Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • سپریم کورٹ نے عیدالفطر کی تعطیلات کا اعلان کردیا

    سپریم کورٹ نے عیدالفطر کی تعطیلات کا اعلان کردیا

    اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان میں عیدالفطر کی تعطیلات کا اعلان کردیا گیا۔

    باغی ٹی وی : سپریم کورٹ سے جاری اعلامیہ کے مطابق عدالت عظمیٰ میں عید کی تعطیلات 29 مارچ سے 2 اپریل تک ہوں گی، چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی ہدایت پر رجسٹرار آفس نے تعطیلات کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔

    واضح رہے کہ ملک میں عیدالفطر 31 مارچ بروز پیر کو ہونے کے امکانات ہیں، محکمہ موسمیات اور اسپارکو نے عیدالفطر 31 مارچ کو ہونے کی پیشگوئی کی ہے، تاہم چاند کی رویت سے متعلق حتمی اعلان رویت ہلال کمیٹی کی جانب سے کیا جائےگا۔

  • سپریم کورٹ میں گذشتہ 5 ماہ میں زیر سماعت مقدمات کی تعداد میں 3ہزار سے زائد کی کمی

    سپریم کورٹ میں گذشتہ 5 ماہ میں زیر سماعت مقدمات کی تعداد میں 3ہزار سے زائد کی کمی

    اسلام آباد: سپریم کورٹ میں گذشتہ 5 ماہ میں زیر سماعت مقدمات کی تعداد میں 3 ہزار سے زائد کیسزکی کمی ہوگئی۔

    باغی ٹی وی : رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2024میں سپریم کورٹ میں زیر التو ا مقدمات کی تعداد 59ہزار 784تھی، گذشتہ سال اکتوبر میں 1089نئے کیسز دائر ہوئے ،1847کیسز نمٹائے گئے۔

    گذشتہ سال نومبر میں 1487نئے کیسز دائر ہوئے ،2901کیسز نمٹائے گئے، دسمبر 2024میں 1115نئے کیسز دائر ہوئے،2458کیسز نمٹائے گئے، جنوری 2025میں 1909نئے کیسز دائر ہوئے ،2192کیسز نمٹائے گئے۔

    فروری 2025میں 1394نئے کیسز دائر ہوئے 2069کیسز نمٹائے گئے، سپریم کورٹ میں اس وقت 56ہزار سے زائد مقدمات زیر التوا ہیں۔

    ہارورڈ لا اسکول میں انٹرن شپ پروگرام سے متعلق سپریم کورٹ کی وضاحت

    ٹک ٹاکر دانیہ شاہ کے ہاں جلد ننھے مہمان کی آمد متوقع

    کوئٹہ میں پولیس وین کے قریب دھماکا، اہلکاروں سمیت 10 افراد زخمی

  • ہارورڈ لا اسکول میں انٹرن شپ پروگرام سے متعلق سپریم کورٹ کی وضاحت

    ہارورڈ لا اسکول میں انٹرن شپ پروگرام سے متعلق سپریم کورٹ کی وضاحت

    اسلام آ باد:سپریم کورٹ آف پاکستان نے ہارورڈ لا اسکول میں انٹرن شپ پروگرام سے متعلق وضاحت جاری ہے۔

    باغی ٹی وی : عدالت عظمیٰ کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ہارورڈ لا اسکول انٹرن شپ سے سپریم کورٹ کا کوئی تعلق نہیں کچھ حلقوں کے مطابق سپریم کورٹ انٹرن شپ پروگرام کروا رہی ہےسپریم کورٹ اس قسم کے کسی پروگرام کی معاونت نہیں کر رہی ایسے جعلی پروگرام کے حوالے سے معلومات ملنے پر طلبہ رجسٹرار آفس سے رابطہ کریں، سپریم کورٹ سالانہ انٹرن شپ پروگرام کرواتی ہے، جو باقاعدہ طریقہ کار کے تحت سینئر ججز کی کمیٹی کی نگرانی میں ہوتا ہے۔

    کوئٹہ میں پولیس وین کے قریب دھماکا، اہلکاروں سمیت 10 افراد زخمی

    ٹک ٹاکر دانیہ شاہ کے ہاں جلد ننھے مہمان کی آمد متوقع

    لاہور: خواتین کو ہراساں کرنے والے 3 برقعہ پوش اوباش گرفتار

  • سائلین انصاف کے نظام کے بنیادی اسٹیک ہولڈرز ہیں، چیف جسٹس

    سائلین انصاف کے نظام کے بنیادی اسٹیک ہولڈرز ہیں، چیف جسٹس

    اسلام آباد: چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ سائلین سے عزت و وقار سے پیش آنا چاہیے۔

    باغی ٹی وی : عوام کو انصاف تک رسائی کو مزید وسعت دینے کی کوششوں کے تحت چیف جسٹس پاکستان کا مختلف شعبہ جات کے سربراہان کے ساتھ ایک مشاورتی اجلاس منعقد ہوا، اجلاس کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا-

    اعلامیے کے مطابق اجلاس میں سپریم کورٹ کے رجسٹرار محمد سلیم خان، ڈائریکٹر جنرل فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی، سیکرٹری قانون و انصاف کمیشن سیدہ تنزیلہ صباحت نےشرکت کی، اجلاس میں چیف جسٹس نے جاری عدالتی اصلاحات کا جائزہ لیا اور عدالتی طریقہ کار کی ڈیجیٹلا ئزیشن، آسان رسائی، احتساب اور شفافیت کو مزید بہتر بنانے پر زور دیا۔

    190 ملین پاؤنڈ کیس:عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواست عید کے بعد تک ملتوی

    چیف جسٹس پاکستان نے نشاندہی کی کہ اصلاحات کا مقصد صرف مقدمات کے بوجھ کو کم کرنا نہیں بلکہ سائلین کو بروقت اور مؤثر انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے، سائلین انصاف کے نظام کے بنیادی اسٹیک ہولڈرز ہیں، سائلین کے ساتھ عزت و وقار کے ساتھ پیش آنا عدالتی ادارے کی انصاف سے وابستگی اور مثبت عوامی تاثر کو مزید مضبوط کرتا ہے۔

    ایف آئی اے کا ملزم ارمغان کی حوالگی کیلئے انسداد دہشت گردی عدالت سے رجوع

    اعلامیے کے مطابق اجلاس میں اب تک حاصل کیے گئے نمایاں اہداف پر روشنی ڈالی گئی، اجلاس میں ای فائلنگ نظام کے کامیا ب عمل درآمد کا بھی جائزہ لیا گیا،اجلاس میں آئی ٹی ڈائریکٹوریٹ نےعدالتی عمل کو مزید شفاف اور قابل رسائی بنانے کے لیے ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کے انضمام اور نئے میکانزم کے قیام پر پیش رفت سے متعلق بریفنگ دی۔

    لاہور: گلاب دیوی اسپتال میں بچی سے مبینہ جنسی زیادتی کی کوشش کرنے والا گارڈ گرفتار

  • 26 نومبر احتجاج : وزیراعظم و دیگر کے خلاف اندراج مقدمہ کی درخواست خارج کرنے کا تفصیلی فیصلہ جاری

    26 نومبر احتجاج : وزیراعظم و دیگر کے خلاف اندراج مقدمہ کی درخواست خارج کرنے کا تفصیلی فیصلہ جاری

    اسلام آباد: 26 نومبر احتجاج میں بیٹے ہلاکت کے خلاف وزیراعظم، وزیر داخلہ، وزیر اعلی پنجاب، آئی جی و دیگر کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست خارج کرنے کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا گیا۔

    باغی ٹی وی: ایڈیشنل یشن جج افضل مجوکا نے 9 صفحات کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا جس میں کہا گیا کہ مقدمہ اندراج درخواست میں ایف آئی آر کی ہدایت دیتے عدالت مطمئن ہونی چاہیے کافی مواد ریکارڈ پر موجود ہے، قانونی طور پر درخواست گزار وکیل کی اس دلیل کی کوئی حیثیت نہیں۔

    عدالت نے کہا کہ پٹیشن کی سپورٹ میں کوئی مواد ضروری نہیں ، فیصلہ درخواست گزار کے دعوی کے مطابق 26 نومبر کو ان کے بیٹے محمد علی سمیت 9 ہلاکتیں ہوئیں، درخواست گزار کی جانب سے کوئی ڈیتھ سرٹیفکیٹ پوسٹمارٹم رپورٹ ریکارڈ پر موجود نہیں، درخواست گزار نے کہا پولیس اور اسلام آباد کی اتھارٹیز نے انہیں کوئی ریکارڈ نہیں دیا جو پیش کرتے۔

    ”ٹی کرونا بوریالس“ نامی ستارہ آئندہ ہفتے تباہ ہونیوالا ہے

    فیصلے کے مطابق درخواست کے مطابق 9 ہلاک ہونے والوں کا تعلق خیبرپختونخواہ سے ہیں، 9 افراد کی موت کی وجہ جانچنے کے لیے مجسٹریٹ کو قبر کشائی درخواست بھی دے سکتے تھے، درخواست گزار کے وکیل نے کہا موت کی وجہ معلوم کرنا درخواست گزار کی نہیں پولیس کی ذمہ داری تھی۔

    فیصلے میں کہا گیا کہ پٹشنر نے الزام لگایا ہے پولیس نے ڈیڈ باڈی حوالے کرتے زبردستی سادہ کاغذ پر دستخط کروائے، درخواست گزار کے مطابق دیگر ہلاک شدگان کے لواحقین کے ساتھ تھانے مقدمہ درج کرانے گیا، درخواست کے مطابق تھانہ سیکرٹریٹ پولیس نے اسے اور دیگر کو وہیں حراست میں لے لیا۔

    چوتھا ٹی ٹوئنٹی: پاکستان کا نیوزی لینڈ کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ

    فیصلے میں کہا گیا کہ درخواست گزار کے مطابق دیگر افراد سے بیان حلفی لیکر رہا کر دیا گیا، درخواست گزار کے مطابق رہا ہونے کے بعد ایس ایچ او کو بیان ریکارڈ کرانے گیا تو اس نے انکار کر دیا ،پولیس حکام کے مطابق ملزمان کے نام کا درخواست میں ذکر ہی موجود نہیں، فرانزک میڈیسن ، لیگل میڈیسن اور میڈیکو لیگل رپورٹ کرمنل جسٹس سسٹم کے ساتھ جڑی ہوئیں ہیں۔

    عدالت نے کہا کہ یہ تمام رپورٹ آرٹیکل 10 اے فئیر ٹرائل کے تقاضے پورے کرنے کے لیے بھی ضروری ہیں، کرمنل جسٹس سسٹم اور میڈیکو لیگل سسٹم میں میڈیکل ایگزیمینر بہت کلیدی کردار ہے، درخواست گزار کی بات سے واضع ہوتا ہے اسے اور دیگر کو ڈیڈ باڈیز حوالے کی گئیں تھیں، ایک دلیل کے طور یہ کہہ سکتے ہیں اسلام آباد اتھارٹیز نے پوسٹمارٹم نہیں کرایا تھا۔

    دریائے سندھ میں کوٹری کے مقام پر پانی کی سطح گر گئی

    فیصلے میں کہا گیا کہ اس صورت حال میں لواحقین اپنی پسند کی جگہ سے پوسٹ مارٹم کرا سکتے تھے ، لواحقین قبر کشائی کی درخواست بھی مجسٹریٹ کو دے سکتے تھے، نا درخواست گزار نا کسی اور نے موت کی وجہ جانچنے کے لیے کوئی درخواست دائر کی، محمد علی اور دیگر 8 کی موت کے حوالے سے کوئی مواد موجود نہیں کہ ان کی غیر طبعی موت ہوئی، وزیراعظم و دیگر کے خلاف مقدمہ اندراج کی 22 اے کی درخواست خارج کی جاتی ہے۔

  • سپریم کورٹ میں کیسز کی سماعت کیلئے آئندہ ہفتے کا روسٹر جاری

    سپریم کورٹ میں کیسز کی سماعت کیلئے آئندہ ہفتے کا روسٹر جاری

    اسلام آباد:سپریم کورٹ میں مقدمات کی سماعت کے لیے آئندہ ہفتے کا ججز کا روسٹر جاری کر دیا گیا-

    باغی ٹی وی : سپریم کورٹ میں مقدمات کی سماعت کے لیے آئندہ ہفتے 24 مارچ سے 28 مارچ تک کا ججز روسٹر جاری کردیا گیا اور 4 بینچز تشکیل دے دیئے گئے ہیں، سپریم کورٹ میں چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں پہلا بینچ مقدمات سنے گا اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب بھی بینچ کا حصہ ہیں۔

    دوسرے بینچ کی سربراہی جسٹس جمال خان مندوخیل کریں گے، جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس شہزاد احمد خان بینچ میں شامل ہیں، جسٹس نعیم اختر افغان تیسرے بینچ کی سربراہی کریں گے اورر جسٹس اشتیاق ابراہیم بینچ کا حصہ ہوں گےسپریم کورٹ میں چوتھا بینچ جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں جسٹس مظہر عالم خان میاں خیل پر مشتمل ہوگا۔

    جنوبی وزیرستان:رستم بازار میں دھماکا،3 افراد زخمی

    اسی طرح سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں آئندہ ہفتے کیسز کی سماعت کے لیے تین بینچز تشکیل دے دیئے گئے ہیں، پہلے بینچ میں جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس عائشہ ملک شامل ہیں، دوسرے بینچ میں جسٹس امین الدین اور جسٹس شاہد وحید، تیسرے بینچ میں جسٹس شاہد بلا ل حسن اور جسٹس عامر فاروق حصہ ہیں۔

    ضرورت پڑی تو حکومت کہیں بھی دہشتگردی کے خاتمے کیلئے آپریشن کر سکتی ہے،عرفان صدیقی

    سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں کیسز کی سماعتوں کے لیے بھی تین بینچز تشکیل دیئے گئے ہیں، پہلے بینچ میں جسٹس منیب اختر اور جسٹس حسن اظہر رضوی، دوسرے بینچ میں جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس عقیل احمد عباسی اور تیسرے بینچ میں جسٹس عرفان سعادت خان اور جسٹس محمد شفیع صدیقی شامل ہیں، سپریم کورٹ پشاور رجسٹری میں کیسز کی سماعت کے لیے ایک بینچ تشکیل دیا گیا ہے، جسٹس مسرت ہلالی کی سربراہی میں جسٹس شکیل احمد بینچ کا حصہ ہوں گے۔

    وزیراعظم سعودی عرب کا دورہ مکمل کر کےاسلام آباد پہنچ گئے

  • شادی کے بعد بھی بیٹا والد کا جانشین ہو سکتا ہے تو بیٹی کیوں نہیں؟،جسٹس منصور

    شادی کے بعد بھی بیٹا والد کا جانشین ہو سکتا ہے تو بیٹی کیوں نہیں؟،جسٹس منصور

    اسلام آباد: سپریم کورٹ نے والد کی جگہ بیٹی کو نوکری کے لیے اہل قرار دے دیا-

    باغی ٹی وی :سپریم کورٹ میں جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ پر مشتمل دو رکنی بنچ نے سرکاری ملازم کے انتقال کے بعد بیٹی کو نوکری سے محروم کرنے کے کیس کی سماعت کی دوران سماعت عدالت نے والد کی جگہ بیٹی کو نوکری کے لیے اہل قرار دے دیا، عدالت نے درخواست گزار خاتون زاہدہ پروین کی درخواست منظور کرتے ہوئے کیس نمٹا دیا۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیئے کہ خواتین کی شادی کا ان کی معاشی خودمختاری سے کوئی تعلق نہیں،شادی کے بعد بھی بیٹا والد کا جانشین ہو سکتا ہے تو بیٹی کیوں نہیں؟ایڈووکیٹ جنرل کے پی نے بتایا سابق چیف جسٹس فائز عیسیٰ کے فیصلے کے مطابق سرکاری ملازم کے بچوں کو نوکریاں ترجیحی بنیادوں پر نہیں دی جاسکتیں۔

    بھارت سے 50 ہزار ٹن چینی درآمد

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ 2024 کا ہے جب کہ موجودہ کیس اس سے پہلے کا ہے، سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا اطلاق ماضی سے نہیں ہوتا، خاتون کو نوکری دے کر آپ نے فارغ کیسے کر دیا؟،ایڈووکیٹ جنرل پختونخوا نے کہا خاتون کی شادی ہو چکی ہے لہذا والد کی جگہ نوکری کی اہلیت نہیں رکھتی۔

    میرا مقصد صرف جعلسازی کو ہائی لائٹ کرنا تھا،ناکہ ڈائریکٹر ایف آئی اے کی تذلیل ،نادیہ حسین

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا یہ کس قانون میں لکھا ہے کہ بیٹی کی شادی ہو جائے تو وہ والد کے انتقال کے بعد نوکری کی اہلیت نہیں رکھتیں، خواتین کی شادی کا ان کی معاشی خودمختاری سےکوئی تعلق نہیں ہے،شادی کے بعد بھی بیٹا اپنے والد کا جانشین ہو سکتا ہے تو بیٹی کیوں نہیں ہو سکتی، خواتین کی معاشی خودمختاری اور سپریم کورٹ کے فیصلے سے متعلق تفصیلی فیصلہ دیں گے.

    اداکارہ ریما خان کی اپیل،عدالت نے پنجاب حکومت سے جواب طلب کرلیا

  • اسلام آباد ہائیکورٹ میں ججز تبادلے کیخلاف سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں ججز تبادلے کیخلاف سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر

    اسلام آباد:کراچی بار ایسوسی ایشن نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں ججز تبادلے کیخلاف سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر کردی۔

    باغی ٹی وی : درخواست ایڈووکیٹ فیصل صدیقی کے توسط سے دائر کی گئی ہے، جس میں صدر پاکستان ، وفاق اور رجسٹرار سپریم کورٹ کو فریق بنایا گیا،درخواست میں رجسٹرار لاہور ، اسلام آباد، سندھ اور بلوچستان ہائیکورٹ کو بھی فریق بنایا گیا ہے درخواست میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں ٹرانسفر شدہ ججز اور متاثرہ ججز کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔

    درخواست آئین کے آرٹیکل 184(3) کے تحت دائر کی گئی، جس میں استدعا کی گئی ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ ججز کی نئی سینارٹی کو کالعدم قرار دیا جائے،قائم مقام چیف جسٹس ہائیکورٹ کی تقرری کے نوٹیفکیشن کو بھی کالعدم قرار دیا جائے ۔

    عامر خان اور گوری خان کی محبت کی کہانی کیسے شروع ہوئی،دونوں نےخاموشی توڑ دی

    درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ججز ٹرانسفر کے حوالے سے آئین صدر کو غیر محدود اختیار نہیں دیتا۔ صدر کا اقدام عدلیہ کی آزادی اور اختیارات کی تقسیم کےاصولوں کے منافی ہےصدر کے آرٹیکل 200(1) کے تحت حاصل اختیارات کو آئین کے آرٹیکل 175A کے ساتھ پڑھا جانا چاہیے، ججز ٹرانسفر کا نوٹیفکیشن غیر آئینی اور غیر قانونی ہے۔

    کراچی بار ایسوسی ایشن کی درخواست میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں ججز ٹرانسفر کسی عوامی مفاد کو ظاہر کرنے میں ناکام رہا ہے ٹرانسفر شدہ ججز کو اسلام آباد ہائی کورٹ کا جج نہیں سمجھا جا سکتا، ٹرانسفر شدہ ججز کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کے طور پر دوبارہ حلف اٹھانا ہوگا،سپریم کورٹ ججز ٹرانسفر کے نوٹیفکیشن کو کالعدم قرار دے۔

    منشیات کیس : مرحوم مصطفی عامر کے خلاف مقدمہ ختم

    درخواست میں کہا گیا کہ اس وقت کے چیف جسٹس عامر فاروق کے انٹرا کورٹ ڈیپارٹمنٹل ریپریزنٹیشن کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے، اسلام آباد ہائیکورٹ کی نئی سنیارٹی لسٹ کو غیر آئینی قرار دیا جائے اور قائم مقام چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کی تقرری کے حوالے سے جاری نوٹیفکیشن کا بھی کالعدم قرار دیا جائے۔

  • ارشد شریف قتل ازخود نوٹس کیس سماعت کیلئے مقر ر

    ارشد شریف قتل ازخود نوٹس کیس سماعت کیلئے مقر ر

    اسلام آباد: سپریم کورٹ میں ارشد شریف قتل ازخود نوٹس کیس سماعت کیلئے مقر ر کردیا گیا ۔

    باغی ٹی وی: رپورٹ کے مطابق جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں پانچ رکنی آئینی بنچ ارشد شریف قتل ازخود نوٹس کیس کی سماعت کرے گا،جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں پانچ رکنی آئینی بنچ کل جمعہ کے روز سماعت کرے گا، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر بینچ میں شامل ہوں گےجسٹس نعیم اختر افغان، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس شاہد بلال بینچ کا حصہ ہیں۔

    ارشد شریف اگست 2022 میں اپنے خلاف کئی مقدمات درج ہونے کے بعد پاکستان چھوڑ گئے تھے، ابتدائی طور پر وہ متحدہ عرب امارات میں رہے، جس کے بعد وہ کینیا چلے گئے جہاں انہیں اکتوبر 2022 میں قتل کردیا گیا تھا۔

    ہائی کورٹس خودمختار ادارے،معاملات میں مداخلت مناسب نہیں،چیف جسٹس

    ابتدائی طور پر کینیا کے میڈیا نے مقامی پولیس کے حوالے سے کہا تھا کہ ارشد شریف کو پولیس نے غلط شناخت پر گولی مار کر ہلاک کر دیا، بعد میں کینیا کے میڈیا کی رپورٹس نے قتل سے متعلق واقعات کی رپورٹنگ کرتے ہوئے بتایا کہ ارشد شریف کے قتل کے وقت ان کی گاڑی میں سوار شخص نے پیراملٹری جنرل سروس یونٹ کے افسران پر گولی چلائی،اس کے بعد حکومت پاکستان نے تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی جو قتل کی تحقیقات کے لیے کینیا گئی تھی۔

    میرے برعکس ایمن خان کو ہمیشہ محبت اور احترام ملا ہے،منال خان

    کینیا کے میڈیا میں فوری طور پر رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ارشد شریف کے قتل کا واقعہ پولیس کی جانب سے شناخت میں ’غلط فہمی‘ کے نتیجے میں پیش آیاپولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ ارشد شریف اور ان کے ڈرائیور نے ناکہ بندی کی مبینہ خلاف ورزی کی جس پر پولیس کی جانب سے فائرنگ کی گئی، سر میں گولی لگنے کی وجہ سے ارشد شریف موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے جبکہ ان کے ڈرائیور زخمی ہوگئے۔

    میرے برعکس ایمن خان کو ہمیشہ محبت اور احترام ملا ہے،منال خان

    لیکن بعدازاں پاکستانی تفتیش کاروں کی ایک ٹیم نے کہا تھا کہ ارشد شریف کی موت منصوبہ بندی کے ساتھ کیا گیا قتل تھاارشد شریف کی بیوہ جویریہ صدیق نے کینیا پولیس یونٹ کے خلاف وہاں کی مقامی عدالت میں مقدمہ درج کیا گیا تھا کینیا کی پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ ارشد شریف نیروبی کے باہر پولیس چیک پوسٹ پر نہیں رکے تھے لیکن ان کے اہل خانہ اور پاکستانی تفتیش کاروں نے اس مؤ قف کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ارشد شریف کے قتل کا منصوبہ پاکستان میں بنایا گیا تھا۔

    شریف اللّٰہ کو کس قانون کے تحت امریکا کے سپرد کیا گیا،وزارت قانون بتا سکتا، ترجمان دفترخارجہ

  • ہائی کورٹس خودمختار ادارے،معاملات میں مداخلت مناسب نہیں،چیف جسٹس

    ہائی کورٹس خودمختار ادارے،معاملات میں مداخلت مناسب نہیں،چیف جسٹس

    اسلام آباد: ملتان اور جھنگ کی ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشنز کے وفود نے چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی سے ملاقات کی –

    باغی ٹی وی: ملتان اور جھنگ کی ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشنز کے وفود نے چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی سے سپریم کورٹ اسلام آبادمیں ملاقات کی, ملاقات کے اعلامیہ میں کہا گیا کہ چیف جسٹس نے وفد کا خیرمقدم کیا، وفد نے خدشات سے متعلق چیف جسٹس کو آگاہ گیا.

    ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشنز کے وفد نے پنجاب میں ہائی کورٹ اور بارز کے درمیان رابطے اور ہم آہنگی کے فقدان کے مسائل کو اجاگر کیا،چیف جسٹس نے واضح کیا کہ ہائی کورٹس خودمختار ادارے ہیں اور ان کے معاملات میں مداخلت کرنا مناسب نہیں ہو گا.

    پاکستان اور افغانستان کے شہریوں کا امریکا میں داخلہ بند ہونیکا امکان

    چیف جسٹس پاکستان نے تجویز دی معاملے کو لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے ساتھ زیر بحث لایا جا سکتا ہے چیف جسٹس نے بار کونسلز کی قانون و انصاف کمیشن آف پاکستان میں نمائندگی پر بھی روشنی ڈالی، چیف جسٹس نے وفد کو قانون و انصاف کمیشن کے آئندہ اجلاس کے بارے میں آگاہ کیا.

    چیف جسٹس نے وفد کو وفاقی عدالتی اکیڈمی کے تحت جاری تربیتی پروگراموں کے بارے میں آگاہ کیا، پروگرام فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں چیف جسٹس نے وفد کو ایکسس ٹو جسٹس ڈویلپمنٹ فنڈ کے بارے میں آگاہ کیا، چیف جسٹس نے بار ممبران کو ایکسس ٹو جسٹس ڈویلپمنٹ فنڈ کے تحت معاونت حاصل کرنے کی ترغیب دی.

    افغانستان میں چھوڑا امریکی اسلحہ پاکستان کیخلاف استعمال ہو رہا،عرفان صدیقی

    وفد نے چیف جسٹس کو ڈسٹرکٹ بارز کے دورے کی دعوت بھی دی، چیف جسٹس نے قانونی برادری کے ساتھ روابط کو اپنی ترجیح قرار دیا اور بتایا سب سے پہلے دور دراز اور پسماندہ علاقوں کا دورہ کرنا چاہتے ہیں، چیف جسٹس نے وفد کو یقین دلایا کہ مناسب وقت پر وفد کی بار کا بھی دورہ کریں گے۔