امریکا ایران جنگ خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی،جنگ کے دارالحکومت کے قریب پہنچنے کے خدشات کے پیش نظر ایران نے بدھ کے روز تہران اور اس کے اطراف فضائی دفاعی نظام مکمل طور پر فعال کر دیا۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران کا دفاعی نظریہ ’آنکھ کے بدلے آنکھ‘ پر مبنی ہےان کا بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس انتباہ کے بعد سامنے آیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر ایرانی افواج نے آبنائے ہرمز میں کسی بحری جہاز کو نشانہ بنایا تو امریکا ہر ایسے حملے کے جواب میں ایرا ن کے کسی پل یا بجلی گھر پر بمباری کرے گا۔
غیرملکی میڈیا نے ایران کی پاسدارانِ انقلاب کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس نے کویت میں موجود امریکی فوجی تنصیبات پر مزید حملے کیے ہیں، جنہیں امر یکا کی کارروائیوں کے جواب میں انجام دیا گیا یہ حملے صرف امریکی فوجی اہداف کے خلاف تھے اور ان کا مقصد کسی بھی صورت کویتی عوام کو نشانہ بنانا نہیں تھا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ علی السالم ایئر بیس پر واقع امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جہاں ایک بڑے فوجی سازوسامان کے گودام، پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام اور امریکی ایم کیو-9 (MQ-9) ڈرونز کے ہینگر کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے العدیری (Al-Adiri) بیرکس میں امریکی فوجیوں کی رہائش گاہوں اور 2 ہیلی کاپٹر ہینگرز کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں جانی نقصان ہوا اور ہیلی کاپٹروں اور ڈرونز کو بھاری نقصان پہنچا ایرانی فورسز نے ایک مواصلاتی ٹا ور کو بھی نشانہ بنایا، جسے ایران میں امریکی حملوں کے دوران ٹیلی کمیونی کیشن ٹاورز پر کی جانے والی کارروائیوں کا جواب قرار دیا گیا۔
تاہم، اس خبر کی آزاد ذرائع سے فوری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی، جبکہ امریکی یا کویتی حکام کی جانب سے بھی ان دعوؤں پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے امریکی محکمہ خارجہ نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث دنیا بھر میں موجود امریکی شہریوں کو اضافی احتیاط برتنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
محکمے کے مطابق سیکیورٹی صورتحال انتہائی پیچیدہ ہے اور کسی بھی وقت غیر متوقع کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے امریکی شہریوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ امریکی سفارتی تنصیبات اور امریکا سے وابستہ کاروباری یا دیگر ادارے دنیا کے مختلف حصوں میں ممکنہ حملوں کا نشانہ بن سکتے ہیں محکمہ خارجہ نے خاص طور پر مشرقِ و سطیٰ میں موجود امریکیوں کو پروازوں اور سفر میں ممکنہ رکاوٹوں سے آگاہ رہنے اور خطے سے غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
سائبر سکیورٹی کمپنی گلوبل سائبر رسک کی چیف ایگزیکٹو جوڈی ویسٹبی نے خبردار کیا ہے کہ ایران سے منسلک ہیکرز امریکی اہم تنصیبات کے لیے حقیقی خطرہ بن چکے ہیں امریکی حکام ایسے متعدد سائبر حملوں کا مشاہدہ کر چکے ہیں جنکا ہدف اسپتال، پانی کی فراہمی،فضلہ ٹھکانے لگانے کےنظام اور بجلی کی تنصیبا ت ہیں، اور ان حملوں کے پیچھے ایرانی پاسداران انقلاب کے الیکٹرانک سائبر کمانڈ گروپ کے ملوث ہونے کا شبہ ہے امریکا میں نجی شعبے کا منتشر نیٹ و رک ایسے حملوں کے خلاف فوری اور مؤثر ردعمل میں رکاوٹ بن سکتا ہے، جس سے ان حملوں کے اثرات مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔
امریکا کے سابق سفیر جوی ہڈ نے کہا ہے کہ اگر جنگ کا خاتمہ مذاکرات کے ذریعے نہ ہوا تو امریکا، اسرائیل اور ایران سمیت تمام فریق نقصان اٹھائیں گے، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خلیجی ممالک سے مشاورت کیے بغیر ایران پر حملے کر کے ایک بڑی تزویراتی غلطی کی، جبکہ ایران بھی اپنے جوابی حملوں میں امریکا کے بجائے خطے کے دیگر ممالک کو نشانہ بنا کر کوئی فیصلہ کن کامیابی حاصل نہیں کر سکا انہوں نے زور دیا کہ موجودہ صورتحال کا واحد پائیدار حل مذاکرات ہیں، بصورت دیگر اس جنگ میں آخرکار ہر فریق کو نقصان اٹھانا پڑے گا۔
