Baaghi TV

آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت محفوظ بنانے کے لیے پاکستان کی کوششیں جاری ہیں، دفترخارجہ

pak

ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا ہے کہ پاکستان مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے، مذاکرات کے ذریعے تنازعات کے حل اور آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری آمدورفت کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

طاہر اندرابی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران مشرق وسطیٰ کی مجموعی صورتحال، علاقائی سلامتی اور خارجہ امور سے متعلق اہم امور پر تفصیلی گفتگو کی ہےترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان کا مؤقف ہے کہ تمام تنازعات اور اختلافات کا پائیدار حل صرف مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے ہی ممکن ہےاسلام آباد مفاہمتی یادداشت خطے میں امن، باہمی احترام اور مشترکہ خوشحالی کے فروغ کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے اگرچہ اس مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کو بعض چیلنجز کا سامنا ہے، تاہم پاکستان تمام متعلقہ فریقوں کو تشدد ختم کرنے اور 22 جون 2026 کے پاک قطر مشترکہ اعلامیے اور مفاہمتی یادداشت کے مطابق تکنیکی سطح کے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی ترغیب دیتا رہے گا۔

ترجمان نے کہا کہ موجودہ صورتحال سے خصوصاً ترقی پذیر ممالک شدید متاثر ہو رہے ہیں پاکستان عالمی توانائی کی فراہمی، تجارت، خوراک کے تحفظ اور دیگر اقتصادی شعبوں پر مرتب ہونے والے منفی اثرات سے بخوبی آگاہ ہے امید ہے کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال جلد معمول پر آئے گی اور بحری جہازوں کی محفوظ، آزاد اور بلا تعطل آمدورفت یقینی بنائی جائے گی۔

ترجمان نے پاکستانی قیادت کی حالیہ سفارتی مصروفیات کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے 10 جولائی کو قطری قیادت اور ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے الگ الگ رابطے کیے جن میں انہوں نے تمام فریقین پر ہر ممکن تحمل کا مظاہرہ کرنے اور کشیدگی میں مزید اضافے سے گریز کرنے پر زور دیا قطری قیادت نے اس موقع پر خطے میں امن قائم کرنے کے لیے پاکستان کے فعال اور مثبت کردار کی بھرپور تعریف کی۔

طاہر اندرابی نے کہا کہ خطے میں جاری کشیدگی کے دوران پاکستان نے اہم علاقائی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مسلسل سفارتی رابطے برقرار رکھے ہیں تاکہ کشیدگی میں کمی، مذاکرات کے فروغ اور تنازعات کے پرامن حل کی راہ ہموار کی جا سکے 13 جولائی کو وزیراعظم شہباز شریف نے سابق وزیرا عظم محمد نواز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کے ہمراہ قطر کے دارالحکومت دوحہ کا دورہ کیا اس دورے کا مقصد پاکستان کے د یرینہ دوست ملک قطر کے امیر اور قطری قیادت سے تعزیت اور اظہارِ ہمدردی کرنا تھا۔ پاکستانی قیادت نے اس موقع پر قطر کے ساتھ یکجہتی اور قریبی تعلقا ت کے عزم کا اعادہ کیا۔

ترجمان نے بتایا کہ حال ہی میں ایک دوست ملک کے وزیر خارجہ نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی دعوت پر پاکستان کا سرکاری دورہ بھی کیا اس موقع پر وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے، جن میں دوطرفہ تعلقات، تجارت، سرمایہ کاری، اعلیٰ تعلیم، سیاحت اور دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا دونوں ممالک نے اقتصادی روابط میں اضافے، سفارتی مکالمے کو مضبوط بنانے اور عوامی روابط کے فروغ پر اتفاق کیا۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز اسلام آباد میں پاکستان اور پرتگال کے درمیان سالانہ دوطرفہ مشاورت بھی منعقد ہوئی پاکستانی وفد کی قیادت ایڈیشنل سیکریٹری برائے یورپ سفیر عائشہ علی نے جبکہ پرتگال کے وفد کی قیادت ڈائریکٹر جنرل برائے خارجہ پالیسی سفیر ہیلینا مالکاٹا نے کی دونوں ممالک نے دوطرفہ تعلقات کو مزید وسعت دینے اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا، جبکہ اس حوالے سے دفتر خارجہ کی جانب سے تفصیلی اعلامیہ بھی جاری کیا گیا۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستان اسلامی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم پر بھی فعال کردار ادا کر رہا ہے اور او آئی سی کے رکن ممالک میں خواتین کو درپیش مسائل اور ان کے حل کے لیے تعاون جاری رکھے ہوئے ہے جبکہ پاکستان اور چین کے درمیان ہر سطح پر رابطے موجود ہیں اور پاکستان ملک میں موجود تمام چینی شہریوں اور عملے کی حفاظت کو اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے۔

انہوں نے برطانیہ میں بچوں کے جنسی استحصال کے مقدمے سے متعلق سوال پر کہا کہ پاکستان اس جرم کی سخت مذمت کرتا ہے، تاہم یہ برطانیہ کا اندرونی معاملہ ہے، شبیر حسین برطانوی شہری ہیں، ان کی پرورش بھی برطانیہ میں ہوئی، اس لیے حکومت پاکستان کا اس مقدمے سے کوئی تعلق نہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ نے مقبوضہ کشمیر کے حریت رہنماؤں کے خلاف بھارتی قومی تحقیقاتی ادارے (این آئی اے) کی جانب سے چارج شیٹ دائر کیے جانے کی بھی مذمت کی انہوں نے کہا کہ بھارت سیاسی بنیادوں پر قائم مقدمات اور جعلی ٹرائلز کے ذریعے حریت قیادت کو دبانے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم کشمیری عوام کو ان کے حق خودارادیت سے محروم نہیں رکھا جا سکتا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ پہلگام واقعے کے حوالے سے بھارت اب تک کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکا، حالانکہ پاکستان نے تحقیقات میں تعاون کی پیشکش کی تھی، لیکن بھارت سیاسی نعرے بازی اور سنسنی پھیلانے میں مصروف ہے۔

More posts