Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • سپریم کورٹ میں  2025ء کے رولز باقاعدہ لاگو

    سپریم کورٹ میں 2025ء کے رولز باقاعدہ لاگو

    سپریم کورٹ آف پاکستان میں 1980ء کے رولز کی جگہ 2025ء کے رولز باقاعدہ لاگو کردیے گئے ہیں۔

    اس حوالے سے جاری اعلامیے کے مطابق یہ رولز عہد حاضر کے جدید تقاضوں کو مدنظر رکھ کر بنائے گئے ہیں ، رولز تشکیل کے لیے جسٹس شاہد وحید، جسٹس عرفان سعادت، جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس عقیل عباسی پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔

    اعلامیے میں مزید بتایا گیا ہے کہ تشکیل کردہ کمیٹی نے سپریم کورٹ ججز، پاکستان بار اور سپریم کورٹ بار سمیت دیگر بارز سے بھی مشاورت کی ۔ کمیٹی کی تجاویز کو عدالت عظمیٰ کے فل کورٹ کے سامنے رکھا گیا ، جس نے غور و فکر کے بعد رولز 2025ء کو منظور کیا۔

  • سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن جائیداد نیلامی روکنے کی درخواست مسترد کردی

    سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن جائیداد نیلامی روکنے کی درخواست مسترد کردی

    سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کی جائیدادوں کی نیلامی پر فوری حکم امتناع دینے سے انکار کردیا اور بحریہ ٹاؤن کے خلاف ریفرنسز کی نقول جمع کروانے کا حکم دے دیا۔

    جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سماعت کے دوران درخواست گزار وکیل فاروق ایچ نائیک کی استدعا مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حکم امتناع سے متعلق فیصلہ دونوں فریقین کو سن کر کیا جائے گا۔جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیے کہ پلی بارگین ختم کرنے کی درخواست کے بعد کیس پر دوبارہ ٹرائل ہوگا، سزا ہونے پر ہی جائیدادیں ضبط کی جاسکتی ہیں۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 13 اگست تک ملتوی کردی۔

    دریائے ستلج میں ممکنہ سیلاب، پی ڈی ایم اے پنجاب کا الرٹ جاری

    غزہ پر اسرائیلی فوجی کنٹرول کے منصوبے پر چین کا شدید ردعمل

    روس میں دھماکوں کے بعد ایئرپورٹ بند، ساحلوں سے شہریوں کا انخلاء

    ایران کے صوبے کرمان میں ٹرین حادثہ، 30 افراد زخمی

  • وزیراعظم شہبازشریف کیخلاف توہین عدالت کی درخواست دائر

    وزیراعظم شہبازشریف کیخلاف توہین عدالت کی درخواست دائر

    سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے وزیراعظم کے خلاف توہین عدالت کی درخواست سپریم کورٹ میں دائر کی۔

    سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں کے سزا یافتہ ملزمان کو 45 دن میں اپیل کا حق دینے کے معاملے پر وزیراعظم شہباز شریف کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی ،سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے وزیراعظم شہباز شریف کے خلاف توہین عدالت کی درخواست سپریم کورٹ میں دائر کر دی ہے، درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ حکومت نے 45 دن گزرنے کے باوجود ملٹری کورٹس سے سزا یافتہ ملزمان کو اپیل کا حق دینے کا قانون نہیں بنایا۔

    ملک میں بچوں کے جنسی استحصال کے حوالے سے رپورٹ میں پریشان کن انکشافات

    درخواست کے مطابق سپریم کورٹ نے 7 مئی کو ملٹری کورٹس کے حوالے سے کیس کا فیصلہ سنایا تھا، جس میں عدالت نے حکم دیا تھا کہ ملٹری کورٹس سے سزا پانے والے ملزمان کو اپیل کا حق دیا جائے تاہم عدالتی فیصلے کے باوجود حکومت نے تاحال اس حوالے سے کوئی قانون سازی نہیں کی، عدالتی فیصلے پر عمل نہ کرنا توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے، لہٰذا وزیراعظم کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

    یہ درخواست سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے اپنے وکیل خواجہ احمد حسین کے توسط سے سپریم کورٹ میں دائر کی ہے۔

    راولپنڈی: جرگے کے حکم پرخاتون کاقتل، کیس میں گرفتار باپ، بھائی اور سابق شوہر نےاعتراف جرم کرلیا

  • عمران خان کی ضمانت کی 8 اپیلیں کل سماعت کیلئے مقرر

    عمران خان کی ضمانت کی 8 اپیلیں کل سماعت کیلئے مقرر

    سپریم کورٹ میں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی ضمانت بعد از گرفتاری کی 8 اپیلیں سماعت کے لیے مقرر ہوگئیں-

    سپریم کورٹ نے عمران خان کی ضمانت بعداز گرفتاری کی 8 اپیلیں کل سماعت کے لیے مقرر کردی ہیں،چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ کل ساڑھے نو بجے سماعت کرے گا، جسٹس محمد شفیع صدیقی بھی بینچ میں شامل ہیں۔

    عمران خان نے ایڈووکیٹ سلمان صفدر کے ذریعے 9 مئی کے مقدمات میں ضمانت بعد از گرفتاری کے لئے اپیلیں دائر کی تھیں، لاہور ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی ضمانت بعد از گرفتاری خارج کر دی تھی۔

    زمین کی رقم کا تنازع:شہری نے بزرگ والدین اور بیوی کو قتل کردیا

    واضح، رہے کہ 9 مئی 2023 کو القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان کی اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے سے گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کی طرف سے ملک گیر احتجاج کیا گیا تھا،اس دوران لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں 9 مئی کو مسلم لیگ (ن) کے دفتر کو جلانے کے علاوہ فوجی، سول اور نجی تنصیبات کو نذر آتش کیا گیا، سرکاری و نجی املاک کو شدید نقصان پہنچایا گیا تھا جب کہ اس دوران کم از کم 8 افراد ہلاک اور 290 زخمی ہوئے تھے۔

    مظاہرین نے لاہور میں کور کمانڈر کی رہائش گاہ پر بھی دھاوا بول دیا تھا اور راولپنڈی میں واقع جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) کا ایک گیٹ بھی توڑ دیا تھااس کے بعد ملک بھر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ لڑائی، توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ میں ملوث 1900 افراد کو گرفتار کر لیا گیا تھا جب کہ عمران خان اور ان کی پارٹی رہنماؤں اور کارکنان کے خلاف مقدمات بھی درج کیے گئے تھے۔

    حوثیوں کا اسرائیل سے ڈیل کرنے والے بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا اعلان

  • ممبئی ٹرین دھماکہ کیس:  مسلمان  نوجوانوں  کی رہائی کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج

    ممبئی ٹرین دھماکہ کیس: مسلمان نوجوانوں کی رہائی کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج

    مہاراشٹر حکومت کی جانب سے یہ اعلان سامنے آیا کہ وہ 12 مسلم نوجوانوں کو ممبئی ٹرین بم دھماکوں کے مقدمے سے باعزت بری کرنے کے ممبئی ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرے گی-

    بھارتی میڈیا کے مطابق مہاراشٹر حکومت کی جانب سے اس اعلان کے بعد ان افراد اور ان کے اہلِ خانہ کی امیدوں کو ایک بار پھر غیر یقینی کی کیفیت میں ڈال دیا اب جبکہ سپریم کورٹ نے 24 جولائی کو اس معاملے کی سماعت کے لیے تاریخ مقررکی، تو یہ کیس انصاف کے ایک نئے، اور ممکنہ طور پر فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکا ہے،یہ 12 افراد وہ ہیں جنہیں نہ صرف برسوں تک قید میں رکھا گیا بلکہ دہشت گردی جیسے سنگین الزامات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان میں سے کئی نے جیل میں اذیتیں برداشت کیں-

    اب جب عدالتِ عالیہ نے انہیں بے گناہ قرار دے دیا ہے تو یہ قانونی نظام کے اندر ایک اہم مثال بن چکی تھی ہائی کورٹ کے فیصلے نے نہ صرف ان افراد کو انصاف دیا بلکہ تحقیقاتی نظام پر بھی کئی بنیادی سوالات اٹھا دیے عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ استغاثہ جرم کو ثابت کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا اور تفتیش میں خامیاں اور تضادات واضح تھے اس سے عدالتی نظام کی ساکھ کو تقویت ملی کہ وہ بلاامتیاز انصاف فراہم کر سکتا ہے، چاہے اس میں کتنا ہی وقت کیوںعمران خان کے بیٹے سیاسی مہم چلانا چاہتے ہیں تو انہیں کوئی نہیں روک رہا،عطا تارڑ نہ لگے۔

    ایشیا کپ کا جلد اعلان ہوگا، بھارتی بورڈ سے بات چیت جاری ہے،محسن نقوی

    اب سپریم کورٹ میں ہونے والی سماعت کا دائرہ محض قانونی دلائل تک محدود نہیں، بلکہ یہ سماعت اس سوال کا جواب بھی دے گی کہ کیا برسوں بعد بے گناہ قرار دیے گئے افراد کو ایک بار پھر عدالتی عمل میں جھونکنا انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہے؟ یہ محض ایک اپیل نہیں، بلکہ انصاف کے دائرہ کار، ریاستی رویے اور انسانی وقار کے درمیان توازن کا امتحان ہے۔

  • ترقی سرکاری ملازمین کا حق ہے ، سپریم کورٹ

    ترقی سرکاری ملازمین کا حق ہے ، سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ نے سرکاری ملازمین کی ترقی سے متعلق سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہر سرکاری ملازم کو پرفارمنس پرموشن کے لیے زیر غور لانا اس کا بنیادی قانونی حق ہے۔

    جسٹس محمد علی مظہر کے تحریر کردہ پانچ صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ہائی پاورڈ سلیکشن بورڈ دوبارہ 2 ماہ میں کیس میرٹ پر سنے،درخواست گزار پولیس سروس کے سینئر افسر تھے، 3 بار ترقی سے محروم رہے،2013 سے 2018 تک تمام کارکردگی رپورٹس بہترین تھیں، ہائی پاورڈ سلیکشن بورڈ نے ملازم کو بغیر ٹھوس وجہ ترقی نہیں دی، 2019 کی کارکردگی رپورٹ نہ ہونے کی وجہ فیلڈ پوسٹنگ کا نہ ملنا تھا۔

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کاغذی ترقی جس میں سنیارٹی اور مالی فوائد متاثر نہ ہوں سرکاری ملازمین کا قانونی حق ہے، ترقی کے اہل افسر کو ریٹائرمنٹ کے بعد بھی پروموشن دی جا سکتی ہے،ہائی پاورڈ سلیکشن بورڈ منٹس میں منفی ریمارکس بغیر کسی ثبوت کے شامل کیے گئے، درخواست گزار کی ساکھ پر کوئی الزام ثابت نہیں ہوا، دیر سے انصاف دینا غیر منصفانہ ہے، تمام سرکاری ادارے ترقی کے معاملات میں شفاف اور فوری فیصلے کریں۔

    تاجروں کا 19 جولائی کو ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال منسوخ نہ کرنے کا علان

    کراچی : سول ہسپتال کی لفٹ میں 14 سالہ بچے کیساتھ بدفعلی

    40 ہزار پاکستانی زائرین عراق، شام اور ایران میں غائب، وزیر مذہبی امور

  • کوئٹہ رجسٹری: سپریم کورٹ کے بینچز کل سے کیسز کی سماعت کریں گے

    کوئٹہ رجسٹری: سپریم کورٹ کے بینچز کل سے کیسز کی سماعت کریں گے

    سپریم کورٹ رجسٹری میں پیر 14 جولائی سے کیسز کی سماعت کا آغاز ہوگا، جس کے لیے کاز لسٹ جاری کر دی گئی ہے۔ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ 18 جولائی تک کوئٹہ رجسٹری میں مختلف مقدمات کی سماعت کرے گا۔

    سپریم کورٹ کے جاری کردہ روسٹر کے مطابق، جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شکیل احمد بھی چیف جسٹس کے ہمراہ بینچ کا حصہ ہوں گے۔
    عدالتی شیڈول کے تحت 14 سے 16 جولائی کے دوران تین رکنی بینچ 60 کیسز کی سماعت کرے گا۔17 جولائی کو سپریم کورٹ کے دو بینچز کوئٹہ رجسٹری میں کیسز کی سماعت کریں گے۔بینچ نمبر 1 میں چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس شکیل احمد شامل ہوں گے، جبکہ بینچ نمبر 2 جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل ہوگا۔

    18 جولائی کو ایک بار پھر چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ سماعت کرے گا، جس میں جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شکیل احمد شامل ہوں گے۔سپریم کورٹ کے بینچز مجموعی طور پر 14 سے 18 جولائی کے دوران 111 کیسز کی سماعت کریں گے۔

    حمیرا اصغر کی موت کیسےہوئی ؟پولیس کی تحقیقاتی ٹیم تشکیل

  • لاہور ہائیکورٹ بار اور لاہور بار نے ججز سنیارٹی کیس کا فیصلہ چیلنج کر دیا

    لاہور ہائیکورٹ بار اور لاہور بار نے ججز سنیارٹی کیس کا فیصلہ چیلنج کر دیا

    لاہور ہائی کورٹ بار اور لاہور بار نے ججز سنیارٹی کیس کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا۔

    دونوں بارز نے سپریم کورٹ کے فیصلے کیخلاف الگ الگ انٹراکورٹ اپیلیں دائر کر دیں، اپیلوں میں پانچ رکنی بنچ کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ،اپیلوں پر فیصلے تک پانچ رکنی بنچ کا فیصلہ اور اس کے نتیجہ میں ہونے والے اقدامات معطل کرنے کی استدعا بھی کی گئی اپیلوں میں موقف اپنایا گیا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ آئین اور طے شدہ عدالتی اصولوں کیخلاف ہے، ججز کی سنیارٹی طے کرنے کا مسلمہ طریقہ کار موجود ہے،صدر مملکت کو سنیارٹی طے کرنے کی ہدایت کرنے کی آئین میں گنجائش نہیں۔

    میلبرن: طیارے میں سانپ کی موجودگی کے باعث پرواز تاخیر کا شکار

    واضح رہے کہ جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی آئینی بینچ نے تین ججز کی اسلام آباد ہائیکورٹ میں منتقلی کو آئینی و قانونی قرار دیتے ہوئے، ججز کی طرف سے دائر کردہ درخواستوں کو تین دو کے تناسب سے مسترد کر دیا تھا فیصلے میں کہا گیا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 200 کے تحت صدر مملکت کو ججز کی منتقلی کا اختیار حاصل ہے اور یہ تقرری کے اختیار سے جداگانہ معاملہ ہے۔

    سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں صدر مملکت نے 29 جون کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس سرفراز ڈوگر کو اس عدالت کا سینئر ترین جج قرار دیا اور ان سمیت دو دیگر ججز کے تبادلوں کو مستقل قرار دیا تھا۔ اس کے بعد یکم جولائی کو چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن آف پاکستان نے جسٹس سرفراز ڈوگر کو چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ، جسٹس جنید غفار کو چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ، جسٹس عتیق شاہ کو چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ اور جسٹس روزی خان کو چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ تعینات کرنے کی منظوری دے دی تھی۔

    حکومتی اور دفاعی اداروں پر بھارتی سائبر حملوں کا خدشہ، سائبر سیکیورٹی ایڈوائزری جاری

    ان تعیناتیوں کی منظوری کے بعد 7 جولائی کو وزارت قانون کی جانب سے باقاعدہ نوٹیفیکیشنز جاری کیے گئے، اور 8 جولائی کو چاروں ہائیکورٹس کے نئے چیف جسٹس صاحبان نے اپنے عہدوں کا حلف اٹھا لیا۔

  • کل تک مخصوص نشستوں کی الاٹمنٹ بحال ہونے کا امکان

    کل تک مخصوص نشستوں کی الاٹمنٹ بحال ہونے کا امکان

    سپریم کورٹ کے مخصوص نشستوں سے متعلق فیصلے کی کاپی الیکشن کمیشن کو موصول ہو چکی ہے-

    ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن مخصوص نشستوں کی الاٹمنٹ کا نوٹیفکیشن کل تک جاری کر دے گا، جس کے بعد قومی اسمبلی میں حکومتی اتحاد کو دوبارہ دو تہائی اکثریت حاصل ہو جائے گی، قانونی ٹیم کی تیار کردہ رپورٹ کی روشنی میں مخصوص نشستوں کی بحالی کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔

    عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ تمام سول نظرثانی درخواستیں منظور کرلی گئی ہیں، جس کے بعد پی ٹی آئی قومی اسمبلی کی 22 اور صوبائی اسمبلی کی 55 مخصوص نشستوں سے محروم ہو گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی 77 ارکانِ اسمبلی کی رکنیت بھی بحال کر دی گئی ہے۔

    پنجاب اسمبلی میں خواتین اور اقلیتوں کی 27 مخصوص نشستیں بحال ہو گئی ہیں جن میں سے مسلم لیگ ن کو 21 خواتین اور 2 اقلیتی نشستیں، جب کہ پیپلز پارٹی، ق لیگ اور استحکام پاکستان پارٹی کو ایک ایک نشست ملی ہے۔ سندھ اسمبلی میں پیپلز پارٹی کو دو اور ایم کیو ایم پاکستان کو ایک نشست ملی ہے۔

    خیبرپختونخوا اسمبلی میں 25 مخصوص نشستیں بحال ہوئیں جن میں مسلم لیگ ن اور جے یو آئی ف کو 7،7 خواتین نشستیں ملیں جبکہ باقی نشستیں پیپلز پارٹی، اے این پی اور پی ٹی آئی پی کو دی گئیں۔ اقلیتی نشستوں میں 2 ن لیگ اور 2 جے یو آئی ف کو ملیں۔

    قومی اسمبلی میں مسلم لیگ ن کو 15، پیپلز پارٹی کو 4 اور جے یو آئی کو 3 اضافی نشستیں ملی ہیں اس فیصلے کے بعد قومی اسمبلی میں مسلم لیگ ن کے ارکان کی تعداد 125، پیپلز پارٹی کے 74، اور جے یو آئی ف کے 11 ہو گئی ہے، جب کہ حکومتی اتحاد کو اب 233 نشستوں کے ساتھ دو تہائی اکثریت حاصل ہے۔

    الیکشن کمیشن کی جانب سے آئندہ چند دنوں میں باضابطہ نوٹیفکیشن جاری ہونے کی توقع ہے جس کے بعد سینیٹ کی زیر التوا نشستوں پر بھی جلد انتخابات ہونے کا امکان ہے۔

  • مخصوص نشستوں سے متعلق سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کا فیصلہ افسوس ناک ہے، حافظ نعیم الرحمٰن

    مخصوص نشستوں سے متعلق سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کا فیصلہ افسوس ناک ہے، حافظ نعیم الرحمٰن

    امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے مخصوص نشستوں سے متعلق سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کا فیصلہ افسوس ناک ہے۔

    امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے منصور میں تربیت گاہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کا مخصوص نشستوں سے متعلق فیصلہ شرمناک ہے، مخصوص نشستوں پر تحریک انصاف کا حق تھا، جماعت اسلامی اس فیصلے سے متفق نہیں ہے، ہم مولانا کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ جو 30 سیٹیں مولانا کو مل رہی ہیں وہ لیں گے یا نہیں، ہم حق اور انصاف کے ساتھ کھڑے ہیں ملک میں اقتدار کی میوزیکل چیئر چل رہی ہے،ہم نےجیتی ہوئی نشست الیکشن کمیشن کوواپس کردی، پیپلز پارٹی نے کراچی میں بلدیاتی الیکشن پر ڈاکہ ڈالا، ڈاکہ ڈال کر جعلی طریقے سے میئر کراچی مسلط کیا گیا، میئرکراچی کےانتخاباتی الیکشن کے وقت پی ٹی آئی کے 32 لوگ نہیں آئے تھے۔

    حافظ نعیم الرحمٰن نے شکوہ کیا کہ عام انتخابات میں بھی ہماری جیتی ہوئی نشستیں نہیں دی گئیں، انہوں نے کہاکہ ہم سیاست کو عبادت سمجھ کر کرتےہیں، ن لیگ اور پیپلز پارٹی سے تو مجھے کوئی توقع نہیں، ہر دونمبری سے اقتدارمیں رہنے والوں کوکامیاب سیاست دان کہا جاتا ہےاس الیکشن میں آپ نے دیکھا کیسے ایک پارٹی کو جتوایا گیا، ہمارے حق پر ڈاکا ڈالا گیا کراچی میں مئیر کی سیٹ پر ڈاکہ مارا گیا، بلدیاتی الیکشن میں بھی ہمارے ساتھ ناانصافی کی گئی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ہم نے جیتی ہوئی نشست الیکشن کمیشن کو واپس کردی، فارم 45 کے مطابق ہمارے ووٹ کم تھے لیکن 47 میں ہمیں جتوا دیا گیا، ہم نے پھر بھی الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف گئے، ہم نے دنیا کو بتایا کہ ہم جیتے نہیں ہے جماعت اسلامی وہ انقلاب لانا چاہتا ہیں جس میں لوگوں کی اصلاح ہو، جماعت اسلامی شیعہ، سنی یا دیوبندیوں کی نہیں تمام فرقوں کی جماعت ہے، مسلکوں کی بنیاد پر لوگوں نے دکانیں بنائی ہے لیکن جماعت اس تفریق کو ختم کرتی ہے، جماعت اسلامی صرف مسلمانوں کے لیے بلکہ انسانیت کے لیے کام کرتی ہے، ہم یہ نہیں دیکھتے کہ کون مسلم یا اس کا مسلک کیا ہے ہم انسانیت کی خدمت کرتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان کا جغرافیہ، عقیدے اور نظریہ کی بنیاد پر ہے، پاکستان کئی قربانیوں کے بعد حاصل کیا گیا، لوگوں نے پاکستان کو تقسیم کرنے کی کوشش کی گئی لیکن کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکا، انہوں نے کہا کہ جب انڈیا سے جنگ جاری تھی ہم نے حکومت کی حمایت کی اسکی وجہ حکومت نہیں بلکہ پاکستان تھا۔

    حافظ نعیم الرحمٰن نے کہاکہ جماعت اسلامی میں کوئی اکیلا نہیں بلکہ ایک قیادت اجتماعی فیصلہ کرتی ہے، ہم باقی جماعتوں کی طرح ایک کا فیصلہ سب پر نہیں تھوپ دیتےجب باجوہ صاحب کی ایکسٹنشن ہوئی تھی تو سب نے مل کر ایکسٹینشن دی تھی،لیکن جب بات کشمیر، فلسطین کی بات ہو تو سب الگ ہو جاتے ہیں، جماعت اسلامی ہمیشہ میرٹ پر فیصلہ کرتی ہے۔

    انہوں نے کہاکہ میدان کی جیتی ہوئی جنگ اگر ہم ٹرمپ کی چاپلوسی پر ہار جائیں تو عوام برداشت نہیں کرے گی، ہم کشمیر کو پیچھے رکھ کر انڈیا کے ساتھ کسی طرح کے مذاکرات نہیں کر اسکتے،کشمیر کے لیے ہزاروں لوگوں نے قربانیاں دی ہیں، امریکا کا ساتھ دینے سے ہم کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے، امریکا کی وجہ سے 150 ارب ڈالر سے زائد ہمیں نقصان ہو چکا ہے۔

    انہوں نے کہاکہ ٹرمپ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ہمیں نوبل پرائز کے لیے نام نامزد کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، ٹرمپ کہے کہ جنگ بندی کرو اور حماس کو ختم کر دو یہ کیسے ہو سکتا ہے، یہ خود دہشت گردی ہے جس کا اعلان ٹرمپ کررہا ہےجب اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تو ٹرمپ نے کہا کہ بہت اچھا کیا، ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران باز نہیں آیا تو مزید حملے کریں گے، جب ایران نے اسرائیل کو جواب دیا تو گرگٹ کی طرح رنگ بدلنے لگا، تب ٹرمپ کا بیان بدل گیا۔

    انہوں نے کہاکہ پاکستان اور بھارت کے معاملے میں بھی ٹرمپ نے ایسا کیا، ٹرمپ کو جنگ بندی اور امن کا خیال اس وقت آتا ہے جب اس کا پسندیدہ پہلوان ’ڈِگ‘ نہ جائے جماعت اسلامی حکومت اور ریاست کو قوم کا سودا نہیں کرنے دیں گے، حکومتی نمائندوں اور ریاست سے کہنا چاہتا ہوں امریکا کے ہاتھوں قوم کا سودا نہ کریں، اگر آپ نے ایسا کیا تو سیاسی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    انہوں نے کہاکہ خیبرپختونخوا کے ضلع سوات میں پیش آنے والا واقعہ قابل افسوس ہے، لوگ دو گھنٹے مدد کے لیے پکارتے رہے، کوئی ریسکیو ٹیم وہاں نہ پہنچی اور لوگ قیمتی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، افسوس کی بات ہے کہ حکمرانوں میں ندامت نہیں ہے، پی ٹی آئی نے بھی کے پی کے میں کچھ نہیں کیا پنجاب کا 10 کھرب کا اسکینڈل سامنے آیا ہے، خیبرپختونخوا میں بھی اسکینڈل سامنے آئے جبکہ سندھ تو اسکینڈلز پر ہی پل رہا ہے، بلوچستان کا تو بجٹ ہی پتہ نہیں کہا جا رہا ہے، اب جماعت اسلامی اس ملک کو ان جماعتوں کے حوالے نہیں کر سکتی۔