Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • شادی کے بعد بھی بیٹا والد کا جانشین ہو سکتا ہے تو بیٹی کیوں نہیں؟،جسٹس منصور

    شادی کے بعد بھی بیٹا والد کا جانشین ہو سکتا ہے تو بیٹی کیوں نہیں؟،جسٹس منصور

    اسلام آباد: سپریم کورٹ نے والد کی جگہ بیٹی کو نوکری کے لیے اہل قرار دے دیا-

    باغی ٹی وی :سپریم کورٹ میں جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ پر مشتمل دو رکنی بنچ نے سرکاری ملازم کے انتقال کے بعد بیٹی کو نوکری سے محروم کرنے کے کیس کی سماعت کی دوران سماعت عدالت نے والد کی جگہ بیٹی کو نوکری کے لیے اہل قرار دے دیا، عدالت نے درخواست گزار خاتون زاہدہ پروین کی درخواست منظور کرتے ہوئے کیس نمٹا دیا۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیئے کہ خواتین کی شادی کا ان کی معاشی خودمختاری سے کوئی تعلق نہیں،شادی کے بعد بھی بیٹا والد کا جانشین ہو سکتا ہے تو بیٹی کیوں نہیں؟ایڈووکیٹ جنرل کے پی نے بتایا سابق چیف جسٹس فائز عیسیٰ کے فیصلے کے مطابق سرکاری ملازم کے بچوں کو نوکریاں ترجیحی بنیادوں پر نہیں دی جاسکتیں۔

    بھارت سے 50 ہزار ٹن چینی درآمد

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ 2024 کا ہے جب کہ موجودہ کیس اس سے پہلے کا ہے، سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا اطلاق ماضی سے نہیں ہوتا، خاتون کو نوکری دے کر آپ نے فارغ کیسے کر دیا؟،ایڈووکیٹ جنرل پختونخوا نے کہا خاتون کی شادی ہو چکی ہے لہذا والد کی جگہ نوکری کی اہلیت نہیں رکھتی۔

    میرا مقصد صرف جعلسازی کو ہائی لائٹ کرنا تھا،ناکہ ڈائریکٹر ایف آئی اے کی تذلیل ،نادیہ حسین

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا یہ کس قانون میں لکھا ہے کہ بیٹی کی شادی ہو جائے تو وہ والد کے انتقال کے بعد نوکری کی اہلیت نہیں رکھتیں، خواتین کی شادی کا ان کی معاشی خودمختاری سےکوئی تعلق نہیں ہے،شادی کے بعد بھی بیٹا اپنے والد کا جانشین ہو سکتا ہے تو بیٹی کیوں نہیں ہو سکتی، خواتین کی معاشی خودمختاری اور سپریم کورٹ کے فیصلے سے متعلق تفصیلی فیصلہ دیں گے.

    اداکارہ ریما خان کی اپیل،عدالت نے پنجاب حکومت سے جواب طلب کرلیا

  • اسلام آباد ہائیکورٹ میں ججز تبادلے کیخلاف سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں ججز تبادلے کیخلاف سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر

    اسلام آباد:کراچی بار ایسوسی ایشن نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں ججز تبادلے کیخلاف سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر کردی۔

    باغی ٹی وی : درخواست ایڈووکیٹ فیصل صدیقی کے توسط سے دائر کی گئی ہے، جس میں صدر پاکستان ، وفاق اور رجسٹرار سپریم کورٹ کو فریق بنایا گیا،درخواست میں رجسٹرار لاہور ، اسلام آباد، سندھ اور بلوچستان ہائیکورٹ کو بھی فریق بنایا گیا ہے درخواست میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں ٹرانسفر شدہ ججز اور متاثرہ ججز کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔

    درخواست آئین کے آرٹیکل 184(3) کے تحت دائر کی گئی، جس میں استدعا کی گئی ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ ججز کی نئی سینارٹی کو کالعدم قرار دیا جائے،قائم مقام چیف جسٹس ہائیکورٹ کی تقرری کے نوٹیفکیشن کو بھی کالعدم قرار دیا جائے ۔

    عامر خان اور گوری خان کی محبت کی کہانی کیسے شروع ہوئی،دونوں نےخاموشی توڑ دی

    درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ججز ٹرانسفر کے حوالے سے آئین صدر کو غیر محدود اختیار نہیں دیتا۔ صدر کا اقدام عدلیہ کی آزادی اور اختیارات کی تقسیم کےاصولوں کے منافی ہےصدر کے آرٹیکل 200(1) کے تحت حاصل اختیارات کو آئین کے آرٹیکل 175A کے ساتھ پڑھا جانا چاہیے، ججز ٹرانسفر کا نوٹیفکیشن غیر آئینی اور غیر قانونی ہے۔

    کراچی بار ایسوسی ایشن کی درخواست میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں ججز ٹرانسفر کسی عوامی مفاد کو ظاہر کرنے میں ناکام رہا ہے ٹرانسفر شدہ ججز کو اسلام آباد ہائی کورٹ کا جج نہیں سمجھا جا سکتا، ٹرانسفر شدہ ججز کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کے طور پر دوبارہ حلف اٹھانا ہوگا،سپریم کورٹ ججز ٹرانسفر کے نوٹیفکیشن کو کالعدم قرار دے۔

    منشیات کیس : مرحوم مصطفی عامر کے خلاف مقدمہ ختم

    درخواست میں کہا گیا کہ اس وقت کے چیف جسٹس عامر فاروق کے انٹرا کورٹ ڈیپارٹمنٹل ریپریزنٹیشن کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے، اسلام آباد ہائیکورٹ کی نئی سنیارٹی لسٹ کو غیر آئینی قرار دیا جائے اور قائم مقام چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کی تقرری کے حوالے سے جاری نوٹیفکیشن کا بھی کالعدم قرار دیا جائے۔

  • ارشد شریف قتل ازخود نوٹس کیس سماعت کیلئے مقر ر

    ارشد شریف قتل ازخود نوٹس کیس سماعت کیلئے مقر ر

    اسلام آباد: سپریم کورٹ میں ارشد شریف قتل ازخود نوٹس کیس سماعت کیلئے مقر ر کردیا گیا ۔

    باغی ٹی وی: رپورٹ کے مطابق جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں پانچ رکنی آئینی بنچ ارشد شریف قتل ازخود نوٹس کیس کی سماعت کرے گا،جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں پانچ رکنی آئینی بنچ کل جمعہ کے روز سماعت کرے گا، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر بینچ میں شامل ہوں گےجسٹس نعیم اختر افغان، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس شاہد بلال بینچ کا حصہ ہیں۔

    ارشد شریف اگست 2022 میں اپنے خلاف کئی مقدمات درج ہونے کے بعد پاکستان چھوڑ گئے تھے، ابتدائی طور پر وہ متحدہ عرب امارات میں رہے، جس کے بعد وہ کینیا چلے گئے جہاں انہیں اکتوبر 2022 میں قتل کردیا گیا تھا۔

    ہائی کورٹس خودمختار ادارے،معاملات میں مداخلت مناسب نہیں،چیف جسٹس

    ابتدائی طور پر کینیا کے میڈیا نے مقامی پولیس کے حوالے سے کہا تھا کہ ارشد شریف کو پولیس نے غلط شناخت پر گولی مار کر ہلاک کر دیا، بعد میں کینیا کے میڈیا کی رپورٹس نے قتل سے متعلق واقعات کی رپورٹنگ کرتے ہوئے بتایا کہ ارشد شریف کے قتل کے وقت ان کی گاڑی میں سوار شخص نے پیراملٹری جنرل سروس یونٹ کے افسران پر گولی چلائی،اس کے بعد حکومت پاکستان نے تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی جو قتل کی تحقیقات کے لیے کینیا گئی تھی۔

    میرے برعکس ایمن خان کو ہمیشہ محبت اور احترام ملا ہے،منال خان

    کینیا کے میڈیا میں فوری طور پر رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ارشد شریف کے قتل کا واقعہ پولیس کی جانب سے شناخت میں ’غلط فہمی‘ کے نتیجے میں پیش آیاپولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ ارشد شریف اور ان کے ڈرائیور نے ناکہ بندی کی مبینہ خلاف ورزی کی جس پر پولیس کی جانب سے فائرنگ کی گئی، سر میں گولی لگنے کی وجہ سے ارشد شریف موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے جبکہ ان کے ڈرائیور زخمی ہوگئے۔

    میرے برعکس ایمن خان کو ہمیشہ محبت اور احترام ملا ہے،منال خان

    لیکن بعدازاں پاکستانی تفتیش کاروں کی ایک ٹیم نے کہا تھا کہ ارشد شریف کی موت منصوبہ بندی کے ساتھ کیا گیا قتل تھاارشد شریف کی بیوہ جویریہ صدیق نے کینیا پولیس یونٹ کے خلاف وہاں کی مقامی عدالت میں مقدمہ درج کیا گیا تھا کینیا کی پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ ارشد شریف نیروبی کے باہر پولیس چیک پوسٹ پر نہیں رکے تھے لیکن ان کے اہل خانہ اور پاکستانی تفتیش کاروں نے اس مؤ قف کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ارشد شریف کے قتل کا منصوبہ پاکستان میں بنایا گیا تھا۔

    شریف اللّٰہ کو کس قانون کے تحت امریکا کے سپرد کیا گیا،وزارت قانون بتا سکتا، ترجمان دفترخارجہ

  • ہائی کورٹس خودمختار ادارے،معاملات میں مداخلت مناسب نہیں،چیف جسٹس

    ہائی کورٹس خودمختار ادارے،معاملات میں مداخلت مناسب نہیں،چیف جسٹس

    اسلام آباد: ملتان اور جھنگ کی ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشنز کے وفود نے چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی سے ملاقات کی –

    باغی ٹی وی: ملتان اور جھنگ کی ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشنز کے وفود نے چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی سے سپریم کورٹ اسلام آبادمیں ملاقات کی, ملاقات کے اعلامیہ میں کہا گیا کہ چیف جسٹس نے وفد کا خیرمقدم کیا، وفد نے خدشات سے متعلق چیف جسٹس کو آگاہ گیا.

    ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشنز کے وفد نے پنجاب میں ہائی کورٹ اور بارز کے درمیان رابطے اور ہم آہنگی کے فقدان کے مسائل کو اجاگر کیا،چیف جسٹس نے واضح کیا کہ ہائی کورٹس خودمختار ادارے ہیں اور ان کے معاملات میں مداخلت کرنا مناسب نہیں ہو گا.

    پاکستان اور افغانستان کے شہریوں کا امریکا میں داخلہ بند ہونیکا امکان

    چیف جسٹس پاکستان نے تجویز دی معاملے کو لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے ساتھ زیر بحث لایا جا سکتا ہے چیف جسٹس نے بار کونسلز کی قانون و انصاف کمیشن آف پاکستان میں نمائندگی پر بھی روشنی ڈالی، چیف جسٹس نے وفد کو قانون و انصاف کمیشن کے آئندہ اجلاس کے بارے میں آگاہ کیا.

    چیف جسٹس نے وفد کو وفاقی عدالتی اکیڈمی کے تحت جاری تربیتی پروگراموں کے بارے میں آگاہ کیا، پروگرام فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں چیف جسٹس نے وفد کو ایکسس ٹو جسٹس ڈویلپمنٹ فنڈ کے بارے میں آگاہ کیا، چیف جسٹس نے بار ممبران کو ایکسس ٹو جسٹس ڈویلپمنٹ فنڈ کے تحت معاونت حاصل کرنے کی ترغیب دی.

    افغانستان میں چھوڑا امریکی اسلحہ پاکستان کیخلاف استعمال ہو رہا،عرفان صدیقی

    وفد نے چیف جسٹس کو ڈسٹرکٹ بارز کے دورے کی دعوت بھی دی، چیف جسٹس نے قانونی برادری کے ساتھ روابط کو اپنی ترجیح قرار دیا اور بتایا سب سے پہلے دور دراز اور پسماندہ علاقوں کا دورہ کرنا چاہتے ہیں، چیف جسٹس نے وفد کو یقین دلایا کہ مناسب وقت پر وفد کی بار کا بھی دورہ کریں گے۔

  • یوٹیوبر رنویر الہ آبادیہ کو بھارتی سپریم کورٹ سے بڑا ریلیف مل گیا

    یوٹیوبر رنویر الہ آبادیہ کو بھارتی سپریم کورٹ سے بڑا ریلیف مل گیا

    ممبئی: بھارتی یوٹیوبر رنویر الہ آبادیہ کو بھارتی سپریم کورٹ سے بڑا ریلیف مل گیا ہے۔

    باغی ٹی وی: بھارتی عدالت عظمیٰ نے رنویر الہ آبادیہ کو اپنا پوڈکاسٹ نشر کرنے کی اجازت دے دی ہے، بشرطیکہ وہ شائستگی اور اخلاقی معیارات کو برقرار رکھیں،18 فروری کو سپریم کورٹ نے رنویر کو عبوری تحفظ دیتے ہوئے ان پر پابندی عائد کی تھی کہ وہ کسی بھی شو کو نشر نہیں کرسکتے تاہم، اب جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس این کوٹیشور سنگھ پر مشتمل بینچ نے یہ پابندی ہٹا دی ہے۔ عدالت نے اس فیصلے میں رنویر کے 280 ملازمین کی روزی روٹی کو مدنظر رکھا، جو ان کے پوڈکاسٹ پر منحصر ہیں۔

    رنویر کے وکیل ابھینو چندرچوڑ نے عدالت میں یقین دہانی کرائی کہ ان کا مؤکل کسی بھی توہین آمیز یا فحش زبان کا استعمال نہیں کرے گا رنویر کا پوڈکاسٹ ان کی آمدنی کا بنیادی ذریعہ ہے، اور اس پر پابندی سے نہ صرف انہیں بلکہ ان کے ملازمین کو بھی شدید مالی مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔

    چیمپئنز ٹرافی: سیمی فائنلز کے میچ آفیشلز کا اعلان
    دوسری جانب، ریاست کی نمائندگی کرتے ہوئے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت سے کہا کہ رنویر کو کچھ وقت کےلیے خاموش رہنے دیا جائے انہوں نے الزام لگایا کہ رنویر نے آسام پولیس کی تحقیقات میں تعاون کرنے کی شرط پر عمل نہیں کیا۔

    سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں اخلاقی معیارات اور اظہار رائے کی آزادی کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کی۔ عدالت نے مرکزی حکومت سے کہا کہ وہ آن لائن میڈیا مواد کو ریگولیٹ کرنے کے لیے مناسب ضابطہ کار اقدامات تیار کرے، جو سنسرشپ کے بغیر کنٹرول کا عنصر رکھتے ہوں۔

    شاہ محمود قریشی سمیت پی ٹی آئی رہنماؤں پر ترمیمی فرد جرم عائد

    عدالت نے ایک بار پھر رنویر کے متنازعہ ریمارکس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سامعین کی توجہ حاصل کرنے کےلیے بے ہودہ زبان کا استعمال ٹیلنٹ نہیں ہے تاہم، عدالت نے یہ بھی تسلیم کیا کہ 200 سے زیادہ خاندانوں کی روزی روٹی اس پوڈکاسٹ سے وابستہ ہے، اور اس پر پابندی سے ان کی معیشت کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔

    سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ رنویر کے لیے ایک اہم کامیابی ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی انہیں اپنے مواد میں شائستگی اور اخلاقیات کو برقرار رکھنے کی ذمے داری بھی دی گئی ہے۔

    دفعہ 144 کی خلاف ورزی، بیرسٹر گوہر، عمر ایوب و دیگر کے وارنٹ گرفتاری جاری

    واضح رہے کہ یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا جب رنویر نے کامیڈین سمے رائنا کے شو ’انڈیاز گوٹ لیٹنٹ‘ میں ایک نازیبا سوال پوچھا تھا اس واقعے کے بعد بھارت بھر میں شدید ردعمل سامنے آیا، اور شو کے منتظمین اور شرکا کو قانونی چارہ جوئی کا سامنا کرنا پڑا رنویر پر مہارا شٹر، راجستھان، اور آسام پولیس کی جانب سے مقدمات درج کیے گئے تھے۔

    رنویر الہ آبادیہ، جو ’بیئر بائیسپس گائے‘ کے نام سے مشہور ہیں، کو اب بھی متعدد ریاستوں میں پولیس انکوائری کا سامنا ہے قومی کمیشن برائے خواتین کی جانب سے بھی انہیں طلب کیا گیا ہے، اور امکان ہے کہ انہیں پارلیمنٹ کے پینل کے سامنے بھی پیش ہونا پڑ ے گا۔

    سائنسدانوں نے مریخ کی سرخ رنگت کا معمہ حل کرلیا

  • سانحہ 9 مئی : عمران خان کی درخواست پر سماعت 2 ہفتوں تک ملتوی

    سانحہ 9 مئی : عمران خان کی درخواست پر سماعت 2 ہفتوں تک ملتوی

    باغی ٹی وی : سپریم کورٹ میں سانحہ 9 مئی سے متعلق عمران خان کی درخواست پر سماعت ہوئی-

    باغی ٹی وی : چیف جسٹس یحیی آفریدی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے سانحہ 9 مئی سے متعلق بانی پی ٹی آئی کی ضمانت قبل ازگرفتاری منسوخ کرنے کی درخواست پر سماعت کی۔

    سپریم کورٹ میں سانحہ 9 مئی سے متعلق بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ضمانت قبل ازگرفتاری منسوخ کرنے کی درخواست پر سماعت کے دوران ایڈیشنل پراسیکیوٹرجنرل پنجاب نے مقدمات ملتوی کرنے کی استدعا کی جس پر عدالت نے 2 ہفتے کی مہلت دے دی۔

    نوکیا کے موبائل سگنلز اب چاند پر بھی آئیں گے

    ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل پنجاب نے مقدمات ملتوی کرنے کی استدعا کرتے ہوئے مؤقف اپنایاکہ عدالت کے سامنے کچھ اضافی ریکارڈ پیش کرنا چاہتے ہیں ایک ہفتے کی مہلت دی جائے، جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے بغیرکارروائی کے سماعت 2 ہفتے کے لیے ملتوی کردی۔

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیئے کہ آئندہ ہفتے نہیں اس سے اگلے ہفتے سماعت کے لیے مقرر کیے جائیں، بینچ نے جسمانی ریمانڈ سمیت دیگرملزمان کے مقدمات بھی ملتوی کردیئے گئے۔

    امریکا:ائیر پورٹ پر دو طیارے حادثے سے بال بال بچ گئے

  • سویلینز کا ملٹری ٹرائل: ملزمان کی حوالگی کا حکم عدالت دے سکتی ہے ایڈمنسٹریٹو جج نہیں، وکیل

    سویلینز کا ملٹری ٹرائل: ملزمان کی حوالگی کا حکم عدالت دے سکتی ہے ایڈمنسٹریٹو جج نہیں، وکیل

    اسلام آباد: سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے فیصلے کے خلاف انٹراکورٹ اپیلوں پر سماعت کے دوران جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیئے کہ راولپنڈی اور لاہور کی عدالتوں کے حکم ناموں کے الفاظ بالکل ایک جیسے ہیں، لگتا ہے انسداد دہشت گردی عدالتوں کے ججز کی انگریزی کے کافی مسائل ہیں-

    باغی ٹی وی : جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا 7 رکنی آئینی بینچ فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف انٹرا کورٹ اپیلوں کی سماعت کر رہا ہے سول سوسائٹی کے وکیل فیصل صدیقی نے گزشتہ سماعت سے جڑے اپنے دلائل جاری ر کھتے ہوئے بتایا کہ کمانڈنگ افسرز نے ملزمان کی حوالگی کے لیے درخواستیں دیں-

    فیصل صدیقی نے کہا کہ درخواستوں کا آغازہی ان الفاظ سے ہوا کہ ابتدائی تفتیش میں آفیشل سیکریٹ ایکٹ کا جرم بنتا ہے، درخواست کے یہ الفاظ اعتراف ہیں کہ تفتیش مکمل نہیں ہوئی تھی انسداد دہشت گردی عدالت نے ملزمان کی حوالگی کے لیے جو وجوہات دیں وہ مضحکہ خیز ہیں، انسداد دہشت گردی عدالت کے ایڈمنسٹریٹو جج نے ملزمان کی حوالگی کے احکامات دیئے، انسداد دہشت گردی عدا لت نے ملزمان کو تفتیش مکمل ہونے سے پہلے ہی قصوروار لکھ دیا۔

    لڑکی کی قبر کھودنے والا کالے جادو کا ماہرشخص گرفتار

    جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیئے کہ راولپنڈی اور لاہور کی عدالتوں کے حکم ناموں کے الفاظ بالکل ایک جیسے ہیں، لگتا ہے انسداد دہشت گردی عدالتوں کے ججز کی انگریزی کے کافی مسائل ہیں، فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزمان کی حوالگی کا حکم عدالت دے سکتی ہے ایڈمنسٹریٹو جج نہیں، جس پر جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ملزمان کی حوالگی کا قانونی اختیار صرف عدالت کو ہی ہے۔

    وکیل سول سوسائٹی نے کہا کہ آرمی ایکٹ سیکشن 59(1) کے تحت فوجی افسران کی قتل و دیگر جرائم میں سول عدالت سے کسٹڈی لی جا سکتی ہے، جس پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ 59 (4) کا اطلاق بھی ان پرہی ہوتا ہے جو آرمی ایکٹ کے تابع ہوں۔

    امریکا:ائیر پورٹ پر دو طیارے حادثے سے بال بال بچ گئے

    جسٹس جمال مندو خیل کے مطابق آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت حوالگی تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی ممکن ہوگی، جس پر فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ جن مقدمات میں حوالگی کی درخواستیں دی گئیں ان میں آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی دفعات عائد نہیں کی گئی تھیں۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے یاد دلایا کہ ایک ایف آئی آر میں آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی دفعات بھی عائد تھیں، جس پر فیصل صدیقی کا کہنا تھا کہ ایسی کوئی ایف آئی آر انہیں ریکارڈ پر نظر نہیں آئی، جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ ایف آئی آر پڑھیں، اس میں الزام فوجی تنصیب کے باہر توڑپھوڑ کا ہے، بعدازاں عدالت نے کیس کی سماعت میں مختصر وقفہ کر دیا۔

    غیر ملکی مہمانوں کی آمد،سخت سیکیورٹی انتظامات

  • اسلام آباد ہائیکورٹ بار کی  5 ججز کی سپریم کورٹ میں دائرپٹیشن کی حمایت

    اسلام آباد ہائیکورٹ بار کی 5 ججز کی سپریم کورٹ میں دائرپٹیشن کی حمایت

    اسلام آباد ہائیکورٹ بار نے 3 ٹرانسفر ججز کے خلاف 5 ججز کی سپریم کورٹ میں دائرپٹیشن کی حمایت کردی۔

    باغی ٹی وی:اسلام آباد ہائیکورٹ بار کی جانب سے پراسیس اور نئے حلف کے بغیر ججز ٹرانسفر سمیت ایگزیکٹو کی جانب سے عدالتی معا ملات میں مداخلت کی مذمت کی گئی ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ بار نے سپریم کورٹ کو پٹیشن سن کر ٹرانسفر ججز کو واپس بھیجنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    بار کے صدر نعیم گجر اور سیکرٹری بار کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ میں دائر 184/3 کی پٹیشن ججز کی غیر آئینی ٹرانسفر سے متعلق ہے، پٹیشن میں پہلے سے موجود ججز کی سینیارٹی میں ردوبدل کی نشاندہی کی گئی ہے، عدلیہ کی آزادی، اختیارا ت کی تقسیم اور آئینی بالادستی کو تھریٹس کابھی بتایا گیا ہے۔

    رمضان المبارک اور عید الفطر کی تاریخوں کی پیشگوئی

    ایلون مسک کی مسلم فلاحی تنظمیوں پر تنقید

    اداکاروں کا کام کھلاڑیوں سے کروانا ہے تو اداکاروں کو ٹیم میں لے لیں،رابعہ کلثوم

  • قائمقام چیف جسٹس تعیناتی اور ججز سنیارٹی کیس،دوبارہ درخواستیں دائر

    قائمقام چیف جسٹس تعیناتی اور ججز سنیارٹی کیس،دوبارہ درخواستیں دائر

    لاہور: قائمقام چیف جسٹس تعیناتی اور ججز سنیارٹی سےمتعلق دوبارہ درخواستیں دائرکردی گئیں-

    باغی ٹی وی : درخواست مفتی نورالبصر ایڈووکیٹ نے ملک سلمان ایڈووکیٹ کی وساطت سے دائر کی ہے، درخواست میں صدر پاکستان، وزیراعظم، چیف جسٹس، جوڈیشل کمیشن، قائمقام چیف جسٹس، پارلیمانی کمیٹی، وفاقی وزارت قانون، صوبائی حکومت کو فریق بنایا گیا ہے۔

    درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ فریقین نے ہائیکورٹ کے سنیئر پیونی ججز کو نظر انداز کرکے جونیئر جج کو قائمقام چیف جسٹس تعینات کیا، جونیئر جج کی بطور قائمقام چیف جسٹس کی تعیناتی آرٹیکل 2اے، 3,4,5,8،8,9,10A کی خلاف ہیں، قائمقام چیف جسٹس کی تعیناتی آرٹیکل 11,14,24,25,27 ,35 ,37 ,227 کی بھی خلاف ورزی ہے۔

    چیمپئنز ٹرافی:قذافی اسٹیڈیم آنے والے شائقین کیلئے پلان جاری

    درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ وفاقی حکومت اور دیگر فریقین کا اقدام آزاد عدلیہ کی ساکھ پر حملہ ہے، سنیئر ججز کی بجائے جونیئر جج کی قائمقام چیف جسٹس تعیناتی پی ایل ڈی 1996 سپیکر کورٹ 324 اور ایس سی ایم آر 1996 سپریم کورٹ 1185 کے خلاف ہے۔

    درخواست کے مطابق پشاور۔ سنیئر ججز کو چھوڑ کر جونیئر جج کو سپریم کورٹ میں تعینات کرنا سپریم کورٹ فیصلوں کے خلاف ہے، سپریم کورٹ فیصلوں میں قرار دےچکی ہےکہ جونئیر جج کو سینئر ججز کا boss نہیں بنایا جاسکتادرخواست میں استدعا کی گئی کہ قائمقام چیف جسٹس کی تعیناتی کا 12 فروری کا نوٹیفکیشن معطل کیا جائے، 12 فروری 2025 کا نوٹیفکیشن آرٹیکل 8 کی خلاف ورزی ہے۔

    چمگادڑوں میں ایک نیا کورونا وائرس دریافت

    واضح رہے کہ پشاور ہائیکورٹ رجسٹرار آفس نے درخواستوں پر اعتراض لگا کر واپس کیا تھا، درخواست گزار نے رجسٹرار آفس کے اعتراضات دور کرکے درخواستیں دوبارہ دائر کردی ہے۔

  • چیف جسٹس سے سپریم کورٹ بار کے وفد کی ملاقات

    چیف جسٹس سے سپریم کورٹ بار کے وفد کی ملاقات

    اسلام آباد: چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سے سپریم کورٹ بار کے وفد کی ملاقات ہوئی ہے، ملاقات کا اعلامیہ جاری کردیا گیا۔

    باغی ٹی وی : سپریم کورٹ کے اعلامیے کے مطابق چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سے سپریم کورٹ بار کے صدر میاں رؤف عطا کی سربراہی میں وفد نے ملاقات کی، جس میں عدالتی اصلاحات سمیت دیگر امور پر بات چیت کی گئی۔

    اعلامیے میں کہا گیا کہ صدرسیریم کورٹ بار نے کہا کہ چیف جسٹس سے ملاقات ان کی وزیراعظم سے ملاقات کے تناظر میں کی گئی، چیف جسٹس انصاف فراہمی کو بہتر بنانے کے لیے قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کے حوالے سے تمام اسٹیک ہولڈرز سے ملاقات کر رہے ہیں،سپریم کورٹ بار نے اصلاحات کے عمل میں چیف جسٹس کو مکمل حمایت کا یقین دلایا ہے-

    میو ہسپتال کے آرتھوپیڈک وارڈ سے منسلک لفٹ گر گئی،11 افراد زخمی

    اعلامیے کے مطابق رؤف عطا نے کہا کہ چیف جسٹس نے وزیراعظم کی طرح اپوزیشن سے فراہمی انصاف کے حوالے سے تجاویز طلب کی ہیں، انصاف کی فراہمی میں تعاون کے لیے وزیراعظم اور اپوزیشن رہنماؤں سے چیف جسٹس کی کاوشوں کو سراہتے ہیں۔

    اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ چیف جسٹس پاکستان کل اپوزیشن کے وفد سے بھی ملاقات کریں گے، عدالتوں میں اصلاحات وقت کا تقاضا ہے، ملاقاتوں سے سیاسی استحکام اورعدلیہ پرعوامی اعتماد کی بحالی میں مدد ملے گی-

    نیب اور نجی اداروں کے درمیان مفاہمت کے 6 سمجھوتوں پر دستخط