Baaghi TV

امریکی بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ، ایران میں فوجی اہداف پر حملے

امریکا نے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی دوبارہ شروع کرتے ہوئے ایران کے مختلف علاقوں میں فوجی اہداف پر حملوں کا نیا سلسلہ شروع کر دیا ہے، جس کے بعد خلیجی خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

امریکی سینٹرل کمان یعنی سینٹ کام کے مطابق امریکی افواج نے 7 گھنٹے پر محیط کارروائی کے دوران آبنائے ہرمز اور ایران کے ساحلی علاقوں کے قریب درجنوں فوجی اہداف کو نشانہ بنایا،ان حملوں میں میزائل اور ڈرون تنصیبات، بحری اثاثے اور ساحلی دفاعی نظام شامل تھے، یہ کارروائی ایرانی بندرگاہوں سے آنے اور جانے والے بحری جہازوں کی ناکہ بندی دوبارہ نافذ کیے جانے کے چند گھنٹے بعد کی گئی۔

ایرانی میڈیا کے مطابق صوبہ ہرمزگان کے شہر سیریک، بامپور، چابہار، بندر عباس، اہواز اور جزیرہ قشم سمیت مختلف علاقوں میں دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں،الجزیرہ کے مطابق ایران کی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے کویت اور بحرین میں امریکی ہتھیاروں کو تباہ کر دیا ہے، تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فوکس نیوز سے گفتگو میں دعویٰ کیا کہ امریکا اور ایران کے درمیان منگل کو مذاکرات ہوئے، تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ایران پر امریکی حملے اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک وہ اسے کافی قرار نہ دیدیں،صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر 20 فیصد ٹیرف عائد کرنے سے متعلق اپنے سابقہ بیان سے ٰیو ٹرن لیتے ہوئے کہا کہ اس کے بجائے خلیجی ممالک امریکا میں سرمایہ کاری کریں گے۔

ادھر امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے متعدد افراد، اداروں اور بحری جہازوں کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔

More posts