امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے کہا ہے کہ امریکی فوج نے ایران کے خلاف حملوں کا ایک اور مرحلہ مکمل کر لیا ہے،جن میں ایران کی متعدد فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا،جبکہ جنوب مغربی ایران میں ہونے والے حملوں میں کم از کم 2 افراد جاں بحق اور 11 زخمی ہوگئے۔
سینٹ کام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ یہ کارروائیاں بدھ کی رات واشنگٹن کے مقامی وقت کے مطابق رات 10 بج کر 30 منٹ پر مکمل ہوئیں، جو گرین وچ وقت کے مطابق جمعرات کو 2 بج کر 30 منٹ بنتا ہے امریکی افواج نے ایران کی متعدد فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جن میں بحری صلاحیتوں سے متعلق اہداف، میزائل اور ڈرون ذخیرہ کرنے کی جگہیں، ساحلی نگرانی کے مراکز اور فضائی دفاعی نظام شامل ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ بدھ تک سینٹ کام نے ایران جانے یا وہاں سے نکلنے والے بحری راستوں پر کارروائی کرتے ہوئے 9 تجارتی جہازوں کا رخ موڑ دیا، جبکہ ایک جہاز کو بھی ناکارہ بنا دیا تاکہ کوئی بھی جہاز ایرانی بندرگاہوں میں داخل نہ ہو سکے یا وہاں سے روانہ نہ ہو سکے۔
سینٹ کام کے مطابق یہ اقدامات ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب ایران آبنائے ہرمز میں اپنی جانب سے بحری ناکہ بندی نافذ کیے ہوئے ہے، جبکہ امریکی افواج بھی ایرانی بحری نقل و حمل کو محدود کرنے کے لیے کارروائیاں کر رہی ہیں اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی تعینات ہیں اور وہ ہر قسم کی کارروائی کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
ایرانی حکام نے تصدیق کی ہے کہ عراق سے ملحق شلامچہ بارڈر کراسنگ کے قریب ایک مسافر ٹرمینل کے نزدیک دھماکوں کے نتیجے میں جانی نقصان ہوا۔ اس کے علاوہ خوزستان کے مختلف شہروں، جن میں اہواز، ماہشہر، اندیمشک اور رامشیر شامل ہیں، میں بھی دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں رامشیر میں اسفالٹ ذخیرہ کرنے کی ایک تنصیب کو بھی نشانہ بنایا گیا امریکا کے حالیہ حملوں کے آغاز سے اب تک کم از کم 10 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ گزشتہ چند ہفتوں میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد کم از کم 8 بتائی گئی تھی۔
ایران کے صوبہ ہرمزگان کے شہروں سیریک اور جاسک میں بھی دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں یہ علاقے آبنائے ہرمز کے قریب واقع ہیں اور اس اہم عالمی بحری گزرگاہ کی نگرانی کے حوالے سے غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ صوبہ بوشہر میں بھی رات کے دوران 2 دھماکے رپورٹ ہوئے۔
دوسری جانب ایران نے امریکا کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ امریکی حملوں کے باوجود ایران نہ صرف مسلسل میزائل اور حملہ آور ڈرون تیار کر رہا ہے بلکہ اس کے میزائل سازی کے مراکز بھی امریکی انٹیلی جنس کی پہنچ سے باہر ہیں پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ایران پر حملے جاری رہے تو مزید سخت فوجی کارروائیاں کی جائیں گی-
