سعودی عرب کے شہر جازان میں یمنی حوثیوں کے میزائل حملے میں 2 افراد زخمی ہو گئے۔
سعودی پریس ایجنسی نے سعودی سول ڈیفنس کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ہفتے کے روز یمن کے حوثیوں کی جانب سے داغا گیا ایک پروجیکٹائل سعودی عر ب کے جنوبی علاقے جازان میں آ گرا، جس کے نتیجے میں ایک مسجد اور متعدد عمارتوں اور گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا،حملے کے بعد امدادی ٹیموں نے جاز ان کے علاقے الطوال میں کارروائیاں کیں، سول ڈیفنس کے ترجمان نے کہا کہ شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کو بین الاقوامی انسانی قانون کی کھلی خلا ف ور زی ہے۔
سعودی عرب کے جنوبی علاقوں پر حوثیوں کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری ہے، چند روز قبل بھی حوثی گروپ نے ابہا، خمیس مشیط، جاز ان اور نجران میں شہری اور اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا، جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 73 افراد زخمی ہوئے تھے۔
دوسری جانب ترک نیوز ایجنسی انادولو کے مطابق انصار اللّٰہ نے یمن پر 48 گھنٹوں میں سعودی عرب کے 129 فضائی حملوں کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مختلف علاقوں پر کیے گئے حملوں کا سعودی عرب کو جواب دیا جائے گا۔
دو دن قبل سعودی عرب کے شہروں ریاض اور مدینہ میں ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن پر ڈرون حملے کئے گئے تھے جس کے بعد سعودی عرب نے پائپ لائن کو عارضی طور پر بند کر دیا تھا سعودی وزارتِ توانائی کے مطابق 1200 کلومیٹر طویل پائپ لائن کو احتیاطی اقدام کے طور پر بند کیا گیا،سعودی اور عراقی حکام کے مطابق پائپ لائن پر حملہ عراق سے کیا گیا تھا، جہاں ایران نواز ملیشیا سرگرم ہیں۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق سعودی عرب پر ڈرون حملے کے بعد عراقی وزیراعظم علی فالح الزیدی نے عراق کے اعلیٰ فوجی کمانڈر کو عہدے سے برطرف کر دیا تھا،عراقی وزیراعظم آفس کے بیان میں کہا گیا کہ برطرف کیے گئے کمانڈر جنوبی عراق کے صوبے میسان میں فوجی کارروائیوں کی سربراہی کر رہے تھے۔
