Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • سویلینز کے بنیادی حقوق ختم کرکے کورٹ مارشل نہیں کیا جا سکتا،وکیل سلمان اکرم راجہ

    سویلینز کے بنیادی حقوق ختم کرکے کورٹ مارشل نہیں کیا جا سکتا،وکیل سلمان اکرم راجہ

    اسلام آباد:سپریم کورٹ آئینی بنچ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کیخلاف اپیلوں پر سماعت کے دوران سزایافتہ مجرم ارزم جنید کے وکیل سلمان اکرم راجہ کے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ سویلینز کے بنیادی حقوق ختم کرکے کورٹ مارشل نہیں کیا جا سکتا۔

    باغی ٹی وی : فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل سے متعلق فیصلے کے خلاف انٹراکورٹ اپیلوں پر سماعت آج بھی کی گئی۔منگل کو جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا 7 رکنی آئینی بینچ نے سماعت کی اس دوران فوجی عدالت سے سزا یافتہ مجرم ارزم جنید کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیئے-

    وکیل سلمان اکرم راجہ نے موقف اختیار کیا کہ سادہ لفظوں میں بات کی جائے تو سویلنز کے بنیادی حقوق ختم کرکے کورٹ مارشل نہیں کیا جاسکتا، سویلنز کا کورٹ مارشل شفاف ٹرائل کے بین الاقوامی تقاضوں کے بھی خلاف ہے۔

    جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیئے کہ بین الاقوامی اصولوں میں کہیں نہیں لکھا کہ سویلنز کا کورٹ مارشل نہیں ہو سکتا، جس پر سلمان اکرم راجہ کا موقف تھا کہ انگلینڈ میں کورٹ مارشل فوجی نہیں بلکہ آزاد ججز کرتے ہیں، بین الاقوامی تقاضوں کے تحت ٹرائل کھلی عدالت میں، آزادانہ اور شفاف ہونا چاہیے، بین الاقوامی قوانین کے مطابق ٹرائل کے فیصلے پبلک ہونے چاہئیں، دنیا بھر کے ملٹری ٹریبونلز کے فیصلوں کے خلاف اپیلیں عدالتوں میں جاتی ہیں یورپی عدالت کے فیصلے نے کئی ممالک کو کورٹ مارشل کا طریقہ کار بھی تبدیل کرنے مجبور کیا۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ اگر بین الاقوامی اصولوں پر عمل نہ کیا جائے تو نتیجہ کیا ہوگا ؟جس پر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ بین الاقوامی اصولوں پر عمل نہ کرنے کا مطلب ہے کہ ٹرائل شفاف نہیں ہوا،جسٹس جمال مندوخیل نے پھر استفسار کیا کہ کوئی ملک اگر بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی کا مرتکب ہو تو کیا ہوگا؟

    جس پر سلمان اکرم راجہ کا مؤقف تھا کہ کچھ بین الاقوامی اصولوں کو ماننے کی پابندی ہوتی ہے اور کچھ کی نہیں، شفاف ٹرائل کا آرٹیکل 10 اے بین الاقوامی اصولوں کی روشنی میں ہی آئین کا حصہ بنایا گیاایف بی علی کیس کے وقت آئین میں اختیارات کی تقسیم کا اصول نہیں تھا، پہلے تو ڈپٹی کمشنر اور تحصیلدار فوجداری ٹرائلز کرتے تھے، کہا گیا اگر ڈی سی فوجداری ٹرائل کر سکتا ہے تو کرنل صاحب بھی کر سکتے تمام ممالک بین الاقوامی اصولوں پر عملدرآمد کی رپورٹ اقوام متحدہ کو پیش کرتے ہیں، جس پر یو این کی انسانی حقوق کمیٹی رپورٹس کا جائزہ لے کر اپنی رائے دیتی ہے۔

    سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ گزشتہ سال اکتوبر اور نومبر کے اجلاسوں میں پاکستان کے فوجی نظام انصاف کا جائزہ لینے کے بعد یو این کی انسانی حقوق کمیٹی نے پاکستان میں سویلنز کے کورٹ مارشل پر تشویش ظاہر کی تھی اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمیٹی کے مطابق پاکستان میں فوجی عدالتیں آزاد نہیں، رپورٹ میں حکومت کو فوجی تحویل میں موجود افراد کو ضمانت دینے کا کہا گیا، اسی طرح یورپی کمیشن کے مطابق 9 مئی کو احتجاج والوں کا کورٹ مارشل کرنا درست نہیں یورپی یونین نے ہی پاکستان کو جی ایس پی پلیس سٹیٹس دے رکھا ہے، جسٹس یحییٰ آفریدی نے اختلافی نوٹ میں یہی نکات اٹھائے ہیں، ہزاروں افراد کا ٹرائل اے ٹی سی میں ہو سکتا تو ان 105 ملزموں کا کیوں نہیں۔

    سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ یو کے میں ایک فیڈلی نامی فوجی کا کورٹ مارشل ہوا، یورپین کورٹ آف ہیومن رائٹس نے اس کا خصوصی ٹرائل کالعدم قرار دے دیا تھا، فیڈلی ذہنی تناؤ کا شکار تھا، اس نے فائرنگ کی، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ فیڈلی کی فائرنگ سے بھی ایک ٹی وی ٹوٹ گیا تھا، نومئی واقعات میں بھی ایک ٹی وی توڑا گیا۔

    سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ نو مئی واقعات میں ٹی وی توڑنے والے سے میری ملاقات ہوئی، وہ بیچارہ شرم سے ڈوبا ہوا تھا، ٹی وی توڑنے والا بیچارہ چار جماعتیں پاس بے روزگارتھا، ہمارے معاشرے نے ایسے لوگوں کو کیا دیا، جس پر جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ انفرادی باتیں نہ کریں۔

    جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ کیا آپ نے فیڈلی سے ملاقات بھی کی؟جس پر جسٹس نعیم اختر افغان بولے کہ نہیں سلمان راجہ نے پاکستانی فیڈلی سے ملاقات کی ہے،جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ آپ نے کہا میرا موکل فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلتا تھا، نو مئی والے دن وہ کرکٹ کھیلنے تو نہیں گیا تھا ناں۔

  • سپریم کورٹ میں 7 نئے ججز کی تعیناتیاں، متعدد انتظامی کمیٹیوں کی تشکیل نو کر دی گئی

    سپریم کورٹ میں 7 نئے ججز کی تعیناتیاں، متعدد انتظامی کمیٹیوں کی تشکیل نو کر دی گئی

    اسلام آباد: سپریم کورٹ میں 7 نئے ججز کی تعیناتیوں کے بعد چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے متعدد انتظامی کمیٹیوں کی تشکیل نو کر دی، جبکہ رجسٹرار سپریم کورٹ نے تمام کمیٹیوں اور تقرریوں کے الگ الگ نوٹیفیکیشن بھی جاری کر دیئے-

    باغی ٹی وی: واضح رہے کہ 14 فروری جمعہ کو سپریم کورٹ کے 7 نئے ججز نے اپنے عہدوں کا حلف اٹھا یا تھا،چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے نئے ججز سے حلف لیا تھا، سپریم کورٹ کے 6 مستقل اور ایک عارضی جج نے حلف اٹھایا تھا، جن ججز نے حلف لیا ان میں جسٹس ہاشم خان کاکڑ، جسٹس شفیع صدیقی، جسٹس صلاح الدین پنہور، جسٹس شکیل احمد، جسٹس عامر فاروق اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل ہیں، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کا قائم مقام جج سپریم کورٹ کا نوٹی فکیشن جاری کیا گیا –

    دوسری جانب سپریم کورٹ میں 7 نئے ججز کی تعیناتیوں کے بعد چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے متعدد انتظامی کمیٹیوں کی تشکیل نو کر دی، رپورٹ کے مطابق تشکیل نو سپریم کورٹ میں نئے ججز کی تعیناتی کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئی جس کے مطابق جسٹس مسرت ہلالی خیبر پختونخوا کی انسداد دہشتگردی عدالتوں کی نگران جج مقرر کردی گئیں، جسٹس ملک شہزاد پنجاب، جسٹس ہاشم کاکڑ بلوچستان کی انسداد دہشتگردی عدالتوں کے نگران مقرر کیے گئے۔

    لنڈی کوتل: پاک افغان شاہراہ پر ٹریفک بحال، غیر قانونی لین دین ختم،پریس کانفرنس

    جبکہ جسٹس صلاح الدین پنور سندھ اور جسٹس عامر فاروق اسلام آباد کی اے ٹی سی عدالتوں کے نگران مقرر ہوئے اور سپریم کورٹ کی بلڈنگ کمیٹی کی سربراہی جسٹس جمال مندوخیل کو دی گئی، جبکہ جسٹس شفیع صدیقی اور جسٹس عامر فاروق بلڈنگ کمیٹی کے ممبران ہوں گے، چیف جسٹس یحیحی آفریدی آئی ٹی کمیٹی کی سربراہی خود کریں گے، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس میاں گل حسن آئی ٹی کمیٹی کے ممبران ہوں گے۔

    ملکی معیشت کو ٹھیک کرنے کیلئے دن رات محنت کی ہے،وزیر اعظم

    اس طرح ریسرچ سینٹر کمیٹی کی سربراہ جسٹس شاہد بلال حسن، جبکہ جسٹس شفیع صدیقی اور جسٹس عامر فاروق ریسرچ سینٹر کمیٹی کے ممبرا ن ہوں گے، جسٹس محمد علی مظہر لاء کلرک پروگرام کمیٹی کے سربراہ جبکہ جسٹس میاں گل حسن ممبر ہوں گے۔

    علاوہ ازیں مختلف نوعیت کی چیمبر اپیلز سننے کیلئے پانچ ججز کو نامزد کر دیا گیا، چیف جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس ہاشم کاکڑ جسٹس صلاح الدین پنور اور جسٹس شکیل احمد مختلف نوعیت کی چیمبر اپیلز سنیں گے، جبکہ سپریم کورٹ آرکائیو اینڈ میوزیم کمیٹی کی سربراہی جسٹس حسن اظہر رضوی کو دی گئی، جسٹس صلاح الدین پنور، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب آرکائیو کمیٹی کے ممبران ہوں گے۔

    ملکی معیشت کو ٹھیک کرنے کیلئے دن رات محنت کی ہے،وزیر اعظم

    فوری انصاف اور ماڈل کورٹس سے متعلق کمیٹی کے سربراہ جسٹس ملک شہزاد جبکہ جسٹس ہاشم کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پنور، جسٹس اشتیاق ابراہیم ماڈل کورٹس کمیٹی کے رکن ہوں گے جبکہ جسٹس اشتیاق ابراہیم کو سکیورٹی جج تعینات کیا گیا، سکیورٹی جج سپریم کورٹ بلڈنگ، برانچ رجسٹر یا اور ججز کالونی کے سکیورٹی امور دیکھیں گے جسٹس میاں گل حسن فیملی اور بچوں کی حوالگی کیسز میں پاک برطانیہ پروٹوکول کے رابطہ کار جج تعینات کیے گئے، سپریم کورٹ عملے کے یونیافارم کی کوالٹی چیک کرنے کیلئے قائم کمیٹی تحلیل کر دی گئی۔

    میجر جنرل ایال ضمیر اسرائیلی فوج کانیا سربراہ مقرر

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کیس مینجمنٹ کمیٹی کی نئی تشکیل کردی، چیف جسٹس یحیی خان آفریدی 6 رکنی کمیٹی کے سربراہ ہوں گے،کمیٹی میں جسٹس نعیم افغان جسٹس شاہد بلال حسن،شفیع صدیقی شامل ہیں، کیس مینجمنٹ کمیٹی میں ایڈیشنل رجسٹرار اور ڈائریکٹر آئی ٹی شامل ہیں۔

  • سپریم کورٹ میں آئندہ ہفتے کا ججز روسٹر اور کاز لسٹ جاری

    سپریم کورٹ میں آئندہ ہفتے کا ججز روسٹر اور کاز لسٹ جاری

    اسلام آباد: سپریم کورٹ میں نئے ججز کی تقرری کے بعد آئندہ ہفتے کا ججز روسٹر اور کاز لسٹ جاری کر دی،-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق عدالت عظمیٰ میں آئندہ ہفتے مقدمات کی سماعت کے لیے 9 بینچز تشکیل دیئے ہیں، بینچ نمبر 1 میں چیف جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس شفیع صدیقی اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب شامل ہیں، اسی طرح بینچ نمبر 2 سینئر پیونی جج جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس عقیل احمد عباسی پر مشتمل ہوگا۔

    مقدمات کی سماعت کے لیے تشکیل کردہ بینچ نمبر 3 میں جسٹس منیب اختر اور جسٹس عائشہ ملک شامل ہیں، اسی طرح بینچ نمبر 4 جسٹس جمال مندو خیل اور جسٹس عامر فاروق جبکہ بینچ نمبر 5 جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس عرفان سعادت اور جسٹس ملک شہزاد پر مشتمل ہوگا۔

    عرب ممالک میں پہلے روزے کی متوقع تاریخ کا اعلان

    بینچ نمبر 6 میں جسٹس شاہد وحید اور جسٹس شکیل احمد شامل ہوں گے جبکہ بینچ نمبر 7 جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل ہوگا،اسی طرح بینچ نمبر 8 جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل ہے جبکہ بینچ نمبر 9 میں جسٹس سردار طارق مسعود اور جسٹس مظہر عالم میاں خیل شامل ہوں گے۔

    جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا 7 رکنی آئینی بینچ 18 سے 20 فروری تک سماعت کرے گا۔

    یوکرین میں چرنوبل نیوکلیئر پلانٹ کی چھت پر ڈرون گر کر تباہ

  • لاہور ہائیکورٹ میں ججز کی تقرریوں کیلئے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس 28 فروری کو طلب

    لاہور ہائیکورٹ میں ججز کی تقرریوں کیلئے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس 28 فروری کو طلب

    لاہور: چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے لاہور ہائیکورٹ میں ججز کی تقرریوں کے لیے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس 28 فروری کو طلب کرلیا۔

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں ججز کی تقرریوں کے لیے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس طلب کرلیا گیا، اجلاس 28 فروری کو سپریم کورٹ میں ہوگا چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی جوڈیشل کمیشن اجلاس کی صدارت کریں گے-

    اجلاس میں پنجاب کے 8 ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کے ناموں پر غور کیا جائے گا،راجہ غضنفر علی خان، قیصر نذیر بٹ، اکمل خان کے نام زیرغور آئیں گے، اسی طرح جزیلہ اسلم، طارق محمود باجوہ، شاہدہ سعید، اکبر گل خان کے ناموں پر بھی غور ہوگا۔

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے امریکہ کی قائم مقام سفیر کی ملاقات

    حماس نے مزید 3 اسرائیلی یرغمالی رہا کر دیئے

    ایف بی آر کے اختیارات کم کرنا ملکی مفاد میں ہے، بزنس کمیونٹی

  • آئینی بینچ: 14 فروری کے تمام مقدمات ڈی لسٹ

    آئینی بینچ: 14 فروری کے تمام مقدمات ڈی لسٹ

    سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے 14 فروری کو سماعت کے لیے مقرر تمام مقدمات کو ڈی لسٹ کردیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق مقدمات کو ڈی لسٹ کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری کردیا گیا، مقدمات ڈی لسٹ کیے جانے کے حوالے سے وکلا اور فریقین کو آگاہ کردیا گیا۔سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے 14 فروری کے تمام مقدمات کو بینچ کی عدم دستیابی کے باعث ڈی لسٹ کیا۔واضح رہے کہ چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے کہا ہےکہ بانی پی ٹی آئی جو ہم سے چاہتے ہیں وہ آرٹیکل184کی شق 3 سے متعلق ہے لہٰذا یہ معاملہ کمیٹی کو بھجوایا ہے اور اسے آئینی بینچ نے دیکھنا ہے۔چیف جسٹس پاکستان اور آئی ایم ایف کے 6 رکنی وفد کے درمیان سپریم کورٹ میں ایک گھنٹہ ملاقات ہوئی جس میں چیف جسٹس نے آئی ایم ایف وفد کو عدالتی نظام اور اصلاحات پر بریف کیا جب کہ اس دوران چیف جسٹس سےججز تقرری اور آئینی ترمیم پر بھی بات چیت کی گئی۔

    آئی ایم ایف وفد سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ آئی ایم ایف وفد کو جواب دیا ہم نے آئین کے تحت عدلیہ کی آزادی کا حلف اٹھا رکھا ہے، وفد کو بتایا یہ ہمارا کام نہیں ہے کہ آپ کو ساری تفصیل بتائیں، میں نے وفد کو نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کے ایجنڈے کا بتایا، آئی ایم ایف وفد کو بتایا ماتحت عدلیہ کی نگرانی ہائیکورٹس کرتی ہیں، وفد نےکہا معاہدوں کی پاسداری اور پراپرٹی حقوق کا ہم جاننا چاہتے ہیں، اس پر میں نے جواب دیا کہ اس پر اصلاحات کررہے ہیں۔

    خلیج میکسکیو کہنے پررپورٹر کو وائٹ ہاؤس سے نکال دیا گیا

    ایف آئی اے کی کارکردگی جانچنے کے لیے خصوصی کمیٹی قائم

    کراچی اور لاہور ایئرپورٹس پر جدید ترین ایئر ٹریفک کنٹرول سسٹم لگانے کا فیصلہ

    عظیم بلے باز حنیف محمد پی سی بی ہال آف فیم میں شامل

  • پیکا ایکٹ میں ترامیم سپریم کورٹ میں چیلنج

    پیکا ایکٹ میں ترامیم سپریم کورٹ میں چیلنج

    اسلام آباد: پیکا ایکٹ میں ترامیم سپریم کورٹ میں چیلنج کر دی گئیں۔

    باغی ٹی وی: پیکا ترامیم کے خلاف درخواست شہری قیوم خان کی جانب سے دائر کی گئی ہے درخواست میں پیکا ایکٹ میں کی گئی ترامیم کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے،درخواست میں پیکا ترامیم کے خلاف سماعت کے لیے فل کورٹ بینچ تشکیل دینے کی استدعا بھی کی گئی ہے۔

    درخواست گزار نے درخواست میں موقف اپنایا ہے کہ پیکا ایکٹ میں ترامیم بنیادی حقوق کے خلاف ہیں، پارلیمان کو اختیار نہیں کہ بنیادی حقوق کے خلاف قانون سازی کر سکے، فل کورٹ نہ صرف ترامیم بلکہ اصل پیکا ایکٹ کا بھی بنیادی حقوق کے تناظر میں جائزہ لے،جعلی اسمبلی اور جعلی صدر کی جانب سے رولز بنانے کے عمل کو معطل کرنے کا حکم دیا جائے۔

    امریکا کا نیا اور طاقتور لیزر ہتھیار جو ڈرونز اور میزائلوں کو پگھلا کر اُنہیں تباہ کر سکتا ہے

    پیکا ایکٹ (ترمیمی) 2025 کیا ہے؟
    پاکستان میں فیک نیوز اور جعلی معلومات کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے پیکا ایکٹ کی ترمیم کی گئی ہے، جس کے تحت آن لائن جھوٹی خبریں پھیلانے والے افراد کو سخت سزائیں دی جا سکتی ہیں۔ ترمیمی بل 2025 کے مطابق، جو شخص جان بوجھ کر فیک نیوز پھیلائے گا یا کسی دوسرے کو ارسال کرے گا، جس سے معاشرتی خوف یا بدامنی پیدا ہو، اُس کے خلاف تین سال تک قید، 20 لاکھ روپے تک جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔

    پیکا ایکٹ کا مقصد:
    پیکا ایکٹ کا مقصد آن لائن فیک نیوز کی روک تھام اور انٹرنیٹ پر پھیلنے والی غلط معلومات کا سدباب کرنا ہے تاکہ معاشرتی امن قائم رہے اور عوام کو جھوٹی خبروں سے بچایا جا سکے، اس ایکٹ کے تحت انٹرنیٹ پر جھوٹے اور توہین آمیز مواد پھیلانے والوں کو سخت سزائیں دی جا رہی ہیں تاکہ یہ مسائل کنٹرول کیے جا سکیں۔

    پیکا قانون کے تحت مقدمات درج، ایک شخص گرفتار

    مذکورہ مقدمات میں پولیس اور ایف آئی اے کی کارروائی نے پیکا ایکٹ کے تحت ان اقدامات کی اہمیت کو واضح کیا ہے، جہاں سوشل میڈیا اور واٹس ایپ جیسے پلیٹ فارمز پر جھوٹی اور جعلی خبریں پھیلانے والوں کو سزا دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    چیمپئنز ٹرافی 2025: پاک ، بھارت ٹاکرے کے ٹکٹ کی ریکارڈ فروخت

  • سپریم کورٹ،سابق چیف جسٹس پاکستان جواد ایس خواجہ پر جرمانے کا حکم واپس

    سپریم کورٹ،سابق چیف جسٹس پاکستان جواد ایس خواجہ پر جرمانے کا حکم واپس

    سپریم کورٹ کے آئینی بنچ نےسابق چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس (ر)جواد ایس خواجہ پر عائد 20ہزار روپے جرمانے کا حکمنامہ واپس لے لیا، سابق چیف جسٹس پاکستان جواد ایس خواجہ کی نظرثانی درخواست واپس لینے پر جرمانہ ختم کیا گیا۔

    سپریم کورٹ آئینی بنچ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز ٹرائل فیصلے کیخلاف اپیلوں پر ہوئی، جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 7رکنی بنچ سماعت کررہا ہے،وکیل خواجہ احمد حسین نے کہاکہ عدالت کے سامنے ایک مسئلہ بنیادی حقوق اوردوسراقومی سلامتی ہے،عدالت نے دونوں میں توازن پیدا کرنا ہو تو بنیادی حقوق کاتحفظ کیا جاتا ہے،عدالتی فیصلہ برقرا رہا تو کسی ملزم یا دہشتگرد کو فائدہ نہیں پہنچے گا، انسداددہشتگردی کاقانون موجود ہے جس میں گواہان کے تحفظ سمیت تمام شقیں ہیں،عدالت کسی بھی صورت شہریوں کو شفاف ٹرائل سے متصادم نظام کے سپرد نہیں کر سکتی، جسٹس محمد علی مظہر نے کہاکہ سندھ میں گواہان کے تحفظ کا اہلگ سے قانون بھی موجود ہے۔ آئینی بنچ نے جسٹس (ر)جواد ایس خواجہ پر عائد 20ہزار روپے جرمانے کا حکمنامہ واپس لے لیا، سابق چیف جسٹس پاکستان جواد ایس خواجہ کی نظرثانی درخواست واپس لینے پر جرمانہ ختم کیا گیا۔

    دوران سماعت وکیل خواجہ احمد حسین نے کہاکہ فرخ بخت علی پر ملک مخالف جنگ کرنے اور فوج کو بغاوت پر اکسانے کا الزام تھا،فرخ بخت علی کا کورٹ مارشل میجر جنرل ضیا الحق نے 1974میں کیا، فرخ بخت علی نے بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کی تھی،کورٹ مارشل کرنے والے ضیا الحق ترقی پا کر آرمی چیف بن گئے،ضیا الحق کے آرمی چیف بننے کے بعد جو ہوا وہ اس ملک کی تاریخ ہے، جسٹس حسن اظہر نے کہاکہ اس دور میں تو کمانڈنٹ ان چیف اور ایئرچیف کو بھی اغوا کرلیاگیا تھا،اغوا کار نے اپنے کتاب میں وجوہات بھی تحریر کی ہیں،جسٹس مسرت ہلالی نے جسٹس حسن اظہر رضوی سے سوال کیا کہ ویسے وجوہات کیا تھیں؟جسٹس حسن اظہر رضوی نے جواب کیا کہ اس کیلئے آپ کو کتاب پڑھنا پڑے گی،جسٹس حسن اظہر رضوی کے جواب پر عدالت میں قہقہے لگ گئے،سپریم کورٹ میں سماعت میں وقفہ کر دیا گیا۔

  • سپریم کورٹ میں چندلوگ  اسٹیبلشمنٹ کا ساتھ دے رہے ہیں،حامد خان

    سپریم کورٹ میں چندلوگ اسٹیبلشمنٹ کا ساتھ دے رہے ہیں،حامد خان

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے رہنما حامد خان نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ میں چند ایسے لوگ ہیں جو اسٹیبلشمنٹ کا ساتھ دے رہے ہیں-

    باغی ٹی وی : لاہور ہائی کورٹ بار میں وکلا نمائندہ کنونشن 26 ویں ترمیم کے عدلیہ پر اثرات کے عنوان سے منعقد کیا گیاکنونشن میں سینٹر حامد خان ، ہائی کورٹ بار کے صدر اسد منظور بٹ ، لاہور بار کے صدر مبشر رحمان شریک ہوئے، کنونشن میں ہائی کورٹ بار کے سابق صدور احمد اویس ، شفقت چوہان ، اشتیاق اے خان، سابق نائب صدر ربیعہ باجوہ سمیت ملک بھر سے وکلا نمائندگان نے شرکت کی۔

    پی ٹی آئی کے رہنما سینیٹر حامد خان نے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وکلا کی تحریک شروع ہو چکی ہے یہ 26 ویں ترمیم کو بہا لے جائے گی، ہماری جدوجہد آگے بڑھ رہی ہے، 26 ویں ترمیم کے خلاف ، وکلا تنظیموں نے درخواستیں دائر کیں، ان درخواستوں پر موجودہ 16 ججز پر مشتمل فل کورٹ سماعت کرے ۔

    چیمپئنز ٹرافی کیلئے قومی ٹیم کا اعلان ، امام الحق کی معنی خیز پوسٹ

    ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ میں چند ایسے لوگ ہیں جو اسٹیبلشمنٹ کا ساتھ دے رہے ہیں، چیف جسٹس نے عہدہ ، قبول کر کے ہمیں بہت مایوس کیا، ہمارے چیف جسٹس منصور علی شاہ ہیں، ہم سپریم کورٹ کو سیاسی بھرتیوں کے ساتھ بھرنے نہیں دیں گے یہ پارلیمنٹ نہیں محض نمبر ہیں، 26 ویں ترمیم کا وزیراعظم اور وزیر قانون کو بھی علم نہیں تھا یہ فارم 47 کی حکومت ہے مگر کچھ تو اپنے عہدے کی عزت کروائیں-

    لندن کے میئر صادق خان کا 10 ملین پاؤنڈ کی تاریخی اضافی سرمایہ کاری کا اعلان

    حامد خان نے کہا کہ قاضی فائز عیسی نے ہارس ٹریڈنگ کا دروازہ کھولا ، 63 اے کا فیصلہ بالکل ٹھیک تھا، ترمیم والے دن ایک سینیٹر کو ڈائلائیسس کرواتے ہوئے لایا گیا ، ایک خاتون سینیٹر کے بیٹے کو اغواء کر کے ووٹ ڈلوانے لایا گیا، یہ ترمیم کسی طرح آئینی نہیں ہے، موجودہ حکمران صرف کٹھ پتلیاں ہیں، یہ سب جانتے ہیں کہ ہم ہارے ہوئے ہیں، چوروں کے ساتھ مذاکرات ممکن ہی نہیں۔

    ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخواہ نے استعفیٰ دے دیا

    صدر انصاف لائرز اشتیاق اے خان نے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایک ٹولے نے بارکونسلز کو یرغمال بنایا ہوا ہے، یہ ٹولہ اپنی مرضی کے ججز کو بھرتی کر رہے ہیں یہ عدلیہ پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں ، ججز کو بھی اس غیر آئینی ترمیم کےخلاف اٹھنا ہو گا جب تک جعلی حکومت کی یہ ترمیم ختم نہیں ہوتی وکلا واپس نہیں آئیں گے،26 ویں ترمیم سے پہلے والا فل کورٹ اس کیس کو سنے۔

    محکمہ جیل کی جانب سے سوشل میڈیا پالیسی جاری

  • 8 نئے ججز کی تعیناتی  کے معاملہ:جوڈیشل کمیشن  اجلاس کا شیڈول تبدیل

    8 نئے ججز کی تعیناتی کے معاملہ:جوڈیشل کمیشن اجلاس کا شیڈول تبدیل

    اسلام آباد: سپریم کورٹ میں 8 نئے ججز کی تعیناتی کے معاملے پر جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے اجلاس کا شیڈول تبدیل کردیا گیا-

    باغی ٹی وی:جوڈیشل کمشن کا اجلاس 11 فروری کے بجائے اب 10 فروری کو ہوگا اجلاس سپریم کورٹ کے کانفرنس روم میں دن 2 بجے ہوگا، جوڈیشل کمیشن کے ممبران کو اجلاس ایک دن پہلے بلانے سے متعلق باقاعدہ طور پر آگاہ کردیا گیا،سپریم کورٹ میں 8 نئے ججز کے لیے پانچوں ہائیکورٹس کے 5 سنیر ججز کے نام طلب کیے گئے ہیں۔

    دوسری جانب وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے چیف جسٹس پاکستان سے الگ الگ ملاقات کی،ذرائع نے بتایا کہ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے چیف جسٹس پاکستان یحیٰ آفریدی سے ان کے چیمبر میں ملاقات کی، اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے چیف جسٹس پاکستان سے الگ ملاقات کی۔

    حماس نے 5 تھائی باشندوں سمیت 8 یرغمالی رہا کردیئے

    شعبان کا چاند نظر آگیا، شب برات 13 فروری کو ہوگی

    ایف بی آر افسران نے مجھے جان سے مارنےکی دھمکیاں دیں، فیصل واوڈا کا انکشاف

  • قانونی تشریح کا مقدمہ جسٹس منصور کے بینچ میں فکس کرنے پر جواب طلب

    قانونی تشریح کا مقدمہ جسٹس منصور کے بینچ میں فکس کرنے پر جواب طلب

    اسلام آباد: سپریم کورٹ کے رجسٹرار نے قانونی تشریح کا مقدمہ جج جسٹس منصور علی شاہ کے ریگولر بینچ میں فکس کرنے پر سپریم کورٹ فکسر برانچ کے افسران کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے وضاحت طلب کرلی۔

    باغی ٹی وی: ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ کے کیس کے معاملے میں بڑی پیشرفت ہوئی ہےسپریم کور ٹ کے رجسٹرار آفس نے جسٹس منصور علی شاہ کے ریگولر بینچ میں قانونی تشریح کا مقدمہ فکس کرنے پر فکسر برانچ کے افسران کو شوکاز نو ٹس جاری کردیئے اور افسران سے شوکاز نوٹس پر 7 روز میں جواب مانگ لیا۔

    ذرائع کے مطابق شوکاز نوٹس میں لکھا گیا ہے کہ آئینی بینچ کا مقدمہ جسٹس منصور علی شاہ کے ریگولر بینچ میں کیسے لگ گیا، اس پر افسران وضاحتی جواب جمع کرائیں جسٹس منصورعلی شاہ کے بینچ نےکسٹم ڈیوٹی ایکٹ کاآرٹیکل 191A تناظر میں سننے کافیصلہ کیاتھا تاہم پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی نے کسٹم ڈیوٹی کا مقدمہ آئینی بینچ کو بھجوا دیا تھا۔

    فلسطینیوں کی بے دخلی غیر منصفا نہ قدم،مصر اس میں شریک نہیں ہوگا،مصری صدر

    کورونا وائرس، چین نے امریکی سینٹرل انٹیلیجنس کی رپورٹ مسترد کر دی

    این ایچ اے کی خالی جگہوں کے کمرشل استعمال کیلئے کمیٹی قائم