Baaghi TV

Tag: روس

  • یوکرین:ایٹمی تنصیبات پرروس کے میزائل حملے:امریکہ اوراتحادیوں کی طرف سے سخت ردعمل

    یوکرین:ایٹمی تنصیبات پرروس کے میزائل حملے:امریکہ اوراتحادیوں کی طرف سے سخت ردعمل

    کیف: ایٹمی تنصیبات پرروس کے میزائل حملے:امریکہ اوراتحادیوں کی طرف سے سخت ردعمل ،اطلاعات کے مطابق کیف میں یوکرائن کے جوہری توانائی کے نگران محکمے نے اتوار ستائیس فروری کی صبح بتایا کہ روسی دستوں نے گزشتہ رات ملکی دارالحکومت کے مضافات میں جوہری فاضل مادوں کی ایک ذخیرہ گاہ کو میزائلوں سے نشانہ بنایا۔

    یوکرائنی جوہری تنصیبات کے منتظم ادارے نے اپنے فیس بک پیج پر بتایا کہ فوری طور پر یہ واضح نہیں کہ آیا ان میزائل حملوں کے بعد جوہری فاضل مادوں کی اس ذخیرہ گاہ سے تابکار شعاعیں بھی خارج ہونا شروع ہو گئیں۔

    دوسری طرف انٹرفیکس نیوز ایجنسی کے مطابق روسی میزائل اس جوہری تنصیب گاہ کی حفاظتی باڑ کو لگے مگر عمارت اور اس میں ذخیرہ کردہ ایٹمی کوڑے کے کنٹینر بظاہر محفوظ رہے۔

    یوکرائنی حکام کے مطابق روسی دستوں نے گزشتہ رات بھی یوکرائن کے کئی شہروں پر اپنے میزائل حملے جاری رکھے۔ اس دوران کییف کے نواح میں واسِلکیف کے مقام پر گولہ باری میں تیل کے ایک بڑے ڈپو کو آگ لگ گئی۔اس شہر کی خاتون میئر نتالیا بالاسینووچ نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں لکھا، ”دشمن ہر چیز کو تباہ کر دینا چاہتا ہے۔‘‘

    اس شہر میں تیل کی ذخیرہ گاہ کو گولہ باری کے بعد لگنے والی وسیع تر آگ کے باعث حکام نے مقامی شہریوں سے کہا ہے کہ وہ زہریلے دھوئیں کے گہرے بادلوں کی وجہ سے گھروں سے باہر نہ نکلیں۔

    یوکرائن کی اسپیشل کمیونیکیشنز سروس کے مطابق روسی فوج نے گزشتہ رات ملک کے دوسرے سب سے بڑے شہر خارکیف میں قدرتی گیس کی ایک بڑی پائپ لائن کو بھی میزائل حملہ کر کے تباہ کر دیا۔

    یوکرائنی حکام کے مطابق روسی فوجی گاڑیاں اب اس شمال مشرقی شہر کی سڑکوں پر دکھائی دے رہی ہیں۔ ساتھ ہی اسی شہر میں ایک نو منزلہ رہائشی عمارت کو بھی توپوں سے گولہ باری کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک اور بیسیوں زخمی ہو گئے۔

    گولہ باری کے وقت اس عمارت کے زیادہ تر رہائشی اپنی حفاظت کے لیے عمارت کے تہہ خانے میں پناہ لیے ہوئے تھے۔

    ماسکو سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق روسی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے جنوبی یوکرائن کے شہر خیرسون اور جنوب مشرقی شہر بیردیانسک کا ‘مکمل‘ محاصرہ کر لیا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا گہا کہ روسی فورسز یوکرائن کے مختلف حصوں میں اپنی پیش قدمی جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    روسی خبر رساں اداروں کے ذریعے نشر کردہ ملکی وزارت دفاع کے ترجمان ایگور کوناشینکوف کے ایک بیان کے مطابق، ”گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران روسی مسلح افواج نے یوکرائن کے دو شہروں خیرسون اور بیردیانسک کو مکمل طور پر اپنے محاصرے میں لے لیا۔‘‘

  • بھارت کوکسی بھی مہم جوئی سےبازرہناچاہیے:پاکستان کی بھارت کو وارننگ

    بھارت کوکسی بھی مہم جوئی سےبازرہناچاہیے:پاکستان کی بھارت کو وارننگ

    اسلام آباد:بھارت کوکسی بھی مہم جوئی سےبازرہناچاہیے:پاکستان کی بھارت کو وارننگ .اطلاعات کے مطابق ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان اپنی خودمختاری کے تحفط کے عزم کا اعادہ کرتا ہے بھارت کو کسی بھی مہم جوئی سے باز رہنا چاہیے۔

    یاد رہے کہ آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کے تین سال مکمل ہونے پر دفترخارجہ کی جانب سے بیان جاری کیا گیا ہے۔

    ترجمان دفترخارجہ عاصم افتخار نے کہا ہے کہ پاکستان اپنی خودمختاری کےتحفظ کے عزم کا اعادہ کرتا ہے اور علاقائی امن واستحکام کا حامی ہے۔

    ترجمان کے مطابق بھارت کیخلاف پاکستان کے ردعمل کو3برس مکمل ہوگئے ہیں، بھارت نے 26 فروری 2019 کوپاکستانی حدود میں فضائی حملہ کیا تو بھارت کی اس مذموم کوشش کو ہماری بہادرمسلح افواج نےناکام بنایا۔

    بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان نے اپنی خودمختاری کا تحفظ اورانتہائی تحمل کا مظاہرہ کیا لیکن اگلے ہی دن 27 فروری 2019 کو پھر2بھارتی طیاروں نے پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی۔

    ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارتی طیاروں کے دوبارہ پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر پاک فضائیہ کے طیاروں نے دونوں بھارتی طیاروں کو مارگرایا۔

    عاصم افتخار نے کہا کہ بھارت کو آئندہ کسی بھی مہم جوئی سےبازرہناچاہیے۔

    ترجمان دفتر خارجہ نے کشمیر کے حوالے سے اس عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہاکہ کشمیر تنازع کےپرامن حل کےلیےاپنےعزم پرزوردیتےہیں۔

    ادھر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ملک اور اپنی قوم کی سلامتی کے لیے پرعزم اور غیر متزلزل ہیں، 27 فروری 2019 کو بھارت کو ثابت کرکے دکھایا۔ مذاکرات کو کبھی بھی کمزوری کی علامت نہیں سمجھنا چاہیے۔

    وزیراعظم عمران خان نے ٹویٹر پیغام میں کہا ہے کہ ہمیشہ مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے تنازعات کے حل پر یقین رکھتے ہیں، مذاکرات کو کبھی بھی کمزوری کی علامت نہیں سمجھنا چاہیے، ہم نے 27 فروری 2019 کو بھارت کو ثابت کرکے دکھایا جب اس نے حملے کا انتخاب کیا۔انہوں نے کہا کہ قوم کی حمایت سے ہماری مسلح افواج ہر سطح پر جارحیت کا جواب دیں گی اور غالب آئیں گی۔

  • یورپ کا روس کے خلاف اتحاد:فضائی راستے بند:روسی طیارے گزریں گے توگرا دیں گے:جرمنی کا پیغام

    یورپ کا روس کے خلاف اتحاد:فضائی راستے بند:روسی طیارے گزریں گے توگرا دیں گے:جرمنی کا پیغام

    برلن :یورپ کا روس کے خلاف اتحاد:فضائی راستے بندکردیئے:روسی طیارے گزریں گے توگرا دیں گے:جرمنی کا پیغام،اطلاعات کے مطابق یوکرین میں روسی فوجی کاروائی کے درمیان جرمنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ روسی طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر دے گا۔

    روس پر فضائی راستے بند کرنے میں ایسا کرنے سے جرمنی ان یورپی ممالک کی فہرست میں شامل ہو جائے گا جو پہلے ہی روسی ایئر لائنز پر پابندی لگا چکے ہیں۔

    جرمنی کی وفاقی وزارت برائے نقل و حمل اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر نے اعلان کیا کہ وزیر ٹرانسپورٹ وولکر وِسِنگ "روسی طیاروں کے لیے جرمن فضائی حدود کو روکنے کی حمایت کرتے ہیں اور اس کے لیے ہر چیز کو تیار رکھنے کا حکم دیا ہے۔”

    علاوہ ازیں جرمن ایئر لائن لوتھانسا نے روس کے لیے اپنی تمام پروازیں منسوخ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ روسی فضائی حدود سے آنے والی پروازوں کو جلد ہی روک دیا جائے گا۔

    جرمنی اب ان یورپی ممالک میں شامل ہو گیا ہے جس نے روسی طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں۔ ان میں برطانیہ، پولینڈ، بلغاریہ اور جمہوریہ چیک جیسے ممالک شامل ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ روس نے بھی ان ممالک کو اپنی فضائی حدود بند کرکے منہ توڑ جواب دیا ہے۔

    اتوار کے روز، روس کی فیڈرل ایجنسی برائے ہوائی نقل و حمل نے کہا کہ "لاتویا، لتھوانیا، سلووینیا اور ایسٹونیا کے ہوابازی حکام کے اس مخالفانہ فیصلے کا مطلب ہے کہ روس اپنی سرزمین پر ان ممالک کی پروازوں پر بھی پابندیاں عائد کرے گا۔”

    جرمنی نے بھی ہفتے کے روز یورپی کمیشن میں شمولیت اختیار کی، فرانس، اٹلی، برطانیہ، کینیڈا اور امریکہ اور دیگر ممالک نے روس کے خلاف پابندیوں کے نئے دور کا اعلان کیا ہے۔

    ان ممالک نے کہا کہ "منتخب روسی بینکوں کوسویفٹ میسجنگ سسٹم سے ہٹا دیا جائے گا”۔ یہ بھی بتایا گیا کہ جرمنی ٹینک شکن ہتھیار اور زمین سے فضا میں مار

  • پیوٹن کی نیوکلیئر فورسزکو تیار رہنے کی ہدایت،نیٹو اور امریکا کا شدید ردعمل

    پیوٹن کی نیوکلیئر فورسزکو تیار رہنے کی ہدایت،نیٹو اور امریکا کا شدید ردعمل

    واشنگٹن: روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی نیوکلیئر فورسز کو تیار رہنے کی ہدایت پر نیٹو اور امریکا کا شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق وائٹ ہاؤس کے جاری کردہ بیان میں روسی نیوکلیئر فورسز کو ہائی الرٹ کرنے کی شدید مذمت کی گئی ہے بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکا روس کے انرجی سیکٹر پر پابندی عائد کرنے پر غور کررہا ہے۔

    افغانستان: طالبات کی الگ شفٹ کے ساتھ کابل یونیورسٹی سمیت ملک بھر کی تمام جامعات کھل گئیں

    اقوام متحدہ میں امریکی سفیر لنڈا تھومیس گرین فیلڈ نے امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس کے ایک پروگرام میں کہا کہ پیوٹن کے اقدامات نے تنازع کو مزید بڑھا دیا ہے یوکرین اور روس کے مابین مذاکرات کا امریکا خیر مقدم کرتا ہے تاہم روس کا اپنی نیک نیتی کو ثابت کرنا ابھی باقی ہے۔

    دوسری جانب نیٹو کے سیکریٹری جنرل جینس اسٹولٹنبرگ نے سی این این سے گفتگو میں کہا کہ روس کی جانب سے یہ اقدام خطرے کا حامل ہے اور پیوٹن کا یہ رویہ انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہے۔

    یوکرین کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ پیوٹن کا نیوکلیئر فورسز کو ہائی الرٹ کرنا دراصل مذاکرات سے قبل کیف کو پریشر میں لانا ہے لیکن کیف دباؤ میں آنے والا نہیں۔

    واضح رہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ملک کی جوہری فورسز کو مغربی جارحانہ بیانات کے پیشِ نظر تیار رہنے کے حکم دے دیا ہےنیویارک پوسٹ کے مطابق پیوٹن کی جانب سے روسی نیوکلیئر فورسز کو دی گئی یہ ہدایت روس کے جوہری ہتھیاروں کی لانچنگ کے حوالے سے خطرے کی گھنٹی ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق روسی صدر کی مذکورہ بالا ہدایت سے خدشہ ہے کہ روس اور یوکرین کا تنازع ایٹمی جنگ میں تبدیل ہوسکتا ہے۔
    اعلیٰ روسی حکام کے ساتھ ملاقات کے دوران پوٹن نے وزیر دفاع اور فوج کے سربراہ جنرل اسٹاف کو ہدایت کی کہ وہ جوہری فورسز کا جنگی ذمہ داریوں کے مخصوص نظام میں اندراج کریں۔

    پیوٹن نے ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے ریمارکس میں کہا کہ مغربی ممالک نہ صرف اقتصادی میدان میں ہمارے ملک کے خلاف غیر دوستانہ اقدامات کر رہے ہیں بلکہ نیٹو کے سرکردہ اراکین کے اعلیٰ حکام نے ہمارے ملک کے بارے میں جارحانہ بیانات دیے ہیں۔

    یوکرین بغیر کسی پیشگی شرط کے روس کے ساتھ امن مذاکرات پر تیار

  • یوکرین بغیر کسی پیشگی شرط کے روس کے ساتھ امن مذاکرات پر تیار

    یوکرین بغیر کسی پیشگی شرط کے روس کے ساتھ امن مذاکرات پر تیار

    کیف: یوکرین بغیر کسی پیشگی شرط کے روس کے ساتھ امن مذاکرات پر تیار ہوگیا جب کہ روس بھی ہتھیار پھینکنے کی شرط سے دستبردار ہوگیا۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے ’’اے ایف پی‘‘ نے کیف میں صدارتی دفتر کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرین اب روس کے ساتھ مذاکرات پر آمادہ ہوگیا تاہم یہ مذاکرات بیلاروس کی سرحد پر ہوں گے۔

    ابتدائی طور پر یوکرین اور روس کے نمائندے کسی قسم کی پیشگی شرائط کے بغیر ملاقات کریں گے جس کے بعد اعلیٰ سطح کی ملاقات بھی متوقع ہے یہ مذاکرات مشترکہ دوست ممالک کی کاوشوں سے ہو رہی ہے۔

    قبل ازیں روسی وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ اگر یوکرین کی فوج ہتھیار ڈال دے تو مذاکرات ہوسکتے ہیں جب کہ روسی صدر نے یوکرین سے بات چیت کے لیے ایک وفد بھی پڑوسی ملک بیلاروس بھیجا تھا۔

    تاہم یوکرین کے صدر کا مؤقف تھا کہ امن کے لیے بات چیت ہونا چاہیئے لیکن مذاکرات کا مقام بیلاروس نہیں بلکہ کوئی اور ملک ہونا چاہیئے انہوں نے استنبول کا نام بھی لیا تھا۔

    یوکرین پرروسی حملہ:روس سے سلامتی کونسل کی مستقل ممبرشپ واپس لینے کی منصوبہ بندیاں

    بیلاروس میں 2014 میں یوکرین اور روس کے درمیان مذاکرات ہوئے تھے جنھیں منسک معاہدہ کہا جاتا ہے تاہم یوکرین کا کہنا ہے کہ روس نے معاہدے کی پاسداری نہیں کی۔

    گزشتہ روز ہی یوکرین نے عالمی عدالت انصاف پر زور دیا تھا کہ وہ روس کے یوکرین پر حملے کو فوری طور پر رکوائے اور اس حوالے سے یوکرین نے عالمی عدالت انصاف میں ریاستوں کے درمیان تنازعے کے حوالے سے روس کے خلاف مقدمہ بھی درج کرایا ہے۔

    ہمارے جانباز4 ہزار سے زائد روسی فوجی ہلاک جبکہ سیکڑوں‌ گرفتارکرچکےہیں:یوکرینی جنرل کا دعویٰ

    جنگ کے دوسرے روز ہی امریکا نے یوکرین کے صدر کو بحفاظت محفوظ مقام پر پہنچانے کی پیشکش کی تھی جسے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے یہ کہہ کر مسترد کردیا تھا کہ مجھے لڑنے کے لیے اسلحہ چاہیئے بھاگنے کے لیے گاڑی نہیں۔

    روس کی فوجیں دارالحکومت کیف میں پارلیمنٹ سے صرف 9 کلومیٹر کی دوری پر ہیں جب کہ دوسرے بڑے شہر خارکیف میں داخل ہوگئی ہیں جہاں یوکرین کی فوج سخت مزاحمت دکھا رہی ہے۔

    یوکرین نے روسی جارحیت کے خلاف عالمی عدالت انصاف میں درخواست جمع کرا دی ہے۔ روس کے خلاف درخواست جمع کرانے کے بعد یوکرین کے صدر زیلینسکی نے امید ظاہر کی ہے کہ عدالت روس کو فوری طور پر حملے روکنے کا حکم دے گییوکرین کے صدر زیلینسکی نے اس حوالے سے توقع ظاہر کی ہے کہ آئندہ ہفتے روس کا ٹرائل شروع ہو گاروس اپنی جارحیت اور نسل کشی کا جواب بھی دے۔

    روسی فوج یوکرین کے دوسرے بڑے شہرخارکیف میں داخل ہو گئی

    یوکرین کی وزارت دفاع نے 4 روز سے جاری جنگ کے دوران 4 ہزار سے زائد روسی فوجی ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔یوکرین کی نائب وزارت دفاع ہنا مالیار نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر 4 روز سے جاری جنگ کے بارے میں تفصیلات شیر کی ہیں۔

    انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرین نے جاری جنگ کے دوران 4 ہزار 300 روسی فوجی ہلاک اور27 طیاروں کو مار گرایا ہے یوکرین نے روس کے 26 ہیلی کوپٹر، 146 ٹینک، 706 بکتر بند گاڑیاں اور 49 توپیں تباہ کی ہیں۔علاوہ ازیں ایک بک ایئر ڈیفنس سسٹم، مختلف اقسام کے چارراکٹ لانچنگ سسٹم، 30 گاڑیاں، 60 ٹینکرز، دو ڈرون اور دو کشیاں تباہ کی ہیں-

    یوکرین پرحملہ روس کے لیے گلے کی ہڈی بن گیا:سخت مزاحمت سے روسی فوج کے حوصلے ڈگمگانے…

  • روس نے ہائیڈروجن بم،ایٹم بم اوراٹیمی میزائل چلانے والی فوج کوتیاررہنے کا حکم دے دیا

    روس نے ہائیڈروجن بم،ایٹم بم اوراٹیمی میزائل چلانے والی فوج کوتیاررہنے کا حکم دے دیا

    ماسکو:روس نے ہائیڈروجن بم،ایٹم بم اوراٹیمی میزائل چلانے والی فوج کوتیاررہنے کا حکم دے دیا ،اطلاعات کے مطابق روسی میڈیا کی طرف سے دعویٰ کیا گیا ہے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ڈیٹرنس فورس کو ہائی کرنے کا حکم دیدیا۔ ڈیٹرنس فورس میں نیو کلیئر ہتھیار شامل ہیں۔ ادھر یہ بھی اطلاعات ہیں کہ چار روز سے جاری روس کے ساتھ جاری جنگ کے بعد یوکرین ماسکو کے ساتھ مذاکرات کیلئے تیار ہو گیا۔

     

    روسی خبر رساں ادارے آر ٹی کی رپورٹ کے مطابق یوکرین بالآخر روس کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہو گیا، یہ بات چیت ہمسایہ ملک بیلاروس میں ہو گی جہاں پر ایک ٹیم بھیجنے پر اتفاق کر لیا گیا۔

    آر ٹی کے مطابق روسی چیف مذاکرات کار ولادیمیر میڈنسکی نے بتایا کہ کیف نے گومیل ریجن میں طے شدہ مذاکرات کی تصدیق کی ہے، جو روس اور یوکرین دونوں کی سرحدوں کے قریب ہے۔

    ولادیمیر پیوٹن کے معاون اور سابق وزیر ثقافت میڈنسکی نے مزید کہا کہ فریقین اب یوکرین کے لوگوں کے لیے زیادہ سے زیادہ سیکورٹی کے ساتھ سربراہی اجلاس کی لاجسٹک اور درست جگہ کے بارے میں فیصلہ کر رہے ہیں۔ ضمانت دیتے ہیں سفری راستہ مکمل طور پر محفوظ ہو گا، ہم یوکرائنی وفد کا انتظار کریں گے۔

     

     

    اس سے قبل روسی ٹیم یوکرین کے ساتھ مذاکرات کیلئے متعلقہ جگہ پر پہنچ چکی ہے۔

     

     

    یوکرین کا کہنا تھا کہ غیر جانبدار زمین پر بات چیت کرنا چاہتے ہیں کیونکہ روسی فوجی بیلاروسی سرزمین کو یوکرین پر حملوں کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ تاہم منسک نے اس بات سے انکار کیا کہ اس کی افواج روسی کارروائی میں حصہ لے رہی ہیں۔

    پیوٹن کا ڈیٹرنس فورس کو ہائی الرٹ پر کرنے کا حکم

    دوسری طرف روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ڈیٹرنس فورس کو ہائی کرنے کا حکم دیدیا۔ ڈیٹرنس فورس میں نیو کلیئر ہتھیار شامل ہیں۔ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا کہ ڈیٹرنس فورس ہائی الرٹ کرنے کا فیصلہ نیٹو رد عمل پر کیا۔

    اس سے قبل یوکرین نے دا ہیگ میں قائم عالمی عدالت انصاف پر زور دیا ہے کہ وہ روس کے یوکرین پر حملے کو فوری طور پر رکوائے۔خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین نے عالمی عدالت انصاف میں ریاستوں کے درمیان تنازعے کے حوالے سے روس کے خلاف مقدمہ درج کرا دیا ہے۔

    صدر زیلنسکی کا ٹوئٹر پر کہنا تھا کہ یوکرین نے روس کے خلاف الزامات کے ثبوت پیش کر دیے ہیں۔ ’نسل کشی کے تاثر کی آڑ میں اپنی جارحیت کو جواز فراہم کرنے پر روس کا مواخذہ کیا جانا چاہیے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ روس کو فوجی کارروائی فوری روکنے کا حکم دیا جائے۔ ہم روس کی عسکری سرگرمی کو اسی وقت روکنے کا فوری حکم صادر کرنے کی درخواست کرتے ہیں اور توقع رکھتے ہیں روس کے اس اقدام کا اگلے ہی ہفتے سے ٹرائل شروع کیا جائے۔

     

    یوکرین کی علاقائی انتظامیہ کے سربراہ اولے سائنی گوبوف نے کہا ہے کہ یوکرینی فورسز نے روسی افواج کے ساتھ سخت لڑائی کے بعد دوسرے بڑے شہر خارکیف کا مکمل کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ خارکیف مکمل کنٹرول میں ہے۔ کلین اپ آپریشن کے دوران روسی فورسز کو نکال رہے ہیں۔

    دوسری جانب اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ جمعرات کو روس کے یوکرین پرحملے کے بعد تین لاکھ 68 ہزار سے زائد افراد یوکرین سے فرار ہوئے ہیں۔

    اقوام متحدہ کے کمیشن برائے مہاجرین(یو این ایچ سی آر) نے ٹویٹر پر جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس وقت یوکرین سے فرار ہونے والوں کی تعداد تین لاکھ 68 ہزار ہے لیکن اس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس کے اعداد شمار جاری کیے جائیں گے۔

    یوکرین سے نکلنے والوں کی بہت بڑی تعداد پولینڈ پہنچی ہے۔ روس کے یوکرین پر حملے کے بعد سے اب تک ایک لاکھ 56 ہزار افراد پولینڈ پہنچے ہیں جن میں سے 77 ہزار تین سو افراد صرف ہفتے کے روز یوکرین سے آئے ہیں۔

    یہ پناہ گزین اپنی کاروں اور کھچا کھچ بھری ہوئی ریل گاڑیوں کے علاوہ پیدل ان پڑوسی ممالک میں پہنچے ہیں۔ بہت سارے پناہ گزین مولڈیویا، ہنگری، سلواکیہ اور رومانیہ کی جانب بھی گئے ہیں۔

    ادھر دفاعی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ ، نیٹو اوردیگراتحادی روس کی طرف سے ممکنہ سخت ردعمل سے آگاہ ہیں اور ان کی کوشش ہےکہ ایٹمی جنگ نہ ہی چھڑے تو بہتر ہے، اور اگر یوکرین کا معاملہ حل نہیں ہوتا یا مغربی قوتیں یوکرین اور روس کے درمیان معاملات کو حل کرنے میں رکاوٹ بنتی ہیں تو اس صورت میں روس ایٹمی حملہ کرنے سے بالکل بھی نہیں ہچکچائے گا اور پھردنیا تیسری ایٹمی عالمی جنگ میں داخل ہوجائے گی

  • یوکرین نے روس کیخلاف عالمی عدالت انصاف میں درخواست جمع کرا دی

    یوکرین نے روس کیخلاف عالمی عدالت انصاف میں درخواست جمع کرا دی

    کیف: یوکرین نے روسی جارحیت کے خلاف عالمی عدالت انصاف میں درخواست جمع کرا دی ہے۔

    باغی ٹی وی:عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق روس کے خلاف درخواست جمع کرانے کے بعد یوکرین کے صدر زیلینسکی نے امید ظاہر کی ہے کہ عدالت روس کو فوری طور پر حملے روکنے کا حکم دے گی۔

    یوکرین کے صدر زیلینسکی نے اس حوالے سے توقع ظاہر کی ہے کہ آئندہ ہفتے روس کا ٹرائل شروع ہو گاروس اپنی جارحیت اور نسل کشی کا جواب بھی دے۔

    ہمارے جانباز4 ہزار سے زائد روسی فوجی ہلاک جبکہ سیکڑوں‌ گرفتارکرچکےہیں:یوکرینی جنرل کا دعویٰ

    خبر رساں ایجنسی کے مطابق یوکرین کے صدر نے الزام عائد کیا ہے کہ گزشتہ شب روس نے بدترین و وحشیانہ بمباری کی اور قابض افواج نے شہری علاقوں سمیت ایمبولینسز تک کو نشانہ بنایا ہے قابض افواج ہر چیز کو نشانہ بنا رہی ہیں۔

    صدر زیلینسکی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ بیلا روس سے یوکرین پر حملہ نہ کیا ہوتا تو منسک میں با ت چیت ممکن تھی انہوں نے واضح کیا کہ اس جگہ پر روس سے بات چیت ممکن ہے جہاں سے یوکرین کے خلاف جارحیت نہ کی گئی ہو۔

    وضح رہے کہ روسی فوج یوکرین کے دوسرے بڑے شہر خارکیف میں داخل ہو گئی ہے خارکیف کی علاقائی انتظامیہ کے چیئرمین نے کہا کہ روسی فوج ملک کے دوسرے بڑے شہر خارکیف میں داخل ہو گئی ہے اور لڑائی جا رہی ہے۔

    یوکرینی صدرکو زندہ یا مردہ پکڑنے کےلیے جانے والا چیچن کمانڈرساتھیوں سمیت ماراگیا:ماسکوغم میں ڈوب گیا

    روسی وزیر دفاع کے ترجمان نے کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران خیرسن اور برڈیانسک کو روسی فوج نے مکمل بلاک کر دیا ہے۔

    دوسری جانب یوکرین کی وزارت دفاع نے 4 روز سے جاری جنگ کے دوران 4 ہزار سے زائد روسی فوجی ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔یوکرین کی نائب وزارت دفاع ہنا مالیار نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر 4 روز سے جاری جنگ کے بارے میں تفصیلات شیر کی ہیں۔

    انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرین نے جاری جنگ کے دوران 4 ہزار 300 روسی فوجی ہلاک اور27 طیاروں کو مار گرایا ہے یوکرین نے روس کے 26 ہیلی کوپٹر، 146 ٹینک، 706 بکتر بند گاڑیاں اور 49 توپیں تباہ کی ہیں۔علاوہ ازیں ایک بک ایئر ڈیفنس سسٹم، مختلف اقسام کے چارراکٹ لانچنگ سسٹم، 30 گاڑیاں، 60 ٹینکرز، دو ڈرون اور دو کشیاں تباہ کی ہیں-

    روسی فوج یوکرین کے دوسرے بڑے شہرخارکیف میں داخل ہو گئی

  • ہمارے جانباز4 ہزار سے زائد روسی فوجی ہلاک جبکہ سیکڑوں‌ گرفتارکرچکےہیں:یوکرینی جنرل کا دعویٰ

    ہمارے جانباز4 ہزار سے زائد روسی فوجی ہلاک جبکہ سیکڑوں‌ گرفتارکرچکےہیں:یوکرینی جنرل کا دعویٰ

    کیف:ہمارے جانباز4 ہزار سے زائد روسی فوجی ہلاک جبکہ سیکڑوں‌ گرفتارکرچکےہیں:یوکرینی جنرل کا دعویٰ ،اطلاعات کے مطابق یوکرین کی وزارت دفاع نے 4 روز سے جاری جنگ کے دوران 4 ہزار سے زائد روسی فوجی ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

     

     

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق یوکرین کی نائب وزارت دفاع ہنا مالیار نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر 4 روز سے جاری جنگ کے بارے میں تفصیلات شیر کی ہیں۔

     

     

    ہنا مالیار نے اپنی پوسٹ میں یوکرین کی جانب سے روس کے پہنچائے جانے والے نقصانات کی فہرست بھی جاری کی ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرین نے جاری جنگ کے دوران 4 ہزار 300 روسی فوجی ہلاک اور27 طیاروں کو مار گرایا ہے۔

     

     

     

    ان کے مطابق یوکرین نے روس کے 26 ہیلی کوپٹر، 146 ٹینک، 706 بکتر بند گاڑیاں اور 49 توپیں تباہ کی ہیں۔علاوہ ازیں ایک بک ایئر ڈیفنس سسٹم، مختلف اقسام کے چارراکٹ لانچنگ سسٹم، 30 گاڑیاں، 60 ٹینکرز، دو ڈرون اور دو کشیاں تباہ کی ہیں۔

    دوسری طرف روس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فوج نے یوکرین کے جنوبی شہر خیرسن اور جنوب مشرقی شہر برڈیانسک کا مکمل محاصرہ کر لیا ہے۔ ایک خبر رساں ادارے کے مطابق روسی وزیر دفاع کے ترجمان نے کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران خیرسن اور برڈیانسک کو روسی فوج نے مکمل بلاک کر دیا ہے۔

    دوسری جانب خارکیف کی علاقائی انتظامیہ کے چیئرمین نے کہا کہ روسی فوج ملک کے دوسرے بڑے شہر خارکیف میں داخل ہو گئی ہے اور لڑائی جا رہی ہے۔

    چیئرمین اولے سائنی گوبوف نے فیس بک پوسٹ میں کہا کہ یوکرین کی افواج دشمن کو ختم کر رہی ہیں۔ روس نے کہا ہے کہ یوکرین کے ساتھ بیلا روس میں بات چیت کے لیے تیار ہے۔

    دوسری جانب یوکرین کے صدر نے کہا ہے کہ بات چیت کے لیے تیار لیکن بیلا روس میں نہیں۔ اس سے قبل یوکرین کے صدر ولودومیر زیلینسکی کے دفتر نے کہا کہ روسی افواج نے خارکیف میں ایک گیس پائپ لائن کو دھماکے سے اڑا دیا ہے جبکہ دارالحکومت کیئف کے ایک ایئرپورٹ کو بھی نشانہ بنایا ہے

  • یوکرینی صدرکو زندہ یا مردہ پکڑنے کےلیے جانے والا چیچن کمانڈرساتھیوں سمیت ماراگیا:ماسکوغم میں ڈوب گیا

    یوکرینی صدرکو زندہ یا مردہ پکڑنے کےلیے جانے والا چیچن کمانڈرساتھیوں سمیت ماراگیا:ماسکوغم میں ڈوب گیا

    کیف: یوکرینی صدرکو زندہ یا مردہ پکڑنے کےلیے جانے والا چیچن کمانڈرساتھیوں سمیت ماراگیا ،اطلاعات کے مطابق یوکرین جنگ کے پانچویں دن روس کو ایک بڑا دھچکا لگا ہے ،روس کی جانب سے مورچہ سنبھالنے والے خونخوار کمانڈو دستہ کا یوکرین کے میزائیل حملے میں صفایا ہونے کی خبر ہے۔

     

    یہ کمانڈو چیچنیا کے صدرر قادروف رمضان نے بھیجے تھے جن کا نشانہ یوکرین کے صدر اور ان کا خاندان تھا۔ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کو قتل کرنے کے لیے بھیجے گئے خونخوار چیچن اسپیشل فورسز کے ایک بڑے گروپ کی ہلاکت نے بڑی حد تک روس کے کھیل کو خراب کردیا ہے۔

    اسکواڈرن کو جو اپنے وحشیانہ تشدد اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے لیے بدنام تھا 56 ٹینکوں کے قافلے کے ساتھ یوکرین کے میزائل نے تباہ کر دیا گیا۔

    یہ واضح نہیں ہے کہ کتنے ہلاک ہوئے ہیں – لیکن امکان ہے کہ تعداد سیکڑوں تک پہنچ جائے۔ مٹ جانے والوں میں چیچن جنرل میگومڈ توشیف بھی شامل تھا۔ وہ 141 ویں موٹرائزڈ نیشنل گارڈ بریگیڈ – چیچن ریاست کے سربراہ رمضان قادروف کی ایلیٹ فورس کے کمانڈر تھے۔

    خونخوار دستے کی ہلاکتیں یوکرین کو فتح کرنے کی ولادیمیر پوتن کی رکی ہوئی کوششوں کے لیے ایک نفسیاتی دھچکا ہے۔

    چیچن جنرل میگومڈ توشائیف کا بھی صفایا کر دیا گیا ہے۔ وہ 141 ویں موٹرائزڈ نیشنل گارڈ بریگیڈ کا کمانڈر تھا – چیچن ریاست کے سربراہ رمضان قادروف کی ایلیٹ فورس کا اہم کمانڈر بھی تھا۔ یہاں تک کہ خیال کیا جاتا ہے کہ قادروف نے اپنی موت سے پہلے یوکرین کے جنگل میں اپنے تباہ شدہ اسکواڈرن کا دورہ کیا تھا۔ پوتن نے اس گروپ کو یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کو پکڑنے یا قتل کرنے کے لیے روانہ کیا تھا، یہ اچھی طرح جانتے ہوئے کہ جنگجوؤں کی سفاکانہ ساکھ محصور یوکرینیوں کے دلوں میں مزید خوف پیدا کرے گی۔

    روسی افواج یوکرین کے دارالحکومت کیف پر قبضہ کرنے کی کوششوں میں ناکامی کے بعد یوکرین کے دوسرے بڑے شہر خارکیف میں داخل ہو گئی ہیں۔اتوار کی صبح سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی فوٹیج میں پوتن کے فوجی ٹرکوں کو 1.41 ملین آبادی والے شہر میں گھومتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جو روس کی سرحد کے قریب مشرقی یوکرین میں ہے۔ فوجیوں کو خارکیف سے پیدل مارچ کرتے ہوئے بھی دیکھا گیا، ایک بہت ہی ڈرامائی کلپ کے ساتھ جس میں دکھایا گیا ہے کہ روسیوں کو ایک سڑک پر آہستہ آہستہ آگے بڑھتے ہوئے اپنی بندوقیں چلانے اور فائر کرنے سے پہلے یوکرین والوں نے ان پر گولی چلا دی۔ آن لائن شیئر کیے گئے ایک اور کلپ میں دکھایا گیا ہے کہ فوج کی ایک گاڑی روسیوں کی ہے، اسے یوکرینیوں نے اپنے شہر کا دفاع کرنے کے لیے نذر آتش کیا تھا۔


    لیکن یوکرین کے صدر زیلنسکی اپنی ثابت قدمی اور بہادری کےسبب عالمی ہیرو بن گئے ہیں – جب کہ ان کے متوقع قاتلوں کی مبینہ ہلاکتوں نے چیچنیا کے لیے بڑی رسوائی اور بڑے غم کو جنم دیا ہے۔ پوتن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ یوکرین کو فتح کرنے کی اپنی رکی ہوئی کوششوں سے ناراض ہوتے جا رہے ہیں، اور انہوں نے دنوں میں کوئی عوامی خطاب جاری نہیں کیا۔ان کی آگ اور انفرادی قوت یوکرین سے بہت زیادہ ہے اور یہ بڑے پیمانے پر خیال کیا جاتا ہے کہ روس بالآخر اپنے پڑوسی کو فتح کر لے گا۔ لیکن چھوٹی قوم کی طرف سے لگائے جانے والے حیرت انگیز طور پر موثر دفاع نے روسی فوجی وقار کو بری طرح داغدار کر دیا ہے، کریملن ابھی بھی کیف کے دارالحکومت پر قبضہ کرنے اور اپنی حکومت قائم کرنے کے اپنے مقصد سے دور ہے۔

  • یوکرین پرحملہ روس کے لیے گلے کی ہڈی بن گیا:سخت مزاحمت سے روسی فوج کے حوصلے ڈگمگانے لگے

    یوکرین پرحملہ روس کے لیے گلے کی ہڈی بن گیا:سخت مزاحمت سے روسی فوج کے حوصلے ڈگمگانے لگے

    واشنگٹن : یوکرین پرحملہ روس کے لیے گلے کی ہڈی بن گیا:سخت مزاحمت سے روسی فوج کے حوصلے ڈگمگانے لگے،اطلاعات ہیں کہ روس کو یوکرین پر حملے کے بعد سب سے زیادہ مزاحمت کا سامنا یوکرین کے دارالحکومت کیف میں کرنا پڑا ہے۔ جہاں جنگ کا چوتھا دن شروع ہونے کے باوجود قبضہ نہیں ہوسکا ہے۔

    ان حقائق کی تصدیق امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے تازہ بیان سے ہوجاتی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ یوکرین کی فوج کی جانب سے سخت مزاحمت ملنے پر روس کی حملہ آور فوج کو مایوسی کا سامنا ہے جبکہ پیش قدمی سست ہونے کے باعث فوج دارالحکومت کیئف میں داخل نہیں ہو سکی۔

    کل حملے چوتھے دن کیئف کے قریب واقع تیل کے ایک ڈپو کو نشانہ بنایا گیا تھا ۔ حکام نے شہریوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے زہریلا دھواں اٹھ رہا ہے۔ دوسری جانب یوکرینی شہری قریبی ممالک میں پناہ لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ امریکی محکمہ دفاع کے ایک عہدیدار نے بتایا ہے کہ امریکہ اور مغربی اتحادی ممالک یوکرین کی فوج کو ہتھیار بھجوا رہے ہیں جبکہ امریکہ کا آئندہ دنوں میں مزید اسلحے کی ترسیل کا ارادہ ہے تاکہ روس کے زمینی اور فضائی حملوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔ پینٹاگون کے مطابق روس کی حملہ آور فوج کا 50 فیصد اس وقت یوکرین میں موجود ہے تاہم غیر متوقع طور پر مزاحمت کا سامنا کرنے کے باعث پیش رفت آہستہ ہے۔

    دفاعی ذرائع کےمطابق یوکرین کے شمالی حصوں میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کوئی خاطر خواہ پیش قدمی نہ ہونے پر روسی فوج کی مایوسی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ عہدیدار نے کہا کہ روسی افواج دارالحکومت کیئف سے تقریباً 30 کلو میٹر کے فاصلے پر موجود ہیں تاہم انہوں نے واضح کیا کہ صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔

    حملے چوتھے دن کیئف کے قریب واقع تیل کے ایک ڈپو کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ حکام نے شہریوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے زہریلا دھواں اٹھ رہا ہے۔ سنیچر کو یوکرین کی جانب سے بیلا روس میں مذاکرات کی پیش کش رد کیے جانے کے بعد روس کی وزارت دفاع نے فوج کو یوکرین پر ہر طرف سے حملہ کرنے اور اس کا دائرہ بڑھانے حکم دیا تھا۔ دووسری جانب روس کے یوکرین پر حملے کے خلاف دنیا بھر کے مختلف ممالک میں مظاہرے ہوئے ہیں جن میں شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

    امریکہ اور لندن سے لے کر دیگر یورپی ممالک میں مظاہرین نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے روس سے خون خرابہ ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ سوئٹزرلینڈ میں ہزاروں کی تعداد میں شہریوں نے مظاہرے کیے جبکہ جینیوا میں اقوام متحدہ کے یورپی ہیڈ کوارٹر کے باہر بھی تقریباً ایک ہزار شہریوں نے احتجاج کیا۔

    دوسری جانب یوکرینی وفد سے ملاقات کے لیے روسی وفد بیلاروس پہنچ گیا ہے۔ترجمان روسی صدر دفتر ’کریملن‘ کا کہنا ہے کہ روسی وفد میں وزارت خارجہ، دفاع اور صدارتی انتظامیہ کے نمائندے شامل ہیں۔کریملن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ روس مذاکرات شروع کرنے کے لیے تیار ہے، مذاکرات کے لیے یوکرینی حکام کے منتظر ہیں۔

    روسی افواج یوکرین کے دارالحکومت کیف پر قبضہ کرنے کی کوششوں میں ناکامی کے بعد یوکرین کے دوسرے بڑے شہر خارکیف میں داخل ہو گئی ہیں۔اتوار کی صبح سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی فوٹیج میں پوتن کے فوجی ٹرکوں کو 1.41 ملین آبادی والے شہر میں گھومتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جو روس کی سرحد کے قریب مشرقی یوکرین میں ہے۔ فوجیوں کو خارکیف سے پیدل مارچ کرتے ہوئے بھی دیکھا گیا، ایک بہت ہی ڈرامائی کلپ کے ساتھ جس میں دکھایا گیا ہے کہ روسیوں کو ایک سڑک پر آہستہ آہستہ آگے بڑھتے ہوئے اپنی بندوقیں چلانے اور فائر کرنے سے پہلے یوکرین والوں نے ان پر گولی چلا دی۔ آن لائن شیئر کیے گئے ایک اور کلپ میں دکھایا گیا ہے کہ فوج کی ایک گاڑی روسیوں کی ہے، اسے یوکرینیوں نے اپنے شہر کا دفاع کرنے کے لیے نذر آتش کیا تھا

    ادھر یورپی ممالک نے روسی طیاروں کے لیے فضائی حدود بندکرنےکا فیصلہ کر لیا جبکہ امریکا اور اس کے اتحادیوں نے کئی روسی بینکوں کو مرکزی بین الاقوامی ادائیگی کے نظام سے منقطع کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔