Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • ٹرمپ کا ایران کو ایک بار پھر سخت الفاظ میں الٹی میٹم

    ٹرمپ کا ایران کو ایک بار پھر سخت الفاظ میں الٹی میٹم

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک بار پھر سخت الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان جلد ہی کوئی امن معاہدہ نہ ہوا تو یہ ایران کے لیے بہت برا وقت ثابت ہو گا۔

    صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک پیغام میں کسی کا نام لیے بغیر لکھا کہ یہ طوفان سے پہلے کی خاموشی تھی۔

    اس بیان کے بعد انہوں نے فرانسیسی نشریاتی ادارے کو ٹیلی فون پر ایک انٹرویو دیا جس میں انہوں نے ایران کو براہ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے اپنے مفاد میں یہی ہے کہ وہ کسی نہ کسی معاہدے تک پہنچ جائے، ایرانیوں کے ساتھ کچھ مسائل ہیں اور وہ پاگل ہیں۔

    اس سے قبل ’فوکس نیوز‘ کو دیے گئے ایک اور انٹرویو میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران پر ایک بہت بڑا اور فیصلہ کن فوجی حملہ کرنے والے تھے لیکن انہوں نے یہ حملہ پاکستان کی وجہ سے روک دیا، میں نے ایران پر فیصلہ کن حملہ پاکستان کے بہت اچھے لوگوں کی درخواست پر روکا ہے۔

    انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستانی شخصیات ایران کے بہت زیادہ قریب ہیں اور ان شخصیات نے مجھ سے رابطہ کر کے کہا تھا کہ اگر آپ ابھی اس حملے سے رک سکتے ہیں تو ہم آپ کی ایران کے ساتھ ڈیل یعنی معاہدہ کرا دیں گے۔

    امریکی صدر کے ان بیانات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ خطے میں پسِ پردہ انتہائی اہم سفارتی کوششیں جاری ہیں جہاں پاکستان دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرانے اور جنگ کو روکنے کے لیے ایک ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے-

  • مشترکہ کوششوں سے پاکستان کو ایک ڈیجیٹل طور پر بااختیار اور خوشحال ملک بنایا جا سکتا ہے،وزیراعظم

    مشترکہ کوششوں سے پاکستان کو ایک ڈیجیٹل طور پر بااختیار اور خوشحال ملک بنایا جا سکتا ہے،وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے عالمی یومِ ٹیلی مواصلات و معلوماتی معاشرہ کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ پاکستان تیزی سے ایک مکمل ڈیجیٹل انقلاب کی جانب گامزن ہے اور حکومت ’ڈیجیٹل نیشن پاکستان‘ وژن کے تحت مؤثر اقدامات کر رہی ہے، مشترکہ کوششوں سے پاکستان کو ایک ڈیجیٹل طور پر بااختیار اور خوشحال ملک بنایا جا سکتا ہے-

    وزیراعظم نے ٹیلی کمیونیکیشن کے شعبے سے وابستہ تمام ماہرین، اداروں، شراکت داروں اور بین الاقوامی معاونین کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس سال عالمی دن کا موضوع ’ڈیجیٹل لائف لائنز: ایک مربوط دنیا میں مضبوطی و پائیداری کا فروغ‘ پاکستان کے قومی وژن سے مکمل ہم آہنگ ہے۔

    انہوں نے کہا کہ نیشنل اے آئی پالیسی 2025 مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ایک انقلابی اقدام ہے جبکہ حالیہ شفاف 5G اسپیکٹرم نیلامی ’ڈیجیٹل پا کستان‘ کی جانب ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوئی ہے، جسے جی ایس ایم اے نے ابھرتی معیشتوں کیلئے قابلِ تقلید قرار دیا، ملک میں سیلولر اسپیکٹرم 274 میگا ہرٹز سے بڑھا کر 754 میگا ہرٹز کر دیا گیا ہے جبکہ حکومت 5G کے تیز تر نفاذ، قومی فائبرائزیشن پالیسی اور مقامی ڈیوائس مینوفیکچرنگ کے فروغ کے لیے پُرعزم ہے۔

    وزیراعظم نے بتایا کہ پاکستان کا ڈیجیٹل انفراسٹرکچر تیزی سے ترقی کر رہا ہے، جس میں 2 لاکھ 34 ہزار کلومیٹر سے زائد فائبر آپٹک بیک بون، 6 جدید سب میرین کیبلز، 58 ہزار سیلولر ٹاورز اور 20 سے زائد جدید ڈیٹا سینٹرز شامل ہیں، جو 205 ملین صارفین کو خدمات فراہم کر رہے ہیں پاکستان جنوبی و وسطی ایشیا میں ایک علاقائی ڈیجیٹل مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے اور CAREC ڈیجیٹل کوریڈور منصوبے پر بھی پیش رفت جاری ہے۔

    انہوں نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات 3.8 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں، جبکہ ڈیجی اسکلز، نیشنل انکیوبیشن سینٹرز اور سیمی کنڈکٹر ہیومن ریسورس پروگرام جیسے اقدامات نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کر رہے ہیں پاکستان نے آئی ٹی یو/ اقوام متحدہ کے سائبر سیکیورٹی انڈیکس میں ٹئیر-1 ’رول ماڈل‘ حیثیت حاصل کی ہے، جو ملک کی ڈیجیٹل ترقی کا عالمی اعتراف ہے۔

    وزیراعظم نے وزارتِ آئی ٹی، پی ٹی اے، سیلولر آپریٹرز اور شعبے سے وابستہ تمام اداروں اور افراد کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ مشترکہ کوششوں سے پاکستان کو ایک ڈیجیٹل طور پر بااختیار اور خوشحال ملک بنایا جا سکتا ہے۔

  • امریکا اور اسرائیل تیار، ایران پر اگلے ہفتے  نئے حملوں کا امکان ، نیویارک ٹائمز

    امریکا اور اسرائیل تیار، ایران پر اگلے ہفتے نئے حملوں کا امکان ، نیویارک ٹائمز

    امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی کی تیاری کر رہے ہیں اور اگلے ہفتے حملوں کا نیا سلسلہ شروع ہونے کا امکان ہے، جبکہ تہران نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی جارحیت کا ’مناسب جواب‘ دیا جائے گا۔

    رپورٹ کے مطابق ایران اور ٹرمپ انتظامیہ کے درمیان بالواسطہ مذاکرات تاحال تعطل کا شکار ہیں، جبکہ اپریل میں ہونے والی نازک جنگ بندی کے باوجود دونوں فریق ایک دوسرے کے مطالبات کو غیر حقیقت پسندانہ قرار دے رہے ہیں نیویارک ٹائمز نے مشرقِ وسطیٰ کے دو نامعلوم عہدیداروں کے حوالے سے کہا کہ گزشتہ چند دنوں میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے نئی فوجی کارروائیوں کی تیاریاں تیز کر دی گئی ہیں اور حملے جلد دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ممکنہ منصوبوں میں ایرانی فوجی تنصیبات اور انفراسٹرکچر پر ’زیادہ شدید فضائی حملے‘ شامل ہیں، جبکہ ایک آپشن ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر پر قبضے کی کارروائی بھی بتائی جا رہی ہے، جو مبینہ طور پر زیرِ زمین محفوظ کیے گئے ہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی حالیہ دنوں میں ایران پر دوبارہ حملوں کی دھمکیاں دیتے رہے ہیں انہوں نے ایران کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کو ’بیکار‘ قرار دیتے ہوئے موجودہ جنگ بندی کو ’انتہائی کمزور‘ کہا۔

    دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تہران کو امریکا پر اعتماد کی کوئی وجہ نہیں، تاہم ایران اب بھی سفارتی حل کا خواہاں ہے۔ ان کے مطابق مسئلے کا کوئی فوجی حل موجود نہیں اور امریکا کو یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی شپنگ شدید متاثر ہو رہی ہے اور دنیا کے مختلف حصوں میں تیل کی قلت کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔

  • پسند کی شادی پر گاؤں نذرِ آتش کرنیکا واقعہ، وزیراعلیٰ سندھ کا سخت نوٹس

    پسند کی شادی پر گاؤں نذرِ آتش کرنیکا واقعہ، وزیراعلیٰ سندھ کا سخت نوٹس

    جیکب آباد کے علاقے میرپور بوریرو میں پسند کی شادی کے تنازع پر مشتعل افراد کی جانب سے پورا گاؤں جلائے جانے کے واقعے پر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سخت نوٹس لیتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دے دیا، جبکہ پولیس نے دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرکے 5 ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق چنا برادری سے تعلق رکھنے والی 14 سالہ لڑکی سدرا نے مبینہ طور پر بوریرو برادری کے نوجوان محمد حسن بوریرو سے پسند کی شادی کی، جس کے بعد دونوں نوجوان روپوش ہو گئےواقعے کے تقریباً 10 روز بعد لڑکی کے رشتہ داروں اور ان کے حامیوں نے مبینہ طور پر گاؤں محمد صادق آرائیں پر حملہ کر دیا اور متعدد گھروں کو آگ لگا دی۔

    مقامی افراد کے مطابق حملے میں 100 سے زائد مکانات جل کر خاکستر ہو گئے جبکہ گھریلو سامان بھی تباہ ہو گیا، جس سے متاثرہ خاندانوں کو لاکھوں روپے کا نقصان پہنچا،واقعے کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور کئی خاندان گھروں تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں، متاثرین کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں نے پورے گاؤں کو نشانہ بنایا۔

    واقعے کے بعد پولیس کی بھاری نفری علاقے میں تعینات کر دی گئی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکے۔ دوسری جانب مقامی سطح پر سیاسی، سماجی اور مذہبی شخصیات فریقین کے درمیان صلح کرانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

    مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ تنازع کے باعث معمولاتِ زندگی شدید متاثر ہوئے ہیں اور لوگ خوف کے ماحول میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ شہریوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کا فوری نوٹس لے کر متاثرہ خاندانوں کو تحفظ فراہم کیا جائے اور ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

    میرپور بوریرو تھانے میں غلام شبیر بوریرو کی مدعیت میں 32 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے، جن میں محسن علی چنا، صدام حسین چنا، عبداللہ چنا، محمد رفیق بھٹی، جہانگیر، منیر احمد اور کلیم اللہ بروہی سمیت دیگر شامل ہیں، ایس ایس پی فیضان علی کے مطابق مقدمہ انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت درج کیا گیا ہے اور مزید ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

    دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے واقعے کو ’غیر انسانی اور ناقابلِ برداشت‘ قرار دیتے ہوئے لاڑکانہ ڈویژن کے کمشنر اور ڈی آئی جی سے فوری رپورٹ طلب کر لی ہے وزیراعلیٰ نے پولیس کو ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور متاثرہ خاندانوں کو فوری امداد فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ معصوم شہریوں کی جان و مال سے کھیلنے والوں کو ہر صورت قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

  • ایرانی صدر نے ساڑھے چار ہزار سال پرانے درخت کی تصویر  شئیر کردی

    ایرانی صدر نے ساڑھے چار ہزار سال پرانے درخت کی تصویر شئیر کردی

    ایران کے صدر مسعود پزشکیان نےایران میں موجود ساڑھے چار ہزار سال پرانے درخت کی تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کردی۔

    مسعود پزشکیان نے درخت کی تصویر سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ "سرو” کا یہ درخت ساڑھے 4 ہزار سال پرانا ہے اور ایشیا کا قدیم ترین جاندار ہے یہ اس دھرتی پر ہے جب ساڑھے 4 ہزار سال پہلے بھی ایران کے نام سے جانی جاتی تھی۔

    واضح رہے امریکی صدر کے دورہ چین کے دوران چینی صدر شی جن پنگ نے ڈونلڈ ٹرمپ کو چین کے انتہائی خفیہ اور نایاب حکومتی باغ کا دورہ کروایا تھا اس موقع پر صدر شی جن پنگ نے باغ کے 490 سال پرانے درخت بھی دکھائے تھے اور بتایا تھا کہ یہاں بعض درخت 1000 سال سے بھی زیادہ قدیم ہیں، جس پر صدر ٹرمپ نے جگہ کو سراہتے ہوئے کہا تھا کہ ’مجھے یہ ماحول بہت پسند آیا ہے۔’

    دوسری جانب ایرانی صدر کی پوسٹ کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے مختلف تبصروں کا سلسلہ کیا جارہا ہےسوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہےکہ صدر پزشکیان نے ساڑھے چارہزار سال پرانے درخت کی تصویر اس لیے بھی شئیرکی کیونکہ صدر ٹرمپ نے ایران کی تہذیب اجاڑنے کی دھمکی دی تھی۔

  • امریکا کا خفیہ بائیو لیب پروگرام  ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا

    امریکا کا خفیہ بائیو لیب پروگرام ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا

    امریکا کے خفیہ بائیو لیب پروگرام سے متعلق الزامات ایک بار پھر عالمی سطح پر موضوعِ بحث بن چکے ہیں ، خاص طور پر امریکی ڈائریکٹر نیشنل انٹیلیجنس تلسی گبارڈ کے حالیہ بیان کے بعد،روس اور چین جیسے ممالک مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ امریکا دنیا کے 30 سے زائد ممالک میں ایسی لیبارٹریز فنڈ کر رہا ہے، جو حیاتیاتی ہتھیاروں کی تیاری یا ممنوعہ تحقیق کے لیے استعمال ہو سکتی ہیں۔

    تلسی گبارڈ نے انکشاف کیا کہ امریکی معاونت سے 30 ممالک میں 120 سے زائد بائیولوجیکل لیبارٹریاں قائم ہیں، جن میں سے ایک تہائی سے زیادہ یوکرین میں موجود ہیں امریکی ادارے اب ان لیبارٹریوں، ان میں موجود جراثیم اور وہاں ہونے والی تحقیق کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ خطرناک ’گین آف فنکشن‘ ریسر چ کو روکا جا سکے۔

    روس گزشتہ قریباً ایک دہائی سے امریکا پر الزام عائد کرتا رہا ہے کہ وہ اپنی سرحدوں کے قریب خفیہ حیاتیاتی تحقیق، ممکنہ حیاتیاتی ہتھیاروں کی تیاری اور غیر قانونی تجربات میں ملوث ہے، تاہم امریکا اور مغربی ممالک ان دعوؤں کو مسلسل ’روسی پروپیگنڈا‘ قرار دیتے رہے۔

    یہ الزامات خاص طور پر اس وقت شدت اختیار کر گئے جب یوکرین کے تنازع کے دوران روس نے دعویٰ کیا کہ اس نے امریکی فنڈنگ سے چلنے والی ایسی لیبارٹریوں کے ثبوت اکٹھے کیے ہیں چین نے بھی ان الزامات کی توثیق کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ امریکا کو اپنے ان غیر ملکی منصوبوں پر عالمی برادری کو شفاف جواب دینا چاہیے۔

    یہ معاملہ پہلی بار 2017 میں اس وقت منظرعام پر آیا جب ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ امریکی فضائیہ نے روسی شہریوں کے جینیاتی نمونے حاصل کرنے کے لیے مشتبہ ٹینڈر جاری کیا تھا۔ بعد ازاں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے بھی کہا تھا کہ مختلف نسلی گروہوں کے حیاتیاتی نمونے منظم انداز میں جمع کیے جا رہے ہیں۔

    2018 میں جارجیا کے سابق وزیرِ سلامتی ایگور گیورگادزے نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی معاونت سے قائم رچرڈ لوگر سینٹر میں مشتبہ حیاتیاتی تجربات کیے گئے، جن کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک ہوئے روسی وزارت دفاع نے ان الزامات کی تحقیقات بھی کیں، تاہم امریکا اور جارجیا نے ان دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیا۔

    2022 میں یوکرین جنگ کے آغاز کے بعد روس نے یوکرین میں قائم مختلف لیبارٹریوں سے ہزاروں دستاویزات قبضے میں لینے کا دعویٰ کیا اور کہا کہ امریکا عالمی حیاتیاتی تحفظ کے نام پر دوہرے استعمال کی تحقیق کر رہا تھا، جس میں حیاتیاتی ہتھیاروں کے اجزا بھی شامل تھے۔

    ماضی میں امریکی حکومت، محکمہ دفاع (پینٹاگون) اور اقوام متحدہ میں امریکی نمائندوں نے ان تمام الزامات کو یکسر مسترد کیا ہے واشنگٹن کا اصرار ہے کہ یہ لیبارٹریز عالمی سطح پر صحت کے تحفظ، وبائی امراض کی روک تھام اور پرامن سائنسی تحقیق کے لیے بنائی گئی ہیں اور یہ ‘حیاتیاتی ہتھیاروں کے کنونشن’ (Biological Weapons Convention) کے عین مطابق ہیں۔

    عالمی ادارہ صحت (WHO) اور دیگر غیر جانبدار آزاد سائنسدانوں اور ماہرین نے بھی اب تک ان الزامات کے حق میں کسی ٹھوس ثبوت کی تصدیق نہیں کی۔ آزاد مبصرین کا ماننا ہے کہ یہ سہولیات زیادہ تر خطے کے حیاتیاتی تحفظ اور عوامی صحت کے معیارات کو بہتر بنانے کے لیے کام کر رہی ہیں۔

    یہ تنازع اس لیے بھی عروج پر ہے کیونکہ امریکا کے اندر خود حکومتی سطح پر یہ جائزہ لیا جا رہا ہے کہ بیرونِ ملک چلنے والے ایسے منصوبوں میں کتنی شفافیت اور حفاظتی اقدامات موجود ہیں امریکی اور یورپی حکام نے ان تمام دعوؤں کو بارہا ’پروپیگنڈا‘، ’مضحکہ خیز‘ اور ’غلط معلومات‘ قرار دیا، تاہم تلسی گبارڈ کے حالیہ بیان نے اس تنازع کو دوبارہ عالمی بحث کا موضوع بنا دیا ہے۔

  • سعود ی عرب کی مسلسل تیسری بار آئی ایس ای ایف میں دنیا میں دوسری پوزیشن

    سعود ی عرب کی مسلسل تیسری بار آئی ایس ای ایف میں دنیا میں دوسری پوزیشن

    سعودی عرب نے عالمی سطح پر سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک اور نمایاں کامیابی حاصل کرتے ہوئے ریجنیرون انٹرنیشنل سائنس اینڈ انجینئرنگ فیئر (آئی ایس ای ایف) 2026 میں مسلسل تیسری بار دنیا بھر میں دوسرا مقام حاصل کر لیا ہے، جہاں امریکہ پہلے نمبر پر رہا۔

    سعودی خبر رساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق یہ مقابلہ امریکی ریاست ایریزونا کے شہر فینکس میں 9 سے 15 مئی تک منعقد ہوا، جس میں 70 ممالک کے 1700 سے زائد طلبہ نے شرکت کی،سعودی ٹیم نے مجموعی طور پر 12 بڑے انعامات حاصل کیے، جن میں ایک پہلا انعام، 4 دوسرے، 5 تیسرے اور 2 چوتھے انعامات شامل ہیں اس کے علاوہ ٹیم کو 12 خصوصی ایوارڈز بھی دیے گئے۔

    رپورٹ کے مطابق 2007 سے اس مقابلے میں شرکت کے آغاز کے بعد سعودی عرب کے مجموعی انعامات کی تعداد 209 تک پہنچ گئی ہے، جو عالمی سطح پر اس کی بڑھتی ہوئی سائنسی صلاحیتوں کا مظہر ہےاس سال 40 طلبہ پر مشتمل سعودی ٹیم نے مقابلے میں حصہ لیا، جن میں سے 23 نے موقع پر جبکہ 17 نے ریاض سے آن لائن شرکت کی، یہ طلبہ 357,000 سے زائد امیدواروں اور 34,000 سے زیادہ سائنسی منصوبوں میں سے منتخب کیے گئے تھے، جو سعودی عرب میں تحقیق، جدت اور تعلیم کے فروغ کو ظاہر کرتا ہے۔

  • پنکی کو بچانے کیلئے بعض نامعلوم قوتیں متحرک؟ اہم شواہد غائب ہونے کاانکشاف

    پنکی کو بچانے کیلئے بعض نامعلوم قوتیں متحرک؟ اہم شواہد غائب ہونے کاانکشاف

    مبینہ منشیات فروش خاتون پنکی کو بچانے کے لیے بعض نامعلوم قوتوں کے متحرک ہونے کا انکشاف سامنے آگیا-

    تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ گارڈن تھانے میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج دستیاب نہیں، ذرائع کے مطابق ملزمہ کو تھانے کب لایا گیا اور کب وہاں سے روانہ کیا گیا، اس حوالے سے کوئی باقاعدہ ریکارڈ موجود نہیں، جس پر پولیس حکام نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اُس وقت بجلی موجود نہیں تھی، اسی وجہ سے ریکارڈنگ نہیں ہو سکی تاہم ذرائع کے مطابق معاملے نے کئی نئے سوالات کو جنم دے دیا ہے اور شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اہم شواہد غائب کیے گئے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق ملزمہ پنکی کا مبینہ آن لائن کوکین سپلائی نیٹ ورک اب بھی سرگرم ہے، البتہ کارروائیوں کے بعد اس کے کارندوں نے رابطے کے نمبرز تبدیل کر لیے ہیں،مبینہ طور پر منشیات خریدنے والوں کو پیغامات ارسال کیے گئے جن میں کہا گیا کہ میڈم پنکی کا سابقہ نمبر بند ہو چکا ہے اور اب سروس ان کے دوست فراہم کر رہے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق مبینہ پیغامات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کراچی میں 24 گھنٹے اور ہفتے کے ساتوں دن کوکین دستیاب ہے پیغامات میں گولڈن اسٹف 25 ہزار روپے فی گرام جبکہ سلور اسٹف 15 ہزار روپے فی گرام فروخت کیے جانے کا بھی ذکر کیا گیا ہے اس کے علاوہ مبینہ خریداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ رقم اب فیاض کمیونی کیشنز کے اکاؤنٹ میں منتقل نہ کی جائے کیونکہ مذکورہ اکاؤنٹ بلاک ہو چکا ہے، نیٹ ورک نئے مالیاتی ذرائع اور رابطہ نمبرز کے ذر یعے اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    دوسری جانب قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے اس معاملے پر باضابطہ اور تفصیلی مؤقف تاحال سامنے نہیں آیا-

  • دورۂ چین: امریکی وفد کا کھانا پانی امریکا سے آیا، ٹرمپ اور ٹیم نے چینی کھانے کو ہاتھ نہ لگایا

    دورۂ چین: امریکی وفد کا کھانا پانی امریکا سے آیا، ٹرمپ اور ٹیم نے چینی کھانے کو ہاتھ نہ لگایا

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ دورۂ چین کے بعد سوشل میڈیا پر امریکی وفد سے متعلق مختلف دعوے زیرِ گردش ہیں، جن میں کہا جا رہا ہے کہ وفد اپنا کھانا اور پینے کا پانی امریکا سے ساتھ لے کر گیا تھا-

    ریاستیں ایک دوسرے کیساتھ تعلقات بھی رکھتی ہیں اپنا مفاد بھی رکھتی ہیں اور اپنی اناء بھی رکھتی ہیں بظاہر چین اور امریکہ میں بہت سرد مہری پائی جاتی ہے لیکن دونوں ممالک کی آپس میں تجارت بھی ہے دونوں ممالک کئی معاملات میں ایک دوسرے سے متفق بھی ہیں اور کئی معاملات کیں ایک دوسرے سے اختلاف بھی رکھتے ہیں لیکن دونوں ممالک کے سربراہان اپنے اپنے ملک کی سفارتی، عسکری، تجارتی اور ریاستی خودمختاری کو بھی سامنے رکھتی ہیں۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ چین کے دورے پر گئے اور اپنے ساتھ امریکہ کے بڑے بڑے بزنس ٹائیکون سے لے کر ٹیکنالوجی کمپنی تک کے سربراہان تک کو ساتھ لیکر گئے لیکن جب واپس اپنے ملک جانے لگے تو ائیرپورٹ پر پہنچ کر موبائل سے لے کر سوئی اور چین کی طرف سے دئیے گئے تمام تحائف ائیرپورٹ کے باہر ایک باسکٹ میں ڈالتے گئے جبکہ امریکی وفد اپنا کھانا اور پینے کا پانی امریکا سے ساتھ لے کر گیا تھا جبکہ ٹرمپ اور ان کی ٹیم نے چینی حکام کی جانب سے پیش کیے گئے کھانے کو ہاتھ تک نہیں لگایا-

    رپورٹس اور سوشل میڈیا پوسٹس کے مطابق امریکی وفد نے دورے کے دوران تمام خوراک اور پانی امریکا سے منگوایا جبکہ چینی صدر شی جن پنگ کی جانب سے دیے گئے تحائف بھی اپنے ساتھ واپس نہیں لے جائے گئے، بعض پوسٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ امریکی حکام نے تحائف کو سیکیورٹی خدشات کے باعث قبول کرنے سے گریز کیا۔

    تاہم ان دعوؤں کی باضابطہ طور پر کوئی تصدیق سامنے نہیں آئی وائٹ ہاؤس یا امریکی حکام کی جانب سے ایسا کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا جس میں کہا گیا ہو کہ وفد نے چینی کھانا استعمال نہیں کیا یا پانی امریکا سے ایئر لفٹ کیا گیا تاہم امریکی وفد نے سیکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر چین میں استعمال ہونے والی بعض عارضی ڈیوائسز، بیجز اور دیگر سامان واپس روانگی سے قبل تلف ضرور کیے تھے مبصرین کے مطابق یہ اقدام سائبر سیکیورٹی پروٹوکول کا حصہ ہوسکتا ہے۔

    وجہ صرف اتنی تھی کہ چین کے دورے سے واپسی پر ہمارے پاس ایسا کچھ نہ ہو جو ہماری سیکیورٹی کو رسک میں ڈال دے اور جواب میں چین نے بھی اپنی ریاستی انا برقرار رکھی اور جیسے ہی آخری امریکی جہاز کیں بیٹھا چین نے ریڈ کارپٹ سے لیکر واپسی استقبالیہ ٹھہرے بچوں سمیت اپنی پروٹوکول فورس تک کو ایک منٹ سے بھی کم وقت میں لپیٹ کر چل دئیے جبکہ امریکی جہاز ابھی بھی ائیرپورٹ پر موجود تھا۔

    ریاستیں اپنی سیکیورٹی کو اس حد تک محفوظ کرتی ہیں کہ امریکی وفد نے چین سے واپسی پر سوائے اپنے کپڑوں کے باقی سب وہیں چین میں ہی چھوڑ دیا اور خود دار ریاستیں اپنی عزت اور اناء کا اس حد تک خیال کرتی ہیں کہ ابھی امریکی جہاز ائیرپورٹ پر موجود ہے جبکہ چین نے ایک منٹ سے بھی کم وقت میں ائیرپورٹ کو خالی کر دیا۔

    سوشل میڈیا پر ان خبروں کو امریکا اور چین کے درمیان بڑھتے ہوئے عدم اعتماد سے جوڑا جا رہا ہے، تاہم سرکاری سطح پر اس حوالے سے کوئی واضح مؤقف سامنے نہیں آیا۔

  • بھارتی آرمی چیف کے اشتعال انگیز  بیان پر پاک فوج کا سخت ردعمل

    بھارتی آرمی چیف کے اشتعال انگیز بیان پر پاک فوج کا سخت ردعمل

    آئی ایس پی آر نے بھارتی آرمی چیف جنرل اوپندرا دویویدی کے اشتعال انگیز بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان پہلے ہی عالمی سطح پر ایک اہم ملک اور تسلیم شدہ ایٹمی طاقت ہے۔

    آئی ایس پی آر نے اتوار کو جاری بیان میں بھارتی آرمی چیف کے پاکستان مخالف بیانات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں ’جنون اور جنگی ذہنیت‘ قرار دیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ پاکستان کو نشانہ بنانے کی کسی بھی کوشش کے نتائج خطے تک محدود نہیں رہیں گے-

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی آرمی چیف نے اپنے حالیہ انٹرویو میں اشتعال انگیز بیان دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ جغرافیہ اور تاریخ کا حصہ بننا چاہتا ہے کہ نہیں۔

    بھارتی آرمی چیف کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے آئی ایس پی آر نے کہا کہ ہندوتوا سوچ کے برعکس پاکستان عالمی سطح پر ایک اہم ملک اور تسلیم شدہ ایک خودمختار، ایٹمی طاقت ہے، پاکستان جنوبی ایشیا کے جغرافیے اور تاریخ کا ناقابلِ تردید حصہ ہے بھارتی آرمی چیف کے ریمارکس اشتعال انگیز اور غیر ذمہ دارانہ ہیں، جن کا مقصد جنوبی ایشیا کو ایک اور بحران اور ممکنہ جنگ کی طرف دھکیلنا ہے-

    آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی قیادت کی سوچ اب بھی پاکستان کے وجود کو قبول کرنے میں ناکام ہے، حالانکہ دونوں ممالک کے قیام کو آٹھ دہائیاں گزر چکی ہیں، اس طرزِ فکر نے ماضی میں بھی خطے کو بارہا جنگوں اور بحرانوں کی طرف دھکیلا ہے کسی خودمختار ایٹمی ریاست کو ’جغرافیہ سے مٹانے ‘ کی دھمکی در اصل اسٹریٹجک سوچ نہیں بلکہ ’ذہنی افلاس، جنون اور جنگی ذہنیت‘ کی عکاس ہے بھارت یہ بخوبی جانتا ہے کہ کسی بھی جغرافیائی تصادم کے نتائج باہمی اور انتہائی تباہ کن ہوں گے،ذمہ دار ایٹمی ریاستیں اشتعال انگیز زبان کے بجائے تحمل، پختگی اور اسٹریٹجک سمجھداری کا مظاہرہ کرتی ہیں۔

    بھارت پر الزام عائد کیا کہ وہ خطے میں عدم استحکام کا باعث رہا ہے اور اس کا موجودہ جارحانہ رویہ بھی ناکامیوں اور مایوسی کا نتیجہ ہےبھارت کی قیادت کو چاہیے کہ وہ جنوبی ایشیا کو مزید کشیدگی کی طرف دھکیلنے کے بجائے پاکستان کے وجود اور حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے پرامن بقائے باہمی کی راہ اپنائے۔