Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • پاکستان اور روس میں توانائی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق

    پاکستان اور روس میں توانائی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق

    پاکستان اور روس نے تجارت، توانائی، رابطہ کاری اور دیگر اہم شعبوں میں دوطرفہ تعاون مزید وسعت دینے، کثیرالجہتی فورمز پر رابطہ کاری مضبوط بنانے اور اعلیٰ سطح کے سفارتی روابط کا سلسلہ جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔

    دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے منیلا میں 33ویں آسیان ریجنل فورم کے وزارتی اجلاس سے قبل روسی فیڈریشن کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف سے ملاقات کی،ملاقات میں دونوں رہنماؤں نےپاکستان اور روس کے دوطرفہ تعلقات سمیت علاقائی اور عالمی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

    ملاقات کے دوران دونوں وزرائے خارجہ نے پاکستان اور روس کے دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لیا اور تجارت، توانائی، رابطہ کاری سمیت دیگر اہم شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا،دونوں رہنماؤں نے کثیرالجہتی فورمز پر باہمی تعاون اور رابطہ کاری کو مزید مضبوط بنانے پر بھی اتفاق کیا۔

    اس موقع پر اس بات پر زور دیا گیا کہ پاکستان اور روس کے درمیان شراکت داری کو فروغ دینے کے لیے اعلیٰ سطح کے روابط اور مسلسل سفارتی تبادلوں کا تسلسل نہایت اہم ہے،ملاقات میں خطے اور عالمی سطح پر پیش آنے والی اہم پیشرفت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، جبکہ دونوں فریقوں نے باہمی دلچسپی کے امور پر آئندہ بھی قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔

    یہ ملاقات 33ویں آسیان ریجنل فورم کے وزارتی اجلاس کے موقع پر ہوئی، جہاں مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ علاقائی سلامتی، اقتصادی تعاون اور عالمی چیلنجز سے متعلق امور پر غور کر رہے ہیں۔

  • فرانس میں بھی کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کا قانون منظور

    فرانس میں بھی کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کا قانون منظور

    فرانس کی پارلیمنٹ نے 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی سے متعلق ایک اہم قانون منظور کر لیا ہے۔

    اس قانون کو قومی اسمبلی اور سینیٹ، دونوں ایوانوں سے منظوری مل چکی ہے، تاہم اس پر عمل درآمد سے قبل فرانس کی آئینی کونسل اس کا جائزہ لے گی تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ قانون آئین سے مطابقت رکھتا ہے،جبکہ اس قانون کی منظوری کے بعد فرانس یورپی یونین کا پہلا بڑا ملک بن گیا ہے جس نے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کو محدود کرنے کے لیے اس نوعیت کا جامع اقدام کیا ہے۔

    قانون کے مطابق یکم ستمبر سے 15 سال سے کم عمر بچے سوشل میڈیا پر نئے اکاؤنٹس نہیں بنا سکیں گے اس کے بعد جنوری 2027 سے ایسے بچوں کے پہلے سے موجود اکاؤنٹس بھی بند کر دیے جائیں گے۔ فرانسیسی حکومت کے مطابق اگر کسی صارف کی عمر 15 سال سے کم ثابت ہوئی تو اس کا اکاؤنٹ بند کر دیا جائے گا، جبکہ صارفین کے ذاتی ڈیٹا کے تحفظ کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔

    یہ قانون انسٹاگرام، فیس بک، واٹس ایپ، ایکس، اسنیپ چیٹ، یوٹیوب اور ٹک ٹاک جیسے بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر لاگو ہوگا تاہم حکومت نے واضح کیا ہے کہ پابندی صرف سوشل میڈیا کے مواد شیئر کرنے والے حصے پر ہوگی، جبکہ میسجنگ سروسز اس قانون کے دائرہ کار میں شامل نہیں ہوں گی اسی طرح آن لائن انسائیکلوپیڈیا، تعلیمی اور سائنسی ویب سائٹس پر اس پابندی کا اطلاق نہیں ہوگا۔

    (فرانس کی قومی اسمبلی میں 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کے بل پر ووٹنگ کے نتائج اسکرین پر دکھائے گئے )
    فرانسیسی صدر ایمینوئل میکرون اس اقدام کے سب سے بڑے حامی رہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا بچوں میں تنہائی، ہراسانی اور ذہنی نشوونما پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہےانہوں نے ماضی میں یہ بھی کہا تھا کہ امریکی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور چین کے الگورتھمز نوجوانوں کے جذبات سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، جبکہ ہمارے بچوں کا دماغ فروخت کے لیے نہیں ہے۔

    فرانس کی صحت عامہ سے متعلق اداروں نے بھی گزشتہ برس خبردار کیا تھا کہ ٹک ٹاک، اسنیپ چیٹ اور انسٹاگرام جیسے پلیٹ فارمز نوجوانوں، خصوصاً لڑکیو ں، کی ذہنی صحت پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔ اسی دوران فرانس میں کئی خاندانوں نے ٹک ٹاک کے خلاف مقدمات بھی دائر کیے، جن میں دعویٰ کیا گیا کہ پلیٹ فارم پر موجود بعض نقصان دہ مواد کا تعلق نوعمر بچوں کی خودکشیوں سے تھا۔

    دوسری جانب فرانس کا یہ اقدام یورپ سمیت دنیا کے دیگر ممالک میں بھی توجہ حاصل کر رہا ہے۔ جرمنی، یونان، پرتگال، ڈنمارک، پولینڈ، آسٹریا، آئرلینڈ، نیدرلینڈز، برطانیہ اور کینیڈا سمیت کئی ممالک ایسے قوانین پر غور کر رہے ہیں یورپی یونین بھی موسم گرما کی تعطیلات کے بعد بچوں کی سوشل میڈیا تک رسائی محدود کرنے کے لیے اپنا قانون پیش کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جبکہ صارفین کی عمر کی تصدیق کے لیے ایک مشترکہ نظام پر بھی کام جاری ہے۔

    اگرچہ اس قانون کو بچوں کے تحفظ کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، تاہم اس پر تنقید بھی سامنے آئی ہے۔ تاہم بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں اور متعدد والدین نے اس قانون کا خیرمقدم کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے مقابلے میں بچوں کی حفاظت کے لیے ایسے اقدامات ضروری ہیں، بالکل اسی طرح جیسے کم عمر بچوں کو شراب یا دیگر نقصان دہ اشیا سے محفوظ رکھنے کے لیے قوانین موجود ہیں۔

  • نئی دہلی میں طلبا پر تشدد کے خلاف اپوزیشن کا احتجاج، راہول اور پریانکا گاندھی گرفتار

    نئی دہلی میں طلبا پر تشدد کے خلاف اپوزیشن کا احتجاج، راہول اور پریانکا گاندھی گرفتار

    بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں تعلیمی نظام اور طلبا پر پولیس تشدد کے خلاف اپوزیشن جماعت کانگریس نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی رہائش گاہ کے باہر احتجاج کیا۔ اس مظاہرے کے دوران پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے اپوزیشن رہنماؤں راہول گاندھی اور پریانکا گاندھی کو گرفتار کر لیا اور کچھ دیر بعد رہا کردیا۔

    انگریسی رہنماؤں نے وزیراعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امیت شاہ اور وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے فوری استعفے کا مطالبہ کیا ہے یہ سیاسی ہلچل کاکروچ جنتا پارٹی کی چھتری تلے طلبا کی صورت میں سڑکوں پر نکل آئی ہے ہزاروں کی تعداد میں نوجوان اور طلبا ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے اور حکومت مخالف نعرے لگاتے ہوئے میدان میں اترے ہوئے ہیں۔

    مودسی سرکار کی جانب سے ؛لاٹھی چارج اور تشدد کر نے کے باوجود مظاہرین کا کہنا ہے کہ ”مارو جتنا مارنا ہے، لیکن ہم نے نہیں ہارنا ہے“۔ پرجوش نوجوانوں کی یہ تحریک مسلسل بڑھ رہی ہے اور وہ پرانے تعلیمی نظام کو نامنظور کرتے ہوئے مودی کے نظام سے مایوسی کا اظہار کر رہے ہیں۔

    اس سے قبل سری لنکا میں 2022 کے معاشی بحران کے دوران عوامی تحریک نے راجا پاکسے خاندان کی حکومت کا خاتمہ کیا، بنگلہ دیش میں 2024 کے طلبا احتجاج نے شیخ حسینہ واجد کے 15 سالہ اقتدار کا تختہ الٹ دیا، جبکہ نیپال میں ستمبر 2025 میں ڈیجیٹل بغاوت سڑکوں پر آنے کے بعد محض 48 گھنٹوں کے اندر وزیراعظم کو استعفا دینا پڑا تھا،اب بھارت میں بھی نوجوانوں کا یہ احتجاج اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی بنتا دکھائی دے رہا ہے۔

  • سعودی تیل کے ٹینکرز باب المندب سے واپس لوٹ گئے

    سعودی تیل کے ٹینکرز باب المندب سے واپس لوٹ گئے

    یمن کے حوثی گروہ کی جانب سے سعودی عرب کا سمندری محاصرہ کرنے اور سعودی تیل لے جانے والے جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی کے بعد بحرِ احمر سے ایشیا جانے والے سعودی خام تیل کے دو بڑے ٹینکرز منگل کے روز واپس لوٹ گئے۔

    حوثیوں کی جانب سے جہاز رانی کی کمپنیوں کو خط کے ذریعے دھمکی دی گئی تھی کہ کوئی بھی جہاز جو سعودی تیل لوڈ یا ان لوڈ کرے گا اس پر حملہ کیا جائے گا۔
    اس تنازع کے باعث عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں دو فیصد سے زائد بڑھ کر 91 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہیں۔

    یمن بحرِ احمر کے جنوبی راستے باب المندب کے قریب واقع ہے، اور اس اہم راستے کی بندش سے توانائی بحران اور ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی میں ایک نیا محاذ کھل سکتا ہے۔

    آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد سے خلیجی ممالک کے تیل اور دیگر مصنوعات کی نقل و حمل کے لیے بحرِ احمر ایک انتہائی اہم متبادل راستہ بن چکا ہے۔ اگر یہ راستہ بھی متاثر ہوتا ہے تو مشرقِ وسطیٰ کے دونوں بڑے تیل برآمد کرنے والے راستے ایک ساتھ بند ہو جائیں گے۔

    پہلے ہی 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی جزوی ناکہ بندی سے خلیجی خطے سے تیل کی زیادہ تر برآمدا ت متاثر ہیں،ا س مصیبت سے نمٹنے کے لیے سعودی عرب نے اپنی خام تیل کی 70 فیصد برآمدات بحرِ احمر کی ینبع بندرگاہ کی طرف موڑ رکھی ہیں، ینبع سے یورپی ممالک کو جانے والے جہاز نہر سویز کے ذریعے شمال کی طرف اور ایشیا جانے والے جہاز باب المندب سے گزرتے ہیں اعداد و شمار کے مطابق جون میں باب المندب کے راستے روزانہ 7.4 ملین بیرل تیل منتقل ہوا جو عالمی پیداوار کا تقریباً سات فیصد ہے۔

    یمن میں حوثی تحریک کی شروعات 1990 کی دہائی میں ہوئی اور وہ گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے سعودی عرب کی حمایتی حکومت کے خلاف نبرد آزما ہیں دونوں فریقین کے درمیان 2022 میں ہونے والا معاہدہ قائم تھا، لیکن گزشتہ ہفتے صنعا ایئرپورٹ پر حملے کی وجہ سے تنازع دوبارہ بڑھ گیا حوثیوں نے اس کا ذمہ دار سعودی عرب کو ٹھہراتے ہوئے ابہا ایئرپورٹ پر میزائل داغے۔

  • عوام کا مطالبہ:یوکرینی صدر نے  آرمی چیف کو عہدے سے ہٹا دیا

    عوام کا مطالبہ:یوکرینی صدر نے آرمی چیف کو عہدے سے ہٹا دیا

    یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے فوج کے کمانڈر اِن چیف اولیکسینڈر سرسکی کو عہدے سے ہٹا کر ان کی جگہ میخائیلو ڈراپاتی کو نیا کمانڈر اِن چیف مقرر کر دیا ہے۔

    بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند روز قبل یوکرین کے وزیر دفاع میخائیلو فیڈوروف کو بھی عہدے سے ہٹایا گیا تھا، جس کے بعد ملک کے مختلف حصوں میں احتجاجی مظاہرے بھی دیکھنے میں آئے تھے وزیر دفاع فیڈوروف اور سابق آرمی چیف سرسکی کے درمیان اختلافات موجود تھے، تاہم بعد میں میڈیا رپورٹس میں ان اختلافات کی تصدیق بھی کی گئی۔

    رپورٹس کے مطابق 60 سالہ اولیکسینڈر سرسکی کو یوکرین کی فوج میں ایک ایسے کمانڈر کے طور پر دیکھا جاتا تھا جو سوویت دور کی عسکری سوچ کے حامی تھے اور فوجی اصلاحات کے حوالے سے محتاط مؤقف رکھتے تھے ان کی جگہ تعینات کیے جانے والے میخائیلو ڈراپاتی کو ایک تجربہ کار اور جنگی محاذ پر خدمات انجا م دینے والے مقبول فوجی افسر کے طور پر جانا جاتا ہے، اور جنہوں نے 2024 سے 2025 تک ملک کی بری افواج کی قیادت کی تھی مبصرین کے مطابق ان کی تقرری کو یوکرینی فوج میں اصلاحات اور نئی حکمت عملی کی جانب اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔

    صدر زیلنسکی نے منگل کی شب اپنے ویڈیو پیغام میں اولیکسینڈر سرسکی کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے 2022 میں روس کے مکمل حملے کے آغاز پر دارالحکومت کیف کے دفاع میں اہم کردار ادا کیا تھا،ہم سب ایک ہی چیز چاہتے ہیں، یعنی دشمن کو شکست دینا اور فرنٹ لائن کے ساتھ ساتھ روس پر دباؤ کے ذریعے ایسے حالات پیدا کرنا جو روس کو امن پر مجبور کر سکیں“۔

    نئی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد میخیلو ڈراپاتی نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا کہ ”میں مکمل توجہ، ذمہ داری اور ان لوگوں کے احترام کے ساتھ کام کروں گا جو آج ہمارے ملک کا دفاع کر رہے ہیں“۔

    سابق وزیرِ دفاع میخیلو فیڈوروف نے بھی ڈراپاتی کی تقرری کا خیرمقدم کرتے ہوئے لکھا کہ یہ آزادی اور انصاف کے لیے آزاد لوگوں کی جدوجہد میں ایک تازہ ہوا کا جھونکا اور امید کی ایک نئی کرن ہے یہ تبدیلی کی وہ آواز ہے جسے اب مزید نظرانداز نہیں کیا جا سکتا تھا،جبکہ احتجاج کرنے والے جنگی تجربہ کار دمیترو کوزیاتنسکی نے بھی اس تقرری کا جشن منایا۔

    جہاں تک سابق وزیرِ دفاع فیڈوروف کے مستقبل کا تعلق ہے، صدر زیلینسکی کا کہنا ہے کہ انہوں نے انہیں ریاست کے ٹیکنالوجی کے شعبے کی نگرانی کے لیے ایک باوقار عہدے کی پیشکش کی ہے، تاہم فیڈوروف پہلے اپنے پرانے عہدے پر ہی واپسی کی خواہش ظاہر کر چکے ہیں۔

  • نئے برطانوی وزیراعظم نے ایران پر امریکی حملوں کیلئے فوجی اڈوں کے استعمال کی منظوری دیدی

    نئے برطانوی وزیراعظم نے ایران پر امریکی حملوں کیلئے فوجی اڈوں کے استعمال کی منظوری دیدی

    برطانیہ کے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم نے ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں کے لیے برطانوی عسکری اڈوں کے استعمال کی منظوری دے دی ہے۔

    بلوم برگ کے مطابق برطانیہ کے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم نے امریکا کو ایران کے خلاف ان حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈے استعمال کرنے کی منظور ی دے دی ہے جنہیں برطانیہ "دفاعی کارروائیاں” قرار دیتا ہے۔اینڈی برنہم کا یہ فیصلہ سابق وزیراعظم کیئر اسٹارمر کی تیار کردہ پالیسی کا تسلسل ہے، جس کے تحت ان حملوں کو ایک کھلی جنگ کے بجائے دفاعی نوعیت کی کارروائی قرار دیا گیا ہے۔

    کیئر اسٹارمر نے اپنے عہدے سے سبکدوش ہونے سے قبل سینئر وزراء اور اعلیٰ حکام کے ساتھ اجلاس میں اس پالیسی کا جائزہ لیا تھا، تاہم نئے وزیراعظم کے دفتر سے اس فیصلے پر کوئی باقاعدہ بیان سامنے نہیں آیا ہےرپورٹ میں ذرائع کے حوالے بتایا گیا کہ کیئر اسٹارمر نے جمعہ کو سینئر وزرا اور اعلیٰ حکام کا اجلاس طلب کیا، جس میں رواں ماہ کے آغاز میں امریکی فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع ہونے کے بعد برطانیہ کی پالیسی پر غور کیا گیا۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ڈیاگو گارسیا اور آر اے ایف فیئرفورڈ کے فوجی اڈے امریکی طیاروں کے استعمال کے لیے بدستور دستیاب رہیں گے، تاکہ وہ ایرانی میزائل خطرات کا مقابلہ کر سکیں اور آبنائے ہرمز سے متعلق اہداف پر کارروائیاں جاری رکھ سکیں۔

    پیر کے روز وزیراعظم بننے والے اینڈی برنہم کو اجلاس میں ہونے والی گفتگو سے آگاہ کیا گیا اور انہوں نے اس فیصلے سے اتفاق کیا رپورٹ میں ان کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ دفاعی امریکی حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کی منظوری سے متعلق سابق حکومت کی پالیسی برقرار رکھیں گے اس فیصلے کا مطلب ہے کہ امریکا کی موجودہ فوجی کارروائیوں کے بعض مراحل میں برطانوی فوجی اڈے استعمال کیے جانے کا امکان ہے۔

    یہ پیش رفت امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف دسویں روز بھی جاری فوجی کارروائیوں کے بعد سامنے آئی ہے امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق رات بھر ایرانی فوجی کمانڈ سینٹرز، لانچ سائٹس اور فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا گیا،تاہم برطانوی حکام صدر ٹرمپ کی جانب سے پلوں اور بجلی گھروں پر حملوں کی دھمکیوں پر تشویش کا اظہار بھی کر رہے ہیں۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر سفارتی حل نہ نکلا تو ایران کا پکس ایکس ماؤنٹین پر واقع ایٹمی مرکز امریکی حملوں کا ہدف بن سکتا ہے امریکا کے اس موقف کے بعد ایران کی جانب سے بھی سخت ردِعمل ظاہر کیا گیا ہے۔

    ایران کے اعلیٰ عسکری کمانڈ سینٹر ’خاتم الانبیاء‘ کے ترجمان نے ایرانی نیشنل ٹی وی پر بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر واشنگٹن نے اسلامی جمہوریہ ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملہ کیا تو خطے بھر میں امریکی اور اس کے اتحادیوں کے تمام اثاثوں کو نشانہ بنایا جائے گا-

    اس بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد عرب خلیجی ممالک شدید تشویش میں مبتلا ہیں اور وہ امریکا پر زور دے رہے ہیں کہ وہ اسرائیل کو ایران پر مزید حملے کرنے سے روکےخلیجی ریاستوں کو خدشہ ہے کہ اگر اسرائیل نے کوئی کارروائی کی تو ایران ان کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو بھی جوابی کارروائی کا نشانہ بنا سکتا ہے،اس کے ساتھ ساتھ امریکا اور اسرائیل کے درمیان بن گوریان ایئرپورٹ پر اضافی امریکی ملٹری ری فیولنگ طیاروں کو کھڑا کرنے کی تجویز پر بھی غور ہو رہا ہے۔

  • محسن نقوی سے ایرانی وزیر داخلہ کی  ملاقات

    محسن نقوی سے ایرانی وزیر داخلہ کی ملاقات

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے اسلام آباد میں ملاقات کی۔

    وزارت داخلہ آمد پر محسن نقوی نے ایرانی ہم منصب کا پُر تپاک خیر مقدم کیا، فیڈرل کانسٹیبلری کے چاق و چوبند دستے نے ایرانی وزیر داخلہ کو سلامی پیش کی اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان وفود کی سطح پربھی مذاکرات ہوئے، دونوں وزرائے داخلہ نے دوطرفہ تعلقات اور باہمی تجارت کو مزید مستحکم بنانے کا عزم کیا اور علاقائی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

    پاکستان اور ایران نے انسداد دہشت گردی اور انسداد منشیات کے شعبوں میں اشتراک بڑھانے، غیر قانونی امیگریشن اور انسانی سمگلنگ کی روک تھام کیلئے تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا دونوں ممالک نے افغان سرحد سے منشیات اور دہشتگردی روکنے کے لیے مشترکہ موقف اپنانے کی ضرورت پر زور دیا جبکہ دوطرفہ اشتراک کار بڑھانے کے لئے کوآرڈینیشن بہتر بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔

    محسن نقوی کا کہنا تھا کہ پاکستان ایران کے ساتھ تمام شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے تیار ہے، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے امن کیلئے غیر معمولی کام کیا۔ امید ہے اب بھی اچھی خبر جلد سامنے آئے گی اور امن قائم ہو گا۔

    ایرانی وفد میں گورنر جنرل سیستان بلوچستان، نائب وزیر داخلہ، نائب وزیر اربن ڈویلپمنٹ ٹرانسپورٹ، نیشنل ایرانی آئل کمپنی کے سربراہ، وزیر زراعت کے خصوصی نمائندے اور دیگر اعلیٰ حکام شامل تھے۔

    وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری، وفاقی سیکرٹری داخلہ، چیئرمین نادرا، ڈی جی ایف آئی اے، ڈی جی اینٹی نارکوٹکس فورس، آئی جی فیڈرل کانسٹیبلری، ڈی جی این سی سی آئی اے، ڈی جی امیگریشن اینڈ پاسپورٹس، چیئرمین سی ڈی اے، آئی جی اسلام آباد پولیس اور ایڈیشنل سیکرٹریز داخلہ بھی اس موقع پر موجود تھے۔

  • امریکا کے ایران پر مسلسل گیارہویں رات فضائی حملے

    امریکا کے ایران پر مسلسل گیارہویں رات فضائی حملے

    ایران کے خلاف مسلسل گیارہویں رات فضائی حملے کیے، جن میں متعدد فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے-

    سینٹ کام کے مطابق ایران کے خلاف مسلسل گیارہویں رات فضائی حملے کیے، جن کا مقصد ایران کی آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کو خطرے میں ڈالنے کی صلاحیت کو کمزور کرنا بتایا گیا ہے حملوں میں ایرانی فوجی آپریشن مراکز، بحری تنصیبات، طیاروں کے ہینگرز، ڈرون ذخیرہ گاہوں اور فوجی لاجسٹک انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا۔منگل کی رات کیے گئے یہ حملے تقریباً 75 منٹ تک جاری رہے۔

    دوسری جانب ایرانی میڈیا کے مطابق تہران، بوشہر، سیریک، بہبہان، امیدیہ اور تبریز کے قریب مختلف مقامات پر دھماکے ہوئے جبکہ تہران میں فضائی دفاعی نظام بھی فعال کر دیا گیا،مقامی حکام نے تبریز کے مضافات میں فوجی تنصیب پر حملے کی تصدیق کی، تاہم شہر کے اندر کسی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

    ادھر کویتی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران کی جانب سے بھیجے گئے ایک ڈرون کو مار گرایا۔ ایران اس ماہ امریکی کارروائیوں کے دوبارہ آغاز کے بعد کویت، بحرین اور قطر سمیت کئی خلیجی ممالک کو بھی نشانہ بنا چکا ہے-

    امریکا اور ایران کے درمیان اس جنگ کا آغاز 28 فروری کو اس وقت ہوا تھا جب امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے بھی اسرائیل اور ان خلیجی ریاستوں پر جوابی کارروائیاں کیں جہاں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں اس جنگ کے دوران ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں اور لبنان پر اسرائیلی کارروائیوں کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں۔

    ایرانی وزارتِ صحت کے ایک اہلکار کے مطابق سیز فائر ختم ہونے کے بعد ایران پر کیے گئے حالیہ امریکی حملوں میں 50 شہری ہلاک اور 500 زخمی ہوئے ہیں۔

    دوسری جانب جنگ میں ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد بھی حالیہ دنوں میں بڑھ کر 18 ہو گئی ہے،واشنگٹن کا کہنا ہے کہ گزشتہ تین مہینوں کے دوران ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے 30 سے زائد تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا ہے۔

    امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ واشنگٹن اب بھی سفارتی حل کا خواہاں ہے، تاہم ایران کو مذاکرات میں سنجیدگی دکھانا ہوگی، انہوں نے کہا کہ امریکا آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے جبکہ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کانگریس کو بتایا کہ ایران کے خلاف کارروائیوں پر اب تک 37.5 ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں جبکہ پینٹاگون کو مزید 90 ارب ڈالر درکار ہیں۔ اس مطالبے پر ڈیموکریٹ ارکان نے شدید اعتراضات کیے-

    پیر کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد ایران سے بدلہ لینے کا عزم ظاہر کیا تھا۔

    اس سے قبل گزشتہ ہفتے صدر ٹرمپ نے ایران میں توانائی کے پاور پلانٹس اور پلوں کو بھی اپنے عسکری ہدف کا حصہ بنانے کی دھمکی دی تھی۔

    جنگوں میں انسانی حقوق کے تحفظ سے متعلق 1949 کے جنیوا کنونشنز ایسے تمام مقامات پر حملوں کی سخت ممانعت کرتے ہیں جو عام شہریوں کی زندگی کے لیے ضروری سمجھے جاتے ہیں صدر ٹرمپ کی جانب سے ان تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکیوں کے بعد امریکا کے بین الاقوامی قانون کے ماہرین نے اپریل میں خبردار کیا تھا کہ اس طرح کے حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔

  • موریطانیہ کے ساحل پر کشتی حادثہ، 143 پناہ گزین لاپتا

    موریطانیہ کے ساحل پر کشتی حادثہ، 143 پناہ گزین لاپتا

    موریطانیہ کے ساحل کے قریب یورپ جانے کی کوشش کرنے والی ایک کشتی کے حادثے میں کم از کم 143 پناہ گزین اور تارکین وطن ہلاک یا لاپتا ہو گئے ہیں۔

    اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین یعنی یواین ایچ سی آر نے ایک بیان میں بتایا کہ یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب 14 سے 18 جولائی کے دوران مور یطانیہ کے ساحل کے قریب 3 مختلف امدادی کارروائیوں میں دیگر خراب کشتیوں سے 387 افراد کو بحفاظت بچایا گیا تھا یہ کشتی گیمبیا کے علاقے بافولوٹو سے روانہ ہوئی تھی اور 25 روز تک سمندر میں بھٹکنے کے بعد 18 جولائی کو ریسکیو کی گئی۔

    ادارے کے مطابق کشتی جب موریطانیہ کی بندرگاہ نواذیبو پہنچی تو اس میں متعدد لاشیں اور 38 زندہ بچ جانے والے افراد موجود تھےیو این ایچ سی آر کے ترجمان میٹ سالٹ مارش نے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا کہ بچ جانے والوں میں 2 بچے بھی شامل ہیں، جنہوں نے اس سفر کے دوران اپنے تمام اہل خانہ کو کھو دیا،مذکورہ دونوں بچوں کو علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا ہے،14 جولائی کو موریطانیہ پہنچنے والی ایک اور کشتی میں بھی ایک شخص جان کی بازی ہار گیا۔

    ہلاک ہونے والے افراد کا تعلق افریقہ کے صحرائے اعظم کے جنوب میں واقع مختلف ممالک سے تھا، تاہم ان کی اموات کی وجوہات کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں موریطانیہ کے ساحلی محافظوں کےمطابق کشتی میں 160 افراد سوار تھے اور روانگی کے کچھ عرصے بعد اس کا ایندھن ختم ہو گیا، جس کے باعث 122 افراد لاپتا ہو گئے۔

    یو این ایچ سی آر نے کینری جزائر جانے والے سمندری راستے کو دنیا کے خطرناک ترین راستوں میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا کہ طویل فاصلے، گنجائش سے زیادہ مسافروں اور غیر محفوظ کشتیوں کی وجہ سے اس راستے پر اموات کی شرح بہت زیادہ ہے لوگوں کو خطرناک سمندری سفر سے روکنے کے لیے تعلیم، روزگار اور بہتر معاشی مواقع فراہم کرنا ناگزیر ہے۔

    واضح رہے کہ موریطانیہ بحرِ اوقیانوس کے اس راستے پر ایک اہم روانگی کا مقام ہے، جہاں سے ہر سال ہزاروں تارکین وطن اسپین کے زیرِ انتظام کینری جزائر پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں تاہم یورپی یونین کی مالی معاونت سے موریطانیہ میں تارکین وطن کے خلاف کارروائیوں کے بعد وہاں پہنچنے والوں کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے، ناقدین کے مطابق اس کے نتیجے میں تارکین وطن مزید طویل اور خطرناک سمندری راستے اختیار کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔

  • اقبال ندیم  کے صاحبزادے کے دو قاتل گرفتار

    اقبال ندیم کے صاحبزادے کے دو قاتل گرفتار

    ہربنس پورہ فائرنگ کیس، مرکزی ملزم سمیت 2 ملزمان گرفتار ہو گئے-

    ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے بتایا کہ عدالت پیشی پر جانے والوں پر فائرنگ میں ملوث عبید علی اور نیاز قانون کی گرفت میں آ گئے،ابتدائی تفتیش کے مطابق واقعہ سابقہ دشمنی کا شاخسانہ ہے، مقتول سعد کے والد اقبال ندیم کی مدعیت میں تھانہ ہربنس پورہ میں مقدمہ نمبر 2711/26 درج کر لیا گیا ہے-

    ڈی آئی جی آپریشنز کے مطابق ملزمان کے خلاف قتل اور دیگر متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج، قانونی کارروائی جاری ہے،گرفتار ملزمان کو مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن ونگ کے حوالے کر دیا گیا،دیگر ملوث ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے جاری، جلد قانون کی گرفت میں لایا جائے گا، لاہور پولیس تمام شواہد کی روشنی میں تحقیقات آگے بڑھا رہی ہے، واقعے کے ہر پہلو کا جائزہ لیا جا رہا ہے-