Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • پاکستان کیخلاف  اور دہشتگردوں کی حمایت پر مقدمات اور گرفتاریاں ضرور ہوں گی،میر ضیااللہ لانگو

    پاکستان کیخلاف اور دہشتگردوں کی حمایت پر مقدمات اور گرفتاریاں ضرور ہوں گی،میر ضیااللہ لانگو

    وزیر داخلہ بلوچستان میر ضیااللہ لانگو نے کہا ہے کہ ریاست مخالف بیانیے اور دہشتگردوں کی حمایت پر مقدمات اور گرفتاریاں ضرور ہوں گی، ملک توڑنے والوں کے حق میں پریس کانفرنس کی جائے گی تو قانون حرکت میں آئےگا۔

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ بلوچستان میر ضیاء اللہ لانگو نے کہا کہ ڈاکٹر عائشہ فیض کے خلاف ریاست مخالف بیانیے پر سی ٹی ڈی نے مقدمہ درج کیا ہے ،ڈاکٹر عائشہ کی گرفتاری اور ان کے خلاف مقدمہ درج کرنا قانون کے مطابق ہوا ہے ، ریاست پاکستان کے خلاف اور دہشتگردی کی حمایت کر نے والوں کے خلاف قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا،میرے خلاف روزانہ 50 افراد بات کرتے ہیں، کسی کو گرفتار نہیں کیا جاتا۔

    وزیر داخلہ بلوچستان نے کہاکہ ڈاکٹر عائشہ فیض کے خلاف پاکستان ریاست مخالف بیانیے اور دہشتگردوں کی حمایت پر مقدمہ درج کیا گیا ہے جو بھی پاکستانی شہری ملک و ریاست توڑنے کی بات کرے گا، اس کے خلاف مقدمہ بھی درج ہوگا اور گرفتاری بھی ہوگی،ہر پاکستانی شہری کو سیاستدانوں اور میرے خلا ف پریس کانفرنس کرنے کا حق حاصل ہے۔

    انہوں نے کہاکہ پاکستان توڑنے، سیکیورٹی فورسز، شہریوں اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے والوں کو حکومت نے دہشت گرد قرار دیا ہے، دہشتگرد قرار دیے گئے عناصر کے حق میں بات اور ملک توڑنے والوں کے حق میں پریس کانفرنس کی جائے گی تو قانون حرکت میں آئےگا۔

  • روس یوکرین جنگ کا خاتمہ:امریکی سفارتی کوششوں میں ایک بار پھر تیزی ،وفد ماسکو پہنچ گیا

    روس یوکرین جنگ کا خاتمہ:امریکی سفارتی کوششوں میں ایک بار پھر تیزی ،وفد ماسکو پہنچ گیا

    روس اور یوکرین کے درمیان ساڑھے 4 سال سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی سفارتی کوششوں میں ایک بار پھر تیزی آ گئی ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر ماسکو میں موجود ہیں،وہ ہفتے کو ماسکو پہنچے ہاں روسی صدارتی ایلچی کریل دیمترییف نے ان کا استقبال کیا، وہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کریں گے اس اہم سفارتی پیش رفت اور امریکی وفد کے متوقع دورہ کیف کے پیشِ نظر روس نے یوکرینی دارالحکومت پر تین روز کے لیے فضائی حملے روکنے کا بھی اعلان کیا ہے۔

    روسی خبر رساں ادارے ٹاس کے مطابق روسی صدارتی ترجمان دمتری پیسکوف نے ہفتے کے روز صدر ولادیمیر پیوٹن اور امریکی وفد کے درمیان کریملن میں ملاقات کی تصدیق کی ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کے روز دعویٰ کیا تھا کہ امریکا کے پاس اس جنگ کو ختم کرنے کے لیے ایک نئی اور ٹھوس تجویز موجود ہے، تاہم انہوں نے اس کی تفصیلات ظاہر نہیں کی تھیں یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے تصدیق کی ہے کہ امریکی ایلچی ماسکو کے بعد اتوار کو کیف کا دورہ کریں گے۔

    دوسری جانب روسی صدارتی ترجمان نے ایک بیان میں بتایا کہ صدر پیوٹن نے امریکی نمائندوں کے یوکرینی دارالحکومت کے دورے کے پیش نظر فوج کو ہفتے کی نصف شب سے تین دن تک کیف پر حملے نہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔

    روس اور یوکرین کے درمیان امریکا کی ثالثی میں آخری مذاکرات فروری میں ہوئے تھے، جو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ شروع کیے جانے سے کچھ ہی عرصہ قبل ہوئے تھے، ان مذاکرات کی ناکامی کے بعد فریقین نے ایک دوسرے کے علاقوں پر حملوں میں اضافہ کیا ہے، جبکہ سمندری محاذ پر بھی لڑائی میں شدت آئی ہے۔

    یوکرینی دارالحکومت گزشتہ ایک ہفتے سے زائد عرصے سے مسلسل روسی فضائی حملوں کے نشانے پر ہے ان حملوں میں شہر کے وسط میں واقع متعدد عمارتوں کے ساتھ ساتھ مضافاتی علاقوں میں گوداموں اور فیکٹریوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے، جن میں کوکا کولا بنانے والی ایک فیکٹری بھی شامل ہے۔

    اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ماہ سے شروع ہونے والے ان مسلسل حملوں میں کیف شہر اور اس کے وسیع تر ریجن میں اب تک کم از کم 53 افراد ہلاک اور 134 زخمی ہو چکے ہیں۔

    واضح رہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان جاری اس جنگ کو دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ میں ہونے والی خونریز جنگ قرار دیا جاتا ہے تاہم جنگ کے خاتمے کے طریقہ کار پر روس اور یوکرین کے درمیان شدید اختلافات برقرار ہیں ماسکو کا مطالبہ ہے کہ یوکرین نیٹو میں شمولیت کا منصوبہ ترک کرے اور ان 4 علاقوں کا کنٹرول مکمل طور پر چھوڑ دے جنہیں وہ اپنے علاقے قرار دیتا ہے یوکرین ان شرا ئط کو مسترد کرتا ہے اور اپنے زیرِ قبضہ علاقوں سے دستبردار ہونے کو تسلیم کرنے سے انکار کرتا ہے۔

  • خواجہ آصف کا بیان حکومتی پالیسی ہے یا ان کی ذاتی رائے؟شرجیل میمن کی وفاق سے وضاحت  طلب

    خواجہ آصف کا بیان حکومتی پالیسی ہے یا ان کی ذاتی رائے؟شرجیل میمن کی وفاق سے وضاحت طلب

    کراچی: سینئر وزیر سندھ شرجیل میمن نے وزیر دفاع خواجہ آصف کے بیا ن پروفاقی حکومت سے وضاحت طلب کر لی-

    سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے وزیر دفاع خواجہ آصف کے بیان پر ردعمل میں کہا کہ وفاقی حکومت واضح کرے کہ خواجہ آصف کا بیان حکومتی پالیسی ہے یا ان کی ذاتی رائے؟ وفاقی وزرا کی بیان بازی صوبے کے خلاف سیاسی جارحیت کے مترادف ہے۔

    انہوں خواجہ آصف کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ خواجہ آصف بیان بازی سے پہلے تاریخ، آئین اور پارلیمانی ریکارڈ کا مطالعہ کریں پیپلز پارٹی کا موقف دو رخی نہیں بلکہ دوٹوک، اصولی اور آئینی ہے، پنجاب اسمبلی سرائیکی صوبے کے حق میں دو مرتبہ قرارداد منظور کرچکی ہے، جبکہ سندھ اسمبلی سندھ کے اندر مزید صوبے بنانے کے خلاف 8 مرتبہ قراردادیں منظور کرچکی ہیں۔

    انہوں نے (ن) لیگ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے اتحادیوں کو خوش کرے مگر سندھ کو قربانی کا بکرا نہ بنائے جبکہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ وفاق اور آئین کو بالادست رکھنے کی سیاست کی ہے،پیپلز پارٹی وفاق اور جمہوری نظام کو مضبوط بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔

    واضح رہے کہ وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا تھا کہ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی ناگزیر ہے جبکہ انہوں نے نئے صوبوں کے معاملے پر پیپلز پارٹی کے متضاد مؤقف پر بھی تنقید کی تھی،کہا تھا کہ پنجاب میں سرائیکی صوبے پر پیپلز پارٹی حمایت یا نرم گوشہ رکھتی ہے جبکہ انتظامی یونٹس کی بات پر سندھو دیش کی بات شروع ہو جاتی ہے۔

    خواجہ آصف کا یہ بیان گزشتہ روز متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کو سندھودیش اور پاکستان میں تمام علیحدگی پسند تحریکوں کے خلاف سندھ اسمبلی میں ایک قرارداد پیش کرنے کی اجازت نہ ملنے کے بعد سامنے آیا تھا،ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی پالیسی کے پیچھے کچھ اور دیکھتا ہوں جس کی تشریح وقت آنے پر کروں گا۔

  • 100 روزہ اصلاحاتی پروگرام حکومت کی اولین ترجیح ہے،وزیراعظم آزاد کشمیر

    100 روزہ اصلاحاتی پروگرام حکومت کی اولین ترجیح ہے،وزیراعظم آزاد کشمیر

    وزیراعظم آزاد کشمیر نے پنجاب کی طرز پر تیز رفتار ترقیاتی عمل آگے بڑھانے کا اعلان کیا ہے-

    پاکستان مسلم لیگ (ن) آزاد جموں و کشمیر کی حکومت کی جانب سے عوام کو بنیادی سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کرنے اور ریاست میں ترقیاتی عمل کو نئی رفتار دینے کے لیے 100 روزہ اصلاحاتی پروگرام کے سلسلے میں وزیراعظم آزادکشمیر افتخار گیلانی کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں قائم مقام صدر طارق فاروق نے خصوصی طور پر شرکت کی۔

    اجلاس میں سابق وزیراعظم راجا محمد فاروق حیدر خان،وزرا حکومت کرنل (ر) وقار احمد نور، سردار میر اکبر خان، چوہدری اظہر صادق، ثاقب مجید راجہ، عمیر نعیم، را جہ ریاست اور عبدالرحمان آرائیں نے شرکت کی ،اس کے علاوہ اراکین اسمبلی نورین عارف، سید شوکت علی شاہ، چوہدری محمد رزاق، ساجد اقبال، مریم زما ن، مریم ادریس اور دیگر بھی شریک ہوئے، جبکہ سابق وزرا سردار نجیب نقی، عامر الطاف، چوہدری محمد رشید اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔

    اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ صدر مسلم لیگ (ن) محمد نواز شریف کے ویژن کے مطابق 100 روزہ اصلاحاتی پروگرام کے ذریعے آزادکشمیر میں ترقی، سہولیات اور عوامی خدمت کے نئے دور کا آغاز کیا جائے گا۔

    اجلاس میں حکومت کے 100 روزہ اصلاحاتی و ٹرانسفارمیشن پروگرام کے خدوخال، ترجیحات اور عملی اقدامات سمیت دیگر امور زیر غور آئے،اجلاس میں سیکریٹری پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ عامر لطیف نے 100 روزہ اصلاحاتی پروگرام کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی،اصلاحاتی پروگرام میں صحت، تعلیم، نوجوانوں کے لیے مواقع، عوامی سہولیات، انفراسٹرکچر اور ترقیاتی منصوبوں کو خصوصی ترجیح دی گئی ہے۔

    وزیراعظم افتخار گیلانی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ (ن) آزادکشمیر کی حکومت قائد مسلم لیگ (ن) محمد نواز شریف کے وژن کے مطابق عوامی خدمت اور گڈ گورننس کے ایجنڈے کو آگے بڑھائے گی اور عام آدمی کو زیادہ سے زیادہ سہولیات اس کی دہلیز پر فراہم کرنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے،100 روزہ اصلاحاتی پروگرام حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

    وزیراعظم افتخار گیلانی نے کہا کہ وفاق اور پنجاب کے تعاون سے شروع ہونے والے مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے 100 روزہ اصلاحاتی پروگرام کے تحت موبائل ہسپتال، گرین بسیں اور دیگر عوامی فلاحی و ترقیاتی منصوبے زمین پر دکھائی دیں گے100 روزہ اصلاحاتی پروگرام کا جلد آغاز کیا جائے گا،حکومت کا مشن عام آدمی کو فاسٹ ٹریک بنیادوں پر سہولیات کی فراہمی، نظام میں بہتری اور ترقیاتی عمل کو تیز تر بنانا ہے۔

    انہوں نے کہاکہ 100 روزہ اصلاحاتی پروگرام مسلم لیگ (ن) آزادکشمیر کی حکومت کے ایک نئے دور کا آغاز ہے، جس کے ذریعے عوام کو ان کی دہلیز پر سہولیات کی فراہمی، عام آدمی کے مسائل کے حل اور حکومتی اداروں کی کارکردگی میں بہتری لائی جائے گی، آزادکشمیر میں پنجاب کی طرز پر تیز رفتاری، مؤثر حکمت عملی اور نتیجہ خیز انداز میں ترقیاتی کام آگے بڑھائے جائیں گے حکومت کی توجہ ایسے منصوبوں پر مرکوز ہوگی جن کے براہِ راست اور فوری ثمرات عام شہری تک پہنچ سکیں۔

  • ویمنز ٹی 20 ایشیا کپ:  بھارت نے پاکستان کو 7 وکٹوں سے شکست دے دی

    ویمنز ٹی 20 ایشیا کپ: بھارت نے پاکستان کو 7 وکٹوں سے شکست دے دی

    ویمنز ٹی ٹوئنٹی ایشیا کپ 2026 میں روایتی حریف بھارت نے پاکستان کو 7 وکٹوں سے شکست دے دی۔

    دبئی کے انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے جا رہے اے سی سی ویمنز ٹی 20 ایشیا کپ 2026 کے نویں میچ میں پاکستان نے بھارت کے خلاف ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا ، میچ میں قومی ٹیم کی کپتان فاطمہ ثنا نے ٹاس جیتا اور بھارتی کپتان ہرمن پریت کور کو فیلڈنک کی دعوت دی۔

    قومی ٹیم نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 18.1 اوورز میں 55 رنز بنائے اور روایتی حریف بھارت کو جیت کے لیے 56 رنز کا ہدف دیا جبکہ پوری ٹیم 55 رنز پر ڈھیر ہوگئی،پاکستان کی جانب سے شوال ذوالفقار 14 جبکہ وکٹ کیپر منیبہ علی 13 رنز کے ساتھ نمایاں رہیں جبکہ بھارتی ٹیم کی جانب سے پریمہ روات اور شریں چرانی نے 3،3 کھلاڑیوں کو آوٹ کیا۔

    کپتان فاطمہ ثنا سمیت پاکستان کی 4 بیٹر صفر پر آؤٹ ہوئیں جبکہ 9 بیٹر ڈبل فگر میں بھی داخل نہ ہوسکیں۔ قومی ویمنز کرکٹ ٹیم کی بدترین پرفارمنس کے باعث پاکستان ویمنز ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں 55 رنز کم ترین ٹوٹل ہے۔بھارت کی جانب سے پریما راوت اور شری چرنی نے 3،3 وکٹیں حاصل کیں –

    ہدف کے تعاقب میں بھارتی ویمنز ٹیم نے 8.4 اوورز میں 3 وکٹوں کے نقصان پر 56 رنز بنا کر کامیابی حاصل کرلی شفالی ورما 12، اسمرتی مندھانا 9 اور پراتیکا راول 4 رنز بنا کر آؤٹ ہوئیں، جبکہ کپتان ہرمن پریت کور 12 اور دپتی شرما 12 رنز پر ناٹ آؤٹ رہیں،پاکستان کی جانب سے کپتان فاطمہ ثنا نے 3 کھلاڑیوں کو آوٹ کیا۔

    ہائی وولٹیج مقابلے میں جہاں بھارت سیمی فائنل میں پہنچ چکا ہے، وہیں قومی ٹیم آج اپنا مسلسل دوسرا میچ جیت کر پوزیشن مستحکم کرنے کے لیے میدان میں اتری ہے،پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں اب تک 17 مرتبہ ایک دوسرے کے مدمقابل آ چکی ہیں۔

    بھارتی ٹیم کا پلڑا واضح طور پر بھاری ہے، جس نے 14 میچوں میں کامیابی سمیٹی ہے، جبکہ گرین شرٹس کو اب تک محض 3 بار ہی فتح نصیب ہو سکی ہے۔ آج کے میچ میں پاکستانی ٹیم پر اس پرانے ریکارڈ کو بہتر بنانے کا چیلنج ہوگا۔

    پاکستانی اسکواڈ

    فاطمہ ثنا (کپتان)، منیبہ علی (وکٹ کیپر)، شوال ذوالفقار، گل فیروزہ، عائشہ ظفر، صدف شمس، ایمن فاطمہ، طوبہٰ حسن، نشرہ سندھو، سعدیہ اقبال اور ام ہانی شامل ہیں۔

    بھارتی اسکواڈ

    ہرمن پریت کور (کپتان)، اسمرتی مندھانا، شیفالی ورما، پراتیکا راول، بھارتی فلمالی، ریچا گھوش (وکٹ کیپر)، دیپتی شرما، پریما راوت، شری چرنی، کرانتی گوڈ اور نندنی شرما شامل ہیں-

  • اپر سوات اور وادیِ کالام میں  سال کی پہلی برف باری ، پوری وادی نے برف کی سفید چادر اوڑھ لی

    اپر سوات اور وادیِ کالام میں سال کی پہلی برف باری ، پوری وادی نے برف کی سفید چادر اوڑھ لی

    خیبر پختونخوا میں اپر سوات اور وادیِ کالام کے بلند پہاڑی سلسلوں پر سال کی پہلی برف باری کے بعد پوری وادی نے برف کی سفید چادر اوڑھ لی ہے۔

    اچانک برف باری کے بعد علاقے میں سردی کی شدت میں اچانک اضافہ ہو گیا ہے، اس دلکش پیش رفت سے جہاں کالام کے مناظر مزید سحر انگیز ہو گئے ہیں، وہی پورے خطے میں باقاعدہ ’سرد موسم‘ کا آغاز ہو گیا ہے۔اپر سوات اور اس کے گردونواح، بالخصوص وادیِ کالام کے بلند پہاڑی علاقوں میں برف باری کا سلسلہ شروع ہوتے ہی قدرتی مناظر یکسر بدل گئے ہیں۔

    اس حسین منظر کو دیکھنے کے لیے سیاحوں کا جوش و خروش بھی دیدنی ہے اور مختلف شہروں سے وادی کی جانب سیاحوں کی آمد کی توقع کی جا رہی ہےبرف باری کے ساتھ ہی یخ بستہ ہواؤں کے چلنے سے درجہ حرارت میں نمایاں کمی آئی ہے، جبکہ مقامی رہائشیوں نے گرم ملبوسات کا استعمال شروع کر دیا ہے-

    بحرین، کالام، مہوڈنڈ اور اترور جیسے بالائی علاقے سمندر کی سطح سے 2,000 میٹر سے زیادہ کی بلندی پر واقع ہیں، جہاں ہر سال موسمِ سرما کی آمد پر برف باری کا سلسلہ شروع ہوتا ہے.یہ برف باری نہ صرف علاقے میں سیاحت اور مقامی معیشت کی بحالی کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے، بلکہ گرمیوں کے موسم میں دریائے سوات میں پانی کے بہاؤ اور زیرِ زمین پانی کی سطح کو برقرار رکھنے کے لیے بھی کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔

  • آزاد کشمیر:وزرا کو قلمدان سونپ دیے گئے

    آزاد کشمیر:وزرا کو قلمدان سونپ دیے گئے

    وزیراعظم آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر افتخار گیلانی نے اپنی کابینہ کے وزرا میں محکموں کی تقسیم کر دی ہے۔

    سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق وزیراعظم نے آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر قواعد کار نظرثانی شدہ 1985 کے قاعدہ 3 کے ذیلی قاعدہ 4 کے تحت حاصل اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے یہ تقسیم عمل میں لائی ہے۔

    جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق سردار میر اکبر خان کو فزیکل پلاننگ اینڈ ہاؤسنگ اور باغ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا قلمدان سونپا گیا ہے،وقار احمد نور کو وزارت جنگلات، وائلڈ لائف اور فشریز کی ذمہ داری دی گئی ہے،جبکہ ڈاکٹر مصطفیٰ بشیر عباسی وزیر صحت عامہ ہوں گےجبکہ اظہر صادق کو محکمہ ہائیر ایجوکیشن، ثاقب مجید راجا کو توانائی و آبی وسائل کا محکمہ تفویض کیا گیا ہے اسی طرح راجا ریاست خان وزیر مال و بحالیات، سردار عمیر نعیم وزیر ایلیمنٹری و سیکنڈری ایجوکیشن جبکہ عبدالرحمان آرائیں کو سیاحت، صنعت، محنت اور معدنی وسائل کے محکموں کا قلمدان دیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز آزاد کشمیر کی 8 رکنی کابینہ کا اعلان کیا گیا تھا، جن سے قائم مقام صدر چوہدری طارق فاروق نے حلف لیا تھا،

  • بھارت: کنویں میں گرکر زخمی ہونے والے ہاتھی کو کامیابی سے ریسکیو کر لیا گیا

    بھارت: کنویں میں گرکر زخمی ہونے والے ہاتھی کو کامیابی سے ریسکیو کر لیا گیا

    بھارت: کنویں میں گرکر زخمی ہونے والے ہاتھی کے بچےکو بچالیا گیا۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست اڑیسہ کے ضلع ڈھین کینال کے جنگل میں موجود ایک ویران کھلے کنویں میں ہاتھی کا بچہ گرگیا کنویں میں ہاتھی کے بچے کے گرنے کی اطلاع محکمہ جنگلات کو دی گئی جس کے بعد حکام کی جانب سے مقامی افرادکے ساتھ مل کر ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا، محکمہ جنگلات، فائر فائٹرز اور مقامی افرادکی سخت محنت کے بعد ہاتھی کے بچے کو کنویں سے نکالنے میں کامیابی ملی۔

    حکام کی جانب سے ہاتھی کے بچے کو ریسکیو کرنے کے آپریشن کی ویڈیو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر بھی شیئر کی گئی ہے،حکام نے بتایا کہ یہ 3 سے 4 سال کا نر ہاتھی ہے اورکنویں میں گرنے کے بعد کمزورہوگیا جب کہ ہاتھی کا بچہ زخمی بھی ہوا جس فوری طبی امداد کے لیے اینیمل ریسکیو سینٹر بھیج دیا گیا،بچے کو ابتدائی طبی امداد دی گئی ہے اور اس کی حالت اب بہتر بتائی جا رہی ہے۔

  • نیپال میں تباہ کن سیلاب: 64 سالہ خاتون اور 1 چینی شہری کو 10 دن بعد ملبے سے نکال لیا گیا

    نیپال میں تباہ کن سیلاب: 64 سالہ خاتون اور 1 چینی شہری کو 10 دن بعد ملبے سے نکال لیا گیا

    نیپال میں 64 سالہ چندریکا شریستھا کو ضلع نواکوٹ کے بیتراوتی علاقے میں ایک چار منزلہ مکان کے ملبے سے 10 دن بعد زندہ نکالا گیا۔

    نیپال میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے 10 روز (240 گھنٹے) بعد آرمڈ پولیس فورس نے نوواکوٹ ضلع کے علاقے بیٹراواٹی میں ایک تباہ شدہ گھر کے ملبے تلے دبی 64 سالہ خاتون چندیکا کماری شریستھا (Chandika Kumari Shrestha) کو معجزانہ طور پر زندہ نکال لیا۔

    ریسکیو اہلکاروں نے ملبے کے اندر سے ان کی آواز سنی، جس کے بعد کارروائی کرکے انہیں باہر نکالا گیا،خاتون کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے کھٹمنڈو منتقل کیا گیا، آرمڈ پولیس فورس کی 9 رکنی ٹیم نے کارروائی کرتے ہوئے انہیں بے ہوش مگر زندہ حالت میں باہر نکالا،اسی روز ایک چینی شہری کو بھی ہائیڈرو پاور منصو بے کی سرنگ سے تقریباً 10 دن بعد زندہ نکالا گیا ہے، یہ گزشتہ 2 روز کے دوران تریشولی پن بجلی منصوبے کے مقام پر تیسری کامیاب ریسکیو کارروائی ہے۔

    اس سے قبل جمعے کو تریشولی 3 اے پن بجلی منصوبے کی ایک سرنگ سے 2 نیپالی کارکنوں کو زندہ باہر نکالا گیا تھا۔

    نیپالی فوج کے مطابق چینی شہری کو نکالنے کی کارروائی میں نیپالی فوجی اہلکاروں کے ساتھ جنوبی کوریا کے ڈیزاسٹر رسپانس ماہرین نے بھی حصہ لیا،متاثرہ شخص کو 225 میٹر طویل سرنگ سے زندہ نکالا گیا، جس کے بعد اسے طبی معائنے کے لیے منتقل کر دیا گیا۔

    فوج کی جانب سے جاری کی گئی تصاویر میں چینی شہری کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے منتقل کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جبکہ سفر کے دوران ایک فوجی طبی اہلکار بھی اس کے ساتھ موجود تھا۔

    نیپالی حکام کے مطابق ملک کے 12 پن بجلی منصوبوں میں تقریباً 900 کارکن تاحال لاپتا ہیں، جن میں سے لگ بھگ 500 کے مختلف سرنگوں میں پھنسے ہونے کا خدشہ ہے۔

    یہ تباہی گلیشیئر کے انہدام کے بعد آنے والے شدید سیلاب سے ہوئی، جس میں 1,300 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہئں ، جبکہ نیپال کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی کے مطابق 5000 سے زائد افراد اب بھی لاپتا ہیں،امدادی اداروں کی جانب سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو آپریشن جاری ہے اور سرنگوں، تباہ شدہ عمارتوں اور دیگر مقامات پر پھنسے افراد کی تلاش کی جا رہی ہے۔

  • ایران: خارگ جزیرے کے قریب ایرانی ٹینکر پر امریکی میزائل حملے کی غیر مصدقہ اطلاعات

    ایران: خارگ جزیرے کے قریب ایرانی ٹینکر پر امریکی میزائل حملے کی غیر مصدقہ اطلاعات

    ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے دعویٰ کیا ہے کہ ہفتے کے روز خلیج میں ایران کے اہم تیل برآمدی مرکز خارگ جزیرے کے قریب ایک ایرانی آئل ٹینکر کو امریکی فورسز نے نشانہ بنایا ہے۔

    برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایرانی خبر ایجنسی تسنیم نے دعویٰ کیا ہے کہ خارگ جزیرے سے موجود اس کے نمائندے نے بتایا کہ ٹینکر پر 4 امریکی میزائل داغے گئے ہیں رپورٹ کے مطابق یہ حملہ خارگ جزیرے کے لنگر انداز ہونے والے علاقے کے قریب کیا گیا۔

    ایرانی نیوز ویب سائٹ عصر ایران نے بھی دعویٰ کیا کہ ایرانی ٹینکر پر امریکی فورسز کی جانب سے 4 میزائل داغے گئے رپورٹ کے مطابق حملے کے وقت ٹینکر سے تیل اتارا جا رہا تھا تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ حملے میں ٹینکر کو کتنا نقصان پہنچا یا اس میں سوار افراد کس حال میں ہے ایرانی حکام کی جانب سے بھی فوری طور پر اس واقعے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ نے بھی فوری طور پر اس واقعے کے بارے میں تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا اس لیے ٹینکر پر حملے سے متعلق تسنیم کی رپورٹ کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔

    اس سے قبل برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے فارس کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا تھا کہ خلیج کے علاقے میں دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں، تاہم دھماکوں کے بعد دھوئیں کے کوئی آثار نظر نہیں آئے۔

    ریاست سے وابستہ ایرانی نیوز ویب سائٹ نور نیوز نے مقامی ذرائع کے حوالے سے بتایا تھا کہ ایسی غیر مصدقہ اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ خارگ جزیرے کے قریب ایک ایرانی آئل ٹینکر کو امریکی فورسز کی جانب سے داغے گئے میزائل سے نشانہ بنایا گیا۔

    واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے بھی خارگ جزیرے کے حوالے سے سخت بیانات دے چکے ہیں 31 اگست کو سوشل میڈیا پر ایک مختصر پیغام میں، جس کے ساتھ مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ویڈیو بھی شامل تھی، ٹرمپ نے کہا تھا کہ خارگ جزیرہ مکمل طور پر تباہ کیا جا رہا ہے۔

    اس سے پہلے 11 جون کو ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ خارگ جزیرے پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں تاہم چند روز بعد انہوں نے کہا کہ جزیرے کے خلاف مجوزہ امریکی فوجی کارروائی فی الحال زیر غور نہیں ہے۔ اس کے بعد 17 جون کو تہران اور واشنگٹن نے جنگ ختم کرنے کے مقصد سے ایک عبوری معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

    اگر خارگ جزیرے یا وہاں موجود تیل کی تنصیبات کو بڑے پیمانے پر نشانہ بنایا جاتا ہے تو اس سے ایران کی تیل کی صنعت اور پہلے ہی مشکلات کا شکار ملکی معیشت پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔

    ایرانی حکام پہلے ہی خبردار کرچکے ہیں کہ اگر خارگ جزیرے کو نشانہ بنایا گیا تو ایران کی جانب سے سخت ردعمل دیا جائے گا تاہم ہفتے کے روز ایرانی ٹینکر پر مبینہ امریکی حملے کے حوالے سے واشنگٹن یا تہران کی جانب سے تاحال کوئی مکمل سرکاری تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔