Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • پاکستان بار کونسل کا سپریم کورٹ میں پولرائزیشن پر اپنے شدید تحفظات کا اظہار

    پاکستان بار کونسل کا سپریم کورٹ میں پولرائزیشن پر اپنے شدید تحفظات کا اظہار

    پاکستان بار کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی نے اس بات کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان بار کونسل بطور اعلیٰ ادارہ بالخصوص اور عام طور پر قانونی برادری کی نمائندہ کی حیثیت سے ہمیشہ یہ مطالبہ کرتا رہا ہے کہ اعلیٰ عدالتیں آئین کی بالادستی کو برقرار رکھنے کے لیے عدلیہ کو غیر جانبدار رکھنے کے لیے سیاسی معاملات میں کبھی ملوث نہ ہوں۔

    باغی ٹی وی : پاکستان بار کونسل کے مطابق بدقسمتی سے سیاسی معاملات میں حالیہ سوموٹو لیا گیا تھا جس کی ضرورت نہیں تھی خاص طور پر جب یہ معاملہ دو مختلف ہائی کورٹس میں زیر سماعت تھا۔ سپریم کورٹ کا یہ معمول رہا ہے کہ جب بھی معاملہ کسی بھی ہائی کورٹ کے سامنے زیرِ سماعت ہوتا ہے تو معزز عدات مداخلت نہیں کرتی لیکن بدقسمتی سے اس طرز عمل کو بعض معاملات میں نظر انداز کیا گیا ہے خاص طور پر سوموٹو دائرہ اختیار کے معاملے میں جس کا حوالہ دیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ کے ججز نےسی سی پی او لاہور کے تبادلے سے متعلق ایک سروس معاملے میں جس کا اختتام معزز سپریم کورٹ کے اختلافی فیصلے پر ہوا اور عدلیہ کے وقار کو کم کیا گیا.

    الیکشن کا فیصلہ زور زبردستی سے ہرگز قبول نہیں۔ مریم نواز

    پاکستان بار کونسل نے سپریم کورٹ میں پولرائزیشن پر اپنے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے پولرائزیشن اور تقسیم کے تاثر کو ختم کرنے کی کوشش اور درخواست کی کہ سوموٹو دائرہ اختیار کے حوالے سے معیارات بنائے جائیں اور بنچوں کی تشکیل کے لیے ایک کمیٹی بنائی جائے تاکہ ادارے میں ہم آہنگی برقرار رہے.
    https://twitter.com/tayyabbalochpk/status/1640723846612369409

    بار کونسل نے اپنے اعلامیہ میں لکھا کہ پاکستان بار کونسل عدلیہ کے ادارے کے لیے بہت عزت اور احترام رکھتی ہے اور ہمیشہ اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ عدلیہ کے ادارے پر عوام کے اعتماد کو کبھی بھی متزلزل نہیں ہونا چاہیے جبکہ خاص طور پر سپریم کورٹ کے تازہ ترین فیصلے کے پیش نظر، یہ ایک اہم معاملہ ہے۔

    میہڑ : بڑھتی ہوئی بدامنی کے خلاف سندھ ترقی پسند پارٹی کا تھانے کے سامنے …

    علاوہ ازیں بارکونسل نے اس بات پر تشویش کرتے ہوئے کہا ایک فل کورٹ کو روکتے ہوئے، دو معزز ججز جنہوں نے اس معاملے کو سننے سے انکار کر دیا تھا، ملک و قوم کو انتشار کی صورتحال سے بچانے کے لیے آئین کی تشریح کے حوالے سے معاملے کی سماعت کریں جبکہ کونسل کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں اعلیٰ عدلیہ کے معزز ججوں کے کردار کشی سے گریز کریں، وہ صرف فیصلے پر تبصرہ کریں ججز پر نہیں سپریم کورٹ کی عزت اور معزز عدلیہ کے وقار کو بحال کیا جائے

  • الیکشن کمیشن کو قانونی مشورہ دینا میرا کام نہیں،وزیر قانون

    الیکشن کمیشن کو قانونی مشورہ دینا میرا کام نہیں،وزیر قانون

    اسلام آباد: وزیر قانون نے کہا ہے کہ فل بینچ تشکیل دینے سے مقدمات میں ابہام دورہوجائے گا-

    باغی ٹی وی: سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ الیکشن کے معاملے پر اسی دن بتا دیا تھا فیصلہ چار تین کا ہے فل بینچ تشکیل دینے سے مقدمات میں ابہام دورہوجائے گا، موجودہ بینچ سے استدعا ہے فل کورٹ تشکیل دیاجائے، ادا رے کی تکریم کے لیے فل کورٹ معاملے کو دیکھے۔

    پی ٹی آئی کا بلدیاتی امیدوار "ڈکیت” نکلا، رنگے ہاتھوں عوام نے پکڑ لیا

    انہوں نےکہاکہ ن لیگ ،جے یوآئی اورپیپلزپارٹی کے وکلا عدالت میں ہیں،ججز کے اختلافی نوٹ کے مطابق چار تین کی نسبت درخواستیں مسترد ہوئیں ہیں،گذشتہ روز 2ججز کا اختلافی فیصلہ آیا الیکشن کمیشن کو قانونی مشورہ دینا میرا کام نہیں،الیکشن کمیشن آرٹیکل 218(3) کے تحت اپنی ڈیوٹی کر رہا تھا، الیکشن کمیشن کسی فیصلے کا پابند نہیں ہوتا۔

    سادہ سا سوال ہے الیکشن کمیشن تاریخ آگے کر سکتا ہے یا نہیں؟ چیف جسٹس

    واضح رہے کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا (کے پی) میں انتخابات ملتوی کرنے کے خلاف پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سپریم کورٹ میں درخواست کے کیس میں حکومتی اتحاد نے فریق بننے کا فیصلہ کیا ہے،حکومتی اتحاد کی تینوں بڑی سیاسی جماعتیں مسلم لیگ ن، پیپلزپارٹی اور جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) نے اپنا موقف عدالت میں پیش کریں گی۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ نےعمران خان کے خلاف مقدمات کی درخواست نمٹا دی

  • سادہ سا سوال ہے الیکشن کمیشن تاریخ آگے کر سکتا ہے یا نہیں؟ چیف جسٹس

    سادہ سا سوال ہے الیکشن کمیشن تاریخ آگے کر سکتا ہے یا نہیں؟ چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں الیکشن سے متعلق تحریک انصاف کی درخواست پر سماعت ہوئی،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بنچ نے سماعت کی بینچ میں جسٹس اعجازالاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس امین الدین اور جسٹس جمال خان مندوخیل شامل ہیں

    نئے اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان ،سینیٹر فاروق ایچ نائیک عدالت میں پیش ہوئے، دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پہلے اٹارنی جنرل کو سنیں گے سادہ سا سوال ہے جو الیکشن کمیشن نے فیصلہ دیا ہے کیا الیکشن کمیشن کے پاس ایسا اختیار تھا؟ کارروائی کو لمبا نہیں کرنا چاہتے،سادہ سا سوال ہے الیکشن کمیشن تاریخ آگے کر سکتا ہے یا نہیں؟اگر الیکشن کمیشن کا اختیارہوا تو بات ختم ہو جائے گی، سیاسی جماعتوں کو فریق بنانے کیلئے ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے نکتہ اٹھایا تھا جمہوریت کیلئے قانون کی حکمرانی لازمی ہے، قانون کی حکمرانی کے بغیر جمہوریت نہیں چل سکتی،سیاسی درجہ حرارت اتنا زیادہ ہوگا تو مسائل بڑھیں گے

    اٹارنی جنرل نے انتخابات کیس کے لیے فل کورٹ بنچ بنانے کی استدعا کردی ،اٹارنی جنرل نے تحریک انصاف کی درخواست کے قابل سماعت ہونے پر بھی اعتراض کردیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جمہوریت کیلیے قانون کی حکمرانی لازمی ہے قانون کی حکمرانی کے بغیر جمہوریت نہیں چل سکتی،فارق ایچ نائیک نے کہا کہ ملک میں اس وقت انار کی اور فاشزم ہے، موجودہ سیاسی ومعاشی حالات میں جمہوریت اور ملک کے لیے کیا بہترہے، سیاسی جماعتیں اسٹیک ہولڈرز ہیں،انہیں لازمی سنا جائے ،جسٹس جمال مندوخیل نے فاروق ایچ نائیک سے سوال کیا کہ آپ یہ پوائنٹ پارلیمنٹ کیوں نہیں لےجاتے؟ اس پر فاروق ایچ نائیک نےکہا کہ پارلیمنٹ میں معاملہ اٹھانےکا سوچ رہے ہیں ، جسٹس جمال مندوخیل نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ یہ بتائیں کہ کیا نوے روز میں انتخابات کرانا آئینی تقاضا نہیں ہے؟کیا الیکشن کمیشن انتخابات کی تاریخ منسوخ کر سکتا ہے؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ معاملہ کلیئر کرنے پر جسٹس جمال مندوخیل کا مشکور ہوں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ انتخابات کیس میں استدعا ہی ازخود نوٹس کے فیصلے پر عملدرآمد کی ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بنچ کے ارکان تحریک انصاف کی درخواست میں اٹھائے گئے سوال کا جائزہ لینے بیٹھے ہیں اٹارنی جنرل کا انحصار تکنیکی نقطے پر ہے سپریم کورٹ کا دائرہ اختیار درخواست تک محدود نہیں ہوتا،سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کی جانب سے تحریک انصاف کی درخواست پر اعتراضات اور فل کورٹ بنچ بنانے کی استدعا عملاً مسترد کردی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے اٹارنی جنرل کو نشست پر بیٹھنے کی ہدایت کی اور تحریک انصاف کے وکیل علی ظفر کو دلائل شروع کرنے کا حکم دیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سماعت کے آخر میں اٹارنی جنرل کی استدعا کو دیکھیں گے،

    اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ میں دو ججز کا اختلافی فیصلہ دینے کا معاملہ اٹھا دیا ، جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یکم مارچ کا عدالتی فیصلہ کتنے ارکان کا ہے یہ سپریم کورٹ کا اندرونی معاملہ ہے یہ بتائیں کہ کیا آئین نوے روز میں انتخابات کرانے کا تقاضا کرتا ہے یا نہیں؟

    چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر سے سوال کیا کہ کیا آپ نے اپنی سیاسی قیادت سے بات کی؟ پی ٹی آئی کو پہل کرنا ہوگی کیونکہ عدالت سے رجوع انہوں نے کیا ہے ملک میں اس وقت تشدد اور عدم برداشت ہے، معاشی حالات دیکھیں، آٹے کے لیے لائنیں لگی ہوئی ہیں آپس میں دست وگریباں ہونے کے بجائے ان لوگوں کا سوچیں ، پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر نے کہا کہ انتخابات میں تاخیر ہوئی تو یہ بحران مزید بڑھے گا چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے جواب دیا کہ تحریک انصاف اگر پہل کرے تو ہی حکومت کو کہیں گے، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ الیکشن کمیشن 6 ماہ الیکشن آگے کر سکتا ہے تو 2 سال بھی کر سکے گا، جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ انتخابات آگے کون لے جا سکتا ہے یہاں آئین خاموش ہے، کیا پارلیمنٹ کو آئین میں ترمیم نہیں کرنی چاہیئے؟ جسٹس منیب اختر نے اس بات سے اتفاق کیا۔دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کوئی قانون الیکشن کمیشن کو انتخابات ملتوی کرنے کا اختیار نہیں دیتا- قانون نے صدر مملکت کو الیکشن کی تاریخ دینے کا اختیار دیا ہے- الیکشن 90 دنوں میں ہی ہونا ہیں-آئین میں واضح لکھا ہے- الیکشن ایکٹ کی سیکشن 58 انتخابات کو منسوخ کرنے کی اجازت نہیں دیتا-

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس نیشنل کاز کے لئے جو لوگ تنخواہیں لے رہے ہیں ان کو کٹ لگایا جاسکتا ہے؟ ا سے اہم انتخابات کا ٹاسک مکمل کیا جاسکتا ہے،لیکن اس سب پر جواب وزارت خزانہ ہی دے سکتی ہے، وکیل علی ظفر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو وزارت خزانہ نے فنڈز کی فراہمی سے انکار کردیا،جسٹس منیب اخترنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ انکار وزارت خزانہ کیسے کرسکتا ہے،؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے سوال کیا کہ آئین کے ایمرجنسی prevision میں موجود ہے کہ خراب ترین صورتحال میں انتخابات ملتوی کئے جاسکتےہیں،کیا اس وقت ایسی ایمرجسنی کی صورتحال ہے کہ انتخابات نہ ہوں؟ وکیل پی ٹی آئی نے جواب دیا ایسی کوئی صورتحال نہیں ،،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے الیکشن کے لئے ججز کی تنخواہوں میں کٹوتی کی تجویز دے دی۔ دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملک معاشی بحران سے گزر رہا ہے، بحران سے نمٹنے کے لیے قربانی دینا ہوتی ہے، 5 فیصد تنخواہ کٹنے سے الیکشن کا خرچہ نکل سکتا ہے،انتخابات کے لئے پورے بجٹ کی ضرورت نہیں 20 ارب کا کٹ ہماری تنخواہوں پر بھی لگایا جاسکتا ہے،

    فیڈرل کنسولییڈیٹڈ فنڈ سے رقم کے اجرا پر بھی بحث، فاروق ایچ نائیک نے کہا یہاں سے فنڈ پارلیمنٹ کی منظوری کے بعد خرچ ہوتے ہیں. جسٹس منیب اختر نے کہا کہ اگر اسمبلی تحلیل ہوجائے تو کیا فنڈز جاری ہی نہیں ہو سکیں گے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے سوال کیا کہ کیا الیکشن کمیشن کا فیصلہ ایمرجنسی نافذ کرنے کی بات کرتا ہے؟ وکیل علی ظفر نے کہا کہ ابسلوٹلی ناٹ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ ابسلوٹلی ناٹ تو آپ نے کسی اور کو کہا تھا،چیف جسٹس کے ریمارکس پر عدالت میں قہقے گونج اٹھے. دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے سب سے زیادہ آپریشن کیے، پنجاب میں اب تک صرف 61 آپریشن ہوئے، سندھ میں 367 جبکہ خیبرپختونخوا میں 1245 آپریشن ہوئے،

    دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن ایکٹ کا سیکشن 58 انتخابات منسوخ کرنے کی اجازت نہیں دیتا، 2008 میں انتخابات تاخیر کا شکار ہوئے تھے، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے آئین کے 2 آرٹیکلز کا سہارا لیا ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے وجوہات بتا کر کہا آئینی ذمہ داری ادا کرنے سے قاصر ہیں، الیکشن کمیشن 8 اکتوبر کی تاریخ نہ دیتا تو کیا ہوتا؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن تاریخ تبدیل کرنے کیلئے صدر سے رجوع کر سکتا تھا،تمام انتظامی ادارے الیکشن کمیشن سے تعاون کے پابند ہیں، وجوہات ٹھوس ہوں تو ہی کمیشن رجوع کر سکتا ہے ، وکیل علی ظفر نے کہا کہ آرٹیکل 220 تمام حکومتوں، اداروں کو کمیشن سے تعاون کا پابند کرتا ہے،الیکشن کمیشن نے صرف اداروں سے موقف لے کر فیصلہ لکھ دیا، دالت کمیشن سے پوچھے آئینی اختیاراستعمال کیوں نہیں کیا، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ انتظامی ادارے تعاون نہ کریں تو آرٹیکل 5 کا اطلاق ہوگا،ہر ادارہ آئین اور شخص قانون پر عمل کرنے کا پابند ہے، الیکشن کے مطابق آرٹیکل 254 الیکشن منسوخ کرنے کا اختیار دیتا ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کی تاریخ پہلے ہی 90 دن کے بعد کی تھی،کیا 90 دن بعد کی تاریخ درست تھی؟ بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ اب بھی عدالت حکم دے تو 90 دن میں الیکشن نہیں ہو سکتا، جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صدر نے بھی الیکشن تاریخ 90 دن کے بعد کی دی،آرٹیکل 254 کا سہارا کام ہونے کے بعد لیا جا سکتا ہے پہلے نہیں، جسٹس اعجازاالاحسن نے کہا کہ عملی طور پر الیکشن 90 دن میں ممکن نہ ہوں تو عدالت حکم دے سکتی ہے

    دوران سماعت اٹارنی جنرلنے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ 30 جون تک 170 ارب روپے وصول کرنے کا ہدف ہے،آئی ایم ایف کا مطالبہ تھا شرح سود میں اضافہ کیا جائے، شرح سود میں اضافے سے مقامی قرضوں میں اضافہ ہوا۔ جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ کیا 20 ارب روپے جمع کرنا حکومت کیلئے مشکل کام ہے؟ کیا عام انتخابات کی کوئی اہمیت نہیں ہے؟ صوبوں کو اندرونی اور بیرونی خطرات سے بچانا وفاق کی آئینی ذمہ داری ہے ،اٹارنی جنرل نے کہا کہ 18 ویں ترمیم کے بعد وفاق غریب اورصوبے امیر ہوئے ہیں،معاشی صورتحال سے کل آگاہ کروں گا۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے کہا تھا الگ الگ الیکشن کروانے کے پیسے نہیں ہیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ سیکرٹری خزانہ نے الیکشن کمیشن کے بیان پر کہا تھا انہوں نے ایسا کہا ہوگا،جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ معاملہ ترجیحات کا ہے،لیپ ٹاپ کیلئے10ارب نکل سکتے ہیں توالیکشن کیلئے 20 ارب کیوں نہیں؟ فوادچودھری نے کہا کہ ترقی منصوبوں کیلئے بھی ارکان کو فنڈز دیئے گئے ہیں ،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ارکان کو فنڈز دینا عدالتی حکم کی بھی خلاف ورزی ہے۔ اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ ترقیاتی فنڈز سے متعلق ہدایت لے کر آگاہ کروں گا، جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا الیکشن کیلئے فنڈز دینا صوبے کی ذمہ داری ہے یا وفاق کی؟ کیا ترقیاتی فنڈز کے اعلان کے وقت آئی ایم ایف کی شرائط نہیں تھیں؟اٹارنی جنرل نے کہا کہ ترقیاتی فنڈز والی بات شاہد 5 ماہ پرانی ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کیلئے فنڈز فراہم کرنا وفاق کی ذمہ داری ہے، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے تحت سلپمنٹری گرانٹ جاری کی جا سکتی ہے۔

    عمران فتنے نے اشتعال انگیزی پھیلا رکھی ہے نوازشریف کو بالکل واپس نہیں آنا چاہیے عفت عمر
    گھر سے بھاگنے کے محض ڈیڑھ دو سال کے بعد میں اداکارہ بن گئی کنگنا رناوت
    انتخابات ملتوی کرنےکامعاملہ،الیکشن کمیشن ،گورنر پنجاب اورکے پی کو نوٹس جاری
    اسلام آباد ہائیکورٹ؛ کراچی کی 6 یوسز میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی روکنے کا حکم

  • انتخابات ملتوی کرنے سے متعلق کیس:حکومتی اتحاد کا سپریم کورٹ فریق بننے کا فیصلہ

    انتخابات ملتوی کرنے سے متعلق کیس:حکومتی اتحاد کا سپریم کورٹ فریق بننے کا فیصلہ

    اسلام آباد: حکومتی اتحاد نے انتخابات ملتوی کرنے سے متعلق کیس میں سپریم کورٹ میں فریق بننے کا فیصلہ کر لیا ہے

    باغی ٹی وی: سپریم کورٹ میں الیکشن ملتوی کرنے کے خلاف تحریک انصاف کی درخواست کے بعد حکومتی اتحاد نے فریق بننے کا فیصلہ کیا ہے آج ن لیگ، پیپلزپارٹی اور جے یو آئی فریق بننے کی درخواست دائر کریں گی-

    انتخابات ملتوی کرنے کا کیس: سپریم کورٹ نے سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری کر دیا

    حکومتی اتحاد کی تینوں بڑی سیاسی جماعتیں مسلم لیگ ن، پیپلزپارٹی اور جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) اپنا موقف عدالت میں پیش کریں گی۔

    پاکستان تحریک انصاف کی درخواست پر چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ آج دوبارہ کچھ دیر بعد سماعت کرےگا، بینچ میں جسٹس اعجازالاحسن، جسٹس منیب اختر ، جسٹس امین الدین اور جسٹس جمال خان مندوخیل شامل ہیں۔

    جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کا مقدمہ، فرخ حبیب کی عبوری ضمانت مسترد

  • انتخابات ملتوی کرنے کا کیس: سپریم کورٹ نے سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری کر دیا

    انتخابات ملتوی کرنے کا کیس: سپریم کورٹ نے سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری کر دیا

    اسلام آباد: سپریم کورٹ نے انتخابات ملتوی کرنے کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواست پر 27 مارچ کی سماعت کا تحریری حکمنامے میں کہا ہے کہ آئین کے تحت عام انتخابات وقت پر ہونا لازم ہیں-

    باغی ٹی وی: 3 صفحات پر مشتمل حکم نامہ چیف جسٹس پاکستان عمر عطاء بندیال نے تحریر کیا ہے عدالتی حکم نامےمیں کہاگیا ہے کہ آئین کےتحت عام انتخابات وقت پرہونا لازم ہیں، بروقت عام انتخابات کا ایمانداری، منصفانہ اورقانون کےمطابق انعقاد جمہوریت کےلیے ضروری ہے-

    انتخابات ملتوی کرنےکامعاملہ،الیکشن کمیشن ،گورنر پنجاب اورکے پی کو نوٹس جاری

    سپریم کورٹ کے تحریری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار کے مطابق الیکشن کمیشن نے صدر مملکت کی انتخابات کی تاریخ منسوخ کی الیکشن کمیشن صدرکی تاریخ منسوخ کرنے کا اختیار نہیں رکھتا،الیکشن کمیشن نے انتخابات ملتوی کرکے آرٹیکل 254 کے پیچھے پناہ لی عدالتی نظائرمیں آرٹیکل 254 کسی عمل کا مقررہ وقت گزرنے کے بعد اس کو غیر مؤثر ہونے سے تحفظ دیتا ہے، آرٹیکل254 مقررہ وقت پر ہونے والے عمل میں التوا کا تحفظ نہیں دیتا-

    عمران خان کیخلاف ملک بھرمیں مقدمات کی تفصیلات جاری،پارٹی کے دعوے غلط ثابت

    حکم نامے میں کہا گیا ہےکہ درخواست گزار کے مطابق 8 اکتوبر تک انتخابات ملتوی کرنے کی کوئی آئینی پشت پناہی نہیں سپریم کورٹ نے تمام فریقین کو نوٹسز جاری کردیئے، الیکشن کمیشن سے کہا گیا ہے کہ وہ الیکشن کمیشن درخواست میں اٹھائے گئے قانونی سوالات پر جواب دے کیس کی مزید سماعت آج دن ساڑھے11 بجے ہوگی۔

  • پنجاب اور خیبرپختونخوا میں عام انتخابات ملتوی کرنے کا معاملہ،پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا

    پنجاب اور خیبرپختونخوا میں عام انتخابات ملتوی کرنے کا معاملہ،پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا

    اسلام آباد:رجسٹرار سپریم کورٹ نے پنجاب اور خیبرپختونخوا میں عام انتخابات کے معاملے پر پی ٹی آئی کی درخواست تسلیم کر لی-

    باغی ٹی وی: تحریک انصاف نے پنجاب اور خیبر پختونخوا میں الیکشنز ملتوی کرنے کے الیکشن کمیشن اور گورنر کے پی کے فیصلوں کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا اسپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان ، اسپیکر کے پی کے اسمبلی مشتاق غنی نے آئینی درخواست دائر کی تحریک انصاف کےسیکرٹری اسد عمر، میاں محمود الرشید اور عبد الرحمان بھی مشترکہ درخواست گزاروں میں شامل ہیں۔

    اہلکاروں سمیت ملزمان عدالت میں پیش

    آئینی درخواست میں وفاق،پنجاب ، کے پی کے، وزارت پارلیمانی امور ، وزارت قانون اور کابینہ کو فریق بنایا گیا ہے،درخواست میں الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم قراردینے کی استدعا کرتے ہوئے موقف اختیارکیاکہ الیکشن کمیشن نےآئینی مینڈیٹ اورعدالت کے فیصلہ سے انحراف کیا، الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے، الیکشن کمیشن کو شیڈول کے مطابق 30 اپریل کو الیکشن کرانے کا حکم دیا جائے۔

    پی آئی اے کی جدہ سے کراچی کےلیے پرواز اچانک تبدیل

    رجسٹرار سپریم کورٹ نے پنجاب اور خیبرپختونخوا میں عام انتخابات کے معاملے پر پی ٹی آئی کی درخواست پر نمبر لگا دیا اور کوئی اعتراض بھی نہیں اٹھایا گیا۔

  • پنجاب الیکشن ملتوی، تحریک انصاف سپریم کورٹ پہنچ گئی

    پنجاب الیکشن ملتوی، تحریک انصاف سپریم کورٹ پہنچ گئی

    پنجاب کے الیکشن ملتوی ہونے پر تحریک انصاف نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی ہے

    تحریک انصاف نے پنجاب کے الیکشن ملتوی ہونے کے خلاف آئینی درخواست سپریم کورٹ میں دائر کی ہے، پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ میں دی جانیوالی درخواست میں عدالت سے استدعا کی ہے کہ سپریم کورٹ الیکشن کمیشن کے 22 مارچ کے فیصلے کوغیر آئینی قرار دے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف، چیف الیکشن کمشنر اور محسن نقوی کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کی جائے۔ درخواست میں نگران وزیراعلیٰ پنجاب اور چیف سیکریٹری پنجاب کو بھی فریق بنایا گیا ہے،

    سپریم کورٹ میں دائر درخؤاست میں تحریک انصاف نے مزید موقف اختیار کیا کہ وزیراعظم، چیف الیکشن کمشنر اورنگران وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں ناکام ہوئے اورذاتی مقاصد کیلئے فنڈ جاری کر رہے ہیں

    درخواست میں کہا گیا ہے کہ نگران دور حکومت میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے بھی فنڈ جاری کیے جا رہے ہیں۔ وزیراعظم اور وفاقی وزرا کے الیکشن نہ ہونے کے بیانات ریکارڈ پر موجود ہیں۔ وزیراعظم اور دیگر فریقین عدالتی الیکشن سے متعلق حکم کی تعمیل نہ کر کے عدالت کی توہین کر رہے ہیں۔ گورنر خیبرپختونخوا میں انتخابات کرانے کے لیے تاریخ دینے کی ہدایت کی جائے

    پنجاب میں انتخابات ملتوی کرنا قابل قبول نہیں ہے. سراج الحق

    پنجاب کے انتخابات اکتوبر تک ملتوی کر کے آئین کی خلاف ورزی کی ہے۔

    ہمیں اپنی صفوں میں اتحاد اور اپنے آپ کو قومی مقصد سے آراستہ کرنا ہو گا،وزیراعظم شہباز شریف

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے پنجاب اسمبلی کے 30 اپریل کو ہونے والے انتخابات ملتوی کردیئے ہیں۔ الیکشن کمیشن کے نوٹی فکیشن کے مطابق پنجاب اسمبلی کے انتخابات کے لیے 8 اکتوبر کی تاریخ مقرر کی گئی ہے نوٹی فکیشن میں کہا گیا کہ پنجاب اسمبلی کے انتخابات کے لیے امن و امان کی صورتحال سازگار نہیں ہےکمیشن کی تمام تر کوششوں کے باوجود وفاقی اور صوبائی حکومتیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سمیت تمام ایگزیکٹو اتھارٹیز پنجاب میں آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انتخابات کے انعقاد کے لیے کمیشن کی مدد نہیں کر سکے۔

  • سپریم کورٹ آئینی ادارہ جسے آڈیو ٹیپس کے ذریعے بدنام کیا جا رہا،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ آئینی ادارہ جسے آڈیو ٹیپس کے ذریعے بدنام کیا جا رہا،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے غلام محمود ڈوگر کے تبادلے کیخلاف اپیل خارج کر دی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بعض اوقات سپریم کورٹ کی باتوں کو غلط سمجھا جاتا ہے،ہم نے ایک کیس میں کہا کہ 1988 میں ایک ایماندار وزیراعظم تھا ،ہماری ا یماندار وزیراعظم سے متعلق بات کو پارلیمنٹ نےغلط سمجھا ، ہم نے یہ نہیں کہا کہ آج تک صرف ایک ہی ایماندار وزیراعظم آیا ،ہم نے آئینی اداروں کو اپنے فیصلوں میں تحفظ دیا ہے، عدلیہ پر بھی حملے ہو رہے ہیں ، جس کا بھی تحفظ کرینگے سروسز ٹربیونل کے ایک بینچ نے غلام محمود ڈوگر کو بحال کیا ،سروس ٹربیونل کے دوسرے بینچ نے بحالی کافیصلہ معطل کردیا ،بیوروکریسی میں تبادلوں ں کی منظوری کے بعد آپکا معاملہ ویسے بھی غیر موثر ہو چکا ہے ،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن آئینی ادارہ ہے جسے ہم تحفظ فراہم کریں گے، الیکشن کمیشن کو آئین کے تحت اختیارات حاصل ہیں، اگر شفاف انتخابات میں بدنیتی ہوگی تو ہم مداخلت کریں گے،سپریم کورٹ آئینی ادارہ ہے جسے آڈیو ٹیپس کے ذریعے بدنام کیا جارہا ہے ہم صبر اور درگزر سے کام لے کر آئینی ادارے کا تحفظ کریں گے آئینی اداروں کو بدنام کرنے والی ان آڈیو ٹیپس کی کوئی اہمیت نہیں ہے ڈیموکرٹیک پراسس فیئر ہونا چاہیے،

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے سی سی پی او غلام محمود ڈوگر کو بحال کیا تھا ، سابق سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر کی بحالی کا تحریری حکم نامہ سپریم کورٹ نے جاری کیا تھا، سپریم کورٹ نے 17 فروری کو سابق سی سی پی او غلام محمود ڈوگر کی بحالی حکم سنایا تھا ،عدالت نے تحریری حکمنامے میں کہا کہ حقائق کا جائزہ لینے کے بعد واضح ہے کہ غلام محمود ڈوگر ٹرانسفر کی منظوری زبانی کی گئی زبانی منظوری کی بعد میں تحریری طور پر الیکشن کمیشن سے اجازت حاصل کی گئی بادی النظر میں غلام محمود ڈوگر کی ٹرانسفر سپریم کورٹ 2 دسمبر کے حکم کی خلاف ورزی ہے ،غلام محمود ڈوگر کا معاملہ پہلے سے سپریم کورٹ میں زیر سماعت تھا، ایسے میں غلام محمود ڈوگر کی ٹرانسفر کیلئے دیا گیا 23 جنوری کا حکم برقرار نہیں رکھا جاسکتا غلام محمود ڈوگر کی ٹرانسفر کا 23 جنوری کا حکم معطل کیا جاتا ہے

    علی امین گنڈاپور اور امتیاز نامی شخص کے مابین آڈیو لیک

    عمران خان کی جاسوسی، آلات برآمد،کس کا کارنامہ؟

    لاہور میں خواجہ سرا کو قتل کر دیا گیا

     سارہ گِل نے پاکستان کی پہلی خواجہ سرا ڈاکٹر کا اعزاز اپنے نام کرلیا ہ

    خواجہ سرا مشکلات کا شکار،ڈی چوک میں احتجاج،پشاورمیں "ریپ” کی ناکام کوشش

     ڈاکٹر یاسمین راشد اور سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر کی آڈیو لیک

  • عمران خان کی گرفتاری کا امکان، پی ٹی آئی نے معاملہ عدالت عظمیٰ میں اٹھا دیا

    عمران خان کی گرفتاری کا امکان، پی ٹی آئی نے معاملہ عدالت عظمیٰ میں اٹھا دیا

    عمران خان کو گرفتاری کا خدشہ ، اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائرکر دی گئی

    عمران خان کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ نیب سمیت کسی بھی ادارے کو گرفتاری سے روکا جائے ،یہ بھی درخواست کی گئی کہ آج ہی درخواست پر سماعت کی جائے،

    دوسری جانب عمران خان کی گرفتاری کا امکان، پی ٹی آئی نے معاملہ عدالت عظمیٰ میں اٹھا دیا ،تحریک انصاف کے مرکزی سیکریٹری جنرل اسد عمر نے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کو خط لکھا ہے جس میں کہا ہے کہ پی ڈی ایم حکومت عمران خان کو نشانِ انتقام بنانا چاہتی ہے،عمران خان عدالت میں پیشی کے لئے اسلام آباد آ رہے ہیں، عدالتی احکامات کی تعظیم میں عمران خان لاہور سے اسلام آباد کیلئے روانہ ہوئے،عمران خان نے کل لاہور ہائیکورٹ سے9 مقدمات میں ضمانت حاصل کی، معزز عدالت عالیہ نے حکام کو عمران خان کے خلاف انتقامی کارروائیوں سے منع کیا،پولیس نے عدالتی احکامات کو پیروں تلے روندتے ہوئے ان کی رہائش گاہ پر دھاوا بول دیا، عمران خان کی رہائش گاہ پر حملے کے دوران گھر کے دروازے توڑے گئے اور دیواریں منہدم کر دی گئیں

    عدالت نے کہا کہ میں کیوں ایسا حکم جاری کروں جو سسٹم ہے اسی کے مطابق کیس فکس ہوگا،

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے 

  • ارشد شریف کی والدہ کا سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس پراعتراض

    ارشد شریف کی والدہ کا سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس پراعتراض

    سپریم کورٹ میں ارشد شریف قتل پرازخود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی

    ارشد شریف کی والدہ نے سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس پر اعتراض کردیا، وکیل والدہ ارشد شریف شوکت عزیز صدیقی نے عدالت میں کہا کہ ارشد شریف کیس پر سپریم کورٹ کی کاروائی پر تحفظات ہیں،سپریم کورٹ معاملے کی نگرانی نہیں کر سکتی،سپریم کورٹ شہناز بی بی کیس میں واضح کر چکی کہ عدالت کے پاس سپروائز کرنے کا اختیار نہیں،سپریم کورٹ سے درخواست ہے کہ اس کیس کی نگرانی نہ کرے،جسٹس فار پیس کو یہ معاملہ بھجوایا جائے،جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ تحقیقات کی نگرانی کر سکتی ہے،وکیل شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ کیا سپریم کورٹ نے فیصلے پر نظرثانی کر لی ،یا فیصلہ بدل گیا ؟ جسٹس جمال مندو خیل نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا ہم یہ کیس نہ سنیں؟ وکیل نے عدالت میں کہا کہ ارشد شریف کی والدہ اپنے موقف کے مطابق ایف آئی آر درج کرانا چاہتی ہیں، ہماری استدعا ہے کہ ارشد شریف کیس میں گناہ گاروں کو سزا ملے اور بے گناہ لپیٹ میں نہ آئے، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم یہاں کسی کو سزا اور بری نہیں کررہے صرف تحقیقات میں سہولیات فراہم کررہے ہیں،

    دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے ایک نامور صحافی کے قتل پر از خود نوٹس لیا،سپریم کورٹ صحافت کے شعبہ کا بے حد احترام کرتی ہے،بنیادی انسانی حقوق کی خاطر عدالت نے از خود نوٹس لیا،23اکتوبر کو قتل ہوا عدالتی نوٹس سے پہلے آپ کہاں تھے؟ ارشد شریف ایک اہم شعبے کے اہم فرد تھے، بہت دکھ ہے کہ ارشد شریف کیس میں کوئی پیشرفت نہیں ہوئی،دفتر خارجہ دو ممالک سے ارشد شریف کیس میں مدد لینے میں ناکام رہا، وکیل نے کہا کہ ارشد شریف کی والدہ روزانہ جیتی اور روزانہ مرتی ہیں لیکن مرضی کے مطابق ایف آئی آر درج نہیں کراسکتی، اگر ہماری ایف آئی آر غلط ہوئی تو بے شک خارج کردیں لیکن مقدمہ تو ہماری مرضی کا درج ہونا چاہیے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صحافیوں کا عدالت بہت احترام کرتی ہے صحافی ہمیں کچھ بھی کہیں کبھی توہین عدالت کی کارروئی نہیں کی، صحافی کو قتل کردیا گیا جو دوسروں کیلئے سبق ہو سکتا ہے،ارشد شریف صحافی اس ملک کا شہری تھا، صحافیوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کیلئے عدالت نے سوموٹو لیا، جے آئی ٹی کے کام میں عدالت نے کوئی مداخلت نہیں کی،عدالت نے ارشد شریف کی والدہ کے وکیل شوکت عزیز صدیقی کو نشست پر بیٹھنے کی ہدایت کر دی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے از خود نوٹس سے پہلے تو کچھ ہو ہی نہیں رہا تھا سپریم کورٹ کے از خود نوٹس سے پہلے تو کچھ ہو ہی نہیں رہا تھا ارشد شریف کا قتل کینیا میں ہوا یہ دو ممالک کے درمیان معاملہ ہے،ہم نہ تو کسی کو اس کیس میں پھنسانا اور نہ ہی کسی کو نکالنا چاہتے ہیں،قانون کے مطابق اس کیس کو چلانا چاہتے ہیں،ہمارا اس کیس میں کوئی ذاتی مفاد نہیں ،اٹارنی جنرل سے تحقیقات سے متعلق معلومات لیتے ہیں، ساڑھے پانچ ہفتے انتظار کے بعد سوموٹو لیا،ارشد شریف ازخود نوٹس کیس کی سماعت تین ہفتوں تک ملتوی کر دی گئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ارشد شریف کی والدہ نے درخواست کی تھی اورجوڈیشل کمیشن بنانے کیلئے خط لکھا تھا تحقیقاتی معاملات میں بہت سی چیزیں خفیہ ہوتی ہیں،اگر سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی کو مانیٹر نہ کیا تو پیشرفت سست رہے گی،سپریم کورٹ نے جوڈیشل کمیشن بنایا نہ تحقیقات میں مداخلت کر رہی ہے، شوکت صدیقی نے درست کہا کہ سپریم کورٹ تفتیش نہیں کر سکتی،اگر سپریم کورٹ نے جوڈیشل کمیشن بنا دیا تو پھر سب کو طلب بھی کر سکیں گے،اس نکتے پر شفافیت چاہیے کہ کیا ہوا اور کیسے ہوا،اس دور میں فیک نیوز، جھوٹے الزامات اور پراپیگنڈہ کی بھرمار ہے،جو ارشد شریف کو بیرون ملک سپورٹ اور تحفظ دے رہے تھے ان پر بھی الزامات ہیں،کچھ اور لوگوں پر بھی الزامات عائد کیے جا رہے ہیں،اس وقت شدید انتشار اور تقسیم کی کیفیت ہے،ارشد شریف قتل نے صحافیوں میں دہشت پھیلا رکھی ہے،ہمیں بھی بطور شہری ارشد شریف کے قتل پر تشویش ہے،عدالت صرف شفاف اور بروقت تحقیقات چاہتی ہے،شفاف تحقیقات تب تک نہیں ہو سکتیں جب تک رکاوٹیں ختم نہ ہوں،ایسا کوئی تاثر نہیں ہونا چاہیے کہ ارشد شریف قتل کی تحقیقات میں کوئی رخنہ ڈالا جا رہا ہے،

    جویریہ صدیق نے ٹویٹر پر ارشد شریف کی جانب سے مریم نواز کی والدہ کے لیے دعا کا سکرین شاٹ شیئر کیا اور مریم نواز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کچھ شرم کر۔ اللہ سے ڈر

    اسلام آباد ہائیکورٹ کاسیکرٹری داخلہ و خارجہ کو ارشد شریف کے اہلخانہ سے رابطے کا حکم

     ارشد شریف کا لیپ ٹاپ ، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے قریبی ساتھی کے پاس ہے

    ارشد شریف قتل کیس، رپورٹ میں ایسا کیا ہے جو سپریم کورٹ میں جمع نہیں کرائی جا رہی؟ سپریم کورٹ

    خیال رہے کہ 23 اکتوبر کو نیروبی مگاڈی ہائی وے پر شناخت میں غلطی پر پولیس نے ارشد شریف کو سر پر گولی مار کر ہلاک کردیا تھا تاہم ارشد شریف کے قتل کیس کی تحقیقات جاری ہیں جس میں کینیا پولیس کے مؤقف میں تضاد پایا گیا ہے

    ارشد شریف قتل کیس،جے آئی ٹی کو تفتیش کے لئے مکمل تیار رہنا ہوگا،سپریم کورٹ

    صحافی ارشد شریف قتل کیس،پی ایف یوجے نے سپریم کورٹ کو تحقیقات کے لیے خط لکھا تھا،پی ایف یو جے نے چیف جسٹس  سے معاملے پر ازخود نوٹس کی اپیل کی تھی،پی ایف یو جے نے سپریم کورٹ کے حاضر سروس جج کی سربراہی میں کمیشن بنانے کی استدعا کی تھی، خط مین کہا گیا کہ ارشد شریف کے قتل سے صحافی برادری گہرے صدمے میں ہیں،پوری قوم ارشد شریف قتل سے جڑے سوالات کے جوابات چاہتی ہے، ارشد شریف کی فیملی اور صحافی برداری کو عدالت عظمیٰ پر اعتماد ہے،سپریم کورٹ صحافی برداری اور ارشد شریف کی فیملی کو انصاف فراہم کرے،