Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • تحریک انصاف اور جمعیت علما اسلام (ف) کے رابطوں کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی

    تحریک انصاف اور جمعیت علما اسلام (ف) کے رابطوں کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی

    تحریک انصاف اور جمعیت علما اسلام (ف) کے رابطوں کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی-

    باوثوق زرائع کے مطابق تحریک انصاف اور جمعیت علما اسلام (ف) کے بڑوں کے اہم رابطے ہوئے جس میں دونوں اطراف سے باہمی تعلقات کو بہتر کرنے پر تجاویز دی گئی تاکہ یہ مل کر حکومت وقت کے خلاف ایک مضبوط محاذ بنا سکیں۔

    جمعیت کی طرف سے اہم شرط یہ تھی کہ مولانا کے بھائی عطاالرحمان صاحب کو وزیر اعلی خیبر پختونخواہ بنایا جائے تحریک انصاف کے وفد نے جب کہا کہ آپ کے پاس اتنی سیٹس نہیں کہ آپ یہ ڈیمانڈ کر سکیں تو جمعیت کے وفد نے کہا کہ آپ نے پنجاب میں ق لیگ کی دس سیٹیں ہونے کے باوجود پرویز الہی صاحب پر جب اعتماد کیا تو پھر ہم پر کیوں نہیں۔

    دوسری اہم پیشکش مولانا فضل الرحمان کو جوائنٹ اپوزیشن لیڈر بنانے کی تھی،دونوں وفود اس بات پر متفق نظر آئے کے محمود اچکزئی اور راجہ ناصر عباس ایک کمزور انتخاب ثابت ہوئے، ان کی نہ اسمبلی میں طاقت ہے اور نہ ہی یہ میدان میں کچھ خاطر خواہ کام کر سکے، تحریک انصاف انہیں اپنی مدد کے لیے لے کر آئی لیکن یہ تحریک انصاف کے سہارے سانس لے رہیں ہیں، جبکہ مولانا فضل الرحمان کا خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں اچھا خاصا اثر ہے، اگر یہ تحریک انصاف کے ساتھ مل گئے تو طاقت دوگنا ہو گی۔

    مولانا کی تجاویز کو جب تحریک انصاف کے حلقوں میں علیحدہ جانچہ گیا تو علیمہ خانم گروپ کے ممبران نے وزارت اعلی اور اپوزیشن لیڈر والی تجاویز پر سخت تشویش ظاہر کی، ان کے مطابق یہ اپنے ہاتھ کٹانے کے برابر ہے، اگر ایسا کیا گیا تو تحریک انصاف کو جمعیت ہائجیک کر لے گی، دوسری طرف بیرسٹر گوہر گروپ اور انفرادی طور پر سہیل آفریدی مولانا کی تجاویز پرلبیک کہتے نظر آئے۔

    اب تو یہ وقت بتائے گا کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھا لیکن یہ رابطے سیاست میں ایک ہلچل پھیلانے کا پیش خیمہ ہے-

  • فیلڈ مارشل سے ایرانی وزیر داخلہ کی ملاقات، خطے میں بڑھتی کشیدگی پر تبادلہ خیال

    فیلڈ مارشل سے ایرانی وزیر داخلہ کی ملاقات، خطے میں بڑھتی کشیدگی پر تبادلہ خیال

    فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے ملاقات کی ، ملاقات میں خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے جب کہ ایرانی وزیر داخلہ نے علاقائی کشیدگی کم کرنے اور امن کے فروغ میں پاکستان کے کردار کی تعریف کی ہے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق منگل کے روز ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) راو لپنڈی کا دورہ کیا اور آرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات کی اس ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی اور دو طرفہ سیکیورٹی اور مؤثر بارڈر مینجمنٹ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق ایرانی وزیر داخلہ نے علاقائی کشیدگی کو کم کرنے اور امن کے لیے بامقصد کوششوں پر پاکستان کی مؤثر سفارتی کردار کو سراہا،ملاقات میں علاقائی سلامتی اور باہمی خوشحالی کے فروغ کے لیے قریبی رابطہ کاری اور تعاون پر مبنی میکانزم کو برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ بھی کیا گیا۔

    قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف سے ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات کی، جس میں باہمی دلچسپی کے امور اور خطے کی مجموعی صورت حال پر غور کیا گیا، ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم کو ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا خصوصی پیغام بھی پہنچایا اور حالیہ کشیدگی کی وجوہات سے بھی آگاہ کیا جب کہ اسکندر مومنی نے ایران امریکا مذاکرات میں پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کی تعریف کی۔

  • ابراہم لنکن کے دور میں پیدا ہونیوالی  شارک ساحل پر مردہ پائی گئی، پوسٹ مارٹم رپورٹ نے سائنسدانوں کو دنگ کر دیا

    ابراہم لنکن کے دور میں پیدا ہونیوالی شارک ساحل پر مردہ پائی گئی، پوسٹ مارٹم رپورٹ نے سائنسدانوں کو دنگ کر دیا

    آئرلینڈ کے مغربی ساحل پر پہلی مرتبہ ایک نایاب گرین لینڈ شارک مردہ حالت میں ملنے کے بعد سائنسدانوں کو دنیا کے طویل ترین عرصے تک زندہ رہنے والے فقاری (ریڑھ کی ہڈی رکھنے والے) جانور کے بارے میں نئی معلومات حاصل کرنے کا موقع ملا ہے۔

    بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ شارک تقریباً 150 سے 200 سال عمر کی تھی تاہم اس نسل کی شارک 400 سال یا اس سے بھی زیادہ عمر تک زندہ رہ سکتی ہے اپریل 2026 میں آئرلینڈ کے کاؤنٹی سلائگو کے ساحل پر تقریباً 3 میٹر (10 فٹ) لمبی گرین لینڈ شارک مردہ حالت میں ملی، یہ آئرلینڈ میں اس نوع کی پہلی ریکارڈ شدہ شارک ہے جو ساحل پر آ لگی۔

    آئرش وہیل اینڈ ڈولفن گروپ سے تعلق رکھنے والی بحری حیاتیات کی ماہر ایملی ڈی لوس نے کہا کہ اس شارک کو دیکھ کر تمام محققین حیران رہ گئے، یہ سوچ کر ہی انسان دنگ رہ جاتا ہے کہ یہ جانور ڈیڑھ صدی سے زیادہ عرصہ زندہ رہا اور اس دوران دنیا میں کتنی بڑی تبدیلیاں دیکھ چکا ہوگا-

    ماہرین کے مطابق اس شارک کی جسامت سے اندازہ لگایا گیا کہ یہ کم از کم 150 سال پرانی تھی یعنی اس کی پیدائش اس زمانے میں ہوئی تھی جب برطانیہ میں ملکہ وکٹوریہ کی حکومت تھی، امریکا میں ابراہم لنکن صدر تھے، سمندروں میں بادبانی جہاز چلتے تھے اور گاڑی ابھی ایجاد بھی نہیں ہوئی تھی۔

    تاہم سائنسدانوں کے مطابق گرین لینڈ شارک کے معیار کے لحاظ سے یہ عمر زیادہ نہیں سمجھی جاتی کیونکہ یہ مچھلی تقریباً 150 سال کی عمر میں بالغ ہوتی ہے اور اسی کے بعد افزائش نسل شروع کرتی ہے گرین لینڈ شارک کو دنیا کا سب سے زیادہ عمر پانے والا فقاری (یا ورٹیبریٹس) جانور سمجھا جاتا ہے۔

    سائنسدانوں کا اندازہ ہے کہ اس کی عمر 300 سے 500 سال کے درمیان ہو سکتی ہے، جبکہ زیادہ تر تحقیق تقریباً 400 سال کی اوسط عمر کی نشاندہی کرتی ہے اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آج سمندر میں تیرنے والی بعض گرین لینڈ شارکس کی پیدائش ولیم شیکسپیئر کے دور میں ہوئی ہو۔

    شارک کا وزن 200 کلوگرام سے زیادہ تھا جسے کرین کی مدد سے ویٹرنری لیبارٹری منتقل کیا گیا جہاں مختلف اداروں کے سائنسدانوں نے اس کا تفصیلی پوسٹ مارٹم (نی کروپسی) کیا،تحقیقی ٹیم نے خصوصی حفاظتی لباس، دستانے اور ماسک پہن کر شارک کے تمام اعضا کا معائنہ کیا کیونکہ اتنی پرانی مخلوق کے جسم میں ایسے جراثیم یا وائرس موجود ہونے کا امکان بھی خارج نہیں کیا جا سکتا جو کئی دہائیوں یا صدیوں سے محفوظ رہے ہوں۔

    سائنسدانوں نے شارک کے جسم پر مچھلی پکڑنے والے جال یا کسی چوٹ کے آثار تلاش کیے تاہم انہیں کوئی واضح زخم نہیں ملا ممکن ہے شارک کسی اندرو نی بیماری کا شکار ہوئی ہو تاہم اس کی اصل وجہ جاننے کے لیے مختلف اعضا اور ٹشوز کے نمونوں کا لیبارٹری میں مزید تجزیہ کیا جا رہا ہے۔

    گرین لینڈ شارک شمالی بحر اوقیانوس اور قطب شمالی کے برفیلے پانیوں میں پائی جاتی ہے یہ بہت آہستہ تیرنے والی شارک ہے جو زیادہ تر مردہ جانوروں کو کھاتی ہے تاہم بعض اوقات زندہ شکار، خصوصاً سیل مچھلیوں کو بھی پکڑ لیتی ہے۔

    سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس کے جسم میں موجود مخصوص کیمیائی مادے قدرتی اینٹی فریز کا کام کرتے ہیں جس کی وجہ سے یہ شدید سرد پانی میں بھی زندہ رہتی ہے تاہم یہی مادے اس کے گوشت کو زہریلا بھی بنا دیتے ہیں۔

    سمندری حیاتیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اتنی بڑی شارک کے بارے میں آج بھی بنیادی معلومات موجود نہیں،ابھی تک سائنسدان یہ نہیں جان سکے کہ یہ شارک کہاں ملاپ کرتی ہے، کہاں بچوں کو جنم دیتی ہے، ایک بار میں کتنے بچے پیدا کرتی ہے یا کتنے عرصے بعد افزائش نسل کرتی ہے۔

    اسی وجہ سے دنیا میں موجود گرین لینڈ شارکس کی درست تعداد کا اندازہ لگانا بھی ممکن نہیں جس کے باعث ان کے تحفظ کے لیے مؤثر منصوبہ بندی کرنا مشکل ہو جاتا ہے پوسٹ مارٹم کے دوران شارک کی آنکھیں بھی نکالی گئیں تاکہ ان کے عدسوں کے ذریعے ریڈیو کاربن ڈیٹنگ سے اس کی درست عمر معلوم کی جا سکے۔

    حال ہی میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق گرین لینڈ شارک کی بینائی پہلے سمجھی جانے والی کمزور نہیں بلکہ حیرت انگیز طور پر مؤثر ہوتی ہے ماہر ین کے مطابق اس کی آنکھیں انتہائی کم روشنی میں بھی کام کرنے کے لیے قدرتی طور پر ڈھلی ہوئی ہیں اور ایک صدی سےزیادہ عمر کےبعد بھی ان کے خلیات تقریباً مکمل طور پر فعال رہتے ہیں،34 کلوگرام کا دل بھی صدیوں تک کام کرتا رہتا ہےتحقیقی ٹیم نے شارک کا تقریباً 34 کلوگرام وزنی دل بھی نکالا جو انسانی دل کے مقابلے میں 100 گنا سے بھی زیادہ بڑا تھا۔

  • مسلم لیگ کا منشور یہی ہے کہ جو ترقی پنجاب میں ہورہی ہے وہ آزاد کشمیر میں ہو، مریم نواز

    مسلم لیگ کا منشور یہی ہے کہ جو ترقی پنجاب میں ہورہی ہے وہ آزاد کشمیر میں ہو، مریم نواز

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا مسلم لیگ کا منشور یہی ہے کہ جو ترقی پنجاب میں ہورہی ہے وہ آزاد کشمیر میں ہو، آزاد کشمیر جھوٹے وعدے کرنے والوں کا نہیں وعدے نبھانے والوں کا ہے-

    مظفرآباد میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا ن لیگ کی حکومت آئی تو آزادکشمیر کے ہر گاؤں میں سڑکیں بنائیں گے، مسلم لیگ (ن) کی سیاست ترقی، تعلیم اور عوامی خدمت کی سیاست ہے، ہم کشمیری نوجوانوں کے ہاتھوں میں ڈنڈے نہیں بلکہ لیپ ٹاپ دیکھنا چاہتے ہیں، اگر عوام نے مسلم لیگ (ن) پر اعتماد کیا تو آزاد کشمیر کی قسمت بدل جائے گی اور ریاست میں بھی پنجاب طرز کے ترقیاتی اور فلاحی منصوبے شروع کیے جا ئیں گے۔

    مریم نواز نے کہا کہ کشمیر اور پاکستان کا رشتہ لازوال ہے، جسے دنیا کی کوئی طاقت ختم نہیں کر سکتی،انہوں نے کسی جماعت کا نام لیے بغیر سیاسی مخالفین کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگ آزاد کشمیر آ کر صرف تقریریں کرتے ہیں، دوسروں پر الزامات عائد کرتے ہیں اور واپس چلے جاتے ہیں، لیکن وہ یہ بھی بتائیں کہ ریاست میں حکومت کس کی ہے اور عوام کے مسائل حل کرنے کے لیے انہوں نے کیا اقدامات کیے۔

    مریم نواز نے اپناگھر اپنی چھت اسکیم کے تحت آزاد کشمیر میں 5 لاکھ تک گھر بنانے کا اعلان کرتے ہوئےکہا کہ آزاد کشمیر میں دھی رانی پروگرام شروع کریں گے، نوجوانوں کو کاروبار کے لیے بلا سود قرض دیں گے، نوجوانوں کو لیپ ٹاپ اور الیکٹرک بائیک بھی فراہم کریں گے، آزاد کشمیر کے 2 ہزار طلباء کو ہونہار اسکالرشپ دیں گے، آزاد کشمیر کے 400 بچوں کا لاہور میں مفت علاج کیا گیا، پنجاب کے فلاحی منصوبے آزاد کشمیر میں بھی شروع کریں گے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب نے مظفرآباد کے لیے 10 گرین بسوں کا تحفہ دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ بسیں جلد آزاد کشمیر پہنچ جائیں گی تاکہ شہریوں کو جدید سفری سہولیات میسر آ سکیں،15 موبائل اسپتال بھی جلد اپنی خدمات کا آغاز کریں گے، جس سے دور دراز علاقوں کے عوام کو علاج معالجے کی بہتر سہولت حاصل ہوگی۔

    مریم نواز نے کہا کہ مسلم لیگ کا منشور یہی ہے کہ جو ترقی پنجاب میں ہورہی ہے وہ آزاد کشمیر میں ہو، آزاد کشمیر جھوٹے وعدے کرنے والوں کا نہیں وعدے نبھانے والوں کا ہے، صرف وعدے نہیں پنجاب کی کارکردگی لے کر آپ کے پاس آئی ہوں، جتنا مضبوط پاکستان ہوگا اتنا ہی مضبوط آزاد کشمیر بھی ہوگامیں مظفرآباد مہمان بن کر نہیں آئی یہ آزاد جموں کشمیر میرا ہے، میں خون سے بھی کشمیری ہوں دل اور دماغ سے بھی کشمیری ہوں، میں روح سے اور نسلوں سے بھی کشمیری ہوں۔

    انہوں نے کہاکہ 2021 کے انتخابی مہم میں جتنی محبتیں اور دعائیں ملی تھیں وہ بھول نہیں سکتی، اس الیکشن میں آزاد کشمیر میں ہماری 17 نشستیں اور اس وقت کے وزیراعظم کی 3 نشستیں تھی، اس وقت کے وزیراعظم نے کہا کہ آزاد کشمیر کے نتائج الٹ دو، اس لیے آج یہاں مسائل ہیں، انہوں نے مجھے نوازشریف کے سامنے گرفتار کیا تاکہ میں کشمیر نہ جاسکوں، آج وہی نواز شریف اور مریم نواز یہاں آزاد کشمیر میں کھڑے ہیں۔

    مریم نواز نے کہا کہ وہ یہاں ووٹ مانگنے نہیں آئے لیکن اگر آپ نے ن لیگ کو منتخب کیا تو یہ وعدہ ہے کہ آزاد کشمیر کی قسمت بدل جائیگی، انہوں نے کہا جہاں ن لیگ کی حکومت ہے وہاں کے حالات اور دیگر جگہوں کی حالات دیکھ لیں، حالات میں یہ فرق کیوں ہے، یہ فرق نواز شریف اور ن لیگ ہے، پنجا ب کے چپے چپے پر ترقی ہے، جب تک آزادکشمیر کے ہر بچے کو مفت تعلیم نہیں ملے گی، ہم آرام سے نہیں بیٹھیں گے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب نے دعویٰ کیا کہ کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کی محنت کی وجہ سے پنجاب میں جرائم نہ ہونے کے برابر ہیں، پنجاب میں صوبائی وزیر تعلیم کا بیٹا سرکاری اسکول میں پڑھتا ہے،کل ایک ویڈیو دیکھی جس میں بابا جی جلسہ گاہ میں بیٹھے ہوئے تھے، لوگوں نے پوچھا تو بابا جی نے کہا کہ نوازشریف کا جلسہ ہے، بابا جی کو بتایا گیا کہ جلسہ تو کل ہے باباجی نے کہا میں شوق میں آج آگیا، بابا جی نے کہا کہ جلسے میں ہماری بیٹی مریم نواز آرہی ہیں۔

    انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ آئندہ انتخابات میں مسلم لیگ (ن) پر اعتماد کریں تاکہ آزاد کشمیر میں ترقی، خوشحالی، تعلیم، صحت اور بنیادی سہولیات کے ایک نئے دور کا آغاز کیا جا سکےمیں وزیراعظم پاکستان سے کہوں گی کہ آزاد کشمیر کے نوجوانوں کو کاروبار کے لیے بلاسود قرضہ دیا جائے، جبکہ اسپیشل افراد کو ہمت کارڈ دیے جائیں گے۔

  • حوثیوں کی سعودی جہازوں اور شپنگ کمپنیوں کو براہِ راست وارننگ

    حوثیوں کی سعودی جہازوں اور شپنگ کمپنیوں کو براہِ راست وارننگ

    یمن کے ایران نواز حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف اعلان کردہ بحری ناکا بندی پر عملی اقدامات شروع کرتے ہوئے سعودی جہازوں اور بین الاقوامی شپنگ کمپنیوں کو براہِ راست وارننگ جاری کر دی ہے۔

    امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کے مطابق حوثیوں نے بحیرۂ احمر میں جہاز رانی کے لیے ایف ایم ریڈیو پر انگریزی زبان میں ایک مختصر پیغام نشر کیا، جس میں سعودی عرب سے وابستہ تمام جہازوں کو ریڈ سی کے بجائے خلیجِ عدن کے راستے سفر کرنے کی ہدایت کی گئی پیغام میں کہا گیا کہ اگر سعودی جہازوں نے حوثیوں کی ہدایات پر عمل نہ کیا تو وہ ان کے حملوں کا ہدف بن سکتے ہیں۔

    یونان کی میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی مارسکس کے مطابق یہ اعلان خطے میں سمندری سلامتی کی صورتِ حال میں ایک اہم اور خطرناک پیشرفت ہے، کیونکہ اب کشیدگی فضائی اور سیاسی محاذ سے بڑھ کر بحری راستوں تک پہنچ چکی ہے، اگر حوثیوں نے اس ناکا بندی پر عملی کارروائی شروع کی تو ابتدائی طور پر سعودی ملکیت یا سعودی مفادات سے وابستہ تجارتی جہاز نشانہ بن سکتے ہیں۔

    واضح رہے کہ حوثیوں نے پیر کے روز سعودی عرب کے خلاف بحری ناکا بندی کا اعلان کیا تھا، بیان میں کہا گیا تھا کہ 20 جولائی سے سعودی بندرگاہوں پر کارگو کی نقل و حرکت حوثیوں کی جانب سے ممنوع تصور کی جائے گی، جب کہ خلاف ورزی کرنے والے جہاز پابندیوں اور ممکنہ فوجی کارروائی کی زد میں آ سکتے ہیں۔

    حوثیوں کی جانب سے شپنگ کمپنیوں کو ای میل کے ذریعے بھی خبردار کیا گیا کہ وہ سعودی عرب کی کسی بھی بندرگاہ پر سامان کی لوڈنگ یا ان لوڈنگ سے گریز کریں،ایسی سرگرمی میں ملوث جہازوں کو کسی بھی مقام پر نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

    سعودی جہازوں کے خلاف بحری ناکا بندی کے اعلان کے بعد سعودی عرب کی جانب سے اس کی سخت مذمت کی گئی بحیرۂ احمر اس وقت سعودی عرب کے لیے تیل کی برآمدات کا اہم متبادل راستہ بن چکا ہے، کیونکہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں جہاز رانی شدید متاثر ہوئی ہے۔

    بحری تجزیاتی ادارے ’کپلر‘ کے اعداد و شمار کے مطابق 15 سے 19 جولائی کے دوران باب المندب کی گزرگاہ سے 209 تجارتی جہاز گزرے، جب کہ حوثی ماضی میں بھی اس علاقے میں متعدد جہازوں پر حملے کر چکے ہیں،باب المندب دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سمندر ی تجارت کا تقریباً 15 فی صد حصہ گزرتا ہے،ماہرین کے مطابق 2023 سے 2025 کے دوران اس علاقے میں بحری آمدورفت متاثر ہونے سے عالمی شپنگ صنعت کو سالانہ تقریباً 20 ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا۔

  • وزیراعظم آفس میں اے آئی پر مبنی جدید ٹریکنگ اور فیصلہ سازی نظام کا افتتاح

    وزیراعظم آفس میں اے آئی پر مبنی جدید ٹریکنگ اور فیصلہ سازی نظام کا افتتاح

    وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے وزیراعظم آفس میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی جدید ٹریکنگ اور فیصلہ سازی نظام کا افتتاح کر دی-

    وزیراعظم آفس میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے مصنوعی ذہانت پر مبنی جدید ٹریکنگ اور فیصلہ سازی نظام پر مکمل عملدرآمد کی ہدایت کرتے ہوئے کہاکہ آج کے بعد کوئی روایتی فائل سسٹم نہیں ہوگا اور عوامی فلاح و بہبود اور خدمت کو یقینی بنانے کے لیے اس نظام کا مکمل نفاذ یقینی بنایا جائے-

    انہوں نے اس نظام کی تیاری اور فعالیت پر وفاقی وزرا احد خان چیمہ، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام کی کاوشوں کو سراہا اور ہدایت کی کہ تمام وزارتیں اس نظام کو اختیار کرتے ہوئے اپنے امور اسی کے تحت انجام دیں،وزیراعظم نے کہاکہ اب روایتی انداز میں فائلیں لے کر گھومنے کی ضرورت نہیں، تمام امور اس جدید نظام کے ذریعے نمٹائے جائیں۔

    اس موقع پر وفاقی وزیر احد چیمہ نے کہاکہ جدید طرز حکمرانی کے لیے مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا پر مبنی نظام فعال کر دیا گیا ہے، جو حکومتی فیصلوں میں شفافیت اور بروقت اقدامات کے حوالے سے انتہائی اہم ثابت ہوگا وزیراعظم کی ہدایت کی روشنی میں فیصلہ سازی میں جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لایا جا رہا ہے، جبکہ مؤثر پالیسی سازی اور ڈیٹا پر مبنی نتائج کے حصول کے لیے یہ نظام انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

    احد چیمہ نے کہاکہ پرانے نظام میں تمام تقاضے پورے نہیں ہوتے تھے اور اس کے نتائج سے مکمل استفادہ ممکن نہیں تھا، اس لیے ان خامیوں کو دور کرتے ہوئے یہ جدید نظام متعارف کرایا گیا ہے، جس میں ایسے کئی نئے عوامل شامل کیے گئے ہیں جو پہلے نظام کا حصہ نہیں تھے۔

    شزا فاطمہ خواجہ نے وزیراعظم آفس سسٹم سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بطور وزیراعلیٰ ڈیجیٹائزیشن کا آغاز کیا تھا اور اب پاکستان ڈیجیٹل سے مصنوعی ذہانت کی جانب گامزن ہےحکومت تمام شعبوں میں جدید ٹیکنالوجی متعارف کرا رہی ہے جبکہ سماجی تحفظ کے سب سے بڑے پروگرام کو بھی ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے حکومت پیپر لیس طرز حکمرانی کی طرف بڑھ رہی ہے اور وزیراعظم آفس سسٹم سے کارکردگی اور خود احتسابی کے عمل میں مزید بہتری آئے گی۔

    وزیراعظم کو دی گئی بریفنگ کے مطابق ’وزیراعظم آفس سسٹم‘ پاکستان کا پہلا مصنوعی ذہانت سے چلنے والا نظام ہے یہ وزیراعظم آفس کا سرکاری ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے، جس کا مقصد وزیراعظم کے احکامات کے اجرا سے لے کر ان پر عملدرآمد، تکمیل اور بعد از تکمیل نگرانی تک تمام مراحل کو خودکار بنانا ہے۔

    بریفنگ میں بتایا گیا کہ یہ نظام گورننس اور شفافیت کے فروغ کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا اور حکومت کی معاشی ترجیحات اور عوامی خدمات کی فراہمی کو مزید مؤثر بنانے میں معاون ہوگااس نظام کے ذریعے وزیراعظم کے احکامات کی مقررہ مدت (ڈیڈ لائن) کی نشاندہی اور نگرانی ممکن ہوگی، جبکہ وزارتوں کی جوابدہی، کارکردگی اور حکومتی فیصلوں پر بروقت عملدرآمد کو بھی مزید مؤثر بنایا جا سکے گا۔

  • ٹرمپ کی درجنوں ممالک پر نئے درآمدی ٹیرف عائد کرنے کی تیاری

    ٹرمپ کی درجنوں ممالک پر نئے درآمدی ٹیرف عائد کرنے کی تیاری

    واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ رواں ہفتے درجنوں ممالک پر نئے درآمدی ٹیرف عائد کرنے کی تیاری کررہے ہیں۔

    برطانوی اخبار کی رپورٹ کے مطابق جمعہ کو عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی مدت ختم ہونے کے بعد نئی ڈیوٹیاں نافذ کی جا سکتی ہیں جبکہ ابتدائی طور پر بیشتر ممالک پر 10 فیصد ٹیرف برقرار رہنے کا امکان ہے جبکہ ٹرمپ انتظامیہ زیادہ شرح کے ٹیرف عائد کرنے کے لیے قانونی بنیاد بھی تیار کر رہی ہے،گزشتہ روز ٹرمپ انتظامیہ نے کینیڈا کی گاڑیوں اور دیگر سامان پر 50 فیصد ٹیکس عائد کیا ہے جو آئندہ ماہ سے نافذ ہوگا۔

    واضح رہے 20فروری 2026 کو امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ کے مستقل ٹیکس لگانے کے قانون کو غیر آئینی قرار دے کر روک دیا تھا،عدالت نے اپنے فیصلے میں خاص طور پر ان ٹیرفس کو ختم کیا جو ‘انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ’ (IEEPA) کے تحت مختلف ممالک پر لگائے گئے تھےکیونکہ عدا لت کے مطابق کانگریس نے صدر کو اس قانون کے تحت ڈیوٹیز لگانے کا اختیار نہیں دیا تھا۔

    سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ نے ایک اور قانون (Section 122) استعمال کر کے 15 فیصد عالمی ٹیکس لگایا تھا،اس قانون کے تحت ٹیکس صرف 150 دنوں کے لیے عارضی طور پرلگایا جا سکتا ہے جو اسی ہفتے 24 جولائی 2026 کو ختم ہو رہا ہے۔

  • قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی نے عدالتی اصلاحات کے فریم ورک کی منظوری دیدی

    قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی نے عدالتی اصلاحات کے فریم ورک کی منظوری دیدی

    قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی نے اپنے 61ویں اجلاس میں نیشنل جوڈیشل ریفارم فریم ورک کی اصولی منظوری دے دی ہے-

    سپریم کورٹ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق نیشنل جوڈیشل ریفارم فریم ورک کو ورلڈ جسٹس پراجیکٹ رول آف لا انڈیکس سے ہم آہنگ کیا گیا ہے، جس کا مقصد پاکستان میں شواہد پر مبنی عدالتی اصلاحات کو فروغ دینا، انصاف تک رسائی، شفافیت اور عدالتی نظام کی پیش گوئی کی صلاحیت کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

    چیف جسٹس آف پاکستان کی زیرِ صدارت قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کا اجلاس سپریم کورٹ میں منعقد ہوا، جس میں ملک بھر کی ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان، وفاقی وزیر قانون و انصاف، سیکریٹری وزارتِ قانون و انصاف، پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے شرکت کی۔

    کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ ہائیکورٹس نیشنل جوڈیشل ریفارم فریم ورک اور انٹرنیشنل فریم ورک فار کورٹ ایکسیلنس کی سیلف اسیسمنٹ چیک لسٹ اختیار کر سکیں گی، جبکہ اصلاحاتی اقدامات کی پیش رفت کا سہ ماہی جائزہ لینے اور مؤثر رپورٹنگ کا نظام بھی قائم کیا جائے گا۔

    اعلامیے کے مطابق لا اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان اور وزارتِ قانون و انصاف فریم ورک پر عمل درآمد کے لیے خصوصی سیل قائم کریں گے، لا اینڈ جسٹس کمیشن سیکریٹریٹ رول آف لا سے متعلق اشاریوں کی نشاندہی اور توثیق کرے گا، جنہیں مرحلہ وار نیشنل جوڈیشل اینالیٹکس ڈیش بورڈ میں شامل کیا جائے گا۔

    اس مقصد کے لیے نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے تعاون سے ایک خصوصی ٹیکنالوجی پلیٹ فارم بھی تیار کیا جائے گا، جس کے ذریعے اصلاحات کی پیشرفت کی نگرانی اور باقاعدہ رپورٹس مرتب کی جائیں گی،سیکریٹریٹ عدالتی شعبے میں استعدادِ کار بڑھانے کے اقدامات کو بھی مربوط کرے گا۔

    کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ فریم ورک پر عمل درآمد سے متعلق پیش رفت کا جائزہ 8 اکتوبر 2026 کو ہونے والے آئندہ اجلاس میں لیا جائے گا، جبکہ پاکستان کی ورلڈ جسٹس پروجیکٹ رول آف لا انڈیکس میں سالانہ کارکردگی کا بھی باقاعدہ جائزہ لیا جائے گا، جس میں ادارہ جاتی مضبوطیوں، خامیوں اور مزید اصلاحات کے لیے سفارشات شامل ہوں گی۔

    قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عدالتی اصلاحات کو شواہد، قابلِ پیمائش نتائج اور بین الاقوامی معیارات کی بنیاد پر آگے بڑھایا جائے گا، جس سے ادارہ جاتی کارکردگی اور عوامی اعتماد میں مزید اضافہ ہوگا جدت، شواہد پر مبنی طرزِ حکمرانی اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے نظامِ انصاف کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔

    اجلاس میں جبری گمشدگیوں سے متعلق مجوزہ کمیشن پر پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا، کمیٹی نے اس ضمن میں حکومت کے اقدامات کو سراہاوفاقی وزیر قانون و انصاف نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کمیشن کی سربراہی کے لیے سپریم کورٹ کے سابق ججز کے نام زیرِ غور ہیں اور کمیشن کی تشکیل اور قواعدِ کار جلد مکمل کر لیے جائیں گے۔

  • توہین مذہب کیس: اینکر پرسن ریحان طارق کی ضمانت منظور

    توہین مذہب کیس: اینکر پرسن ریحان طارق کی ضمانت منظور

    لاہور کی سیشن عدالت نے توہین مذہب کے مقدمے میں اینکر پرسن ریحان طارق کی بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواست منظور کرتے ہوئے انہیں ایک لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

    منگل کو لاہور میں ایڈیشنل سیشن جج نصرت علی صدیقی نے اینکرپرسن ریحان طارق کی بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواست پر سماعت کی،سماعت کے دوران ریحان طارق کی جانب سے ایڈووکیٹ میاں داؤد پیش ہوئے اور اپنے دلائل عدالت کے سامنے رکھے۔

    وکیل میاں داؤد نے مؤقف اختیار کیا کہ ایف آئی آر کے متن سے کسی بھی وقوعے کا ثابت ہونا ظاہر نہیں ہوتا، پاکستان کے کسی بھی قانون میں تاریخی مذ ہبی سوالات پر مبنی کسی شخص کا انٹرویو کرنا قابلِ دست اندازی جرم قرار نہیں دیا گیا اس مقدمے میں صحافی کی کوئی الیکٹرانک ڈیوائس استعمال نہیں ہوئی جب کہ تفتیش کے دوران بھی ریحان طارق کے خلاف زیرِ تنازع ویڈیو یا انٹرویو اپ لوڈ کرنے کا ایک بھی ثبوت سامنے نہیں آیا، ایف آئی آر میں عائد کی گئی تمام دفعات ضابطہ فوجداری کے تحت غیرممنوعہ نوعیت کی ہیں، جن میں ملزم کو ضمانت دینا اس کا آئینی حق ہے۔

    دلائل مکمل ہونے کے بعد ایڈیشنل سیشن جج نصرت علی صدیقی نے درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے اینکرپرسن ریحان طارق کی بعد از گرفتاری ضمانت ایک لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض منظور کر لی۔

    واضح رہے کہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے ریحان طارق کے خلاف توہین مذہب کے الزام میں مقدمہ درج کر رکھا ہے۔

  • طلبہ پر پولیس تشدد:کانگریس کا بھارتی وزیراعظم کے گھر کےسامنےمظاہرہ ،مودی سے استعفے کا مطالبہ

    طلبہ پر پولیس تشدد:کانگریس کا بھارتی وزیراعظم کے گھر کےسامنےمظاہرہ ،مودی سے استعفے کا مطالبہ

    طلبہ پر پولیس تشدد کیخلاف بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس نے بھارتی وزیراعظم کے گھر کےسامنےمظاہرہ کیا۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق صدرکانگریس ملکارجن کھڑگے بھی مظاہرہ میں شریک ہیں، کانگریس رہنما بھارتی وزیراعظم مودی، وزیرتعلیم دھرمیندرا پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں کانگریس رہنما اور بھارت کے اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے کاکروچ جنتا پارٹی کے نہتے کارکنوں اور طالبعلموں پر پولیس کے بہیمانہ تشدد کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہندو انتہا پسند جماعت آر ایس ایس نے بھارت کے تعلیمی نظام پر قبضہ کر رکھا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ نئی دہلی میں جو بچے اور بچیاں ہزاروں کی تعداد میں جمع ہوئے وہ اپنے بہتر مستقبل اور تعلیم کے حوالے سے جائز مطالبات کر رہے تھے کیونکہ بھارت کا تعلیمی نظام بالکل بوسیدہ ہو چکا ہے اور آر ایس ایس نے بھارت کے تعلیمی نظام پر قبضہ جما لیا ہے پولیس کی جانب سے اپنے جائز مطالبا ت کے لیے جمع طالبعلموں پر شیلنگ کرنا اور لاٹھی چارج کرنا انتہائی شرمناک ہے اور یہ ایک غیر جمہوری عمل ہے۔

    دوسری جانب دہلی ہائیکورٹ نے گزشتہ روز احتجاجی مارچ کے دوران طلبہ پرپولیس تشدد کے خلاف دائر درخواست پرفوری سماعت سے انکار کردیا عدالت نے درخواست پرباقاعدہ سماعت بدھ کو مقرر کردی، عدالت نے ریمارکس دیے کہ عدالت کو اس معاملے میں نہ گھسیٹا جائے۔

    واضح‌ رہے کہ گزشتہ روز بھارتی پولیس اور سول کپڑوں میں موجود افراد نے نئی دہلی میں اپنے حقوق کے لیے جنتر منتر پر جمع ہزاروں کی تعداد میں نوجوان لڑ کے اور لڑکیوں پر بدترین تشدد کیا جس کی ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں جبکہ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے اس عمل کی شدید الفاظ میں مذمت کی جا رہی ہے۔

    یہ تحریک مئی 2026 میں سوشل میڈیا پر شروع ہوئی تھی اور دیکھتے ہی دیکھتے لاکھوں افراد کی حمایت حاصل کر چکی ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کو درپیش بڑے عوامی چیلنجز میں سے ایک بن گئی ہے احتجاج کی بنیادی وجہ حالیہ امتحانی اسکینڈلز ہیں، جنہوں نے بھار ت کے تعلیمی نظام پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ گزشتہ ماہ تقریباً 22 لاکھ میڈیکل امیدواروں کو امتحانی پرچہ لیک ہونے کے بعد دوبارہ امتحان د ینا پڑا، جبکہ تقریباً 20 لاکھ ہائی اسکول طلبہ کے آن لائن مارکنگ سسٹم پر بھی تنازع سامنے آیا۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں روزگار کے محدود مواقع اور بار بار سامنے آنے والے امتحانی تنازعات نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی بے چینی کی اہم وجوہات بن رہے ہیں۔