Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • حماس حملے کی نئی رپورٹ سامنے آنے پر اپوزیشن نے نیتن یاہو سے استعفیٰ مانگ لیا

    حماس حملے کی نئی رپورٹ سامنے آنے پر اپوزیشن نے نیتن یاہو سے استعفیٰ مانگ لیا

    اسرائیلی اپوزیشن رہنماؤں نے حماس حملے کے حوالے سے سامنے آنے والی ایک نئی تشویشناک رپورٹ کے بعد وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو منصب کے لیے نااہل قرار دیتے ہوئے ان سے فوری استعفیٰ کا مطالبہ کر دیا ہے۔

    یہ سیاسی بحران ستمبر 2026 میں اسرائیلی اخبار ہاآرتص کی اس رپورٹ کے بعد پیدا ہوا، جس میں انکشاف کیا گیا کہ نیتن یاہو کو 7 اکتوبر 2023 کے حملے سے پہلے ہی خبردار کر دیا گیا تھا،اخبار کی رپورٹ کے مطابق، متحدہ عرب امارات (UAE) کے صدر محمد بن زاید ال نہیان نے 7 اکتوبر کے حملے سے تقریباً ڈیڑھ ہفتہ قبل نیتن یاہو سے براہِ راست بات کی تھی اور انہیں مطلع کیا تھا کہ حماس ایک بڑے آپریشن کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔

    رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ اس وارننگ کے بعد اسرائیلی سیکورٹی ایجنسی ‘شن بیت’ کے سربراہ رونن بار نے بھی 15 ستمبر 2023 کو نیتن یاہو کو اس حوا لے سے بریفنگ دی تھی، اس کے ساتھ ہی مصری انٹیلی جنس کے سربراہ عباس کامل نے بھی نیتن یاہو کو کسی غیر معمولی اور خوفناک آپریشن کے بار ے میں خبردار کیا تھا-

    سابق وزیراعظم اور انتخابات میں امیدوار نفتالی بینیٹ نے بھی نیتن یاہو کو 7 اکتوبر کو ہونے والے نقصان کا ’’بذات خود اور براہِ راست ذمہ دار‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں ’’ایک منٹ کے لیے بھی‘‘ اپنے عہدے پر براجمان نہیں رہنا چاہیے۔

    ہاآرتص کی رپورٹ کے مطابق حماس کے اس وقت کے سربراہ یحییٰ سنوارنے ایک سابق فلسطینی عہدیدار کو خبردار کیا تھا کہ حماس ایک ’’خوفناک آپریشن‘‘ کی تیاری کر رہی ہے، جسے انہوں نے ’’زلزلہ‘‘ قرار دیا تھا سابق فلسطینی عہدیدار نے یہ اطلاع ایک اماراتی مشیر تک پہنچائی، جس نے اسے متحدہ عرب امارات کے صدر تک پہنچایا اس کے بعد اماراتی صدر نے مبینہ طور پر نیتن یاہو سے رابطہ کیا۔

    متحدہ عرب امارات نے 2020 میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پہلی انتظامیہ کی ثالثی میں ہونے والے ‘ابراہام اکارڈ’ کے تحت اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے تھے اخبار نے زیادہ تر نامعلوم ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ نیتن یاہو نے اس وارننگ کا پُرسکون انداز میں جواب دیا، نیتن یاہو نے یہ کہہ کر بات ٹال دی کہ اسرائیل کی توجہ غزہ کے بجائے مغربی کنارے (ویسٹ بینک) پر ہے۔

    اس نئی رپورٹ کے سامنے آتے ہی اسرائیلی اپوزیشن جماعتوں اور رہنماؤں نے نیتن یاہو کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا اپوزیشن رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ نیتن یاہو 7 اکتوبر کو ہونے والے جانی و مالی نقصان کے براہِ راست ذمہ دار ہیں، کیونکہ انہوں نے ان اہم ترین وارننگز کو نظر انداز کیا۔

    نیتن یاہو کے اہم سیاسی حریف گاڈی آئزن کوٹ نے الکژام لگایا کہ وزیر اعظم سیکورٹی ناکامیوں کی ذمہ داری سے بھاگ رہے ہیں اور لغو بہانے تراش رہے ہیں انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا: "نیتن یاہو کو 7 اکتوبر کے حوالے سے درجنوں انتباہات موصول ہوئے لیکن انہوں نے سب کو نظر انداز کر دیا،وہ (وزارتِ عظمیٰ کے لیے) نااہل ہیں،اپوزیشن کا مطالبہ ہے کہ انہیں مزید ایک منٹ بھی اپنے عہدے پر رہنے کا کوئی حق نہیں ہے-

    دوسری جانب وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر نے اس رپورٹ کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ ان کے دفتر سے جاری بیان میں ہاآرتص کی رپورٹ کو "سراسر جھوٹ” قرار دیا گیا ہے اور یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس دوران نیتن یاہو اور اماراتی صدر کے درمیان ایسی کوئی ٹیلی فونک گفتگو یا رابطہ نہیں ہوا تھا-

    نیتن یاہو کی حکومت کئی برسوں سے حماس کے ساتھ ‘اسٹیٹس کو’ برقرار رکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا رہی تھی۔ اس پالیسی کے تحت قطر کے ذریعے غزہ میں مالی معاونت کی فراہمی جاری رہی، جبکہ یہ مفروضہ برقرار رہا کہ حماس اسرائیل کے ساتھ تباہ کن جنگ کے بجائے اپنی بقا کو ترجیح دے گی۔

    7 اکتوبر 2023 کو حماس نے اسرائیل پر بڑا حملہ کیا، اے ایف پی کی جانب سے اسرائیلی حکومت کے اعداد و شمار کی بنیاد پر مرتب کیے گئے تخمینے کے مطا بق اس حملے میں 1,221 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ حماس کے جنگجو تقریباً 251 افراد کو یرغمال بنا کر غزہ لے گئے، جن میں سے 44 کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ پہلے ہی ہلاک ہو چکے تھے۔

    اس حملے کے جواب میں اسرائیل کی جانب سے غزہ میں بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی شروع کی گئی، جس کے نتیجے میں غزہ کا بیشتر حصہ تباہ ہو چکا ہے غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیلی کارروائیوں میں اب تک 73,658 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔

  • ایران کے ساتھ جھڑپیں جنگ نہیں،پینٹاگون کا ہلاک امریکی فوجیوں کو اضافی مراعات دینے سے انکار

    ایران کے ساتھ جھڑپیں جنگ نہیں،پینٹاگون کا ہلاک امریکی فوجیوں کو اضافی مراعات دینے سے انکار

    امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے دوران ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کے اہلِ خانہ اور پینٹاگون کے درمیان اضافی مراعات اور مالی امداد کے حوالے سے شدید اختلافات سامنے آئے ہیں۔

    برطانوی اخبار ’دی ٹیلیگراف‘ نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ پینٹاگون نے ہلاک امریکی فوجیوں کو اضافی مراعات دینے سے انکار کرتے ہوئے عذر پیش کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جھڑپیں جنگ نہیں ہیں۔

    یہ معاملہ اس وقت میڈیا کی توجہ کا مرکز بنا جب مارچ کے مہینے میں عراق کے مغرب میں حادثے کے شکار ایندھن فراہم کرنے والے طیارے کے پا ئلٹ میجر الیکس کلینر کی بیوہ لیبی کلینر نے ایک بیان جاری کیاان کا کہنا تھا کہ امریکی فضائیہ نے باضابطہ جنگ کا اعلان نہ ہونے کو بنیاد بنا کر انہیں اضافی فوائد دینے سے انکار کر دیا ہے۔

    اس صورتحال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لیبی کلینر نے خبر رساں ادارے ’دی ٹیلیگراف‘ سے بات چیت میں کہا کہ میرے شوہر نے ایک جنگ میں اپنی جان گنوائی، لیکن بعد میں مجھے بتایا گیا کہ یہ تکنیکی طور پر جنگ نہیں ہے اس لیے ہم حقوق سے محروم رہ جائیں گے اس تجربے نے مجھے دکھایا کہ ایک غمزدہ خاندان کے لیے حکومتی اصطلاحات اور پیچیدہ کارروائیوں کو سمجھنا کتنا مشکل ہوتا ہےالیکس اپنے کام کے خطرات سے واقف تھے اور انہیں بھروسہ تھا کہ ان کے بعد ان کے خاندان کا خیال رکھا جائے گا۔

    دوسری جانب سوشل میڈیا پر عوامی ردعمل سامنے آنے کے بعد امریکی فضائیہ نے تسلیم کیا کہ ابتدائی طور پر غلط معلومات دی گئی تھیں اور کہا کہ میجر کی آخری تنخواہ میں خطرناک ڈیوٹی کا الاؤنس شامل کر دیا گیا ہے۔

    سیاسی سطح پر اس مسئلے نے اس وقت نئی بحث چھیڑ دی جب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے وائٹ ہاؤس کی بریفنگ میں اس بارے میں پوچھا گیا جے ڈی وینس نے کہا کہ ہم متاثرہ خاتون کی ہر ممکن مدد کرنا چاہتے ہیں اور ان کا پیغام ہے کہ ہم ان کی قربانی کی قدر کرتے ہیں اور ان کے تمام حقوق کی فراہمی کے لیے پرعزم ہیں، تاہم وینس نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے لیے لفظ جنگ کے استعمال کو مسترد کر دیا۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی وضاحت کی اور کہا کہ بہت سے لوگ اسے جنگ نہیں کہتے، میں اسے ایک عسکری تنازع کہتا ہوں کیونکہ یہ ہمارے لیے ایک محدود نوعیت کا معاملہ ہے جبکہ پینٹاگون نے بھی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں کی مسلسل دیکھ بھال کی یقین دہانی کرائی ہے-

    واضح رہے کہ پینٹاگون کے مطابق، ایران کے ساتھ ’تنازع‘ میں پچھلے چھ ماہ میں 18 امریکی فوجی ہلاک اور 780 زخمی ہو چکے ہیں۔

  • کرکٹ آسٹریلیا کا بگ بیش لیگ کی فرنچائز نجی سرمایہ کاروں کو فروخت کرنے کا اعلان

    کرکٹ آسٹریلیا کا بگ بیش لیگ کی فرنچائز نجی سرمایہ کاروں کو فروخت کرنے کا اعلان

    کرکٹ آسٹریلیا نے بگ بیش لیگ میں نجی سرمایہ کاری لانے کے منصوبے کے تحت میلبورن رینیگیڈز کی فروخت کا عمل شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    کرکٹ آسٹریلیا کے چیئرمین مائیک بیئرڈ اور چیف ایگزیکٹو ٹوڈ گرین برگ نے منگل کو اعلان کیا کہ بورڈ نے ریاستی کرکٹ اداروں کو بگ بیش لیگ کی فرنچائزز میں حصص یا مکمل ملکیت نجی سرمایہ کاروں کو فروخت کرنے کی اجازت دینے پر باضابطہ اتفاق کرلیا ہے۔

    اس عمل کا آغاز میلبورن رینیگیڈز سے ہوگا، جس کے لیے نجی سرمایہ کاروں سے بولیاں طلب کی جائیں گی۔ کرکٹ آسٹریلیا کی جانب سے جاری بیان کے مطابق کوشش ہے کہ میلبورن رینیگیڈز 2028-2027 کا سیزن نئی ملکیت کے تحت کھیلے۔

    کرکٹ آسٹریلیا کا کہنا ہے کہ رینیگیڈز کی فروخت کے عمل کے نتائج سامنے آنے کے بعد دیگر بگ بیش لیگ فرنچائززکو بھی مارکیٹ میں لانے پر غور کیا جائے گا، اس کے لیے ’’سیلف ڈیٹرمینیشن ماڈل‘‘ اختیار کیا جائے گا، جس کے تحت ہر ریاستی رکن کو اپنے کلب اور کمیونٹی کے لیے موزوں راستے کا جائزہ لینے کا اختیار ہوگا۔

    کرکٹ آسٹریلیا کے مطابق نجی سرمایہ کاری کا مقصد کمیونٹی کرکٹ، ڈومیسٹک اور انٹرنیشنل پاتھ ویز، ایلیٹ کرکٹ، بگ بیش لیگ اور ویمنز بگ بیش لیگ میں مزید سرمایہ کاری کرنا ہے جبکہ ٹیسٹ کرکٹ کی اہمیت کو بھی برقرار رکھا جائے گا، نجی سرمایہ کاری سے آسٹریلوی کرکٹ کی مالی بنیاد مضبوط کرنے، شائقین کے ساتھ روابط بڑھانے اور تجارتی صلاحیت میں اضافہ کرنے میں مدد ملے گی۔

    مائیک بیئرڈ نے کہا کہ کرکٹ آسٹریلیا اور ریاستی ارکان بگ بیش لیگ اور ویمنز بگ بیش لیگ میں سرمایہ کاری اور ان کی ترقی کے لیے متحد ہیں۔ ان کے مطابق نجی سرمایہ کاری کا دروازہ کھولنا آسٹریلوی کرکٹ کے طویل مدتی مستقبل کو مضبوط بنانے کی جانب ایک سوچا سمجھا قدم ہےمیلبورن رینیگیڈز کی فروخت کا عمل سیلف ڈیٹرمینیشن ماڈل میں پہلا قدم ہے اور آسٹریلوی کرکٹ کے لیے ایک اہم مرحلے کی نمائندگی کرتا ہے۔

    کرکٹ آسٹریلیا نے واضح کیا کہ نجی سرمایہ کاری کے باوجود اہم معاملات پر کنٹرول کرکٹ آسٹریلیا اور اس کے ریاستی ارکان کے پاس رہے گا۔ ان معاملات میں بین الاقوامی شیڈولنگ، کھلاڑیوں کی دستیابی، بگ بیش لیگ کی تنخواہوں کی حد، برانڈنگ تجاویز، کلب لائسنس کے لیے کم از کم قیمت اور سرمایہ کارو ں کی منظوری شامل ہیں۔

    تاہم بگ بیش لیگ کی نجکاری کا یہ اعلان آسٹریلین کرکٹرز ایسوسی ایشن کے ساتھ مالی معاملات پر جاری اختلاف کے باعث اہمیت اختیار کرگیا ہے، آسٹر یلین کرکٹرز ایسوسی ایشن کے چیف ایگزیکٹو پال مارش نے کہا کہ نجی سرمایہ کاری کے اگلے مرحلے کے اعلان سے ان امور پر کام کی ضرورت تبدیل نہیں ہوئی جو بگ بیش لیگ کی نجکاری کے لیے ضروری ہیں۔

    پال مارش کے مطابق کرکٹ آسٹریلیا اور آسٹریلین کرکٹرز ایسوسی ایشن کے درمیان نئے ایم او یو پر مذاکرات جاری ہیں تاہم دونوں فریق اس وقت ایک معاہدے سے کافی فاصلے پر ہیں آسٹریلین کرکٹ، کھلاڑیوں کی نمائندہ تنظیم کی منظوری کے بغیر کسی ٹیم کی فروخت آگے نہیں بڑھا سکتی۔

    موجودہ ایم او یو کے تحت آسٹریلین کرکٹرز ایسوسی ایشن آسٹریلین کرکٹ کی مجموعی آمدنی کا 27.5 فیصد حاصل کرنے کی حقدار ہے۔ ایسوسی ایشن کا مؤقف ہے کہ بگ بیش لیگ کلبوں میں حصص یا ملکیت کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم بھی اسی آمدنی میں شامل ہونی چاہیے۔

    دوسری جانب کرکٹ آسٹریلیا کا مؤقف ہے کہ کھلاڑی صرف فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کی دوبارہ سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والے منافع یا سود میں سے 27.5 فیصد کے حقدار ہوں گے۔

    آسٹریلین کرکٹرز ایسوسی ایشن نے فروری میں مذاکرات کے دوران تجویز دی تھی کہ وہ فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کے 27.5 فیصد پر اپنا دعویٰ چھوڑ سکتی ہے، تاہم اس کے بدلے کھلاڑیوں کے مستقل ریونیو شیئر میں اضافہ کیا جائے۔ یہ حصہ مبینہ طور پر 33 فیصد تک بڑھانے کی تجویز تھی تاہم کرکٹ آسٹریلیا نے اسے مسترد کردیا۔

    ٹوڈ گرین برگ نے کہا کہ پال مارش کے ساتھ ان کا اچھا رابطہ ہے، تاہم دونوں فریق اس وقت مذاکرات کی نوعیت کے حوالے سے کافی فاصلے پر ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ ایم او یو 2028 کے اختتام تک نافذ ہے اور اس لیے مذاکرات کے لیے وقت موجود ہے نجی سرمایہ کاری کے منصوبے کا بنیادی مقصد کھلاڑیوں کے ہاتھ میں مزید رقم پہنچانا ہے اور انہیں یقین ہے کہ دونوں فریق کسی نہ کسی معاہدے تک پہنچ جائیں گے۔

  • محلے کی ‘آنٹی’ نے چغلیوں کو کاروبار بنا لیا

    محلے کی ‘آنٹی’ نے چغلیوں کو کاروبار بنا لیا

    کولمبیا کی ایک 67 سالہ خاتون نے محلے کی چغلی کی عادت کو ایسا کاروبار بنایا کہ کمائی سے مبینہ طور پر دو گھر خریدنے میں کامیاب ہو گئیں۔

    مریم نامی خاتون صبح سویرے اپنا نوٹ بک لے کر گھر کے باہر بیٹھ جاتی ہیں اور محلے میں ہونے والی سرگرمیوں پر نظر رکھنا شروع کر دیتی ہیں،کون کہاں جا رہا ہے، کس سے کیا بات ہوئی اور محلے میں کون سا نیا معاملہ چل رہا ہے، مریم اپنے نزدیک اہم سمجھی جانے والی معلومات نوٹ کرتی ہیں اور پھر یہی ’محلے کی خبریں‘ دلچسپی رکھنے والے افراد تک پہنچانا ان کی کمائی کا ذریعہ بن چکا ہے،ان کے مطابق اسی کمائی اور مسلسل بچت کی بدولت وہ بالآخر دو مکانات خریدنے میں کامیاب ہوئیں۔

    مریم نے انٹرویوز میں دعویٰ کیا کہ برسوں تک رقم بچانے، اردگرد ہونے والے واقعات سے باخبر رہنے اور مقامی لوگوں کی تازہ معلومات جاننے کی دلچسپی نے انہیں مالی فائدہ پہنچایا،اسی کمائی اور مسلسل بچت کی بدولت وہ بالآخر دو مکانات خریدنے میں کامیاب ہوئیں۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ مریم کے اس انوکھے کام کے باعث کبھی کبھار پڑوسیوں کے ساتھ تلخی بھی ہو جاتی ہے مگر ان کے خلاف ابھی تک کسی نے قانونی کارروائی نہیں کی،یوں جہاں بیشتر لوگوں کیلئے محلے کی گپ شپ محض وقت گزاری ہوتی ہے، وہیں مریم نے اسے مبینہ طور پر آمدنی کا ذریعہ بنا کر ثابت کر دیا کہ بعض اوقات محلے کی خبر رکھنے کا بھی فائدہ ہو سکتا ہے۔

  • پی سی بی نے امام الحق اور محمد رضوان کا موبائل ڈیٹا حاصل کر لیا

    پی سی بی نے امام الحق اور محمد رضوان کا موبائل ڈیٹا حاصل کر لیا

    زلندن:لارڈز ٹیسٹ میں شکست کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے قومی ٹیم کے دو اہم کھلاڑیوں امام الحق اور محمد رضوان کے خلاف تحقیقات کا دائرہ وسیع کیے جانے کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق پی سی بی نے لندن میں دونوں کرکٹرز کے موبائل فونز کا ڈیٹا حاصل کیا ہے، جبکہ تحقیقات کے دوران دونوں کھلاڑیوں کی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ ان کے رابطوں اور مختلف افراد سے روابط کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے لارڈز ٹیسٹ میں پاکستان کی 194رنز سے شکست کے بعد ہوٹل واپسی پر ٹیم کے سیکیورٹی آفیسر نے امام الحق اور محمد رضوان کے موبائل فونز اپنے قبضے میں لے لیے تھے۔

    ذرائع کے مطابق دونوں کھلاڑیوں کے فون کئی گھنٹے تحویل میں رہے، اس دوران ان کا ڈیٹا کسی دوسری جگہ منتقل کیا گیا، جس کے بعد موبائل فونز انہیں واپس کردیے گئے تحقیقات میں اگر دونوں کھلاڑیوں کے خلاف ٹھوس شواہد سامنے آتے ہیں تو انہیں بھاری جرمانے یا پابندی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔مستقبل میں قومی ٹیم میں ان کی شمولیت متاثر ہونے کے امکان کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دیا جا رہا۔

    واضح رہے کہ موبائل ڈیٹا اور تحقیقات سے متعلق مذکورہ تفصیلات ذرائع کے دعووں پر مبنی ہیں، جبکہ پی سی بی کی جانب سے اس حوالے سے باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

  • ایران جنگ نے  عالمی معیشت کے کام کرنے کا طریقہ بدل ڈالا ہے،امریکی اخبار

    ایران جنگ نے عالمی معیشت کے کام کرنے کا طریقہ بدل ڈالا ہے،امریکی اخبار

    ایران جنگ نے صرف تیل کی قیمتیں نہیں بڑھائیں بلکہ عالمی معیشت کے کام کرنے کا طریقہ بھی بدل دیا ہے۔

    امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی رپورٹ کے مطابق امریکا میں اس جنگ کے اثرات عام شہریوں تک بھی پہنچے پیٹرول کی قیمت کئی ہفتوں سے 4 ڈالر فی گیلن سے زیادہ رہی، گھر کے قرض کی شرح سود تقریباً 7 فیصد تک پہنچنے لگی جبکہ ڈیزل مہنگا ہونے کے باعث کمپنیوں نے سامان کی ترسیل پر اضا فی چارجز وصول کرنا شروع کردیئے، جنگ کے دوران آبنائے ہرمز پر ایران کا اثر و رسوخ بڑھا، چین نے تیل کی عالمی منڈی میں اپنی طاقت دکھائی جبکہ امریکا، برازیل، گیانا، کینیڈا اور ناروے سمیت کئی ممالک نے تیل کی پیداوار بڑھا دی۔

    ماہرین کے مطابق جنگ بندی کے بعد ان میں سے کچھ اثرات کم ہوسکتے ہیں، لیکن عالمی معیشت میں آنے والی بعض تبدیلیاں طویل عرصے تک برقرار رہ سکتی ہیں،جنگ سے پہلے دنیا کے مختلف ممالک کے بحری جہاز آبنائے ہرمز سے آزادانہ گزر کر خلیج فارس اور مشرق وسطیٰ سے سامان اور تیل لے جا تے تھے دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل کی سپلائی روزانہ اسی تنگ سمندری راستے سے گزرتی تھی۔

    فروری کے آخر میں امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد صورتِ حال تبدیل ہوگئی ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول ظاہر کرتے ہوئے وہاں سے گزرنے والے بعض بحری جہازوں کو نشانہ بنایا اس کے نتیجے میں عالمی منڈی کو روزانہ تقریباً 1 کروڑ 30 لاکھ بیرل تیل کی سپلائی متاثر ہوئی۔

    مئی میں ایران نے مکمل طور پر آبنائے ہرمز بند رکھنے کے بجائے وہاں سے گزرنے والے جہازوں کے لیے نئے قواعد نافذ کردیئے اس مقصد کے لیے ’پرشیئن گلف اسٹریٹ اتھارٹی‘ قائم کی گئی، جس کے تحت جہازوں کو رجسٹریشن، مخصوص راستے کی پابندی اور گزرنے کے لیے فیس ادا کرنا تھی،جون میں امریکا -ایران ایک مفاہمتی معاہدے کے بعد ایران نے 60 دن کے لیے فیس وصول نہ کرنے پر رضامندی ظاہر کی، تاہم رجسٹریشن نہ کرانے والے جہازو ں پر حملے جاری رہے۔

    بعد میں امریکا نے رات کے وقت آبنائے ہرمز سے ایسے بحری جہازوں کو فوجی نگرانی اور سکیورٹی فراہم کرنا شروع کردی جن کی شناخت واضح نہیں ہوتی تھی اس کا مقصد خلیج فارس سے تیل کی برآمدات جاری رکھنا اور ایرانی ڈرون حملوں سے بچنا تھا۔

    سرمایہ کاری کی حکمت عملی کے ماہر راس فیلڈ نے کہا کہ امکان ہے ایران جنگ کے بعد آبنائے ہرمز پر پہلے سے زیادہ مضبوط پوزیشن میں ہوگا اور مشرق وسطیٰ کے تیل پر انحصار کرنے والے ممالک کو اپنی حکمت عملی تبدیل کرنا پڑے گی،آبنائے ہرمز کی بندش جو پہلے صرف ایک ممکنہ خطرہ سمجھی جاتی تھی، اب ایک عملی اور مؤثر حربے کے طور پر سامنے آچکی ہے۔

    ماہرین کے مطابق مستقبل میں ایسا معاہدہ بھی ہوسکتا ہے جس کے تحت ایران آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرنے کے لیے فیس وصول کرے،جے پی مورگن کی کموڈیٹیز اینالیسس کی سربراہ نتاشا کانیوا کے مطابق بین الاقوامی سمندری راستوں میں مختلف خدمات کے عوض فیس وصول کرنے کی مثالیں پہلے سے موجود ہیں، اگر ایران ترکی کی جانب سے آبنائے باسفورس اور داردانیلز میں وصول کی جانے والی فیس جیسا نظام اپناتا ہے تو تیل کی قیمت میں تقریباً ایک ڈالر فی بیرل اضافہ ہوسکتا ہے ایک بڑا تیل بردار جہاز دونوں طرف کے سفر کے لیے تقریباً 2 لاکھ 60 ہزار ڈالر ادا کرسکتا ہے۔

    سی این این کے مطابق ایران جنگ کا دوسرا بڑا اثر چین کے کردار میں نظر آیا چین خود دنیا کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک میں شامل نہیں، لیکن جنگ کے دوران اس نے ثابت کیا کہ عالمی تیل کی منڈی میں اس کا اثر بہت زیادہ ہے امریکی کاروباری اور مالیاتی مشاورتی ادارے آر ایس ایم یو ایس کے چیف اکانومسٹ جو برسیولاس کے مطابق چین میں تیل کی طلب کو تیزی سے کم یا زیادہ کرنے کی صلاحیت نے اسے خاص اہمیت دی۔

    چین نے جنگ سے پہلے تیل کے بڑے ذخائر جمع کرلیے تھے اسی وجہ سے جنگ کے دوران اس نے خام تیل کی درآمد میں تقریباً 50 لاکھ بیرل یومیہ کمی کردی تاہم مستقبل میں ان ذخائر کو دوبارہ بھرنے کے لیے چین کی تیل کی طلب بڑھ سکتی ہے۔

    دوسری جانب چین میں لوگوں کے رویے میں بھی ایسی تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں جو طویل مدت تک برقرار رہ سکتی ہیں مئی کی 5روزہ چھٹیوں کے دورا ن چین کی شاہراہوں پر الیکٹرک گاڑیوں کی چارجنگ میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 55.6 فیصد اضافہ ہوا، اسی عرصے میں چین کی شاہراہوں پر سفر کر نے والی تقریباً ہر چار میں سے ایک گاڑی الیکٹرک تھی، جو ایک سال پہلے کے مقابلے میں 33 فیصد زیادہ تھی۔

    سی این این نے بتایا کہ چین نے بجلی بنانے کے لیے تیل اور گیس سے چلنے والے پلانٹس کے بجائے تیزی سے کوئلے کا استعمال بھی بڑھایا، جس سے اسے تیل کی عالمی سپلائی میں بڑی کمی کے باوجود اپنی ضروریات پوری کرنے میں مدد ملی۔

    جے پی مورگن کے مطابق جنگ کے دوران مشرق وسطیٰ سے عالمی منڈی کو ملنے والے تیل میں تقریباً 1.9 ارب بیرل کی کمی ہوئی، لیکن اس میں سے تقریباً 80 کروڑ بیرل یعنی تقریباً نصف حصہ اس طرح پورا ہوا کہ لوگوں اور کاروباروں نے تیل کا استعمال کم کردیا۔

    نتاشا کانیوا نے کہا کہ تاریخ بتاتی ہے کہ ماضی میں تیل کی قیمتوں میں بڑے جھٹکوں کے بعد پیٹرول کی طلب میں مستقل کمی دیکھی گئی، اور ممکن ہے اس بار بھی ایسا ہی ہو،اس صورتحال نے یہ بحث بھی چھیڑ دی ہے کہ شاید دنیا تیل کی طلب کی بلند ترین سطح یعنی ’پیک آئل‘ کے قریب پہنچ چکی ہے۔

    سی این این کے مطابق ایران جنگ کے دوران ایک اور اہم تبدیلی یہ ہوئی کہ مشرق وسطیٰ سے باہر کئی ممالک نے تیل کی پیداوار بڑھانا شروع کردی۔

    امریکا کی ایک نجی آئل اینڈ انرجی کنسلٹنگ فرم لپاؤ آئل ایسوسی ایٹس کے صدر اینڈی لپاؤ کے مطابق مشرق وسطیٰ سے باہر تیل کی تلاش اور متبادل توانائی کے منصوبوں میں تیزی آرہی ہے جبکہ پہلے سے موجود تیل کے منصوبوں میں بھی پیداوار بڑھائی جارہی ہے۔

    جے پی مورگن کے اعداد و شمار کے مطابق برازیل نے اپنی تیل کی پیداوار میں روزانہ 8 لاکھ بیرل، گیانا نے 3 لاکھ بیرل، کینیڈا نے 2 لاکھ بیرل اور ناروے نے ڈیڑھ لاکھ بیرل یومیہ اضافہ کیا۔

    امریکا نے بھی گزشتہ برس کے اسی عرصے کے مقابلے میں تقریباً 9 لاکھ بیرل یومیہ زیادہ تیل پیدا کرنا شروع کردیا ہے۔

    امریکا میں اضافی پیداوار کا بڑا حصہ نجی کمپنیوں کے زیر انتظام کنوؤں سے آیا، جہاں سے تیل ریفائنریوں کو بھیجا گیا تاکہ یورپی مارکیٹ کے لیے جیٹ فیول اور قدرتی گیس کی ضروریات پوری کی جاسکیں۔

    ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھلنے کے بعد امریکا کی پیداوار میں معمولی کمی آسکتی ہے، لیکن جے پی مورگن کا خیال ہے کہ امریکی پیداوار موجودہ سطح کے قریب برقرار رہ سکتی ہے برازیل نے بھی ماہرین کو حیران کیا اور توقع سے کہیں زیادہ تیل پیدا کیا دوسری جانب گیانا میں ایک نیا سمندری پیداواری جہاز پہنچنے والا ہے، جس سے وہاں تیل کی پیداوار مزید تیز ہونے کی توقع ہے۔

    سعودی عرب نے آبنائے ہرمز سے بچنے کے لیے بڑی تعداد میں ٹرکوں کے ذریعے تیل اور دیگر سامان بحیرہ احمر تک پہنچانے کا انتظام کیا جبکہ اس کی مشرق سے مغرب تک جانے والی پائپ لائن کو بھی مکمل صلاحیت کے ساتھ استعمال کیا گیا عراق بھی خلیج فارس سے نکلنے والے تیل کے لیے ایک نیا راستہ بنانے پر غور کررہا ہے اور بحیرہ روم تک پائپ لائن کی تعمیر کے لیے امریکی کمپنی شیورون سے بات چیت جاری ہے۔

    جنگ کے بعد تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک کو بھی نئے چیلنج کا سامنا ہے متحدہ عرب امارات نے اپریل میں اوپیک چھوڑنے کا اعلان کیا تھا، جبکہ عراق بھی مستقبل میں تنظیم سے الگ ہونے پر غور کرسکتا ہے۔

    عراق کے وزیر تیل کے مطابق اگر اوپیک نے پیداوار کے اہداف میں بڑا اضافہ نہ کیا تو عراق کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ اسے تنظیم میں رہنا ہے یا نہیں،عراق جنگ کے بعد روزانہ 50 لاکھ بیرل تیل پیدا کرنے کی اجازت چاہتا ہے جبکہ طویل مدت میں اس کا ہدف 70 لاکھ بیرل یومیہ پیداوار تک پہنچنا ہے۔

    اگر عراق اور دیگر ممالک کو زیادہ تیل پیدا کرنے کی اجازت مل جاتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی مقدار طلب سے زیادہ ہوسکتی ہے، اس کا ایک فائدہ یہ ہوگا کہ صارفین کے لیے تیل کی قیمتیں کم ہوسکتی ہیں، تاہم دوسری جانب عالمی سطح پر تیل کی اضافی پیداوار مستقل ہوگئی تو تیل کمپنیوں کے منافع میں بڑی کمی بھی آسکتی ہے۔

  • اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی افغان طالبا ن رجیم پرشدید تنقید

    اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی افغان طالبا ن رجیم پرشدید تنقید

    خواتین کیخلاف امتیازی پالیسیاں،اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے افغان طالبا ن رجیم پرشدید تنقید کی-

    طالبان رجیم کے زیرِ تسلط افغانستان میں خواتین کے حقوق، آزادیٔ اظہار اور بنیادی انسانی آزادیوں کی پامالی کا سلسلہ بدستور جاری ہےاقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے افغانستان میں خواتین کیخلاف ناانصافی اورپابندیاں فوری ختم کرنے کا مطالبہ کردیا.

    یواین سیکریٹری جنرل نے طالبان رجیم میں افغان خواتین کیخلاف غیرمنصفانہ پالیسیوں پرتشویش کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ افغان طالبان کی جانب سے خوا تین کیخلا ف امتیازی پالیسیاں ان کی زندگی کے ہرشعبے کو متاثرکررہی ہیں، طالبان کی خواتین مخالف پالیسیاں افغان عورتوں کے بنیادی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہیں،افغان خواتین پرپابندیاں افغانستان کی معاشی ترقی، استحکام اورعالمی انضمام میں بڑی رکاوٹ ہیں، افغان خواتین کےاقوام متحدہ کے لیے کام کرنے پرعائد پابندی فوری طورپرختم کی جائے.

    ماہرین کے مطابق افغانستان میں خواتین کی تعلیم اورروزگارپرعائد سخت پابندیوں نے انسانی حقوق کی صورتحال کوتشویشناک حد تک سنگین بنا دیا ہے،طالبان رجیم کے زیراثرافغانستان میں انسانی حقوق اورسیاسی آزادیوں کی بگڑتی صورتحال بدستوردنیا کیلئے تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے.

  • کراچی میں ڈاکوؤں کی فائرنگ سے 8 بہنوں کا اکلوتا بھائی قتل

    کراچی میں ڈاکوؤں کی فائرنگ سے 8 بہنوں کا اکلوتا بھائی قتل

    کراچی کے علاقے منگھو پیر مہران سٹی میں ڈکیتی مزاحمت پر مسلح افراد کی فائرنگ سے 15 سالہ نوجوان روشم جاں بحق ہو گیا۔

    تفصیلات کے مطابق منگھو پیر کے علاقے اجتماع گاہ کے قریب مہران سٹی بلاک 6 گھر میں ڈکیتی کی واردات کے دوران ڈاکوؤں کی فائرنگ سے ایک نوجوان لڑکا جاں بحق ہوگیا، مقتول کی لاش ایدھی ایمبولینس کے ذریعے عباسی شہید اسپتال منتقل کی گئی۔

    ترجمان کراچی پولیس کے مطابق مقتول کی شناخت 17 سالہ روشم ولد ڈاکٹر روئداد خان کے نام سے کی گئی، مقتول کے والد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مقتول 8 بہنوں میں سب سے بڑا تھا ،روشم نے حال ہی میں میٹرک کیا اور پوزیشن ہولڈر تھا۔

    مقتول کے والد کے مطابق 6 مسلح ڈاکو گھر میں داخل ہوئے جن میں سے 2 نے پولیس کی وردی پہن رکھی تھی،نقاب پوش ڈاکوؤں کو دیکھ کر انہوں نے اپنا لائسنس یافتہ پستول نکالا اور باہر کی جانب آرہے تھے کہ اسی دوران دوسرے کمرے سے ان کا بیٹا باہر آگیا، بیٹے کو اور ان کے ہاتھ میں پستول دیکھ کر پو لیس وردی میں ملبوس ڈاکوؤں نے اندھا دھند فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں ایک گولی روشم کے سینے پر لگی اور وہ موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا، ڈاکو فائر نگ کرتے ہوئے موقع سے فرار ہوگئے-

    ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ڈاکوؤں پر اس لیے فائرنگ نہیں کی کہ وہ پولیس والے نہ ہوں کیونکہ ڈر تھا کہ اگر وہ پولیس والے ہوئے اور ان پر فائرنگ کی گئی تو وہ پولیس والے ان کے پورے خاندان کو ختم کر دیتے ان کے گھر آنے سے پہلے ڈاکو 4 گھروں کا پہلے بھی صفایا کر چکے تھے، انہوں نے بتایا کہ گزشتہ کئی ماہ سے علاقے میں وارداتیں ہو رہی تھیں اور وارداتیں کرنے والے پولیس کی وردی میں ہوتے تھے۔

    انہوں نے کہا کہ علاقہ مکینوں کی جانب سے دو ماہ قبل منگھو پیر تھانے میں وارداتوں کے حوالے سے تین درخواستیں دی جا چکی ہیں تاہم پولیس نے نہ تو کوئی کارروائی کی اور نہ ہی گشت میں اضافہ کیا، رات کے وقت منھگو پیر پولیس تھانے سے ہی باہر نہیں جاتی ہے۔

    مقتول کے والد نے انتہائی جذباتی انداز میں کہا کہ وہ اپنے بیٹے کو اس وقت تک سپرد خاک نہیں کریں گے جب تک واردات میں ملوث ملزمان کو گرفتار نہیں کر لیا جاتا، پولیس اگر چاہے تو چند گھنٹوں میں ہی ڈاکوؤں کو گرفتار کر سکتی ہے وہ بیٹے کی لاش کے ہمراہ سائٹ حبیب بینک چورنگی، کراچی پریس کلب اور صدر پاکستان آصف علی زرداری کے گھر کے باہر پرامن احتجاجی دھرنا دینگے چاہے جتنے دن بھی لگ جائیں وہ اجتجاج کرتے رہیں گے، پولیس نے ضا بطے کی کارروائی کے بعد لاش مقتول کے والد کے سپرد کر دی۔

  • اڈیالہ جیل کے اطراف نیا سیکیورٹی پلان نافذ

    اڈیالہ جیل کے اطراف نیا سیکیورٹی پلان نافذ

    راولپنڈی: اڈیالہ جیل کے اطراف آج سے تاحکم ثانی نیا سیکیورٹی پلان نافذ کردیا گیا ہے-

    ذرائع کے مطابق جیل کے گرد سیکیورٹی انتظامات مزید سخت کرتے ہوئے مختلف مقامات پر مزید 6 پولیس ناکے قائم کردیے گئے ہیں، پولیس ناکے دا ہگل، گیٹ ون، گیٹ فائیو، فارما سوٹیکل فیکٹری اور گورکھپور میں قائم کیے گئے ہیں،اس کے علاوہ پرائیویٹ ہاؤسنگ سوسائٹی، چکری اور ٹھلیاں میں بھی پولیس ناکے لگائے گئے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق اڈیالہ جیل کے اطراف سیکیورٹی کے لیے مجموعی طور پر 435 پولیس ملازمین تعینات کیے جائیں گے سیکیورٹی انتظامات کے لیے رائٹ مینجمنٹ، ضلعی پولیس، ایلیٹ فورس اور ڈولفن فورس کے اہلکار بھی تعینات ہوں گے،نئے سیکیورٹی پلان کے تحت داہگل سے گورکھپور تک تمام پٹرول پمپس، ہوٹل، دکانیں اور کمرے بند کروائے جائیں گے –

    ذرائع کا کہنا ہے کہ جیل کے اطراف مختلف مقامات پر قائم پولیس ناکوں کے ذریعے سیکیورٹی انتظامات کو یقینی بنایا جائے گاسیکیورٹی سپرویژن کی ذمہ داری ایس پی صدر اور انچارج ڈی ایس پی صدر کے سپرد ہوگی نیا سیکیورٹی پلان آج سے تاحکم ثانی نافذ رہے گا۔

  • عالمی منڈی میں تیل  کی قیمتوں میں مزید اضافہ

    عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ

    امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوگیا۔

    عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت 97 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی جبکہ امریکی خام تیل ڈبلیو ٹی آئی 92 ڈالر فی بیرل سے زائد میں فروخت ہورہا ہے،دوسری جانب اماراتی خام تیل مربان کی قیمت بھی 106 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی ہے۔

    واضح رہے امریکا ایران کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر تیل کی سپلائی اور اس سے جڑے معاملات پر خدشات کے اثرات خام تیل کی قیمتوں پر نمایاں ہوئے ہیں جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا، برینٹ خام تیل عالمی سطح پر تیل کی قیمت کے اہم اشاریے کے طور پر استعمال ہوتا ہے جبکہ ڈبلیو ٹی آئی امریکی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت کا اہم معیار ہے۔ اماراتی مربان خام تیل بھی عالمی تیل مارکیٹ میں اہم حیثیت رکھتا ہے۔

    دوسری جانب عالمی سطح پر خام تیل کی بڑھتی قیمتوں کے اثرات پاکستان پر بھی پڑے جہاں حکومت نے گزشتہ شب پیٹرولیم مصنوعات کی قیتموں میں اضافہ کر دیا۔

    پیٹرولیم ڈویژن کے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 12 روپے 90 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 358 روپے 77 پیسے ہو گئی ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں 3 روپے 72 پیسے کا اضافہ کر دیا گیا جس کے بعد ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 381 روپے 77 پیسے ہو گئی، پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق 8 ستمبر کے لیے ہے۔