Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • نور مقدم قتل کیس:عدالت کا آج ہی فیصلہ سنانے کا عندیہ

    نور مقدم قتل کیس:عدالت کا آج ہی فیصلہ سنانے کا عندیہ

    سپریم کورٹ میں نور مقدم قتل کیس کی سماعت کے دوران جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ ججز کو تھوڑی بہت پین لینی چاہیے، ایسا نہیں ہو سکتا کہ اپیل منظور کریں اور پھر کیس نہ سنیں-

    سپریم کورٹ میں نور مقدم قتل کیس کی سماعت کے دوران ملزم ظاہر جعفر کے وکیل سلمان صفدر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کی 2013 سے لے کر آج تک کی مکمل میڈیکل ہسٹری عدالت میں پیش کی جا چکی ہے ٹرائل کورٹ نے قتل پر سزائے موت، ریپ پر عمر قید اور اغوا پر دس سال قید کی سزا سنائی تھی، تاہم اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریپ پر سزا کو بڑھا کر سزائے موت کر دیاابتدائی ایف آئی آر صرف قتل کے الزام پر درج ہوئی تھی، بعد ازاں واقعے کے 22 روز بعد ریپ اور اغواء کی دفعات شامل کی گئیں، وکیل کے مطابق جائے وقوعہ ملزم کا ذاتی گھر تھا لیکن اس حوالے سے شواہد پیش نہیں کیے گئے سلمان صفدر کا مؤقف تھا کہ واقعہ کا کوئی چشم دید گواہ موجود نہیں اور تمام شواہد واقعاتی نوعیت کے ہیں۔

    پاکستان کی حمایت پر بھارت کا ترکی و آذربائیجان سے تجارتی و تعلیمی بائیکاٹ

    سماعت کے دوران جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیئے کہ ججز کو تھوڑی بہت پین لینی چاہیے، ایسا نہیں ہو سکتا کہ اپیل منظور کریں اور پھر کیس نہ سنیں۔ انہوں نے کہا کہ دس دس سال تک لوگ ڈیتھ سیل میں رہتے ہیں اب ایسا نہیں ہوگا، اگر ساڑھے گیارہ بجے والا دوسرا بینچ نہ ٹوٹا تو ایک بجے نور مقدم کیس کی سماعت ہوگی، بصورت دیگر پہلے سماعت کی جائے گی۔

    جو بائیڈن میں پروسٹیٹ کینسر کی تشخیص

    سلمان صفدر نے جج ارشد ملک ویڈیو اسکینڈل کیس کا حوالہ بھی دیا، جس پر جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اب اگر پیرامیٹرز پر انحصار کریں تو خانہ کعبہ میں کھڑے ہوکر کچھ بات کریں، وہ بھی ثابت کرنا مشکل ہو جائے گا،عدالت نے دوران سماعت وقفہ کیا اور عندیہ دیا کہ فریقین کو سن کر آج ہی فیصلہ سنایا جائے گا جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا اگر ریلیف بنتا ہوا دکھائی دیا تو دے دیں گے ورنہ شہید کر دیں گے۔

    ایئر چیف مارشل کی اسکواڈرن لیڈر عثمان یوسف شہید کے گھر آمد، اہلخانہ سے اظہار تعزیت

    نور مقدم قتل کیس کی سماعت وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہوئی تو ملزم ظاہر جعفر کے وکیل سلمان صفدر نے عدالت کے سامنے مؤقف اختیار کیا کہ جب واقعہ پیش آیا اُس وقت ان کے موکل کی ذہنی حالت درست نہیں تھی، ٹرائل کورٹ نے ظاہرجعفر کی ذہنی حالت کا معائنہ مناسب طریقے سے نہیں کروایا۔

    جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیئے کہ آپ کو جو بھی اعتراضات تھے، وہ اُس وقت درخواست دائر کر کے عدالت کے علم میں لانے چاہیے تھے،وکیل سلمان صفدر نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کا نکتہ یہ ہے کہ ملزم ظاہرجعفر ٹرائل کی کسی بھی اسٹیج پر میڈیکلی فٹ نہیں تھا۔

    عدالت نے استفسار کیا کہ کیا ظاہرجعفر کی ذہنی حالت جانچنے کے لیے کسی بورڈ کا قیام عمل میں لایا گیا تھا؟‘ اس پر وکیل صفدر نے جواب دیا کہ یہی تو افسوس ناک امر ہے، کسی بھی اسٹیج پر کوئی میڈیکل بورڈ تشکیل نہیں دیا گیا،شواہد میں سی سی ٹی وی اور ڈی وی آر کا ذکر کیا گیا ہے جبکہ ملزم ظاہرجعفر نے فریم آف چارج کے وقت اغوا، ریپ اور قتل، تینوں الزامات سے انکار کیا تھا۔

  • سپریم کورٹ  میں آئندہ ہفتے کے لیے ججز کا روسٹر جاری کر دیا گیا

    سپریم کورٹ میں آئندہ ہفتے کے لیے ججز کا روسٹر جاری کر دیا گیا

    سپریم کورٹ میں آئندہ ہفتے کا ججز روسٹر جاری کر دیا گیا، مختلف بینچز میں متعین ججز مختلف نوعیت کے مقدمات کی سماعت کریں گے۔

    پہلے بینچ کی سربراہی چیف جسٹس یحٰی آفریدی کریں گے، جبکہ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب بھی اس بینچ کا حصہ ہوں گے، دوسرا بینچ جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس عقیل عباسی پر مشتمل ہوگا، جبکہ جسٹس منیب اختر اور جسٹس شکیل احمد تیسرے بینچ میں کیسز کی سماعت کریں گے۔

    پانچویں بینچ میں جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس عرفان سعید اور جسٹس شہزاد احمد شامل ہوں گے، جبکہ چھٹے بینچ میں جسٹس شاہد وحید اور جسٹس مسرت ہلالی فرائض انجام دیں گے،جسٹس نعیم اختر افغان، جسٹس صلاح الدین پنوار اور جسٹس عامر فاروق ساتویں بینچ میں شامل ہوں گے۔

    وزیراعظم کا نیا پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی ختم کرنے کا فیصلہ

    سروسز میٹرز کے مقدمات کی سماعت کے لیے جسٹس نعیم اختر افغان کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ بھی تشکیل دیا گیا ہے، جس میں جسٹس محمد شفیع صدیقی، جسٹس صلاح الدین پنوار، جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب شامل ہوں گے۔

    جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی آٹھوا ریگولر بیچ کیسز سنے گا، جسٹس اشتیاق ابراہیم اور جسٹس علی باقر نجفی بینچ کا حصہ ہیں جسٹس سردار طارق مسعود اور جسٹس مظہر عالم میاں خیل نوویں بینچ کا حصہ ہیں۔

    10 ارب ہرجانہ کیس: عمران خان کے وکیل کی وزیراعظم سے ویڈیو لنک پر جرح

  • سابقہ فاٹا اور پاٹا میں سیلز ٹیکس ترمیمی ایکٹ بحال

    سابقہ فاٹا اور پاٹا میں سیلز ٹیکس ترمیمی ایکٹ بحال

    اسلام آباد: سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے سابقہ فاٹا اور پاٹا میں سیلز ٹیکس ترمیمی ایکٹ بحال کر دیا۔

    جسٹس امین الدین کی سربراہی میں 5 رکنی آئینی بینچ نے گھی اور اسٹیل ملز ایسوسی ایشن کی اپیلوں پر حکم امتناع جاری کرتے ہوئے سابقہ فاٹا اور پاٹا میں سیلز ٹیکس ترمیمی ایکٹ بحال کر دیا ،گھی واسٹیل ملز ایسوسی ایشن کے وکیل حافظ احسان کا کہنا تھا ہائیکورٹ پارلیمان کے متبادل قانون سازی نہیں کر سکتی، ہائیکورٹ درخواست میں کی گئی استدعا سے بڑھ کر ریلیف نہیں دے سکتی۔

    وکیل درخواست گزار کا کہنا تھا پشاور ہائیکورٹ نے اختیارات سے تجاوز کیا، یہ اربوں روپے کے ٹیکس کا معاملہ ہے، فاٹا اور پاٹا کیلئے کسٹم کلیئرنس کراتے وقت آرڈر دینا ہوتا تھاعدالت نے قانون سے ہٹ کر چیک دینے کا حکم دے دیا۔

    سچ بولنے کا جرم،بھارت میں بین الاقوامی میڈیا پر بھی پابندیاں

    سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کر دیئے اور اپیلوں پر مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔

    واضح رہے کہ پشاور ہائیکورٹ نے سابقہ فاٹا اور پاٹا میں سیلز ترمیمی ایکٹ کالعدم قرار دیا تھا۔

    سندھ طاس معاہدے کی معطلی:صدر عالمی بینک بھی بول پڑے

  • فوجی عدالتوں میں سویلینز ٹرائل کو غیر آئینی قرار دینے کا فیصلہ کالعدم قرار

    فوجی عدالتوں میں سویلینز ٹرائل کو غیر آئینی قرار دینے کا فیصلہ کالعدم قرار

    سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں میں سویلینز ٹرائل کو غیر آئینی قرار دینے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

    جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 7 رکنی بینچ نے فیصلہ سنایا ، سپریم کورٹ نے وزارت دفاع سمیت دیگر اپیلوں کو منظور کرلیا، اپیلیں منظور کرنے والے ججز میں جسٹس امین الدین خان، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس شاہد بلال جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس حسن رضوی بھی اکثریتی فیصلے میں شامل ہیں، جسٹس جمال مندو خیل اور نعیم افغان نے اختلاف کیا۔

    سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں میں سویلینز ٹرائل کو غیر آئینی قرار دینے کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے آرمی ایکٹ کی 2 ڈی ون اور ٹو کو بحال کردیا، سپریم کورٹ نے آرمی ایکٹ کی شق 59(4) کو بھی بحال کردیا۔

    عظمیٰ بخاری کا سرگودھا میں صحافی کالونی کے قیام اور گرانٹ جاری کرنے کا اعلان

    فوجی عدالتوں کے فیصلے کےخلاف اپیل کا حق دینے کیلئے معاملہ حکومت کو بھجوا دیا گیا، فیصلے میں کہا گیاکہ حکومت 45 دن میں اپیل کا حق دینے کے حوالے سے قانون سازی کرے، ہائی کورٹ میں اپیل کا حق دینے کیلئے آرمی ایکٹ میں ترامیم کی جائیں، اٹارنی جنرل کے مطابق 39 فوجی تنصیبات پر 9مئی کو حملے ہوئے۔

    سپریم کورٹ نے آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی کالعدم دفعات بحال کر دیں، فیصلے میں کہا گیا کہ حکومت اپیل کا حق دینے کے حوالے سے قانون سازی کرے، حکومت چاہے تو فوجی عدالتوں کی سزا کے خلاف ہائیکورٹ میں آزادانہ اپیل کا حق دے سکتی ہے۔

    <a href="https://login.baaghitv.com/the-vermilion-has-become-the-tandoor/" title="”سندور بن گیا تندور“بھارتیپنجاب اور سندھ اسمبلیوں میں بھارتی جارحیت کیخلاف قراردادیں تباہی پر پاکستانیوں کی دلچسپ میمز”>”سندور بن گیا تندور“بھارتی تباہی پر پاکستانیوں کی دلچسپ میمز

    جسٹس نعیم اختر افغان نے اختلافی نوٹ میں کہا کہ آرمی ایکٹ آرمڈ فورسز کے لیے ہے،آرٹیکل 175 کے تحت عدالتوں کے قیام اور اختیارات واضح ہیں، آرٹیکل 175 کے تحت عدالتی نظام ایگزیکٹو سے مکمل الگ ہے آئین اور اسلام میں شفاف ٹرائل اور معلومات تک رسائی کا حق دے رکھا ہےآئین کا آرٹیکل 10 اے اور آرٹیکل 25 بالکل واضح ہے9 مئی کے ملزمان کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل کالعدم قرار دیا جاتا ہے، نو مئی کے تمام کیسز عام عدالتوں میں چلائے جائیں، گرفتار ملزمان کا درجہ انڈر ٹرائل قیدی کا ہو گا۔

  • سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں کے کیس کی سماعت کیلئے نیا بینچ تشکیل

    سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں کے کیس کی سماعت کیلئے نیا بینچ تشکیل

    سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں کے کیس کی سماعت کے لیے نیا 11 رکنی بینچ تشکیل دے دیا گیا۔

    سپریم کورٹ کے جاری شیڈول کے مطابق جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس عقیل عباسی کو بینچ میں شامل نہیں کیا گیا، جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس عقیل عباسی نے نظر ثانی درخواستوں کو مسترد کردیا تھا۔

    جسٹس امین الدین 11 رکنی بینچ کے سربراہ ہوں گے جبکہ بینچ میں شامل دیگر ججز میں جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس سید حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس نعیم اختر افان، جسٹس شاہد بلال حسن، جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پنہور، جسٹس عامر فاروق اور جسٹس علی باقر نجفی شامل ہیں۔

    واضح رہے کہ مخصوص نشستوں پر نظرثانی کیس کی سماعت سے قبل جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے اہم فیصلہ جاری کیا ہے، جس کے مطابق محض ایک فریق کا عدم اطمینان نظرثانی کی بنیاد نہیں ہوسکتا،جسٹس منصور علی شاہ نے نظرثانی کے اسکوپ پر فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ نظرثانی آرٹیکل 188 اور رولز کے تحت ہی ہو سکتی ہے، نظرثانی کے لیے فیصلے میں کسی واضح غلطی کی نشاندہی لازم ہے۔

  • جسٹس منصور علی شاہ قائم مقام چیف جسٹس کا حلف اٹھائیں گے

    جسٹس منصور علی شاہ قائم مقام چیف جسٹس کا حلف اٹھائیں گے

    سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس منصور علی شاہ 21 اپریل کو بطور قائم مقام چیف جسٹس آف پاکستان اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔

    باغی ٹی وی : حلف برداری کی یہ تقریب سپریم کورٹ میں منعقد ہوگی، جہاں جسٹس منیب اختر اُن سے حلف لیں گے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی پانچ روزہ غیر ملکی دورے پر روانہ ہوں گے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی 20 اپریل کو چین روانہ ہوں گے، جہاں وہ 22 سے 26 اپریل تک چین کے شہر ہانگژو میں ہونے والی ایس سی او عدالتی کانفرنس میں شرکت کریں گے۔

    ذرائع کے مطابق، چیف جسٹس کے ہمراہ جسٹس امین الدین خان، جسٹس شاہد وحید، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج گوادر ظفر جان اور سینئر سول جج ضلع لکی مروت نادیہ گل وزیر بھی وفد کا حصہ ہوں گے اس دوران، چیف جسٹس پاکستان چین کے ساتھ تاریخی مفاہمتی یادداشت پر دستخط بھی کریں گے۔

    ماضی میں میری زندگی میں ایک بہت پیارا شخص آ چکا ہے،نعیمہ بٹ

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی ایران اور ترکی کے اعلیٰ عدالتی حکام سے دو طرفہ ملاقاتیں بھی شیڈول ہیں وہ ترکی کی آئینی عدالت کی 63 ویں سالگرہ کی خصوصی تقریبات میں بھی شرکت کریں گے۔

    چیف جسٹس اور ان کا وفد 27 اپریل کو وطن واپس پہنچے گا، اس دوران جسٹس منصور علی شاہ قائم مقام چیف جسٹس کے فرائض انجام دیں گے۔

    ماضی میں میری زندگی میں ایک بہت پیارا شخص آ چکا ہے،نعیمہ بٹ

  • جسٹس علی باقر نجفی کی سپریم کورٹ میں تقرری کا نوٹیفکیشن جاری

    جسٹس علی باقر نجفی کی سپریم کورٹ میں تقرری کا نوٹیفکیشن جاری

    اسلام آباد: وزارت قانون نے جسٹس علی باقر نجفی کی سپریم کورٹ میں تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔

    باغی ٹی وی : وزارت قانون کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق جسٹس علی باقر نجفی کو لاہور ہائیکورٹ سے سپریم کورٹ تعینات کیا گیاصدر مملکت کی منظوری کے بعد وزارت قانون کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری کیا گیا،جوڈیشل کمیشن نے جسٹس علی باقر نجفی کی بطور سپریم کورٹ جج تعیناتی کی کثرت رائے سے منظوری دی تھی-

    واضح رہے کہ جوڈیشل کمیشن نے 11اپریل کوجسٹس علی باقرنجفی کی سپریم کورٹ تقرری کی منظوری دی تھی۔

    بھارتی پولیس کا کارنامہ: چور کی جگہ جج کے خلاف وارنٹ جاری کرادیئے

    خیبرپختونخوا حکومت نے مجوزہ مائنز اینڈ منرلز ترمیمی بل 2025 کا وائٹ پیپر جاری کردیا

    امریکی ارکان کانگریس نے عمران خان کا ذکر نہیں کیا، ایاز صادق

  • سویلینز کا ملٹری ٹرائل کیس: کیا وفاق اور صوبوں کو اپنے ادارے پر اعتماد نہیں ہے،جسٹس جمال خان مندوخیل

    سویلینز کا ملٹری ٹرائل کیس: کیا وفاق اور صوبوں کو اپنے ادارے پر اعتماد نہیں ہے،جسٹس جمال خان مندوخیل

    اسلام آباد: سپریم کورٹ ملٹری کورٹس کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی-

    باغی ٹی وی : جسٹس امین الدین کی سربراہی میں 7 رکنی آئینی بینچ نے سماعت کی، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس محمد علی مظہر بینچ میں شامل ہیں، اس کے علاوہ جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس شاہد بلال بھی بینچ کا حصہ ہیں،اٹارنی جزل منصور اعوان عدالت میں پیش ہوئے-

    اٹارنی جنرل منصور اعوان نے مؤقف اپنایا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے پتا چلا کہ عدالت نے مجھے طلب کیا تھا، جب کورٹ مارشل ٹرا ئل ہوتا ہے ہے تو اس کا پورا طریقہ کار ہے، ملٹری ٹرائل کیسے ہوتا ہے یہ پورا ریکارڈ عدالت کے پاس ہے، اگر کسی کو سزائے موت ہوتی ہے تب تک اس پر عمل نہیں ہوتا جب تک اپیل پر فیصلہ نہ ہو جائے۔

    جی ایچ کیو حملہ کیس، عمران خان سمیت 119 ملزمان کو پیش کرنے کا حکم
    جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ ہم اپیل کی بات اس لیے کر رہے ہیں کہ کیونکہ یہ بنیادی حق ہے، اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ خواجہ صاحب دلائل مکمل کریں تو میں مزید بات کروں گا، کلبھوشن کیس میں ایک مسئلہ اور تھا،سیکشن تھری میں فئیر ٹرائل اور وکیل کا حق ہے۔

    جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ آئین میں بنیادی حقوق دستیاب ہیں، ہمارے سامنے اس وقت وہ مسئلہ ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ جب فل کورٹ میں یہ معاملہ آیا تھا تو وہ بھی 18ویں ترمیم کے بعد آیا تھا، جب فل کورٹ میں یہ معاملہ تھا تو عدالت نے ہی تین آپشنز دئیے تھے۔

    اسرائیل صرف غزہ کو تباہ نہیں کررہا،ہماری انسانیت بھی چھین رہا ہے،سوارا بھاسکر

    جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ وہ تین آپشنز موجود ہیں اپیل کا حق ہے یا نہیں یہ بتائیں، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اس وقت ہمارا فوکس اپیل پر نہیں تھا، اگر کسی کو فئیر ٹرائل کا حق دیتے ہیں اس میں مسئلہ کیا ہےجسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ اگر کوئی جج چھٹی پر چلا جائے تو آسمان سر پر اٹھا لیا جاتا ہے کہ ٹرائل لیٹ ہو رہا ہے۔

    جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ ادارہ خود شکایت کنندہ ہے وہ کیسے کیس سن سکتا ہے، کیا وفاق اور صوبوں کو اپنے ادارے پر اعتماد نہیں ہے؟ اٹارنی جنرل نے مؤقف اپنایا کہ جوڈیشل سسٹم کا حصہ آپ بھی ہیں میں بھی ہوں، ہم نے مل کر اس سسٹم کو ٹھیک کرنا ہے، خواجہ صاحب دلائل مکمل کریں تو میں میں کوشش کروں گا جتنی جلدی مکمل کر لوں۔

    وزیراعظم شہباز شریف سے ایرک میئر کی قیادت میں امریکی وفد کی ملاقات

    جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ اگر خواجہ صاحب کے دلائل آج مکمل ہو گئے تو آپ کو کل سن لیں گے، جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ خواجہ صاحب تو کل کی بھی امید لگائے بیٹھے ہیں،اس کے ساتھ ہی سپریم کورٹ ملٹری کورٹس کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی۔

  • پراسیکیوٹر جنرل پنجاب کو کیا گیا 22 لاکھ روپے کا جرمانہ برقرار

    پراسیکیوٹر جنرل پنجاب کو کیا گیا 22 لاکھ روپے کا جرمانہ برقرار

    اسلام آباد: سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے پراسیکیوٹر جنرل پنجاب کو کیا گیا 22 لاکھ روپے کا جرمانہ برقرار رکھا ہے۔

    باغی ٹی وی : سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کی سربراہی میں بینچ نے لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے پراسیکیوٹر جنرل پنجاب کو جرمانے اور 9 مئی سے متعلق کیسز کی سماعت کی ،جس میں عدالت نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے پراسیکیوٹر جنرل پنجاب کو کیا گیا 22 لاکھ رو پے کا جرما نہ برقرار ہے جبکہ سپریم کورٹ نے 9 مئی سے متعلق کیس میں اے ٹی سی راولپنڈی جج سے مقدمات منتقلی کی اپیلیں نمٹادیں۔

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ ہائیکورٹ کا فیصلہ پراسیکیوٹر جنرل اور اے ٹی سی جج کے کیرئیر پر اثرانداز نہیں ہوگا، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نےجج کےخلاف ریفرنس پر حکومت کو پیغام دینا تھا، ہائیکورٹ کے اختیار میں مداخلت نہیں کرنا چاہتے، جرمانے ادا کر دیں یہ اتنا بڑامسئلہ نہیں ہے۔

    غزہ میں اسرائیلی بربریت ناقابل برداشت، عالمی برادری فوری کردار ادا کرے.محمد مدثر

    دوران سماعت پنجاب حکومت کے وکیل نے 9 مئی ٹرائل سے متعلق کہا کہ ٹرائل عدالت نے ضمانت کا فیصلہ قانون کے مطابق نہیں کیا، اس پر چیف جسٹس نے جواب دیا ضمانت کےفیصلوں میں بعض عدالتی فا ئنڈنگز درست نہیں اگر کوئی ملزم ضمانت کا غلط استعمال کرے تو قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا، آپ سوچ لیں ہم 3 ماہ میں ٹرائل مکمل کرنے کا آرڈر کر دیتے ہیں۔

    واضح رہے کہ پنجاب حکومت کی جانب سے سابق اے ٹی سی جج راولپنڈی اعجاز آصف کے خلاف ریفرنس اور مقدمہ منتقلی کی درخوا ست ہائیکورٹ نے خارج کردی تھی جس پر پنجاب حکومت نے ہائیکورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

    ارسا کے پانی کی دستیابی کے سرٹیفکیٹ کے خلاف حکم امتناع جاری

  • عورت کی شناخت، قانونی حقوق اور خود مختاری شادی کے بعد ختم نہیں ہوتی،سپریم کورٹ

    عورت کی شناخت، قانونی حقوق اور خود مختاری شادی کے بعد ختم نہیں ہوتی،سپریم کورٹ

    اسلام آباد: سپریم کورٹ نے سرکاری ملازم کے انتقال کے بعد بیٹی کو نوکری سے محروم کرنے کے کیس کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا-

    باغی ٹی وی: 9 صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس منصورعلی شاہ نے تحریرکیا جس میں کہا گیا ہے کہ عورت کی شناخت، قانونی حقوق اور خود مختاری شادی کے بعد ختم نہیں ہوتی، عدالت نے شادی شدہ بیٹیوں کو مرحوم والد کے کوٹے پر ملازمت نہ دینا غیر قانونی اور امتیازی قرار د یا-

    سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پی سول سرونٹس رولز کے تحت مرحوم یا طبی بنیادوں پر ریٹائرڈ سرکاری ملازم کے تمام بچے ملازمت کے اہل ہیں، سیکشن افسر کی جانب سے ایک وضاحتی خط کے ذریعے رولز کو تبدیل کرنا غیر قانونی ہے، ایسی ایگزیکٹو ہدایات قا نون سے بالاتر نہیں ہو سکتیں،شادی کی بنیاد پر بیٹیوں کو مرحوم ملازم کے کوٹے سے خارج کرنا امتیازی سلوک ہے، ایسا عمل آئین کے آرٹیکل 25، 27 اور 14 کی خلاف ورزی ہے۔

    پاکستان کا تجربہ میری کوچنگ سے محبت کو کھٹا کر چکا ہے، جیسن گلیسپی

    عدالت نے تحریری فیصلے میں کہا کہ شادی سے عورت کی قانونی حیثیت، اس کی ذات اور خودمختاری ختم نہیں ہو جاتی، مالی خود مختار ی بنیاد ی حق ہے، عورت کے یہ حقوق شادی پر منحصر نہیں ہو سکتے، آئین ازدواجی اکائیوں یا سماجی کرداروں کی بنیاد کی بجائے ہر شہری کو انفرادی حقوق دیتا ہے، اسلام میں بھی عورت کواپنی جائیداد،آمدنی اورمالی معاملات پر مکمل اختیارحاصل ہے، پاکستان نے خوا تین کے خلاف ہرقسم کے امتیازی سلوک کے خاتمے کے عالمی کنونشن کی توثیق کی ہے، اس کنونشن کے تحت شادی کی بنیاد پرملاز مت میں امتیازی سلوک ممنوع ہے۔

    تمام معاشی اشاریے عکاسی کرتے ہیں کہ پاکستان اڑان بھرچکا ہے،عطاء اللہ تارڑ

    عدالتی فیصلے کے مطابق نسوانی قانونی نظریے کے تحت عورت کی معاشی اور قانونی خود مختاری کو تسلیم کرنا چاہیے، ایسی روایات کو ختم کرنا چاہیے جو شادی کی بنیاد پر عورتوں کو عوامی حقوق سے محروم کرتی ہیں، عدالتوں اور انتظامی اداروں کو اپنے فیصلوں میں صنفی حساس اور غیرجانبدار زبان استعمال کرنی چاہیےایسے الفاظ پدرشاہی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں اور آئینی اقدار کے منافی ہیں، یہ اصول طے شدہ ہے کہ عدالت عظمیٰ کے فیصلے عمومی طور پر آئندہ کیلئے لاگو ہوتے ہیں۔

    سپریم کورٹ نے خاتون کو نوکری سے برخاست کرنے کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے حکم دیا کہ متعلقہ محکمہ درخواست گزار کو تمام سابقہ مراعات کے ساتھ بحال کرے۔

    "پورا مائیکرو سافٹ خون میں رنگا ہے، مائیکروسافٹ کی تقریب میں فلسطین کے حق میں زبردست احتجاج