Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ کے ہاں بیٹی کی پیدائش

    وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ کے ہاں بیٹی کی پیدائش

    وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ کے ہاں بیٹی کی پیدائش ہوئی ہے-

    لیویٹ نے اپنی بیٹی کی پیدائش کا اعلان کرتے ہوئے خوشی کا اظہار کیا ہے، ان کی نومولود بیٹی کا نام ویویانا (Viviana) رکھا گیا ہے جسے گھر میں پیار سے ’ویوی‘ کہا جائے گا۔

    سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کیرولین لیویٹ نے کہا کہ یکم مئی کو ان کی بیٹی نے خاندان میں خوشیوں کا اضافہ کیا بچی مکمل طور پر صحت مند اور تندرست ہے،ہم اس خوشی کے نئے مرحلے کو بھرپور انداز میں انجوائے کر رہے ہیں اور ہمارا بیٹا اپنی نئی بہن کے ساتھ خوشی سے ایڈجسٹ ہو رہا ہے،ہمارا گھر اس وقت محبت اور خوشیوں سے بھرپور ہے۔

    یہ کیرولین لیویٹ اور ان کے شوہر نکولس ریکیو کے ہاں دوسری اولاد ہے۔ ان کا پہلا بیٹا نکولس (عرف نکو) جولائی 2024 میں پیدا ہوا تھا،رپورٹس کے مطابق 28 سالہ کیرولین لیویٹ پہلی وائٹ ہاؤس پریس سیکریٹری ہیں جنہوں نے دوران عہدہ حمل اور زچگی کا تجربہ کیا وہ اس وقت زچگی کی چھٹی پر ہیں اور توقع ہے کہ رواں سال کے آخر میں دوبارہ صحافتی بریفنگز شروع کریں گی،ان کی آخری پریس بریفنگ 27 اپریل کو ہوئی تھی جس کے بعد وہ عارضی طور پر ذمہ داریوں سے الگ ہو گئی تھیں،اس دوران وائٹ ہاؤس کی جانب سے مختلف حکومتی عہدیدار باری باری میڈیا کو بریفنگ دے رہے ہیں۔

  • ایران کیساتھ تعاون کا الزام :امریکا نے عراقی وزیرِ تیل  سمیت متعدد افراد اور کمپنیوں پر پابندیاں عائد کر دیں

    ایران کیساتھ تعاون کا الزام :امریکا نے عراقی وزیرِ تیل سمیت متعدد افراد اور کمپنیوں پر پابندیاں عائد کر دیں

    امریکی محکمہ خزانہ نے ایران سے منسلک نیٹ ورکس اور گروہوں کے خلاف نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے عراق کے نائب وزیرِ تیل سمیت متعدد افراد اور کمپنیوں کو نشانہ بنایا ہے-

    قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ نے ایران سے مبینہ تعلقات رکھنے والے نیٹ ورکس کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے عراق کے نائب وزیرِ تیل علی معارج البہادلی کو بھی پابندیوں کی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔

    امریکی محکمہ خزانہ کے دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول کے مطابق علی معارج البہادلی پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے عہدے کا غلط استعمال کرتے ہوئےعراقی تیل کو ایران اور اس کے حمایت یافتہ مسلح گروہوں کے فائدے کے لیے منتقل کرنے میں معاونت کرتے رہے ہیں۔

    واشنگٹن نے عراق میں ایران سے منسلک گروہوں کے تین سینئر عہدیداروں اور چار عراقی کمپنیوں پر بھی پابندیاں عائد کی ہیں ان افراد میں مصطفیٰ ہاشم لازم البہادلی، احمد خدیر مکسوس اور محمد عیسیٰ کاظم الشوائلی شامل ہیں۔

    امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے بیان میں کہا کہ امریکی محکمہ خزانہ اس وقت خاموش نہیں بیٹھے گا جب ایران عراق کے تیل کے وسائل کو استعمال کرتے ہوئے امریکا اور اس کے شراکت داروں کے خلاف سرگرمیوں کے لیے مالی وسائل حاصل کر رہا ہو۔ یہ کارروائیاں ایران کے تیل اور مالیاتی نظام پر دباؤ بڑھانے کی وسیع حکمت عملی ’اکانومک فیوری‘ کا حصہ ہیں، جس کا مقصد ایران کو مالی وسائل تک رسائی سے روکنا ہے امریکا کا مؤقف ہے کہ یہ نیٹ ورکس خطے میں ایران کے حمایت یافتہ گروہوں کی مالی معاونت کرتے ہیں۔

    واضح رہے کہ واشنگٹن ایران پر یہ الزام عائد کرتا رہا ہے کہ وہ علاقائی مسلح گروہوں کی حمایت کرتا ہے اور پابندیوں سے بچنے کے لیے غیر رسمی مالی نیٹ ورکس استعمال کرتا ہے، اسی تناظر میں عراق میں ایران کے اثر و رسوخ کو بھی امریکا ایک اہم سیکیورٹی اور سیاسی چیلنج کے طور پر دیکھتا ہے، جس کے باعث واشنگٹن ماضی میں بغداد کی حکومتی شخصیات اور اداروں پر بھی متعدد بار پابندیاں عائد کر چکا ہے۔

  • وزیر خارجہ  اسحاق ڈار سے ایرانی  ہم منصب کا  ٹیلیفونک رابطہ

    وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ایرانی ہم منصب کا ٹیلیفونک رابطہ

    نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے جس میں خطے کی حالیہ صورتحال اور امن و استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششوں پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے نائب وزیراعظم کو اپنے حالیہ دورہ چین اور وہاں علاقائی و بین الاقوامی امور پر ہونے والی مشاورت کے حوالے سے اعتماد میں لیا گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے امور پر قریبی تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا،ایرانی وزیر خارجہ نے قبضے میں لیے گئے بحری جہازوں سے ایرانی شہریوں کی واپسی میں سہولت فراہم کرنے پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا اور اس ضمن میں پاکستان کی مسلسل سفارتی اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر فراہم کی جانے والی حمایت کو سراہا۔

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق عباس عراقچی نے پاکستان کے وزیر خارجہ اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے ٹیلیفون پر گفتگو کی دونوں وزرائے خارجہ نے خطے میں جاری حالیہ پیش رفت اور بدلتی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کیادونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ حالات میں مذاکرات اور سفارت کاری کے عمل کو جاری رکھنا انتہائی ضروری ہے، گفتگو کے دوران علاقائی ممالک کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی اتفاق کیا گیا۔

    یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایران امریکا کی جانب سے جنگ کے خاتمے کے لیے پیش کی گئی نئی تجویز کا جائزہ لے رہا ہے، جب کہ پاکستان کی جانب سے دونوں ممالک کے درمیان پائیدار حل کے لیے ثالثی کی کوششیں جاری ہیں، امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ تہران آج کسی بھی وقت ثالثوں کے ذریعے امریکی امن تجویز پر اپنا جواب جمع کرا سکتا ہے۔

  • اسرائیلی حملے میں حماس  رہنما خلیل الحیہ کا  ایک اور بیٹا شہید

    اسرائیلی حملے میں حماس رہنما خلیل الحیہ کا ایک اور بیٹا شہید

    حماس رہنما خلیل الحیہ کے بیٹے عزام الحیہ اسرائیلی فضائی حملے میں شہید ہوگئے۔

    حماس عہدیدار باسم نعیم نے عزام الحیہ کے غزہ سٹی پر اسرائیلی حملے میں شہید ہونے کی تصدیق کی ہے، یہ خلیل الحیہ کے چوتھے بیٹے تھے جو اسرائیلی حملوں میں شہید ہوئے ہیں۔

    خلیل الحیہ حماس کی جلاوطن قیادت میں اہم شخصیت سمجھے جاتے ہیں، وہ متعدد بار اسرائیلی حملوں اور مبینہ قاتلانہ کوششوں کا نشانہ بن چکے ہیں تاہم ہر بار محفوظ رہےگزشتہ سال قطر کے دارالحکومت دوحا میں حماس قیادت کو نشانہ بنانے کے لیے کیے گئے ایک حملے میں بھی ان کے ایک بیٹے کی شہادت ہوئی تھی جبکہ خلیل الحیہ اس حملے میں بچ گئے تھے اس سے قبل 2008 اور 2014 میں غزہ پر اسرائیلی حملوں کے دوران بھی ان کے دو بیٹے شہید چکے ہیں۔

    اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری کشیدگی اور غزہ میں مسلسل فضائی حملوں کے باعث انسانی بحران مزید سنگین ہوتا جا رہا ہے، غزہ میں حالیہ ہفتوں کے دوران متعدد رہائشی علاقوں اور اہم تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

  • زرمبادلہ ذخائر میں ایک ہفتے کے دوران 2 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ

    زرمبادلہ ذخائر میں ایک ہفتے کے دوران 2 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ

    ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر ایک ہفتے کے دوران 21.293 ارب ڈالر ریکارڈ کیے گئے۔

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق زرمبادلہ ذخائر میں ایک ہفتے کے دوران 2 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے،جس کے بعد ملک کے کل زرمبادلہ ذخائر 21 ارب 29 کروڑ 35 لاکھ ڈالر کی سطح پر پہنچ گئے ہیں۔

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ اس دوران اسٹیٹ بینک کے اپنے ذخائر 15.850 ارب ڈالر رہے جبکہ کمرشل بینکوں کے پاس موجود خالص زرمبادلہ ذخائر 5.442 ارب ڈالر تک پہنچ گئے جس کے بعد مجموعی ملکی ذخائر 21.293 ارب ڈالر ہو گئے زیر جائزہ ہفتے کے دوران اس کے ذخائر میں 23 ملین ڈالر کا اضافہ بھی ریکارڈ کیا گیا، جس سے مرکزی بینک کے ذخائر بڑھ کر 5.850 ارب ڈالر تک پہنچ گئے، پاکستان کی مجموعی معاشی صورتحال میں بتدریج بہتری اور استحکام کے آثار نظر آ رہے ہیں۔

  • آئرش فٹبالرز سمیت متعدد معروف شخصیات کا اسرائیل کیخلاف فٹبال میچز کے بائیکاٹ کا مطالبہ

    آئرش فٹبالرز سمیت متعدد معروف شخصیات کا اسرائیل کیخلاف فٹبال میچز کے بائیکاٹ کا مطالبہ

    آئرلینڈ کے سابق اور موجودہ فٹبالرز سمیت متعدد معروف شخصیات نے اسرائیل کے خلاف فٹبال میچز کے بائیکاٹ کا مطالبہ کر دیا۔

    رپورٹس کے مطابق “آئرش اسپورٹ فار فلسطین” نامی مہم کے تحت فٹبالرز، موسیقاروں اور سماجی شخصیات نے فٹبال ایسوسی ایشن آف آئرلینڈ پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل کے خلاف یوئیفا نیشنز لیگ میچز کھیلنے سے انکار کرےمہم میں شامل شخصیات کا مؤقف ہے کہ غزہ میں جاری جنگ اور انسانی حقوق کی صورتحال کے باعث اسرائیل کے ساتھ کھیلوں کے تعلقات ختم کیے جائیں۔

    اس مہم کی حمایت کرنے والوں میں سابق آئرش فٹبال کوچبریان کیئر، سابق انٹرنیشنل فٹبالر لوئس قوئن اور متعدد لیگز کے کھلاڑی شامل ہیں جبکہ آئرش موسیقاروں اور مشہور بینڈز نے بھی اس مطالبے کی تائید کی ہے۔

    دوسری جانب آئرش فٹبال ایسوسی ایشن نے واضح کیا ہے کہ وہ یوئیفا قوانین اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کے تحت میچز کھیلنے کی پابند ہے۔

    یاد رہے کہ غزہ جنگ کے بعد اسرائیل کے خلاف کھیلوں کے بائیکاٹ کی آوازیں دنیا کے مختلف ممالک میں شدت اختیار کر چکی ہیں اور متعدد تنظیمیں اسرائیل کے خلاف میچز کی معطلی کا مطالبہ کر رہی ہیں،قبل ازیں آئر لینڈ فٹبال ایسوسی ایشن نے بھی اسرائیل کے خلاف قرارداد منظور کرتے ہوئے یوئیفا سے اسرائیلی ٹیم پر پابندی کا مطالبہ کیا تھا

  • فرانس کا طیارہ بردار بحری جہاز ‘شارل ڈی گول’ مشرقی وسطیٰ کی جانب روانہ

    فرانس کا طیارہ بردار بحری جہاز ‘شارل ڈی گول’ مشرقی وسطیٰ کی جانب روانہ

    فرانس نے اپنے طیارہ بردار بحری جہاز ‘شارل ڈی گول’(Charles de Gaulle) کو مشرق وسطیٰ کی جانب روانہ کر دیا ہے،تاکہ آبنائے ہرمز میں ممکنہ مشن کے لیے پیشگی تیاری کی جا سکے –

    فرانسیسی حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد یہ پیغام دینا ہے کہ فرانس نہ صرف آبنائے ہرمز میں بحری گزرگاہ کی حفاظت کے لیے تیار ہے بلکہ اس صلاحیت کا عملی مظاہرہ بھی کر سکتا ہے صدر امانوئل میکرون کے ایک معاون نے صحافیوں کو بتایا کہ اس تعیناتی کا مقصد خطے میں کشیدگی کے باوجود سمندر ی راستوں کی آزادی کو یقینی بنانا ہے۔

    بحیرہ احمر کی جانب پیش قدمی کرتے ہوئے یہ بحری بیڑہ نہر سویز سے گزرتے ہوئے اپنے مشن کی طرف بڑھ رہا ہے فرانسیسی وزارت دفاع کے مطابق یہ اقدام اس لیے کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ آپریشن کو بروقت شروع کیا جا سکے ‘شارل ڈی گول’ اور اس کے ساتھ موجود جنگی جہاز بحیرہ احمر کے جنوبی حصے میں تعینات ہوں گے۔

    اس مشن میں برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر اور صدر میکرون کی قیادت میں متعدد ممالک کی شمولیت متوقع ہے یہ مشن صرف دفاعی نوعیت کا ہوگا اور اس کا مقصد جنگ کے خاتمے کے بعد بحری تجارت کی بحالی بتایا جا رہا ہے۔ فرانسیسی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث عالمی معیشت کو شدید خطرات لاحق ہیں اسی وجہ سے تقریباً 40ممالک اس ممکنہ مشن کی منصوبہ بندی میں شریک ہیں امریکا اور ایران کو بھی الگ الگ مذاکرات کی پیشکش کی گئی ہے تاکہ خطے میں تناؤ کم کیا جا سکے اور تیل کی عالمی ترسیل دو بارہ معمول پر آ سکے-

  • مدارس کی بندش سے متعلق خبروں میں صداقت نہیں،وزیراعلیٰ بلوچستان

    مدارس کی بندش سے متعلق خبروں میں صداقت نہیں،وزیراعلیٰ بلوچستان

    وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے جمعیت علما اسلام کے صوبائی امیر مولانا عبدالواسع کی رہائش گاہ پر ان سے ملاقات کی-

    ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ دینی مدارس کے خلاف کسی قسم کی کارروائی یا تالہ بندی کا نہ تو کوئی ارادہ تھا اور نہ ہی ہے ، اس حوالے سے محض غلط فہمیاں پھیلائی گئیں،دینی مدارس ہمارے معاشرے کا ناگزیر حصہ ہیں اور حکومت انہیں دل کے قریب سمجھتی ہے مدارس کی ترقی اور بہتری کے لیے ہر ممکن تعاون کیا جائے گا۔

    سرفراز بگٹی نے بتایا کہ پارلیمنٹ سے منظور شدہ ’مدارس رجسٹریشن ایکٹ‘ اب بلوچستان اسمبلی میں پیش ہونا ہے، جس کے حوالے سے جمعیت کی قیاد ت سے تفصیلی بات چیت ہوئی ہے اور مولانا عبدالواسع نے اس ضمن میں اپنے مطالبات سامنے رکھے ہیں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے ساتھیوں نے مولانا عبدالواسع سے 10 دن کی مہلت طلب کی ہے تاکہ اس اہم معاملے پر اپنی پارٹی قیادت کو مکمل اعتماد میں لیا جا سکے۔

    انہوں نے یقین دہانی کروائی کہ بلوچستان اسمبلی میں تمام فریقین کے اتفاقِ رائے سے قانون سازی کی جائے گی اور یہ مسئلہ انشاء اللہ خوش اسلوبی سے حل ہو جائے گا،سرفراز بگٹی نے جے یو آئی کی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کی جانب سے ملنے والی عزت اور شفقت کے مشکور ہیں۔

  • وزیراعظم شہباز شریف سے قطر ی ہم منصب کا ٹیلیفونک رابطہ

    وزیراعظم شہباز شریف سے قطر ی ہم منصب کا ٹیلیفونک رابطہ

    وزیراعظم شہباز شریف اور قطر کے وزیراعظم اور وزیر خارجہ محمد بن عبدالرحمان بن جاسم آل ثانی کے درمیان ٹیلیفونک گفتگو ہوئی ،جس میں انہوں نے خطے میں پائیدار امن کے لیے سفارتی کوششیں آگےبڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

    وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو آج قطر کے وزیراعظم اور وزیر خارجہ محمد بن عبدالرحمان بن جاسم آل ثانی کا ٹیلیفون موصول ہوا اور دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی گرم جوش اور خوشگوار گفتگو کے دوران خطے کی موجودہ صورت حال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، دونوں جانب سے خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے جاری سفارتی کوششوں کو آگے بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے 16 اپریل کو دوحہ کے اپنے حالیہ دورے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امیر قطر تمیم بن حمد آل ثانی اور قطری قیادت کے ساتھ ملاقا تیں خطے میں امن کے فروغ کے لیے اتفاق رائے پیدا کرنے میں نہایت مفید ثابت ہوئیں پاکستان کے عوام امیر قطر کے جلد پاکستان کے دورے کے منتظر ہیں اور ان کا یہ دورہ پاکستان اور قطر کے درمیان برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط اور گہرا بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

    قطر کے وزیراعظم نے خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کی مسلسل کوششوں کو سراہا اور انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کو یقین دلایا کہ قطر مشرق وسطیٰ میں امن، سلامتی اور استحکام کے لیے پاکستان کی قیادت میں جاری سفارتی کوششوں کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔

    دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے تمام امور پر قریبی رابطے اور مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

  • شام سے واپس آنے والی داعش سے منسلک 3 خواتین آسٹریلیا میں گرفتار

    شام سے واپس آنے والی داعش سے منسلک 3 خواتین آسٹریلیا میں گرفتار

    شام میں شدت پسند تنظیم ‘داعش’ سے منسلک کیمپوں میں کئی برس گزارنے کے بعد آسٹریلیا واپس آنے والی 3 خواتین کو دہشت گردی سے متعلق الزامات کے تحت گرفتار کرلیا گیا۔

    بی بی سی کے مطابق گرفتار خواتین میں 53 سالہ کوثر عباس، 31 سالہ زینب احمد اور 32 سالہ جنائی صفار شامل ہیں کوثر عباس اور زینب احمد کو میلبورن ایئرپور ٹ جبکہ جنائی صفار کو سڈنی پہنچنے پر حراست میں لیا گیا ان کے ساتھ مجموعی طور پر 9 بچے بھی آسٹریلیا پہنچے، تاہم ایک خاتون کو گرفتار نہیں کیا گیا۔

    آسٹریلوی حکام کے مطابق بچوں کی نفسیاتی معاونت کی جائے گی اور یہ بھی جانچا جائے گا کہ آیا وہ انتہا پسند نظریات سے متاثر ہوئے ہیں یا نہیں ،یہ خواتین 2019 سے شام کے الروج کیمپ میں مقیم تھیں، جہاں داعش کے خاتمے کے بعد ہزاروں غیر ملکی خواتین اور بچوں کو رکھا گیا تھا۔ انسانی حقوق تنظیموں کے مطابق ان کیمپوں میں حالات انتہائی خراب اور جان لیوا رہے ہیں۔

    رپورٹس کے مطابق کوثر عباس کے شوہر محمد احمد پر الزام تھا کہ وہ ایک فلاحی ادارے کے ذریعے داعش کو مالی معاونت فراہم کرتے رہے، تاہم انہوں نے ان الزامات کی تردید کی تھی جنائی صفار 2015 میں شام گئی تھیں اور مبینہ طور پر ایک داعش جنگجو سے شادی کی تھی انہوں نے 2019 میں ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ انہیں آسٹریلیا واپسی پر گرفتاری اور اپنے بچے سے علیحدگی کا خوف تھا۔

    آسٹریلوی حکام کا کہنا ہے کہ خواتین پر دہشت گردی، ممنوعہ علاقوں میں قیام اور انسانیت کے خلاف جرائم جیسے الزامات عائد کیے جاسکتے ہیں۔ وزیر داخلہ ٹونی برک نے کہا کہ قانون توڑنے والوں کو مکمل قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔