Baaghi TV

Tag: ایران

  • ایران نے اسرائیل اورامریکا پر  400میزائل داغ دیئے، تل ابیب میں کئی عمارتیں تباہ

    ایران نے اسرائیل اورامریکا پر 400میزائل داغ دیئے، تل ابیب میں کئی عمارتیں تباہ

    ایران کے اسرائیل اورامریکا پر وارجاری، صرف 40 منٹ کے دوران 400 میزائل داغ دیے،کویت، اردن، بحرین میں بھی امریکی فوجی اڈوں کونشانہ بنایا گیا-

    میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے اسرائیل پر حملوں کی ایک اور بڑی لہر میں میزائلوں اور ڈرونز کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں تل ابیب میں متعدد عمارتیں تباہ ہو گئیں اور کئی گاڑیوں میں آگ لگ گئی شہر میں خطرے کے سائرن طویل وقت تک بجتے رہے جس سے شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

    اسرائیلی ذرائع کے مطابق بنی براک کے علاقے میں حملوں کے نتیجے میں کم از کم 12افراد زخمی ہوئے، جبکہ مجموعی طور پر گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران زخمیوں کی تعداد 2 سو تک پہنچ گئی ہے ایران نے حدیرہ میں واقع ایک بڑے پاور پلانٹ کو بھی میزائل حملے میں نشانہ بنایا، جس کے باعث وہاں آگ بھڑک اٹھی، یہ ایک ہی دن میں ہونے والا پانچواں بڑا حملہ تھاایران نے 40 منٹ کے دوران سینکڑوں میزائل داغے۔

    دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ خطے میں امریکی مفادات کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے، اور کویت، اردن اور بحرین میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر حملے کیے گئے ہیں تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

    عرب ممالک کی جانب سے دفاعی کارروائیوں کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے، اماراتی وزارت دفاع کے مطابق ایران سے داغے گئے متعدد ڈرونز کو تباہ کر دیا گیا، جبکہ سعودی عرب نے بھی اپنے فضائی دفاعی نظام کے ذریعے بیلسٹک میزائل کو ناکام بنانے کا اعلان کیا، عرب میڈیا کا کہنا ہے کہ 20 سے زائد ڈرونز کو مار گرایا گیا۔

    اُدھر لبنان سے حزب اللہ نے بھی اسرائیل پر راکٹ حملے کیے، جس کے نتیجے میں شمالی شہر کرمیل میں دو افراد زخمی ہوئے، جبکہ مقامی اسپتالوں میں متعدد زخمیوں کو منتقل کیا گیا،لبنانی فوج کے مطابق ایرانی میزائلوں کے کچھ حصے لبنانی علاقے میں گرے ہیں، لبنان ان حملوں کا ہدف نہیں تھا میزائلوں کو راستے میں روکنے کی کوشش کی گئی جس کے بعد ان کا ملبہ مختلف علاقوں میں گرا۔

  • ایران امریکا جنگ: پاکستان ثالثی اور مذاکرات کے لیے پرعزم ہے،خالد مقبول صدیقی

    ایران امریکا جنگ: پاکستان ثالثی اور مذاکرات کے لیے پرعزم ہے،خالد مقبول صدیقی

    ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ کے اثرات اب پاکستان تک پہنچ چکے ہیں، اور موجودہ صورتحال میں پوری قوم کو متحد اور ذہنی طور پر تیار رہنے کی ضرورت ہے۔

    کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ ہمارے دروازے تک پہنچ چکی ہے اور اس کے خطے پر کیا اثرات مرتب ہوں گے، اس کا مکمل اندازہ ابھی نہیں لگایا جا سکتا،پاک فوج اور حکومت نے اس صورتحال میں اہم کردار ادا کیا ہے اور ایم کیو ایم حکومت کی تمام کاوشوں کے ساتھ کھڑی ہےپاک فوج ہر قسم کی صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور پوری قوم اس کے شانہ بشانہ ہے۔

    انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ موجودہ حالات میں اتحاد کا مظاہرہ کریں اور ذہنی طور پر ہر ممکن صورتحال کے لیے تیار رہیں پاکستان ثالثی اور مذاکرات کے لیے پرعزم ہے،معاشی بحران سے نمٹنے کے لیے سخت اقدامات، حتیٰ کہ لاک ڈاؤن جیسے آپشن پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ملک کی بہتری کے لیے آئینی و انتظامی اصلاحات ضروری ہیں۔

    انہوں نے 28ویں آئینی ترمیم کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اسے فوری طور پر لایا جائے اور اس کے ذریعے عوام کو بااختیار بنانے کے اقدامات کیے جا ئیں، ایم کیو ایم نے حکومت کی حمایت کے لیے کوئی مطالبہ نہیں کیاسیاسی جماعتیں عوام کو اختیارات دینے کے لیے تیار ہیں، اور وہ خود بھی چاہتے ہیں کہ اپنے حصے کا اختیار عوام کو منتقل کیا جائے،ملک میں بلدیاتی نظام کا نفاذ ضروری ہے اور صرف آئین کے آرٹیکل 140-اے پر عملدرآمد ہونا چاہیے تاکہ کراچی سمیت تمام شہروں کو ان کا حق مل سکے۔

  • صدر ٹرمپ نے ایران پر حملے کا الزام وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ پر  عائد کر دیا

    صدر ٹرمپ نے ایران پر حملے کا الزام وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ پر عائد کر دیا

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ وہ پہلی شخصیت تھے جنہوں نے ان کی انتظامیہ کو ایران کے خلاف جنگ کا آپشن اپنانے پر اکسایا۔

    ریاست ٹینیسی کے شہر ممفیس میں عوامی تحفظ کے حوالے سے منعقدہ ایک گول میز کانفرنس کے دوران صدر ٹرمپ نے کہا کہ پیٹ ہیگسیتھ ان ابتدائی شخصیات میں شامل تھے جنہوں نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا آپشن اختیار کرنے کی حمایت کی، تاکہ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے سے روکا جا سکے۔

    صدر ٹرمپ نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں ایران ایک بڑا مسئلہ ہے، جو ان کے بقول کئی دہائیوں سے دہشت گردی میں ملوث رہا ہے اور اب ایٹمی صلاحیت کے قریب پہنچ چکا ہے، وزیر دفاع نے واضح مؤقف اختیار کیا کہ ایران کو کسی صورت ایٹمی ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

    امریکی حکام کے مطابق 28 فروری 2026 کو امریکا نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایک وسیع فوجی آپریشن شروع کیا امریکی سینٹرل کمانڈ کے اعداد و شمار کے مطابق اس دوران ایران میں 9 ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا جبکہ 140 سے زیادہ بحری جہاز تباہ یا نقصان کا شکار ہوئے ان کارروائیوں میں اب تک 13 امریکی فوجی ہلاک جبکہ 200 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

  • اسرائیلی فوج کا روس ایران ہتھیاروں کی سپلائی لائن پر حملہ

    اسرائیلی فوج کا روس ایران ہتھیاروں کی سپلائی لائن پر حملہ

    اسرائیلی فوج نے بحیرۂ کیسپین میں روس ایران ہتھیاروں کی سپلائی لائن پر حملہ کردیا۔

    وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی افواج نے بحیرۂ کیسپین میں ایک ایرانی بحری تنصیب کو نشانہ بنایا، جہاں مبینہ طور پر روس اور ایران کے درمیان ڈرونز، گولہ بارود اور دیگر عسکری سازوسامان کی ترسیل کے لیے ایک سپلائی کوریڈور استعمال کیا جا رہا تھا یہ کارروائی گزشتہ ہفتے کی گئی اور اسے بحیرۂ کیسپین میں اسرائیل کی پہلی معروف کارروائی قرار دیا جا رہا ہے، جو دنیا کی سب سے بڑی اندرونی آبی گزرگاہ ہے یہ سمندر روس اور ایران کے ان بندر گاہوں کو جوڑتا ہے جو تقریباً 600 میل کے فاصلے پر واقع ہیں،جس سے ممالک کو گندم اور تیل جیسے سامان کے ساتھ ہتھیاروں کو آزادانہ طور پر تبدیل کرنے کا موقع ملتا ہے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ راستہ جنگ کے دوران اہمیت اختیار کر گیا ہے، خاص طور پر ایرانی ساختہ شاہد ڈرونز کی ترسیل کے لیے، جو دونوں ممالک میں تیار کیے جا رہے ہیں روس ان ڈرونز کو یوکرین کے شہروں پر حملوں میں استعمال کر رہا ہے، جبکہ ایران نے انہیں خلیجی خطے میں تنصیبات اور اہداف کے خلاف استعمال کیا ہے، روس اور ایران کے درمیان تعاون میں بھی اضافہ ہوا ہے، جہاں روس مبینہ طور پر سیٹلائٹ تصاویر اور ڈرون ٹیکنالوجی میں بہتری فراہم کر رہا ہے تاکہ اہداف کو نشانہ بنانے میں مدد مل سکے۔

    اسرائیلی حکام کے مطابق حملے میں بندرگاہ بندر انزلی میں موجود متعدد اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جن میں جنگی بحری جہاز، بندرگاہی انفراسٹرکچر، ایک کمانڈ سینٹر اور مرمت کا شپ یارڈ شامل ہیں بندرگاہ پر موجود ایرانی بحری ہیڈکوارٹر کو نقصان پہنچا ہے اور کچھ بحری جہاز تباہ ہوئے ہیں، تاہم مجموعی نقصان کا مکمل اندازہ ابھی سامنے نہیں آ سکا۔

    سابق اسرائیلی بحری کمانڈر ایلیزر ماروم کے مطابق اس کارروائی کا مقصد روسی ہتھیاروں کی ترسیل کو محدود کرنا اور ایران کو یہ پیغام دینا تھا کہ بحیرۂ کیسپین میں اس کی بحری دفاعی صلاحیتیں محدود ہیں۔

  • بحرین میں ایمیزون ویب سروسز  کے ڈیٹا سینٹرز پر  ڈرون حملہ، انفرااسٹرکچر کو نقصان

    بحرین میں ایمیزون ویب سروسز کے ڈیٹا سینٹرز پر ڈرون حملہ، انفرااسٹرکچر کو نقصان

    ایرانی ڈرونز نے خلیج میں ایمیزون ویب سروسز (AWS) کے ڈیٹا سینٹرز پر حملہ کیا ہے، جس میں متحدہ عرب امارات اور بحرین میں اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    یہ حملے ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کے چند گھنٹے بعد ہوئے، جو مشرق وسطیٰ کے تنازعے میں اضافے کے ایک نئے مرحلے کا اشارہ ہے۔ یہ سہولیات دنیا بھر میں کاروباروں، حکومتوں اور لاکھوں صارفین کے ذریعے استعمال ہونے والی کلاؤڈ سروسز کو طاقت بخشتی ہیں، جس سے یہ حملہ عالمی ڈیجیٹل انفراسٹرکچر پر اپنی نوعیت کا پہلا حملہ ہے۔

    سادہ پے کی سروس بحرین میں ڈرون حملوں سے انفرااسٹرکچر کو نقصان کے بعد بند کردی گئی علاقائی تناؤ میں اضافے نے پاکستان کے فن ٹیک سیکٹر کو بھی نہیں چھوڑا۔ سادہ پے کے مطابق خلیج میں حالیہ ڈرون حملوں کے نتیجے میں انفرااسٹرکچر کی بندش کے باعث اس کی ایپ تمام صارفین کیلئے آف لائن ہوگئی ہے۔

    ان واقعات کی وجہ سے ساختی نقصان، بجلی میں خلل، اور بندش ہوئی، جس سے انٹرپرائز سافٹ ویئر، بینکنگ سسٹم، اور ضروری آن لائن خدمات متاثر ہوئیں۔ جبکہ AWS بحالی کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے، ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ جدید جنگ میں ایک تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے، جہاں ڈیجیٹل بیک بون اب اسٹریٹجک اہداف ہیں۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر شیئر کی گئی ایک اپڈیٹ میں فن ٹیک کمپنی نے بتایا کہ ایپ اس وقت صارفین کیلئے دستیاب نہیں ہے۔

    کمپنی نے بتایا کہ ہمارا انفرااسٹرکچر بحرین میں ایمازون ویب سروسز (اے ڈبلیو ایس) پر چلتا ہے جو یکم مارچ کو ہونے والے ڈرون حملوں کے بعد سے تعطل کا شکار ہے خلیج اور وسیع تر خطے کی دیگر مالیاتی خدمات کی طرح، وہ بھی مشترکہ کلاؤڈ انفرااسٹرکچر کو پہنچنے والے فزیکل نقصان کے ذیلی اثرات سے نمٹ رہی ہے۔

    کمپنی کا مزید کہنا تھا کہ یہ صرف سادہ پے کی انفرادی ناکامی نہیں ہے بلکہ اپنے صارفین کیلئے اسے حل کرنا ہماری ذمہ داری ہے اور ہم اسے مکمل طور پر ہنگامی بنیادوں پر دیکھ رہے ہیں تاہم ایپ کی بندش کے باوجود کمپنی نے اس بات پر زور دیا کہ صارفین کی رقم مکمل طور پر محفوظ ہے مزید برآں ڈیبیٹ کارڈز، اے ٹی ایم اور پی او ایس ادائیگیاں فعال ہیں کمپنی کا کہنا تھا کہ ہم اس زحمت کے لیے تہہ دل سے معذرت خواہ ہیں اور آپ کے صبر و تحمل کے شکر گزار ہیں۔

    گزشتہ رات متاثرہ اے ڈبلیو ایس ریجن میں حالات مزید خراب ہوگئے جس کی وجہ سے صارفین کیلئے ایپ مکمل طور پر بند ہوگئی سادہ پے (پرائیویٹ) لمیٹڈ پاکستان میں ایک نجی لمیٹڈ کمپنی ہے جو مالیاتی خدمات بشمول ماسٹر کارڈ ڈیبٹ کارڈ اور ڈیجیٹل والٹ فراہم کرتی ہے ۔

  • ٹرمپ کے ”کھوکھلے وعدوں“ کا دور ختم ہو چکا ہے،مذاکرات کی بات پر ایران کا جوابی وار

    ٹرمپ کے ”کھوکھلے وعدوں“ کا دور ختم ہو چکا ہے،مذاکرات کی بات پر ایران کا جوابی وار

    ایرانی فوج نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کے ساتھ بات چیت جاری ہونے کا دعویٰ مسترد کردیا ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی فوج کے مرکزی ہیڈکوارٹر خاتم الانبیاء کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل ابراہیم ذوالفقاری نے ایک ریکارڈ شدہ ویڈیو پیغام میں کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات میں تضاد پایا جاتا ہے ٹرمپ ایک طرف مذاکرات کی بات کرتے ہیں جبکہ دوسری جانب زمینی حقا ئق مختلف ہیں طنزیہ انداز میں کہا کہ ”کیا آپ خود سے ہی مذاکرات کر رہے ہیں؟ امریکا جس اسٹریٹجک طاقت کا دعویٰ کرتا تھا، وہ اب اسٹریٹجک ناکامی میں بدل چکی ہے، اور ٹرمپ کے ”کھوکھلے وعدوں“ کا دور ختم ہو چکا ہے۔

    اس سے قبل بھی ابراہیم ذوالفقاری نے ایک ویڈیو پیغام میں ٹرمپ کو طنز کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ ’ہائے ٹرمپ، آپ کو برطرف کیا جاتا ہے، آپ اس جملے سے واقف ہیں“، جو ٹرمپ کے مشہور جملے کی طرف اشارہ تھا۔

    واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران جوہری ہتھیار نہ بنانے پر رضا مند ہے، ایران میں نئی قیادت معاہدہ کرنے جا رہی ہے، ایران اس بار سمجھداری سے بات کر رہا ہے، اس نے ہمیں تیل اور گیس سے متعلق بہت بڑا تحفہ دیا۔

  • پاکستان کی ثالثی میں امریکا ایران مذاکرات، امریکی نائب صدر اور ٹرمپ کے داماد سمیت وفد اسلام آباد روانہ

    پاکستان کی ثالثی میں امریکا ایران مذاکرات، امریکی نائب صدر اور ٹرمپ کے داماد سمیت وفد اسلام آباد روانہ

    امریکا کے نائب صدر جیمز ڈیود وینس (جے ڈی وینس) ایران کے ساتھ ممکنہ مذاکرات میں شرکت کے لیے پاکستان روانہ ہو گئے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق امریکی نائب صدر پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے ان مذاکرات کی قیادت کریں گے اور ان کے ہمراہ امور برائے مشرقِ وسطیٰ کے خصوصی ایلچی اسٹیف وٹکوف اور صدر ٹرمپ کے داماد اور ان کے خصوصی مشیر جیرڈ کُشنر بھی موجود ہوں گے، جو اس سے قبل بھی ایران کے ساتھ ابتدائی بات چیت میں شامل رہ چکے ہیں۔

    وائٹ ہاؤس ذرائع کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نائب صدر جے ڈی وینس کو ان مذاکرات کے لیے مکمل اختیارات دے دیے ہیں، جس سے اس عمل کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔

    دوسری جانب صدر ٹرمپ نے اپنے حالیہ بیانات میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکا ایران میں ”درست لوگوں“ سے بات کر رہا ہے اور مذاکرات میں پیش رفت کے آثار موجود ہیں مارکو روبیو اور جے ڈی وینس سمیت کئی اہم شخصیات اس عمل کا حصہ ہیں، جبکہ ان کے مطابق ایران کی نئی قیادت معاہدے کی جانب بڑھ رہی ہے۔

    صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران کے ساتھ بات چیت میں ایک بڑی رکاوٹ وہاں کے مواصلاتی نظام کی خرابی ہے، جس کے باعث رابطہ مشکل ہو گیا ہےامریکا ایران کو جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت سے روکنے کے لیے پرعزم ہے، جبکہ انہوں نے ایران کی موجودہ صورتحال کو ایک بڑی تبدیلی قرار دیا ہے۔

    ادھر وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی شریک تھے اجلاس میں امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے حل کے لیے پاکستان کی میزبانی میں ممکنہ مذاکرات پر غور کیا گیا۔

    بعد ازاں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان امریکا اور ایران کی رضامندی سے بامعنی اور نتیجہ خیز مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے جاری تنازع کے جامع حل کے لیے سفارت کاری ہی واحد راستہ ہے اور پاکستان اس عمل میں اپنا کردار ادا کرنے پر فخر محسوس کرے گا۔

    وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی سفارتی سطح پر رابطے تیز کر دیے ہیں انہوں نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلیفونک گفتگو کی اور مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش سے آگاہ کیا، جس پر ایرانی وزیر خارجہ نے اپنی قیادت سے مشاورت کے بعد جواب دینے کی یقین دہانی کرائی، اس کے علاوہ اسحاق ڈار نے متحدہ عرب امارات اور مصر کے وزرائے خارجہ سے بھی رابطہ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ خطے میں امن کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کو فروغ دینا ضرو ر ی ہے۔

    دوسری جانب ایران اور چین کے درمیان بھی رابطے جاری ہیں۔ چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے کہا ہے کہ بات چیت ہمیشہ جنگ سے بہتر ہوتی ہے اور تمام فریقین کو امن کے ہر ممکن موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے،جس پر عباس عراقچی نے کہا کہ ایران عارضی نہیں بلکہ ایک جامع اور مستقل جنگ بندی کے لیے پرعزم ہے۔

  • صدر ٹرمپ سے زیادہ ایران کی باتوں پر  یقین کرتاہوں،سابق سربراہ سی آئی اے

    صدر ٹرمپ سے زیادہ ایران کی باتوں پر یقین کرتاہوں،سابق سربراہ سی آئی اے

    واشنگٹن: سی آئی اے کے سابق سربراہ جان برینن کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ سے زیادہ ایران کی باتوں پر یقین کرتاہوں۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق جان برینن کا کہنا تھا کہ حقائق بار بار سامنے آنے کے باوجود ٹرمپ انہیں تسلیم کرنے کو تیار نہیں اور وہ اپنی تخلیق کردہ شکست سے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں ٹرمپ کا یہ مؤقف بھی درست نہیں کہ ایران مذاکرات کے لیے سگنل دے رہا ہے یا امریکی شرائط پر بات چیت کرنا چاہتا ہے، میں صدر ٹرمپ سےزیادہ ایران کی باتوں پریقین کرتاہوں۔ایرانی حکومت کی جانب سے ٹرمپ انتظامیہ سے کسی قسم کی بات چیت نہیں ہو رہی۔

    قبل ازیں امریکا کے سابق نائب معاون وزیر خارجہ جوئل روبن نے کہا ہے کہ ممکن ہے حقیقت میں کوئی بات چیت نہ ہو رہی ہو اور یہ صرف عالمی مارکیٹس کو سنبھالنے کا اشارہ دیا جا رہا ہو۔

    جوئل روبن نے منگل کو امریکی نشریاتی ادارے سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس بات پر حیرت نہیں ہوگی اگر امریکا ایرانی حکام سے رابطے میں ہو ،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کے ساتھ مذاکرات بحال ہونے کا دعویٰ ممکنہ طور پر تیل کی بڑھتی قیمتوں کے باعث عالمی مارکیٹس کو پرسکون کرنے کی کوشش کا حصہ ہو سکتا ہے تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ ممکن ہے حقیقت میں کوئی بات چیت نہ ہو رہی ہو اور یہ صرف عالمی مارکیٹس کو سنبھالنے کا اشارہ دیا جا رہا ہو، صدر ٹرمپ اس بات سے آگاہ ہیں کہ پیٹرول کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل میں دباؤ بڑھ رہا ہے، اس لیے وہ اس صورتحال کو قابو میں لانے کے لیے فوری اقدامات کرنا چاہتے ہیں۔

  • ایران جوہری ہتھیار نہ بنانے کی ضمانت دینے پر آمادہ،امریکی میڈیا

    ایران جوہری ہتھیار نہ بنانے کی ضمانت دینے پر آمادہ،امریکی میڈیا

    امریکی میڈیا نے دعوی کیا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار نہ بنانے کی ضمانت دینے پر آمادہ ہو گیا ہے-

    امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ایران نے عندیہ دیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار نہ بنانے کے لیے تمام ضروری ضمانتیں دینے پر تیار ہے، تاہم وہ جوہری ٹیکنالوجی کے پرامن استعمال کے اپنے حق کو برقرار رکھنا چاہتا ہے۔

    رپورٹس میں ایرانی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ حالیہ دنوں میں امریکا اور ایران کے درمیان رابطے ہوئے ہیں، تاہم یہ رابطے ابھی باضابطہ مذاکرا ت کی سطح تک نہیں پہنچے، ذرائع کے مطابق ایران جنگ کے خاتمے کے لیے سنجیدہ اور پائیدار تجاویز سننے پر آمادہ ہے۔

    ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ زیر غور تجاویز صرف جنگ بندی تک محدود نہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان تنازع کے مکمل خاتمے کے لیے ایک جامع معاہدے پر بھی غور کیا جا رہا ہے اس سلسلے میں مختلف ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ بھی جاری ہے،ایرانی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی معاہدے میں ایران پر عائد پابندیوں کے خاتمے کو بنیادی شرط کے طور پر شامل ہونا چاہیے-

    رپورٹ کے مطابق ایران نے امریکا سے براہ راست ملاقات یا بات چیت کی کوئی باضابطہ درخواست نہیں کی، تاہم وہ ایسے ممکنہ معاہدے پر غور کر سکتا ہے جس میں اس کے قومی مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔

  • ٹرمپ ایران سے مذاکرات عالمی مارکیٹس کو پرسکون کرنے کی کوشش کا حصہ ہو سکتا ہے: سابق امریکی عہدیدار

    ٹرمپ ایران سے مذاکرات عالمی مارکیٹس کو پرسکون کرنے کی کوشش کا حصہ ہو سکتا ہے: سابق امریکی عہدیدار

    امریکا کے سابق نائب معاون وزیر خارجہ جوئل روبن نے کہا ہے کہ ممکن ہے حقیقت میں کوئی بات چیت نہ ہو رہی ہو اور یہ صرف عالمی مارکیٹس کو سنبھالنے کا اشارہ دیا جا رہا ہو۔

    جوئل روبن نے منگل کو امریکی نشریاتی ادارے سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس بات پر حیرت نہیں ہوگی اگر امریکا ایرانی حکام سے رابطے میں ہو ،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کے ساتھ مذاکرات بحال ہونے کا دعویٰ ممکنہ طور پر تیل کی بڑھتی قیمتوں کے باعث عالمی مارکیٹس کو پرسکون کرنے کی کوشش کا حصہ ہو سکتا ہے تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ ممکن ہے حقیقت میں کوئی بات چیت نہ ہو رہی ہو اور یہ صرف عالمی مارکیٹس کو سنبھالنے کا اشارہ دیا جا رہا ہو، صدر ٹرمپ اس بات سے آگاہ ہیں کہ پیٹرول کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل میں دباؤ بڑھ رہا ہے، اس لیے وہ اس صورتحال کو قابو میں لانے کے لیے فوری اقدامات کرنا چاہتے ہیں۔

    سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے سابق امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) کی مشیر جیسمین ایل جمال نے کہا ہے کہ ایران کو اس وقت امریکا پر زیادہ برتری حاصل ہو چکی ہے کیونکہ وہ پورے خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے اور آبنائے ہرمز کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت رکھتا ہےایران نے امریکا اور اسرائیل کے خلاف اپنی پوزیشن برقرار رکھی ہے اور آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے باعث وہ کسی بھی نئے مذاکرات میں زیادہ مضبوط حیثیت کے ساتھ داخل ہو رہا ہے، ایرا ن ممکنہ طور پر مذاکرات میں سیکیورٹی ضمانتوں جیسے مطالبات سامنے رکھ سکتا ہے اور یہ بھی یقینی بنانا چاہتا ہے کہ اس کا نظام ایران کی سرزمین سے جڑا رہے، ایران کے پاس یہ صلاحیت بھی موجود ہے کہ اگر اسے اشتعال دلایا جائے تو وہ پورے خطے میں افراتفری پھیلا سکتا ہے۔

    واضح رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سے قبل ایران کے توانائی انفراسٹرکچر پر حملے کی دھمکی دی تھی جس کے فوراً بعد تہران کے ساتھ نئی بات چیت کے آغاز کا دعویٰ کیا تھا، ساتھ ہی انہوں نے حملوں کو مؤخر کرنے کا اعلان بھی کر دیا تھا۔