بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف توشہ خانہ فوجداری کیس سے متعلق درخواستوں پر سپریم کورٹ آف پاکستان میں سماعت مقرر کر دی گئی ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ میں کارروائی مکمل ہونے کے بعد یہ کیس دوبارہ اعلیٰ ترین عدالت میں سماعت کے لیے فکس کیا گیا ہے،سپریم کورٹ کے اعلامیے کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ فوجداری درخواستوں پر سماعت کرے گا، جبکہ جسٹس شاہد بلال حسن بھی بینچ کا حصہ ہوں گے۔
سپریم کورٹ کے اعلامیے کےمطابق بانی پی ٹی آئی کی درخواست پر چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ 9 فروری کو سماعت کرے گا، جبکہ جسٹس شاہد بلال حسن بھی بینچ کا حصہ ہوں گے۔
واضح رہے کہ ٹرائل کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کو الیکشن ایکٹ کی دفعات 167 اور 173 کے تحت قصوروار قرار دیتے ہوئے تین سال قید کی سزا سنائی تھی بعد ازاں اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی سزا کو معطل کرتے ہوئے انہیں ریلیف فراہم کیا تھااب سپریم کورٹ میں ہونے والی سماعت میں فوجداری درخواستوں پر قانونی نکات، سزا کی حیثیت اور مقدمے کے مستقبل سے متعلق اہم سوالات پر غور کیا جائے گا کیس کی سماعت کو ملکی سیاست اور قانونی حلقوں میں غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔
بانی پاکستان تحریک انصاف نے توشہ خانہ فوجداری کیس میں سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ ٹرائل کورٹ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے واضح ریمانڈ احکامات کو نظرانداز کرتے ہوئے فیصلہ سنایا، جو کہ قانونی اختیار سے تجاوز کے مترادف ہے۔
درخواست کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ نے ٹرائل کورٹ کو مقدمے کی مکمل جانچ پڑتال کرنے اور تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کی ہدایت کی تھی، تاہم ٹرائل کورٹ نے ان ہدایات پر عمل کیے بغیر فیصلہ سنا دیا۔
بانی پی ٹی آئی نے درخواست میں مؤقف اپنایا ہے کہ ہائیکورٹ کے حکم کے بعد ٹرائل کورٹ کا فیصلہ سنانا نہ صرف غیر قانونی تھا بلکہ یہ عدالتی دائرہ اختیار سے تجاوز بھی تھا درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ ٹرائل کورٹ کی پوری کارروائی کو غیر قانونی قرار دیا جائے،ہائیکورٹ میں سزا معطلی کی درخواست زیر سماعت ہونے کے باعث سپریم کورٹ نے اگست 2023 میں اس کیس کی سماعت مؤخر کر دی تھی۔
