ہوں اس کی بات کرنا ضروری ہے،ا فواج پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑی اور کامیابی ملی، دہشت گردوں کو دوبارہ بسایا گیا جس کی وجہ سے دہشت گردی میں اضافہ ہوا، احتساب ہونا چاہئے کہ کیونکہ پالیسیز کا تسلسل نہیں ہوتا، قربانیوں کو کیوں ضائع ہونے دیا جا رہا، شہید بینظیر بھٹو نے اپنی جان قربان کی، سوات آپریشن ہوا تو وہاں پاکستان کا جھنڈا لہرایا گیا، نیشنل ایکشن پلان کا دوسرا حصہ انتہا پسندی کے خاتمے کا اس پر عمل نہیں ہو سکا، ہمیں اپنا احتساب کرنے کی ضرورت ہے، معاشرے سے نفرت، انتہا پسندی ختم کرنے کی ضرورت ہے، اگر ہم شہدا کا قرض ادا کرنا چاہتے ہیں تو نیشنل ایکشن پلان پر پوری طرح عمل کیا جائے،آرمی پبلک اسکول کے سانحہ کو فراموش نہیں کیا جاسکتا، نہ ہی معصوم بچوں کے قاتلوں کو معاف کیا جاسکتا ہے۔ آرمی پبلک اسکول پشاور کے معصوم شہدا کی قربانی قوم پہ قرض ہے، ملک سے نفرت، تقسیم، انتہا پسند اور دہشتگردی کے خاتمہ کے لئے نیشنل ایکشن پلان پہ عمل درآمد ضروری ہے۔

    سانحہ اے پی ایس، ایسا زخم ہے جو کبھی بھی نہیں بھرے گا،سحر کامران

    عالمی برادری غزہ میں انسانی بحران کے خاتمے کیلیے کردار ادا کرے،سحر کامران

    یو اے ای کی ترقی،عالمی سطح پر کامیاب حکمرانی ایک مثال ہے، سحر کامران

    پی آئی اے پروازوں کی بحالی پاکستان کے لئے بڑی کامیابی ہے،سحر کامران

    پیپلز پارٹی ایک طاقتور سیاسی قوت کے طور پر موجود ہے۔سحر کامران

  • وزیراعظم 18 دسمبر سے مصر کا دورہ کریں گے

    وزیراعظم 18 دسمبر سے مصر کا دورہ کریں گے

    وزیرِ اعظم پاکستان، محمد شہباز شریف 18 دسمبر 2024 سے 20 دسمبر 2024 تک مصر کا سرکاری دورہ کریں گے، جہاں وہ قاہرہ میں منعقد ہونے والی ترقی پذیر آٹھ ممالک (D-8) کی گیارہویں سمٹ میں شرکت کریں گے۔

    اس سمٹ سے قبل، وزیرِ خارجہ و نائب وزیرِ اعظم سینیٹر محمد اسحاق ڈار 18 دسمبر 2024 کو D-8 وزرائے خارجہ کونسل کے 21ویں اجلاس میں شرکت کریں گے۔اس گیارہویں D-8 سمٹ کا تھیم "نوجوانوں میں سرمایہ کاری اور ایس ایم ایز کی حمایت: کل کی معیشت کی تشکیل” ہے۔وزیرِ اعظم شہباز شریف اس سمٹ کے دوران نوجوانوں اور ایس ایم ایز (چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں) میں سرمایہ کاری کی اہمیت کو اجاگر کریں گے تاکہ ایک مضبوط اور جامع معیشت کی بنیاد رکھی جا سکے۔ ان کا مقصد روزگار کے مواقع پیدا کرنا، جدت کو فروغ دینا اور مقامی کاروباری سرپرستی کو بڑھانا ہے۔ وزیرِ اعظم پاکستان D-8 کے مقاصد کے لیے پاکستان کی پختہ وابستگی کا اعادہ کریں گے اور دوطرفہ فائدے اور خوشحالی کے لیے شراکت داری کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیں گے۔ اس کے علاوہ، وہ زراعت، خوراک کی سیکیورٹی اور سیاحت میں تعاون بڑھانے کے لیے پاکستان کی جانب سے عزم کا اظہار کریں گے۔ وزیرِ اعظم نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور مالی ترقی کے لیے پاکستان کی طرف سے پیش کی جانے والی مراعات پر بھی روشنی ڈالیں گے۔

    وزیرِ اعظم پاکستان D-8 سمٹ کے دوران غزہ اور لبنان میں اسرائیلی جارحیت کی وجہ سے پیدا ہونے والے انسانی بحران اور تعمیر نو کے چیلنجز پر D-8 کا خصوصی اجلاس بھی منعقد ہوگا۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف اس اجلاس میں فلسطین کی صورتحال پر پاکستان کے اصولی موقف کو اجاگر کریں گے اور مشرق وسطیٰ میں امن کے قیام کی ضرورت پر زور دیں گے۔سمٹ کے دوران وزیرِ اعظم شہباز شریف مختلف شریک ممالک کے رہنماؤں سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے، جن میں اہم اقتصادی، تجارتی اور سیاسی امور پر بات چیت کی جائے گی۔

    یہ دورہ پاکستان اور D-8 ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اور باہمی فائدے کی بنیاد پر تعاون کو فروغ دینے کا ایک اہم موقع ثابت ہوگا۔

    میرا تن من نیلو نیل ! تحریر:ڈاکٹر طاہرہ کاظمی

    "ہمسفر کا انتخاب بہت سوچ سمجھ کر کریں”تحریر:آمنہ

  • سانحہ اے پی ایس، ایسا زخم ہے جو کبھی بھی نہیں بھرے گا،سحر کامران

    سانحہ اے پی ایس، ایسا زخم ہے جو کبھی بھی نہیں بھرے گا،سحر کامران

    آرمی پبلک اسکول (اے پی ایس) پشاور پر دس سال قبل ہونے والے خون آلود حملے کی یادیں آج بھی قوم کے دلوں میں ایک گھاؤ کی طرح تازہ ہیں۔ پاکستان کی قومی اسمبلی کی رکن ،پپپلز پارٹی کی رہنما سحر کامران نے اس سانحے کی دسویں برسی کے موقع پر کہا کہ اس سانحے کے اثرات اور زخم آج بھی ہماری یادوں میں تازہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 16 دسمبر کا یہ واقعہ قوم کے دل میں ایک ایسا زخم ہے جو کبھی بھی نہیں بھرے گا اور ہمیشہ کے لیے چبھتا رہے گا۔ اس وحشیانہ حملے میں 150 سے زائد بے گناہ افراد کی جانیں ضائع ہوئیں، جن میں زیادہ تر معصوم بچے شامل تھے، اور یہ واقعہ انسانیت کو جڑ سے ہلا دینے والا تھا۔

    اپنے پیغام میں سحر کامران نے کہا، "قوم یکجہتی کے ساتھ کھڑی ہے اور ان بدصورت عناصر کے خلاف اپنی آخری سانس تک لڑے گی۔” انہوں نے پاکستان کی سیکیورٹی صورتحال میں اہم بہتری کو سراہا، جسے دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشنز اور ہماری مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیوں کا نتیجہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی تندہی اور جانفشانی کی بدولت ہی ہم دہشت گردی کے ناسور کے خلاف لڑنے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔تاہم سحر کامران نے اس عزم کو مزید مستحکم کرنے کے لیے مضبوط سیاسی عزم کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی ایکشن پلان کی مکمل روح کے ساتھ عملداری ضروری ہے تاکہ ہم اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینک سکیں۔ انہوں نے کہا، "ہم اپنے شہداء کی قربانیوں کو یاد رکھیں گے اور اپنے بچوں کے لیے ایک محفوظ اور محفوظ مستقبل یقینی بنائیں گے۔”

    یاد رہے کہ 16 دسمبر 2014 کو پشاور کے آرمی پبلک اسکول میں دہشت گردوں کے حملے میں 150 سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے، جن میں 132 بچے شامل تھے، جو اس سانحے کو پاکستان کی تاریخ کا ایک دردناک باب بنا گیا۔ اس حملے نے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

    عالمی برادری غزہ میں انسانی بحران کے خاتمے کیلیے کردار ادا کرے،سحر کامران

    یو اے ای کی ترقی،عالمی سطح پر کامیاب حکمرانی ایک مثال ہے، سحر کامران

    پی آئی اے پروازوں کی بحالی پاکستان کے لئے بڑی کامیابی ہے،سحر کامران

    پیپلز پارٹی ایک طاقتور سیاسی قوت کے طور پر موجود ہے۔سحر کامران

  • یہ وہ زمانہ نہیں کہ ہم کچھ چھپائیں  تو بات چھپ جائے گی،چیئرمین پی ٹی اے

    یہ وہ زمانہ نہیں کہ ہم کچھ چھپائیں تو بات چھپ جائے گی،چیئرمین پی ٹی اے

    اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے چیئرمین حفیظ الرحمان نے کہا ہے کہ حکومت کا کوئی ارادہ نہیں ہے کہ وہ وی پی این (ویئرچل پرائیویٹ نیٹ ورک) کو بلاک کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی اے نے ماضی میں بھی یہ اعلان کیا تھا کہ وہ وی پی این کو بلاک نہیں کریں گے اور آج تک ایسا کوئی اقدام نہیں کیا گیا۔

    یہ بات انہوں نے پی ٹی اے کی سالانہ رپورٹ 2024 کی لانچنگ تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کہی۔ حفیظ الرحمان کا کہنا تھا کہ "ہم پہلے بھی واضح طور پر یہ کہہ چکے ہیں کہ ہم وی پی این کو بلاک کرسکتے ہیں لیکن ہم ایسا نہیں کریں گے۔ آج تک کسی وی پی این کو بلاک نہیں کیا گیا۔” انہوں نے مزید کہا کہ یہ وہ دور نہیں ہے جب ہم کچھ چھپائیں تو وہ چھپ جائے گا، بلکہ اب تمام معلومات عوامی سطح پر دستیاب ہیں۔چیئرمین پی ٹی اے نے قومی سلامتی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "جب قومی سیکورٹی کے حوالے سے سوالات کیے جاتے ہیں کہ انٹرنیٹ کیوں بند کیا گیا، تو ہمارے پاس اس کا کوئی جواب نہیں ہوتا۔” انہوں نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی اے کو نیشنل سیکیورٹی سے متعلق سوالات کا جواب دینے کا اختیار نہیں ہے اور یہ سوالات پالیسی سازوں سے کیے جانے چاہئیں۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ نیشنل سیکیورٹی کے مسائل پر کوئی بھی فیصلہ پالیسی ساز اداروں کی طرف سے کیا جانا چاہیے، کیونکہ پی ٹی اے کا کام صرف ٹیلی کمیونیکیشن کی نگرانی اور انٹرنیٹ کی سہولت کی فراہمی تک محدود ہے۔

    پی ٹی اے کی سالانہ رپورٹ 2024 میں پی ٹی اے کی کارکردگی، انٹرنیٹ کی بڑھتی ہوئی سروسز، اور جدید ٹیکنالوجیز کے استعمال کے بارے میں تفصیلات فراہم کی گئیں۔ چیئرمین نے مزید کہا کہ پی ٹی اے مستقبل میں انٹرنیٹ کی سیکیورٹی اور صارفین کے ڈیٹا کے تحفظ کو اولین ترجیح دے گا۔

    یہ بیان اس وقت آیا ہے جب پاکستان میں وی پی این کا استعمال بڑھ رہا ہے، اور کچھ حلقے اس بات پر زور دیتے ہیں کہ حکومت کو انٹرنیٹ کی آزادی کو محدود کرنے کے لیے اس پر کنٹرول کرنا چاہیے۔ تاہم، پی ٹی اے کا موقف واضح ہے کہ وہ صارفین کی آزادی اور انٹرنیٹ کی سہولت میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ پیدا نہیں کرنا چاہتے۔

    موبائل نمبر کے ذریعے وی پی این رجسٹریشن کی اجازت

    انٹرنیٹ وی پی این کی وجہ سے سلو نہیں۔چیئرمین پی ٹی اے

    پی ٹی اے کا وی پی این پر پابندی نہ لگانے کا فیصلہ

    وی پی این پر پابندی،پی ٹی اے کو نوٹس جاری،جواب طلب

  • سانحات سے سبق لیتے ہوئے اتحاد و یکجہتی کو فروغ دینا ہوگا۔خالد مسعود سندھو

    سانحات سے سبق لیتے ہوئے اتحاد و یکجہتی کو فروغ دینا ہوگا۔خالد مسعود سندھو

    صدر پاکستان مرکزی مسلم لیگ خالد مسعود سندھو نے 16 دسمبر کے المناک دن کی مناسبت سے کہا ہے دشمن نے ہمارے درمیان تقسیم کے ذریعے کامیابی حاصل کی اور ہمارے اتحاد کو پارہ پارہ کیا، جس کے نتیجے میں ہمیں اپنا بازو کھونا پڑا۔ اسی طرح 16 دسمبر 2014 کو دشمن نے آرمی پبلک سکول پر حملہ کرکے ہمیں مزید دکھ پہنچایا اور ہمارے معصوم بچوں کو شہید کیا۔ ان واقعات سے سبق حاصل کرتے ہوئے ہمیں اتحاد، انصاف اور بھائی چارے کو فروغ دینا ہوگا تاکہ دوبارہ ایسی تاریخ نہ دہرائی جا سکے۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد کے آئی-8 مرکز میں ایک اہم اجلاس کے دوران کیا۔ اجلاس میں پارٹی کے نومنتخب عہدیداران کو نوٹیفکیشن سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے۔ یہ اجلاس پارٹی کے اہداف کو واضح کرنے اور موجودہ سیاسی صورتِ حال پر تبادلہ خیال کے لیے بلایا گیا۔ اجلاس میں ضلعی باڈی، این اے 46، 47، 48 کے تیراہ زونل باڈیز کے ممبران نے شرکت کی۔خالد مسعود سندھو نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان مرکزی مسلم لیگ ایک مستحکم اور جامع پالیسی کے تحت قومی مسائل کے حل کے لیے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ماضی کے سانحات، جیسے سقوطِ ڈھاکہ اور سانحہ اے پی ایس، سے سبق لیتے ہوئے ملک میں اتحاد اور یکجہتی کو فروغ دینا ہوگا۔ پارٹی قومی اتحاد، سماجی خدمت اور انصاف پر مبنی سیاست کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی کے ہر کارکن کو اپنی ذمہ داری احسن طریقے سے نبھانا ہوگی تاکہ عوام کا اعتماد جیتا جا سکے۔

    اس موقع پر اسلام آباد کے صدر انعام الرحمن کمبوہ نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ پارٹی اسلام آباد میں اپنی سرگرمیوں کو مزید وسعت دینے کے لیے پرعزم ہے۔ اجلاس کے اختتام پر نومنتخب عہدیداران کو مبارکباد دی گئی اور انہیں ان کی ذمہ داریوں کے حوالے سے رہنمائی فراہم کی گئی۔

    جمعیت کے وفد کی مرکزی مسلم لیگ کے دفتر آمد، فیصل ندیم سے ملاقات

    مرکزی مسلم لیگ کی جانب سے پریس کلب پریحییٰ السنوار کی غائبانہ نمازجنازہ ادا

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ شاہکوٹ کی یکجہتی فلسطین کانفرنس

    مرکزی مسلم لیگ کا ارشدندیم ، والدین کیلئے عمرے ،گاؤں میں آئی ٹی انسٹیٹیوٹ بنانے کا اعلان

  • جی ایچ کیو حملہ کیس،  مزید 9 ملزمان پر فرد جرم

    جی ایچ کیو حملہ کیس، مزید 9 ملزمان پر فرد جرم

    جی ایچ کیو حملہ کیس میں مزید9 ملزمان پر فرد جرم عائد کر دی گئی،

    انسداد دہشت گردی عدالت نے مزید سماعت 19 دسمبر تک ملتوی کردی،جی ایچ کیو حملہ کیس میں شیریں مزاری، راشد حفیظ، طاہر صادق سمیت مزید 9 ملزمان پر فرد جرم عائد کی گئی ہے،بانی پی ٹی آئی کو اڈیالا جیل کی عدالت میں پیش کیا گیا مخدوم شاہ محمود قریشی کو بھی عدالت پیش کیا،اب تک 98 ملزموں پر فرد جرم عائد ہوچکی ہے ۔ عمران خان پر 5 دسمبر کو فرد جرم عائد ہوئی تھی ،غیر حاضر ملزموں کی ضمانت منسوخ کرنے کی درخواست کی گئی،جی ایچ کیو حملہ کیس میں مجموعی طور پر 98 ملزمان پر فرد جرم عائد ہوگئی۔جی ایچ کیو حملہ کیس میں کل ملزمان کی تعداد 119 ہے۔

    جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت اے ٹی سی کے جج امجد علی شاہ نے کی،دورانِ سماعت شاہ محمود قریشی کی جانب سے 265 ڈی کی درخواست عدالت میں دائر کی گئی ،عدالت نے شاہ محمود قریشی کی 265 ڈی کی درخواست آئندہ سماعت کے لیے مقرر کر دی جس کی وجہ سے ان پر آج فردِ جرم عائد نہ ہو سکی،سی آر پی سی 265 ڈی کے تحت الزامات ثابت نہ ہونے پر فردِ جرم عائد کرنے کی کارروائی روکنے کا کہا جاتا ہے۔

    پراسیکیوشن کی جانب سے غیر حاضر ملزمان کی ضمانت منسوخ کرنے کی استدعا کی گئی، پراسیکیوٹر نے کہا کہ غیر حاضر ملزمان جان بوجھ کر ٹرائل میں تاخیر کررہے ہیں،شاہ محمود قریشی کو کوٹ لکھپت جیل سے اڈیالہ جیل پہنچایا گیا۔اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر نوید ملک اور ظہیر شاہ عدالت میں پیش ہوئے۔پی ٹی آئی کے وکیل محمد فیصل ملک لیگل ٹیم کے ہمراہ عدالت پیش ہوئے۔جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت اے ٹی سی کے جج امجد علی شاہ نے کی۔عدالت نے جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت 19 دسمبر تک ملتوی کردی۔

    واضح رہے کہ 9 مئی کے جی ایچ کیو گیٹ حملہ کیس میں عمران خان سمیت دیگر ملزمان پر فردِ جرم عائد کر دی گئی ہے،شیخ رشید احمد،شیخ اشد شفیق،راجہ بشارت،زرتاج گل پر بھی فرد جرم عائد کی گئی ہے، وکلاء کے دلائل مکمل ہونےکے بعد جج امجد علی شاہ نے فرد جرم کمرہ عدالت میں پڑھ کر سنائی،

    عمران خان اور دیگر پر عائد فرد جرم میں الزامات کی تفصیلات سامنے آئی ہیں ، پی ٹی آئی رہنماؤں پر جی ایچ کیو پرحملہ، افواج پاکستان کو بغاوت پراکسانے کا الزام ہے،فرد جرم میں پی ٹی آئی رہنماؤں پر 9 مئی سے قبل منصوبہ بندی کرکے عسکری اہداف کا تعین اور 9مئی واقعات، ملکی داخلی، سلامتی اور ریاستی استحکام پر براہ راست حملےکاا لزام ہے،فرد جرم میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی قیادت نے سیاسی مقاصد کے لیے دہشت گرد تنظیموں کی طرز پر منظم منصوبہ بندی کی، پرتشدد مظاہروں سے حکومت کو دباؤ میں لانا دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے، جولائی 2023 میں محکمہ داخلہ پنجاب نے 9 مئی واقعات پر رپورٹ جاری کی،فرد جرم میں پی ٹی آئی رہنماؤں پر 102 گاڑیوں کو نقصان پہنچانے اور 26 سرکاری عمارتوں پر منظم حملے کرنے کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے،فردجرم میں کہا گیا ہے کہ سانحہ 9 مئی میں 1 66کروڑ 56 لاکھ روپے مجموعی نقصان کا تخمینہ ہے۔

    سوشل میڈیا پر جھوٹے بیانات،پروپیگنڈہ،مزید 7 ملزمان پر مقدمہ

    17 ملین سے زائد لائکس والی ٹک ٹاکر سومل کی بھی نازیبا ویڈیو لیک

    چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل

  • انٹرنیٹ اہم ضرورت لیکن پاکستان میں اس کی اسپیڈ کم ہے،شزہ فاطمہ

    انٹرنیٹ اہم ضرورت لیکن پاکستان میں اس کی اسپیڈ کم ہے،شزہ فاطمہ

    وزیرِ مملکت برائے آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ کا کہنا ہے کہ حکومت معیشت کو ڈیجیٹائز کرنے کے لیے کوشاں ہے،انٹرنیٹ اہم ضرورت ہے لیکن پاکستان میں اس کی اسپیڈ کم ہے،

    اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شزہ فاطمہ خواجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان ڈیجیٹائزیشن کی جانب گامزن ہے، کرنسی کے استحکام نے انڈسٹری کو بہت فائدہ دیا ہے، معیشت بہتر ہو رہی ہے، مسائل حل ہو رہے ہیں، انٹرنیٹ کی اسپیڈ اس طرح نہیں جس طرح ہونی چاہیے، دنیا تیزی سے ڈیجیٹائزیشن کی طرف جا رہی ہے،حکومت ڈیجیٹائزیشن پر قانون سازی کے لیے کام کر رہی ہے، چیلنجز کے باوجود ملک میں ڈیجیٹلائزیشن کو فروغ دیا جارہا ہے، معیشت اب بہتر ہو رہی ہے تو اُمید کرتے ہیں باقی چیزیں بھی بہتر ہوں گی۔

    شزہ فاطمہ کا مزید کہنا تھا کہ امیدہے اگلے 5 سالوں میں ہم فائبرائزیشن کو بہتر بنانے میں کامیاب ہوں گے، رائٹ آف وے پر بڑی توجہ سے کام ہوا ہے،ٹیکنالوجی کے شعبے میں سرمایہ کاری میں اضافہ نظر آئے گا جبکہ حکومت معیشت کو ڈیجیٹائز کرنے کے لیے کوشاں ہے،آئی ٹی کی تربیت حاصل کرنے والےنوجوانوں کومبارکبادپیش کرتی ہوں،نوجوانوں کے بہترمستقبل کیلئے ٹیکنالوجی سے آراستہ کرناہوگا،آئی ٹی کے فروغ کیلئے حکومت اقدامات کررہی ہے،نوجوانوں کو آئی ٹی کی تعلیم دے کرروزگار کے مواقع مہیا کر رہے ہیں،سائبرسکیورٹی یقینی بنانے کے لیے اقدامات کئے جارہے ہیں،حکومت آئی ٹی ایکسپورٹ کو بڑھانے کیلئے خصوصی اقدامات کررہی ہے،

    دوسری جانب قومی اسمبلی کا اجلاس آج ہو گا، جس کا ایجنڈا جاری کر دیا گیا ہے، ہر پاکستانی کی ڈیجیٹل شناخت بنانے کے لیے قانون سازی کا بل آج قومی اسمبلی میں پیش ہو گا،بل قومی اسمبلی کے ایجنڈے میں شامل ہے جسے وزیرِ مملکت شزہ فاطمہ خواجہ پیش کریں گی،ڈیجیٹل شناخت بنانے کے بل کا مقصد سماجی، اقتصادی اور گورننس ڈیٹا تیار کرنا ہے،ایجنڈے کے مطابق قانون سازی ’پاکستان کو ڈیجیٹل قوم میں تبدیل کرنے، ڈیجیٹل سوسائٹی، ڈیجیٹل معیشت اور ڈیجیٹل گورننس کو فعال کرنے کے لیے فراہم کرے گی،ذرائع کے مطابق بل کا مقصد معیشت کو ڈیجیٹائز کرنا اور ای گورننس کو فروغ دینا ہے، حکومت 2 نئی باڈیز بنانے کا ارادہ بھی رکھتی ہے۔

    بل کے متن کے مطابق ایک باڈی نیشنل ڈیجیٹل کمیشن این ڈی سی ہو گی جس کی سربراہی وزیرِ اعظم کریں گے، باڈی میں چاروں وزرائے اعلیٰ اور اسٹیٹ بینک، ایف بی آر اور پی ٹی اے کے سربراہان شامل ہوں گے،دوسری باڈی پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی ہو گی جس کی قیادت صنعت کے اعلیٰ ماہرین کریں گے، نئے نظام کے تحت ہر شہری کے لیے ڈیجیٹل شناخت بنائی جائے گی،بل کے متن کے مطابق شناخت میں فرد کی صحت، اثاثوں اور دیگر سماجی اشاریوں کے بارے میں ڈیٹا شامل ہو گا، شناختی کارڈ، لینڈ ریکارڈ، پیدائشی سرٹیفکیٹس اور صحت کے ریکارڈ کا انتظام کرنے والے محکموں تک رسائی بہتر بنانا ہے، ڈیجیٹلائزیشن کی کوشش سرکاری محکموں کی کارکردگی میں بھی بہتری لائے گی، خدمات کو بہتر بنانے کے لیے ہدف پر مبنی منصوبے دیے جائیں گے۔

    تعلیمی اداروں میں منشیات سپلائی میں ملوث نائجیرین گروہ گرفتار

    حکومت اور پی ٹی آئی کے مذاکرات سے کچھ نہیں نکلنا،شیخ رشید

  • تعلیمی اداروں میں منشیات سپلائی میں ملوث نائجیرین گروہ گرفتار

    تعلیمی اداروں میں منشیات سپلائی میں ملوث نائجیرین گروہ گرفتار

    اسلام آباد: اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) نے اسلام آباد کے تعلیمی اداروں میں منشیات کی سپلائی میں ملوث نائجیرین باشندوں کے 6 رکنی گروہ کو گرفتار کر لیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ گروہ طلبہ کو منشیات فراہم کرنے میں ملوث تھا اور اس کی گرفتاری ایک اہم کارروائی تھی جو تعلیمی اداروں میں منشیات کے بڑھتے ہوئے مسئلے کو روکنے کے لئے کی گئی۔

    اے این ایف کے حکام کے مطابق، اسلام آباد میں آپریشن کے دوران پہلے ایک نائجیرین باشندے کو گرفتار کیا گیا۔ ابتدائی تفتیش کے دوران ملزم نے اپنے دیگر ساتھیوں کا انکشاف کیا، جن میں افریقی ملک نائجیریا کے باشندے شامل تھے۔ اس معلومات کی بنیاد پر اے این ایف نے سیکٹر جی 13 میں چھاپہ مارا، جہاں ایک ہوٹل کے قریب پانچ مزید نائجیرین باشندے گرفتار کیے گئے۔حکام نے بتایا کہ ملزمان کے فلیٹ پر چھاپے کے دوران 135 گرام کوکین اور 3.2 کلو گرام آئس برآمد ہوئی۔ ملزمان نے تفتیش میں اعتراف کیا کہ وہ ہاسٹلز اور تعلیمی اداروں میں طلبہ کو منشیات فراہم کر رہے تھے۔

    اے این ایف حکام کا کہنا ہے کہ رواں سال پاکستان میں منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث غیر ملکیوں کی بڑی تعداد افریقی ممالک سے تعلق رکھتی ہے۔ حکام نے بتایا کہ منشیات اسمگلرز مختلف نئے اور خطرناک طریقوں کا استعمال کرتے ہوئے پاکستان میں منشیات کی اسمگلنگ کر رہے ہیں۔اے این ایف نے مزید کہا کہ تعلیمی اداروں میں منشیات کی اسمگلنگ اور سپلائی کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ تعلیمی اداروں میں منشیات کی موجودگی کے بارے میں معلومات فراہم کریں تاکہ اس گھناونے کاروبار کو جڑ سے ختم کیا جا سکے۔

    یہ گرفتاری تعلیمی اداروں میں منشیات کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اہم قدم ہے، اور حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ مستقبل میں بھی ایسی کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی تاکہ تعلیمی ادارے محفوظ رہیں۔

    داؤد ابراہیم کا قریبی ساتھی منشیات کیس میں گرفتار

    اوکاڑہ: خاتون منشیات فروش گرفتار، 5 کلو 100 گرام چرس برآمد

    آسٹریلیا،ایئر لائن کا ملازم شیمپو میں منشیات سمگل کرتے ہوئے گرفتار