Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • قائمہ کمیٹی برائے قانون وانصاف سے سپریم کورٹ بل 2023 ترامیم کے ساتھ منظور

    قائمہ کمیٹی برائے قانون وانصاف سے سپریم کورٹ بل 2023 ترامیم کے ساتھ منظور

    قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کا اجلاس ہوا
    اجلاس چیئرمین کمیٹی چوہدری محمود بشیر ورک کی صدارت میں ہوا، اجلاس میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر سید نوید قمر،وزیر مملکت قانون شہادت اعوان و دیگر شامل تھے ،اجلاس میں سپریم کورٹ( کاروائی اور قواعد و ضوابط) بل 2023 زیر بحث آیا، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ آئین کا آرٹیکل 4 ، 10 اور آرٹیکل 25 شفاف ٹرائل اور انصاف کے بنیادی اصولوں کو پورا کرتا ہے۔ نفیسہ شاہ کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ از خود نوٹس کے اختیارات کو ریگولیٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کے بعد آنے والے 3 چیف جسٹس نے از خود نوٹس کا بہت کم استعمال کیا۔ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے از خود نوٹس کا استعمال کیا۔وزارت قانون و انصاف کافی دیر سے اس حوالے سے کام کر رہی ہے۔ گزشتہ روز معزز ججز کا فیصلہ سب کے سامنے ہے۔جب بھی عدلیہ کی آزادی کی بات ہوتی ہے تو بار کونسلز اور بار ایسوسی ایشنز کرتی ہیں۔ بار کونسلز اور بار ایسوسی ایشنز اس بل کی حمایت کر رہے ہیں۔ کمیٹی نے سپریم کورٹ (کاروائی اور قواعد و ضوابط) بل 2023 ترامیم کے ساتھ منظور کر لیا

    قبل ازیں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ گزشتہ قومی اسمبلی اجلاس میں پیش ہونے والے بل کو اس کمیٹی میں بھجوایا گیا،سپریم کورٹ میں انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے یہ بل پیش کیا گیا،184(3) کے دائرہ اختیار کو زیر بحث لایا جائے، بنیادی حقوق کے حوالے سے وزارت قانون کام کر رہی تھی، گزشتہ دنوں سپریم کورٹ کے فیصلوں کی صورت میں بھی آوازیں آئیں،ہم سمجھتے ہیں کہ یہ مناسب وقت ہے کہ پارلیمنٹ اپنا کردار ادا کرے

    دوسری جانب ممتاز ماہر قانون اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ کے عدلیہ کی اصلاحات کے بل کا اطلاق ماضی سے نہیں ہوگا، 90 دن کے آس پاس انتجابات کروانے ہونگے،تین دو سے سپریم کورٹ کے فیصلے پر پانچوں جج کے دستخط ہیں کہ یہ اکثریتی فیصلہ ہے حکومت کے عدلیہ بارے بل کے سپریم کورٹ کے فیصلے پر اس کے کوئی اثرات نہیں ہونگے، چیف جسٹس پاکستان آئین کے آرٹیکل 184 تین کے تحت اپنے اختیارات کا استعمال کر رہے ہیں

    عمران فتنے نے اشتعال انگیزی پھیلا رکھی ہے نوازشریف کو بالکل واپس نہیں آنا چاہیے عفت عمر
    گھر سے بھاگنے کے محض ڈیڑھ دو سال کے بعد میں اداکارہ بن گئی کنگنا رناوت
    انتخابات ملتوی کرنےکامعاملہ،الیکشن کمیشن ،گورنر پنجاب اورکے پی کو نوٹس جاری
    اسلام آباد ہائیکورٹ؛ کراچی کی 6 یوسز میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی روکنے کا حکم

     سادہ سا سوال ہے کہ الیکشن کمیشن تاریخ آگے کرسکتا ہے یا نہیں

  • 15 کروڑ سے زیادہ آمدن والے ٹیکس دہندگان کو 50 فیصد سپر ٹیکس ادا کرنے کا حکم

    15 کروڑ سے زیادہ آمدن والے ٹیکس دہندگان کو 50 فیصد سپر ٹیکس ادا کرنے کا حکم

    سپریم کورٹ نے 15 کروڑ سے زیادہ آمدن والے ٹیکس دہندگان کو 50 فیصد سپر ٹیکس ادا کرنے کا حکم دے دیا

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی ،عدالت نے قرار دیا کہ زیادہ آمدن والے ٹیکس دہندگان 14روزمیں ایف بی آرکو سپر ٹیکس جمع کروائیں ،دوران سماعت وکیل ایف بی آر نے عدالت میں کہا کہ انکم ٹیکس آرڈیننس میں ایک نیا سیکشن ڈال کر15 کروڑ روپے سے زیادہ کمانے والوں پریہ سپر ٹیکس عائد کیا گیا ہے

    چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایف بی آر ٹیکس دہندگان سے اعتماد اور پیار کا رشتہ بڑھائے، ایف بی آراپنے ٹیکس کا دائرہ بڑھائے گا توبات بنے گی ،ٹیکس دہندگان کا اعتماد ایف بی آر کو جیتنا ہوگا۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی

     ایف بی آر نے اینکر عمران ریاض خان کو نوٹس بھجوایا ہے

    پی ٹی آئی کارکنان کا مسجد میں گھس کر امام مسجد پر حملہ، ویڈیو وائرل

    پی ٹی آئی کے منحرف رکن اسمبلی کے گھر پر حملہ،فائرنگ،قاتلانہ حملہ کیا گیا، بیٹے کا دعویٰ

    سپر ٹیکس کیا ہے؟

    یہ ایک خاص ٹیکس ہوتا ہے اور عمومی ٹیکس کے اوپر لگایا جاتا ہے،یہ ٹیکس حالات کو دیکھ کر لگایا جاتا ہے اور ایمرجنسی کی صورت میں کوئی بھی حکومت ہنگامی اقدامات کے تحت اسے عائد کر سکتی ہے،پاکستان میں اس سے پہلے 2010 میں بھی سپر ٹیکس عائد کیا گیا تھا جب سیلاب آیا تھا تاہم حالیہ سپر ٹیکس کا زیادہ فائدہ نہیں ہو گا۔‘

    معاشی ماہرین کے مطابق سپر ٹیکس ایک ایسا ٹیکس ہوتا ہے جو حکومتیں اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے آمدن پر ایک اضافی طور پر لگاتی ہیں۔ شہریوں یا ایک خاص طبقے پر لگائے جانے والے اضافی ٹیکسوں کے بعد ان کی ٹیکس کی مد میں آنے والی آمدن کے اوپر کچھ فیصد کا مزید ٹیکس سپر ٹیکس کے زمرے میں آتا ہے۔

    اس سے قبل وزیر اعظم شہباز شریف نے معاشی ٹیم کے اجلاس کے بعد گفتگو کرتے ہوئے بتایا تھا کہ عام آدمی کو ٹیکس سےبچانے کے لیے صنعتوں پرٹیکس لگایا ہے، سیمنٹ، اسٹیل، شوگرانڈسٹری، آئل اینڈگیس، ایل این جی ٹرمینل، فرٹیلائزر، بینکنگ، ٹیکسٹائل، آٹوموبائل، کیمیکل، بیوریجز اور سگریٹ انڈسٹری پر بھی 10 فیصد سپر ٹیکس لگے گا۔

    انہوں نے کہا تھا کہ سالانہ 15کروڑ روپے سے زائد آمدن کمانے والے پر ایک فیصد، 20 کروڑ روپے سالانہ سے زائد آمدن والے پر2 فیصد، 25 کروڑ روپے سالانہ سے زائد آمدن والے پر3 فیصد اور 30 کروڑ روپے سالانہ سے زائد آمدن والے پر4 فیصد ٹیکس لگایا جائے گا جو غربت میں کمی کا ٹیکس ہ

  • حکومت سے پوچھتے ہیں کہ چھ ماہ کا عرصہ کم ہو سکتا ہے یا نہیں،چیف جسٹس

    حکومت سے پوچھتے ہیں کہ چھ ماہ کا عرصہ کم ہو سکتا ہے یا نہیں،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں پنجاب اورکے پی میں انتخابات ملتوی کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر سپریم کورٹ پہنچ گئے،الیکشن کمیشن کی قانونی ٹیم بھی سپریم کورٹ پہنچ گئی ،وفاقی کابینہ کے ارکان کی کمرہ عدالت آمد ہوئی،وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ بھی عدالت میں موجود تھے،کیس کی سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال،جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر ، جسٹس امین الدین خان اور جسٹس جمال خان مندوخیل پر مشتمل لارجر بینچ نے کی،

    جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں وضاحت کرنا چاہتا ہوں، فیصلہ چار کا تھا تین کا نہیں،چار ججز نے اس معاملے کو نمٹا دیا تھا، آرڈر اف کورٹ جاری نہیں ہوا تو الیکشن کمیشن کیسے عملدرآمد کرسکتا ہے، آرڈر اف کورٹ چار ججز کا بنتا ہے، اپنے فیصلے پر قائم ہوں، میرے بارے میں غلط تاثر دیا گیا، میرے کل سے منسوب بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا، سپریم کورٹ رولز سے متعلق میں نے کہا کہ وہ اندرونی معاملہ ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے جسٹس جمال کو کہا کہ الیکشن کمیشن آرڈر کے بغیر کیسے عمل کررہا ہے،چار ججز میں سے 2 میرے بھی سینئر ہیں چلیں آپ کی وضاحت آ گئی ہے،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ میں نےابھی بات کرنی ہےفل کورٹ کیوں وہی 7 ججز بنچ میں بیٹھنے چاہیں،چار ججز نے پی ٹی آٸی کی درخواستیں خارج کی ،ہمارے حساب سے فیصلہ چار ججز کا ہے، ،چیف جسٹس نے آج تک آرڈر آف دی کورٹ جاری نہیں کیا، جب آرڈر آف کورٹ نہیں تھا تو صدر مملکت نے الیکشن کی تاریخ کیسے دی،جب آرڈر آف کورٹ نہیں توالیکشن کمیشن نے شیڈول کیسے دیا؟

    وکیل فاروق ایچ نائیک روسٹرم پر اگئے اور کہا کہ پارٹی بننے کی درخواست دائر کردی ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ اپنا موقف پیش کرنا چاہتے ہیں، آپ کی درخواست پی ڈی ایم کی طرف سے ہے؟پہلے الیکشن کمیشن کے وکیل کو سنیں گے، الیکشن کمیشن کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے، الیکشن کمیشن کی جانب سے عرفان قادر عدالت میں پیش،کہا میری آج پہلی پیشی ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ سے پہلے سواتی صاحب کمیشن کے وکیل تھے،ہم اس کیس کو اگے لے جانا چاہتے ہیں،

    دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے فاروق ایچ نائیک سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کے ماحول کو خراب نہ کیا جائے، سماعت کے دائرہ اختیار پر اعتراض اٹھائیں تو دیکھیں گے،وکیل پیپلز پارٹی نے کہا کہ آپ فریق بنیں گے تو ہم اعتراض اٹھائیں گے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ تحمل کا مظاہرہ کریں،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ میں تحمل کا ہی مظاہرہ کر رہا ہوں، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ تاریخ مقرر کرنے کے بعد شیڈول جاری کیا اور انتخابات کی تیاریاں شروع کردیآرٹیکل 218 کی زمہ داری کسی بھی قانون سے بڑھ کر ہے ،انتخابات کےلیے سازگار ماحول کا بھی آئین میں ذکر ہے، آرٹیکل 224 کےتحت الیکشن 90 روز میں ہونا ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کے وکیل نے اچھی تیاری کی ہے،

    سجیل سواتی نے کہا کہ عدالتی آرڈر میں لکھا ہے کہ فیصلہ 3/2 سے ہے، 3/2 والے فیصلے پر پانچ ججز کے دستخط ہیں، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ کمیشن نے فیصلہ کے پیراگراف 14 اور ابتداء کی سطروں کو پڑھ کرعمل کیا، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ کیا آپ نے مختصر حکم نامہ دیکھا تھا ، سجیل سواتی نے کہا کہ ممکن ہے کہ ہمارے سمجھنے میں غلطی ہوئی ہو،جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ کیا مختصرحکمنامے میں لکھا ہے کہ فیصلہ 4/3 کا ہے،سجیل سواتی نے کہا کہ اسی بات کو دیکھ کر عدالتی حکم پر عمل کیا ،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یکم مارچ کے اختلافی نوٹ میں کہیں نہیں لکھا کہ فیصلہ 4/3 کا ہے،اختلاف رائے جج کا حق ہے،یہ اقلیت کسی قانون کے تحت خود کو اکثریت میں ہونے کا دعویٰ نہیں کر سکتی، کھلی عدالت میں پانچ ججز نے مقدمہ سنا اور فیصلے پردستخط کیے،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ آپ نے میرے سوال کا جواب نہیں دیا، مختصرحکم نامے میں لکھا ہے کہ اختلافی نوٹ لکھے گئے ہیں، اختلافی نوٹ میں واضح لکھا ہے کہ جسٹس یحییٰ آفریدی اور اطہرمن اللہ کے فیصلے سے متفق ہیں،کیا جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس اطہر من اللہ کے فیصلے ہوا میں تحلیل ہو گئے، چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو معاملہ ہمارے چیمبرز کا ہے اسے وہاں ہی رہنے دیں، اٹارنی جنرل اس نقطہ پر اپنے دلائل دیں گے، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ تفصیلی فیصلے کے بعد الیکشن کمیشن کا کیا موقف ہے،سجیل سواتی نے کہا کہ 4/3 کے فیصلے پر الیکشن کمیشن سے ہدایات نہیں لیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے الیکشن کمیشن کے وکیل کو دلائل جاری رکھنے کی ہدایت کی، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ججز کا احترام ہے مگر اقلیتی فیصلہ اکثریتی فیصلے پرغالب نہیں آ سکتا، قانون واضح ہے کہ اقلیتی فیصلے کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی،جسٹس منصور اور جسٹس جمال خان کا فیصلہ اقلیتی ہے

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ آٹھ فروری کے لیٹرز پر انحصار کر رہے ہیں ، عدالت نے یکم مارچ کو اپنا فیصلہ دیا، کیا آپ کو فروری میں خیال تھا کہ اکتوبر میں الیکشن کروانا ہے، دوسری طرف آپ کہتے ہیں کہ عدالتی فیصلے سے انحراف کا سوچ نہیں سکتے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے الیکشن کمیشن کے وکیل کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ اس کے علاوہ بہت سارے سوالات ہیں، جسٹس منیب اختر کے سوالات نوٹ کر لیں، آپ دلائل دیں پھر سوالوں کے جواب دیں، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو انتخابات کے لیے فوج کے جوان دینے سے انکار کیا گیا ،آئین کا آرٹیکل 17 پرامن انتخابات کی بات کرتا ہے، آئین کے مطابق انتخابات صاف شفاف پرامن سازگار ماحول میں ہوں ،ایجنسیوں نے الیکشن کمیشن کو خفیہ رپورٹس دیں ،عدالت کہے گی تو خفیہ رپورٹس بھی دکھا دیں گے،رپورٹس میں بھکر میانوالی میں مختلف کالعدم تنظیموں کی موجودگی ظاہر کی گئی،الیکشن کے لیے چار لاکھ بارہ ہزار کی نفری مانگی گئی تھی،دو لاکھ ستانوے ہزار سیکیورٹی اہلکاروں کی کمی کا سامنا ہے، پس منظر کے طور پر ان رپورٹس کا حوالہ دیا،الیکشن کمیشن نے فیصلہ 22 مارچ کو کیا،اس سے پہلے یہ گراؤنڈز دستیاب تھے، اس کے بعد انتخابات کے حوالے سے میٹنگز ہوئیں،وزارت داخلہ نے بھی 8 فروری کے خط میں امن و امان کی خراب صورتحال کا زکر کیا،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے میں 20 ارب کا ذکر ہے لیکن کل عدالت کو 25 ارب کا بتایا گیا، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ پانچ ارب روپے پہلے ہی الیکشن کمیشن کو جاری ہو چکے ہیں، وزارت خزانہ نے بتایا کہ موجودہ مالی سال میں الیکشن کے لیے فنڈز جاری نہیں کر سکتے،پنجاب کیلئے 2لاکھ 97 ہزار سیکورٹی اہلکاروں کی کمی کا بتایا گیا،جسٹس جمال خان مندو خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا الیکشن کیلئے قومی اسمبلی نے فنڈز کی منظور دی ہوئی ہے، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ وزارت خزانہ اس بات کا تفصیل سے جواب دے سکتی ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ الیکشن تو ہر صورت 2023 میں ہونا تھے، کیا بجٹ میں 2023 الیکشن کیلئے رقم مختص نہیں کی گئی تھی؟ اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ انتخابات کیلئے بجٹ آئندہ مالی سال میں رکھنا ہے، قبل ازوقت اسمبلی تحلیل ہوئی اس کا علم نہیں تھا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ اگر انتخابات پورے ملک میں ایک ساتھ ہوں تو کتنا خرچ ہوگا، اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ ملک بھر میں ایک ہی دفعہ انتخابات ہوں تو 47ارب روپے خرچ ہوں گے،انتخابات الگ الگ ہوں تو 20 ارب روپے اضافی خرچ ہوگا، وکیل الیکشن کمیشن نے عدالت میں کہا کہ سپیشل سیکرٹری داخلہ نے بتایا کہ سیاسی شخصیات کو سیکورٹی خطرات ہیں، وزارت داخلہ کے مطابق سیکورٹی خطرات صرف الیکشن کے روز نہیں الیکشن مہم کے دوران بھی ہوں گے،الیکشن کمیشن کو بتایا گیا تھا کہ فوج کی تعیناتی کے بغیر الیکشن کو سکیورٹی فراہم کرنا ناممکن ہو گا، سپیشل سیکرٹری داخلہ نے کہا کہ ان حالات میں پرامن انتخابات کا انعقاد نہیں ہو سکتا، سیکٹر کمانڈر آئی ایس آئی نے بتایا کہ کے پی کے میں کالعدم تنظیموں نے متوازی حکومتیں بنا رکھی ہیں، خفیہ رپورٹس میں بتایا گیا کہ دو مختلف دہشتگرد تنظیمیں متحرک ہیں، خفیہ رپورٹس کے مطابق خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں شیڈو حکومتیں قائم ہیں ،2023 میں سکیورٹی کے 443 تھریٹس کے پی کے میں موصول ہوئے، کے پی کے میں رواں سال دہشگردی کے 80 واقعات ہوئے، 170 شہادتیں ہوئیں، خفیہ رپورٹس کے مطابق ان خطرات سے نکلنے میں چھ سے سات ماہ لگیں گے، رپورٹس کے مطابق عوام میں عدم سکیورٹی کا تاثر بھی زیادہ ہے،خیبرپختونخوا کے 80 فیصد علاقوں سکیورٹی خطرات زیادہ ہیں،

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیسی بات کر رہے ہیں ، دو اسمبلیاں تحلیل ہو چکی ہیں ،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ خفیہ اداروں کی رپورٹس میں جو حقائق بیان کیے گئے وہ نظرانداز نہیں کر سکتے، جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا کوئی طریقہ کار ہے الیکشن کمیشن ان رپورٹس کی تصدیق کروا سکے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں دہشت گردی کا ایشو تو ہے !بیس سال سے ملک میں دہشتگردی کا مسئلہ ہے، اس کے باوجود ملک میں انتخابات ہوتے رہے ہیں۔ 90کی دہائی میں تین دفعہ الیکشن ہوئے، 90 کی دہائی میں ملک میں فرقہ واریت اور دہشگردی عروج پر تھی،58/2 بی کے ہوتے ہوئے ہر تین سال بعد اسمبلی توڑ دی جاتی تھی، پنجاب میں دہشتگردی کے پانچ واقعات ہوئے ، آخری واقعہ سابق وزیراعظم عمران خان پر قاتلانہ حملہ تھا،

    وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ صدر مملکت کو یہ حقاٸق بتائے بغیر آپ نے الیکشن کی تاریخیں تجویز کر دیں، صدر مملکت نے تاریخ کی تبدیلی پرالیکشن کمیشن کو خط نہیں لکھا ،صدر مملکت نے تاریخ کی تبدیلی پر وزیراعظم کو خط لکھ دیا ، جسٹس منیب اختر نے الیکشن کمیشن کے وکیل سے استفسار کیا کہ اگر ادارے آپکو معاونت فراہم کریں تو کیا آپ الیکشن کروائینگے؟ بظاہر الیکشن کمیشن کا سارا مقدمہ خطوط پر ہے، الیکشن کمیشن کا مسٸلہ فنڈزکی دستیابی کا ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کا مقصد سیاسی نظام کو چلنے رہنے دینا ہے۔ سیاسی جماعت بھی سیاسی نظام کو آگے بڑھانے کی مخالفت نہیں کرتی، ایک مسئلہ سیاسی درجہ حرارت کا ہے، علی ظفر اور اٹارنی جنرل کو سیاسی درجہ حرارت کم کرنے پر ہدایت لیکر آگاہ کرنے کا کہا تھا، سیاسی درجہ حرارت کم ہونے تک انتحابات پر امن نہیں سکتے، کسی فریق نے سیاسی درجہ حرارت کم کرنے کی یقین دہانی نہیں کرائی، وکیل علی ظفر نے کہا کہ عدالت کو مکمل یقین دہانی کروانے کے لیے تیار ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے علی ظفر سے استفسار کیا کہ یقین دہانی کس کی طرف سے ہے؟ وکیل عی ظفر نے کہا کہ چیرمین پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے تحریری یقین دہانی کروائیں گے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کی پارٹی کی باری آئے گی تو ان سے بھی اس حوالے سے بات کریں گے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جہاں مسئلہ زیادہ ہے اس ضلع میں انتحابات موخر بھی ہوسکتے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے کچے کے آپریشن کیوجہ سے پورے پنجاب میں الیکشن ملتوی کردیا ۔کے پی کے میں الیکشن کیُ تاریخ دیکر واپس لی گئی۔ اٹھ اکتوبر کی تاریخ پہلے سے مقرر کی گئی ،آٹھ اکتوبر کو کونسا جادو ہو جائے گا جو سب ٹھیک ہو جائے گا، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ آٹھ اکتوبر کی تاریخ عبوری جائزے کے بعد دی گئی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عبوری جائزے کا مطلب ہے کہ انتحابات مزید تاخیر کا شکار ہوسکتے ہیں۔عدالت کو پکی بات چاہیے۔ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ صاف شفاف انتخابات یقینی بنانے کے لئے الیکشن کمیشن کوئی بھی حکم جاری کرسکتا ہے،ورکرز پارٹی فیصلہ کے مطابق صاف شفاف انتخابات کے لئے وسیع اختیارات ہیں،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں اداروں سے معاونت نہیں مل رہی،الیکشن کمیشن اپنی ذمہ داری سے کیسے بھاگ سکتا ہے؟ صاف شفاف انتخابات الیکشن کمیشن کی زمہ داری ہے انتخابی شیڈول پر عملدرآمد شروع ہوگیا تھا، اگر کوئی مشکل تھی تو عدالت آ جاتے، الیکشن کمیشن وضاحت کرے کہ انتخابات 6 ماہ آگے کیوں کردیئے؟ کیا ایسے الیکشن کمیشن اپنیذمہ داری پورے کریگا؟ کیا انتخابات میں 6 ماہ کی تاخیر آئینی مدت کی خلاف ورزی نہیں؟

    جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ انتخابات کرانے کا اختیار کس دن سے شروع ہوتا ہے؟ انتخابی تاریخ مقرر ہونے سے اختیار شروع ہوتا ہے،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ تاریخ مقرر ہوجائے تو اسے بڑھانے کا اختیار الیکشن کمیشن کا ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صرف پولنگ کا دن نہیں پورا الیکشن پروگرام موخر کیا ہے،الیکشن کمیشن شیڈول تبدیل کرسکتا ہے تاریخ نہیں،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن کمیشن ٹھوس وجوہات پر الیکشن پروگرام واپس لے سکتا ہے،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ گورنر اور صدر کی دی گئی تاریخ الیکشن کمیشن کیسے تبدیل کر سکتا ہے!آئین میں واضح ہے کہ پولنگ کی تاریخ کون دے گا !کیا الیشکن ایکٹ کا سیکشن 58 آئین سے بالا تر ہے؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کو سپریم کورٹ سے رجوع کر کے قائل کرنا چاہئے تھا الیکشن کمیشن کو موقع ہے آج بھی عدالت کو قائل کرسکتا ہے، کیا 8 اکتوبر کوئی جادوئی تاریخ ہے جو اس دن سب ٹھیک ہوجائے گا ،8 اکتوبر کی جگہ 8 ستمبر یا 8 اگست کیوں نہیں ہوسکتی؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ 6 ماہ کا وقت مکمل ہونے کے بعد 8 اکتوبر کو پہلا اتوار بنتا ہے،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ کیا پولنگ کی تاریخ الیکشن پروگرام کا حصہ ہوتی ہے؟ جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ صدر کی تجویز کردہ تاریخ کمیشن کی تاریخ سے مطابقت نہیں رکھتی، صدرکو فروری میں ہونے والے اجلاسوں سے کیوں آگاہ نہیں کیا گیا؟ جب معلوم تھا کہ 30 اپریل کو الیکشن نہیں ہوسکتے تو تاریخ تجویز ہی کیوں کی گئی؟ عدالت نے صدر کو آگاہ کرنے سے نہیں روکا، الیکشن شیڈول پر عمل کرنے کا کیا فائدہ ہوا جب آج پھر عدالت میں کھڑے ہیں؟ جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر صدر تاریخ کا اعلان کردیں تو کیا الیکشن کمیشن اختیار استعمال کرکے انتخابات سے انکار کرسکتا ہے؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے پرانا شیڈول ختم کرکے نیا شیڈول جاری نہیں کیا،الیکشن شیڈول کی بجائے الیکشن کمیشن نے 8 اکتوبر کو جھنڈا لگا دیا ہے،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ سیکشن 58 الیکشن کمیشن کو تاریخ بڑھانے کی اجازت نہیں دیتا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ چاہتے ہیں عدالت 8 اکتوبر کی تاریخ پر مہر لگائے، جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے صرف اپنے حکم کا دفاع کرنا ہے،عدالتی حکم کی خلاف ورزی ہوئی یا نہیں یہ درخواست گذار نے ثابت کرنا ہے،

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تمام اسمبلیاں تحلیل ہو جائیں تو کیا الیکشن کمیشن انتخابات سے معذوری ظاہر کر سکتا ہے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن انتخابات کیلئے حکومت پر انحصار کرتا ہے، حکومت نے بتانا ہے کہ وہ مدد کرنے کی پوزیشن میں ہے یا نہیں، کیا الیکشن کمیشن حکومت کی بریفنگ پر مطمئن ہے؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ اگر پیسے اور سکیورٹی مل جائے تو 30 اپریل کو انتخابات ہو سکتے ہیں؟

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن راستہ نہیں ڈھونڈ سکتا تو ہم ڈھونڈیں گے، 1988 میں بھی عدالت کے حکم پر الیکشن تاخیر سے ہوئے تھے، 2008 میں حالات ایسے تھے کہ کسی نے انتخابات ملتوی کرنے پہ اعتراض نہیں کیا، اللہ کرے 2008 والا واقعہ دوبارہ نہ ہو، بنیادی حقوق کو مدنظر رکھتے ہوئے آئین کی تشریح ہو گئی ہے، آرٹیکل 218-3 ارٹیکل 224 سے بالاتر کیسے ہوسکتا ہے؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ آرٹیکل 218-3 شفاف منصفانہ انتحابات کی بات کرتا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ شفاف انتحابات نہیں ہوں گے تو کیا ہو گا؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن شفاف نہ ہوں تو جہموریت نہیں چلے گی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ساز گار ماحول کا کیا مطلب ہے کہ کوئی کسی پر انگلی نہ اٹھائے، چھوٹی موٹی لڑائی جھگڑے تو ہر ملک میں ہوتے ہیں، اصل معاملہ یہ ہے کہ اسلحہ کا استعمال نہ ہو،اگر معمولی جھگڑا بھی نہیں چاہتے تو ایسا نظام بنائیں لوگ گھر سے ہی ووٹ کاسٹ کریں،سمندر پار پاکستانی ووٹ کا حق مانگتے ہیں سپریم کورٹ کا حکم بھی موجود ہے،الیکشن کمیشن نے ابھی تک سمندر پار پاکستانیوں کی ووٹنگ کے لیے کچھ نہیں کیا،حکومت سے پوچھتے ہیں کہ چھ ماہ کا عرصہ کم ہو سکتا ہے یا نہیں،

    ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا کے دلائل شروع ہو گئے ، عدالت میں کہا کہ گورنر کے پی نے ابھی تک انتخابات کی تاریخ نہیں دی، جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ نگران حکومت نے گورنر کو تاریخ دینے کا کیوں نہیں کہا؟ ایڈوکیٹ جنرل کے پی نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی معاونت کے لئے تیار ہیں،جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا گورنر کے پی نے تاریخ کا اعلان کیا ہے؟ کامران مرتضیٰ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو تاریخ سے آگاہ کردیا ہے، گورنر نے 28 مئی کی تاریخ دی تھی،ڈی جی لاء الیکشن کمیشن نے کہا کہ گورنر کے پی نے 8 اکتوبر کی تاریخ دی ہے،گورنر کا خط کل موصول ہوا ہے ہدایات کےلئے وقت دیں ، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے فوری اور جلد از جلد تاریخ دینے کا کہا تھا،گورنر کے پی نے 8 اکتوبر کی تاریخ کس بنیاد پر دی ہے؟اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد 90 روز 30 اپریل کو پورے ہورہے ہیں،90 دن سے کم سے کم آگے کی تاریخ 28 مئی کیسے دی گئی؟ وکیل کامران مرتضی نے کہا کہ کل گورنر کے پی سے ہدایات لیکر آگاہ کرونگا،

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کمرہ عدالت میں سو گئے، وزیر دفاع خواجہ آصف نے اپنی سیٹ سے اٹھ کر رانا ثنا اللہ کو نیند سے جگایا ،وزیر مذہبی امور مفتی عبدالشکور بھی کمرہ عدالت میں سو گئے

    سماعت کے آغاز سے قبل سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس نے مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور جمیعت علمائے اسلام کی جانب سے انتخابات ملتوی کیس میں فریق بننے کی درخواست وصول کرلی،قبل ازیں رجسٹرار آفس نے ن لیگ، پیپلز پارٹی اور جے یوآئی ف کی پارٹی بننے کی متفرق درخواست لینے سے انکار کر دیا تھا، رجسٹرار آفس نے تینوں سیاسی جماعتوں کو پارٹی بننے کی درخواست دوران سماعت عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت کی تھی مگر بعد میں رجسٹرار آفس نے درخواست وصول کر لی،

    گزشتہ روز سپریم کورٹ میں ہونے والی سماعت میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایمرجنسی لگا کر ہی الیکشن ملتوی کیے جا سکتے ہیں سادہ سا سوال ہے کہ الیکشن کمیشن تاریخ آگے کرسکتا ہے یا نہیں، اگر الیکشن کمیشن کا اختیار ہوا تو بات ختم ہوجائے گی

    دوسری جانب وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ گزشتہ قومی اسمبلی اجلاس میں پیش ہونے والے بل کو کمیٹی میں بھجوایا گیا سپریم کورٹ میں انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے یہ بل پیش کیا گیا 184(3) کے دائر اختیار کو زیر بحث لایا جائے بنیادی حقوق کے حوالے سے وزارت قانون کام کر رہی تھی گزشتہ دنوں سپریم کورٹ کے فیصلوں کی صورت میں بھی آوازیں آئیں ہم سمجھتے ہیں کہ یہ مناسب وقت ہے کہ پارلیمنٹ اپنا کردار ادا کرے

    تحریکِ انصاف کے وکیل علی ظفر نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جہاں جہاں نظام کو بہتر بنانے کی بات ھے ہمیں کوئی اعتراض نہیں، اٹارنی جنرل کا بڑا عہدہ ہوتا ہے، مجھے نا کبھی شوق ہوا نا آفر ہوئی،جتنے اٹارنی جنرل آئے ہیں سب اچھے پائے دار وکیل تھے ،مجھے اٹارنی جنرل بننے کا کوئی شوق نہیں

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حاضر ہوئے کہ عدالت عظمی سے انصاف چاہتے ہیںملک میں رواداری رول آف لاء میں عدالت عظمی اپنا کردار ادا کرے ،بد قسمتی سے ایسے فیصلے ہوتے رہے ہیں جن کی وجہ سے معاشرے میں ان بیلنس ہوا،ان فیصلوں پر لوگوں کو شکوک و شبہات ہے، کہا جارہا ہے یہ تین دو کا فیصلہ کیا، یہ بھی کہا جارہا ہے کہ یہ چار ایک کا فیصلہ ہے، یہ معاملات ختم ہونے چاہئیے، سپریم کورٹ کا فیصلہ اندرونی معاملہ نہیں ہوسکتا ،یہ ابہام فل کورٹ ہی ختم کرسکتا ہے،کل پارلیمنٹ میں سوموٹو نوٹس کے متعلق ایکٹ قومی اسمبلی میں پیش ہوا ہے ، امید ہے وہ آج پاس ہوجائے گا،بابا رحمتے بعد میں بابا زحمتے ثابت ہوا ، کورٹ سے انصاف چاہتے ہیں،ملک میں رول آف لاء میں عدالت عظمی کا کرادر چاہتے ہیں،اس سے پہلے جو ناانصافیاں ہوئی لوگوں کو اس پر اعتراض ہے،ججز بھی کہہ رہے ہیں فیصلہ 4 تین سے تھا،آج بھی استدعا ہے سوموٹو کو فل کورٹ کی طرف لے جایا جائے،سپریم کورٹ آف پاکستان قوم کی رہنمائی کرے گی،سپریم کورٹ کے پاس مارل اتھارٹی ہے،جب سپریم کورٹ کے ججز آمنے سامنے ہوں اس وقت پارلیمنٹ کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیئے،

    عمران فتنے نے اشتعال انگیزی پھیلا رکھی ہے نوازشریف کو بالکل واپس نہیں آنا چاہیے عفت عمر
    گھر سے بھاگنے کے محض ڈیڑھ دو سال کے بعد میں اداکارہ بن گئی کنگنا رناوت
    انتخابات ملتوی کرنےکامعاملہ،الیکشن کمیشن ،گورنر پنجاب اورکے پی کو نوٹس جاری
    اسلام آباد ہائیکورٹ؛ کراچی کی 6 یوسز میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی روکنے کا حکم

  • قومی اسمبلی میں عدالتی اصلاحات کا بل پیش

    اسلام آباد: قومی اسمبلی میں ’سیاسی معاملات میں عدلیہ کی بے جا مداخلت‘ کے خلاف قرارداد منظور کی گئی ہے۔

    باغی ٹی وی:وزیراعظم شہبازشریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں عدالتی اصلاحات ترمیمی بل ’سیاسی معاملات میں عدلیہ کی بے جا مداخلت کا مسودہ منظور کیا گیا۔

    وفاقی حکومت کا عدالتی اصلاحات کیلئے فوری قانون سازی کا فیصلہ

    سیاسی معاملات میں عدلیہ کی بے جا مداخلت کا بل وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے پیش کیا ان کا کہنا تھا کہ ایوان عدالیہ کی مداخلت کو سیاسی عدم استحکام کا باعث سمجھتا ہےیہ ایوان چار ججزکے فیصلے پر عملدرآمد کا مطالبہ کرتے ہوئے توقع کرتا ہے اعلیٰ عدلیہ سیاسی و انتظامی معاملات میں مداخلت سے گریز کرے گی۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن خودمختار ادارہ ہے اس کے آئینی اختیارات میں مداخلت نہ کی جائے’یہ ایوان سمجھتا ہے کہ تمام اسمبلیوں کے انتخابات بیک وقت غیر جانبدار نگران حکومتوں کے تحت ہونے چاہییں وہ دستوری معاملات جن میں اجتماعی دانش درکار ہو اور اس کا مطالبہ بھی ہو، اس کی سماعت عدالت عظمیٰ کا فُل کورٹ کرے۔

    پہلی ششماہی میں 10.21 ارب ڈالر کی ادائیگیاں کی گئیں. سٹیٹ بنک

    دوسری جانب حکومت کی جانب سے چیف جسٹس کے اختیارات کم کرنے کیلئے عدالتی اصلاحات کا بل قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا جس میں تجویز پیش کی گئی کہ چیف جسٹس کےہمراہ 2 سینئر ترین ججز پر مشتمل کمیٹی از خود نوٹس لینے کا فیصلہ کرے بل میں ایک اور تجویز پیش کی گئی کہ 3ججز پر مشتمل کمیٹی بینچزکی تشکیل اور کیسز تفویض کرنے کا فیصلہ بھی کرے گی جن میں چیف جسٹس بھی شامل ہوں گے-

    وفاقی وزیر قانون سینیٹراعظم نذیر تارڑ کا بل قومی اسمبلی میں پیش کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ماضی میں سپریم کورٹ نے انتظامی معاملات پر ایک دن میں 4 ازخود نوٹس لیے، سپریم کورٹ کے قواعد سے متعلق بہت تنقید ہوتی رہی ہے، ماضی میں بعض ازخود نوٹس ادارے کی تکریم میں اضافے کا باعث نہیں بنے، کئی نوٹس کے تحت ایسے فیصلے ہوئے جس سے نقصان ہوا، ادارے کا تقدس متاثر ہوا۔

    اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے3 سینئر ترین جج از خود نوٹس لینے کا فیصلہ کریں گے، از خود نوٹس کے فیصلے پر 30 روزمیں اپیل دائر کرنے کا حق دیا گیا ہے ، اپیل دائر ہونے کے14 روز کے اندر سماعت کیلئے مقرر کرنا ہوگی ازخود نوٹس کے استعمال سے سپریم کورٹ کے وقار کو نقصان پہنچا، گزشتہ روز 2جج صاحبان کا موقف سامنے آنے سے تشویش پیدا ہوگئی تھی ۔

    ڈیجیٹل مردم شماری،خواجہ سراؤں کی حقیقی تعداد کا تعین مشکل

    انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی میں بل پیش ہونے کے بعد ارکان اسمبلی نے بل کو اجلت میں منظور کرنےکی مخالفت کی اور تجویز پیش کی گئی کہ تمام آئینی اداروں کو ایک دوسرے کی عزت کرنی چاہیے ، سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویزاشرف ارکان اسمبلی کی تجویز پر عدالتی اصلاحات کا بل متعلقہ کمیٹیوں کے سپرد کر دیا ہے-

    اس کے بعد ایوان میں بل پر بحث کی گئی، بعدازاں اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشزف نے بل متعلقہ قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کو بھیج دیا اور کہا کہ آرڈر آف دی ڈے یہ تھا کہ سپریم کورٹ سے متعلق بل آج ہی پاس کیے جائیں، ایوان کی رائے کے مطابق دونوں بل لاء اینڈ جسٹس کمیٹی کو بھیجے جارہے ہیں انہوں نے رولنگ دی کہ سپریم کورٹ سے متعلق دونوں ترمیمی بل کمیٹی کو بھیجے جاتے ہیں اور کمیٹی سے درخواست ہے کہ رپورٹ جلد ایوان میں پیش کرے۔

    مریم نواز بھائی کی مقروض،کیپٹن ر صفدر دوستوں کے مقروض

    دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی قانون و انصاف کا اجلاس کل صبح ہوگا جس کی صدارت چیئرمین محمود بشیر ورک کریں گے قائمہ کمیٹی قانون و انصاف کل ہی بل منظور کرکے ایوان میں رپورٹ دے گی، قومی اسمبلی کل عدالتی اصلاحات ترمیمی بل کی حتمی منظوری دے گی اور پھر مجوزہ بل جمعرات کو سینیٹ میں منظوری کیلئے پیش کیا جائے گا۔

  • پاکستان بار کونسل کا سپریم کورٹ میں پولرائزیشن پر اپنے شدید تحفظات کا اظہار

    پاکستان بار کونسل کا سپریم کورٹ میں پولرائزیشن پر اپنے شدید تحفظات کا اظہار

    پاکستان بار کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی نے اس بات کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان بار کونسل بطور اعلیٰ ادارہ بالخصوص اور عام طور پر قانونی برادری کی نمائندہ کی حیثیت سے ہمیشہ یہ مطالبہ کرتا رہا ہے کہ اعلیٰ عدالتیں آئین کی بالادستی کو برقرار رکھنے کے لیے عدلیہ کو غیر جانبدار رکھنے کے لیے سیاسی معاملات میں کبھی ملوث نہ ہوں۔

    باغی ٹی وی : پاکستان بار کونسل کے مطابق بدقسمتی سے سیاسی معاملات میں حالیہ سوموٹو لیا گیا تھا جس کی ضرورت نہیں تھی خاص طور پر جب یہ معاملہ دو مختلف ہائی کورٹس میں زیر سماعت تھا۔ سپریم کورٹ کا یہ معمول رہا ہے کہ جب بھی معاملہ کسی بھی ہائی کورٹ کے سامنے زیرِ سماعت ہوتا ہے تو معزز عدات مداخلت نہیں کرتی لیکن بدقسمتی سے اس طرز عمل کو بعض معاملات میں نظر انداز کیا گیا ہے خاص طور پر سوموٹو دائرہ اختیار کے معاملے میں جس کا حوالہ دیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ کے ججز نےسی سی پی او لاہور کے تبادلے سے متعلق ایک سروس معاملے میں جس کا اختتام معزز سپریم کورٹ کے اختلافی فیصلے پر ہوا اور عدلیہ کے وقار کو کم کیا گیا.

    الیکشن کا فیصلہ زور زبردستی سے ہرگز قبول نہیں۔ مریم نواز

    پاکستان بار کونسل نے سپریم کورٹ میں پولرائزیشن پر اپنے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے پولرائزیشن اور تقسیم کے تاثر کو ختم کرنے کی کوشش اور درخواست کی کہ سوموٹو دائرہ اختیار کے حوالے سے معیارات بنائے جائیں اور بنچوں کی تشکیل کے لیے ایک کمیٹی بنائی جائے تاکہ ادارے میں ہم آہنگی برقرار رہے.
    https://twitter.com/tayyabbalochpk/status/1640723846612369409

    بار کونسل نے اپنے اعلامیہ میں لکھا کہ پاکستان بار کونسل عدلیہ کے ادارے کے لیے بہت عزت اور احترام رکھتی ہے اور ہمیشہ اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ عدلیہ کے ادارے پر عوام کے اعتماد کو کبھی بھی متزلزل نہیں ہونا چاہیے جبکہ خاص طور پر سپریم کورٹ کے تازہ ترین فیصلے کے پیش نظر، یہ ایک اہم معاملہ ہے۔

    میہڑ : بڑھتی ہوئی بدامنی کے خلاف سندھ ترقی پسند پارٹی کا تھانے کے سامنے …

    علاوہ ازیں بارکونسل نے اس بات پر تشویش کرتے ہوئے کہا ایک فل کورٹ کو روکتے ہوئے، دو معزز ججز جنہوں نے اس معاملے کو سننے سے انکار کر دیا تھا، ملک و قوم کو انتشار کی صورتحال سے بچانے کے لیے آئین کی تشریح کے حوالے سے معاملے کی سماعت کریں جبکہ کونسل کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں اعلیٰ عدلیہ کے معزز ججوں کے کردار کشی سے گریز کریں، وہ صرف فیصلے پر تبصرہ کریں ججز پر نہیں سپریم کورٹ کی عزت اور معزز عدلیہ کے وقار کو بحال کیا جائے

  • الیکشن کمیشن کو قانونی مشورہ دینا میرا کام نہیں،وزیر قانون

    الیکشن کمیشن کو قانونی مشورہ دینا میرا کام نہیں،وزیر قانون

    اسلام آباد: وزیر قانون نے کہا ہے کہ فل بینچ تشکیل دینے سے مقدمات میں ابہام دورہوجائے گا-

    باغی ٹی وی: سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ الیکشن کے معاملے پر اسی دن بتا دیا تھا فیصلہ چار تین کا ہے فل بینچ تشکیل دینے سے مقدمات میں ابہام دورہوجائے گا، موجودہ بینچ سے استدعا ہے فل کورٹ تشکیل دیاجائے، ادا رے کی تکریم کے لیے فل کورٹ معاملے کو دیکھے۔

    پی ٹی آئی کا بلدیاتی امیدوار "ڈکیت” نکلا، رنگے ہاتھوں عوام نے پکڑ لیا

    انہوں نےکہاکہ ن لیگ ،جے یوآئی اورپیپلزپارٹی کے وکلا عدالت میں ہیں،ججز کے اختلافی نوٹ کے مطابق چار تین کی نسبت درخواستیں مسترد ہوئیں ہیں،گذشتہ روز 2ججز کا اختلافی فیصلہ آیا الیکشن کمیشن کو قانونی مشورہ دینا میرا کام نہیں،الیکشن کمیشن آرٹیکل 218(3) کے تحت اپنی ڈیوٹی کر رہا تھا، الیکشن کمیشن کسی فیصلے کا پابند نہیں ہوتا۔

    سادہ سا سوال ہے الیکشن کمیشن تاریخ آگے کر سکتا ہے یا نہیں؟ چیف جسٹس

    واضح رہے کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا (کے پی) میں انتخابات ملتوی کرنے کے خلاف پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سپریم کورٹ میں درخواست کے کیس میں حکومتی اتحاد نے فریق بننے کا فیصلہ کیا ہے،حکومتی اتحاد کی تینوں بڑی سیاسی جماعتیں مسلم لیگ ن، پیپلزپارٹی اور جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) نے اپنا موقف عدالت میں پیش کریں گی۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ نےعمران خان کے خلاف مقدمات کی درخواست نمٹا دی

  • سادہ سا سوال ہے الیکشن کمیشن تاریخ آگے کر سکتا ہے یا نہیں؟ چیف جسٹس

    سادہ سا سوال ہے الیکشن کمیشن تاریخ آگے کر سکتا ہے یا نہیں؟ چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں الیکشن سے متعلق تحریک انصاف کی درخواست پر سماعت ہوئی،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بنچ نے سماعت کی بینچ میں جسٹس اعجازالاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس امین الدین اور جسٹس جمال خان مندوخیل شامل ہیں

    نئے اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان ،سینیٹر فاروق ایچ نائیک عدالت میں پیش ہوئے، دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پہلے اٹارنی جنرل کو سنیں گے سادہ سا سوال ہے جو الیکشن کمیشن نے فیصلہ دیا ہے کیا الیکشن کمیشن کے پاس ایسا اختیار تھا؟ کارروائی کو لمبا نہیں کرنا چاہتے،سادہ سا سوال ہے الیکشن کمیشن تاریخ آگے کر سکتا ہے یا نہیں؟اگر الیکشن کمیشن کا اختیارہوا تو بات ختم ہو جائے گی، سیاسی جماعتوں کو فریق بنانے کیلئے ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے نکتہ اٹھایا تھا جمہوریت کیلئے قانون کی حکمرانی لازمی ہے، قانون کی حکمرانی کے بغیر جمہوریت نہیں چل سکتی،سیاسی درجہ حرارت اتنا زیادہ ہوگا تو مسائل بڑھیں گے

    اٹارنی جنرل نے انتخابات کیس کے لیے فل کورٹ بنچ بنانے کی استدعا کردی ،اٹارنی جنرل نے تحریک انصاف کی درخواست کے قابل سماعت ہونے پر بھی اعتراض کردیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جمہوریت کیلیے قانون کی حکمرانی لازمی ہے قانون کی حکمرانی کے بغیر جمہوریت نہیں چل سکتی،فارق ایچ نائیک نے کہا کہ ملک میں اس وقت انار کی اور فاشزم ہے، موجودہ سیاسی ومعاشی حالات میں جمہوریت اور ملک کے لیے کیا بہترہے، سیاسی جماعتیں اسٹیک ہولڈرز ہیں،انہیں لازمی سنا جائے ،جسٹس جمال مندوخیل نے فاروق ایچ نائیک سے سوال کیا کہ آپ یہ پوائنٹ پارلیمنٹ کیوں نہیں لےجاتے؟ اس پر فاروق ایچ نائیک نےکہا کہ پارلیمنٹ میں معاملہ اٹھانےکا سوچ رہے ہیں ، جسٹس جمال مندوخیل نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ یہ بتائیں کہ کیا نوے روز میں انتخابات کرانا آئینی تقاضا نہیں ہے؟کیا الیکشن کمیشن انتخابات کی تاریخ منسوخ کر سکتا ہے؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ معاملہ کلیئر کرنے پر جسٹس جمال مندوخیل کا مشکور ہوں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ انتخابات کیس میں استدعا ہی ازخود نوٹس کے فیصلے پر عملدرآمد کی ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بنچ کے ارکان تحریک انصاف کی درخواست میں اٹھائے گئے سوال کا جائزہ لینے بیٹھے ہیں اٹارنی جنرل کا انحصار تکنیکی نقطے پر ہے سپریم کورٹ کا دائرہ اختیار درخواست تک محدود نہیں ہوتا،سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کی جانب سے تحریک انصاف کی درخواست پر اعتراضات اور فل کورٹ بنچ بنانے کی استدعا عملاً مسترد کردی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے اٹارنی جنرل کو نشست پر بیٹھنے کی ہدایت کی اور تحریک انصاف کے وکیل علی ظفر کو دلائل شروع کرنے کا حکم دیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سماعت کے آخر میں اٹارنی جنرل کی استدعا کو دیکھیں گے،

    اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ میں دو ججز کا اختلافی فیصلہ دینے کا معاملہ اٹھا دیا ، جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یکم مارچ کا عدالتی فیصلہ کتنے ارکان کا ہے یہ سپریم کورٹ کا اندرونی معاملہ ہے یہ بتائیں کہ کیا آئین نوے روز میں انتخابات کرانے کا تقاضا کرتا ہے یا نہیں؟

    چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر سے سوال کیا کہ کیا آپ نے اپنی سیاسی قیادت سے بات کی؟ پی ٹی آئی کو پہل کرنا ہوگی کیونکہ عدالت سے رجوع انہوں نے کیا ہے ملک میں اس وقت تشدد اور عدم برداشت ہے، معاشی حالات دیکھیں، آٹے کے لیے لائنیں لگی ہوئی ہیں آپس میں دست وگریباں ہونے کے بجائے ان لوگوں کا سوچیں ، پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر نے کہا کہ انتخابات میں تاخیر ہوئی تو یہ بحران مزید بڑھے گا چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے جواب دیا کہ تحریک انصاف اگر پہل کرے تو ہی حکومت کو کہیں گے، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ الیکشن کمیشن 6 ماہ الیکشن آگے کر سکتا ہے تو 2 سال بھی کر سکے گا، جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ انتخابات آگے کون لے جا سکتا ہے یہاں آئین خاموش ہے، کیا پارلیمنٹ کو آئین میں ترمیم نہیں کرنی چاہیئے؟ جسٹس منیب اختر نے اس بات سے اتفاق کیا۔دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کوئی قانون الیکشن کمیشن کو انتخابات ملتوی کرنے کا اختیار نہیں دیتا- قانون نے صدر مملکت کو الیکشن کی تاریخ دینے کا اختیار دیا ہے- الیکشن 90 دنوں میں ہی ہونا ہیں-آئین میں واضح لکھا ہے- الیکشن ایکٹ کی سیکشن 58 انتخابات کو منسوخ کرنے کی اجازت نہیں دیتا-

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس نیشنل کاز کے لئے جو لوگ تنخواہیں لے رہے ہیں ان کو کٹ لگایا جاسکتا ہے؟ ا سے اہم انتخابات کا ٹاسک مکمل کیا جاسکتا ہے،لیکن اس سب پر جواب وزارت خزانہ ہی دے سکتی ہے، وکیل علی ظفر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو وزارت خزانہ نے فنڈز کی فراہمی سے انکار کردیا،جسٹس منیب اخترنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ انکار وزارت خزانہ کیسے کرسکتا ہے،؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے سوال کیا کہ آئین کے ایمرجنسی prevision میں موجود ہے کہ خراب ترین صورتحال میں انتخابات ملتوی کئے جاسکتےہیں،کیا اس وقت ایسی ایمرجسنی کی صورتحال ہے کہ انتخابات نہ ہوں؟ وکیل پی ٹی آئی نے جواب دیا ایسی کوئی صورتحال نہیں ،،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے الیکشن کے لئے ججز کی تنخواہوں میں کٹوتی کی تجویز دے دی۔ دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملک معاشی بحران سے گزر رہا ہے، بحران سے نمٹنے کے لیے قربانی دینا ہوتی ہے، 5 فیصد تنخواہ کٹنے سے الیکشن کا خرچہ نکل سکتا ہے،انتخابات کے لئے پورے بجٹ کی ضرورت نہیں 20 ارب کا کٹ ہماری تنخواہوں پر بھی لگایا جاسکتا ہے،

    فیڈرل کنسولییڈیٹڈ فنڈ سے رقم کے اجرا پر بھی بحث، فاروق ایچ نائیک نے کہا یہاں سے فنڈ پارلیمنٹ کی منظوری کے بعد خرچ ہوتے ہیں. جسٹس منیب اختر نے کہا کہ اگر اسمبلی تحلیل ہوجائے تو کیا فنڈز جاری ہی نہیں ہو سکیں گے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے سوال کیا کہ کیا الیکشن کمیشن کا فیصلہ ایمرجنسی نافذ کرنے کی بات کرتا ہے؟ وکیل علی ظفر نے کہا کہ ابسلوٹلی ناٹ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ ابسلوٹلی ناٹ تو آپ نے کسی اور کو کہا تھا،چیف جسٹس کے ریمارکس پر عدالت میں قہقے گونج اٹھے. دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے سب سے زیادہ آپریشن کیے، پنجاب میں اب تک صرف 61 آپریشن ہوئے، سندھ میں 367 جبکہ خیبرپختونخوا میں 1245 آپریشن ہوئے،

    دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن ایکٹ کا سیکشن 58 انتخابات منسوخ کرنے کی اجازت نہیں دیتا، 2008 میں انتخابات تاخیر کا شکار ہوئے تھے، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے آئین کے 2 آرٹیکلز کا سہارا لیا ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے وجوہات بتا کر کہا آئینی ذمہ داری ادا کرنے سے قاصر ہیں، الیکشن کمیشن 8 اکتوبر کی تاریخ نہ دیتا تو کیا ہوتا؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن تاریخ تبدیل کرنے کیلئے صدر سے رجوع کر سکتا تھا،تمام انتظامی ادارے الیکشن کمیشن سے تعاون کے پابند ہیں، وجوہات ٹھوس ہوں تو ہی کمیشن رجوع کر سکتا ہے ، وکیل علی ظفر نے کہا کہ آرٹیکل 220 تمام حکومتوں، اداروں کو کمیشن سے تعاون کا پابند کرتا ہے،الیکشن کمیشن نے صرف اداروں سے موقف لے کر فیصلہ لکھ دیا، دالت کمیشن سے پوچھے آئینی اختیاراستعمال کیوں نہیں کیا، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ انتظامی ادارے تعاون نہ کریں تو آرٹیکل 5 کا اطلاق ہوگا،ہر ادارہ آئین اور شخص قانون پر عمل کرنے کا پابند ہے، الیکشن کے مطابق آرٹیکل 254 الیکشن منسوخ کرنے کا اختیار دیتا ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کی تاریخ پہلے ہی 90 دن کے بعد کی تھی،کیا 90 دن بعد کی تاریخ درست تھی؟ بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ اب بھی عدالت حکم دے تو 90 دن میں الیکشن نہیں ہو سکتا، جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صدر نے بھی الیکشن تاریخ 90 دن کے بعد کی دی،آرٹیکل 254 کا سہارا کام ہونے کے بعد لیا جا سکتا ہے پہلے نہیں، جسٹس اعجازاالاحسن نے کہا کہ عملی طور پر الیکشن 90 دن میں ممکن نہ ہوں تو عدالت حکم دے سکتی ہے

    دوران سماعت اٹارنی جنرلنے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ 30 جون تک 170 ارب روپے وصول کرنے کا ہدف ہے،آئی ایم ایف کا مطالبہ تھا شرح سود میں اضافہ کیا جائے، شرح سود میں اضافے سے مقامی قرضوں میں اضافہ ہوا۔ جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ کیا 20 ارب روپے جمع کرنا حکومت کیلئے مشکل کام ہے؟ کیا عام انتخابات کی کوئی اہمیت نہیں ہے؟ صوبوں کو اندرونی اور بیرونی خطرات سے بچانا وفاق کی آئینی ذمہ داری ہے ،اٹارنی جنرل نے کہا کہ 18 ویں ترمیم کے بعد وفاق غریب اورصوبے امیر ہوئے ہیں،معاشی صورتحال سے کل آگاہ کروں گا۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے کہا تھا الگ الگ الیکشن کروانے کے پیسے نہیں ہیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ سیکرٹری خزانہ نے الیکشن کمیشن کے بیان پر کہا تھا انہوں نے ایسا کہا ہوگا،جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ معاملہ ترجیحات کا ہے،لیپ ٹاپ کیلئے10ارب نکل سکتے ہیں توالیکشن کیلئے 20 ارب کیوں نہیں؟ فوادچودھری نے کہا کہ ترقی منصوبوں کیلئے بھی ارکان کو فنڈز دیئے گئے ہیں ،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ارکان کو فنڈز دینا عدالتی حکم کی بھی خلاف ورزی ہے۔ اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ ترقیاتی فنڈز سے متعلق ہدایت لے کر آگاہ کروں گا، جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا الیکشن کیلئے فنڈز دینا صوبے کی ذمہ داری ہے یا وفاق کی؟ کیا ترقیاتی فنڈز کے اعلان کے وقت آئی ایم ایف کی شرائط نہیں تھیں؟اٹارنی جنرل نے کہا کہ ترقیاتی فنڈز والی بات شاہد 5 ماہ پرانی ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کیلئے فنڈز فراہم کرنا وفاق کی ذمہ داری ہے، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے تحت سلپمنٹری گرانٹ جاری کی جا سکتی ہے۔

    عمران فتنے نے اشتعال انگیزی پھیلا رکھی ہے نوازشریف کو بالکل واپس نہیں آنا چاہیے عفت عمر
    گھر سے بھاگنے کے محض ڈیڑھ دو سال کے بعد میں اداکارہ بن گئی کنگنا رناوت
    انتخابات ملتوی کرنےکامعاملہ،الیکشن کمیشن ،گورنر پنجاب اورکے پی کو نوٹس جاری
    اسلام آباد ہائیکورٹ؛ کراچی کی 6 یوسز میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی روکنے کا حکم

  • انتخابات ملتوی کرنے سے متعلق کیس:حکومتی اتحاد کا سپریم کورٹ فریق بننے کا فیصلہ

    انتخابات ملتوی کرنے سے متعلق کیس:حکومتی اتحاد کا سپریم کورٹ فریق بننے کا فیصلہ

    اسلام آباد: حکومتی اتحاد نے انتخابات ملتوی کرنے سے متعلق کیس میں سپریم کورٹ میں فریق بننے کا فیصلہ کر لیا ہے

    باغی ٹی وی: سپریم کورٹ میں الیکشن ملتوی کرنے کے خلاف تحریک انصاف کی درخواست کے بعد حکومتی اتحاد نے فریق بننے کا فیصلہ کیا ہے آج ن لیگ، پیپلزپارٹی اور جے یو آئی فریق بننے کی درخواست دائر کریں گی-

    انتخابات ملتوی کرنے کا کیس: سپریم کورٹ نے سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری کر دیا

    حکومتی اتحاد کی تینوں بڑی سیاسی جماعتیں مسلم لیگ ن، پیپلزپارٹی اور جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) اپنا موقف عدالت میں پیش کریں گی۔

    پاکستان تحریک انصاف کی درخواست پر چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ آج دوبارہ کچھ دیر بعد سماعت کرےگا، بینچ میں جسٹس اعجازالاحسن، جسٹس منیب اختر ، جسٹس امین الدین اور جسٹس جمال خان مندوخیل شامل ہیں۔

    جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کا مقدمہ، فرخ حبیب کی عبوری ضمانت مسترد

  • انتخابات ملتوی کرنے کا کیس: سپریم کورٹ نے سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری کر دیا

    انتخابات ملتوی کرنے کا کیس: سپریم کورٹ نے سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری کر دیا

    اسلام آباد: سپریم کورٹ نے انتخابات ملتوی کرنے کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواست پر 27 مارچ کی سماعت کا تحریری حکمنامے میں کہا ہے کہ آئین کے تحت عام انتخابات وقت پر ہونا لازم ہیں-

    باغی ٹی وی: 3 صفحات پر مشتمل حکم نامہ چیف جسٹس پاکستان عمر عطاء بندیال نے تحریر کیا ہے عدالتی حکم نامےمیں کہاگیا ہے کہ آئین کےتحت عام انتخابات وقت پرہونا لازم ہیں، بروقت عام انتخابات کا ایمانداری، منصفانہ اورقانون کےمطابق انعقاد جمہوریت کےلیے ضروری ہے-

    انتخابات ملتوی کرنےکامعاملہ،الیکشن کمیشن ،گورنر پنجاب اورکے پی کو نوٹس جاری

    سپریم کورٹ کے تحریری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار کے مطابق الیکشن کمیشن نے صدر مملکت کی انتخابات کی تاریخ منسوخ کی الیکشن کمیشن صدرکی تاریخ منسوخ کرنے کا اختیار نہیں رکھتا،الیکشن کمیشن نے انتخابات ملتوی کرکے آرٹیکل 254 کے پیچھے پناہ لی عدالتی نظائرمیں آرٹیکل 254 کسی عمل کا مقررہ وقت گزرنے کے بعد اس کو غیر مؤثر ہونے سے تحفظ دیتا ہے، آرٹیکل254 مقررہ وقت پر ہونے والے عمل میں التوا کا تحفظ نہیں دیتا-

    عمران خان کیخلاف ملک بھرمیں مقدمات کی تفصیلات جاری،پارٹی کے دعوے غلط ثابت

    حکم نامے میں کہا گیا ہےکہ درخواست گزار کے مطابق 8 اکتوبر تک انتخابات ملتوی کرنے کی کوئی آئینی پشت پناہی نہیں سپریم کورٹ نے تمام فریقین کو نوٹسز جاری کردیئے، الیکشن کمیشن سے کہا گیا ہے کہ وہ الیکشن کمیشن درخواست میں اٹھائے گئے قانونی سوالات پر جواب دے کیس کی مزید سماعت آج دن ساڑھے11 بجے ہوگی۔

  • پنجاب اور خیبرپختونخوا میں عام انتخابات ملتوی کرنے کا معاملہ،پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا

    پنجاب اور خیبرپختونخوا میں عام انتخابات ملتوی کرنے کا معاملہ،پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا

    اسلام آباد:رجسٹرار سپریم کورٹ نے پنجاب اور خیبرپختونخوا میں عام انتخابات کے معاملے پر پی ٹی آئی کی درخواست تسلیم کر لی-

    باغی ٹی وی: تحریک انصاف نے پنجاب اور خیبر پختونخوا میں الیکشنز ملتوی کرنے کے الیکشن کمیشن اور گورنر کے پی کے فیصلوں کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا اسپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان ، اسپیکر کے پی کے اسمبلی مشتاق غنی نے آئینی درخواست دائر کی تحریک انصاف کےسیکرٹری اسد عمر، میاں محمود الرشید اور عبد الرحمان بھی مشترکہ درخواست گزاروں میں شامل ہیں۔

    اہلکاروں سمیت ملزمان عدالت میں پیش

    آئینی درخواست میں وفاق،پنجاب ، کے پی کے، وزارت پارلیمانی امور ، وزارت قانون اور کابینہ کو فریق بنایا گیا ہے،درخواست میں الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم قراردینے کی استدعا کرتے ہوئے موقف اختیارکیاکہ الیکشن کمیشن نےآئینی مینڈیٹ اورعدالت کے فیصلہ سے انحراف کیا، الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے، الیکشن کمیشن کو شیڈول کے مطابق 30 اپریل کو الیکشن کرانے کا حکم دیا جائے۔

    پی آئی اے کی جدہ سے کراچی کےلیے پرواز اچانک تبدیل

    رجسٹرار سپریم کورٹ نے پنجاب اور خیبرپختونخوا میں عام انتخابات کے معاملے پر پی ٹی آئی کی درخواست پر نمبر لگا دیا اور کوئی اعتراض بھی نہیں اٹھایا گیا۔