وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق، ایران نے سعودی عرب اور عمان کو آگاہ کیا تھا کہ اگر امریکہ یا اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تو وہ متحدہ عرب امارات کو اپنے جوابی حملوں میں "بھاری نشانہ” بنائے گا۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایرانی حکام نے سعودی حکام کے ساتھ ایک بات چیت میں ریاض اور ابوظہبی کے درمیان موجودہ اختلافات کا ذکر کرتے ہوئے امارات کو "کچلنے” کی دھمکی دی تھی،ایران نے مبینہ طور پر خلیج تعاون کونسل (GCC) کے ارکان کو یہ پیغام دیا کہ امارات کی جانب سے ایرانی اہداف کے خلاف کسی بھی ممکنہ کارروائی (بشمول امریکی/اسرائیلی فورسز کو اپنی سرزمین استعمال کرنے دینا) کی صورت میں، یو اے ای کو سخت ترین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
یہ اقدام بظاہر جی سی سی کے اندر، خاص طور پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی دراڑ کو وسیع کرنے کی ایک کوشش ہے، کیونکہ دونوں ممالک کے مفادات اب مختلف سمتوں میں جا رہے ہیں۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق، 2026ء کی ایران جنگ نے مشرق وسطیٰ کے جیو پولیٹیکل آرڈر کو بدل دیا ہے، جس میں متحدہ عرب امارات اب روایتی عرب صف بندی کے بجائے اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ زیادہ قریب ہو گیا ہے سعودی حکام نے اس دھمکی آمیز زبان کو ناپسند کیا اور وہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور ایران کے ساتھ بات چیت کے ذریعے تعلقات کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ 2026ء کے اوائل میں ہونے والی فوجی کشیدگی کے دوران ایران نے متحدہ عرب امارات کی اہم بندرگاہوں اور تیل کی تنصیبات پر ڈرون اور میزائل حملے بھی کیے، جس سے ان ملکوں کے درمیان شدید تناؤ پیدا ہوا۔
