Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • افغان میڈیکل طلبہ کو پاکستان چھوڑنےکی ہدایت، ایمنسٹی انٹرنیشنل کا اظہار تشویش

    افغان میڈیکل طلبہ کو پاکستان چھوڑنےکی ہدایت، ایمنسٹی انٹرنیشنل کا اظہار تشویش

    پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل(پی ایم ڈی سی) نے افغان میڈیکل و ڈینٹل طلبہ سے متعلق اہم فیصلہ کرتے ہوئے پاکستان میں زیرتعلیم افغان طلبہ کو افغانستان واپس جانے کی ہدایت کردی۔

    پی ایم ڈی سی کی جانب سے یکم ستمبر 2026 کو جاری مراسلے میں میڈیکل کالجز کو افغان طلبہ کی واپسی کیلئے انتظامی کارروائی مکمل کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ متعلقہ ادارے افغان طلبہ کو مطلوبہ نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ (این او سی) جاری کریں۔

    موجودہ تعلیمی سیشن میں افغان شہریوں کے میڈیکل، ڈینٹل داخلے پر پابندی عائد کردی گئی ہے، افغان شہریوں کو میڈیکل و ڈینٹل اداروں میں پلیسمنٹ، ٹرانسفر اور مائیگریشن کی اجازت نہیں ہو گی فغان شہریوں کو کسی بھی قسم کی سہولت فراہم نہ کی جائے، میڈیکل و ڈینٹل ادارے سابقہ ہدایات پر سختی سے عملدرآمد کریں۔

    تعمیلی رپورٹ جمع نہ کرانے والے اداروں کو 3 روز میں مکمل تفصیلات فراہم کرنے کا کہا گیا ہے ، ہدایات پر عمل نہ کرنے، معلومات چھپانے یا غیر مجاز سہولت کاری پر کارروائی ہو گی، پی ایم ڈی سی کے مطابق خلاف ورزی پر پی ایم ڈی سی ایکٹ 2022 کے تحت ریگولیٹری کارروائی ہوسکتی ہے۔

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں افغان سفارتخانے نے پی ایم ڈی سی کے فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تعلیم جیسے اہم شعبے کو سیاسی اختلافات سے محفوظ رکھا جانا چاہیے، ہم سمجھتے ہیں کہ اس اقدام کا اُن افغان طلبہ کی تعلیمی پیش رفت اور مستقبل پر گہرا اثر پڑے گا، جنہوں نے قانونی اور طے شدہ طریقہ کار کے تحت اپنی تعلیم کا آغاز کیا تھا اور برسوں کی لگن، وقت اور نمایاں مالی و ذاتی سرمایہ کاری کے بعد اب اپنے متعلقہ تعلیمی پروگراموں کی تکمیل کے مرحلے میں ہیں۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اسلام آباد میں افغانستان کا سفارتخانہ پاکستان کے تعلیمی حکام اور متعلقہ بین الاقوامی طبی، تعلیمی، انسانی اور پیشہ ورانہ اداروں سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ افغان طلبہ کے تعلیمی حقوق کے تحفظ پر مناسب توجہ دیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ وہ بغیر کسی رکاوٹ یا غیر ضروری مشکلا ت کے اپنی تعلیم مکمل کر سکیں۔

    انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے خاص طور پر افغان طالبات پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے،بہت سی طالبات پہلے ہی افغانستان میں طالبان کی جانب سے جاری صنفی بنیادوں پر امتیازی سلوک اور جبر کے باعث اعلیٰ تعلیم کے حصول سے محروم ہو چکی ہیں، اور اب انہیں تعلیم اور پیشے کو آگے بڑھانے کے چند باقی ماندہ راستوں میں سے ایک کے بھی ختم ہو جانے کے خدشے کا سامنا ہے، بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کے تحت پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ وہ قومی پس منظر کی بنیاد پر کسی بھی قسم کے امتیاز کے بغیر تعلیم کے لیے سہولیات فراہم کرے۔

    سابق وفاقی وزیر مشاہد حسین سید نے حکومت سے اس فیصلے کو واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی ایم ڈی سی کو چاہیے کہ وہ اپنے دور اندیشی سے عاری اور سیاسی محرکات پر مبنی فیصلے کو واپس لے، جس کے ذریعے افغان طلبہ کو تعلیم کے حصول کی ان کی جائز کوشش سے محروم کیا جا رہا ہے۔ یہ فیصلہ پاکستان کے اپنے ماضی کے اُس انسانی ہمدردی پر مبنی کردار کے بھی منافی ہے، جب پاکستان ایک مثالی میزبان ملک کے طور پر سامنے آیا تھا۔ دروازے بند کرنا غلط پالیسی ہے!

    افغانستان میں پاکستان کے سابق سفیر منصوراحمد خان نے بھی ایکس پر کہا کہ میں پی ایم ڈی سی سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ افغان طلبہ کے میڈیکل کالجز اور یونیورسٹیوں میں داخلوں سے متعلق اپنے فیصلے پر انسانی ہمدردی اور دونوں ممالک کے عوام کے درمیان تہذیبی و تاریخی تعلقات کو مدنظر رکھتے ہوئے نظرِ ثانی کرے، ان طلبہ کو اپنی متعلقہ ڈگریاں مکمل کرنے کی اجازت دی جائے اور ان کی تعلیم مکمل ہوتے ہی انہیں افغانستان واپس بھیجنے کا انتظام کیا جائے۔

  • 245 ملین ڈالر کی بٹ کوائن چوری کا اعتراف،22 سالہ نوجوان کو 20 سال قیدکا سامنا

    245 ملین ڈالر کی بٹ کوائن چوری کا اعتراف،22 سالہ نوجوان کو 20 سال قیدکا سامنا

    امریکا میں کرپٹو کرنسی کی تاریخ کی بڑی چوریوں میں شمار ہونے والے مقدمے میں سنگاپور سے تعلق رکھنے والے 22 سالہ مالون لام نے جرم کا اعتراف کرلیا ہے،ہیکرز نے مبینہ طور پر کروڑوں ڈالر مالیت کی کرپٹو کرنسی چوری کی تھی-

    امریکی محکمہ انصاف کے مطابق لام اس بین الاقوامی مجرمانہ نیٹ ورک کا مرکزی کردار تھا، جو آن لائن گیمنگ پلیٹ فارمز کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں آیا، گروپ میں کیلیفورنیا، کنیکٹی کٹ، نیویارک، فلوریڈا اور امریکا سے باہر کے افراد شامل تھے۔

    لام نے امریکی عدالت میں ریکٹیرنگ سازش کے الزام کو تسلیم کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ اس نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر تقریباً 245 ملین ڈالر مالیت کے بٹ کوائن چوری کیے اور بعد ازاں رقم کو غیر قانونی طور پر سفید دھن میں تبدیل کیا-

    استغاثہ کے مطابق لام، جو آن لائن مختلف ناموں بشمول ’این ہیتھ وے‘، ’$$$‘ اور ’کنگ گریوی‘ استعمال کرتا تھا، متاثرین کی نشاندہی کرتا اور ساتھیوں کے کردار طے کرتا تھا،گروہ دھوکے کے ذریعے لوگوں سے خفیہ معلومات حاصل کرتا، جبکہ بعض مواقع پر گھروں میں داخل ہوکر ایسی تفصیلات بھی حاصل کی جاتیں جن کی مدد سے متاثرین کے کرپٹو والٹس خالی کیے جاتے تھے۔

    چوری کی رقم سے لام اور اس کے ساتھیوں نے انتہائی پرتعیش زندگی گزاری، امریکی محکمہ انصاف کے مطابق وہ ایک مرتبہ نائٹ کلب جانے پر 5 لاکھ ڈالر تک خرچ کرتے تھے،گروہ نے 30 سے زائد مہنگی گاڑیاں خریدیں، جن میں بعض کی قیمت 38 لاکھ ڈالر تک تھی،اس کے علاوہ لاکھوں ڈالر مالیت کی گھڑیاں، مہنگے ملبوسات، ہرمیز برکن ہینڈ بیگز، نجی طیاروں کے سفر اور میامی، لاس اینجلس اور ہیمپٹن میں عالیشان کرائے کے مکانات بھی حاصل کیے گئے۔

    حکام کے مطابق نائٹ کلب پارٹیوں میں مہنگے برکن بیگز ہجوم کی جانب بھی اچھالے جاتے تھے، جبکہ لام اپنی شاہانہ طرز زندگی کے باعث لاس اینجلس اور میامی کے نائٹ کلب حلقوں میں خاصا مشہور ہوگیا تھا،لام نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ اس نے 14 سال کی عمر میں سنگاپور میں اسکول چھوڑ دیا تھا وہ اکتوبر 2023 میں امریکا پہنچا اور جنوری 2024 میں ویزا ختم ہونے کے باوجود ملک میں قیام جاری رکھا، مجرمانہ سرگرمیوں کا سلسلہ اکتوبر 2023 سے کم از کم مئی 2025 تک جاری رہا۔

    ایف بی آئی نے ستمبر 2024 میں لام اور اس کے ایک ساتھی کو گرفتار کرکے نیٹ ورک کو توڑ دیا، لام کو جرم ثابت ہونے پر زیادہ سے زیادہ 20 سال قید کی سزا ہوسکتی ہے،جبکہ مقدمے میں لام کے ایک اور ساتھی ایون ٹینگ مین کو رواں برس اپریل میں منی لانڈرنگ کے جرم میں 70 ماہ قید کی سزا سنائی جا چکی ہے۔

  • خاتون نے 20 روپے کا وڑا پاؤ کھانے کیلئے  15 ہزار روپےخرچ کر دئیے

    خاتون نے 20 روپے کا وڑا پاؤ کھانے کیلئے 15 ہزار روپےخرچ کر دئیے

    نئی دہلی کی ایک خاتون نے ممبئی کا مشہور وڑا پاؤ کھانے کے لیے قریباً 15 ہزار بھارتی روپے (قریباً 43 ہزار 800 پاکستانی روپے) خرچ کردیے، جس کے بعد ان کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔

    این ڈی ٹی وی کے مطابق ’وِٹی اسپیس‘ نامی مواد تخلیق کرنے والی خاتون کا کہنا تھا کہ نے دہلی میں وڑا پاؤ کھاتے ہوئے سوچا کہ یہ کوئی وڑا پاؤ ہے وڑا پاؤ تو سپنوں کی نگری ممبئی میں ملتا ہے پھر میں نے اچانک فیصلہ کیا کہ اگر اصل ذائقہ چکھنا ہے تو ممبئی جانا ہوگا، انہوں نے دہلی سے ممبئی کی پرواز کے لیے قریباً 5 ہزار روپے ادا کیے، راستے میں ہوائی اڈے پر چائے اور کھانے کے اخراجات بھی ہوئے-

    خاتون کے مطابق ممبئی پہنچ کر قریباً 4 ہزار روپے یومیہ کے حساب سے ہوٹل کا کمرہ لیا،اور اگلی صبح وہ ممبئی کی گلیوں میں اصل وڑا پاؤ کی تلاش میں نکلیں اور بالآخر ایک خوانچہ فروش سے صرف 20 روپے میں وڑا پاؤ خرید لیا۔ اس وقت تک اس ایک وڑا پاؤ کے لیے ان کا مجموعی خرچ قریباً 15 ہزار روپے ہوچکا تھا۔ پہلا نوالہ لیتے ہی انہوں نے سفر کو قابلِ قدر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ممبئی کا وڑا پاؤ واقعی ’خوابوں کی نگری‘ میں ہی ملتا ہے۔

  • قومی انسدادِ پولیو مہم:فرنٹ لائن ورکرز کے یومیہ معاوضے میں 28 فیصد اضافے کا اعلان

    قومی انسدادِ پولیو مہم:فرنٹ لائن ورکرز کے یومیہ معاوضے میں 28 فیصد اضافے کا اعلان

    پاکستان انسدادِ پولیو پروگرام کی جانب سے ستمبر کی انسدادِ پولیو مہم سے قبل فرنٹ لائن ورکرز کے یومیہ معاوضے میں 28 فیصد اضافے کا اعلان

    پاکستان انسدادِ پولیو پروگرام نے ستمبر میں منعقد ہونے والی آئندہ ذیلی قومی انسدادِ پولیو مہم سے قبل، مہم کے دوران خدمات انجام دینے والے فرنٹ لائن ورکرز کے یومیہ معاوضے میں 28 فیصد اضافے کا اعلان کیا ہے۔ یہ مہم 21 سے 27 ستمبر 2026 تک جاری رہے گی، جس کے دوران بلوچستان، گلگت بلتستان، اسلام آباد، خیبر پختونخوا، پنجاب اور سندھ کے 115 مخصوص اضلاع میں پولیو ٹیمیں 3 کروڑ 10 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائیں گی۔

    وزیراعظم کی فوکل پرسن برائے انسدادِ پولیو، محترمہ عائشہ رضا فاروق کی قیادت میں، پاکستان انسدادِ پولیو پروگرام ملک بھر میں پولیو ویکسین کی فراہمی پر مامور فرنٹ لائن ورکرز کے لیے معاونت کو مزید مضبوط بنا رہا ہے فرنٹ لائن ورکرز کے یومیہ معاوضے میں 28 فیصد اضافہ کیا گیا ہے یہ فیصلہ ملک بھر میں پولیو ورکرز کے ساتھ منعقد کیے گئے لسننگ سیشنز کے بعد کیا گیا، جن میں ورکرز نے پروگرام کی قیادت سے براہِ راست بات چیت کرتے ہوئے اپنے تجربات، فیلڈ میں درپیش مشکلات اور اپنی تجاویز سے آگاہ کیا۔

    پاکستان انسدادِ پولیو پروگرام پولیو ورکرز کو بہتر سہولیات اور معاونت فراہم کرنے کے لیے مختلف اقدامات کر رہا ہے ان میں پولیو ورکرز کی حفاظت اور سیکیورٹی کو یقینی بنانا، ان کی عزت و وقار اور فلاح و بہبود کا تحفظ، اور پاکستان سے پولیو کے خاتمے میں ان کے اہم کردار اور خدمات کو سراہنا شامل ہے ان اقدامات میں منتخب علاقوں میں قائم فرنٹ لائن ورکرز سپورٹ سینٹرز میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کو بہتر بنانا، فرنٹ لائن ورکرز کو شناختی کارڈز کا اجراء، اور فیلڈ میں ان کی حفاظت کو یقینی بنانے میں مدد کے لیے آپریشنل سیفٹی گائیڈ لائنز کی تیاری شامل ہے۔

    یہ اقدامات وزیراعظم کی ہدایات کی روشنی میں بھی کیے جا رہے ہیں تاکہ فرنٹ لائن ورکرز کو بہترین سہولیات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی حفاظت، عزت و وقار اور فلاح و بہبود کو یقینی بنایا جا سکے یہ اقدامات پاکستان میں پولیو کے خاتمے کی کوششوں میں اہم کردار ادا کرنے والی افرادی قوت کی بھرپور معاو نت کے لیے وزیراعظم کے مضبوط عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔

    وزیراعظم کی فوکل پرسن برائے انسدادِ پولیو، محترمہ عائشہ رضا فاروق نے کہا کہ ہمارے فرنٹ لائن ورکرز پاکستان کو پولیو سے پاک بنانے کی کوششوں میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں وہ ہر روز ہر بچے تک پہنچنے اور ملک بھر کی کمیونٹیز کی مدد کے لیے اپنی ذمہ داریوں سے بڑھ کر خدمات انجام دیتے ہیں اور اکثر مشکل حالات میں کام کرتے ہیں-

    انہوں نے مزید کہا کہ فرنٹ لائن ورکرز کے یومیہ معاوضے میں 28 فیصد اضافہ ان کی محنت، لگن اور پولیو کے خاتمے کے لیے ان کی اہم خدمات کا اعترا ف ہے ہم اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پُرعزم ہیں کہ ہر فرنٹ لائن ورکر اپنی اہم ذمہ داری پوری کرتے ہوئے خود کو محفوظ محسوس کرے، اسے عز ت دی جائے اور اسے ہر ممکن مدد اور تعاون حاصل ہو۔

    فرنٹ لائن پولیو ورکرز کی انتھک محنت اور خدمات کی بدولت پاکستان نے پولیو کے خاتمے کی کوششوں میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ ملک میں پولیو کیسز کی تعداد میں 99.8 فیصد کمی واقع ہوئی ہے، جو 1990 کی دہائی کے اوائل میں اندازاً 20,000 کیسز سے کم ہو کر 2025 میں 31 کیسز اور 2026 میں اب تک صرف 3 کیسز تک رہ گئی ہےیہ کامیابی اعداد و شمار اور شواہد کی بنیاد پر تشکیل دی گئی حکمتِ عملی، مؤثر ویکسینیشن مہمات، توسیعی پروگرام برائے حفاظتی ٹیکہ جات (EPI) کے ساتھ مؤثر اشتراک اور بیماری کی بہتر نگرانی کا نتیجہ ہے اس پیش رفت میں ملک بھر کے ویکسینیٹرز اور پولیو مہمات میں کام کرنے والے عملے کی محنت، لگن اور مسلسل کوششوں کا بھی اہم کردار ہے۔

    ستمبر میں ہونے والی انسدادِ پولیو مہم کی تیاریوں کے سلسلے میں، پاکستان پولیو پروگرام والدین اور بچوں کی دیکھ بھال کرنے والے افراد سے اپیل کرتا ہے کہ وہ فرنٹ لائن ٹیموں کو اپنے گھروں میں خوش آمدید کہیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ پانچ سال سے کم عمر ہر بچے کو پولیو سے بچاؤ کے دو قطرے ضرور پلا ئے جائیں۔

    پولیو پروگرام کمیونٹیز، مذہبی رہنماؤں، سول سوسائٹی اور دیگر متعلقہ شراکت داروں سے بھی اپیل کرتا ہے کہ وہ پولیو ٹیموں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں اور ان کا احترام کریں، اور ایسا ماحول بنانے میں مدد دیں جہاں پولیو ٹیمیں محفوظ اور مؤثر طریقے سے ہر بچے تک رسائی حاصل کر سکیں، انہیں پولیو سے بچاؤ کے قطر ے پلا سکیں اور انہیں پولیو سے محفوظ رکھ سکیں۔

    پاکستان انسدادِ پولیو پروگرام فرنٹ لائن پولیو ورکرز کی حمایت، تحفظ اور ان کی خدمات کے اعتراف کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پُرعزم ہے ستمبر کی مہم سے قبل یومیہ معاوضے میں اضافہ ان کی خدمات اور کاوشوں کو تسلیم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے، جو ہر بچے تک پہنچنے کی کوشش کرنے والے فرنٹ لائن ورکرز کو بہتر معاونت فراہم کرنے کے پروگرام کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

    پاکستان انسدادِ پولیو پروگرام گلوبل پولیو ایریڈیکیشن انیشی ایٹو (GPEI) کے شراکت داروں کے مسلسل تعاون اور پاکستان میں پولیو پروگرام اور فرنٹ لائن ورک فورس کو مضبوط بنانے میں ان کے کردار کو بھی سراہتا اور ان کا شکریہ ادا کرتا ہےیہ تمام مشترکہ کوششیں پاکستان کو پولیو سے پاک بنانے کی جانب پیشر فت کو برقرار رکھنے میں مدد دے رہی ہیں۔

  • اسلام آباد پولیس کی نئی اور جدید الیکٹرک گاڑیوں کا فلیگ مارچ

    اسلام آباد پولیس کی نئی اور جدید الیکٹرک گاڑیوں کا فلیگ مارچ

    اسلام آباد پولیس کے بیڑے میں جدید الیکٹرک گاڑیوں کی بڑی تعداد شامل کر دی گئی ہے-

    ترجمان اسلام آباد پولیس کے مطابق جدید الیکٹرک گاڑیوں کا شاندار فلیگ مارچ ڈی چوک سے شروع ہوا، جو شہر کی اہم شاہراہوں سے ہوتا ہوا واپس ڈی چوک پر اختتام پذیر ہوا،فلیگ مارچ کے ذریعے پولیس کی نئی گاڑیوں کو شہریوں کے سامنے متعارف کرایا گیا۔

    ایس ایس پی آپریشنز اسلام آباد قاضی علی رضا نے کہا کہ جدید الیکٹرک گاڑیوں کی شمولیت سے شہر بھر میں پولیس پٹرولنگ مزید فعال ہوگی جبکہ فیلڈ میں پولیس نفری کی موجودگی بھی مضبوط بنائی جا سکے گی،ان گاڑیوں کے ذریعے پٹرولنگ کا دائرہ کار وسیع کیا جائے گا اور حساس مقامات سمیت اہم شاہراہوں کی کڑی نگرانی ممکن ہوگی، جس سے جرائم کی روک تھام میں نمایاں مدد ملے گی۔

    انہوں نے کہا کہ جدید الیکٹرک گاڑیوں کی مدد سے پولیس کا رسپانس ٹائم بہتر ہوگا اور فیلڈ آپریشنز پہلے سے زیادہ تیز اور مؤثر انداز میں انجام دیے جا سکیں گے، الیکٹرک گاڑیوں کا پولیس بیڑے میں شامل ہونا اسلام آباد پولیس کی جدید اور ماحول دوست پولیسنگ کی جانب ایک اہم پیشرفت ہے جدید ٹیکنالوجی اور تمام دستیاب وسائل کے مؤثر استعمال کے ذریعے شہریوں کو پرامن اور محفوظ ماحول فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

    ترجمان اسلام آباد پولیس کے مطابق شہریوں کے جان و مال کا تحفظ اسلام آباد پولیس کی اولین ترجیح ہے اور جدید وسائل کی فراہمی سے فیلڈ فورس، پٹرولنگ اور سیکیورٹی کے مجموعی نظام کو مزید مستحکم کیا جائے گا جدید الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال سے نہ صرف پولیس کی فیلڈ موجودگی میں اضافہ ہوگا بلکہ دارالحکومت میں مؤثر، تیز رفتار اور ماحول دوست پولیسنگ کے نظام کو بھی فروغ ملے گا۔

  • پنجاب کی ہر تحصیل میں الیکٹروبس سروس شروع کرنے کا فیصلہ

    پنجاب کی ہر تحصیل میں الیکٹروبس سروس شروع کرنے کا فیصلہ

    وزیراعلیٰ مریم نوازشریف کا ویژن، پنجاب کی ہر تحصیل میں الیکٹروبس سروس شروع کرنے کا فیصلہ۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف کے ویژن کے تحت الیکٹرو بس سروس کو ڈویژن اور ضلع کے بعد تحصیل کی سطح تک توسیع دینے کا فیصلہ کرلیا گیا۔ پنجاب کی 91 تحصیلوں میں 1500 الیکٹروبسیں چلائی جائیں گی، جبکہ ہر تحصیل کے لیے مخصوص الیکٹروبس ڈپو بھی قائم کیا جائے گا۔

    وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے مختلف اضلاع میں مزید الیکٹروبسوں کی فراہمی کی بھی منظوری دے دی ہے تحصیل سطح پر الیکٹروبس سروس کا آغاز جنوری 2027ء سے ہو گا، اس سلسلے میں الیکٹروبسوں کا پہلا بیچ جنوری میں لاہور پہنچے گا، جون 2027ء تک پنجاب بھر میں 3 ہزار الیکٹروبسیں چلانے اور ستمبر تک پہلا فیز مکمل کرنے کا ہدف ہے، پنجاب کے مختلف اضلاع میں 612 الیکٹروبسیں آپریشنل، روزانہ لاکھوں شہری سفری سہولت سے مستفید ہوں گے-

    منصوبے کے تحت ملتان کی 9 تحصیلوں میں 169، ساہیوال کی 4 تحصیلوں میں 87، بہاولپور کی 11 تحصیلوں میں 215، ڈی جی خان کی 10 تحصیلوں میں 63، فیصل آباد کی 12 تحصیلوں میں 202 اور سرگودھا کی 14 تحصیلوں میں 198 الیکٹروبسیں چلائی جائیں گی،گوجرانوالہ کی 7 تحصیلوں کے لیے 125، گجرات کی 8 تحصیلوں کے لیے 122 جبکہ راولپنڈی کی 16 تحصیلوں کے لیے 219 الیکٹرو بسیں مختص کی گئی ہیں،منڈی بہاؤالدین، وہاڑی، قصور، لودھراں، ننکانہ صا حب، نارووال، گوجرانوالہ اور ملتان میں بھی مزید الیکٹروبسیں فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    ملتان سمیت دیگر اضلاع میں مزید 192 الیکٹروبسیں چند روز میں فنکشنل ہوجائیں گی، سرگودھا، ساہیوال، فیصل آباد، لاہور، مظفرگڑھ، راولپنڈی، جھنگ، بہاولپو ر، رحیم یار خان اور اٹک کو مزید الیکٹرو بسیں فراہم کی جائیں گی، جبکہ بھکر، حافظ آباد، خانیوال، چنیوٹ، لیہ، اوکاڑہ، سیالکوٹ، مری، گجرات اور شیخوپورہ میں بھی اضافی بسیں چلائی جائیں گی جبکہ فیصل آباد اور گوجرانوالہ ماس ٹرانزٹ سسٹم پر پیشرفت تیزی سے جاری ہے، جبکہ لاہور میٹروبس سروس کے 25 اسٹیشنز کی تعمیر و بحالی کا منصوبہ بھی تکمیل کے مراحل میں ہے۔

  • وزیراعظم کا  آسان قرضوں کی فراہمی یقینی بنانے کا حکم

    وزیراعظم کا آسان قرضوں کی فراہمی یقینی بنانے کا حکم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بینکوں اور مالیاتی اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ کسانوں، چھوٹے اور درمیانے کاروبار اور ہاؤسنگ کے شعبے کو قرضوں کی فراہمی میں اپنا کردار مؤثر انداز میں ادا کریں، جبکہ حکومت قرضوں کی فراہمی میں بھرپور کردار ادا کرنے والے بینکوں کی حوصلہ افزائی کرے گی۔

    اسلام آباد میں وزیراعظم کی زیر صدارت ایکسیس ٹو فنانس پلان2026-28 کے جائزہ اجلاس میں وزیراعظم کے ’اپنا گھر‘ پروگرام، زراعت اور چھوٹے و درمیانے کاروباری شعبے کے لیے قرضوں کی فراہمی سے متعلق اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ زرعی شعبہ ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور اس کی ترقی کے لیے اقدامات قومی ذمہ داری ہیں۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ کسانوں کو مالی وسائل تک آسان اور بلا رکاوٹ رسائی فراہم کی جائے کم آمدن اور متوسط طبقے کو سستے گھروں کی فراہمی حکومت کی ترجیح ہے انہوں نے صوبائی چیف سیکریٹریز کو ہدایت کی کہ ایسی جائیدادوں کا جامع سروے کیا جائے جنہیں ’وزیراعظم اپنا گھر‘ پروگرام کے تحت گھر بنانے کے خواہش مند افراد کو بینک قرض فراہم کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکے۔

    اجلاس کو بتایا گیا کہ ’وزیراعظم اپنا گھر‘ پروگرام کے تحت اب تک ایک لاکھ 47 ہزار 504 درخواستیں موصول ہوچکی ہیں، جن میں سے 53 ہزار 127 درخوا ستیں منظور کی گئی ہیں منظور شدہ درخواستوں کی مجموعی مالیت 313 ارب 42 کروڑ روپے ہے جبکہ 8 ہزار 739 درخواست گزاروں کو 45 ارب 43 کروڑ روپے کے قرضے فراہم کیے جاچکے ہیں۔

    اجلاس کو بتایا گیا کہ ملک بھر میں ایسے پلاٹس کی نشاندہی کے لیے نظام تیار کیا جارہا ہے جو رہن کی شرائط پر پورا اترتے ہوں اس نظام کا پائلٹ منصوبہ اسلام آباد سے شروع کیا جائے گا، پروگرام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے معروف ہاؤسنگ ڈویلپرز کو بھی اس عمل میں شامل کرنے کا طریقہ کار وضع کیا جائے گا۔

    بریفنگ کے مطابق اگست 2026 تک بینکوں کی جانب سے زرعی شعبے کو فراہم کیے گئے قرضوں کا حجم ایک کھرب 26 ارب 80 کروڑ روپے رہا، جبکہ ایکسیس ٹو فنانس پلان 2026-28 کے تحت جون 2028 تک زرعی قرضوں کا ہدف 2 کھرب روپے مقرر کیا گیا ہے،’زرخیز‘ ایپ کے ذریعے آسان قرضوں کے لیے اب تک 35 ہزار 838 درخواستیں موصول ہوئی ہیں، جن میں سے 7 ارب 35 کروڑ روپے کے قرضے منظور کیے گئے جبکہ ایک ارب 96 کروڑ روپے جاری کیے جاچکے ہیں۔

    اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ اگست 2026 تک چھوٹے اور درمیانے کاروبار کے شعبے کو بینکوں کی جانب سے ایک کھرب 6 ارب 70 کروڑ روپے کے قرضے فراہم کیے گئے ہیں۔ ایکسیس ٹو فنانس پلان کے تحت جون 2028 تک اس شعبے کے لیے قرضوں کا ہدف بھی 2 کھرب روپے مقرر کیا گیا ہےایس ایم ای ڈی اے نے گزشتہ 3 ماہ کے دوران ایک ہزار 96 چھوٹے اور درمیانے کاروباری اداروں کو مالیاتی امور سے متعلق تربیت بھی فراہم کی ہے۔

    اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزرا احد خان چیمہ، رانا تنویر حسین، محمد اورنگزیب اور ریاض حسین پیرزادہ، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، وزیراعظم کے مشیر ہارون اختر خان، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے چیف سیکریٹریز، پاکستانی بینکوں کے صدور و چیف ایگزیکٹو افسران اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

  • اسحاق ڈار کا مصری وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک رابطہ

    اسحاق ڈار کا مصری وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک رابطہ

    نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے مصر کے وزیر خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی سے ٹیلیفون پر گفتگو کی، جس میں دوطرفہ تعلقات اور خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ نے پاکستان اور مصر کے درمیان قریبی اور برادرانہ تعلقات کا اعادہ کیا،گفتگو کے دوران علاقائی صورتحال اور خطے سے متعلق امور پر قریبی مشاورت جاری رکھنے کی ضرورت پر بھی اتفاق کیا گیا۔

    اسحاق ڈار اور مصری وزیر خارجہ نے سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ علاقائی فور (R4) کے وزرائے خارجہ کے پلیٹ فارم سمیت مختلف ذرائع سے علا قائی معاملات پر رابطے اور مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا، دونوں وزرائے خارجہ نے آئندہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر نیویارک میں ملاقات کرنے پر بھی اتفاق کیا۔

    دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار اور ڈاکٹر بدر عبدالعاطی کے درمیان یہ رابطہ پاکستان اور مصر کے درمیان قریبی سفارتی اور برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

  • برطانیہ:بچوں کی جنسی بلیک میلنگ روکنے کے لیے ٹیکنالوجی کمپنیوں پر نئی ذمہ داریاں عائد کرنے کا فیصلہ

    برطانیہ:بچوں کی جنسی بلیک میلنگ روکنے کے لیے ٹیکنالوجی کمپنیوں پر نئی ذمہ داریاں عائد کرنے کا فیصلہ

    برطانوی حکومت نے بچوں کو آن لائن جنسی استحصال اور بلیک میلنگ سے محفوظ رکھنے کے لیے ٹیکنالوجی کمپنیوں پر نئی ذمہ داریاں عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    برطانوی میڈیا کے مطابق حکومت جلد ایسا قانون متعارف کرانے کا ارادہ رکھتی ہے جس کے تحت بچوں کے زیر استعمال موبائل فونز اور دیگر ڈیجیٹل آلات سے عریاں تصاویر بنانے اور شیئر کرنے کی صلاحیت کو محدود کیا جائے گابرطانیہ میں زیادہ تر اسمارٹ فونز کے آپریٹنگ سسٹم تیار کرنے والی کمپنیوں ایپل اور گوگل کو جون میں 3 ماہ کی مہلت دی گئی تھی کہ وہ 18 سال سے کم عمر بچوں کے زیر استعمال آلات پر عریاں تصاویر تک رسائی روکنے کے مؤثر اقدامات کریں۔

    تاہم برطانوی وزیرِ ثقافت لیزا نینڈی نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ دونوں کمپنیوں کی جانب سے کیے گئے اہم وعدوں کے باوجود موجودہ اقدامات مسئلے کی سنگینی سے نمٹنے کے لیے کافی نہیں ہیں، مجوزہ قانون کے تحت نہ صرف موبائل فونز بلکہ بچوں کے زیر استعمال ایپس میں بھی عریاں تصاویر کو بلاک کرنے کے لیے حفاظتی نظام متعارف کرانا ہوگا،اس اقدام کا مقصد آن لائن ماحول میں بچوں کو جنسی استحصال، گرومنگ اور بلیک میلنگ سے بچانا ہے۔

    ٹیکنالوجی کمپنیاں پہلے ہی اس حوالے سے کچھ اقدامات کرچکی ہیں، ایپل نے 2021 میں ’کمیونیکیشن سیفٹی‘ فیچر متعارف کرایا تھا، جو بچوں کو عریاں تصاویر دیکھنے یا شیئر کرنے سے روکنے میں مدد دیتا ہے اس نظام کی صلاحیتوں میں مسلسل اضافہ کیا جارہا ہے۔ گوگل نے بھی بچوں کے تحفظ اور بغیر رضامندی کے نجی تصاویر کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے اپنی کوششوں کا دفاع کیا ہے۔

    بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیم این ایس پی سی سی نے حکومتی اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کے موبائل فونز سے بنائی جانے والی تصاویر بعض اوقات آن لائن گرومنگ، جنسی بلیک میلنگ اور دیگر جرائم کا آغاز بن سکتی ہیں۔

    برطانوی پولیس حکام بھی ماضی میں خبردار کرچکے ہیں کہ بچوں کے آلات سے عریاں تصاویر بنانے یا شیئر کرنے کی صلاحیت محدود کرنا ’سیکسٹورشن‘ کے خلاف ایک اہم قدم ہوسکتا ہے اس جرم میں بچوں کو پہلے ایسی تصاویر شیئر کرنے پر آمادہ کیا جاتا ہے اور بعد ازاں انہیں انہی تصاویر کی بنیاد پر بلیک میل کیا جاتا ہے مجوزہ قانون بالغ افراد کو عریاں تصاویر تک رسائی سے نہیں روکے گا، تاہم بچوں کے لیے پابندی نافذ کرنے کی خاطر صارف کی عمر کی تصدیق کا نظام درکار ہوسکتا ہے۔

    ڈیجیٹل حقوق کے کارکنوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس عمل سے پرائیویسی متاثر ہوسکتی ہے، تاہم حکومت نے نگرانی کے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بنیادی مقصد بچوں کا تحفظ ہے۔

  • پاکستان کا 2 ریاستی حل کی حمایت پر برطانیہ ،فرانس سمیت 13 ممالک کے مؤقف کا خیرمقدم

    پاکستان کا 2 ریاستی حل کی حمایت پر برطانیہ ،فرانس سمیت 13 ممالک کے مؤقف کا خیرمقدم

    پاکستان نے کینیڈا، فرانس، برطانیہ سمیت 13 ممالک کی جانب سے فلسطین کے مسئلے کے 2 ریاستی حل کی حمایت کے اعادے کا خیرمقدم کیا ہے۔

    پاکستان کا کہنا ہے کہ مغربی کنارے میں اسرائیلی اقدامات 2 ریاستی حل کے امکانات کو نقصان پہنچا رہے ہیں، جبکہ فلسطینی علاقوں میں غیر قانونی بستیوں کی توسیع اور آبادکاروں کے تشدد سے صورتحال تیزی سے خراب ہو رہی ہے،فلسطینی سرزمین کے انضمام یا قبضے کے مترادف اقدامات اور فلسطینی آباد ی کی جبری بے دخلی کی سخت مخالفت کی جائے گی، اسرائیل کو غیر قانونی بستیوں کی توسیع فوری طور پر روکنے اور آبادکاروں کے تشدد کے ذمہ داروں کا احتساب یقینی بنانا چاہیے، اسرائیلی فورسز کی جانب سے فلسطینیوں کے خلاف مبینہ سنگین جرائم کی تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔

    پاکستان نے واضح کیا کہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق 2 ریاستی حل کا بھرپور حامی ہے، اس حل کے تحت 1967 سے قبل کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام اور القدس شریف کو اس کا دارالحکومت قرار دیا جانا چاہیے،مستقل جنگ کے خاتمے اور خطے میں دیرپا امن کے لیے 2 ریاستی حل ہی قابلِ عمل راستہ ہے، جبکہ اسرائیل کو فلسطینی علاقوں میں غیر قانونی آبادکاری اور اس کے ساتھ جاری تشدد کا سلسلہ ختم کرنا ہوگا۔