Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • سپریم کورٹ،انتخابات کیس، سیکرٹری دفاع، سیکرٹری خزانہ  آٸندہ سماعت پر طلب

    سپریم کورٹ،انتخابات کیس، سیکرٹری دفاع، سیکرٹری خزانہ آٸندہ سماعت پر طلب

    پنجاب اور کے پی کے میں انتخابات ملتوی کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کا آغاز کر دیا ،پاکستان بار کونسل کے چیئرمین ایگزیکٹو کونسل عدالت میں پیش ہوئے، چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو بعد میں سنیں گے ، حسن رضا پاشا نے کہا کہ بار کا کسی کی حمایت سے کوئی تعلق نہیں ہے ،اس پر فل کورٹ نہیں بن رہا تو فل کورٹ میٹنگ بنا دیں چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس پر ہم سوچ رہے ہیں ججز کے آپس میں تعلق اچھے ہیں۔ کل اور آج دو ججوں نے سماعت سے معذرت کی باہمی اعتراف اور شائستہ گفتگو پہلے بھی ہوئی اور بعد میں بھی۔کچھ نقاط پر ہماری گفتگو ضروری ہے سیاسی معاملات سامنے آئے جس پر میڈیا اور پریس کانفرسنز سے تیل ڈالا گیا۔ عدالت نے سارے معاملے پر تحمل کا مظاہرہ کیا۔ کچھ لوگ چند ججز پر تنقید کررہے ہیں کچھ دوسرے ججز پر تنقید کررہے ہیں۔ ہم اس معاملہ کو بھی دیکھیں گے۔ اس معاملہ پر مجھے چیمبر میں ملیں،آج پہلی بار آپ عدالت آئے ہیں، باتوں سے نہیں عمل سے خود کو ثابت کریں،چیمبر میں آئیں آپ کا بہت احترام ہے،سپریم کورٹ بار کے صدر مجھ سے رابطے میں رہے ہیں،معاملہ صرف بیرونی امیج کا ہوتا تو ہماری زندگی پرسکون ہوتی، میڈیا والے بھی بعض اوقات غلط بات کردیتے ہیں،عدالت ہمیشہ تحمل کا مظاہرہ کرتی ہے، سماعت کے بعد کچھ ملاقاتیں کروں گا، تو قع ہے کہ پیر کا سورج اچھی نوید لے کر طلوع ہوگا،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب جو نکتہ اٹھانا چاہیں اٹھا سکتے ہیں، عدالت نے کچھ مقدمات میں حالات کی پیروی کے لیے فریقین کو ہدایت کی،اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت سے گزارش ہے کہ پہلے درجہ حرارت کم کریں،ملک میں ہر طرف درجہ حرارت کم کرنا چاہیئے ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ درجہ حرارت کم کرنے کے لیے آپ نے کیا کیا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ وقت کے ساتھ ہی درجہ حرارت کم ہو سکتا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے ہمیشہ آئین کو ہی فوقیت دی ہے،ججز کو دفاترسے نکال کر گھروں میں قید کیا گیا،معجزہ ہوا کہ ججز واپس دفاتر میں آ گئے،نوے کی دہائی میں کئی بہترین ججز واپس نہیں آ سکے آئین، جمہوریت کو زندہ رکھنا ہے، کل تک جیلوں میں رہنے والے آج اسمبلی میں تقاریر کر رہے ہیں،اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ عوام کے نمائندے ہیں، اسمبلی کی مدت ہوتی یے، ہاؤس کے سربراہ کو تحلیل کا ختیار ہے، نوے دن کا وقت اپریل میں ختم ہو رہا ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صدر نے نوے دن کی مدت کے پندرہ دن بعد تاریخ دی،صدر کو الیکشن کمیشن نے حالات نہیں بتائے تھے،صدر کو حالات سے اگاہ کیا ہوتا تو شاید 30 اپریل تاریخ نہ آتی عدالت کے سامنے مسئلہ اٹھ اکتوبر کی تاریخ کا ہے ،عدالت مشکلات پیدا کرنے نہیں بیٹھی عدالت کو ٹھوس وجہ بتائیں یا ڈائیلاگ ،ایک فریق پارٹی چیئرمین کی گارنٹی دے رہا ہے، شاید حکومت کو بھی ماضی بھلانا پڑے گا،اسمبلیوں کی مدت ویسے بھی اگست تک مکمل ہورہی ہے،اگر حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات ہوں تو کچھ دن وقفہ کرلیں گیے،اگر مذاکرات نہیں ہونے تو آئینی کردار ادا کریں گے،عدالتی فیصلہ دیکھ کر کہیں گے کہ بااختیار فیصلہ ہے۔ ہر فریق کے ہر نقطے کا فیصلے میں ذکر کریں گے، بیس ارب کی اخراجات پر پہلے عدالت کو بتائیں۔ اخراجات کم کرنے کی تجویز دی تھی،دوسرا مسئلہ سیکیورٹی کا ہے ،نصف پولنگ سٹیشن انتہائی حساس یا حساس ہیں، صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ ملک میں دہشتگردی ہے، دہشتگردی تو 90 کی دہائی سے ہے عدالت کو بتایا گیا کہ افواج بارڈر پر مصروف ہیں، اس معاملے کو بھی دیکھنا ہو گا،

    اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ آج عدالت کا جاری سرکلر دیکھا یے، جسٹس جمال مندوخیل کا نوٹ بھی پڑھا ہے، جسٹس جمال مندوخیل بینچ سے الگ ہو چکے ہیں ،دوسرا نقطہ یکم مارچ کے فیصلے کے تناسب کا ہے،تیسرا نکتہ یکم مارچ کے فیصلے کی بنیاد پر ہی ہے، موجودہ درخواست کی بنیاد یکم مارچ کا عدالتی حکم یے، نو رکنی بینچ کے دو اراکین نے رضا کارانہ بینچ سے علیدگی اختیار کی، چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو کس نے کہا کہ دو ججز بینچ سے الگ ہوئے تھے، عدالت کا ستائس فروری کا حکم پڑھیں اس میں کہاں لکھا ہے،؟ اٹارنی جنرل نے ستائیس فروری کا عدالتی حکم پڑھ کر سنایا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ معاملہ چیف جسٹس کو بینچ کی ازسر نو تشکیل کے لیے بھیجا گیا تھا،چاہتا تو تمام ججز کو بھی تبدیل کر سکتا تھا،اگر آپ وہی کرنا چاہتے ہیں جس سے مسئلہ بنا تو یہ ہماری پرائیوسی میں مداخلت ہوگی۔آرڈر میں دوبارہ بینچ کی تشکیل کا کہا گیا، بینچ کی تشکیل دینا چیف جسٹس کا اختیار ہے، دوبارہ 9 رکنی بینچ بنایا جاسکتا تھا، کتنے رکنی بینچ بنا یا ٹوٹا اس میں مت جائیں، ایسا کر کے آپ ہماری حدود میں مداخلت کر رہے ہیں۔ بینچ کی تشکیل ہمارا اندرونی معاملہ ہے، سپریم کورٹ کے اندرونی معاملات کو پبلک پر اچھالا جانا بدقسمتی ہے، بینچ کی تشکیل سپریم کورٹ کا اندرونی اختیار ہے ایک دوسرے کی عزت کریں تاکہ معاملات حل ہوں .دوبارہ بینچ کے معاملات میں مت جائیں،

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ آپ نے کہا کہ ججز نے سماعت سے معذرت نہیں کی تھی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں نے اس حوالے سے کچھ نہیں کہا،سماعت روکنے والا حکم ہم ججز آپس میں زیر بحث لائیں گے، آپ درجہ حرارت کم کرنے والی بات کر رہے تھے، ہم تو تنقید کا جواب بھی نہیں دے سکتے ججز کی اندرونی گفتگو عوام میں نہیں کرنی،اٹارنی جنرل نے کہا کہ پہلے دن فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا کی تھی ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس نکتے پر آپ دلائل ضرور دیں ،فل کورٹ والا معاملہ میرے ذہن میں تھا ،عدالتننگ بینچ بناتے وقت بہت کچھ ذہن میں رکھنا ہوتا ہے،ایک بات یہ زہن میں ہوتی ہے کہ معمول کے مقدمات متاثر نہ ہوں،موجودہ دور میں روز نمٹائے گیے مقدمات کی تعداد بڑھ رہی ہے، بعض اوقات تمام ججز دستیاب نہیں ہوتے،گزشتہ ہفتے کویٹہ کراچی اور لاہور میں بھی بینچ تھے اس ہفتے بھی لاہور میں بینچ تھا .فل کورٹ بنانے سے قبل کئی معاملات کو زیر غور رکھنا ہوتا ہے، دیکھنا ہوتا ہے بینچ بنانے سے دیگر کام نہ رکے، فل کورٹ بنانے سے دیگر کیسز متاثر ہوتے ہیں کئی مواقع پر ججز کی عدم موجودگی کے باعث فل کورٹ کا کام متاثر ہوتا ہے،نو رکنی بینچ تشکیل دیتے وقت تمام ججز کے بارے میں سوچا،جسٹس اطہر من اللہ کو آئین سے ہم آہنگ پایا، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس منیب اختر اور جسٹس اعجاز الاحسن بھی آئین کے ماہر ہیں،آپ پوچھ سکتے ہیں جسٹس مظاہر نقوی کیوں شامل کیے گئے، جسٹس مظاہر نقوی کو شامل کرنا خاموش پیغام دینا تھا،دو سال جسٹس فائز عیسیٰ کیس چلا اور عدالت کو سزا ملی ،جسٹس فائز عیسیٰ کے لیے بھی مقدمہ سزا ہی تھا، ہمارے ایک ساتھی کا دو سال ٹرائل کیا گیا،دو سال کے ٹرائل کے بعد بھی کچھ نہیں نکلا۔ سپریم کورٹ میں آج بھی اتفاق ہے، طاقت کے ایوانوں میں بیٹھے لوگوں کو اندازہ نہیں سپریم کورٹ کتنا متاثر ہورہی ہے، آج ججز کی آڈیوز لیک کی جارہی ہیں۔ سیاسی معاملات اور سنی سنائی باتوں پر نشانہ ججز کو بنایا جا رہا ہے، سپریم کورٹ متحد تھی کچھ معاملات میں اب بھی ہے، اہم عہدوں پر تعینات لوگ کس طرح عدلیہ کو نشانہ بنا رہے ہیں، مجھے کہا جا رہا ہے کہ ایک اور جج کو سزا دوں، جا کر پہلے ان شواہد کا جائزہ لیں۔سپریم کورٹ میں بیس سال کی نسبت بہترین ججز ہیں ،جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس شاہد وحید کے فیصلے پڑھیں، جسٹس شاہد وحید نے بہترین اختلافی نوٹ لکھا،آڈیو لیک کی بنیاد پر کیسے نشانہ بنایا جائے ،قانون پر بات کریں تو میں بطور جج سنوں گا، میرے ججز کے بارے میں بات کریں گے تو میرا سامنا کرنا پڑے گا،میرا بھی دل ہے میرے بھی جذبات ہیں، جو کچھ کیا پوری ایمانداری سے اللہ کو حاضر ناظر جان کر کیا ،جو کچھ آج تک کیا آئین اور قانون کے مطابق کیا ،ٹیکس کا معاملہ ہے تو متعلقہ افسر کو کہیں ٹریس کریں ٹیکس معاملے پر کیسے جج کا ٹرائل کریں، جسٹس اقبال حمید الرحمان کو استعفی سے روکا تھا، جسٹس اقبال حمید الرحمان نے کہا مرحوم باپ کو کیا منہ دکھاوں گا،چیف جسٹس کی کمرہ عدالت میں جذبات سے آواز بھر آئی

    دوران ریمارکس چیف جسٹس عمر عطا بندیال جذباتی ہوگئے، عرفان قادر نے چیف جسٹس عمر عطا بندیال سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں سماعت کے دوران جذباتی نہیں ہونا ہے،جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم تو تنقید کا جواب بھی نہیں دے سکتے ججز کی اندرونی گفتگو عوام میں نہیں کرنی چاہیے، درجہ حرارت کم کرنے والی آپشن پر ہی رہیں،ہمارے سامنے فاروق نائیک، اکرم شیخ اور دیگر سینئر وکلا موجود ہیں،ہم پہلے حکومت کا موقف سننا چاہتے ہیں، اٹارنی جنرل کی جانب سے عدالت کو معاشی صورتحال پر آگاہی دی گئی، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہمارا بجٹ میں خسارہ ہے،چیف جسٹس نے کہا کہ فرض کریں کہ اگر خسارہ اکتوبر تک رہا تو پھر کیا ہوگا،

    عرفان قادر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا موقف پورا نہیں سنا گیا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پہلے اٹارنی جنرل کو بات مکمل کرنے دیں، عرفان قادر نے کہا کہ میں صرف 3 منٹ بات کرتا ہوں،روز مجھے گھنٹوں بیٹھنا پڑتا ہے،آپ جذباتی ہوسکتے ہیں تو ہم بھی ہوسکتے ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو سنیں گے آپ نے 3 منٹ کا کہا ہے،عرفان قادر نے کہا کہ 3 منٹ نہیں بلکہ مختصرا بات مکمل کرنے کی کوشش کرونگا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب کیس کی بات کریںادھر ادھر کی باتوں سے میں جذباتی ہوگیا تھا،اٹارنی جنرل صاحب سکیورٹی اور فنڈز پر بات کریں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ پہلے سیاسی جماعتوں کو سن لیں، بعد میں دلائل دوں گا،معاشی حالات پر عدالت کو آگاہ کروں گا،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا آٹھ اکتوبر تک انتخابات ملتوی ہو سکتے ہیں اس پر جواب دیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فاروق ایچ نائیک ، اکرم شیخ اور کامران مرتضیٰ کو بھی سنیں گے، پہلے ریاست پاکستان کو سننا چاہتے ہیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ معاملہ بیس ارب کا نہیں پوری معیشت کا یے،ملک کو پندرہ سو ارب خسارے کا سامنا ہے، تیس جون تک شرح سود بائیس فیصد تک جا سکتی ہے،شرح سود بڑھنے سے قرضوں میں اضافہ ہوتا ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ کیا ماضی کے قرضوں پر بھی نئی شرح سود لاگو ہوتی ہے، جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ حکومت کے پاس اس وقت کتنا پیسہ موجود ہے،فیڈرل کونسلیڈیٹڈ فنڈز میں کتنی رقم موجود ہے، اگر بیس ارب خرچ ہوتے ہیں تو خسارہ کتنے فیصد بڑھے گا،پندرہ سو ارب خسارے میں بیس ارب سے کتنا اضافہ ہو گا، الیکشن اخراجات شاید خسارے کے ایک فیصد سے بھی کم ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ سپلیمنٹری بجٹ میں 170 ارب کی توقع ہے، اگر پورا جمع ہو گیا،جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ فیڈرل کونسلیڈیٹڈ فنڈز کس کے کنٹرول میں ہوتا ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ فنڈز وزارت خزانہ کے کنٹرول میں ہوتا ہے،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 2019 کے رولز پڑھ کر بتائیں فنڈ کس کے کنٹرول میں ہوتا ہے، پبلک فنانشل مینجمنٹ ایکٹ کے تحت رولز کا جائزہ لیں، رولز کے مطابق تو کونسلیڈیٹڈ فنڈز سٹیٹ بینک میں ہوتا ہے، سٹیٹ بینک کو بلا کر پوچھ لیتے ہیں ان کے پاس کتنا پیسہ ہے، الیکشن کمیشن حکومت کی جانب دیکھ رہا ہے ،کمیشن کہتا ہے کہ فنڈز مل جائیں تو تیس اپریل کو الیکشن کروا سکتے ہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فنڈز میں رقم ہونا اور خرچ کے لیے دستیاب ہونا الگ چیزیں ہیں ، سٹیٹ بینک کو رقم اور سونا ریزرو رکھنا ہوتا ہے،

    اٹارنی جنرل نے دوبارہ فل کورٹ بنانے کا مطالبہ کیا جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم تین دن سے آپ کو سن رہے ہیں،عدالت کا ایک ایک دن اہم ہے،آپ چاہتے ہیں بینچ میں مزید ججز شامل کریں تاکہ دلائل دوبارہ سے شروع کرنے پڑیں ، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بار بار فل کورٹ کے مطالبات کرنے کا کیا مقصد ہے؟ دنیا کے کسی عدالتی سسٹم میں ایسے مطالبات نہیں کیے جاتے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فل کورٹ پر کسی کو اعتراض نہیں ہوگا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ تاثر دینا کہ فل کورٹ پر اعتماد ہوگا یہ رویہ درست نہیں،عدالت کا ایک ایک لمحہ اہم ہے،ہمیں بتایا جائے کب الیکشن کرانے ہیں،ہم سیاسی جماعتوں سے بھی الیکشن سے متعلق یقین دہانیاں لیں گے، لگتا ہے اٹارنی جنرل کے پاس مزید کہنے کو کچھ نہیں،الیکشن کرانا وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے، ہمیں حکومت کی مشکلات کا اندازہ ہے، 90 روز کے اندر الیکشن نہیں کرائے جاسکے صرف یہ دیکھنا ہے مزید کتنے دن درکار ہوں گے الیکشن کیلئے،ہم اس عدالت میں تمام فریقین کو بلائیں گے، تمام فریقین سے معاونت کیلئے یقین دہانیاں لیں گے،سپریم کورٹ نے آئندہ سماعت ہر سیکریٹری خزانہ کو نوٹس جاری کردیے سیکرٹری دفاع اور سیکریٹری خزانہ سوموار کو ذاتی حیثیت میں عدالت طلب کر لیا گیا،سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کی فل کورٹ بنانے کی درخواست فی الحال مسترد کردی،

    سپریم کورٹ سماعت پیر صبح ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کر دی، سپریم کورٹ نے سیکرٹری دفاع اور سیکرٹری خزانہ کو آٸندہ سماعت پر طلب کر لیا

    قبل ازیں سپریم کورٹ کا بینچ دوسری بار ٹوٹنے پر وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے نئی صورتحال کے پیش نظر اٹارنی جنرل کو ایک بار پھر فل کورٹ کی استدعا کرنے کی ہدایت کر دی ، وزیر قانون نے انتخابات التوا کیس میں سپریم کورٹ کا بینچ ٹوٹنے پر قانونی ٹیم سے تفصیلی مشاورت کی، انہوں نے الیکشن کمیشن کے وکیل عرفان قادر سے قانونی پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا جبکہ پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق نائیک اور ن لیگ کے وکیل اکرم شیخ بھی اس دوران گفتگو میں شریک رہے

     انتخابات ملتوی کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت کیلئے دوبارہ بینچ تشکیل

     چیف جسٹس کی سربراہی میں بینچ کا بار بار ٹوٹنا سوالیہ نشان ہے،

     انصاف ہونا چاہیئے اور ہوتا نظر بھی آنا چاہیئے،

     ون مین شو چلایا جارہا ہے، عوام تسلیم نہیں کریگی 

  • اگر فل کورٹ نہ بنا تو تنازعہ مزید بڑھے گا،عطا تارڑ

    اگر فل کورٹ نہ بنا تو تنازعہ مزید بڑھے گا،عطا تارڑ

    ن لیگی رہنما، وزیراعظم کے معاون خصوصی عطا تارڑ نے کہا ہے کہ اگر بینچ ایسے ہی بنتے اور ٹوٹتے رہے تو ادارے کی ساکھ ختم ہوجائے گی ون مین شو چلایا جارہا ہے، عوام تسلیم نہیں کریگی ،

    سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ بدقسمتی ہے سرکلر کے ذریعے سپریم کورٹ کے حکم کی نفی کی جارہی ہے ، فل کورٹ کی تشکیل اب لازم ہوگئی ، اگر فل کورٹ نہ بنا تو تنازعہ مزید بڑھے گا،چاہتے ہیں معاملہ حل ہو،چیف جسٹس کو چاہیے تھا کہ فل کورٹ بنچ بناتے، پوری قوم اس معاملے پر رنجیدہ ہے ، آج بنچ پر وکلاء کے تحفظات تھے اور بنچ کی تشکیل کے بعد اعتراض اٹھایا گیا،

    عطا تارڑ کا مزید کہنا تھا کہ تمام کرائیسز کا فیصلہ مشاورت کے بعد ہونا چاہیے مندوخیل نے دکھی دل سے کہا کہ اللہ تعالیٰ اس ادارے کی حفاظت کرے سرکلر کا رواج پہلی دفعہ دیکھا ہے قوم پہلے ہی مسائل میں مبتلا ہے مل کر بیٹھیں اور مسائل حل کریں ہم چاہتے ہیں سپریم کورٹ کی بقا بحال رہے، ملک میں ایک آئینی بحران پیدا ہو چکا ہے لیکن دو تارڑ آئین کی پاسداری کے لیے کھڑے رہیں گے آج معاملات سجاد علی شاہ ٹو کی طرف جا رہے ہیں ،سپریم کورٹ میں جب بھی کوئی سجاد علی شاہ بنے گا تو آئین کی پاسداری کیلئے تارڑ آئے گا،

    دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ ایک پاگل جس کے ہاتھ میں ماچس ہے، ملک کو آگ لگانا چاہتا ہے، پہلے کاغذ لہرا کر سائفر کی کہانی گھڑی، قانون اور اسمبلی توڑی صدر ، ڈپٹی اسپیکر سے آئین شکنی کرائی، اسی شخص نے پنجاب اور کے پی کے اسمبلی توڑی،ججز کمیٹی کو بینچ بنانے کا فیصلہ کرنا چاہیئے تاکہ بینچ فکسنگ کا تاثر ختم ہو، ترازو کے پلڑے برابر نظر آنے چاہیئے،جسٹس اعجازالحسن 3 رکنی بینچ کا حصہ نہین بن سکتے ،تین رکنی بینچ کا فیصلہ عوام نہیں مانے گی ، پی ڈی ایم کا مطالبہ فل کورٹ بنائی جائے،دیگر جماعتوں کو بھی سماعت کا حصہ بنایا جائے، پوری سماعت متنازعہ ہو چکی ہے، رجسٹررار کا سرکلر ایک فرد کا فیصلہ ہے،اس بینچ نے فل کورٹ کے علاوہ کوئی فیصلہ کیا تو کون مانے گا، عمران خان ملک میں افراتفری چاہتا ہے،دہشتگرد زمان پارک میں پال کر پولیس پر پیٹرول بم پھینکے گئے، عمران خان عالمی سازش کے بیانیے میں پکڑا گیا،

     چیف جسٹس کی سربراہی میں بینچ کا بار بار ٹوٹنا سوالیہ نشان ہے،

     انصاف ہونا چاہیئے اور ہوتا نظر بھی آنا چاہیئے،

    سوشل میڈیا چیٹ سے روکنے پر بیوی نے کیا خلع کا دعویٰ دائر، شوہر نے بھی لگایا گھناؤنا الزام

    سابق اہلیہ کی غیراخلاقی تصاویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے والے ملزم پر کب ہو گی فردجرم عائد؟

    ‏سوشل میڈیا پرغلط خبریں پھیلانا اورانکو بلاتصدیق فارورڈ کرنا جرم ہے، آصف اقبال سائبر ونگ ایف آئی 

  • عدلیہ کی تقسیم مکافات عمل ہے یا تاریخ کا انتقام ، شازیہ مری

    عدلیہ کی تقسیم مکافات عمل ہے یا تاریخ کا انتقام ، شازیہ مری

    وفاقی وزیر اور ترجمان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز شازیہ مری کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس کی سربراہی میں بینچ کا بار بار ٹوٹنا سوالیہ نشان ہے،

    شازیہ مری کا کہنا تھا کہ افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ ایک جیسے مقدمات میں انصاف کا پیمانہ مختلف رہا ہے، ہمارا آج بھی موقف ہے کہ آئینی معاملات کیلئے علیحدہ آئینی عدالت کی ضرورت ہے، آئین سازی کا اختیار صرف پارلیمنٹ کو حاصل ہے،قوم تو پوچھتی رہے گی کہ بھٹو سے انصاف کیوں نہیں ہوتا ،سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس اعتراف کر چکے ہیں کہ بھٹو صاحب کو پھانسی غلط تھی، عدلیہ کی تقسیم مکافات عمل ہے یا تاریخ کا انتقام ،

    شازیہ مری کا مزید کہنا تھا کہ چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کا قومی اسمبلی میں خطاب عوام کے دل کی آواز ہے، صدر آصف علی زرداری نے اپنے تمام اختیارات پارلیمان کو دیئے،بااختیار پارلیمنٹ کے لیئے محترمہ بینظیر بھٹو شہید نے تاریخی جدوجہد کی تھی، گڑھی خدا بخش بھٹو کے قبرستان سے خون کی لالی لیکر جمہوریت کا سورج طلوع ہوا ہے، افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ ہماری عدلیہ نے جمہوریت کو کمزور اور آمروں کو مضبوط کیا، آئین سازی صرف پارلیمان کا اختیار ہے

    سوشل میڈیا چیٹ سے روکنے پر بیوی نے کیا خلع کا دعویٰ دائر، شوہر نے بھی لگایا گھناؤنا الزام

    سابق اہلیہ کی غیراخلاقی تصاویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے والے ملزم پر کب ہو گی فردجرم عائد؟

    ‏سوشل میڈیا پرغلط خبریں پھیلانا اورانکو بلاتصدیق فارورڈ کرنا جرم ہے، آصف اقبال سائبر ونگ ایف آئی اے

    سوشل میڈیا پر جعلی آئی ڈیز کے ذریعے لڑکی بن کر لوگوں کو پھنسانے والا گرفتار

  • جسٹس مندوخیل سے مشاورت نہ کرنا،پوری قوم کیلئے لمحہ فکریہ ہے،وزیر داخلہ

    جسٹس مندوخیل سے مشاورت نہ کرنا،پوری قوم کیلئے لمحہ فکریہ ہے،وزیر داخلہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ انصاف ہونا چاہیئے اور ہوتا نظر بھی آنا چاہیئے،

    سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ کا کہنا تھا کہ اسمبلی دونوں صوبوں کے وزراء اعلٰی نے تحلیل نہیں کی، جسٹس جمال مندو خیل نے اپنے اختلافی نوٹ میں جو باتیں لکھیں افسوس ناک ہیں جسٹس مندوخیل سے مشاورت نہ کرنا ،پوری قوم کیلئے لمحہ فکریہ ہے میں نے آج تک یہ نہیں سنا کہ سپریم کورٹ کے جج کے فیصلے کو ایک سرکلر سے غلط قرار دیا گیا .یہ بینچ 9 سے شروع ہو کر آج 3 ججز تک آ گیا ہے ،سیاسی ،انتظامی ،معاشی ،جوڈیشری کے درمیان بحران کا سبب صرف ایک فتنہ ہے, قاضی فائز عیسی ٰ کے خاندان کو اگر عدالتوں میں خوار نہ کیا جاتا تو آج یہ عدالتی بحران نہ ہوتا یہ دونوں صوبائی اسمبلیاں عمرا ن خان کی ضد پر توڑی گئیں ہیں ،اس کا جائزہ لیا جانا چاہیئے،

    وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے چیف جسٹس سے فل کورٹ بنانے کی استدعا کر دی اور کہا کہ فل کورٹ نہ بنا تو ایسا فیصلہ قابل عمل نہیں ہو گا یہ صورتحال انتہائی افسوس ناک اور قومی سانحے سے کم نہیں ،ایک فتنے نے پوری قوم کو اس نہج پر لا کھڑ ا کیا ہے ،اب اس بات کا جائزہ لینا ضروری ہوگیا ہے کہ یہ فتنہ کس طرح یہاں متعارف کروایا گیا اور ملک کو بحران در بحران کا شکار کررہا ہے جو چاہتا ہے کہ ملک میں افراتفری اور انارکی پیدا ہو،

    واضح رہے کہ پنجاب اور کے پی انتخابات ملتوی کرنے سے متعلق پی ٹی آئی درخواست پر پانچویں سماعت آج ہونی تھی، چار رکنی بینچ تشکیل دیا گیا تھا مگر آج پھر بینچ ٹوٹ گیا، جسٹس جمال خان مندوخیل بھی بینچ سے الگ ہو گئے

    الیکشن التوا کیس ، سپریم کورٹ کا 4 رکنی بینچ ٹوٹ گیا . جسٹس جمال خان مندوخیل نے کیس سننے سے معذرت کر لی ،سپریم کورٹ نے کل کی سماعت کا فیصلہ جاری کردیا جس میں جسٹس جمال نے اختلافی نوٹ لکھا اور کہا کہ چیف جسٹس نے مجھ سے مشاورت نہیں کی تھی چیف جسٹس نے عدالت میں آرڈر نہیں لکھوایا تھا

    سوشل میڈیا چیٹ سے روکنے پر بیوی نے کیا خلع کا دعویٰ دائر، شوہر نے بھی لگایا گھناؤنا الزام

    سابق اہلیہ کی غیراخلاقی تصاویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے والے ملزم پر کب ہو گی فردجرم عائد؟

    ‏سوشل میڈیا پرغلط خبریں پھیلانا اورانکو بلاتصدیق فارورڈ کرنا جرم ہے، آصف اقبال سائبر ونگ ایف آئی اے

    سوشل میڈیا پر جعلی آئی ڈیز کے ذریعے لڑکی بن کر لوگوں کو پھنسانے والا گرفتار

  • سپريم کورٹ ، ازخود نوٹس اختیار سے متعلق جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا فیصلہ مسترد

    سپریم کورٹ نے آرٹیکل 184/3 کے مقدمات پر سرکولر جاری کر دیا

    جاری سرکلر میں کہا گیا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسی کے فیصلے میں ازخود نوٹس کا اختیار استعمال کیا گیا، اس انداز میں بنچ کا سوموٹو لینا پانچ رکنی عدالتی حکم کی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے ،سوموٹو صرف چیف جسٹس آف پاکستان ہی لے سکتے ہیں،فیصلے میں دی گئی آبزرویشن کو مسترد کیا جاتا ہے،

    سپريم کورٹ نے ازخود نوٹس اختیار سے متعلق جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا فیصلہ مسترد کردیا ،ازخود نوٹس اختیار سے متعلق دی گئی ابزرویشن کا بنچ کے سامنے موجود کیس پر اطلاق نہیں ہوتا، قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے انفرادی طور پر کئی گئی تشریح 5 رکنی لارجر بنچ کے احکامات کی خلاف ورزی ہے۔ اس سلسلے میں میڈیا کی آزادی اوربنیادی انسانی حقوق کے کیس میں واضح فیصلہ دے چکی ہے اس طرح کی تشریح کرنے کا اختیار صرف چیف جسٹس کو ہے جس کے قواعد 184(3) میں دیے گئے ہیں جسٹس قاضی فائز کے فیصلے کا اطلاق نہیں ہوتا کیونکہ لارجر بنچ اکثریتی فیصلہ دے چکا ہے جس معاملے پر 5 رکنی بنچ کا فیصلہ موجود ہو ،اس پر 2 ججز کے فیصلے کی کوئی حیثیت نہیں ہوگی

    غیرت کے نام پر استعفے دینے والے آج عدالت چلے گئے، ثانیہ عاشق

    بریکنگ،پی ٹی آئی کا استعفوں پر یوٹرن،عدالت میں کہا اب پارٹی استعفے نہیں دینا چاہتی

     رولز بنائے جانے تک ازخود نوٹس کے تمام کیسز ملتوی کرنے کا حکم 

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف کیوریٹیو ریویو ریفرنس واپس لینے کا حکم

  • سپریم کورٹ، انتخابات کیس،بینچ پھر ٹوٹ گیا، جسٹس جمال مندوخیل الگ ہو گئے

    سپریم کورٹ، انتخابات کیس،بینچ پھر ٹوٹ گیا، جسٹس جمال مندوخیل الگ ہو گئے

    سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے پنجاب اور کے پی کے میں انتخابات ملتوی کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت کیلئے دوبارہ بینچ تشکیل دے دیا ہے.

    کیس پر سماعت جمعہ کے بعد دو بجے ہو گی ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ دوپہر دو بجے دوبارہ سماعت کا آغاز کر ے گا، بینچ میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس منیب اختر اور جسٹس اعجاز الاحسن شامل ہیں

    قبل ازیں پنجاب اور کے پی انتخابات ملتوی کرنے سے متعلق پی ٹی آئی درخواست پر پانچویں سماعت آج ہونی تھی، چار رکنی بینچ تشکیل دیا گیا تھا مگر آج پھر بینچ ٹوٹ گیا، جسٹس جمال خان مندوخیل بھی بینچ سے الگ ہو گئے ،الیکشن التوا کیس ، سپریم کورٹ کا 4 رکنی بینچ ٹوٹ گیا . جسٹس جمال خان مندوخیل نے کیس سننے سے معذرت کر لی ،سپریم کورٹ نے کل کی سماعت کا فیصلہ جاری کردیا جس میں جسٹس جمال نے اختلافی نوٹ لکھا اور کہا کہ چیف جسٹس نے مجھ سے مشاورت نہیں کی تھی چیف جسٹس نے عدالت میں آرڈر نہیں لکھوایا تھا

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں چار رکنی بینچ سماعت کیلئے کمرہ عدالت میں آیا تو جسٹس جمال مندو خیل نے کیس سننے سے معذرت کی اور کہا کہ مجھے گزشتہ روز کے حکم نامے کا انتظار تھا عدالتی حکم نامہ مجھے کل موصول ہوا، میں نے الگ سے اختلافی نوٹ بھی لکھا ہے جسٹس مندو خیل نے اٹارنی جنرل کو اختلافی نوٹ پڑھنے کیلئے کہا جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ میں بینچ کا ممبر تھا تحلیل کرتے ہوئے مشاورت نہیں کی گئی میں کل بھی کچھ کہنا چاہ رہا تھا فیصلہ لکھواتے وقت مجھے مشورے کے قابل ہی نہیں سمجھا گیا میں سمجھتا ہوں کہ بینچ میں مس فٹ ہوں

    قبل ازیں پنجاب اور کے پی انتخابات ملتوی کرنے سے متعلق کیس کی سماعت کے لئے چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے چار رکنی بنچ تشکیل دیا تھا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال ،جسٹس اعجاز الاحسن ،جسٹس منیب اختر اور جسٹس جمال خان مندوخیل شامل تھے سپریم کورٹ نے باقاعدہ کیس کی کاز لسٹ جاری کردی تھی پنجاب اور کے پی انتخابات ملتوی کرنے سے متعلق پی ٹی آئی درخواست پر پانچویں سماعت آج ہونی ہے تا ہم آج پھر بینچ ٹوٹ گیا،

    مقدمے میں پی ٹی آئی وکیل علی ظفر اور الیکشن کمیشن کے وکیل سجیل سواتی کے دلائل مکمل ہو چکے ہیں۔اٹارنی جنرل ، نگران حکومتوں اور گورنرز کے وکلاء دلائل دیں گے۔اٹارنی جنرل، پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن اور جے یو آئی نے فل کورٹ کی استدعا کر رکھی ہے۔

    پنجاب اور کے پی عام انتخابات کا معاملہ ،وزیراعظم شہبازشریف نے تیسرے روز بھی اٹارنی جنرل منصور عثمان کو طلب کرلیا.وزیراعظم کی جانب سے اٹارنی جنرل کو مسلسل تین روز سے مشاورت کیلئے طلب کیا جا رہا ہے.اٹارنی جنرل سپریم کورٹ سے وزیراعظم ہاؤس کیلئے روانہ ہوگئے اٹارنی جنرل وزیراعظم سے زیر سماعت مقدمے پر ہدایات لیں گے.چیف جسٹس نے گزشتہ روز اٹارنی جنرل کو وزیر اعظم سے معاملہ پر ہدایات لینے کا کہا تھا

    واضح رہے کہ ایک رو قبل سپریم کورٹ میں کے پی کے اور پنجاب میں انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت کرنے والا بینچ ٹوٹ گیا چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ میں پنجاب اور کے پی الیکشن کی تاریخ کے تعین کے حوالے سے لیے جانے والے سپریم کورٹ کے از خود نوٹس کیس کی سماعت کرنے والا 5 رکنی لارجر بینچ ٹوٹ گیا ہے،بینچ میں شامل شامل جج جسٹس امین الدین نے کیس سننے سے معذرت کرلی ہے-

    سوشل میڈیا چیٹ سے روکنے پر بیوی نے کیا خلع کا دعویٰ دائر، شوہر نے بھی لگایا گھناؤنا الزام

    سابق اہلیہ کی غیراخلاقی تصاویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے والے ملزم پر کب ہو گی فردجرم عائد؟

    ‏سوشل میڈیا پرغلط خبریں پھیلانا اورانکو بلاتصدیق فارورڈ کرنا جرم ہے، آصف اقبال سائبر ونگ ایف آئی اے

    سوشل میڈیا پر جعلی آئی ڈیز کے ذریعے لڑکی بن کر لوگوں کو پھنسانے والا گرفتار

  • 16 اگست کو عبوری حکومت آ جائے گی الیکشن کرانا انکا کام ہے،وزیر داخلہ

    16 اگست کو عبوری حکومت آ جائے گی الیکشن کرانا انکا کام ہے،وزیر داخلہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ کا بینچ ٹوٹنے کے بعد حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے ردعمل سامنے آیا ہے،

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن نے ساری باتوں کو مدنظر رکھ کر فیصلہ کیا ہے، وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ آئینی اور قانونی طور پر درست ہے،عمران خان نے اسمبلی اسلیے توڑی تاکہ وقت سے پہلے الیکشن ہوں عمران خان چاہتے ہیں دو اسمبلیوں کا الیکشن الگ اور تین کا الگ،عمران خان کا یہ اقدام ملک کے لیے بہتر نہیں اس سے ملک میں انارکی آئے گی،عدالت عظمٰی جو فیصلہ کرے گی اسکا احترام ہوگا،8 اکتوبر کو جنرل الیکشن ہوں گے،12 یا 16 اگست کے بعد ہماری حکومت نہیں ہوگی،16 اگست کو عبوری حکومت آ جائے گی الیکشن کرانا انکا کام ہے،

    بیرسٹر علی ظفر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کل قاضی فائز عیسیٰ صاحب کی جانب سے فیصلہ آیا کہ ازخود نوٹس کیسز کی سماعت روک دی جائے،ایک جج کے خود کو بینچ سے الگ کرنے کے بعد حل یہی تھا،چیف جسٹس جو فیصلہ کریں ہمیں تسلیم ہے، پی ٹی آئی کو چیف جسٹس کے کسی فیصلے پر اعتراض نہیں ہو گا، اس کیس پر مختلف جج صاحبان کے مختلف نظریات ہیں، مسلئہ بینچ کا نہیں آئین کا ہے،اصل سوال الیکشن کمیشن کے انتخابات ملتوی کرنے کے اختیار کا ہے،یقین ہے بہت جلد نیا بینچ بن جائے گا،ہمیں ساری امید سپریم کورٹ سے ہے ،سپریم کورٹ سے متعلق بل جلدبازی میں پیش کیا جا رہا ہے، مجھے اس بل پر آئینی اعتراض ہے،بل میں کچھ اچھی چیزیں بھی ہیں مگر کئی چیزیں غلط ہیں، ہمیں پراسیس اور قانون دونوں کو مدنظر رکھنا ہے، ان تمام مسائل کا حل عدالت کے پاس ہی ہے،

    ممتاز قانوندان اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ ہر کوئی اب بے لباس ہو گیا ہے ،فل کورٹ بنا دیا گیا تو چیف جسٹس کے مخالف ججز بیٹھنے سے انکار کر دیں گے ،شناخت ہو چکی ہے کہ کون کون سے ججز نواز شریف کے ساتھ ہیں، سپریم کورٹ کو انھوں نے مفلوج کر دیا ہے ججز بہت زیادتی کر رہے ہیں ، عوام بھگتے گی ،اب کوئی آئین کی حاکمیت کی توقع نہ رکھے،اب تو ججز کی شناخت ہو سکتی ہے ، ماتھے پر مہر لگ چکی ہے،وزیراعظم نے خود کہا تھا جو ججز ہمارے خلاف ہیں ان کے پاس کیس نہ لگائیں،

    وفاقی وزیر دفاع خواجہ‌ آصف کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کا آئین کی حفاظت کی خاطر متحد نظر آنا چاہئے ایک جج کے دستبردار ہونے سے نیا بینچ بنے گا سپریم کورٹ خود کو سیاست کی دلدل سے محفوظ رکھے سیاست کو سیاست دانوں تک محدود رہنے دیا جائے ، کوئی اس میں مداخلت نہ کرے سپریم کورٹ پاکستان میں انصاف کا سب سے بڑا ادارہ ہے ججز ادارے کی عزت کی حفاظت کریں عدلیہ اپنے کنڈکٹ اور فیصلوں سے پہنچانی جاتی ہے عدالت عظمی وہاں کھڑی ہے جہاں ان کا کردار تاریخ ساز ہو گا شدید اختلاف رائے ملک اور جمہوریت کیلئے نقصان دہ ہوتا ہے انصاف کے پلڑے برابر ہوں تو تاریخ یاد رکھے گی

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں کے پی کے اور پنجاب میں انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت کرنے والا بینچ ٹوٹ گیا چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ میں پنجاب اور کے پی الیکشن کی تاریخ کے تعین کے حوالے سے لیے جانے والے سپریم کورٹ کے از خود نوٹس کیس کی سماعت کرنے والا 5 رکنی لارجر بینچ ٹوٹ گیا ہے،بینچ میں شامل شامل جج جسٹس امین الدین نے کیس سننے سے معذرت کرلی ہے

    شیخوپورہ سے ہمیں اسلام آباد لا کر چھوڑ دیا گیا، خاتون کی دکھ بھری کہانی

    بڑے اسکولز میں کس طرح کے بگڑے بچے پڑھتے ہیں؟

    فاٹا کے جرگوں میں لڑکیوں کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟ 15 لاکھ میں ڈیل ڈن

    مردانہ کمزوری کی حقیقت کیا؟ہم ایسے سوالات کیوں نہیں اٹھاتے؟

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف کیوریٹیو ریویو ریفرنس واپس لینے کا حکم 

  • سینیٹ سے بھی سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل منظور

    سینیٹ سے بھی سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل منظور

    چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیر صدارت سینیٹ اجلاس ہوا،
    سینیٹ نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل منظور کرلیا جبکہ سینیٹ نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل قائمہ کمیٹی کے سپرد کرنے کی اپوزیشن کی تحریک مسترد کر دی،بل کے حق میں 60 اور مخالفت میں 19 ووٹ پڑے

    سینیٹ اجلاس میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل ایوان میں پیش کرنے کی تحریک جمع کرائی۔ سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے تمام ججز برابر ہیں، ادارے کو مضبوط کرنے کے لیے شخصیت کو مضبوط کرنے کے بجائے نظام کو مضبوط کیا جائے قومی اسمبلی نے گزشتہ روز سپریم کورٹ بل 2023 پاس کیا، پارلیمان کا اختیار ہے کہ وہ قانون سازی کرسکتی ہے دو دہائیوں سے سپریم کورٹ میں نیا رجحان دیکھا، آئین کہتا ہے کہ حدود میں غیر ضروری مداخلت نہ کریں

    وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مردم شماری اکہتر کی طرز پر کیا جارہا ہے، انتخابات کا معاملہ سپریم کورٹ میں چل رہا ہے،اگر انتخابات ابھی ہوتے ہیں تو پرانی حلقہ بندیوں پر ہونگے، دو حکومتیں اب بن جائیں تو کیا اکتوبر میں شفاف انتخابات ہوسکیں گے، معیشت کو تباہ کرکے رکھ دیا گیا،اس پرسیاست بند کرنی چاہیے آئی ایم ایف سے تکنیکی معاملات پر بات چیت ہورہی ہے پہلی مرتبہ ملکی ذخائر 10ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں کوشش ہے جون تک ذخائر 13ارب ڈالر تک لے جائیں،حکومت مہنگائی پر قابو پانے کیلئے پوری کوشش کررہی ہے

    شریف کو بھی از خود نوٹس کے خلاف اپیل کا حق مل گیا

     سادہ سا سوال ہے کہ الیکشن کمیشن تاریخ آگے کرسکتا ہے یا نہیں

    گھر سے بھاگنے کے محض ڈیڑھ دو سال کے بعد میں اداکارہ بن گئی کنگنا رناوت
    انتخابات ملتوی کرنےکامعاملہ،الیکشن کمیشن ،گورنر پنجاب اورکے پی کو نوٹس جاری
    اسلام آباد ہائیکورٹ؛ کراچی کی 6 یوسز میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی روکنے کا حکم

  • سپریم کورٹ: انتخابات سے متعلق کیس سماعت کیلئے مقرر، نیا بینچ کریگا سماعت

    سپریم کورٹ: انتخابات سے متعلق کیس سماعت کیلئے مقرر، نیا بینچ کریگا سماعت

    پنجاب اور خیبرپختونخوا انتخابات کیس سپریم کورٹ میں سماعت کیلئے مقرر کردیا گیا

    سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت کل دن کو ساڑھے گیارہ بجے ہو گی، جسٹس امین الدین کی جانب سے معذرت کے بعد اب نیا بینچ کیس کی سماعت کرے گا سپریم کورٹ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ کون سا بنچ سماعت کرے گا، اس کا فیصلہ کل ہو گا،عدالتی عملے نے آج کی سماعت کا حکم نامہ پڑھ کر سنایا ،کل نیا 4 رکنی بنچ سماعت کریگا۔

    قبل ازیں سپریم کورٹ میں کے پی کے اور پنجاب میں انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت کرنے والا بینچ ٹوٹ گیا – چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ میں پنجاب اور کے پی الیکشن کی تاریخ کے تعین کے حوالے سے لیے جانے والے سپریم کورٹ کے از خود نوٹس کیس کی سماعت کرنے والا 5 رکنی لارجر بینچ ٹوٹ گیا ہے،بینچ میں شامل شامل جج جسٹس امین الدین نے کیس سننے سے معذرت کرلی ہے-

    سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کا ازخود نوٹس کے تمام کیسز ملتوی کرنے کا حکم

    گزشتہ روزکے فیصلے کے تناظر میں جسٹس امین الدین نے کیس سننے سے معذرت کی، جسٹس امین الدین کے بات کرنے کے بعد بینچ کورٹ روم سے چلا گیا، انتخابات ملتوی کیس میں اب نیا بینچ بنایا جائے گا۔

    چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ جسٹس امین کچھ کہنا چاہتے ہیں، جسٹس امین الدین نے کہاکہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے فیصلے کے تناظر میں کیس سننے سے معذرت کرتا ہوں۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز سپریم کورٹ نے رولز بنائے جانے تک آرٹیکل 184 تھری (ازخود نوٹس) کے تمام کیسز ملتوی کرنے کا حکم دیا سپریم کورٹ میں حافظ قرآن کو 20 اضافی نمبر دینے کے از خود نوٹس میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 3 رکنی خصوصی بینچ نے فیصلہ جاری کیا خصوصی بینچ میں جسٹس امین الدین اور جسٹس شاہد وحید شامل ہیں اور فیصلہ دو ایک کے تناسب سے جاری کیا گیا۔

    توشہ خانہ کیس: عمران خان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور

    فیصلے میں کہا گیا تھا کہ رولز بنائے جانے تک آرٹیکل 184 تھری کے تمام کیسز کو ملتوی کردیا جائے چیف جسٹس پاکستان کو خصوصی بینچ بنانے کا اختیار نہیں ہے اسپیشل بینچ میں مختلف بینچز سے ایک ایک جج کو شامل کیا گیا، عدالتی وقت ختم ہونے کے وقت کیس سماعت کیلئے مقررکیا گیا-

    فیصلے میں کہا گیا تھا کہ پاکستان کے عوام اراکین پارلیمنٹ کے انتخاب کے وقت ان کا احتساب کرتے ہیں، اراکین پارلیمنٹ الیکشن میں عوام کو جوابدہ ہوتے ہیں، قوانین کے تحت بیوروکریسی حکومت کو جوابدہ ہوتی ہے، عدلیہ اس طرح کسی کو بھی جوابدہ نہیں ہے۔

    ملک بھر میں ایک ساتھ انتخابات کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    فیصلے میں قرار دیا گیا تھا کہ چیف جسٹس کے پاس اختیار نہیں بینچ کی تشکیل کے بعد کسی جج کو بینچ سے الگ کریں، ایک جج سپریم جوڈیشل کونسل کوجوابدہ ہوسکتا ہے لیکن جوڈیشری نہیں چیف جسٹس اپنی دانش کو آئین کی حکمت کی جگہ نہیں دےسکتے، آئین نے چیف جسٹس کو یکطرفہ اورمرضی کااختیارنہیں دیا، سپریم کورٹ کےتمام ججز کو اجتماعی طورپرتعین کاکام چیف جسٹس انجام نہیں دے سکتے۔

  • ملک بھر میں ایک ساتھ انتخابات کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    ملک بھر میں ایک ساتھ انتخابات کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    ملک بھر میں ایک ساتھ انتخابات کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی گئی

    تلہ گنگ کے شہری ملک فیصل محمود نے پنجاب اور خیبرپختونخوا کے انتخابات عام انتخابات تک ملتوی کرنے کی استدعا کردی ،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ آئین کے مطابق ملک بھر میں ایک ساتھ انتخابات کے ذریعے ہی عوام اپنے حقیقی نمائندوں کا انتخاب کرسکتے ہیں ،دو صوبوں میں پہلے اور قومی اسمبلی کے بعد میں انتخابات سے زیادہ اخراجات آئیں گے، پنجاب اور خیبرپختونخوا کی نگران حکومتوں کو صرف ایک مرتبہ کے لیے عام انتخابات تک توسیع دے دی جائے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں پہلے انتخابات ہونے سے ملک بھر کے عام انتخابات میں نگران حکومتوں کا نظام بھی متاثر ہوگا ،درخواست میں وفاق، صدر، الیکشن کمیشن اور دونوں صوبوں کو فریق بنایا گیا ہے

    ،حکومت سے پوچھتے ہیں کہ چھ ماہ کا عرصہ کم ہو سکتا ہے یا نہیں،

    دو حکومتیں اب بن جائیں تو کیا اکتوبر میں شفاف انتخابات ہوسکیں گے

     بغاوت کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرنے کے خلاف کیس کا فیصلہ

    عمران ریاض کی گرفتاری اور تصویر کا دوسرا رخ،مبشر لقمان نے کہانی کھول دی

     قانون جو بھی توڑے گا وہ تیار رہے ریڈ لائن عبور نہیں کرنی چاہئے،

    مسلح افواج پر تنقید کی سزا پانچ سال قید،دو لاکھ جرمانہ، عمران ریاض خان کی اپنی ویڈیو وائرل

    واضح رہے کہ پنجاب اور خیبر پختونخواہ میں نگران حکومتیں چل رہی ہیں، نگران حکومت نے 90 روز میں الیکشن کروانے ہوتے ہیں تا ہم الیکشن کمیشن نے پنجاب میں الیکشن کا 30 اپریل کا شیڈول دے کر اسے ملتوی کر دیا اور 8 اکتوبر کا نیا شیڈول جاری کر دیا، اب معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے، تحریک انصاف کی کوشش ہے کہ پنجاب اور خیبر پختونخواہ کے الیکشن مقررہ وقت پر ہوں جبکہ حکمران اتحاد کی کوشش ہے کہ الیکشن ایک ساتھ اکتوبر میں ہوں