Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • وفاق نےقاضی فائز عیسیٰ کیخلاف دائردرخواست واپس لینےکیلئےمتفرق درخواست دائرکردی

    وفاق نےقاضی فائز عیسیٰ کیخلاف دائردرخواست واپس لینےکیلئےمتفرق درخواست دائرکردی

    اسلام آباد : وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے سینئیر جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف دائر درخواست واپس لینے کیلئے سپریم کورٹ میں متفرق در خواست دائر کردی۔

    باغی ٹی وی : وفاقی حکومت کی جانب سے درخواست اے او آر نے دائر کی جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ حکومت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف دائر کیوریٹو درخواست کی پیروی نہیں کرنا چاہتی اس لیے حکومت سپریم کورٹ میں دائیر کیوریٹو ریویو واپس لے رہی ہے-

    اغوا برائے تاوان کی واردات طالبعلم قتل،پولیس مقابلےمیں ساتھیوں کی فائرنگ سےبچےکا ٹیچر ہلاک

    وفاقی حکومتی جانب سے دائر درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت کیس واپس لینے کی اجازت دے۔

    یاد رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے سپریم کورٹ کے سینیئر جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف کیوریٹو ریویو ریفرنس واپس لینےکاحکم دیا تھا وزیراعظم نے وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف کیوریٹیو ریویو ریفرنس واپس لینے کی ہدایت کی تھی-

    حکومت کا مؤقف ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف کیوریٹو ریویو ریفرنس کمزور اور بے بنیاد وجوہات پر دائر کیا گیا تھا لہٰذا حکومت نے اس کی پیروی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، وزیراعظم کی زیر صدارت کابینہ پہلے ہی اس فیصلے کی منظوری دے چکی ہے۔

    چند ججز عمران خان کوریلیف دینا چاہتے ہیں،مولانا فضل الرحمان

    اس حوالے سے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ ریفرنس کے نام پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور ان کے اہل خانہ کو ہراساں اور بدنام کیاگیا یہ ریفرنس نہیں تھاآئین اور قانون کی راہ پر چلنےوالےایک منصف مزاج جج کےخلاف ایک منتقم مزاج شخص عمران خان کی انتقامی کارروائی تھی یہ ریفرنس عدلیہ کی آزادی پرشب خون اوراسےتقسیم کرنےکی مذموم سازش تھی، پاکستان مسلم لیگ (ن) اوراتحادی جماعتوں نے اپوزیشن کے دور میں بھی اس جھوٹے ریفرنس کی مذمت کی تھی-

    شہباز شریف نے کہا تھا کہ عمران خان نے صدر کے آئینی منصب کا اس مجرمانہ فعل کے لیے ناجائز استعمال کیا، صدر عارف علوی عدلیہ پر حملے کے جرم میں آلہ کار اور ایک جھوٹ کے حصہ دار بنے، پاکستان بار کونسل سمیت وکلا تنظیموں نے بھی اس کی مخالفت کی تھی، ہم ان کی رائے کی قدر کرتے ہیں-

    منصوررانا نے پاکستانی شاہینز کےساتھ زمبابوےجانےسےمعذرت کرلی

    واضح رہے کہ عمران خان دور حکومت میں پہلے جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کو ہٹانے کیلئے ان کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کیا گیا تھا سپریم کورٹ کے سینئر ترین ججز میں سے ایک جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کا معاملہ مئی 2019 کے اواخر میں سامنے آیامئی 2019 سے جون 2020 تک یہ معاملہ تقریباً 13 ماہ تک چلا، جہاں سپریم کورٹ میں اس کیس کی 40 سے زیادہ سماعتیں ہوئیں۔

    سپریم جوڈیشل کونسل میں صدر مملکت کیجانب سے بھجوائے گئے ریفرنس میں جسٹس فائزعیسیٰ پریہ الزام لگایا گیا تھاکہ انہوں نے برطانیہ میں اپنی ان جائیدادوں کوچھپایا جو مبینہ طور پر ان کی بیوی اور بچوں کےنام ہیں صدارتی ریفرنس میں اثاثوں کےحوالے سے مبینہ الزامات عائد کرتے ہوئے سپریم جوڈیشل کونسل سے آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی کی استدعا کی گئی تھی۔

    رواں سال پاؤنڈ کی قدر میں اضافہ، بینک آف انگلینڈ کیجانب سے شرح سود میں …

    تاہم 7 اگست 2019 کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے خلاف صدارتی ریفرنس کو ذاتی طور پر عدالت عظمیٰ میں چیلنج کردیا تھا جس پر پہلے سپریم کورٹ نے ایف بی آر کو تحقیقات کر کے رپورٹ جمع کروانے کا حکم دیا تھا۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور بارز نے اس فیصلے کے خلاف نظر ثانی دائر کی اور نظرثانی درخواستوں میں اکثریتی فیصلے کے ذریعے ساری کارروائی کو ختم کردیا گیا تھا تاہم جس کے بعد دوبارہ اُس وقت کی حکومت نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف کیوریٹو ریویو کے نام سے درخواست دائر کردی تھی جسے اب حکومت نے واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

    مارچ میں مہنگائی 3.72 فیصد بڑھی،ادارہ شماریات

  • چند ججز عمران خان کوریلیف دینا چاہتے ہیں،مولانا فضل الرحمان

    چند ججز عمران خان کوریلیف دینا چاہتے ہیں،مولانا فضل الرحمان

    اسلام آباد: حکومت میں شامل جماعتوں کے اہم مشاورتی اجلاس میں اہم فیصلے کر لئے-

    باغی ٹی وی: حکمران جماعتوں نے چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا ،حکمران جماعتوں نے اعلامیے میں کہا کہ تین رکنی بینچ پر اعتماد نہیں ہے، سپریم کورٹ کا لارجر بینچ پہلے ہی کا تین کے مقابلے چار ججوں کی اکثریت سے انتخابی درخواستیں خارج کرچکا ہے –

    اغوا برائے تاوان کی واردات طالبعلم قتل،پولیس مقابلےمیں ساتھیوں کی فائرنگ سےبچےکا ٹیچر ہلاک

    اعلامیے میں کہا کہ چیف جسٹس اکثریتی پر اقلیتی فیصلہ مسلط کرنا چاہتے ہیں پاکستان بار کونسل اور دیگر بار ایسوسی ایشنز کی آرٹیکل 209 کے تحت دائر ریفرنسز پر کارروائی کی جائےجسٹس فائز عیسیٰ کی سربراہی میں بینچ نے 184 (3 ) کے تحت زیر سماعت مقدمات پر کارروائی سے روکنے کا کہا ہے-

    حکمران جماعتوں نے اعلامیے میں کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ بینچ کے فیصلےکا احترام کرنا بھی سب پرلازم ہےجسٹس اعجازالا حسن کا دوبارہ تین رکنی بینچ میں شامل ہونا غیر منصفانہ ہے یہ عمل سپریم کورٹ کے طریقہ کار اور نظائر کی بھی صریح خلا ف ورزی ہے-

    رواں سال پاؤنڈ کی قدر میں اضافہ، بینک آف انگلینڈ کیجانب سے شرح سود میں …

    اعلامیے میں کہا گیا کہ سیاستدانوں سے کہاجارہا ہے کہ وہ مل کر بیٹھیں لیکن سپریم کورٹ خود تقسیم ہے ان حالات کا تقاضا ہے کہ چیف جسٹس پاکستان اور تین رکنی بینچ کے دیگر جج صاحبان مقدمے سے دستبردار ہوجائیں اجلاس کا پارلیمنٹ کی حالیہ قانون سازی کی بھرپور تائید اور حمایت کا اعلان کیا-

    حکمران جماعتوں نے کہا کہ قانون سازی سے عوام الناس کے ساتھ یک طرفہ انصاف کی روش کا خاتمہ ہوگاپارلیمنٹ نے قانون سازی کے ذریعے آرٹیکل 184 (3) سے متعلق اپنی رائے واضح کردی ہےپارلیمنٹ بالا دست ہے جس کی رائے کا سب کو احترام کرنا چاہیے ا مید ہے کہ صدر قانون سازی کی راہ میں جماعتی وابستگی کی بنیاد پر رکاوٹ نہیں بنیں گے-

    اجلاس میں حکمران جماعتوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کے معاملے میں خصوصی امتیازی رویے کے تاثر کو چیف جسٹس ختم کریں-

    حکمران اتحاد کا تین رکنی بنچ کے بائیکاٹ کا فیصلہ

    دوسری جانب پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) و جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے حکومتی اتحادیوں کے اہم اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ چیف جسٹس اقلیت کےفیصلے کو اکثریت کے فیصلے پر مسلط کرنا چاہتے ہیں، 3ججزپرمشتمل بنچ پراعتماد نہیں، اخلاقی طورپرچیف جسٹس اور دیگر دو ججز کو اس کیس سے الگ ہوجانا چاہیے۔

    انہوں نے کہا کہ عمران خان اداروں میں تقسیم چاہتے ہیں، دھاندلی کے دوبڑے مجرم دندناتے پھررہے ہیں ان کے خلاف ازخودنوٹس نہیں لیا جارہا چند ججز عمران خان کوریلیف دینا چاہتے ہیں، پی ڈی ایم کو ان تین ججزپرمشتمل بینچ پراعتماد نہیں، اس بینچ میں ایسا جج بھی ہے جس نے پہلے سماعت سے معذرت کی پھر واپس آ کر بیٹھ گیا، ہماری نظر میں سپریم کورٹ کا یہ تین بینچ دو صوبوں کے کیس میں واضح طور پر فریق کا کردار ادا کر رہا ہے۔

    رواں سال پاؤنڈ کی قدر میں اضافہ، بینک آف انگلینڈ کیجانب سے شرح سود میں اضافہ متوقع

    فضل الرحمان کا کہنا تھاکہ ملک کو ایک رکھنے کےلیے ایک الیکشن ہونا ضروری ہے، چیف جسٹس ہمیں نصیحت کررہے ہیں کہ مل بیٹھ کر طے کریں، ہمیں تو مل بیٹھنے کی تلقین کر رہے ہیں اور خود اپنی کورٹ کو تقسیم کردیا۔

  • بند گلی میں پہنچ چکے،کوئی راستہ بن سکتا تو وہ فل کورٹ ہے،خورشید شاہ

    بند گلی میں پہنچ چکے،کوئی راستہ بن سکتا تو وہ فل کورٹ ہے،خورشید شاہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پیپلز پارٹی کے رہنما، وفاقی وزیر سید خورشید احمد شاہ نے کہا ہے کہ سیاسی بحران پیچھے رہ گیا، آئینی بحران نے ملک کو لپیٹ میں لے لیا

    خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ آئینی و سیاسی بحران کے حل کے لیے نہ کوئی ادارہ بچا، نہ شخصیت، ہم بند گلی میں پہنچ چکے،اگر کوئی راستہ بن سکتا تو وہ فل کورٹ ہے۔ فل کورٹ کے ذریعے عدلیہ آئینی بحران سے نکلنے کی راہ تلاش کرے۔ آئینی و سیاسی معاملات بند گلی میں چلے جائیں تو گھڑی کی ٹک ٹک شروع ہو جاتی۔تجربے سے بتا رہا وقت بہت کم ہے، حل نہ نکالا تو کچھ بھی ہو سکتا۔اگر کچھ غلط ہوا تو اہم ادارے ذمہ دار ہوں گے۔ ضد اور انا نے ملک کو اس دلدل تک پہنچایا ہے۔ افسوسناک صورتحال ہے سیاسی بحران کو حل کرنے کی بجائے سنگین آئینی بحران پیدا کر دیا گیا۔

    سید خورشید شاہ کا مزید کہنا تھا کہ سیاسی بحران کی ذمہ داری کا حقیقی تعین کرنا تو جنرل پاشا سے شروع کریں۔جنرل پاشا، جنرل ظہیر اسلام، جنرل فیض، سب نے عمران خان کی آبیاری کی۔عمران خان کو مسلط کرنا ہی ملک کو درپیش خرابی کی اصل بنیاد ہے۔ سپریم کورٹ نے فل کورٹ کے ذریعے راستہ نہ نکالا تو پھر کوئی راستہ نہیں نکلتا،بار بار کہہ رہا ہوں۔ اب صرف فل کورٹ، صرف فل کورٹ ورنہ صرف پچھتاوا۔

     فیصلے کی نہ کوئی قانونی حیثیت ہوگی نہ اخلاقی

     چیف جسٹس کی سربراہی میں بینچ کا بار بار ٹوٹنا سوالیہ نشان ہے،

     انصاف ہونا چاہیئے اور ہوتا نظر بھی آنا چاہیئے،

     عدالتوں میں کیسسز کا پیشگی ٹھیکہ رجسٹرار کو دے دیا جائے

     آئندہ ہفتے مقدمات کی سماعت کے لئے بنچز تشکیل

  • سپریم کورٹ،آئندہ ہفتے مقدمات کی سماعت کے لئے بنچز تشکیل

    سپریم کورٹ،آئندہ ہفتے مقدمات کی سماعت کے لئے بنچز تشکیل

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ نے آئندہ ہفتے مقدمات کی سماعت کے لئے بنچز تشکیل دے دیئے ہیں

    سپریم کورٹ کے تمام 15 ججزآئندہ ہفتے اسلام آباد میں ہی مقدمات کی سماعت کریں گے، بنچ 1 چیف جسٹس آف پاکستان عمرعطا بندیال اورجسٹس محمد علی مظہر پر مشتمل ہوگا،بنچ دو،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس یحییٰ آفریدی پر مشتمل ہو گا،بنچ 3 جسٹس سردار طارق مسعود، جسٹس امین الدین اور جسٹس اطہر من اللہ پرمشتمل ہوگا، بنچ4 جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس حسن اظہررضوی پر مشتمل ہو گا جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس جمال مندوخیل بنچ 5 کا حصہ ہونگے،بنچ 6 جسٹس منیب اختر اور جسٹس مظاہر اکبر نقوی پر مشتمل ہو گا،بنچ 7 جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس شاہد وحید پر مشتمل ہو گا

    خصوصی بنچ 1 چیف جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس منیب اختر پرمشتمل ہو گا ،خصوصی بنچ 4 جسٹس منیب اختر، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس عائشہ ملک پر مشتمل ہو گا

     فیصلے کی نہ کوئی قانونی حیثیت ہوگی نہ اخلاقی

     چیف جسٹس کی سربراہی میں بینچ کا بار بار ٹوٹنا سوالیہ نشان ہے،

     انصاف ہونا چاہیئے اور ہوتا نظر بھی آنا چاہیئے،

     عدالتوں میں کیسسز کا پیشگی ٹھیکہ رجسٹرار کو دے دیا جائے

  • مسلم لیگ اعلانیہ آئین سے بغاوت کی دھمکی دے رہی ہے،اسد عمر

    مسلم لیگ اعلانیہ آئین سے بغاوت کی دھمکی دے رہی ہے،اسد عمر

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر نے سپریم کورٹ میں الیکشن کے کیس کے حوالہ سے حکمران اتحاد پر کڑی تنقید کی ہے

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے اسد عمر کا کہنا تھا کہ مارچ کے مہینے میں پاکستان کی 75 سالہ تاریخ کے ماہانہ مہنگائی کا ریکارڈ ٹوٹ گیا۔ 35.4% افراط زر کی شرح۔ قوم کی کمر توڑ دی مہنگائی سے اور ان کو جبر اور فسطائیت سے فرصت نہیں ،سپریم کورٹ کا فیصلہ قبول نہیں کریں گے جب تک فل کورٹ نہ بیٹھے۔ یعنی مسلم لیگ اعلانیہ آئین سے بغاوت کی دھمکی دے رہی ہے۔ سپریم کورٹ کے رولز کے مطابق اس نوعیت کا مقدمہ 2 رکنی بینچ بھی سن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مقدمے کی اہمیت زیادہ ہے۔ وہ مقدمہ جو کورٹ کے از خود نوٹس سے سنا گیا، جس کے نتیجے میں عمران خان کی منتخب حکومت ختم ہو گئی، تو وہ کیا فل کورٹ نے سنا تھا؟ جی نہیں۔ وہ مقدمہ ایک 5 رکنی بینچ نے سنا تھا جس کا فیصلہ نہ صرف اس حکومت نے قبول کیا بلکہ شکریہ بھی ادا کیا ،

    اسد عمر کا مزید کہنا تھا کہ ان کی آخری دلیل کہ جو ججز اس بینچ پر ہیں وہ جانبدار ہیں۔ جناب عمران خان کو گھر بھیجنے والے مقدمے کا از خود نوٹس عمر عطا بندیال نے لیا۔ جس 5 رکنی بینچ نے قاسم سوری کی رولنگ کو کالعدم قرار دیا اس میں موجودہ بینچ کے تینوں ججز۔۔ عمر بندیال، اعجازالاحسن اور منیب اختر اس کا حصہ تھے ،ان حقائق کی روشنی میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ جو چیخیں آپ حکومتی نمائندوں سے سن رہے ہیں وہ نہ بینچ کی وجہ سے ہیں نا رولز کی وجہ سے۔ ان کا مسئلہ یہ ہے کے آئین 90 دن میں الیکشن پر واضح ہے اور الیکشن ان کو اپنی سیاسی موت نظر آ رہی ہے

     انتخابات ملتوی کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت کیلئے دوبارہ بینچ تشکیل

     چیف جسٹس کی سربراہی میں بینچ کا بار بار ٹوٹنا سوالیہ نشان ہے،

     انصاف ہونا چاہیئے اور ہوتا نظر بھی آنا چاہیئے،

     ون مین شو چلایا جارہا ہے، عوام تسلیم نہیں کریگی 

     حکومت عدالتی فیصلہ کیسے نہیں مانے گی؟ یہ کون ہوتے ہیں نہ ماننے والے

  • ہم آئین پر عمل چاہتے ہیں،شاہ محمود قریشی

    ہم آئین پر عمل چاہتے ہیں،شاہ محمود قریشی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے رہنما، شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ فل کورٹ بنائیں،

    شاہ محمود قریشی نے عدالت پیشی کے موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آئین پر عمل نہ کیا گیا تو ملک کو بہت نقصان ہو گا،چیف جسٹس نے آئین و قوانین کے مطابق 3 رکنی بینچ بنایا، تحریک انصاف چیف جسٹس آف پاکستان کیساتھ ہے، حکومت آئین پر حملہ کر رہی ہے، ہم آئین پر عمل چاہتے ہیں، مجھ پر الزام ہے کہ میں نے لوگوں کو اکسایا،میں اکسانے والوں میں سے نہیں سمجھانے والوں میں سے ہوں،کل کور کمیٹی میٹنگ میں سپریم کورٹ کی آُب بیتی بیان کی، سیاسی جماعتوں سے رجوع کر نے کا فیصلہ کیا ہے علی ظفر نے عدالت میں ہمارا نقطہ نظر پیش کر دیا،متفقہ آئین پر حملہ ہو رہا ہے اور بلاول خاموش ہیں اگر کسی قسم کی آئین شکنی کی کوشش کی گئی تو پوری قوم، وكلا برادری اور اوورسیز پاکستانی ان کا محاسبہ کریں گے

     انتخابات ملتوی کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت کیلئے دوبارہ بینچ تشکیل

     چیف جسٹس کی سربراہی میں بینچ کا بار بار ٹوٹنا سوالیہ نشان ہے،

     انصاف ہونا چاہیئے اور ہوتا نظر بھی آنا چاہیئے،

     ون مین شو چلایا جارہا ہے، عوام تسلیم نہیں کریگی 

    شاہ محمود قریشی کا مید کہنا تھا کہ عدلیہ آئین کا تحفظ کررہی ہے تو خود کو تنہا نہ سمجھے، ہم عدالتی فیصلے کے منتظر ہیں، عدالت آئین کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلہ کرے تو انتخابات کی توقع کی جا سکتی ہے حکومت عدالتی فیصلہ کیسے نہیں مانے گی؟ یہ کون ہوتے ہیں نہ ماننے والے، پوری قوم ان کا محاصرہ اور محاسبہ کرے گی

  • سپریم کورٹ کا ازخود نوٹس خارج کیا جاتا ہے.جسٹس یحیٰی آفریدی کا تفصیلی نوٹ جاری

    پنجاب اورخیبرپختونخوا انتخابات کیس میں جسٹس یحییٰ آفریدی نے تفصیلی نوٹ جاری کر دیا

    جسٹس یحییٰ آفریدی نے تفصیلی نوٹ میں کہا ہے کہ انتخابات کا معاملہ لاہوراور پشاور ہائیکورٹس میں زیر التوا ہے سپریم کورٹ ماضی میں قرار دے چکی کہ معاملہ ہائیکورٹ میں ہو تو مداخلت نہیں ہو سکتی انتخابات کیس میں فریقین سیاسی موقف تبدیل کرتے رہے ہیں سیاسی معاملہ عروج پر ہو تو عدالت کو مداخلت سے گریز کرنا چاہئے،ازخودنوٹس اور آئینی درخواستیں ناقابل سماعت ہیں، سپریم کورٹ کا از خود نوٹس خارج کیا جاتا ہے۔

    جسٹس یحییٰ آفریدی نے اپنے نوٹ میں یہ بھی کہا کہ ازخود نوٹس اور آئینی درخواستیں ناقابل سماعت ہیں خود کو بینچ کا حصہ رکھنے کا معاملہ چیف جسٹس پر چھوڑتا ہوں

     فیصلے کی نہ کوئی قانونی حیثیت ہوگی نہ اخلاقی

     چیف جسٹس کی سربراہی میں بینچ کا بار بار ٹوٹنا سوالیہ نشان ہے،

     انصاف ہونا چاہیئے اور ہوتا نظر بھی آنا چاہیئے،

     عدالتوں میں کیسسز کا پیشگی ٹھیکہ رجسٹرار کو دے دیا جائے

    واضح رہے کہ پنجاب اور خیبر پختونخواہ میں الیکشن بارے سپریم کورٹ نے از خود نوٹس لیا تھا، کیس کی سماعت کے لئے نو رکنی بینچ تھا تا ہم آج کے دن میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، اٹارنی جنرل اور سیاسی جماعتوں نے فل کورٹ کی استدعا کی جو مسترد کر دی گئی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں بینچ نے پیر کو سیکرٹری دفاع، خزانہ کو طلب کر لیا

  • ازخود نوٹس،رجسٹرار کا سرکلر،سابق صدر سپریم کورٹ بار کی مذمت

    ازخود نوٹس،رجسٹرار کا سرکلر،سابق صدر سپریم کورٹ بار کی مذمت

    سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر امان اللہ کنرانی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ آج پاکستان و دنیا کی عدالتی تاریخ میں پہلی مرتبہ ‏سپریم کورٹ پاکستان کے ایک بنچ کے عدالتی فیصلے کو ایک انتظامی سرکلر کے ذریعے رد کرنا COAS کامارشل لاء ریگولیشن کے زریعے آئین کو معطل کرنے کے عمل کے مترادف ہے

    امان اللہ کنرانی کا کہنا تھا کہ رجسٹرار سپریم کورٹ کی یہ دیدہ دلیری و دیگر ججوں کی بے بسی سپریم کورٹ کو تالا لگانے کے برابر، جج صاحبان کے منہ پرطمانچہ اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے چہرے پر کالک ہے ہم اس بیہودہ و بدنیتی آئین و قانون سے ماوراء جرات کو آئین و عدالتی نظام عدل پر جارحانہ حملہ سمجھتے ہوئے اس کو رد کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں یہ سلسلہ جاری رہا تو پھر عدالتوں میں کیسسز کا پیشگی ٹھیکہ رجسٹرار کو دے دیا جائے اور فیصلہ کریں کونسا فیصلہ قابل پیروی ہے یا نہیں ہے عدالتی میلہ و ٹھیلہ لگانے کی ہر گز ضرورت نہیں 15 جج صاحبان کو گھر بھیج دیا جائے کیونکہ ماضی میں ہر موضوع و معاملہ میں عدالتی فیصلے موجود ہیں اس کی روشنی میں رجسٹرار کو بچہ سکہ یا رنجیت سنگھ کا درجہ دیا جائے ھم ایسے عمل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں .

    واضح رہے کہ از خود نوٹس کیس کے حوالہ سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا فیصلہ آنے کے بعد آج رجسٹرا سپریم کورٹ نے سرکلر جاری کیا جس میں کہا گیا کہ جسٹس قاضی فائز عیسی کے فیصلے میں ازخود نوٹس کا اختیار استعمال کیا گیا، اس انداز میں بنچ کا سوموٹو لینا پانچ رکنی عدالتی حکم کی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے ،سوموٹو صرف چیف جسٹس آف پاکستان ہی لے سکتے ہیں،فیصلے میں دی گئی آبزرویشن کو مسترد کیا جاتا ہے

     فیصلے کی نہ کوئی قانونی حیثیت ہوگی نہ اخلاقی

     چیف جسٹس کی سربراہی میں بینچ کا بار بار ٹوٹنا سوالیہ نشان ہے،

     انصاف ہونا چاہیئے اور ہوتا نظر بھی آنا چاہیئے،

    سوشل میڈیا چیٹ سے روکنے پر بیوی نے کیا خلع کا دعویٰ دائر، شوہر نے بھی لگایا گھناؤنا الزام

    سابق اہلیہ کی غیراخلاقی تصاویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے والے ملزم پر کب ہو گی فردجرم عائد؟

    ‏سوشل میڈیا پرغلط خبریں پھیلانا اورانکو بلاتصدیق فارورڈ کرنا جرم ہے، آصف اقبال سائبر ونگ ایف آئی 

  • آئین شکن کا خطاب ملنے پرججز کی تصاویر پرجوتے کس نے برسائے تھے؟ مریم نواز

    آئین شکن کا خطاب ملنے پرججز کی تصاویر پرجوتے کس نے برسائے تھے؟ مریم نواز

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز نے سابق وزیراعظم عمران خان پر کڑی تنقید کی ہے،

    مریم نواز نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ تمہیں آئین شکن کا خطاب ملنے پر ججز کی تصاویر پر جوتے کس نے برسائے تھے؟ عدالتوں کے باہر ٹرک کھڑے کرنے سے لے کر،سپریم کورٹ وچ ساڈے بندے بیٹھے نے،مظاہر نقوی کے سامنے پرویز الہی نے اپنا کیس لگوانے تک تمھارے سہولت کاروں نے جو دھبے اپنے اوپر لگوا لیے ہیں وہ انکا اور تمھارا پیچھا کریں گے

    ایک اور ٹویٹ میں مریم نواز کا کہنا تھا کہ جس کے اپنے برادرز ججز اُس پر عدم اعتماد کر دیں، سوالات اُٹھا دیں اُس کے دیے گئے فیصلے کی نہ کوئی قانونی حیثیت ہوگی نہ اخلاقی۔ چند سہولت کاروں کی جانب سے انصاف کے ایوان کو تحریک انصاف کا ایوان بننے سے روکنا پوری قوم کی ذمہ داری ہے۔ ون مین شو تباہی کا باعث بنے گا۔ جسٹس مندوخیل کی دعاوں میں شریک ہیں کہ اللّہ تعالی سپریم کورٹ آف پاکستان پر رحم فرمائے۔ آمین !

    دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ ایک پاگل جس کے ہاتھ میں ماچس ہے، ملک کو آگ لگانا چاہتا ہے، پہلے کاغذ لہرا کر سائفر کی کہانی گھڑی، قانون اور اسمبلی توڑی صدر ، ڈپٹی اسپیکر سے آئین شکنی کرائی، اسی شخص نے پنجاب اور کے پی کے اسمبلی توڑی،ججز کمیٹی کو بینچ بنانے کا فیصلہ کرنا چاہیئے تاکہ بینچ فکسنگ کا تاثر ختم ہو، ترازو کے پلڑے برابر نظر آنے چاہیئے،جسٹس اعجازالحسن 3 رکنی بینچ کا حصہ نہین بن سکتے ،تین رکنی بینچ کا فیصلہ عوام نہیں مانے گی ، پی ڈی ایم کا مطالبہ فل کورٹ بنائی جائے،دیگر جماعتوں کو بھی سماعت کا حصہ بنایا جائے، پوری سماعت متنازعہ ہو چکی ہے، رجسٹررار کا سرکلر ایک فرد کا فیصلہ ہے،اس بینچ نے فل کورٹ کے علاوہ کوئی فیصلہ کیا تو کون مانے گا، عمران خان ملک میں افراتفری چاہتا ہے،دہشتگرد زمان پارک میں پال کر پولیس پر پیٹرول بم پھینکے گئے، عمران خان عالمی سازش کے بیانیے میں پکڑا گیا،

     چیف جسٹس کی سربراہی میں بینچ کا بار بار ٹوٹنا سوالیہ نشان ہے،

     انصاف ہونا چاہیئے اور ہوتا نظر بھی آنا چاہیئے،

    سوشل میڈیا چیٹ سے روکنے پر بیوی نے کیا خلع کا دعویٰ دائر، شوہر نے بھی لگایا گھناؤنا الزام

    سابق اہلیہ کی غیراخلاقی تصاویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے والے ملزم پر کب ہو گی فردجرم عائد؟

    ‏سوشل میڈیا پرغلط خبریں پھیلانا اورانکو بلاتصدیق فارورڈ کرنا جرم ہے، آصف اقبال سائبر ونگ ایف آئی 

  • جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کیخلاف ریفرنس،صدر مملکت نے واپسی کی دی منظوری

    جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کیخلاف ریفرنس،صدر مملکت نے واپسی کی دی منظوری

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف کیوریٹیو ریویو ریفرنس واپس لینے کی منظوری دے دی

    صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سول ریویو پیٹیشن میں کیوریٹیو ریویو پیٹیشن اور سی ایم اے واپس لینے کی منظوری دے دی صدرمملکت نے منظوری آئین کے آرٹیکل 48 ایک کے تحت وزیراعظم کی ایڈوائس پر دی  صدر مملکت نے ایڈووکیٹ سپریم کورٹ انیس احمد شہزاد کے حق میں سند اختیار پر بھی دستخط کردیئے

    واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے گزشتہ روز جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کےخلاف کیوریٹیو ریویو ریفرنس واپس لینےکا حکم دیا تھا اور ان کے خلاف ریفرنس کی پیروی نہ کرنےکا فیصلہ کیا تھا,وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ریفرنس کے نام پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور ان کے اہل خانہ کو ہراساں اور بدنام کیا گیا، یہ ریفرنس نہیں تھا، آئین اور قانون کی راہ پر چلنے والے ایک منصف مزاج جج کے خلاف ایک منتقم مزاج شخص عمران نیازی کی انتقامی کارروائی تھی،یہ عدلیہ کی آزادی پر شب خون اور اسے تقسیم کرنے کی مذموم سازش تھی،پاکستان مسلم لیگ(ن) اور اتحادی جماعتوں نے اپوزیشن کے دور میں بھی اس جھوٹے ریفرنس کی مذمت کی تھی، عمران نیازی نے صدر کے آئینی منصب کا اس مجرمانہ فعل کے لئے ناجائز استعمال کیا، صدر عارف علوی عدلیہ پر حملے کے جرم میں آلہ کار اور ایک جھوٹ کے حصہ دار بنے، پاکستان بار کونسل سمیت وکلا تنظیموں نے بھی اس کی مخالفت کی تھی، ان کی رائے کی قدر کرتے ہیں،

    شیخوپورہ سے ہمیں اسلام آباد لا کر چھوڑ دیا گیا، خاتون کی دکھ بھری کہانی

    بڑے اسکولز میں کس طرح کے بگڑے بچے پڑھتے ہیں؟

    فاٹا کے جرگوں میں لڑکیوں کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟ 15 لاکھ میں ڈیل ڈن

    مردانہ کمزوری کی حقیقت کیا؟ہم ایسے سوالات کیوں نہیں اٹھاتے؟