Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • 16 اگست کو عبوری حکومت آ جائے گی الیکشن کرانا انکا کام ہے،وزیر داخلہ

    16 اگست کو عبوری حکومت آ جائے گی الیکشن کرانا انکا کام ہے،وزیر داخلہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ کا بینچ ٹوٹنے کے بعد حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے ردعمل سامنے آیا ہے،

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن نے ساری باتوں کو مدنظر رکھ کر فیصلہ کیا ہے، وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ آئینی اور قانونی طور پر درست ہے،عمران خان نے اسمبلی اسلیے توڑی تاکہ وقت سے پہلے الیکشن ہوں عمران خان چاہتے ہیں دو اسمبلیوں کا الیکشن الگ اور تین کا الگ،عمران خان کا یہ اقدام ملک کے لیے بہتر نہیں اس سے ملک میں انارکی آئے گی،عدالت عظمٰی جو فیصلہ کرے گی اسکا احترام ہوگا،8 اکتوبر کو جنرل الیکشن ہوں گے،12 یا 16 اگست کے بعد ہماری حکومت نہیں ہوگی،16 اگست کو عبوری حکومت آ جائے گی الیکشن کرانا انکا کام ہے،

    بیرسٹر علی ظفر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کل قاضی فائز عیسیٰ صاحب کی جانب سے فیصلہ آیا کہ ازخود نوٹس کیسز کی سماعت روک دی جائے،ایک جج کے خود کو بینچ سے الگ کرنے کے بعد حل یہی تھا،چیف جسٹس جو فیصلہ کریں ہمیں تسلیم ہے، پی ٹی آئی کو چیف جسٹس کے کسی فیصلے پر اعتراض نہیں ہو گا، اس کیس پر مختلف جج صاحبان کے مختلف نظریات ہیں، مسلئہ بینچ کا نہیں آئین کا ہے،اصل سوال الیکشن کمیشن کے انتخابات ملتوی کرنے کے اختیار کا ہے،یقین ہے بہت جلد نیا بینچ بن جائے گا،ہمیں ساری امید سپریم کورٹ سے ہے ،سپریم کورٹ سے متعلق بل جلدبازی میں پیش کیا جا رہا ہے، مجھے اس بل پر آئینی اعتراض ہے،بل میں کچھ اچھی چیزیں بھی ہیں مگر کئی چیزیں غلط ہیں، ہمیں پراسیس اور قانون دونوں کو مدنظر رکھنا ہے، ان تمام مسائل کا حل عدالت کے پاس ہی ہے،

    ممتاز قانوندان اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ ہر کوئی اب بے لباس ہو گیا ہے ،فل کورٹ بنا دیا گیا تو چیف جسٹس کے مخالف ججز بیٹھنے سے انکار کر دیں گے ،شناخت ہو چکی ہے کہ کون کون سے ججز نواز شریف کے ساتھ ہیں، سپریم کورٹ کو انھوں نے مفلوج کر دیا ہے ججز بہت زیادتی کر رہے ہیں ، عوام بھگتے گی ،اب کوئی آئین کی حاکمیت کی توقع نہ رکھے،اب تو ججز کی شناخت ہو سکتی ہے ، ماتھے پر مہر لگ چکی ہے،وزیراعظم نے خود کہا تھا جو ججز ہمارے خلاف ہیں ان کے پاس کیس نہ لگائیں،

    وفاقی وزیر دفاع خواجہ‌ آصف کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کا آئین کی حفاظت کی خاطر متحد نظر آنا چاہئے ایک جج کے دستبردار ہونے سے نیا بینچ بنے گا سپریم کورٹ خود کو سیاست کی دلدل سے محفوظ رکھے سیاست کو سیاست دانوں تک محدود رہنے دیا جائے ، کوئی اس میں مداخلت نہ کرے سپریم کورٹ پاکستان میں انصاف کا سب سے بڑا ادارہ ہے ججز ادارے کی عزت کی حفاظت کریں عدلیہ اپنے کنڈکٹ اور فیصلوں سے پہنچانی جاتی ہے عدالت عظمی وہاں کھڑی ہے جہاں ان کا کردار تاریخ ساز ہو گا شدید اختلاف رائے ملک اور جمہوریت کیلئے نقصان دہ ہوتا ہے انصاف کے پلڑے برابر ہوں تو تاریخ یاد رکھے گی

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں کے پی کے اور پنجاب میں انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت کرنے والا بینچ ٹوٹ گیا چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ میں پنجاب اور کے پی الیکشن کی تاریخ کے تعین کے حوالے سے لیے جانے والے سپریم کورٹ کے از خود نوٹس کیس کی سماعت کرنے والا 5 رکنی لارجر بینچ ٹوٹ گیا ہے،بینچ میں شامل شامل جج جسٹس امین الدین نے کیس سننے سے معذرت کرلی ہے

    شیخوپورہ سے ہمیں اسلام آباد لا کر چھوڑ دیا گیا، خاتون کی دکھ بھری کہانی

    بڑے اسکولز میں کس طرح کے بگڑے بچے پڑھتے ہیں؟

    فاٹا کے جرگوں میں لڑکیوں کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟ 15 لاکھ میں ڈیل ڈن

    مردانہ کمزوری کی حقیقت کیا؟ہم ایسے سوالات کیوں نہیں اٹھاتے؟

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف کیوریٹیو ریویو ریفرنس واپس لینے کا حکم 

  • سینیٹ سے بھی سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل منظور

    سینیٹ سے بھی سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل منظور

    چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیر صدارت سینیٹ اجلاس ہوا،
    سینیٹ نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل منظور کرلیا جبکہ سینیٹ نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل قائمہ کمیٹی کے سپرد کرنے کی اپوزیشن کی تحریک مسترد کر دی،بل کے حق میں 60 اور مخالفت میں 19 ووٹ پڑے

    سینیٹ اجلاس میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل ایوان میں پیش کرنے کی تحریک جمع کرائی۔ سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے تمام ججز برابر ہیں، ادارے کو مضبوط کرنے کے لیے شخصیت کو مضبوط کرنے کے بجائے نظام کو مضبوط کیا جائے قومی اسمبلی نے گزشتہ روز سپریم کورٹ بل 2023 پاس کیا، پارلیمان کا اختیار ہے کہ وہ قانون سازی کرسکتی ہے دو دہائیوں سے سپریم کورٹ میں نیا رجحان دیکھا، آئین کہتا ہے کہ حدود میں غیر ضروری مداخلت نہ کریں

    وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مردم شماری اکہتر کی طرز پر کیا جارہا ہے، انتخابات کا معاملہ سپریم کورٹ میں چل رہا ہے،اگر انتخابات ابھی ہوتے ہیں تو پرانی حلقہ بندیوں پر ہونگے، دو حکومتیں اب بن جائیں تو کیا اکتوبر میں شفاف انتخابات ہوسکیں گے، معیشت کو تباہ کرکے رکھ دیا گیا،اس پرسیاست بند کرنی چاہیے آئی ایم ایف سے تکنیکی معاملات پر بات چیت ہورہی ہے پہلی مرتبہ ملکی ذخائر 10ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں کوشش ہے جون تک ذخائر 13ارب ڈالر تک لے جائیں،حکومت مہنگائی پر قابو پانے کیلئے پوری کوشش کررہی ہے

    شریف کو بھی از خود نوٹس کے خلاف اپیل کا حق مل گیا

     سادہ سا سوال ہے کہ الیکشن کمیشن تاریخ آگے کرسکتا ہے یا نہیں

    گھر سے بھاگنے کے محض ڈیڑھ دو سال کے بعد میں اداکارہ بن گئی کنگنا رناوت
    انتخابات ملتوی کرنےکامعاملہ،الیکشن کمیشن ،گورنر پنجاب اورکے پی کو نوٹس جاری
    اسلام آباد ہائیکورٹ؛ کراچی کی 6 یوسز میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی روکنے کا حکم

  • سپریم کورٹ: انتخابات سے متعلق کیس سماعت کیلئے مقرر، نیا بینچ کریگا سماعت

    سپریم کورٹ: انتخابات سے متعلق کیس سماعت کیلئے مقرر، نیا بینچ کریگا سماعت

    پنجاب اور خیبرپختونخوا انتخابات کیس سپریم کورٹ میں سماعت کیلئے مقرر کردیا گیا

    سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت کل دن کو ساڑھے گیارہ بجے ہو گی، جسٹس امین الدین کی جانب سے معذرت کے بعد اب نیا بینچ کیس کی سماعت کرے گا سپریم کورٹ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ کون سا بنچ سماعت کرے گا، اس کا فیصلہ کل ہو گا،عدالتی عملے نے آج کی سماعت کا حکم نامہ پڑھ کر سنایا ،کل نیا 4 رکنی بنچ سماعت کریگا۔

    قبل ازیں سپریم کورٹ میں کے پی کے اور پنجاب میں انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت کرنے والا بینچ ٹوٹ گیا – چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ میں پنجاب اور کے پی الیکشن کی تاریخ کے تعین کے حوالے سے لیے جانے والے سپریم کورٹ کے از خود نوٹس کیس کی سماعت کرنے والا 5 رکنی لارجر بینچ ٹوٹ گیا ہے،بینچ میں شامل شامل جج جسٹس امین الدین نے کیس سننے سے معذرت کرلی ہے-

    سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کا ازخود نوٹس کے تمام کیسز ملتوی کرنے کا حکم

    گزشتہ روزکے فیصلے کے تناظر میں جسٹس امین الدین نے کیس سننے سے معذرت کی، جسٹس امین الدین کے بات کرنے کے بعد بینچ کورٹ روم سے چلا گیا، انتخابات ملتوی کیس میں اب نیا بینچ بنایا جائے گا۔

    چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ جسٹس امین کچھ کہنا چاہتے ہیں، جسٹس امین الدین نے کہاکہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے فیصلے کے تناظر میں کیس سننے سے معذرت کرتا ہوں۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز سپریم کورٹ نے رولز بنائے جانے تک آرٹیکل 184 تھری (ازخود نوٹس) کے تمام کیسز ملتوی کرنے کا حکم دیا سپریم کورٹ میں حافظ قرآن کو 20 اضافی نمبر دینے کے از خود نوٹس میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 3 رکنی خصوصی بینچ نے فیصلہ جاری کیا خصوصی بینچ میں جسٹس امین الدین اور جسٹس شاہد وحید شامل ہیں اور فیصلہ دو ایک کے تناسب سے جاری کیا گیا۔

    توشہ خانہ کیس: عمران خان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور

    فیصلے میں کہا گیا تھا کہ رولز بنائے جانے تک آرٹیکل 184 تھری کے تمام کیسز کو ملتوی کردیا جائے چیف جسٹس پاکستان کو خصوصی بینچ بنانے کا اختیار نہیں ہے اسپیشل بینچ میں مختلف بینچز سے ایک ایک جج کو شامل کیا گیا، عدالتی وقت ختم ہونے کے وقت کیس سماعت کیلئے مقررکیا گیا-

    فیصلے میں کہا گیا تھا کہ پاکستان کے عوام اراکین پارلیمنٹ کے انتخاب کے وقت ان کا احتساب کرتے ہیں، اراکین پارلیمنٹ الیکشن میں عوام کو جوابدہ ہوتے ہیں، قوانین کے تحت بیوروکریسی حکومت کو جوابدہ ہوتی ہے، عدلیہ اس طرح کسی کو بھی جوابدہ نہیں ہے۔

    ملک بھر میں ایک ساتھ انتخابات کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    فیصلے میں قرار دیا گیا تھا کہ چیف جسٹس کے پاس اختیار نہیں بینچ کی تشکیل کے بعد کسی جج کو بینچ سے الگ کریں، ایک جج سپریم جوڈیشل کونسل کوجوابدہ ہوسکتا ہے لیکن جوڈیشری نہیں چیف جسٹس اپنی دانش کو آئین کی حکمت کی جگہ نہیں دےسکتے، آئین نے چیف جسٹس کو یکطرفہ اورمرضی کااختیارنہیں دیا، سپریم کورٹ کےتمام ججز کو اجتماعی طورپرتعین کاکام چیف جسٹس انجام نہیں دے سکتے۔

  • ملک بھر میں ایک ساتھ انتخابات کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    ملک بھر میں ایک ساتھ انتخابات کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    ملک بھر میں ایک ساتھ انتخابات کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی گئی

    تلہ گنگ کے شہری ملک فیصل محمود نے پنجاب اور خیبرپختونخوا کے انتخابات عام انتخابات تک ملتوی کرنے کی استدعا کردی ،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ آئین کے مطابق ملک بھر میں ایک ساتھ انتخابات کے ذریعے ہی عوام اپنے حقیقی نمائندوں کا انتخاب کرسکتے ہیں ،دو صوبوں میں پہلے اور قومی اسمبلی کے بعد میں انتخابات سے زیادہ اخراجات آئیں گے، پنجاب اور خیبرپختونخوا کی نگران حکومتوں کو صرف ایک مرتبہ کے لیے عام انتخابات تک توسیع دے دی جائے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں پہلے انتخابات ہونے سے ملک بھر کے عام انتخابات میں نگران حکومتوں کا نظام بھی متاثر ہوگا ،درخواست میں وفاق، صدر، الیکشن کمیشن اور دونوں صوبوں کو فریق بنایا گیا ہے

    ،حکومت سے پوچھتے ہیں کہ چھ ماہ کا عرصہ کم ہو سکتا ہے یا نہیں،

    دو حکومتیں اب بن جائیں تو کیا اکتوبر میں شفاف انتخابات ہوسکیں گے

     بغاوت کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرنے کے خلاف کیس کا فیصلہ

    عمران ریاض کی گرفتاری اور تصویر کا دوسرا رخ،مبشر لقمان نے کہانی کھول دی

     قانون جو بھی توڑے گا وہ تیار رہے ریڈ لائن عبور نہیں کرنی چاہئے،

    مسلح افواج پر تنقید کی سزا پانچ سال قید،دو لاکھ جرمانہ، عمران ریاض خان کی اپنی ویڈیو وائرل

    واضح رہے کہ پنجاب اور خیبر پختونخواہ میں نگران حکومتیں چل رہی ہیں، نگران حکومت نے 90 روز میں الیکشن کروانے ہوتے ہیں تا ہم الیکشن کمیشن نے پنجاب میں الیکشن کا 30 اپریل کا شیڈول دے کر اسے ملتوی کر دیا اور 8 اکتوبر کا نیا شیڈول جاری کر دیا، اب معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے، تحریک انصاف کی کوشش ہے کہ پنجاب اور خیبر پختونخواہ کے الیکشن مقررہ وقت پر ہوں جبکہ حکمران اتحاد کی کوشش ہے کہ الیکشن ایک ساتھ اکتوبر میں ہوں

  • سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کا ازخود نوٹس کے تمام کیسز ملتوی کرنے کا حکم

    سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کا ازخود نوٹس کے تمام کیسز ملتوی کرنے کا حکم

    سپریم کورٹ نے رولز بنائے جانے تک ازخود نوٹس کے تمام کیسز ملتوی کرنے کا حکم دے دیا۔

    باغی ٹی وی : سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے ازخود نوٹس اور آئینی اہمیت کے مقدمات پر سماعت مؤخر کرنے کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا سپریم کورٹ میں حافظ قرآن کو 20 اضافی نمبر دینے کے از خود نوٹس میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 3 رکنی خصوصی بینچ نے فیصلہ جاری کیا خصوصی بینچ میں جسٹس امین الدین اور جسٹس شاہد وحید شامل ہیں اور فیصلہ دو ایک کے تناسب سے جاری کیا گیا 9 صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس قاضی فائز عیسی نے تحریر کیا-

    جو کہتا تھا قانون سب کے لیے برابر ہے وہ آج قانون کا سب سے …

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ رولز بنائے جانے تک آرٹیکل 184 تھری کے تمام کیسز کو ملتوی کردیا جائے چیف جسٹس پاکستان کو خصوصی بینچ بنانے کا اختیار نہیں ہے اسپیشل بینچ میں مختلف بینچز سے ایک ایک جج کو شامل کیا گیا، عدالتی وقت ختم ہونے کے وقت کیس سماعت کیلئے مقررکیا گیا-

    تحریری فیصلے میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ پیمرا کی جانب سے ججز پر تنقید پر پابندی آئین اور اسلام کیخلاف ہےدوران سماعت عدالت کی توجہ پیمرا کی جانب سے ججز پر تنقید نشر کرنے کی پابندی پر دلائی گئی، پیمرا نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دے کر پابندی عائد کی، عدالتی فیصلہ پیمرا کو ایسا حکم نامہ جاری کرنے کی اجازت نہیں دیتا،ضلعی عدلیہ کے ججز سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ ججز سے زیادہ کام کرتے ہیں پیمرا نے کبھی ضلعی عدلیہ کے ججز پر تنقید کے خلاف پابندی عائد نہیں کی، دوسروں کو قابل احتساب بنانے والے ججز کا احتساب نہ ہونا آئین اور شریعت کیخلاف ہے، عوام کا اعتماد اداروں کو خود جیتنا ہوتا ہے۔

    نیا عدالتی اصلاحاتی بل، نواز،ترین اور گیلانی کو اپیل کا حق مل گیا

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے عوام اراکین پارلیمنٹ کے انتخاب کے وقت ان کا احتساب کرتے ہیں، اراکین پارلیمنٹ الیکشن میں عوام کو جوابدہ ہوتے ہیں، قوانین کے تحت بیوروکریسی حکومت کو جوابدہ ہوتی ہے، عدلیہ اس طرح کسی کو بھی جوابدہ نہیں ہے۔

    فیصلے میں قرار دیا گیا کہ چیف جسٹس کے پاس اختیار نہیں بینچ کی تشکیل کے بعد کسی جج کو بینچ سے الگ کریں، ایک جج سپریم جوڈیشل کونسل کوجوابدہ ہوسکتا ہے لیکن جوڈیشری نہیں چیف جسٹس اپنی دانش کو آئین کی حکمت کی جگہ نہیں دےسکتے، آئین نے چیف جسٹس کو یکطرفہ اورمرضی کااختیارنہیں دیا، سپریم کورٹ کےتمام ججز کو اجتماعی طورپرتعین کاکام چیف جسٹس انجام نہیں دے سکتے۔

    بینچ میں جسٹس شاہد وحید نے فیصلے سے اختلاف کیا اور نوٹ میں لکھا کہ جن معاملات پرفیصلہ دیا گیا وہ ہمارے سامنے ہی نہیں تھے۔

    پریکٹس اینڈ پروسیجربل پرسپریم کورٹ کو اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے،صدر عارف علوی

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں پنجاب اور خیبرپختونخوا انتخابات کا ازخود نوٹس کیس بھی زیر سماعت ہے جس میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ سماعت کر رہا ہے۔

  • پریکٹس اینڈ پروسیجربل پرسپریم کورٹ کو اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے،صدر عارف علوی

    پریکٹس اینڈ پروسیجربل پرسپریم کورٹ کو اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے،صدر عارف علوی

    اسلام آباد: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا ہےسپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 پر سپریم کورٹ کو اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے-

    باغی ٹی وی: نجی خبررساں ادارے کے پروگرام میں سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 پر گفتگو کرتے ہوئے صدر عارف علوی کا کہنا تھا چیف جسٹس کا اختیار محدود کرنےکی قانون سازی کی ٹائمنگ ایک سوالیہ نشان ہے،سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 پر سپریم کورٹ کو اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے، ان کی دعا ہے کہ جج آپس میں اشتراک پیدا کریں۔

    نیا عدالتی اصلاحاتی بل، نواز،ترین اور گیلانی کو اپیل کا حق مل گیا

    الیکشن کمیشن کی جانب سے اکتوبر میں انتخابات کے اعلان کے حوالے سے صدر عارف علوی کا کہنا تھا اکتوبر میں بھی الیکشن کا انعقاد خطرے میں نظر آرہا ہے۔

    یاد رہے کہ قومی اسمبلی نے آج سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 منظور کر لیا ہے جس کے تحت سو موٹو نوٹس لینے کا اختیار اب اعلیٰ عدلیہ کے 3 سینئر ترین ججز کے پاس ہو گا۔

    دوسری جانب قومی اسمبلی میں سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجرز بل میں محسن داوڑ کی ترمیم شامل ہونے سے پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد نوازشریف کو از خود نوٹس پر ملی سزا کے خلاف اپیل کا حق مل گیا ہے 30 دن میں ون ٹائم اپیل کے حق سے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے ساتھ ساتھ یوسف رضاگیلانی، جہانگیر ترین سمیت از خود نوٹس کیسز کے فیصلوں کے دیگر متاثرہ فریق بھی فائدہ اٹھا سکیں گے۔

    جو کہتا تھا قانون سب کے لیے برابر ہے وہ آج قانون کا سب سے …

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجرز ترمیمی بل کیا ہے؟

    بل کے تحت سپریم کورٹ کے سامنے ہر معاملے اور اپیل کو کمیٹی کا تشکیل کردہ بینچ سنے اور نمٹائے گا جب کہ کمیٹی میں چیف جسٹس اور دو سینیئر ترین ججز ہوں گے اور کمیٹی کا فیصلہ کثرت رائے سے ہو گا۔

    آئین کے آرٹیکل 184/3 کے تحت معاملہ پہلے کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے گا، بنیادی حقوق سے متعلق عوامی اہمیت کے معاملے پر3 یا اس سے زائد ججزکا بینچ بنایا جائے گا، آئین اور قانون سے متعلق کیسز میں بینچ کم از کم 5 ججز پر مشتمل ہو گا جب کہ بینچ کے فیصلے کے 30 دن کے اندر اپیل دائر کی جاسکے، دائر اپیل 14 روز میں سماعت کے لیے مقررہوگی، زیرالتوا کیسز میں بھی اپیل کا حق ہوگا، فریق اپیل کے لیے اپنی پسند کا وکیل رکھ سکتا ہے اس کے علاوہ ہنگامی یا عبوری ریلیف کے لیے درخواست دینےکے 14 روزکے اندر کیس سماعت کے لیے مقرر ہوگا-

    محمد خان بھٹی کے خلاف اینٹی کرپشن کا مقدمہ خارج

  • نوازشریف کو بھی از خود نوٹس کے خلاف اپیل کا حق مل گیا

    نوازشریف کو بھی از خود نوٹس کے خلاف اپیل کا حق مل گیا

    قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 منظورکیا ہے

    اسمبلی اجلاس میں محسن داوڑ کی بل میں ترمیم بھی منظور کر لی گئی ہے جس کے بعد سابق وزیراعظم نوازشریف کو بھی از خود نوٹس کے خلاف اپیل کا حق مل گیا ہے ،نجی ٹی وی جیونیوز نے ذرائع سے دعویٰ کیا ہے کہ منظور شدہ بل کے تحت اپیل کا یہ حق ون ٹائم پرویژن کے تحت ہو گا از خود نوٹس پر فیصلوں کے خلاف اپیل کا حق نوازشریف کو بھی حاصل ہو گیا ہے ،یوسف رضا گیلانی، جہانگیر ترین اور دیگر متاثرہ فریق بھی ایک ماہ میں اپیل کر سکیں گے

    بل کے متن کے مطابق از خود نوٹس مقدمات میں فیصلوں پر اپیل کا حق پہلے ہونے والے فیصلوں پر بھی ہو گا، ماضی میں مقدمات کے فیصلوں کے خلاف ایک ماہ کی اپیل کر سکیں گے ،184 تھری کے تحت ماضی کے فیصلوں پر اپیل کے حق کیلئے ایک ماہ جا وقت ملے گا ۔ ترمیمی بل(سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ) میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے سامنے ہر معاملے اور اپیل کو کمیٹی کا تشکیل کردہ بینچ سنے اور نمٹائے گا جب کہ کمیٹی میں چیف جسٹس اور دو سینئر ترین ججز ہوں گے اور کمیٹی کا فیصلہ اکثریت رائے سے ہو گا۔آئین کے آرٹیکل 184/3 کے تحت معاملہ پہلے کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے گا، بنیادی حقوق سے متعلق عوامی اہمیت کے معاملے پر3 یا اس سے زائد ججزکا بینچ بنایا جائے گا، آئین اور قانون سے متعلق کیسز میں بینچ کم از کم 5 ججز پر مشتمل ہو گا جب کہ بینچ کے فیصلے کے 30 دن کے اندر اپیل دائر کی جا سکے دائر اپیل 14 روز میں سماعت کے لیے مقرر ہو گی، زیرالتوا کیسز میں بھی اپیل کا حق ہو گا، فریق اپیل کے لیے اپنی پسند کا وکیل رکھ سکتا ہے

     سادہ سا سوال ہے کہ الیکشن کمیشن تاریخ آگے کرسکتا ہے یا نہیں

    عمران فتنے نے اشتعال انگیزی پھیلا رکھی ہے نوازشریف کو بالکل واپس نہیں آنا چاہیے عفت عمر
    گھر سے بھاگنے کے محض ڈیڑھ دو سال کے بعد میں اداکارہ بن گئی کنگنا رناوت
    انتخابات ملتوی کرنےکامعاملہ،الیکشن کمیشن ،گورنر پنجاب اورکے پی کو نوٹس جاری
    اسلام آباد ہائیکورٹ؛ کراچی کی 6 یوسز میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی روکنے کا حکم

  • جسٹس نقوی کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس،شکایت کنندہ کا بیان حلفی جمع

    جسٹس نقوی کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس کا معاملہ ،شکایت کنندہ میاں داؤد ایڈووکیٹ نے تفصیلی بیان حلفی جمع کرا دیا

    بیان حلفی کے ساتھ ریفرنس کے دستاویزی ثبوت بذریعہ متفرق درخواست دوبارہ جمع کرا دیئے گئے، میاں داؤد ایڈوکیٹ کا کہنا ہے کہ تمام دستاویزی ثبوت ریفرنس کیساتھ منسلک تھے لیکن اب دوبارہ جمع کروائے جا رہے ہیں،درخواست کے ساتھ جسٹس نقوی، انکے بیٹوں کے نام مشکوک انداز میں خریدی گئی جائیدادوں کی دستاویزات منسلک ہیں درخواست کے ساتھ جسٹس نقوی کی بیٹی نقش فاطمہ کو برطانوی بینک اکائونٹ میں بھیجے گئے پائونڈز کی رسید بھی منسلک ہے

    دستاویزات کے مطابق جسٹس نقوی نے 2021 میں گلبرگ لاہور میں 2کنال4مرلے کا پلاٹ4 کروڑ 44 لاکھ میں خریدا،جسٹس نقوی نے یہ پلاٹ7کروڑ20لاکھ کا ڈکلیئر کیا، جسٹس نقوی نے یہ پلاٹ 2022 میں 13کروڑ کا اپنے مبینہ فرنٹ مین محمد صفدر کو فروخت کر کے 4 کروڑ96 لاکھ کا ڈکلیئر کیا،جسٹس مظاہر نقوی نے سینٹ جونز پارک کینٹ میں 65 کروڑ مارکیٹ ویلیو والا 4کنال کا پلاٹ10 کروڑ 70 لاکھ میں خریدا، فرنٹ مین صفدر نے جج کے بیٹوں مصطفی نقوی، مرتضی نقوی کو ایک ایک کنال کے دو پلاٹ کیپٹل سمارٹ سٹی میں دلوائے ایک بیٹے مصطفی نقوی کوکیپٹل سمارٹ سٹی میں 1کنال کا پلاٹ صرف5 لاکھ 40 ہزار میں دلوایا گیا، مصطفی نقوی کو کیپٹل سمارٹ سٹی انتظامیہ نے ساڑھے سولہ مرلے پلاٹ میں 46لاکھ60ہزار رعایت دی،جج کے دونوں بیٹے مصطفی نقوی اور مرتضی نقوی لاہور سمارٹ سٹی میں دسمبر 2021 میں چار چار مرلے کے دو کمرشل پلاٹوں کے مالک بنے، جج کے دونوں بیٹوں نےکمرشل پلاٹوں کی صرف 9 لاکھ روپے فی پلاٹ رقم کاغذوں میں جمع کروائی ہے،دونوں کمرشل پلاٹس کی موجودہ مارکیٹ ویلیو تین کروڑ ہے، زاہد رفیق اور صفدر نامی شخص نے جج اور اس کی فمیلی کیلئے سہولت کاری اور فرنٹ مین کا کردار ادا کیا زاہد رفیق نامی پراپرٹی ڈیلر نے جج کی بیٹی کے برطانوی اکائونٹ میں10ہزار پائونڈ بھجوائے ،جج کی بیٹی نقش فاطمہ نقوی کو برطانوی بینک اکائونٹ میں پانچ ہزار پائونڈ کی رسید پر31جنوری2023 کی تاریخ درج ہے جج کی بیٹی کے برطانوی بینک اکائونٹ میں5 ہزار پائونڈ ابوظہبی سے بھجوائے گئے،

    شکایت کنندہ میاں دائود کو جسٹس نقوی کے بیٹوں کی طرف سے بھجوایا گیا لیگل نوٹس بھی متفرق درخواست کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے،لیگل نوٹس میں جج کے بیٹوں نے چند برسوں میں1000کے قریب مقدمات کرنے کا اعتراف کیا ہے شکایت کنندہ میاں دائود کی طرف سے لیگل نوٹس کے جواب کی کاپی بھی متفرق درخواست کے ساتھ منسلک کی گئی ہے

    ریفرنس میں معزز جج کے عدالتی عہدے کے ناجائز استعمال کی بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں جبکہ معزز جج کے کاروباری، بااثر شخصیات کے ساتھ تعلقات بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ ریفرنس میں معزز جج کےعمران خان اور پرویز الہیٰ وغیرہ کے ساتھ بالواسطہ اور بلاواسطہ خفیہ قریبی تعلقات کی بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،فیصلہ کرنے میں کوئی عجلت نہیں کرینگے،چیف جسٹس

     سپریم کورٹ مقدمے کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرے گی

    اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس

    جسٹس نقوی کیخلاف ریفرنس پر ابتدائی کارروائی شروع

  • قومی اسمبلی، عدالتی اصلاحات کا بل منظور

    قومی اسمبلی، عدالتی اصلاحات کا بل منظور

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 منظوری کے لیے قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا تھا جو قومی اسمبلی نے منظور کر لیا، قومی اسمبلی اجلاس کی صدارت سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے کی،ایوان میں سپریم قوائد و ضوابط بل 2023 کثرت رائے سے مںظور کر لیا گیا سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کی شق وار منظوری دی گئی محسن داوڑ نے بل سے متعلق ترمیم بھی پیش کی وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تاڑ نے ترمیم کی حمایت کی ،قومی اسمبلی میں وکلا کی بہبود و تحفظ کا بل بھی منظور کر لیا گیا،اس بل کے مطابق سوموٹو کا اختیار سپریم کورٹ کے تین ججز کو حاصل ہو گا۔

    وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 قائمہ کمیٹی کو سونپا گیا تھا کمیٹی نے بل میں کچھ ترامیم تجویز کی ہیں ،وزیر قانون نے عدالتی اصلاحات کے حوالے سے کمیٹی کی رپورٹ ایوان میں پیش کی جبکہ کمیٹی کی رپورٹ چئیرمین کمیٹی محمود بشیر ورک نے پیش کی،بعد ازاں سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 منظوری کے لیے قومی اسمبلی میں پیش کر دیا گیا جس کے بعد بل پر بحث آغاز ہو گیا

    مولانا عبدالاکبر چترالی نے بل پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ قانون سازی ایوان کا حق ہے قانون سازی سے کوئی بھی ادارہ یا عدالت ایوان کو روک نہیں سکتی لیکن بل پیش کرنے کی اتنی جلدی کیا تھی، پاکستان کو بہت سے مسائل درپیش ہیں سب کو دیکھا جائےہم اپنے اداروں کو مستحکم کرنا چاہتے ہیں

    وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا سپریم کورٹ کے ایک شخص کی پاور تین ممبران میں تقسیم کی جا رہی ہے تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ سپریم کورٹ کی پاور کم کر رہے ہیں ایوان سپریم ہے ہم آئین کے خالق ہیں ، یوسف رضا گیلانی کو نااہل کیا گیا یوسف رضا گیلانی کو نااہل کرنے والے قانون پر نظرثانی ہونی چاہیے بینچ کی طرف سے نوازشریف کے لیے سیسلین مافیا کا لفظ استعمال کیا گیا کون لوگ بات کرتے ہیں کہ ہم آئین سے تجاوز کررہے ہیں؟ بھٹو کی بات سچ ہے کہ طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں دو دن میں قانون سازی کر رہے ہیں تمام لوازمات پورے کیے ہیں ہم اپنا حق استعمال کرتے ہوئے قانون سازی کر رہے ہیں یہ قانون آج سے بہت پہلے پاس ہو جانا چاہیے تھا

    قبل ازیں سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اگر ہم نے اس دلدل سے نکلنا ہے تو تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل بیٹھنا ہوگا.سیاستدان صرف اسٹیک ہولڈر نہیں ہیں پاکستان کی 75 سالہ تاریخ بتاتی ہے کہ پاور اسٹرکچر میں اسٹیک ہولڈر اور بھی بہت ہیں اگر سب مل بیٹھ کر مذاکرت کریں تو اسکی کامیابی کے امکانات ہیں.پی ٹی آئی کی طرف سے جو اشخاص بات چیت کیلیے آتے ہیں انکے پاس کوئی مینڈیٹ نہیں ہوتا اسی لیے میں نے کہا کہ تمام اسٹیک ہولڈر کو مل بیٹھنا چاہیے تبھی انکا حل نکل سکتا ہے

     سادہ سا سوال ہے کہ الیکشن کمیشن تاریخ آگے کرسکتا ہے یا نہیں

    عمران فتنے نے اشتعال انگیزی پھیلا رکھی ہے نوازشریف کو بالکل واپس نہیں آنا چاہیے عفت عمر
    گھر سے بھاگنے کے محض ڈیڑھ دو سال کے بعد میں اداکارہ بن گئی کنگنا رناوت
    انتخابات ملتوی کرنےکامعاملہ،الیکشن کمیشن ،گورنر پنجاب اورکے پی کو نوٹس جاری
    اسلام آباد ہائیکورٹ؛ کراچی کی 6 یوسز میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی روکنے کا حکم

  • بابا رحمتے بعد میں بابا زحمتے ثابت ہوا،رانا ثناء اللہ

    بابا رحمتے بعد میں بابا زحمتے ثابت ہوا،رانا ثناء اللہ

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ حاضر ہوئے ہیں کہ عدالت عظمی سے انصاف چاہتے ہیں

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا مزید کہنا تھا کہ ملک میں رواداری رول آف لاء میں عدالت عظمی اپنا کردار ادا کرے ،بد قسمتی سے ایسے فیصلے ہوتے رہے ہیں جن کی وجہ سے معاشرے میں ان بیلنس ہوا،ان فیصلوں پر لوگوں کو شکوک و شبہات ہے، کہا جارہا ہے یہ تین دو کا فیصلہ کیا، یہ بھی کہا جارہا ہے کہ یہ چار ایک کا فیصلہ ہے، یہ معاملات ختم ہونے چاہئیے، سپریم کورٹ کا فیصلہ اندرونی معاملہ نہیں ہوسکتا ،یہ ابہام فل کورٹ ہی ختم کرسکتا ہے،کل پارلیمنٹ میں سوموٹو نوٹس کے متعلق ایکٹ قومی اسمبلی میں پیش ہوا ہے ، امید ہے وہ آج پاس ہوجائے گا،

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا مزید کہنا تھا کہ بابا رحمتے بعد میں بابا زحمتے ثابت ہوا، کورٹ سے انصاف چاہتے ہیں، ملک میں رول آف لاء میں عدالت عظمی کا کرادر چاہتے ہیں،اس سے پہلے جو ناانصافیاں ہوئی لوگوں کو اس پر اعتراض ہے،ججز بھی کہہ رہے ہیں فیصلہ 4 تین سے تھا،آج بھی استدعا ہے سوموٹو کو فل کورٹ کی طرف لے جایا جائے،سپریم کورٹ آف پاکستان قوم کی رہنمائی کرے گی،سپریم کورٹ کے پاس مارل اتھارٹی ہے،جب سپریم کورٹ کے ججز آمنے سامنے ہوں اس وقت پارلیمنٹ کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیئے،

    عمران فتنے نے اشتعال انگیزی پھیلا رکھی ہے نوازشریف کو بالکل واپس نہیں آنا چاہیے عفت عمر
    گھر سے بھاگنے کے محض ڈیڑھ دو سال کے بعد میں اداکارہ بن گئی کنگنا رناوت
    انتخابات ملتوی کرنےکامعاملہ،الیکشن کمیشن ،گورنر پنجاب اورکے پی کو نوٹس جاری
    اسلام آباد ہائیکورٹ؛ کراچی کی 6 یوسز میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی روکنے کا حکم

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کمرہ عدالت میں سو گئے،