Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • یوٹیوبر رنویر الہ آبادیہ کو بھارتی سپریم کورٹ سے بڑا ریلیف مل گیا

    یوٹیوبر رنویر الہ آبادیہ کو بھارتی سپریم کورٹ سے بڑا ریلیف مل گیا

    ممبئی: بھارتی یوٹیوبر رنویر الہ آبادیہ کو بھارتی سپریم کورٹ سے بڑا ریلیف مل گیا ہے۔

    باغی ٹی وی: بھارتی عدالت عظمیٰ نے رنویر الہ آبادیہ کو اپنا پوڈکاسٹ نشر کرنے کی اجازت دے دی ہے، بشرطیکہ وہ شائستگی اور اخلاقی معیارات کو برقرار رکھیں،18 فروری کو سپریم کورٹ نے رنویر کو عبوری تحفظ دیتے ہوئے ان پر پابندی عائد کی تھی کہ وہ کسی بھی شو کو نشر نہیں کرسکتے تاہم، اب جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس این کوٹیشور سنگھ پر مشتمل بینچ نے یہ پابندی ہٹا دی ہے۔ عدالت نے اس فیصلے میں رنویر کے 280 ملازمین کی روزی روٹی کو مدنظر رکھا، جو ان کے پوڈکاسٹ پر منحصر ہیں۔

    رنویر کے وکیل ابھینو چندرچوڑ نے عدالت میں یقین دہانی کرائی کہ ان کا مؤکل کسی بھی توہین آمیز یا فحش زبان کا استعمال نہیں کرے گا رنویر کا پوڈکاسٹ ان کی آمدنی کا بنیادی ذریعہ ہے، اور اس پر پابندی سے نہ صرف انہیں بلکہ ان کے ملازمین کو بھی شدید مالی مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔

    چیمپئنز ٹرافی: سیمی فائنلز کے میچ آفیشلز کا اعلان
    دوسری جانب، ریاست کی نمائندگی کرتے ہوئے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت سے کہا کہ رنویر کو کچھ وقت کےلیے خاموش رہنے دیا جائے انہوں نے الزام لگایا کہ رنویر نے آسام پولیس کی تحقیقات میں تعاون کرنے کی شرط پر عمل نہیں کیا۔

    سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں اخلاقی معیارات اور اظہار رائے کی آزادی کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کی۔ عدالت نے مرکزی حکومت سے کہا کہ وہ آن لائن میڈیا مواد کو ریگولیٹ کرنے کے لیے مناسب ضابطہ کار اقدامات تیار کرے، جو سنسرشپ کے بغیر کنٹرول کا عنصر رکھتے ہوں۔

    شاہ محمود قریشی سمیت پی ٹی آئی رہنماؤں پر ترمیمی فرد جرم عائد

    عدالت نے ایک بار پھر رنویر کے متنازعہ ریمارکس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سامعین کی توجہ حاصل کرنے کےلیے بے ہودہ زبان کا استعمال ٹیلنٹ نہیں ہے تاہم، عدالت نے یہ بھی تسلیم کیا کہ 200 سے زیادہ خاندانوں کی روزی روٹی اس پوڈکاسٹ سے وابستہ ہے، اور اس پر پابندی سے ان کی معیشت کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔

    سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ رنویر کے لیے ایک اہم کامیابی ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی انہیں اپنے مواد میں شائستگی اور اخلاقیات کو برقرار رکھنے کی ذمے داری بھی دی گئی ہے۔

    دفعہ 144 کی خلاف ورزی، بیرسٹر گوہر، عمر ایوب و دیگر کے وارنٹ گرفتاری جاری

    واضح رہے کہ یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا جب رنویر نے کامیڈین سمے رائنا کے شو ’انڈیاز گوٹ لیٹنٹ‘ میں ایک نازیبا سوال پوچھا تھا اس واقعے کے بعد بھارت بھر میں شدید ردعمل سامنے آیا، اور شو کے منتظمین اور شرکا کو قانونی چارہ جوئی کا سامنا کرنا پڑا رنویر پر مہارا شٹر، راجستھان، اور آسام پولیس کی جانب سے مقدمات درج کیے گئے تھے۔

    رنویر الہ آبادیہ، جو ’بیئر بائیسپس گائے‘ کے نام سے مشہور ہیں، کو اب بھی متعدد ریاستوں میں پولیس انکوائری کا سامنا ہے قومی کمیشن برائے خواتین کی جانب سے بھی انہیں طلب کیا گیا ہے، اور امکان ہے کہ انہیں پارلیمنٹ کے پینل کے سامنے بھی پیش ہونا پڑ ے گا۔

    سائنسدانوں نے مریخ کی سرخ رنگت کا معمہ حل کرلیا

  • سانحہ 9 مئی : عمران خان کی درخواست پر سماعت 2 ہفتوں تک ملتوی

    سانحہ 9 مئی : عمران خان کی درخواست پر سماعت 2 ہفتوں تک ملتوی

    باغی ٹی وی : سپریم کورٹ میں سانحہ 9 مئی سے متعلق عمران خان کی درخواست پر سماعت ہوئی-

    باغی ٹی وی : چیف جسٹس یحیی آفریدی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے سانحہ 9 مئی سے متعلق بانی پی ٹی آئی کی ضمانت قبل ازگرفتاری منسوخ کرنے کی درخواست پر سماعت کی۔

    سپریم کورٹ میں سانحہ 9 مئی سے متعلق بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ضمانت قبل ازگرفتاری منسوخ کرنے کی درخواست پر سماعت کے دوران ایڈیشنل پراسیکیوٹرجنرل پنجاب نے مقدمات ملتوی کرنے کی استدعا کی جس پر عدالت نے 2 ہفتے کی مہلت دے دی۔

    نوکیا کے موبائل سگنلز اب چاند پر بھی آئیں گے

    ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل پنجاب نے مقدمات ملتوی کرنے کی استدعا کرتے ہوئے مؤقف اپنایاکہ عدالت کے سامنے کچھ اضافی ریکارڈ پیش کرنا چاہتے ہیں ایک ہفتے کی مہلت دی جائے، جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے بغیرکارروائی کے سماعت 2 ہفتے کے لیے ملتوی کردی۔

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیئے کہ آئندہ ہفتے نہیں اس سے اگلے ہفتے سماعت کے لیے مقرر کیے جائیں، بینچ نے جسمانی ریمانڈ سمیت دیگرملزمان کے مقدمات بھی ملتوی کردیئے گئے۔

    امریکا:ائیر پورٹ پر دو طیارے حادثے سے بال بال بچ گئے

  • سویلینز کا ملٹری ٹرائل: ملزمان کی حوالگی کا حکم عدالت دے سکتی ہے ایڈمنسٹریٹو جج نہیں، وکیل

    سویلینز کا ملٹری ٹرائل: ملزمان کی حوالگی کا حکم عدالت دے سکتی ہے ایڈمنسٹریٹو جج نہیں، وکیل

    اسلام آباد: سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے فیصلے کے خلاف انٹراکورٹ اپیلوں پر سماعت کے دوران جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیئے کہ راولپنڈی اور لاہور کی عدالتوں کے حکم ناموں کے الفاظ بالکل ایک جیسے ہیں، لگتا ہے انسداد دہشت گردی عدالتوں کے ججز کی انگریزی کے کافی مسائل ہیں-

    باغی ٹی وی : جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا 7 رکنی آئینی بینچ فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف انٹرا کورٹ اپیلوں کی سماعت کر رہا ہے سول سوسائٹی کے وکیل فیصل صدیقی نے گزشتہ سماعت سے جڑے اپنے دلائل جاری ر کھتے ہوئے بتایا کہ کمانڈنگ افسرز نے ملزمان کی حوالگی کے لیے درخواستیں دیں-

    فیصل صدیقی نے کہا کہ درخواستوں کا آغازہی ان الفاظ سے ہوا کہ ابتدائی تفتیش میں آفیشل سیکریٹ ایکٹ کا جرم بنتا ہے، درخواست کے یہ الفاظ اعتراف ہیں کہ تفتیش مکمل نہیں ہوئی تھی انسداد دہشت گردی عدالت نے ملزمان کی حوالگی کے لیے جو وجوہات دیں وہ مضحکہ خیز ہیں، انسداد دہشت گردی عدالت کے ایڈمنسٹریٹو جج نے ملزمان کی حوالگی کے احکامات دیئے، انسداد دہشت گردی عدا لت نے ملزمان کو تفتیش مکمل ہونے سے پہلے ہی قصوروار لکھ دیا۔

    لڑکی کی قبر کھودنے والا کالے جادو کا ماہرشخص گرفتار

    جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیئے کہ راولپنڈی اور لاہور کی عدالتوں کے حکم ناموں کے الفاظ بالکل ایک جیسے ہیں، لگتا ہے انسداد دہشت گردی عدالتوں کے ججز کی انگریزی کے کافی مسائل ہیں، فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزمان کی حوالگی کا حکم عدالت دے سکتی ہے ایڈمنسٹریٹو جج نہیں، جس پر جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ملزمان کی حوالگی کا قانونی اختیار صرف عدالت کو ہی ہے۔

    وکیل سول سوسائٹی نے کہا کہ آرمی ایکٹ سیکشن 59(1) کے تحت فوجی افسران کی قتل و دیگر جرائم میں سول عدالت سے کسٹڈی لی جا سکتی ہے، جس پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ 59 (4) کا اطلاق بھی ان پرہی ہوتا ہے جو آرمی ایکٹ کے تابع ہوں۔

    امریکا:ائیر پورٹ پر دو طیارے حادثے سے بال بال بچ گئے

    جسٹس جمال مندو خیل کے مطابق آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت حوالگی تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی ممکن ہوگی، جس پر فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ جن مقدمات میں حوالگی کی درخواستیں دی گئیں ان میں آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی دفعات عائد نہیں کی گئی تھیں۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے یاد دلایا کہ ایک ایف آئی آر میں آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی دفعات بھی عائد تھیں، جس پر فیصل صدیقی کا کہنا تھا کہ ایسی کوئی ایف آئی آر انہیں ریکارڈ پر نظر نہیں آئی، جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ ایف آئی آر پڑھیں، اس میں الزام فوجی تنصیب کے باہر توڑپھوڑ کا ہے، بعدازاں عدالت نے کیس کی سماعت میں مختصر وقفہ کر دیا۔

    غیر ملکی مہمانوں کی آمد،سخت سیکیورٹی انتظامات

  • اسلام آباد ہائیکورٹ بار کی  5 ججز کی سپریم کورٹ میں دائرپٹیشن کی حمایت

    اسلام آباد ہائیکورٹ بار کی 5 ججز کی سپریم کورٹ میں دائرپٹیشن کی حمایت

    اسلام آباد ہائیکورٹ بار نے 3 ٹرانسفر ججز کے خلاف 5 ججز کی سپریم کورٹ میں دائرپٹیشن کی حمایت کردی۔

    باغی ٹی وی:اسلام آباد ہائیکورٹ بار کی جانب سے پراسیس اور نئے حلف کے بغیر ججز ٹرانسفر سمیت ایگزیکٹو کی جانب سے عدالتی معا ملات میں مداخلت کی مذمت کی گئی ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ بار نے سپریم کورٹ کو پٹیشن سن کر ٹرانسفر ججز کو واپس بھیجنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    بار کے صدر نعیم گجر اور سیکرٹری بار کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ میں دائر 184/3 کی پٹیشن ججز کی غیر آئینی ٹرانسفر سے متعلق ہے، پٹیشن میں پہلے سے موجود ججز کی سینیارٹی میں ردوبدل کی نشاندہی کی گئی ہے، عدلیہ کی آزادی، اختیارا ت کی تقسیم اور آئینی بالادستی کو تھریٹس کابھی بتایا گیا ہے۔

    رمضان المبارک اور عید الفطر کی تاریخوں کی پیشگوئی

    ایلون مسک کی مسلم فلاحی تنظمیوں پر تنقید

    اداکاروں کا کام کھلاڑیوں سے کروانا ہے تو اداکاروں کو ٹیم میں لے لیں،رابعہ کلثوم

  • قائمقام چیف جسٹس تعیناتی اور ججز سنیارٹی کیس،دوبارہ درخواستیں دائر

    قائمقام چیف جسٹس تعیناتی اور ججز سنیارٹی کیس،دوبارہ درخواستیں دائر

    لاہور: قائمقام چیف جسٹس تعیناتی اور ججز سنیارٹی سےمتعلق دوبارہ درخواستیں دائرکردی گئیں-

    باغی ٹی وی : درخواست مفتی نورالبصر ایڈووکیٹ نے ملک سلمان ایڈووکیٹ کی وساطت سے دائر کی ہے، درخواست میں صدر پاکستان، وزیراعظم، چیف جسٹس، جوڈیشل کمیشن، قائمقام چیف جسٹس، پارلیمانی کمیٹی، وفاقی وزارت قانون، صوبائی حکومت کو فریق بنایا گیا ہے۔

    درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ فریقین نے ہائیکورٹ کے سنیئر پیونی ججز کو نظر انداز کرکے جونیئر جج کو قائمقام چیف جسٹس تعینات کیا، جونیئر جج کی بطور قائمقام چیف جسٹس کی تعیناتی آرٹیکل 2اے، 3,4,5,8،8,9,10A کی خلاف ہیں، قائمقام چیف جسٹس کی تعیناتی آرٹیکل 11,14,24,25,27 ,35 ,37 ,227 کی بھی خلاف ورزی ہے۔

    چیمپئنز ٹرافی:قذافی اسٹیڈیم آنے والے شائقین کیلئے پلان جاری

    درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ وفاقی حکومت اور دیگر فریقین کا اقدام آزاد عدلیہ کی ساکھ پر حملہ ہے، سنیئر ججز کی بجائے جونیئر جج کی قائمقام چیف جسٹس تعیناتی پی ایل ڈی 1996 سپیکر کورٹ 324 اور ایس سی ایم آر 1996 سپریم کورٹ 1185 کے خلاف ہے۔

    درخواست کے مطابق پشاور۔ سنیئر ججز کو چھوڑ کر جونیئر جج کو سپریم کورٹ میں تعینات کرنا سپریم کورٹ فیصلوں کے خلاف ہے، سپریم کورٹ فیصلوں میں قرار دےچکی ہےکہ جونئیر جج کو سینئر ججز کا boss نہیں بنایا جاسکتادرخواست میں استدعا کی گئی کہ قائمقام چیف جسٹس کی تعیناتی کا 12 فروری کا نوٹیفکیشن معطل کیا جائے، 12 فروری 2025 کا نوٹیفکیشن آرٹیکل 8 کی خلاف ورزی ہے۔

    چمگادڑوں میں ایک نیا کورونا وائرس دریافت

    واضح رہے کہ پشاور ہائیکورٹ رجسٹرار آفس نے درخواستوں پر اعتراض لگا کر واپس کیا تھا، درخواست گزار نے رجسٹرار آفس کے اعتراضات دور کرکے درخواستیں دوبارہ دائر کردی ہے۔

  • چیف جسٹس سے سپریم کورٹ بار کے وفد کی ملاقات

    چیف جسٹس سے سپریم کورٹ بار کے وفد کی ملاقات

    اسلام آباد: چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سے سپریم کورٹ بار کے وفد کی ملاقات ہوئی ہے، ملاقات کا اعلامیہ جاری کردیا گیا۔

    باغی ٹی وی : سپریم کورٹ کے اعلامیے کے مطابق چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سے سپریم کورٹ بار کے صدر میاں رؤف عطا کی سربراہی میں وفد نے ملاقات کی، جس میں عدالتی اصلاحات سمیت دیگر امور پر بات چیت کی گئی۔

    اعلامیے میں کہا گیا کہ صدرسیریم کورٹ بار نے کہا کہ چیف جسٹس سے ملاقات ان کی وزیراعظم سے ملاقات کے تناظر میں کی گئی، چیف جسٹس انصاف فراہمی کو بہتر بنانے کے لیے قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کے حوالے سے تمام اسٹیک ہولڈرز سے ملاقات کر رہے ہیں،سپریم کورٹ بار نے اصلاحات کے عمل میں چیف جسٹس کو مکمل حمایت کا یقین دلایا ہے-

    میو ہسپتال کے آرتھوپیڈک وارڈ سے منسلک لفٹ گر گئی،11 افراد زخمی

    اعلامیے کے مطابق رؤف عطا نے کہا کہ چیف جسٹس نے وزیراعظم کی طرح اپوزیشن سے فراہمی انصاف کے حوالے سے تجاویز طلب کی ہیں، انصاف کی فراہمی میں تعاون کے لیے وزیراعظم اور اپوزیشن رہنماؤں سے چیف جسٹس کی کاوشوں کو سراہتے ہیں۔

    اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ چیف جسٹس پاکستان کل اپوزیشن کے وفد سے بھی ملاقات کریں گے، عدالتوں میں اصلاحات وقت کا تقاضا ہے، ملاقاتوں سے سیاسی استحکام اورعدلیہ پرعوامی اعتماد کی بحالی میں مدد ملے گی-

    نیب اور نجی اداروں کے درمیان مفاہمت کے 6 سمجھوتوں پر دستخط

  • سویلینز کے بنیادی حقوق ختم کرکے کورٹ مارشل نہیں کیا جا سکتا،وکیل سلمان اکرم راجہ

    سویلینز کے بنیادی حقوق ختم کرکے کورٹ مارشل نہیں کیا جا سکتا،وکیل سلمان اکرم راجہ

    اسلام آباد:سپریم کورٹ آئینی بنچ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کیخلاف اپیلوں پر سماعت کے دوران سزایافتہ مجرم ارزم جنید کے وکیل سلمان اکرم راجہ کے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ سویلینز کے بنیادی حقوق ختم کرکے کورٹ مارشل نہیں کیا جا سکتا۔

    باغی ٹی وی : فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل سے متعلق فیصلے کے خلاف انٹراکورٹ اپیلوں پر سماعت آج بھی کی گئی۔منگل کو جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا 7 رکنی آئینی بینچ نے سماعت کی اس دوران فوجی عدالت سے سزا یافتہ مجرم ارزم جنید کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیئے-

    وکیل سلمان اکرم راجہ نے موقف اختیار کیا کہ سادہ لفظوں میں بات کی جائے تو سویلنز کے بنیادی حقوق ختم کرکے کورٹ مارشل نہیں کیا جاسکتا، سویلنز کا کورٹ مارشل شفاف ٹرائل کے بین الاقوامی تقاضوں کے بھی خلاف ہے۔

    جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیئے کہ بین الاقوامی اصولوں میں کہیں نہیں لکھا کہ سویلنز کا کورٹ مارشل نہیں ہو سکتا، جس پر سلمان اکرم راجہ کا موقف تھا کہ انگلینڈ میں کورٹ مارشل فوجی نہیں بلکہ آزاد ججز کرتے ہیں، بین الاقوامی تقاضوں کے تحت ٹرائل کھلی عدالت میں، آزادانہ اور شفاف ہونا چاہیے، بین الاقوامی قوانین کے مطابق ٹرائل کے فیصلے پبلک ہونے چاہئیں، دنیا بھر کے ملٹری ٹریبونلز کے فیصلوں کے خلاف اپیلیں عدالتوں میں جاتی ہیں یورپی عدالت کے فیصلے نے کئی ممالک کو کورٹ مارشل کا طریقہ کار بھی تبدیل کرنے مجبور کیا۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ اگر بین الاقوامی اصولوں پر عمل نہ کیا جائے تو نتیجہ کیا ہوگا ؟جس پر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ بین الاقوامی اصولوں پر عمل نہ کرنے کا مطلب ہے کہ ٹرائل شفاف نہیں ہوا،جسٹس جمال مندوخیل نے پھر استفسار کیا کہ کوئی ملک اگر بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی کا مرتکب ہو تو کیا ہوگا؟

    جس پر سلمان اکرم راجہ کا مؤقف تھا کہ کچھ بین الاقوامی اصولوں کو ماننے کی پابندی ہوتی ہے اور کچھ کی نہیں، شفاف ٹرائل کا آرٹیکل 10 اے بین الاقوامی اصولوں کی روشنی میں ہی آئین کا حصہ بنایا گیاایف بی علی کیس کے وقت آئین میں اختیارات کی تقسیم کا اصول نہیں تھا، پہلے تو ڈپٹی کمشنر اور تحصیلدار فوجداری ٹرائلز کرتے تھے، کہا گیا اگر ڈی سی فوجداری ٹرائل کر سکتا ہے تو کرنل صاحب بھی کر سکتے تمام ممالک بین الاقوامی اصولوں پر عملدرآمد کی رپورٹ اقوام متحدہ کو پیش کرتے ہیں، جس پر یو این کی انسانی حقوق کمیٹی رپورٹس کا جائزہ لے کر اپنی رائے دیتی ہے۔

    سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ گزشتہ سال اکتوبر اور نومبر کے اجلاسوں میں پاکستان کے فوجی نظام انصاف کا جائزہ لینے کے بعد یو این کی انسانی حقوق کمیٹی نے پاکستان میں سویلنز کے کورٹ مارشل پر تشویش ظاہر کی تھی اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمیٹی کے مطابق پاکستان میں فوجی عدالتیں آزاد نہیں، رپورٹ میں حکومت کو فوجی تحویل میں موجود افراد کو ضمانت دینے کا کہا گیا، اسی طرح یورپی کمیشن کے مطابق 9 مئی کو احتجاج والوں کا کورٹ مارشل کرنا درست نہیں یورپی یونین نے ہی پاکستان کو جی ایس پی پلیس سٹیٹس دے رکھا ہے، جسٹس یحییٰ آفریدی نے اختلافی نوٹ میں یہی نکات اٹھائے ہیں، ہزاروں افراد کا ٹرائل اے ٹی سی میں ہو سکتا تو ان 105 ملزموں کا کیوں نہیں۔

    سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ یو کے میں ایک فیڈلی نامی فوجی کا کورٹ مارشل ہوا، یورپین کورٹ آف ہیومن رائٹس نے اس کا خصوصی ٹرائل کالعدم قرار دے دیا تھا، فیڈلی ذہنی تناؤ کا شکار تھا، اس نے فائرنگ کی، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ فیڈلی کی فائرنگ سے بھی ایک ٹی وی ٹوٹ گیا تھا، نومئی واقعات میں بھی ایک ٹی وی توڑا گیا۔

    سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ نو مئی واقعات میں ٹی وی توڑنے والے سے میری ملاقات ہوئی، وہ بیچارہ شرم سے ڈوبا ہوا تھا، ٹی وی توڑنے والا بیچارہ چار جماعتیں پاس بے روزگارتھا، ہمارے معاشرے نے ایسے لوگوں کو کیا دیا، جس پر جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ انفرادی باتیں نہ کریں۔

    جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ کیا آپ نے فیڈلی سے ملاقات بھی کی؟جس پر جسٹس نعیم اختر افغان بولے کہ نہیں سلمان راجہ نے پاکستانی فیڈلی سے ملاقات کی ہے،جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ آپ نے کہا میرا موکل فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلتا تھا، نو مئی والے دن وہ کرکٹ کھیلنے تو نہیں گیا تھا ناں۔

  • سپریم کورٹ میں 7 نئے ججز کی تعیناتیاں، متعدد انتظامی کمیٹیوں کی تشکیل نو کر دی گئی

    سپریم کورٹ میں 7 نئے ججز کی تعیناتیاں، متعدد انتظامی کمیٹیوں کی تشکیل نو کر دی گئی

    اسلام آباد: سپریم کورٹ میں 7 نئے ججز کی تعیناتیوں کے بعد چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے متعدد انتظامی کمیٹیوں کی تشکیل نو کر دی، جبکہ رجسٹرار سپریم کورٹ نے تمام کمیٹیوں اور تقرریوں کے الگ الگ نوٹیفیکیشن بھی جاری کر دیئے-

    باغی ٹی وی: واضح رہے کہ 14 فروری جمعہ کو سپریم کورٹ کے 7 نئے ججز نے اپنے عہدوں کا حلف اٹھا یا تھا،چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے نئے ججز سے حلف لیا تھا، سپریم کورٹ کے 6 مستقل اور ایک عارضی جج نے حلف اٹھایا تھا، جن ججز نے حلف لیا ان میں جسٹس ہاشم خان کاکڑ، جسٹس شفیع صدیقی، جسٹس صلاح الدین پنہور، جسٹس شکیل احمد، جسٹس عامر فاروق اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل ہیں، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کا قائم مقام جج سپریم کورٹ کا نوٹی فکیشن جاری کیا گیا –

    دوسری جانب سپریم کورٹ میں 7 نئے ججز کی تعیناتیوں کے بعد چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے متعدد انتظامی کمیٹیوں کی تشکیل نو کر دی، رپورٹ کے مطابق تشکیل نو سپریم کورٹ میں نئے ججز کی تعیناتی کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئی جس کے مطابق جسٹس مسرت ہلالی خیبر پختونخوا کی انسداد دہشتگردی عدالتوں کی نگران جج مقرر کردی گئیں، جسٹس ملک شہزاد پنجاب، جسٹس ہاشم کاکڑ بلوچستان کی انسداد دہشتگردی عدالتوں کے نگران مقرر کیے گئے۔

    لنڈی کوتل: پاک افغان شاہراہ پر ٹریفک بحال، غیر قانونی لین دین ختم،پریس کانفرنس

    جبکہ جسٹس صلاح الدین پنور سندھ اور جسٹس عامر فاروق اسلام آباد کی اے ٹی سی عدالتوں کے نگران مقرر ہوئے اور سپریم کورٹ کی بلڈنگ کمیٹی کی سربراہی جسٹس جمال مندوخیل کو دی گئی، جبکہ جسٹس شفیع صدیقی اور جسٹس عامر فاروق بلڈنگ کمیٹی کے ممبران ہوں گے، چیف جسٹس یحیحی آفریدی آئی ٹی کمیٹی کی سربراہی خود کریں گے، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس میاں گل حسن آئی ٹی کمیٹی کے ممبران ہوں گے۔

    ملکی معیشت کو ٹھیک کرنے کیلئے دن رات محنت کی ہے،وزیر اعظم

    اس طرح ریسرچ سینٹر کمیٹی کی سربراہ جسٹس شاہد بلال حسن، جبکہ جسٹس شفیع صدیقی اور جسٹس عامر فاروق ریسرچ سینٹر کمیٹی کے ممبرا ن ہوں گے، جسٹس محمد علی مظہر لاء کلرک پروگرام کمیٹی کے سربراہ جبکہ جسٹس میاں گل حسن ممبر ہوں گے۔

    علاوہ ازیں مختلف نوعیت کی چیمبر اپیلز سننے کیلئے پانچ ججز کو نامزد کر دیا گیا، چیف جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس ہاشم کاکڑ جسٹس صلاح الدین پنور اور جسٹس شکیل احمد مختلف نوعیت کی چیمبر اپیلز سنیں گے، جبکہ سپریم کورٹ آرکائیو اینڈ میوزیم کمیٹی کی سربراہی جسٹس حسن اظہر رضوی کو دی گئی، جسٹس صلاح الدین پنور، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب آرکائیو کمیٹی کے ممبران ہوں گے۔

    ملکی معیشت کو ٹھیک کرنے کیلئے دن رات محنت کی ہے،وزیر اعظم

    فوری انصاف اور ماڈل کورٹس سے متعلق کمیٹی کے سربراہ جسٹس ملک شہزاد جبکہ جسٹس ہاشم کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پنور، جسٹس اشتیاق ابراہیم ماڈل کورٹس کمیٹی کے رکن ہوں گے جبکہ جسٹس اشتیاق ابراہیم کو سکیورٹی جج تعینات کیا گیا، سکیورٹی جج سپریم کورٹ بلڈنگ، برانچ رجسٹر یا اور ججز کالونی کے سکیورٹی امور دیکھیں گے جسٹس میاں گل حسن فیملی اور بچوں کی حوالگی کیسز میں پاک برطانیہ پروٹوکول کے رابطہ کار جج تعینات کیے گئے، سپریم کورٹ عملے کے یونیافارم کی کوالٹی چیک کرنے کیلئے قائم کمیٹی تحلیل کر دی گئی۔

    میجر جنرل ایال ضمیر اسرائیلی فوج کانیا سربراہ مقرر

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کیس مینجمنٹ کمیٹی کی نئی تشکیل کردی، چیف جسٹس یحیی خان آفریدی 6 رکنی کمیٹی کے سربراہ ہوں گے،کمیٹی میں جسٹس نعیم افغان جسٹس شاہد بلال حسن،شفیع صدیقی شامل ہیں، کیس مینجمنٹ کمیٹی میں ایڈیشنل رجسٹرار اور ڈائریکٹر آئی ٹی شامل ہیں۔

  • سپریم کورٹ میں آئندہ ہفتے کا ججز روسٹر اور کاز لسٹ جاری

    سپریم کورٹ میں آئندہ ہفتے کا ججز روسٹر اور کاز لسٹ جاری

    اسلام آباد: سپریم کورٹ میں نئے ججز کی تقرری کے بعد آئندہ ہفتے کا ججز روسٹر اور کاز لسٹ جاری کر دی،-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق عدالت عظمیٰ میں آئندہ ہفتے مقدمات کی سماعت کے لیے 9 بینچز تشکیل دیئے ہیں، بینچ نمبر 1 میں چیف جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس شفیع صدیقی اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب شامل ہیں، اسی طرح بینچ نمبر 2 سینئر پیونی جج جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس عقیل احمد عباسی پر مشتمل ہوگا۔

    مقدمات کی سماعت کے لیے تشکیل کردہ بینچ نمبر 3 میں جسٹس منیب اختر اور جسٹس عائشہ ملک شامل ہیں، اسی طرح بینچ نمبر 4 جسٹس جمال مندو خیل اور جسٹس عامر فاروق جبکہ بینچ نمبر 5 جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس عرفان سعادت اور جسٹس ملک شہزاد پر مشتمل ہوگا۔

    عرب ممالک میں پہلے روزے کی متوقع تاریخ کا اعلان

    بینچ نمبر 6 میں جسٹس شاہد وحید اور جسٹس شکیل احمد شامل ہوں گے جبکہ بینچ نمبر 7 جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل ہوگا،اسی طرح بینچ نمبر 8 جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل ہے جبکہ بینچ نمبر 9 میں جسٹس سردار طارق مسعود اور جسٹس مظہر عالم میاں خیل شامل ہوں گے۔

    جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا 7 رکنی آئینی بینچ 18 سے 20 فروری تک سماعت کرے گا۔

    یوکرین میں چرنوبل نیوکلیئر پلانٹ کی چھت پر ڈرون گر کر تباہ

  • لاہور ہائیکورٹ میں ججز کی تقرریوں کیلئے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس 28 فروری کو طلب

    لاہور ہائیکورٹ میں ججز کی تقرریوں کیلئے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس 28 فروری کو طلب

    لاہور: چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے لاہور ہائیکورٹ میں ججز کی تقرریوں کے لیے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس 28 فروری کو طلب کرلیا۔

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں ججز کی تقرریوں کے لیے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس طلب کرلیا گیا، اجلاس 28 فروری کو سپریم کورٹ میں ہوگا چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی جوڈیشل کمیشن اجلاس کی صدارت کریں گے-

    اجلاس میں پنجاب کے 8 ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کے ناموں پر غور کیا جائے گا،راجہ غضنفر علی خان، قیصر نذیر بٹ، اکمل خان کے نام زیرغور آئیں گے، اسی طرح جزیلہ اسلم، طارق محمود باجوہ، شاہدہ سعید، اکبر گل خان کے ناموں پر بھی غور ہوگا۔

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے امریکہ کی قائم مقام سفیر کی ملاقات

    حماس نے مزید 3 اسرائیلی یرغمالی رہا کر دیئے

    ایف بی آر کے اختیارات کم کرنا ملکی مفاد میں ہے، بزنس کمیونٹی