Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • موریطانیہ کے ساحل پر کشتی حادثہ، 143 پناہ گزین لاپتا

    موریطانیہ کے ساحل پر کشتی حادثہ، 143 پناہ گزین لاپتا

    موریطانیہ کے ساحل کے قریب یورپ جانے کی کوشش کرنے والی ایک کشتی کے حادثے میں کم از کم 143 پناہ گزین اور تارکین وطن ہلاک یا لاپتا ہو گئے ہیں۔

    اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین یعنی یواین ایچ سی آر نے ایک بیان میں بتایا کہ یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب 14 سے 18 جولائی کے دوران مور یطانیہ کے ساحل کے قریب 3 مختلف امدادی کارروائیوں میں دیگر خراب کشتیوں سے 387 افراد کو بحفاظت بچایا گیا تھا یہ کشتی گیمبیا کے علاقے بافولوٹو سے روانہ ہوئی تھی اور 25 روز تک سمندر میں بھٹکنے کے بعد 18 جولائی کو ریسکیو کی گئی۔

    ادارے کے مطابق کشتی جب موریطانیہ کی بندرگاہ نواذیبو پہنچی تو اس میں متعدد لاشیں اور 38 زندہ بچ جانے والے افراد موجود تھےیو این ایچ سی آر کے ترجمان میٹ سالٹ مارش نے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا کہ بچ جانے والوں میں 2 بچے بھی شامل ہیں، جنہوں نے اس سفر کے دوران اپنے تمام اہل خانہ کو کھو دیا،مذکورہ دونوں بچوں کو علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا ہے،14 جولائی کو موریطانیہ پہنچنے والی ایک اور کشتی میں بھی ایک شخص جان کی بازی ہار گیا۔

    ہلاک ہونے والے افراد کا تعلق افریقہ کے صحرائے اعظم کے جنوب میں واقع مختلف ممالک سے تھا، تاہم ان کی اموات کی وجوہات کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں موریطانیہ کے ساحلی محافظوں کےمطابق کشتی میں 160 افراد سوار تھے اور روانگی کے کچھ عرصے بعد اس کا ایندھن ختم ہو گیا، جس کے باعث 122 افراد لاپتا ہو گئے۔

    یو این ایچ سی آر نے کینری جزائر جانے والے سمندری راستے کو دنیا کے خطرناک ترین راستوں میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا کہ طویل فاصلے، گنجائش سے زیادہ مسافروں اور غیر محفوظ کشتیوں کی وجہ سے اس راستے پر اموات کی شرح بہت زیادہ ہے لوگوں کو خطرناک سمندری سفر سے روکنے کے لیے تعلیم، روزگار اور بہتر معاشی مواقع فراہم کرنا ناگزیر ہے۔

    واضح رہے کہ موریطانیہ بحرِ اوقیانوس کے اس راستے پر ایک اہم روانگی کا مقام ہے، جہاں سے ہر سال ہزاروں تارکین وطن اسپین کے زیرِ انتظام کینری جزائر پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں تاہم یورپی یونین کی مالی معاونت سے موریطانیہ میں تارکین وطن کے خلاف کارروائیوں کے بعد وہاں پہنچنے والوں کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے، ناقدین کے مطابق اس کے نتیجے میں تارکین وطن مزید طویل اور خطرناک سمندری راستے اختیار کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔

  • اقبال ندیم  کے صاحبزادے کے دو قاتل گرفتار

    اقبال ندیم کے صاحبزادے کے دو قاتل گرفتار

    ہربنس پورہ فائرنگ کیس، مرکزی ملزم سمیت 2 ملزمان گرفتار ہو گئے-

    ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے بتایا کہ عدالت پیشی پر جانے والوں پر فائرنگ میں ملوث عبید علی اور نیاز قانون کی گرفت میں آ گئے،ابتدائی تفتیش کے مطابق واقعہ سابقہ دشمنی کا شاخسانہ ہے، مقتول سعد کے والد اقبال ندیم کی مدعیت میں تھانہ ہربنس پورہ میں مقدمہ نمبر 2711/26 درج کر لیا گیا ہے-

    ڈی آئی جی آپریشنز کے مطابق ملزمان کے خلاف قتل اور دیگر متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج، قانونی کارروائی جاری ہے،گرفتار ملزمان کو مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن ونگ کے حوالے کر دیا گیا،دیگر ملوث ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے جاری، جلد قانون کی گرفت میں لایا جائے گا، لاہور پولیس تمام شواہد کی روشنی میں تحقیقات آگے بڑھا رہی ہے، واقعے کے ہر پہلو کا جائزہ لیا جا رہا ہے-

  • اگر حوثیوں نے بحیرہ احمر کی ناکہ بندی کی دھمکی پر عمل کیا تو امریکا اس کا جواب دےگا، ٹرمپ

    اگر حوثیوں نے بحیرہ احمر کی ناکہ بندی کی دھمکی پر عمل کیا تو امریکا اس کا جواب دےگا، ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثی گروپ کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حوثیوں نے سعودی عرب کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کی دھمکی پر عمل کیا تو امریکا فوری اور فیصلہ کن کارروائی کرے گا۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق وائٹ ہاؤس میں لبنانی ہم منصب جوزف عون سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس بریفنگ میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر حوثیوں نے بحیرہ احمر میں جہاز رانی یا سعودی بندرگاہوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تو امریکا اس صورتحال سے نمٹنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے اگر ایسا کچھ ہوا تو ہم اس کا بندوبست کریں گے ہم پہلے بھی حوثیوں کے خلاف کارروائی کر چکے ہیں اور اس کے بعد ہمیں ان سے کافی عرصے سے کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا۔

    صدر ٹرمپ نے حالیہ ایران جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حتیٰ کہ ایران کے ساتھ جاری تنازع کے دوران بھی حوثیوں نے ہمارے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی، فی الحال حوثیوں نے سمندری راستوں کو بند نہیں کیا اور امریکا کو اس حوالے سے کوئی بڑا مسئلہ درپیش نہیں،انھوں نے اپنی گفتگو میں 2025 میں حوثیوں کے خلاف ہونے والی امریکی فضائی کارروائی کا بھی ذکر کیا جو تقریباً دو ماہ تک جاری رہی تھی۔ اس مہم کے بعد جنگ بندی عمل میں آئی اور اس کے بعد حوثیوں کی سرگرمیوں میں نمایاں کمی آئی تھی۔

    واضح رہے کہ حوثی گروپ نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کرتے ہوئے عالمی شپنگ کمپنیوں کو خبردار کیا کہ سعودی بندرگاہوں پر سامان لوڈ یا ان لوڈ نہ کریں بصورت دیگر ان کے جہازوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے،اس دھمکی کے بعد سعودی خام تیل لے جانے والے بعض آئل ٹینکروں نے بحیرہ احمر میں اپنا راستہ تبدیل کر لیا جس سے عالمی توانائی کی سپلائی اور بین الاقوامی تجارت کے حوالے سے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔

  • افغانستان میں سیلاب سے تباہی، 23 افراد جاں بحق، 100 لاپتا

    افغانستان میں سیلاب سے تباہی، 23 افراد جاں بحق، 100 لاپتا

    افغانستان کے مشرقی صوبے نورستان میں شدید سیلاب نے تباہی مچا دی، جس کے نتیجے میں کم از کم 23 افراد جاں بحق جبکہ تقریباً 100 افراد لاپتا ہوگئے ہیں۔

    عالمی میڈیا کے مطابق ریسکیو اہلکاروں کو ملبے تلے دبے افراد تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ دور دراز علاقے پرون میں مقامی افراد لکڑی کے ڈنڈوں اور اپنے ہاتھوں سے لاپتا افراد کی تلاش میں مصروف ہیں،سیلابی ریلے نے صوبائی دارالحکومت پرون میں متعدد دکانیں تباہ کر دیں، جبکہ بڑے بڑ ے پتھر عمارتوں سے ٹکرا گئے، امدادی کارکن بیلچوں اور ہاتھوں کی مدد سے ملبہ ہٹا کر متاثرین کو تلاش کررہے ہیں۔

    مقامی افراد کے مطابق یہ سیلاب انتہائی خوفناک تھا ایک فارماسسٹ فرید گل ظہیر نے بتایا کہ انہوں نے اپنی زندگی میں ایسا خطرناک سیلاب نہیں دیکھا، ہر طرف چیخ و پکار تھی اور ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے زلزلہ آیا ہو،نورستان کے حکام کے مطابق پرون کے میئر اور کئی سرکاری اہلکار بھی لاپتا افراد میں شامل ہیں ، سیلاب سے ہوٹل، بازار اور دکانیں مکمل طور پر تباہ ہوگئیں۔

    افغان ہلال احمر کے ترجمان جمعہ خان نائل نے صورتحال کو انتہائی تباہ کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ رضاکار متاثرہ علاقوں میں خوراک، پانی اور خیمے فراہم کر رہے ہیں،افغان وزارت دفاع نے امدادی سرگرمیوں میں مدد کے لیے فوج تعینات کر دی ہے، جبکہ اقوام متحدہ نے بھی صورتحال کا جائزہ لینا شروع کردیا ہے۔

    ماہرین کے مطابق افغانستان موسمیاتی تبدیلی اور سیلابی صورتحال سے شدید متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے، جہاں حالیہ برسوں میں قدرتی آفات میں اضافہ ہوا ہے۔

  • حکومت سے مذاکرات ناکام، پیٹرول پمپ ایسوسی ایشن کا  پیٹرول پمپ بند کرنے کا اعلان

    حکومت سے مذاکرات ناکام، پیٹرول پمپ ایسوسی ایشن کا پیٹرول پمپ بند کرنے کا اعلان

    وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کی ناکامی کے بعد پیٹرول پمپ مالکان نے کل رات 12 بجے سے ملک گیر ہڑتال اور پیٹرول پمپس بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

    منگل کو حکومت اور آل پاکستان پیٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن کے درمیان پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر رد و بدل کے معاملے پر ہونے والے مذاکرات ناکام ہوگئے ہیں آل پاکستان پیٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ہمایوں خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے اور حکومت کے ساتھ معاملات طے نہ ہو سکے روزانہ کی بنیاد پر پیٹرو لیم مصنوعات کی قیمتوں میں رد و بدل کسی صورت قابل قبول نہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ پیٹرول پمپ مالکان کا مؤقف ہے کہ قیمتوں کا تعین ماہانہ بنیادوں پر ہونا چاہیے جب کہ ڈیلرز کے کمیشن کے معاملے کو بھی حل کیا جائے کیوں کہ موجودہ نظام میں ڈیلرز شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، ایک جانب اوگرا اور آئل مارکیٹنگ کمپنیاں (او ایم سیز) ہیں اور دوسری جانب حکومت جب کہ روزانہ قیمتوں میں تبدیلی کی پالیسی ”آدھا تیتر، آدھا بٹیر“ والی صورت حال پیدا کر رہی ہے، جو عملی طور پر قابل عمل نہیں۔

    ہمایوں خان نے کہا کہ حکومت پیٹرولیم شعبے سے متعلق پالیسیاں مرتب کرتے وقت پیٹرول پمپ مالکان سے مشاورت نہیں کرتی حالاں کہ وہ اس نظام کا اہم حصہ ہیں، ہم کل رات 12 بجے سے ملک گیر ہڑتال کرنے کا اعلان کرتے ہیں۔

    دوسری جانب پیٹرول پمپ ایسوسی ایشن کے رہنما نعمان علی بٹ نے بھی مذاکرات کی ناکامی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی وزیر پیٹرولیم کے ساتھ ہونے والے مذاکرات بے نتیجہ رہے،روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں میں رد و بدل کا فیصلہ ڈیلرز کے لیے قابل قبول نہیں، اسی لیے حکومت اور پیٹرولیم ڈیلرز کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے، مذاکرات کی ناکامی کے بعد کل رات 12 بجے سے ملک گیر ہڑتال کی جائے گی اور ملک بھر کے پیٹرول پمپ بند رکھے جائیں گے۔

    واضح رہے کہ حکومت نے فیصلہ کیا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کے نئے پرائسنگ میکنزم کے تحت اوگرا اب پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی ایکس ڈپو قیمتیں روزانہ جاری کرے گا،نئے میکنزم کے تحت اوگرا نئی قیمتوں کا تعین گزشتہ 7 روز کی اوسط عالمی قیمتوں کی بنیاد پر کیا جائے گا جبکہ ہفتہ اور اتوار کو پہلے سے جاری قیمتیں برقرار رہیں گی۔

  • امریکا نے ایران کیخلاف  اقدامات نہ کیے ہوتے تو آج اسرائیل شاید موجود نہ ہوتا،صدر ٹرمپ

    امریکا نے ایران کیخلاف اقدامات نہ کیے ہوتے تو آج اسرائیل شاید موجود نہ ہوتا،صدر ٹرمپ

    لبنان کے صدر جوزف عون چار روزہ دورے پر امریکا پہنچے تھے جہاں انہوں نے وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ سے اہم ملاقات بھی کی۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اس اہم ملاقات امریکا اور لبنان کے صدور کے درمیان ملاقات میں لبنان اور اسرائیل کے تعلقات، حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے، ایران کے ساتھ جاری کشیدگی، شام کی صورتحال اور مشرق وسطیٰ میں امن کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    اوول آفس میں ملاقات کے آغاز پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا لبنان کی ہر ممکن مدد کرے گا یہ ملک کئی دہائیوں سے مشکلات کا شکار رہا ہے اب اسے وہ احترام ملے گا جس کا وہ حق دار ہے،لبنان کو درپیش مسائل میں اس وقت حزب اللہ سب سے بڑا مسئلہ ہے تاہم امریکا نے اس حوالے سے ایسے مؤثر اقدامات کیے ہیں جن کے نتائج دنیا جلد دیکھے گی۔

    ملاقات میں لبنان اور اسرائیل کے تعلقات اور لبنانی حکومت کی جانب سے حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کی کوششوں پر بھی بات چیت ہوئی۔

    صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے خلاف اپنی پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکا نے ایران کے خلاف سخت اقدامات نہ کیے ہوتے تو آج اسرائیل شاید موجود نہ ہوتا،انھوں نے دعویٰ کیا کہ اگر سابق صدر براک اوباما کا جوہری معاہدہ برقرار رہتا تو ایران کئی سال پہلے ایٹمی ہتھیار حاصل کر لیتا۔

    صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکی B-2 بمبار طیاروں کی کارروائیوں نے ایران کی جوہری تنصیبات کو شدید نقصان پہنچایا، جس سے ایران کی ایٹمی صلاحیت کو بڑا دھچکا لگا،امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران اب جنگ ختم کرنے کے لیے بے حد بے تاب ہے اور مسلسل مذاکرات کی خواہش ظاہر کر رہا ہے،جب تک ایران سنجیدہ اور بامعنی مذاکرات کے لیے تیار نہیں ہوتا امریکا کی اس سے بات چیت میں کوئی دلچسپی نہیں۔

    امریکی صدر نے کہا کہ اسرائیل جنوبی لبنان میں اپنی فوجی پوزیشنز دوبارہ ترتیب دے رہا ہے جب صدر ٹرمپ سے جنوبی لبنان سے مکمل اسرائیلی انخلا کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ وہ اس معاملے کا جائزہ لیں گے تاہم کوئی واضح ٹائم لائن نہیں دی،ایران اردن میں ایک حملے میں امریکی دفا عی نظام کو جزوی طور پر چکمہ دینے میں کامیاب رہا اگر کچھ مختلف آپریشنل انتظامات ہوتے تو یہ حملہ کامیاب نہ ہوتا۔

    لبنانی صدر جوزف عون نے صدر ٹرمپ کو عظیم صدر قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کی ثالثی میں گزشتہ ماہ طے پانے والا فریم ورک معاہدہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان دشمنی کے خاتمے کی بنیاد بن سکتا ہے لبنان اور پورے خطے کو اب استحکام اور امن کی ضرورت ہے اور ان کا امن کا وژن صدر ٹرمپ کے وژن سے مطابقت رکھتا ہے،امید ہے کہ دونوں ممالک مل کر لبنان اور اسرائیل کے درمیان دیرپا امن کی راہ ہموار کریں گے۔

  • حکومت کی جانب سے ملازمین کی تنخواہوں، الاؤنسز میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری

    حکومت کی جانب سے ملازمین کی تنخواہوں، الاؤنسز میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری

    وفاقی حکومت نے سرکاری ملازمین کے لیے بنیادی تنخواہوں اور الاؤنسز میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے،جبکہ وزارت خزانہ سے جاری آفس میمور نڈم کے تحت سرکاری ملازمین کے نظرثانی شدہ نئے پے اسکیلز بھی جاری کردیے ہیں۔

    وزارت خزانہ کے جاری کردہ آفس میمورنڈم میں بتایا گیا ہے کہ یکم جولائی 2026سے وفاقی سرکاری ملازمین کے لیے بنیادی تنخواہوں اور الاؤنسز پر نظرثانی کا اطلاق کیا گیا ہے اور متعارف کروائے گئے۔

    آفس میمورنڈم میں بتایا گیا ہے کہ نظرثانی شدہ نئے بنیادی پے اسکیلز 2026 میں ایڈہاک ریلیف الاؤنس 2022 اور 2025 کو ضم کیا گیا ہے اور موجودہ ملاز مین کی تنخواہیں یکم جولائی 2026 سے نئے پے اسکیلز میں پوائنٹ ٹو پوائنٹ بنیاد پر مقرر کی جائیں گی جبکہ سالانہ انکریمنٹ بدستور ہر سال یکم دسمبر کو موجودہ قواعد کے مطابق دی جائے گی۔

    وزارت خزانہ نے بتایا کہ یکم جولائی 2026 سے ایڈہاک ریلیف الاؤنس 2022 اور 2025 ختم تصور کیے جائیں گے جبکہ وفاقی حکومت کے سول ملازمین، دفاعی تخمینوں سے تنخواہ پانے والے سویلین ملازمین، کنٹریکٹ پر تعینات اہلکاروں اور دیگر متعلقہ ملازمین کو بی پی ایس 2026کی رننگ بنیادی تنخواہ پر 7 فیصد ایڈہاک ریلیف الاؤنس دیا جائے گا، یہ الاؤنس انکم ٹیکس کے تابع ہوگا اور اس کے اطلاق سے متعلق دیگر شرائط بھی آفس میمورنڈم میں درج کی گئی ہیں۔

    وزارت خزانہ نے یہ بھی ہدایت کی ہے کہ تمام وزارتیں، ڈویڑنز اور محکمے اپنے ملازمین سے 30 روز کے اندر تحریری اور ناقابل واپسی آپشن حاصل کریں کہ وہ بنیادی پے اسکیل 2022کے تحت تنخواہ لینا چاہتے ہیں یا نئے بیسک پے اسکیل 2026کے تحت تنخواہ حاصل کرنا چاہتے ہیں،مقررہ مدت میں آ پشن نہ دینے والے ملازمین کو خودکار طور پر بیسک پے اسکیل 2026 کا انتخاب کرنے والا تصور کیا جائے گا نئے پے اسکیلز کے نفاذ کے دوران پیدا ہونے والی ممکنہ بے ضابطگیوں کے ازالے کے لیے وزارت خزانہ میں ایناملی کمیٹی قائم کی جائے گی۔

  • تحریک انصاف اور جمعیت علما اسلام (ف) کے رابطوں کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی

    تحریک انصاف اور جمعیت علما اسلام (ف) کے رابطوں کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی

    تحریک انصاف اور جمعیت علما اسلام (ف) کے رابطوں کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی-

    باوثوق زرائع کے مطابق تحریک انصاف اور جمعیت علما اسلام (ف) کے بڑوں کے اہم رابطے ہوئے جس میں دونوں اطراف سے باہمی تعلقات کو بہتر کرنے پر تجاویز دی گئی تاکہ یہ مل کر حکومت وقت کے خلاف ایک مضبوط محاذ بنا سکیں۔

    جمعیت کی طرف سے اہم شرط یہ تھی کہ مولانا کے بھائی عطاالرحمان صاحب کو وزیر اعلی خیبر پختونخواہ بنایا جائے تحریک انصاف کے وفد نے جب کہا کہ آپ کے پاس اتنی سیٹس نہیں کہ آپ یہ ڈیمانڈ کر سکیں تو جمعیت کے وفد نے کہا کہ آپ نے پنجاب میں ق لیگ کی دس سیٹیں ہونے کے باوجود پرویز الہی صاحب پر جب اعتماد کیا تو پھر ہم پر کیوں نہیں۔

    دوسری اہم پیشکش مولانا فضل الرحمان کو جوائنٹ اپوزیشن لیڈر بنانے کی تھی،دونوں وفود اس بات پر متفق نظر آئے کے محمود اچکزئی اور راجہ ناصر عباس ایک کمزور انتخاب ثابت ہوئے، ان کی نہ اسمبلی میں طاقت ہے اور نہ ہی یہ میدان میں کچھ خاطر خواہ کام کر سکے، تحریک انصاف انہیں اپنی مدد کے لیے لے کر آئی لیکن یہ تحریک انصاف کے سہارے سانس لے رہیں ہیں، جبکہ مولانا فضل الرحمان کا خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں اچھا خاصا اثر ہے، اگر یہ تحریک انصاف کے ساتھ مل گئے تو طاقت دوگنا ہو گی۔

    مولانا کی تجاویز کو جب تحریک انصاف کے حلقوں میں علیحدہ جانچہ گیا تو علیمہ خانم گروپ کے ممبران نے وزارت اعلی اور اپوزیشن لیڈر والی تجاویز پر سخت تشویش ظاہر کی، ان کے مطابق یہ اپنے ہاتھ کٹانے کے برابر ہے، اگر ایسا کیا گیا تو تحریک انصاف کو جمعیت ہائجیک کر لے گی، دوسری طرف بیرسٹر گوہر گروپ اور انفرادی طور پر سہیل آفریدی مولانا کی تجاویز پرلبیک کہتے نظر آئے۔

    اب تو یہ وقت بتائے گا کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھا لیکن یہ رابطے سیاست میں ایک ہلچل پھیلانے کا پیش خیمہ ہے-

  • فیلڈ مارشل سے ایرانی وزیر داخلہ کی ملاقات، خطے میں بڑھتی کشیدگی پر تبادلہ خیال

    فیلڈ مارشل سے ایرانی وزیر داخلہ کی ملاقات، خطے میں بڑھتی کشیدگی پر تبادلہ خیال

    فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے ملاقات کی ، ملاقات میں خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے جب کہ ایرانی وزیر داخلہ نے علاقائی کشیدگی کم کرنے اور امن کے فروغ میں پاکستان کے کردار کی تعریف کی ہے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق منگل کے روز ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) راو لپنڈی کا دورہ کیا اور آرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات کی اس ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی اور دو طرفہ سیکیورٹی اور مؤثر بارڈر مینجمنٹ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق ایرانی وزیر داخلہ نے علاقائی کشیدگی کو کم کرنے اور امن کے لیے بامقصد کوششوں پر پاکستان کی مؤثر سفارتی کردار کو سراہا،ملاقات میں علاقائی سلامتی اور باہمی خوشحالی کے فروغ کے لیے قریبی رابطہ کاری اور تعاون پر مبنی میکانزم کو برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ بھی کیا گیا۔

    قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف سے ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات کی، جس میں باہمی دلچسپی کے امور اور خطے کی مجموعی صورت حال پر غور کیا گیا، ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم کو ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا خصوصی پیغام بھی پہنچایا اور حالیہ کشیدگی کی وجوہات سے بھی آگاہ کیا جب کہ اسکندر مومنی نے ایران امریکا مذاکرات میں پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کی تعریف کی۔

  • ابراہم لنکن کے دور میں پیدا ہونیوالی  شارک ساحل پر مردہ پائی گئی، پوسٹ مارٹم رپورٹ نے سائنسدانوں کو دنگ کر دیا

    ابراہم لنکن کے دور میں پیدا ہونیوالی شارک ساحل پر مردہ پائی گئی، پوسٹ مارٹم رپورٹ نے سائنسدانوں کو دنگ کر دیا

    آئرلینڈ کے مغربی ساحل پر پہلی مرتبہ ایک نایاب گرین لینڈ شارک مردہ حالت میں ملنے کے بعد سائنسدانوں کو دنیا کے طویل ترین عرصے تک زندہ رہنے والے فقاری (ریڑھ کی ہڈی رکھنے والے) جانور کے بارے میں نئی معلومات حاصل کرنے کا موقع ملا ہے۔

    بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ شارک تقریباً 150 سے 200 سال عمر کی تھی تاہم اس نسل کی شارک 400 سال یا اس سے بھی زیادہ عمر تک زندہ رہ سکتی ہے اپریل 2026 میں آئرلینڈ کے کاؤنٹی سلائگو کے ساحل پر تقریباً 3 میٹر (10 فٹ) لمبی گرین لینڈ شارک مردہ حالت میں ملی، یہ آئرلینڈ میں اس نوع کی پہلی ریکارڈ شدہ شارک ہے جو ساحل پر آ لگی۔

    آئرش وہیل اینڈ ڈولفن گروپ سے تعلق رکھنے والی بحری حیاتیات کی ماہر ایملی ڈی لوس نے کہا کہ اس شارک کو دیکھ کر تمام محققین حیران رہ گئے، یہ سوچ کر ہی انسان دنگ رہ جاتا ہے کہ یہ جانور ڈیڑھ صدی سے زیادہ عرصہ زندہ رہا اور اس دوران دنیا میں کتنی بڑی تبدیلیاں دیکھ چکا ہوگا-

    ماہرین کے مطابق اس شارک کی جسامت سے اندازہ لگایا گیا کہ یہ کم از کم 150 سال پرانی تھی یعنی اس کی پیدائش اس زمانے میں ہوئی تھی جب برطانیہ میں ملکہ وکٹوریہ کی حکومت تھی، امریکا میں ابراہم لنکن صدر تھے، سمندروں میں بادبانی جہاز چلتے تھے اور گاڑی ابھی ایجاد بھی نہیں ہوئی تھی۔

    تاہم سائنسدانوں کے مطابق گرین لینڈ شارک کے معیار کے لحاظ سے یہ عمر زیادہ نہیں سمجھی جاتی کیونکہ یہ مچھلی تقریباً 150 سال کی عمر میں بالغ ہوتی ہے اور اسی کے بعد افزائش نسل شروع کرتی ہے گرین لینڈ شارک کو دنیا کا سب سے زیادہ عمر پانے والا فقاری (یا ورٹیبریٹس) جانور سمجھا جاتا ہے۔

    سائنسدانوں کا اندازہ ہے کہ اس کی عمر 300 سے 500 سال کے درمیان ہو سکتی ہے، جبکہ زیادہ تر تحقیق تقریباً 400 سال کی اوسط عمر کی نشاندہی کرتی ہے اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آج سمندر میں تیرنے والی بعض گرین لینڈ شارکس کی پیدائش ولیم شیکسپیئر کے دور میں ہوئی ہو۔

    شارک کا وزن 200 کلوگرام سے زیادہ تھا جسے کرین کی مدد سے ویٹرنری لیبارٹری منتقل کیا گیا جہاں مختلف اداروں کے سائنسدانوں نے اس کا تفصیلی پوسٹ مارٹم (نی کروپسی) کیا،تحقیقی ٹیم نے خصوصی حفاظتی لباس، دستانے اور ماسک پہن کر شارک کے تمام اعضا کا معائنہ کیا کیونکہ اتنی پرانی مخلوق کے جسم میں ایسے جراثیم یا وائرس موجود ہونے کا امکان بھی خارج نہیں کیا جا سکتا جو کئی دہائیوں یا صدیوں سے محفوظ رہے ہوں۔

    سائنسدانوں نے شارک کے جسم پر مچھلی پکڑنے والے جال یا کسی چوٹ کے آثار تلاش کیے تاہم انہیں کوئی واضح زخم نہیں ملا ممکن ہے شارک کسی اندرو نی بیماری کا شکار ہوئی ہو تاہم اس کی اصل وجہ جاننے کے لیے مختلف اعضا اور ٹشوز کے نمونوں کا لیبارٹری میں مزید تجزیہ کیا جا رہا ہے۔

    گرین لینڈ شارک شمالی بحر اوقیانوس اور قطب شمالی کے برفیلے پانیوں میں پائی جاتی ہے یہ بہت آہستہ تیرنے والی شارک ہے جو زیادہ تر مردہ جانوروں کو کھاتی ہے تاہم بعض اوقات زندہ شکار، خصوصاً سیل مچھلیوں کو بھی پکڑ لیتی ہے۔

    سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس کے جسم میں موجود مخصوص کیمیائی مادے قدرتی اینٹی فریز کا کام کرتے ہیں جس کی وجہ سے یہ شدید سرد پانی میں بھی زندہ رہتی ہے تاہم یہی مادے اس کے گوشت کو زہریلا بھی بنا دیتے ہیں۔

    سمندری حیاتیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اتنی بڑی شارک کے بارے میں آج بھی بنیادی معلومات موجود نہیں،ابھی تک سائنسدان یہ نہیں جان سکے کہ یہ شارک کہاں ملاپ کرتی ہے، کہاں بچوں کو جنم دیتی ہے، ایک بار میں کتنے بچے پیدا کرتی ہے یا کتنے عرصے بعد افزائش نسل کرتی ہے۔

    اسی وجہ سے دنیا میں موجود گرین لینڈ شارکس کی درست تعداد کا اندازہ لگانا بھی ممکن نہیں جس کے باعث ان کے تحفظ کے لیے مؤثر منصوبہ بندی کرنا مشکل ہو جاتا ہے پوسٹ مارٹم کے دوران شارک کی آنکھیں بھی نکالی گئیں تاکہ ان کے عدسوں کے ذریعے ریڈیو کاربن ڈیٹنگ سے اس کی درست عمر معلوم کی جا سکے۔

    حال ہی میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق گرین لینڈ شارک کی بینائی پہلے سمجھی جانے والی کمزور نہیں بلکہ حیرت انگیز طور پر مؤثر ہوتی ہے ماہر ین کے مطابق اس کی آنکھیں انتہائی کم روشنی میں بھی کام کرنے کے لیے قدرتی طور پر ڈھلی ہوئی ہیں اور ایک صدی سےزیادہ عمر کےبعد بھی ان کے خلیات تقریباً مکمل طور پر فعال رہتے ہیں،34 کلوگرام کا دل بھی صدیوں تک کام کرتا رہتا ہےتحقیقی ٹیم نے شارک کا تقریباً 34 کلوگرام وزنی دل بھی نکالا جو انسانی دل کے مقابلے میں 100 گنا سے بھی زیادہ بڑا تھا۔