وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ امید ہے کہ ایک یا دو روز میں امریکا اور ایران کے درمیان معاہدہ طے پا جائےگا۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہاکہ اطلاعات کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے کے امکانات روشن ہو چکے ہیں اور دونوں فریق ایک سمجھوتے کے قریب پہنچ گئے ہیں امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے میں پاکستان کے کردار کو پوری دنیا تسلیم کر رہی ہے یہ بات بھی سامنے آ رہی ہے کہ اس معاہدے کو اسلام آباد معاہدہ کے نام سے پیش کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان اور خطے کی تاریخ میں اس نوعیت کی کوئی مثال نہیں ملتی دنیا میں کسی ایسے ملک کی مثال کم ہی ملتی ہے جس نے اتنی بڑی جنگ اور ممکنہ تباہی کو روکنے میں کردار ادا کیا ہو،پاکستان نے مسلسل مزاج اور سنجیدگی کے ساتھ مذاکراتی عمل کو آگے بڑھایا یہ مذاکرات طویل عرصے تک جاری رہے اور اس دوران کئی مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا، پاکستان نے دونوں فریقوں کو مذاکرات کی میز پر برقرار رکھنے کی کوشش کی تاکہ گفت و شنید کا سلسلہ منقطع نہ ہو۔
وزیر دفاع نے کہا کہ مختلف مراحل پر اسرائیل نے منفی اور تباہ کن کردار ادا کیا لبنان میں اسرائیل نے بے گناہ بچوں اور شہریوں کو نشانہ بنایا اسرائیل کی خواہش یہی تھی کہ خطے میں تنازع برقرار رہے اور امریکا اس خطے میں مسلسل الجھا رہے، تاہم ان کے خیال میں امریکی انتظامیہ نے دانشمندی کا مظاہرہ کیا ہے، عالمی قیادت سے جس طرزِ عمل کی توقع کی جاتی ہے، امریکا نے اس کی مثال قائم کی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ایرانی قوم کی ہزاروں سال پر محیط تاریخ ہے اور ایران نے بہادری اور حب الوطنی کے جذبے کے ساتھ اپنا دفاع کیا، دونوں ممالک نے دانشمندی کا ثبوت دیا، جبکہ خلیجی ممالک نے بھی انتہائی تحمل کا مظاہرہ کیا، یہ ایک مسلمان ملک پاکستان کے لیے اعزاز کی بات ہے کہ صلح کرانے کا یہ کردار اس کے حصے میں آیا۔
خواجہ آصف نے کہاکہ یہ معاہدہ خطے میں امن کے قیام اور اسرائیل کی شکست کے تناظر میں اہم کردار ادا کرے گا فطرت کا قانون یہی ہے کہ بالآخر امن قائم ہونا ہوتا ہے اور مسائل کا حل بات چیت کے ذریعے ہی نکلتا ہےآزاد کشمیر میں بھی جلد امن کی صورتحال پیدا ہونے کا امکان ہے تمام مسائل کا حل مذاکرات اور بات چیت میں پوشیدہ ہے۔
