ایلون مسک کے سیٹلائٹ اسپیس ایکس (SpaceX) کے اسٹارلنک کا مقابلہ کرنے کے لیے روس نے ’راسویت‘ (Rassvet) کے نام سے اپنا سیٹلائٹ انٹرنیٹ نیٹ ورک تیار کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ اس منصوبے کو نجی کمپنی ‘بیورو 1440’ (Bureau 1440) اور روسی خلائی ایجنسی کی مدد سے تیزی سے آگے بڑھایا جا رہا ہے، منصوبے کا مقصد ملک کی ڈیجیٹل خودمختاری کو مضبوط بنانا اور دور دراز علاقوں تک تیز رفتار انٹرنیٹ کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کا کہنا ہے کہ راسویٹ بعض شعبوں میں اسٹارلنک سے بھی بہتر کارکردگی دکھا سکتا ہے یہ منصوبہ نجی روسی خلائی کمپنی بیورو 1440 تیار کر رہی ہے، جس نے 2023 میں آزمائشی سیٹلائٹس بھیجے تھے جبکہ رواں سال تجارتی بنیادوں پر سیٹلائٹس کی تنصیب کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔
روسی حکومت کے مطابق 2026 کے اختتام تک 156 راسویٹ سیٹلائٹس مدار میں موجود ہوں گے، جبکہ 2035 تک ان کی تعداد بڑھا کر قریباً 900 کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، اس منصوبے پر مجموعی طور پر قریباً 7 ارب ڈالر لاگت آنے کا تخمینہ ہے،راسویٹ سیٹلائٹس قریباً 800 کلومیٹر کی بلندی پر مدار میں کام کریں گے اور 5جی ٹیکنالوجی، لیزر کمیونیکیشن اور ایک گیگا بٹ فی سیکنڈ تک ڈیٹا کی رفتار فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
روسی حکام کے مطابق یہ نظام آرکٹک، سائبیریا اور دیگر دور افتادہ علاقوں میں انٹرنیٹ اور مواصلاتی خدما ت بہتر بنانے میں مدد دے گا، راسویٹ نیٹ ورک شہری استعمال کے ساتھ ساتھ ڈرونز کے سیٹلائٹ کنٹرول، فوجی مواصلات اور اہم سرکاری انفراسٹرکچر کے لیے بھی اہم کردار ادا کرے گا۔ روس کا مؤقف ہے کہ یہ منصوبہ مغربی سیٹلائٹ نیٹ ورکس پر انحصار کم کرنے اور ملک کی ڈیجیٹل خودمختاری کو مزید مستحکم بنانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے-
