Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • اسلام آباد: ہوٹل میں لڑکی کی لاش ملنے کا کیس، ملزم علی رضا گرفتار

    اسلام آباد: ہوٹل میں لڑکی کی لاش ملنے کا کیس، ملزم علی رضا گرفتار

    اسلام آباد کے ایک ہوٹل میں لڑکی کی لاش ملنے کے اہم کیس میں بڑی پیش رفت ہوئی ہے، پولیس نے ملزم علی رضا کو گرفتار کر لیا ہے۔

    بدھ 10 دسمبر 2024 کو اسلام آباد کے ایک ہوٹل سے 23 سالہ لڑکی کی لاش برآمد ہوئی تھی۔ پولیس ذرائع کے مطابق، لڑکی کے ساتھ ایک لڑکا دو دن پہلے ہوٹل آیا تھا اور اُس نے کمرہ بک کیا تھا۔ لڑکا 9 دسمبر کی رات ہوٹل سے فرار ہوگیا تھا۔ ہوٹل انتظامیہ کو شک ہونے پر کمرہ کھولا گیا، جہاں لڑکی کی لاش ملی،پولیس نے فوراً تحقیقات شروع کی اور لڑکی کی لاش پمز ہسپتال منتقل کر دی۔ بعد ازاں، پولیس نے ملزم کی تلاش شروع کی اور 14 دسمبر 2024 کو ملزم علی رضا کو گرفتار کر لیا۔

    پولیس کے مطابق، ملزم نے ابتدائی طور پر اعتراف کیا ہے کہ اُس نے لڑکی کو قتل کیا۔ پولیس نے بتایا کہ لاش کے گلے پر ازار بند کے نشان موجود ہیں، جب کہ ملزم کا کہنا ہے کہ اس نے لڑکی کو اپنے مفلر سے پھندا دے کر قتل کیا۔پولیس حکام نے بتایا کہ اس معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے اور اس کیس میں مزید اہم انکشافات متوقع ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس قتل کے پیچھے محرکات جاننے کے لیے مختلف زاویوں سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

    پارلیمنٹ مشترکہ اجلاس، وزیراعظم نے ایڈوائس صدر کو بھجوا دی

    خالد مقبول صدیقی کا حکومت چھوڑنے کا عندیہ

  • پارلیمنٹ مشترکہ اجلاس، وزیراعظم  نے ایڈوائس صدر  کو بھجوا دی

    پارلیمنٹ مشترکہ اجلاس، وزیراعظم نے ایڈوائس صدر کو بھجوا دی

    وزیراعظم شہباز شریف نے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کے لیے صدر مملکت آصف علی زرداری کو ایڈوائس ارسال کر دی ہے۔

    ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے یہ ایڈوائس 17 دسمبر کو دن 11 بجے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کی تجویز کے حوالے سے بھیجی ہے۔پارلیمانی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اجلاس میں مختلف اہم موضوعات پر بات چیت کی جائے گی، جن میں مدارس کی رجسٹریشن سے متعلق نیا بل بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ، اجلاس میں 8 دیگر بلز کی منظوری کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ذرائع نے مزید بتایا کہ مدارس کی رجسٹریشن سے متعلق نئے بل پر حکومت اور جمیعت علمائے اسلام (ف) کی مشاورت ابھی جاری ہے۔ یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ صدر مملکت کی جانب سے مدارس بل پر اعتراضات اٹھائے گئے ہیں، جس کے باعث صدر آصف زرداری نے اس بل کو اعتراضات لگا کر واپس بھیج دیا ہے۔

    یہ صورتحال اس وقت سامنے آئی ہے جب مدارس کے رجسٹریشن کے حوالے سے حکومت اور دینی جماعتوں کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں۔ حکومت کی جانب سے مدارس کے نظام میں اصلاحات لانے کے لیے نئے بل کا مسودہ تیار کیا گیا تھا، جس پر مختلف مذہبی جماعتوں کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔اس حوالے سے وزیر اعظم شہباز شریف اور جے یو آئی (ف) کے رہنماؤں کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے، اور امید کی جا رہی ہے کہ آئندہ اجلاس میں ان اختلافات کو حل کرنے کے لیے بات چیت کی جائے گی۔

    دوسری جانب چیئرمین پاکستان علماء کونسل حافظ طاہر محمود اشرفی کا کہنا ہے کہ مدارس کی رجسٹریشن پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں،اختلاف اس بات پر ہے کہ جو مدارس وزارتِ تعلیم سے منسلک ہو گئے ان سے متعلق منفی قانون سازی نہ ہو، مدارس اپنا آڈٹ بھی کرواتے ہیں، حسابات سب کے لیے کھلے ہیں، کوئی مدارس کے حسابات چیک کرنا چاہتا ہے تو کیا اعتراض ہو سکتا ہے، کسی عالمی قوت کو پاکستان کے نظام میں مداخلت کا حق نہیں، فیٹف سے متعلق ماضی میں بھی مدارس کی کوئی شکایت نہ تھی اور نہ ہی اب ہے،گالی گلوچ اور الزام تراشی سے مدارس کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔

  • پاک بنگلہ دیش تعلقات کے حوالے سے مشترکہ بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد

    پاک بنگلہ دیش تعلقات کے حوالے سے مشترکہ بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد

    پاک بنگلہ دیش تعلقات کے حوالے سے مشترکہ بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا

    شیخ حسینہ واجد کا تختہ الٹنے کے بعد پاکستان اور بنگلہ دیش کے باہمی تعلقات ابھر کر سامنے آرہے ہیں.12 دسمبر 2024 کو پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس آڈیٹوریم اسلام آباد میں پاک بنگلہ دیش تعلقات پر بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا.کانفرنس کا انعقاد رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی، گلوبل یوتھ ایسوسی ایشن، پاک سوشل الائنس اور پاکستان سول سوسائٹی کے اشتراک سے کیا گیا. کانفرنس کا آغاز تلاوت قرآن پاک اور قومی ترانے کی مسحور کن دھنوں سے ہوا.کانفرنس میں بنگلہ دیش سے خواتین و حضرات بشمول ڈاکٹر پروفیسر شاہدزمان، سابق ڈین ڈھاکہ یونیورسٹی، اور بین الاقوامی اسکالر نے آن لائن شرکت کی،

    1971 کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ بنگلہ دیش سے اتنی بڑی تعداد میں کسی پاکستانی تقریب میں شرکت کی گئی. بنگلہ دیشی شرکاء نے پاکستان کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا اور بھارتی ہندوتوا کی لعنت کا مشترکہ طور پر مقابلہ کرنے کے لیے اتحاد کی ضرورت پر زور دیا. شرکاء نے مشترکہ امن وخوشحالی اور ترقی کے لیے مل کر آگے بڑھنے پر زور دیا. پاکستان کی طرف سے ممتاز ماہرین تعلیم، نوجوان رہنما، سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ، اور کامیاب کاروباری افراد مرکزی مقررین تھے. تمام شرکاء نے جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کے درمیان اتحاد پر زور دیا.شرکاء نے جعلی خبروں سے بچنےاور مسلح افواج کے ساتھ کھڑے ہونے کی ضرورت وقت کو اجاگر کیا .شرکاء نے مشرقی پاکستان میں 1971 کے ہنگامہ خیز سال کے دوران ہمارے فوجیوں، بہاریوں اور محب وطن شہریوں کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا . تقریب میں اسلام آباد اور راولپنڈی کی مختلف یونیورسٹیوں کے نوجوانوں اور یتیم خانوں کے بچوں کی بڑی تعداد میں شرکت. کانفرنس کا اختتام بنگلہ دیش سے آئےمہمان مقررین اور تمام شرکاء کے شکریہ کے ساتھ ہوا. کانفرنس کے مقررین، یوتھ ٹیم لیڈرز اور کانفرنس کے منتظمین کو یادگاری شیلڈز اور اسناد بھی پیش کی گئیں

    20 جنوری سے قبل عافیہ صدیقی کی رہائی کا فیصلہ متوقع

  • رہائشی علاقے میں میڈیا دفتر، سی ڈی اے نے نوٹس جاری کر دیا

    رہائشی علاقے میں میڈیا دفتر، سی ڈی اے نے نوٹس جاری کر دیا

    سی ڈی اے نے انٹر نیشنل میڈیا سے وابستہ ادارے وائس آف امریکہ کو رہائشی ایریا میں آفس رکھنے پر نوٹس جاری کر دیا۔

    سی ڈی اے نے اسلام آباد کے سیکٹر جی-6/3 میں واقع ایک رہائشی گھر پر غیر قانونی تجارتی استعمال کی خلاف ورزی پر نوٹس جاری کیا ہے۔ یہ نوٹس اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری بلڈنگ کنٹرول ریگولیشنز 2020 (ترمیم شدہ 2023) کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے جاری کیا گیا ہے۔ڈائریکٹریٹ آف بلڈنگ کنٹرول (سٹی) کی جانب سے جاری کردہ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ گھر نمبر 1، گلی نمبر 89، سیکٹر جی-6/3 میں رہائش پذیر شخص، مس شمیم غلام، نے اپنے رہائشی مکان کو غیر قانونی طور پر دفتر یا میڈیا ہاؤس کے طور پر استعمال کیا ہے، جو کہ اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری بلڈنگ کنٹرول ریگولیشنز کی واضح خلاف ورزی ہے۔سی ڈی اے کی طرف سے یہ ہدایت کی گئی ہے کہ اوپر ذکر کردہ غیر متناسب استعمال کو اس نوٹس کی تاریخ سے 15 دن کے اندر ختم کر دیا جائے، ورنہ سی ڈی اے مذکورہ خلاف ورزی کو ختم کرنے کے لئے قانونی کارروائی کرے گی۔

    اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری بلڈنگ کنٹرول ریگولیشنز 2020 (ترمیم شدہ 2023) کے مطابق، رہائشی مقامات پر غیر تجارتی یا غیر متعلقہ استعمال کی اجازت نہیں ہے۔ یہ قوانین اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ رہائشی علاقوں میں صرف رہائشی سرگرمیاں کی جائیں اور تجارتی یا دفاتر کی تعمیرات نہ ہوں، تاکہ شہری سہولتوں اور ماحول کو نقصان نہ پہنچے۔سی ڈی اے نے واضح کیا ہے کہ اگر نوٹس میں درج ہدایات پر عمل نہیں کیا گیا تو اتھارٹی اس کے خلاف مزید سخت اقدامات کرے گی، جن میں عمارت کی سیلنگ اور الاٹمنٹ کی منسوخی شامل ہو سکتی ہے۔

    سی ڈی اے نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ مذکورہ خلاف ورزی کی صورت میں ذمہ داری مکمل طور پر متعلقہ فرد پر ہوگی، اور اس کے اخراجات بھی اسی کے ذمہ ہوں گے۔ اس کے علاوہ، اس طرح کی خلاف ورزیاں مقامی انتظامیہ کے لیے سنگین مسائل پیدا کرتی ہیں، اور اس سے نہ صرف قانونی مسائل پیدا ہوتے ہیں بلکہ شہر کی ترقی اور رہائشی معیار پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے شہریوں کو متنبہ کیا ہے کہ وہ اپنے مکانات اور جائیدادوں کے استعمال کے حوالے سے تمام قانونی تقاضوں کا احترام کریں تاکہ شہر میں قانون کی حکمرانی قائم رہے اور شہریوں کو بہتر رہائشی سہولتیں فراہم کی جا سکیں۔

    notice

  • پی ٹی آئی مخالف،گھر بیٹھے شخص کو پی ٹی آئی نے مسنگ پرسن کی فہرست میں ڈال دیا

    پی ٹی آئی مخالف،گھر بیٹھے شخص کو پی ٹی آئی نے مسنگ پرسن کی فہرست میں ڈال دیا

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا ایک اور جھوٹ بے نقاب ہوگیا ہے، پارٹی نے اپنی حالیہ ڈی چوک احتجاج کے دوران مسنگ پرسنز کی فہرست جاری کی تھی۔ اس فہرست میں کئی ایسے افراد کے نام شامل کیے گئے ہیں جن کا پی ٹی آئی کے احتجاج سے کوئی تعلق نہیں تھا، اور بعض افراد کے نام کے ساتھ والد کا نام تک نہیں لکھا گیا، جو ایک حیران کن بات ہے۔

    خاص طور پر، پی ٹی آئی نے مسنگ پرسنز کی فہرست میں ایک ایسے شخص کا نام شامل کیا ہے جس کا نہ تو پی ٹی آئی سے کوئی تعلق ہے، اور نہ ہی وہ احتجاج میں شامل ہوا تھا۔ یہ شخص خالد مزاری ہیں، جو ایک سوشل میڈیا ایکٹوسٹ ہیں اور اپنے گھر میں موجود ہیں۔ انہوں نے اپنی ویڈیو پیغام کے ذریعے اس فہرست میں اپنا نام شامل کرنے پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔

    خالد مزاری نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا: "میں راجن پور سے مخاطب ہوں، اور سوشل میڈیا پر پہلی بار آپ سے بات کر رہا ہوں۔ 139 مسنگ پرسنز کی پی ٹی آئی کی فہرست میں میرا نام موجود ہے۔ اللہ معاف کرے، میرا پی ٹی آئی سے کوئی تعلق نہیں ہے، نہ ہی میں احتجاج میں شامل ہوا ہوں اور نہ ہی کبھی ایسا سوچا تھا۔ ان کا جھوٹ اور پروپیگنڈہ دیکھیں، لوگ یہی سمجھیں گے کہ اتنے لوگ مسنگ پرسن ہیں۔ اب 59 پرسنز پر میرا نام ہے اور میں یہاں بیٹھا ہوں۔”مزاری نے مزید کہا کہ ان کے بارے میں اس طرح کا پروپیگنڈہ کرنے والے افراد کی حقیقت جلد سامنے آ جائے گی۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ ان کی عمر دراز کرے اور دعا کی کہ وہ عمران خان کا جنازہ اپنی آنکھوں سے دیکھ کر اس دنیا سے رخصت ہوں۔

    اس واقعہ نے پی ٹی آئی کی جانب سے مسنگ پرسنز کے بارے میں کیے جانے والے جھوٹے دعوؤں کو مزید اجاگر کیا ہے، اور ایک بار پھر پارٹی کے پروپیگنڈہ کی حقیقت کو بے نقاب کیا ہے۔ خالد مزاری سوشل میڈیا ایکٹوسٹ ہیں اور وہ ایکس پر پی ٹی آئی کے پروپیگنڈے کو بے نقاب کرتے رہتے ہیں، یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ خالد مزاری کا تعلق ن لیگ سے ہے، باخبر ذرائع کے مطابق خالد مزاری کے دوستوں نے باہمی مشورے سے اس کا نام پی ٹی آئی والوں کو بھیجا اور پی ٹی آئی کی ٹیم نے بغیر کسی تصدیق کے خالد مزاری کا نام مسنگ پرسن کی لسٹ میں ڈال دیا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی مسنگ پرسن کے نام پر پروپیگنڈہ کر رہی ہے.

    مخصوص نشستوں کا فیصلہ،سلمان اکرم راجا نے ججز کی سہولتکاری بے نقاب کر دی

    جو جو پاکستان کو تباہ کرنے کی سازش کرے گا اسے بے نقاب کروں گا ،عون چودھری

    سوشل میڈیا پر جلسڑیاں کرنے والوں کو ہم نے بے نقاب کیا،مولانا فضل الرحمان

  • ریاست مخالف ،جھوٹا بیانیہ،پروپیگنڈہ،وی لاگرز،یوٹیوبرز،صحافیوں پر مقدمہ درج

    ریاست مخالف ،جھوٹا بیانیہ،پروپیگنڈہ،وی لاگرز،یوٹیوبرز،صحافیوں پر مقدمہ درج

    ڈی چوک احتجاج ،یوٹیوبر،وی لاگرز،صحافیوں کیخلاف ریاست مخالف جھوٹا بیانہ بنانےکےمقدمات درج کر لئے گئے

    ایف آئی اےسائبرکرائم ونگ کی جانب سے ہرمیت سنگھ،احمد نورانی، عبدالقادر،حسنین رفیق، سلمان درانی، عمران کھٹانہ،مریم شفقت ملک اور رضوان احمد خان و دیگر کیخلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے،یہ مقدمات ‘پیکا ایکٹ’ کی شق 9، 10، 11 اور 24 کے تحت ایف آئی اے سائبر کرائم اسلام آباد میں درج کیے گئے ہیں۔ ہرمیت سنگھ پر درج مقدمے کی ایف آئی آر سامنے آئی ہے

    درج مقدمے کے متن کے مطابق ملزم پر الزام ہے کہ اس نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ @HarmeetSinghPk کے ذریعے پاکستان کے ریاستی اداروں اور سیکیورٹی ایجنسیز کے خلاف جھوٹے اور تخریبی مواد کو فروغ دیا، جس سے ملک میں خوف اور دہشت پھیلانے کی کوشش کی گئی۔مقدمہ 6 دسمبر 2024 کو ایف آئی اےسائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر، اسلام آباد میں درج کیا گیا۔ اس رپورٹ کے مطابق، ہرمیت سنگھ نے اپنی ٹویٹر پروفائل کے ذریعے پاکستان کے ریاستی اداروں اور سیکیورٹی ایجنسیز کے خلاف جھوٹا اور اشتعال انگیز مواد پھیلایا۔ یہ مواد عوام کو تشویش، خوف اور دہشت میں مبتلا کرنے کے لیے تخلیق کیا گیا تھا تاکہ عوام کو ریاستی اداروں اور سیکیورٹی ایجنسیز کے خلاف اکسا کر ان کے خلاف جرائم کا ارتکاب کرایا جا سکے۔ ہرمیت سنگھ پر الزام ہے کہ اس نے پریونشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 کی دفعہ 9، 10، 11 اور 24 کے تحت جرائم کا ارتکاب کیا۔ اس کے علاوہ، پاکستان پینل کوڈ (PPC) کی دفعہ 505 کے تحت بھی اس کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے، کیونکہ اس نے عوام میں دہشت اور خوف پھیلانے کی کوشش کی اور ریاست کے مختلف اداروں کے درمیان عداوت پیدا کرنے کی سازش کی۔

    ایف آئی اے کے سب انسپکٹر محمد وسیم خان نے رپورٹ درج کرنے کے بعد فوری طور پر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ اس کیس میں ہرمیت سنگھ کے ٹویٹر پروفائل کے ذریعے پھیلائے گئے مواد کا جائزہ لیا جا رہا ہے، جس میں ریاستی اداروں اور سیکیورٹی ایجنسیز کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سنگھ نے 24 سے 27 نومبر 2024 کے دوران کئی مرتبہ اپنے ٹویٹس کے ذریعے عوام کو بدامنی اور تشویش میں مبتلا کرنے کی کوشش کی تھی۔ سنگھ کے خلاف اس مقدمے کی تحقیقات جاری ہیں اور متعلقہ اداروں کو ایف آئی آر کی کاپیاں ارسال کر دی گئی ہیں تاکہ ان کے خلاف مزید قانونی کارروائی کی جا سکے۔

    پاکستان کے حکومتی اور سیکیورٹی اداروں نے سوشل میڈیا پر پروپیگنڈہ کے خلاف سخت ردعمل دیا اور کہا کہ اس قسم کے تخریبی مواد کو پھیلانے والوں کے خلاف بھرپور کارروائی کی جائے گی تاکہ ملک کی سیکیورٹی اور امن و امان کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنایا جا سکے۔پاکستان میں سائبر کرائم کے حوالے سے قوانین بہت سخت ہیں اور اس طرح کے جرائم میں ملوث افراد کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    سوشل میڈیا پر پروپیگنڈہ، ایف آئی اے متحرک،154مقدمے،30 گرفتار

    سوشل میڈیا پر پروپیگنڈہ،اظہر مشوانی سمیت دیگر ملزمان کو نوٹس جاری

    سوشل میڈیا پر جرائم، ایف آئی اے سائبر کرائم کو کارروائی کا اختیار مل گیا

    سوشل میڈیا پر شرانگیزی پھیلانے والے مزید 7ملزمان کیخلاف مقدمات درج

    سوشل میڈیا پر جھوٹے بیانات،پروپیگنڈہ،مزید 7 ملزمان پر مقدمہ

    سوشل میڈیا پر پولیس کے خلاف چلانے والی جھوٹی مہم کا پردہ فاش

    fia

  • سپریم جوڈیشل کونسل ،ججز کیخلاف 30 شکایات خارج،5 پر جواب طلب

    سپریم جوڈیشل کونسل ،ججز کیخلاف 30 شکایات خارج،5 پر جواب طلب

    سپریم جوڈیشل کونسل نے ججز کیخلاف 30 شکایات خارج کردی،جبکہ 5 شکایات پر ججز سے جواب طلب کرلیا,سپریم کورٹ ترجمان نے جوڈیشل کونسل اجلاس کا اعلامیہ جاری کردیا

    اعلامیہ میں کہا گیا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاسسسپریم کورٹ اسلام آباد میں ہوا۔ اجلاس کی صدارت چیف جسٹس آف پاکستان، جناب جسٹس یحییٰ آفریدی نے کی، جو سپریم جوڈیشل کونسل کے چیئرمین بھی ہیں۔ اس اجلاس میں سپریم کورٹ کے دیگر معزز ججز جناب جسٹس منصور علی شاہ، جناب جسٹس منیب اختر، جناب جسٹس عامر فاروق (چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ) اور جناب جسٹس محمد ہاشم کاکڑ (چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ) نے بھی شرکت کی۔اجلاس میں دستور کے آرٹیکل 209(8) اور 2005 کے سپریم جوڈیشل کونسل کے طریقہ کار کی بنیاد پر ججوں کے ضابطہ اخلاق میں ترمیم کی بابت ایجنڈے پر غور کیا گیا۔ اس حوالے سے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی، جس کی سربراہی جناب جسٹس منیب اختر کریں گے، تاکہ ضابطہ اخلاق اور انکوائری کے طریقہ کار میں مناسب ترامیم کی تجویز پیش کی جا سکے۔

    کونسل نے دستور کے آرٹیکل 209 کے تحت مختلف افراد کی جانب سے دائر کردہ 35 شکایات کا جائزہ لیا۔ ان شکایات میں سے 30 شکایات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جبکہ 5 شکایات پر جواب طلب کر لیا گیا ہے

    سپریم کورٹ ، فوجی عدالتوں کو 85 ملزمان کے فیصلے سنانے کی اجازت

    سپریم کورٹ، 9 اور 10 مئی کی ایف آئی آرز کی تفصیلات طلب

    سپریم کورٹ،پریکٹس پروسیجر آرڈیننس کے خلاف درخواستیں خارج

  • مدارس رجسٹریشن بل پر صدر مملکت کے اعتراضات  کی تفصیلات

    مدارس رجسٹریشن بل پر صدر مملکت کے اعتراضات کی تفصیلات

    مدارس رجسٹریشن بل پر صدر مملکت کے اعتراضات کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں

    پاکستان کے صدر مملکت، آصف علی زرداری نے مدارس کی رجسٹریشن کے حوالے سے حکومت کی جانب سے پیش کردہ بل پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ صدر مملکت نے اس بل کی مختلف شقوں پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے کہا کہ نئے بل میں مدارس کی تعریف میں تضاد موجود ہے اور موجودہ قوانین کے تحت نئی قانون سازی کی ضرورت نہیں ہے۔ اس بل کی منظوری سے مدارس کے حوالے سے مزید پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں، جس کا پاکستان کے تعلیمی نظام اور بین الاقوامی شہرت پر منفی اثر پڑنے کا امکان ہے۔

    صدر زرداری نے پاکستان مدرسہ ایجوکیشن بورڈ آرڈیننس 2001 اور اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹوری ٹرسٹ ایکٹ 2020 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان قوانین کی موجودگی میں نئی قانون سازی کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ان کے مطابق، موجودہ قوانین میں مدارس کے لیے واضح ضوابط اور رہنمائی فراہم کی گئی ہے، جس کی بنا پر نئے بل کی ضرورت نہیں ہے۔ ان موجودہ قوانین کو بہتر بنانے اور ان پر عملدرآمد کی کوششوں کو ترجیح دینی چاہیے۔صدر مملکت نے نئے بل میں مدارس کی تعریف کے حوالے سے تضاد کی نشاندہی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ بل میں مدارس کو سوسائٹی کے طور پر رجسٹر کرانے کی تجویز دی گئی ہے، جس کا مقصد انہیں تعلیمی اداروں کے طور پر تسلیم کرنا ہے۔ تاہم، یہ تضاد پیدا ہو رہا ہے کہ کیا مدارس صرف تعلیمی مقصد کے لیے قائم ہیں یا ان کا کردار وسیع تر ہے، جس میں مذہبی، سماجی اور ثقافتی پہلو بھی شامل ہیں۔ اس تضاد کے باعث، بل کی منظوری سے مدارس کے تعلیمی کردار پر سوالات اٹھ سکتے ہیں۔

    صدر زرداری نے یہ بھی کہا کہ مدارس کو بحیثیت سوسائٹی رجسٹر کرانے سے ان کے استعمال کا دائرہ وسیع ہو سکتا ہے، جس کے نتائج مختلف ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق، جب مدارس کو سوسائٹی کے طور پر رجسٹر کیا جائے گا، تو ان کا استعمال تعلیمی مقاصد کے علاوہ دیگر مقاصد کے لیے بھی ہو سکتا ہے۔ اس سے مدارس کو صرف تعلیمی اداروں کے طور پر نہیں دیکھا جائے گا، بلکہ ان کے دیگر سماجی، مذہبی یا سیاسی کردار بھی سامنے آ سکتے ہیں۔

    صدر مملکت نے بل کی منظوری کے نتیجے میں فرقہ واریت کے پھیلاؤ کا خطرہ بھی ظاہر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب مختلف مدارس کو ایک ہی سوسائٹی کے تحت رجسٹر کیا جائے گا، تو ان مدارس میں اختلافات اور فرقہ وارانہ مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ ایک ہی سوسائٹی میں مختلف مدارس کی موجودگی سے فرقہ وارانہ تشدد اور عدم برداشت کے مسائل بڑھ سکتے ہیں، جس سے ملک میں امن و امان کی صورتحال متاثر ہو سکتی ہے۔ صدر نے مزید کہا کہ مدارس کو سوسائٹی کے طور پر رجسٹر کرانے سے مفادات کا ٹکراؤ ہو سکتا ہے۔ جب مدارس مختلف تنظیموں یا افراد کی ملکیت بن جائیں گے، تو ان کے اندر مفادات کی جنگ شروع ہو سکتی ہے، جس سے مدارس کی انتظامیہ میں اختلافات پیدا ہو سکتے ہیں۔ یہ مفادات کا ٹکراؤ نہ صرف مدارس کے اندر بلکہ مقامی کمیونٹی میں بھی مسائل پیدا کر سکتا ہے۔صدر آصف علی زرداری نے بل کی منظوری کے عالمی اثرات پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بل کی منظوری سے پاکستان کے حوالے سے عالمی اداروں جیسے ایف اے ٹی ایف اور دیگر عالمی تنظیموں کے ردعمل میں تبدیلی آ سکتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر عالمی ادارے پاکستان کے تعلیمی نظام اور مدارس کی رجسٹریشن پر منفی رائے قائم کرتے ہیں، تو اس سے پاکستان کی بین الاقوامی ریٹنگز پر منفی اثر پڑ سکتا ہے، جس کا اقتصادی اور سیاسی لحاظ سے نقصان ہو سکتا ہے۔صدر مملکت آصف علی زرداری نے واضح طور پر کہا ہے کہ اس بل کی منظوری کے بعد مختلف مسائل جنم لے سکتے ہیں، جن کا اثر نہ صرف مدارس کے تعلیمی نظام پر پڑے گا، بلکہ اس کا پاکستان کے داخلی امن و امان، فرقہ واریت، اور بین الاقوامی تعلقات پر بھی منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ ان کے مطابق، مدارس کی رجسٹریشن کے لیے موجودہ قوانین میں بہتری لانا اور ان پر مؤثر عمل درآمد کرنا زیادہ مناسب حل ہو گا۔

    اس موقع پر صدر نے تجویز دی کہ حکومت اس بل کو دوبارہ نظرثانی کرے اور مدارس کے حوالے سے موجودہ قانونی فریم ورک میں ضروری اصلاحات کرے تاکہ مدارس کے تعلیمی اور سماجی کردار کو بہتر بنایا جا سکے، اور پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ کو محفوظ رکھا جا سکے۔

    مدارس پرکسی قسم کی مداخلت قبول نہیں،طاہر اشرفی

    دینی مدارس کی رجسٹریشن،حکومت نے نیا مسوودہ جے یوآئی کو دے دیا

    مدارس رجسٹریشن بل کو قانونی شکل دینے میں کچھ وقت درکار ہے،وزیر برائے مذہبی امور

    احتجاج ،طے کر لیا،اسلام آباد جانا پڑا تو جائیں گے،مولانا فضل الرحمان

    حکومت نے آج اجلاس بلا کر علما کو تقسیم کرنے کی سازش کی ،مولانا فضل الرحمان

    مولانا سے بلاول کی ملاقات،ملکی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال

  • جعلی ڈگری،نادرا کے ڈی جی کو نوکری سے فارغ کر دیا گیا

    جعلی ڈگری،نادرا کے ڈی جی کو نوکری سے فارغ کر دیا گیا

    اسلام آباد: نادرا (نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی) کے ڈائریکٹر جنرل ذوالفقار احمد کو جعلی ڈگری رکھنے پر ملازمت سے فارغ کر دیا گیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق ذوالفقار احمد کی ایم بی اے اور بی بی اے ڈگریوں کی تصدیق کے بعد ان میں واضح بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں،ذوالفقار احمد کی ایم بی اے ڈگری پر جو دستخط ہیں، وہ اس وقت کے صدر جارج میسن یونیورسٹی امریکہ کے نہیں تھے۔ جبکہ ان کی بی بی اے کی ڈگری میں بھی کالج کا نام وہ نہیں تھا جو اس وقت ڈگری کے اجراء کے دوران درست تھا۔نادرا نے اس معاملے پر ہائیر ایجوکیشن کمیشن سے انکوائری کی درخواست کی تھی، جس کے بعد ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے تمام معلومات کی مکمل تصدیق کی اور اس بات کی تصدیق کی کہ ذوالفقار احمد کی ڈگریاں جعلی ہیں۔ انکوائری رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ نادرا نے جو معلومات حاصل کی تھیں، وہ درست تھیں اور ان میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی تھی۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ نادرا کے انتظامیہ نے ذوالفقار احمد کو اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کیا تھا، لیکن انہوں نے اس کا تسلی بخش جواب نہیں دیا۔ اس پر چیئرمین نادرا نے ہائی کورٹ کے فیصلے اور شوکاز نوٹس کے غیر تسلی بخش جواب کی بنیاد پر تادیبی کارروائی شروع کی۔اس صورتحال کے بعد، نادرا کے ڈائریکٹر جنرل ذوالفقار احمد کو ملازمت سے فارغ کر دیا گیا۔ نادرا کی جانب سے اس فیصلے کی تائید کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ادارے میں بدعنوانی یا کسی بھی قسم کی جعلسازی کو برداشت نہیں کیا جائے گا، اور اس سے ادارے کی ساکھ پر اثر پڑتا ہے۔

    کراچی یونیورسٹی کی جعلی ڈگری،امریکہ جانیوالی خاتون کو چھ برس کی سزا

    جسٹس طارق جہانگیری ڈگری کیس؛ جامعہ کراچی نے اپنا جواب جمع کروا دیا

    ایف اے کی جعلی ڈگری، جنرل( ر )باجوہ کے بھائی کی پی آئی اے ملازمت ختم

    ایف آئی اے کی کاروائی،جعلی ڈگری پر پی آئی اے میں 17 برس نوکری کرنیوالا گرفتار

  • وزیراعظم کا زیادہ ایندھن سے کم بجلی پیدا کرنیوالے بجلی گھر کو بند کرنے کا حکم

    وزیراعظم کا زیادہ ایندھن سے کم بجلی پیدا کرنیوالے بجلی گھر کو بند کرنے کا حکم

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے بجلی صارفین کیلئے بجلی کے نرخوں کو مزید کم کرنے اور مستقبل کے بجلی کے پیداواری منصوبوں کے حوالے سے لائحہ پر عملدرآمد کو تیز کرنے کی ہدایت کی ہے

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت ملک میں مستقبل کے لیے بجلی کے پیداواری منصوبوں، بجلی شعبے بالخصوص ترسیلی نظام پر جائزہ اجلاس ہوا،اجلاس کو بجلی کے نئے مجوزہ منصوبوں، جاری منصوبوں کی تعمیر پر پیش رفت اور ملک میں بجلی کے شعبے کی جاری اصلاحات پر بریفنگ دی گئی. اجلاس کو بجلی کی موجودہ طلب اور استعداد سے بھی آگاہ کیا گیا. اجلاس کو درآمدی ایندھن سے چلنے والے بجلی گھروں کی تحلیل اور ترسیلی نظام کی اصلاحات پر پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا.

    وزیرِاعظم نے بجلی شعبے کی اصلاحات کیلئے تمام تر اقدامات کو معینہ مدت میں مکمل کرنے کی ہدایات جاری کر دیں. اجلاس میں وفاقی وزراء احد خان چیمہ، سردار اویس خان لغاری، ڈاکٹر مصدق ملک، وزیرِ مملکت علی پرویز ملک اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی.

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ مستقبل میں کم لاگت بجلی منصوبوں کو ہی ترجیح دی جائے.بجلی کی پیداوار کے منصوبوں کے لیے مقامی وسائل کو ترجیح دی جائے، وزیرِ اعظم کو ملک بھر میں جاری پن بجلی کے منصوبوں پر پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا. وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پن بجلی کے منصوبے کم لاگت بجلی کے ایسے ذرائع ہیں جن سے صارف کو ماحول دوست اور سستی بجلی فراہم ہوگی.بجلی کی موجودہ استعداد کو بھی شمسی توانائی پر منتقل کیا جائے.دنیا بھر میں ماحول دوست کم لاگت شمسی توانائی سے بجلی پیدا کی جا رہی ہے. پاکستان اس لحاظ سے خوش قسمت ملک ہے کہ ملک میں شمسی توانائی کی وسیع استعداد موجود ہے.

    وزیرِاعظم کو زیادہ ایندھن سے کم بجلی بنانے والے غیر مؤثر بجلی گھروں کو ختم کرنے کے حوالے سے پیش رفت پر بھی آگاہ کیا گیا. وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ زیادہ ایندھن سے کم بجلی پیدا کرنے والے فرسودہ بجلی گھروں کو فوراً بند کیا جائے. ایسے بجلی گھروں کی بندش سے نہ صرف ایندھن کی درآمد پر خرچ ہونے والے قیمتی زر مبادلہ کی بچت ہوگی بلکہ صارف کیلئے بجلی کی لاگت بھی کم ہوگی. ایسے تمام افسران جو بجلی شعبے کی اصلاحات میں دانستہ طور پر رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں، ان کے خلاف فوری کاروائی عمل میں لائی جائے. بجلی ترسیل کے نظام میں جاری اصلاحات پر عمل درآمد کو تیز کیا جائے. بجلی ترسیل کے نظام کو بین الاقوامی معیار کے مطابق جدید خطوط پر استوار کیا جائے.بجلی کی پیداواری لاگت کے لحاظ سے کم لاگت بجلی کے انتخاب و ترسیل کیلئے جدید ٹیکنالوجی کے نظام کے نفاذ پر جلد عملدرآمد یقینی بنایا جائے.

    بجلی تقسیم کاجدید نظام، ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے 20 کروڑ ڈالر قرض منظور

    بجلی کمپنیوں کی ناقص کارکردگی سے 281 ارب روپے کا نقصان ہوا

    نیپرا نے بجلی صارفین کیلیے ونٹر پیکج کی منظوری دے دی

    بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی کارکردگی میں بہتری