Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • مسلم لیگ کا منشور یہی ہے کہ جو ترقی پنجاب میں ہورہی ہے وہ آزاد کشمیر میں ہو، مریم نواز

    مسلم لیگ کا منشور یہی ہے کہ جو ترقی پنجاب میں ہورہی ہے وہ آزاد کشمیر میں ہو، مریم نواز

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا مسلم لیگ کا منشور یہی ہے کہ جو ترقی پنجاب میں ہورہی ہے وہ آزاد کشمیر میں ہو، آزاد کشمیر جھوٹے وعدے کرنے والوں کا نہیں وعدے نبھانے والوں کا ہے-

    مظفرآباد میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا ن لیگ کی حکومت آئی تو آزادکشمیر کے ہر گاؤں میں سڑکیں بنائیں گے، مسلم لیگ (ن) کی سیاست ترقی، تعلیم اور عوامی خدمت کی سیاست ہے، ہم کشمیری نوجوانوں کے ہاتھوں میں ڈنڈے نہیں بلکہ لیپ ٹاپ دیکھنا چاہتے ہیں، اگر عوام نے مسلم لیگ (ن) پر اعتماد کیا تو آزاد کشمیر کی قسمت بدل جائے گی اور ریاست میں بھی پنجاب طرز کے ترقیاتی اور فلاحی منصوبے شروع کیے جا ئیں گے۔

    مریم نواز نے کہا کہ کشمیر اور پاکستان کا رشتہ لازوال ہے، جسے دنیا کی کوئی طاقت ختم نہیں کر سکتی،انہوں نے کسی جماعت کا نام لیے بغیر سیاسی مخالفین کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگ آزاد کشمیر آ کر صرف تقریریں کرتے ہیں، دوسروں پر الزامات عائد کرتے ہیں اور واپس چلے جاتے ہیں، لیکن وہ یہ بھی بتائیں کہ ریاست میں حکومت کس کی ہے اور عوام کے مسائل حل کرنے کے لیے انہوں نے کیا اقدامات کیے۔

    مریم نواز نے اپناگھر اپنی چھت اسکیم کے تحت آزاد کشمیر میں 5 لاکھ تک گھر بنانے کا اعلان کرتے ہوئےکہا کہ آزاد کشمیر میں دھی رانی پروگرام شروع کریں گے، نوجوانوں کو کاروبار کے لیے بلا سود قرض دیں گے، نوجوانوں کو لیپ ٹاپ اور الیکٹرک بائیک بھی فراہم کریں گے، آزاد کشمیر کے 2 ہزار طلباء کو ہونہار اسکالرشپ دیں گے، آزاد کشمیر کے 400 بچوں کا لاہور میں مفت علاج کیا گیا، پنجاب کے فلاحی منصوبے آزاد کشمیر میں بھی شروع کریں گے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب نے مظفرآباد کے لیے 10 گرین بسوں کا تحفہ دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ بسیں جلد آزاد کشمیر پہنچ جائیں گی تاکہ شہریوں کو جدید سفری سہولیات میسر آ سکیں،15 موبائل اسپتال بھی جلد اپنی خدمات کا آغاز کریں گے، جس سے دور دراز علاقوں کے عوام کو علاج معالجے کی بہتر سہولت حاصل ہوگی۔

    مریم نواز نے کہا کہ مسلم لیگ کا منشور یہی ہے کہ جو ترقی پنجاب میں ہورہی ہے وہ آزاد کشمیر میں ہو، آزاد کشمیر جھوٹے وعدے کرنے والوں کا نہیں وعدے نبھانے والوں کا ہے، صرف وعدے نہیں پنجاب کی کارکردگی لے کر آپ کے پاس آئی ہوں، جتنا مضبوط پاکستان ہوگا اتنا ہی مضبوط آزاد کشمیر بھی ہوگامیں مظفرآباد مہمان بن کر نہیں آئی یہ آزاد جموں کشمیر میرا ہے، میں خون سے بھی کشمیری ہوں دل اور دماغ سے بھی کشمیری ہوں، میں روح سے اور نسلوں سے بھی کشمیری ہوں۔

    انہوں نے کہاکہ 2021 کے انتخابی مہم میں جتنی محبتیں اور دعائیں ملی تھیں وہ بھول نہیں سکتی، اس الیکشن میں آزاد کشمیر میں ہماری 17 نشستیں اور اس وقت کے وزیراعظم کی 3 نشستیں تھی، اس وقت کے وزیراعظم نے کہا کہ آزاد کشمیر کے نتائج الٹ دو، اس لیے آج یہاں مسائل ہیں، انہوں نے مجھے نوازشریف کے سامنے گرفتار کیا تاکہ میں کشمیر نہ جاسکوں، آج وہی نواز شریف اور مریم نواز یہاں آزاد کشمیر میں کھڑے ہیں۔

    مریم نواز نے کہا کہ وہ یہاں ووٹ مانگنے نہیں آئے لیکن اگر آپ نے ن لیگ کو منتخب کیا تو یہ وعدہ ہے کہ آزاد کشمیر کی قسمت بدل جائیگی، انہوں نے کہا جہاں ن لیگ کی حکومت ہے وہاں کے حالات اور دیگر جگہوں کی حالات دیکھ لیں، حالات میں یہ فرق کیوں ہے، یہ فرق نواز شریف اور ن لیگ ہے، پنجا ب کے چپے چپے پر ترقی ہے، جب تک آزادکشمیر کے ہر بچے کو مفت تعلیم نہیں ملے گی، ہم آرام سے نہیں بیٹھیں گے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب نے دعویٰ کیا کہ کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کی محنت کی وجہ سے پنجاب میں جرائم نہ ہونے کے برابر ہیں، پنجاب میں صوبائی وزیر تعلیم کا بیٹا سرکاری اسکول میں پڑھتا ہے،کل ایک ویڈیو دیکھی جس میں بابا جی جلسہ گاہ میں بیٹھے ہوئے تھے، لوگوں نے پوچھا تو بابا جی نے کہا کہ نوازشریف کا جلسہ ہے، بابا جی کو بتایا گیا کہ جلسہ تو کل ہے باباجی نے کہا میں شوق میں آج آگیا، بابا جی نے کہا کہ جلسے میں ہماری بیٹی مریم نواز آرہی ہیں۔

    انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ آئندہ انتخابات میں مسلم لیگ (ن) پر اعتماد کریں تاکہ آزاد کشمیر میں ترقی، خوشحالی، تعلیم، صحت اور بنیادی سہولیات کے ایک نئے دور کا آغاز کیا جا سکےمیں وزیراعظم پاکستان سے کہوں گی کہ آزاد کشمیر کے نوجوانوں کو کاروبار کے لیے بلاسود قرضہ دیا جائے، جبکہ اسپیشل افراد کو ہمت کارڈ دیے جائیں گے۔

  • حوثیوں کی سعودی جہازوں اور شپنگ کمپنیوں کو براہِ راست وارننگ

    حوثیوں کی سعودی جہازوں اور شپنگ کمپنیوں کو براہِ راست وارننگ

    یمن کے ایران نواز حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف اعلان کردہ بحری ناکا بندی پر عملی اقدامات شروع کرتے ہوئے سعودی جہازوں اور بین الاقوامی شپنگ کمپنیوں کو براہِ راست وارننگ جاری کر دی ہے۔

    امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کے مطابق حوثیوں نے بحیرۂ احمر میں جہاز رانی کے لیے ایف ایم ریڈیو پر انگریزی زبان میں ایک مختصر پیغام نشر کیا، جس میں سعودی عرب سے وابستہ تمام جہازوں کو ریڈ سی کے بجائے خلیجِ عدن کے راستے سفر کرنے کی ہدایت کی گئی پیغام میں کہا گیا کہ اگر سعودی جہازوں نے حوثیوں کی ہدایات پر عمل نہ کیا تو وہ ان کے حملوں کا ہدف بن سکتے ہیں۔

    یونان کی میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی مارسکس کے مطابق یہ اعلان خطے میں سمندری سلامتی کی صورتِ حال میں ایک اہم اور خطرناک پیشرفت ہے، کیونکہ اب کشیدگی فضائی اور سیاسی محاذ سے بڑھ کر بحری راستوں تک پہنچ چکی ہے، اگر حوثیوں نے اس ناکا بندی پر عملی کارروائی شروع کی تو ابتدائی طور پر سعودی ملکیت یا سعودی مفادات سے وابستہ تجارتی جہاز نشانہ بن سکتے ہیں۔

    واضح رہے کہ حوثیوں نے پیر کے روز سعودی عرب کے خلاف بحری ناکا بندی کا اعلان کیا تھا، بیان میں کہا گیا تھا کہ 20 جولائی سے سعودی بندرگاہوں پر کارگو کی نقل و حرکت حوثیوں کی جانب سے ممنوع تصور کی جائے گی، جب کہ خلاف ورزی کرنے والے جہاز پابندیوں اور ممکنہ فوجی کارروائی کی زد میں آ سکتے ہیں۔

    حوثیوں کی جانب سے شپنگ کمپنیوں کو ای میل کے ذریعے بھی خبردار کیا گیا کہ وہ سعودی عرب کی کسی بھی بندرگاہ پر سامان کی لوڈنگ یا ان لوڈنگ سے گریز کریں،ایسی سرگرمی میں ملوث جہازوں کو کسی بھی مقام پر نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

    سعودی جہازوں کے خلاف بحری ناکا بندی کے اعلان کے بعد سعودی عرب کی جانب سے اس کی سخت مذمت کی گئی بحیرۂ احمر اس وقت سعودی عرب کے لیے تیل کی برآمدات کا اہم متبادل راستہ بن چکا ہے، کیونکہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں جہاز رانی شدید متاثر ہوئی ہے۔

    بحری تجزیاتی ادارے ’کپلر‘ کے اعداد و شمار کے مطابق 15 سے 19 جولائی کے دوران باب المندب کی گزرگاہ سے 209 تجارتی جہاز گزرے، جب کہ حوثی ماضی میں بھی اس علاقے میں متعدد جہازوں پر حملے کر چکے ہیں،باب المندب دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سمندر ی تجارت کا تقریباً 15 فی صد حصہ گزرتا ہے،ماہرین کے مطابق 2023 سے 2025 کے دوران اس علاقے میں بحری آمدورفت متاثر ہونے سے عالمی شپنگ صنعت کو سالانہ تقریباً 20 ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا۔

  • وزیراعظم آفس میں اے آئی پر مبنی جدید ٹریکنگ اور فیصلہ سازی نظام کا افتتاح

    وزیراعظم آفس میں اے آئی پر مبنی جدید ٹریکنگ اور فیصلہ سازی نظام کا افتتاح

    وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے وزیراعظم آفس میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی جدید ٹریکنگ اور فیصلہ سازی نظام کا افتتاح کر دی-

    وزیراعظم آفس میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے مصنوعی ذہانت پر مبنی جدید ٹریکنگ اور فیصلہ سازی نظام پر مکمل عملدرآمد کی ہدایت کرتے ہوئے کہاکہ آج کے بعد کوئی روایتی فائل سسٹم نہیں ہوگا اور عوامی فلاح و بہبود اور خدمت کو یقینی بنانے کے لیے اس نظام کا مکمل نفاذ یقینی بنایا جائے-

    انہوں نے اس نظام کی تیاری اور فعالیت پر وفاقی وزرا احد خان چیمہ، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام کی کاوشوں کو سراہا اور ہدایت کی کہ تمام وزارتیں اس نظام کو اختیار کرتے ہوئے اپنے امور اسی کے تحت انجام دیں،وزیراعظم نے کہاکہ اب روایتی انداز میں فائلیں لے کر گھومنے کی ضرورت نہیں، تمام امور اس جدید نظام کے ذریعے نمٹائے جائیں۔

    اس موقع پر وفاقی وزیر احد چیمہ نے کہاکہ جدید طرز حکمرانی کے لیے مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا پر مبنی نظام فعال کر دیا گیا ہے، جو حکومتی فیصلوں میں شفافیت اور بروقت اقدامات کے حوالے سے انتہائی اہم ثابت ہوگا وزیراعظم کی ہدایت کی روشنی میں فیصلہ سازی میں جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لایا جا رہا ہے، جبکہ مؤثر پالیسی سازی اور ڈیٹا پر مبنی نتائج کے حصول کے لیے یہ نظام انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

    احد چیمہ نے کہاکہ پرانے نظام میں تمام تقاضے پورے نہیں ہوتے تھے اور اس کے نتائج سے مکمل استفادہ ممکن نہیں تھا، اس لیے ان خامیوں کو دور کرتے ہوئے یہ جدید نظام متعارف کرایا گیا ہے، جس میں ایسے کئی نئے عوامل شامل کیے گئے ہیں جو پہلے نظام کا حصہ نہیں تھے۔

    شزا فاطمہ خواجہ نے وزیراعظم آفس سسٹم سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بطور وزیراعلیٰ ڈیجیٹائزیشن کا آغاز کیا تھا اور اب پاکستان ڈیجیٹل سے مصنوعی ذہانت کی جانب گامزن ہےحکومت تمام شعبوں میں جدید ٹیکنالوجی متعارف کرا رہی ہے جبکہ سماجی تحفظ کے سب سے بڑے پروگرام کو بھی ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے حکومت پیپر لیس طرز حکمرانی کی طرف بڑھ رہی ہے اور وزیراعظم آفس سسٹم سے کارکردگی اور خود احتسابی کے عمل میں مزید بہتری آئے گی۔

    وزیراعظم کو دی گئی بریفنگ کے مطابق ’وزیراعظم آفس سسٹم‘ پاکستان کا پہلا مصنوعی ذہانت سے چلنے والا نظام ہے یہ وزیراعظم آفس کا سرکاری ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے، جس کا مقصد وزیراعظم کے احکامات کے اجرا سے لے کر ان پر عملدرآمد، تکمیل اور بعد از تکمیل نگرانی تک تمام مراحل کو خودکار بنانا ہے۔

    بریفنگ میں بتایا گیا کہ یہ نظام گورننس اور شفافیت کے فروغ کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا اور حکومت کی معاشی ترجیحات اور عوامی خدمات کی فراہمی کو مزید مؤثر بنانے میں معاون ہوگااس نظام کے ذریعے وزیراعظم کے احکامات کی مقررہ مدت (ڈیڈ لائن) کی نشاندہی اور نگرانی ممکن ہوگی، جبکہ وزارتوں کی جوابدہی، کارکردگی اور حکومتی فیصلوں پر بروقت عملدرآمد کو بھی مزید مؤثر بنایا جا سکے گا۔

  • ٹرمپ کی درجنوں ممالک پر نئے درآمدی ٹیرف عائد کرنے کی تیاری

    ٹرمپ کی درجنوں ممالک پر نئے درآمدی ٹیرف عائد کرنے کی تیاری

    واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ رواں ہفتے درجنوں ممالک پر نئے درآمدی ٹیرف عائد کرنے کی تیاری کررہے ہیں۔

    برطانوی اخبار کی رپورٹ کے مطابق جمعہ کو عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی مدت ختم ہونے کے بعد نئی ڈیوٹیاں نافذ کی جا سکتی ہیں جبکہ ابتدائی طور پر بیشتر ممالک پر 10 فیصد ٹیرف برقرار رہنے کا امکان ہے جبکہ ٹرمپ انتظامیہ زیادہ شرح کے ٹیرف عائد کرنے کے لیے قانونی بنیاد بھی تیار کر رہی ہے،گزشتہ روز ٹرمپ انتظامیہ نے کینیڈا کی گاڑیوں اور دیگر سامان پر 50 فیصد ٹیکس عائد کیا ہے جو آئندہ ماہ سے نافذ ہوگا۔

    واضح رہے 20فروری 2026 کو امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ کے مستقل ٹیکس لگانے کے قانون کو غیر آئینی قرار دے کر روک دیا تھا،عدالت نے اپنے فیصلے میں خاص طور پر ان ٹیرفس کو ختم کیا جو ‘انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ’ (IEEPA) کے تحت مختلف ممالک پر لگائے گئے تھےکیونکہ عدا لت کے مطابق کانگریس نے صدر کو اس قانون کے تحت ڈیوٹیز لگانے کا اختیار نہیں دیا تھا۔

    سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ نے ایک اور قانون (Section 122) استعمال کر کے 15 فیصد عالمی ٹیکس لگایا تھا،اس قانون کے تحت ٹیکس صرف 150 دنوں کے لیے عارضی طور پرلگایا جا سکتا ہے جو اسی ہفتے 24 جولائی 2026 کو ختم ہو رہا ہے۔

  • قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی نے عدالتی اصلاحات کے فریم ورک کی منظوری دیدی

    قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی نے عدالتی اصلاحات کے فریم ورک کی منظوری دیدی

    قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی نے اپنے 61ویں اجلاس میں نیشنل جوڈیشل ریفارم فریم ورک کی اصولی منظوری دے دی ہے-

    سپریم کورٹ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق نیشنل جوڈیشل ریفارم فریم ورک کو ورلڈ جسٹس پراجیکٹ رول آف لا انڈیکس سے ہم آہنگ کیا گیا ہے، جس کا مقصد پاکستان میں شواہد پر مبنی عدالتی اصلاحات کو فروغ دینا، انصاف تک رسائی، شفافیت اور عدالتی نظام کی پیش گوئی کی صلاحیت کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

    چیف جسٹس آف پاکستان کی زیرِ صدارت قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کا اجلاس سپریم کورٹ میں منعقد ہوا، جس میں ملک بھر کی ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان، وفاقی وزیر قانون و انصاف، سیکریٹری وزارتِ قانون و انصاف، پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے شرکت کی۔

    کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ ہائیکورٹس نیشنل جوڈیشل ریفارم فریم ورک اور انٹرنیشنل فریم ورک فار کورٹ ایکسیلنس کی سیلف اسیسمنٹ چیک لسٹ اختیار کر سکیں گی، جبکہ اصلاحاتی اقدامات کی پیش رفت کا سہ ماہی جائزہ لینے اور مؤثر رپورٹنگ کا نظام بھی قائم کیا جائے گا۔

    اعلامیے کے مطابق لا اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان اور وزارتِ قانون و انصاف فریم ورک پر عمل درآمد کے لیے خصوصی سیل قائم کریں گے، لا اینڈ جسٹس کمیشن سیکریٹریٹ رول آف لا سے متعلق اشاریوں کی نشاندہی اور توثیق کرے گا، جنہیں مرحلہ وار نیشنل جوڈیشل اینالیٹکس ڈیش بورڈ میں شامل کیا جائے گا۔

    اس مقصد کے لیے نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے تعاون سے ایک خصوصی ٹیکنالوجی پلیٹ فارم بھی تیار کیا جائے گا، جس کے ذریعے اصلاحات کی پیشرفت کی نگرانی اور باقاعدہ رپورٹس مرتب کی جائیں گی،سیکریٹریٹ عدالتی شعبے میں استعدادِ کار بڑھانے کے اقدامات کو بھی مربوط کرے گا۔

    کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ فریم ورک پر عمل درآمد سے متعلق پیش رفت کا جائزہ 8 اکتوبر 2026 کو ہونے والے آئندہ اجلاس میں لیا جائے گا، جبکہ پاکستان کی ورلڈ جسٹس پروجیکٹ رول آف لا انڈیکس میں سالانہ کارکردگی کا بھی باقاعدہ جائزہ لیا جائے گا، جس میں ادارہ جاتی مضبوطیوں، خامیوں اور مزید اصلاحات کے لیے سفارشات شامل ہوں گی۔

    قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عدالتی اصلاحات کو شواہد، قابلِ پیمائش نتائج اور بین الاقوامی معیارات کی بنیاد پر آگے بڑھایا جائے گا، جس سے ادارہ جاتی کارکردگی اور عوامی اعتماد میں مزید اضافہ ہوگا جدت، شواہد پر مبنی طرزِ حکمرانی اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے نظامِ انصاف کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔

    اجلاس میں جبری گمشدگیوں سے متعلق مجوزہ کمیشن پر پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا، کمیٹی نے اس ضمن میں حکومت کے اقدامات کو سراہاوفاقی وزیر قانون و انصاف نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کمیشن کی سربراہی کے لیے سپریم کورٹ کے سابق ججز کے نام زیرِ غور ہیں اور کمیشن کی تشکیل اور قواعدِ کار جلد مکمل کر لیے جائیں گے۔

  • توہین مذہب کیس: اینکر پرسن ریحان طارق کی ضمانت منظور

    توہین مذہب کیس: اینکر پرسن ریحان طارق کی ضمانت منظور

    لاہور کی سیشن عدالت نے توہین مذہب کے مقدمے میں اینکر پرسن ریحان طارق کی بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواست منظور کرتے ہوئے انہیں ایک لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

    منگل کو لاہور میں ایڈیشنل سیشن جج نصرت علی صدیقی نے اینکرپرسن ریحان طارق کی بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواست پر سماعت کی،سماعت کے دوران ریحان طارق کی جانب سے ایڈووکیٹ میاں داؤد پیش ہوئے اور اپنے دلائل عدالت کے سامنے رکھے۔

    وکیل میاں داؤد نے مؤقف اختیار کیا کہ ایف آئی آر کے متن سے کسی بھی وقوعے کا ثابت ہونا ظاہر نہیں ہوتا، پاکستان کے کسی بھی قانون میں تاریخی مذ ہبی سوالات پر مبنی کسی شخص کا انٹرویو کرنا قابلِ دست اندازی جرم قرار نہیں دیا گیا اس مقدمے میں صحافی کی کوئی الیکٹرانک ڈیوائس استعمال نہیں ہوئی جب کہ تفتیش کے دوران بھی ریحان طارق کے خلاف زیرِ تنازع ویڈیو یا انٹرویو اپ لوڈ کرنے کا ایک بھی ثبوت سامنے نہیں آیا، ایف آئی آر میں عائد کی گئی تمام دفعات ضابطہ فوجداری کے تحت غیرممنوعہ نوعیت کی ہیں، جن میں ملزم کو ضمانت دینا اس کا آئینی حق ہے۔

    دلائل مکمل ہونے کے بعد ایڈیشنل سیشن جج نصرت علی صدیقی نے درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے اینکرپرسن ریحان طارق کی بعد از گرفتاری ضمانت ایک لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض منظور کر لی۔

    واضح رہے کہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے ریحان طارق کے خلاف توہین مذہب کے الزام میں مقدمہ درج کر رکھا ہے۔

  • طلبہ پر پولیس تشدد:کانگریس کا بھارتی وزیراعظم کے گھر کےسامنےمظاہرہ ،مودی سے استعفے کا مطالبہ

    طلبہ پر پولیس تشدد:کانگریس کا بھارتی وزیراعظم کے گھر کےسامنےمظاہرہ ،مودی سے استعفے کا مطالبہ

    طلبہ پر پولیس تشدد کیخلاف بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس نے بھارتی وزیراعظم کے گھر کےسامنےمظاہرہ کیا۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق صدرکانگریس ملکارجن کھڑگے بھی مظاہرہ میں شریک ہیں، کانگریس رہنما بھارتی وزیراعظم مودی، وزیرتعلیم دھرمیندرا پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں کانگریس رہنما اور بھارت کے اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے کاکروچ جنتا پارٹی کے نہتے کارکنوں اور طالبعلموں پر پولیس کے بہیمانہ تشدد کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہندو انتہا پسند جماعت آر ایس ایس نے بھارت کے تعلیمی نظام پر قبضہ کر رکھا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ نئی دہلی میں جو بچے اور بچیاں ہزاروں کی تعداد میں جمع ہوئے وہ اپنے بہتر مستقبل اور تعلیم کے حوالے سے جائز مطالبات کر رہے تھے کیونکہ بھارت کا تعلیمی نظام بالکل بوسیدہ ہو چکا ہے اور آر ایس ایس نے بھارت کے تعلیمی نظام پر قبضہ جما لیا ہے پولیس کی جانب سے اپنے جائز مطالبا ت کے لیے جمع طالبعلموں پر شیلنگ کرنا اور لاٹھی چارج کرنا انتہائی شرمناک ہے اور یہ ایک غیر جمہوری عمل ہے۔

    دوسری جانب دہلی ہائیکورٹ نے گزشتہ روز احتجاجی مارچ کے دوران طلبہ پرپولیس تشدد کے خلاف دائر درخواست پرفوری سماعت سے انکار کردیا عدالت نے درخواست پرباقاعدہ سماعت بدھ کو مقرر کردی، عدالت نے ریمارکس دیے کہ عدالت کو اس معاملے میں نہ گھسیٹا جائے۔

    واضح‌ رہے کہ گزشتہ روز بھارتی پولیس اور سول کپڑوں میں موجود افراد نے نئی دہلی میں اپنے حقوق کے لیے جنتر منتر پر جمع ہزاروں کی تعداد میں نوجوان لڑ کے اور لڑکیوں پر بدترین تشدد کیا جس کی ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں جبکہ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے اس عمل کی شدید الفاظ میں مذمت کی جا رہی ہے۔

    یہ تحریک مئی 2026 میں سوشل میڈیا پر شروع ہوئی تھی اور دیکھتے ہی دیکھتے لاکھوں افراد کی حمایت حاصل کر چکی ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کو درپیش بڑے عوامی چیلنجز میں سے ایک بن گئی ہے احتجاج کی بنیادی وجہ حالیہ امتحانی اسکینڈلز ہیں، جنہوں نے بھار ت کے تعلیمی نظام پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ گزشتہ ماہ تقریباً 22 لاکھ میڈیکل امیدواروں کو امتحانی پرچہ لیک ہونے کے بعد دوبارہ امتحان د ینا پڑا، جبکہ تقریباً 20 لاکھ ہائی اسکول طلبہ کے آن لائن مارکنگ سسٹم پر بھی تنازع سامنے آیا۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں روزگار کے محدود مواقع اور بار بار سامنے آنے والے امتحانی تنازعات نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی بے چینی کی اہم وجوہات بن رہے ہیں۔

  • اسحاق ڈار  سے  چین میں پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی کی ملاقات

    اسحاق ڈار سے چین میں پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی کی ملاقات

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار سے چین میں پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی نے ملاقات کی-

    چین میں پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار سے ملاقات میں پاک چین تعلقات، حالیہ سفارتی پیش رفت اور دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا، وزیر خارجہ نے پاکستانی سفیر کو تجارت، سرمایہ کاری، مصنوعی ذہانت اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالو جیز سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی زور دیا۔

    دفتر خارجہ کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے سفیر خلیل ہاشمی کو ہدایت کی کہ وہ شنگھائی میں چینی وزیر خارجہ وانگ یی کے ساتھ ان کی حالیہ ملاقات کے دوران طے پانے والی مفاہمت پر فعال انداز میں عمل درآمد کو آگے بڑھائیں۔

    اسحاق ڈار نے اس موقع پر پاکستان اور چین کے درمیان آل ویدر اسٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرشپ کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، مصنوعی ذہانت، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور دیگر باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دی جائے۔

    نائب وزیراعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان، چین کے ساتھ اپنی دیرینہ اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مستحکم بنانے اور باہمی مفاد کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے پرعزم ہے-

  • وزیراعظم شہباز شریف سے ایرانی وزیر داخلہ کی ملاقات

    وزیراعظم شہباز شریف سے ایرانی وزیر داخلہ کی ملاقات

    وزیرِاعظم محمد شہباز شریف سے ایران کے وزیرِ داخلہ اسکندر مؤمنی کی وزیرِاعظم ہاؤس میں ملاقات کی، جس میں خطے کی موجودہ صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ،ایرانی وزیرِ داخلہ اسکندر مومنی اپنے وفد کے ہمراہ وزیرِاعظم ہاؤس پہنچے، جہاں وزیرِاعظم شہباز شریف نے ان کا استقبال کیا ملاقات میں دونوں مما لک کے اعلیٰ حکام بھی شریک تھے،وزیراعظم ہاؤس میں وزیراعظم شہباز شریف سے ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی سے ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور اور خطے کی مجموعی صورت حال پر غور کیا گیا۔

    ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم کو ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا خصوصی پیغام بھی پہنچایا اور حالیہ کشیدگی کی وجوہات سے بھی آگاہ کیا جب کہ اسکندر مومنی نے ایران امریکا مذاکرات میں پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کی تعریف کی۔

    وزیراعظم نے ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کر تے ہوئے فریقین پر مذاکرات کی طرف واپس آنے پر بھی زور دیا شہباز شریف نے ایران کے ساتھ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ بھی کیا جب کہ اس اہم ملاقات میں پاکستان اور ایران کا قریبی روابط جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔

    قبل ازیں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی کے اعزاز میں پولیس لائنز اسلام آباد میں شاندار پریڈ کا انعقاد کیا گیا، جہاں ان کا وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کے ہمراہ پرتپاک استقبال کیا گیا۔

    تقریب کے دوران اسلام آباد پولیس کے خصوصی دستے نے ایرانی وزیر داخلہ کو گارڈ آف آنر پیش کیا، جبکہ پاکستان اور ایران کے قومی ترانے بھی بجائے گئے اسکندر مومنی نے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کے ہمراہ پولیس پریڈ کا معائنہ کیا اور اسلام آباد پولیس کے چاق و چوبند دستوں کی سلامی قبول کی۔

    اس موقع پر ایرانی وزیر داخلہ نے اسلام آباد پولیس کے جوانوں کی پیشہ ورانہ مہارت، نظم و ضبط اور کارکردگی کو سراہتے ہوئے شاندار خدمات انجام دینے وا لے پولیس اہلکاروں میں انعامات بھی تقسیم کیے تقریب پاک ایران دوستانہ تعلقات اور دونوں ممالک کے درمیان سکیورٹی تعاون کے فروغ کی علامت قرار دی گئی تقریب میں انسپکٹر جنرل اسلام آباد پولیس علی ناصر رضوی سمیت پولیس کے اعلیٰ افسران بھی موجود تھے۔

  • خلع کی ڈگری دائر کرنے سے بیوی کا حق مہر خود کار طور پر ختم نہیں ہوتا،لاہور ہائیکورٹ

    خلع کی ڈگری دائر کرنے سے بیوی کا حق مہر خود کار طور پر ختم نہیں ہوتا،لاہور ہائیکورٹ

    لاہور ہائیکورٹ نے فیملی کورٹ کے خلاف شوہر کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ خلع کی ڈگری دائر کرنے سے بیوی کا حق مہر خود کار طور پر ختم نہیں ہوتا، شوہر کی طرف سے ظلم ثابت ہونے پر بیوی حق مہر کی حقدار ہو گی-

    لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے خلع سے متعلق کیس میں شوہر کی درخواست مسترد کرتے ہوئے فیملی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا عدالت نے کہا کہ خلع کی ڈگری دائر کرنے سے بیوی کا حق مہر خود کار طور پر ختم نہیں ہوتا، شوہر کی طرف سے ظلم ثابت ہونے پر بیوی حق مہر کی حقدار ہو گی،جسمانی، ذہنی، جذباتی، زبانی اور معاشی تشدد بھی ظلم کے زمرے میں آتا ہے۔

    عدالت نے کہا کہ درخواست گزار نے 18 مارچ 2022 میں ایک لاکھ روپے حق مہرمقرر کر کے نکاح کیا تھا، خاتون نے خلع، عدت کے نان نفقہ اور حق مہر کی وصولی کے لیے فیملی کورٹ میں دعویٰ دائر کیا، خاتون کا مؤقف تھا کہ حق مہر کا مطالبہ کرنے پر شوہر نے تشدد شروع کر دیا میڈیکل رپورٹ یا ایف آئی آر نہ ہونے سے ظلم کا دعویٰ مسترد نہیں کیا جا سکتا۔

    عدالتی حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ فیملی کورٹ نے نکاح ختم کرتے ہوئے بیوی کو 50 فیصد حق مہر دینے کا حکم دیا، ٹرائل کورٹ نے بھی درخواست گزار کی اپیل ناقابل سماعت قرار دے دی تھی، درخواست گزار نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے خلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا، بیوی کی قابل اعتماد گواہی ظلم ثابت کرنے کے لیے کافی ہو سکتی ہے۔

    عدالت کا کہنا تھا کہ میڈیکل رپورٹ یا ایف آئی آر نہ ہونے سے ظلم کا دعویٰ مسترد نہیں کیا جا سکتا، خرچہ نہ دینا، والدین سے رقم مانگنا اور گھر سے نکال دینا بھی ظلم میں شامل ہو سکتا ہے، فیملی کورٹ ہر مقدمے کے حقائق دیکھ کر حق مہر کا الگ فیصلہ کرے گی، ظلم ثابت ہونے پر حق مہر نہ کم کیا جا سکتا ہے اور نہ تقسیم کیا جا سکتا ہے، بیوی کی واضح رضامندی کے بغیر عدالت خلع کی ڈگری نہیں دے سکتی، فیملی کورٹ حق مہر سے متعلق ہر فیصلے کی وجوہات ریکارڈ پر لا نے کی پابند ہو گی، عدالت نے متعدد ہدایت کیساتھ درخواست خارج کر دی۔