Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سپریم کورٹ میں سماعت

    سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سپریم کورٹ میں سماعت

    سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی

    چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں فل کورٹ نے سماعت کی،الیکشن کمیشن کے وکیل سکندر بشیر نے دلائل دیئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پی ٹی آئی کی مخصوص نشستوں کی لسٹ طلب کی تھی وہ نہیں ملی،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ سارا ریکارڈ جمع کرا دیا ہے،کیس سے متعلق حتمی پیپر بک جمع کرا دیے ہیں،الیکشن کمیشن سے کہاہے کہ 81 آزادامیدواروں کے کاغذات نامزدگی مجھے دیں ،تحریک انصاف کے فارم 66 بھی عدالت کو فراہم کردوں گا،حامدرضا نے کاغذات نامزدگی میں کہا میرا تعلق سنی اتحاد اور اتحاد تحریک انصاف سے ہے،حامدرضا کے دستاویزات میں کہا تحریک انصاف نظریاتی کے ساتھ منسلک ہوں،تحریک انصاف نظریاتی مختلف سیاسی جماعت ہے جس کا پی ٹی آئی سے تعلق نہیں،حامدرضا کو ان ہی کی درخواست پر ٹاور کا نشان انتخابات لڑنے کے لیے دیاگیا،حامدرضا نے بطور آزادامیدوار انتخابات میں حصہ لیا،

    حامد رضا نے کس سیاسی جماعت سے خود کو منسلک کیا؟جسٹس منیب اختر کا استفسار
    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اردو والے دستاویزات میں تو حامد رضا نے نہیں لکھا کہ میں آزاد امیدوار کے طور پر انتخابات لڑنا چاہ رہا ہوں ،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ایسا کیسے ہوسکتا کہ حامدرضا خود کو آزادامیدوار نہ کہیں، تحریک انصاف نظریاتی کا ٹکٹ حامدرضا نے جمع نہیں کروایا،حامدرضا نے منسلک ہونے کا سرٹیفیکیٹ تحریک انصاف کا دیاہے،حامد رضا نے حلف لے کر کہا میں تو تحریک انصاف نظریاتی میں ہوں،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آپ کے مطابق الیکشن کمیشن نے حامدرضا کو ٹاور کا نشان دیا، ریٹرننگ افسران بھی تو الیکشن کمیشن کے ہی آفیشلز ہیں،وکیل سکندر بشیر نے کہا کہ حامدرضا کی سب سے آخری درخواست پر الیکشن کمیشن نے عملدرآمد کیا،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ حامد رضا نے کس سیاسی جماعت سے خود کو منسلک کیا؟ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ جو ریکارڈ ہے ہمیں دکھائیں، ورنہ تو ہوا میں بات ہوگی،

    جس پارٹی سے انتخابات لڑنے ہیں اسی کی پارٹی سے منسلک ہونے کا سرٹیفیکیٹ لگانا ضروری ہے،چیف جسٹس
    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ 12جنوری کاغذات نامزدگی واپس لینے کی آخری تاریخ تھی کاغذات نامزدگی جمع کرانےکی آخری تاریخ کےبعدایک پارٹی کےسرٹیفکیٹ جمع کرانے کےبعد کیا دوسری پارٹی کاسرٹیفیکیٹ دیا جا سکتا ہے؟جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ریٹرننگ افسران کےپاس امیدوارکے کاغذات نامزدگی کےساتھ منسلک پارٹی سرٹیفیکیٹ ہوتا ہے؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن کمیشن سے جو آخری درخواست ہو اس کے ساتھ جانا ہوتا ہے،پہلے والا فارم الیکشن کمیشن نے کیوں نہیں دیکھا،چیف جسٹس قاضٰ فائز عیسیٰ نے کہا کہ جس پارٹی سے انتخابات لڑنے ہیں اسی کی پارٹی سے منسلک ہونے کا سرٹیفیکیٹ لگانا ضروری ہے نا؟ سرٹیفیکیٹ تحریک انصاف نظریاتی اور ڈیکلریشن منسوخ پی ٹی آئی کا کریں تو قانون کیا کہتا؟ مختلف شہروں کے ریٹرننگ افسران ہوتے، ہر ریٹرننگ افسر اپنے طریقے سے کام کرےگا نا؟ نشان چھوڑیں، ہمیں امیدوار کی سیاسی وابستگی کے بارے میں بتائیں، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ امیدوار کی ڈیکلریشن اور پارٹی کے ساتھ وابستگی ظاہر ہونا ضروری ہے،اگر ڈیکلریشن، سیاسی وابستگی میچ نہ ہو تو آزادامیدوار ہوتاہے،

    دستاویزات سے ظاہر نہیں ہوتا کہ تحریک انصاف کے امیدواروں کا غیر سنجیدہ رویہ تھا؟جسٹس نعیم اختر افغان
    حامد رضا نے شروع سے خود کو پی ٹی آئی کا ڈکلیئر کیا کاغذات نامزدگی بھی واپس نہیں لیے ،اس کو آزاد کیسے تصور کیا گیا؟ جسٹس اطہرمن اللہ
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا الیکشن کمیشن کسی کو انتخابات سے باہر کرسکتا ہے؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ریٹرننگ افسران کے لیے صورتحال کے مدنظر رکھتے ہوئے سب سے آسان راستہ تھا کہ ایسے امیدواروں کو آزاد ظاہر کیاجائے، جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ کیا ایسا ہوا کہ امیدوار کہے میں ایک پارٹی کا ہوں، اسی کا سرٹیفیکیٹ بھی دےلیکن الیکشن کمیشن نے اسے آزادامیدوار ظاہر کردیاہو؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ایسے امیدوار تھے لیکن انہوں نے کاغذات نامزدگی واپس لے لی،جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ کیا دستاویزات سے ظاہر نہیں ہوتا کہ تحریک انصاف کے امیدواروں کا غیر سنجیدہ رویہ تھا؟چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ نشان سے کنفیوژ نہ کریں، ہم تحریک انصاف کے امیدوار کیوں نہ تصور کریں سرٹیفیکیٹ میں تضاد نہیں، الیکشن کمیشن امیدوار کی حیثیت تبدیل کررہا،جس پارٹی کا سرٹیفیکیٹ لایا جارہا اسی پارٹی کا امیدوار کو تصور کیوں نہیں کیا جارہا؟ جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ صاحبزادہ حامد رضا نے شروع سے خود کو پی ٹی آئی کا ڈکلیئر کیا کاغذات نامزدگی بھی واپس نہیں لیے ،اس کو آزاد کیسے تصور کیا گیا؟ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ مجھے جو سمجھ آرہا کہ امیدوار کے پاس اختیار نہیں کہ آخری تاریخ گزرنے کے بعد اپنی سیاسی وابستگی تبدیل کرے، چیف جسٹس قاض فائز عیسیٰ نے وکیل الیکشن کمیشن سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ مجھے آپ کا جواب سمجھ نہیں آرہا لیکن آگے بڑھتے ہیں،

    کیا بیان حلفی دیکر دوسری جماعت کا ٹکٹ دینے پر نااہلی نہیں ہوتی؟چیف جسٹس
    امیدوار بھی ایسے ہی کنفیوژ ہوئے جیسے الیکشن کمیشن ہے،جسٹس عائشہ ملک
    جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے امیدواروں کو آزاد کیوں کہا جب خود کو وہ ایک سیاسی جماعت سے وابستہ کہہ رہے تھے؟ کنفیوژن شروع ہوگئی کہ پارٹی کا ٹکٹ نہیں ملا تو امیدوار کیا کرسکتا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا بیان حلفی دیکر دوسری جماعت کا ٹکٹ دینے پر نااہلی نہیں ہوتی؟ جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ اگر کوئی امیدوار پارٹی وابستگی اور ٹکٹ جمع کرائے تو کیا اسے آزاد ظاہر کیا جا سکتا ہے؟ جسٹس نعیم اختر نے کہا کہ جن 81 امیدواروں کی فہرست آپ نے دی ہے اس میں 35 نے وابستگی ظاہر نہیں کی، 65 امیدواروں نے ریٹرننگ افسر کو انتخابی نشان کیلئے درخواست ہی نہیں دی، ظاہر ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی امیدوار الیکشن کے حوالے سے کتنے غیر سنجیدہ تھے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کچھ امیدواروں نے پارٹی وابستگی اور ٹکٹ دونوں پی ٹی آئی کے ظاہر کیے،انتخابی نشان الگ چیز ہے ان امیدواروں کو پی ٹی آئی کا کیوں تصور نہ کیا جائے، امیدواروں نے نہیں الیکشن کمیشن نے انکی حیثیت پارٹی سے آزاد تبدیل کی،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ کچھ امیدواروں نے تحریری نہیں زبانی طور پر پر پارٹی وابستگی واپس لی، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے 22 دسمبر کے فیصلے سے کنفیوژن پیدا ہوئی، پی ٹی آئی الیکشن نہیں لڑ سکتی تھی تو امیدوار پارٹی ٹکٹ کہاں سے لاتے؟امیدوار بھی ایسے ہی کنفیوژ ہوئے جیسے الیکشن کمیشن ہے، سکندر مہمند نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے تضادات کے باوجود امیدواروں کو انتخاب لڑنے کی اجازت دی، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے کاغذات نامزدگی کے وقت ہی کہا پی ٹی آئی کو نشان نہیں ملے گا،الیکشن کمیشن نے بعد میں پی ٹی آئی امیدواروں کے کاغذات منظور بھی کیے، الیکشن کمیشن پی ٹی آئی کو نان پارٹی انتخابی نشان دے سکتا تھا، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ پوچھا تو الیکشن کمیشن سے جائےگا نا کہ انہوں نے کیا کیا ؟ آزادامیدوار تو الیکشن کمیشن نے بنایا تھا،

    سپریم کورٹ کا تحریک انصاف کو انتخابات سے باہر کرنا مقصد ہر گز نہیں تھا، جسٹس منیب اختر
    جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ایک امیدوار کی بات نہیں، تحریک انصاف کی بات ہورہی جو قومی جماعت ہے، الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کو کہا کہ آپ کو نشان نہیں ملےگا، سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کا فیصلہ برقرار رکھا لیکن ایسا نہیں کہا کہ تحریک انصاف کو انتخابات سے باہر کردیں،سپریم کورٹ کا تحریک انصاف کو انتخابات سے باہر کرنا مقصد ہر گز نہیں تھا، بلے کے نشان کے فیصلے کے ساتھ سپریم کورٹ کھڑی ہوتی لیکن تحریک انصاف کو انتخابات سے باہر کرنا مقصد نہیں تھا،22 دسمبر 2023 کو صدر مملکت کون تھا؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ دسمبر 2023 میں صدر مملکت عارف علوی تھے، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ کیا نگران حکومت تھی یا سیاسی جماعت کی حکومت تھی؟کیا کسی نگران حکومت کو نیوٹرل ہونا چاہیے؟ اتنی نیوٹرل جتنا الیکشن کمیشن ہے؟ کیا نگران حکومت اتنی ہی آزاد ہونی چاہیے جتنا الیکشن کمیشن ہے؟

    سپریم کورٹ نے ملک میں انتخابات کروائے، مفروضوں والی باتیں کیس میں نہ کریں، فوکس کریں اور ختم کریں اس معاملے کو،چیف جسٹس
    امیدوار کو آزاد تصور کیسے کیا جائے جب امیدوار نے سرٹیفیکیٹ واپس نہیں لیا ،جسٹس اطہرمن اللہ
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر عارف علوی کا ماضی کا ریکارڈ دیکھتے تو انتخابات عارف علوی نہ کرواتے، دنیا بھر کی باتیں کررہے، صدر مملکت عارف علوی پی ٹی آئی کے ہو کر کیوں انتخابات کی تاریخ نہیں دے رہے تھے؟ سپریم کورٹ نے ملک میں انتخابات کروائے، مفروضوں والی باتیں کیس میں نہ کریں، فوکس کریں اور ختم کریں اس معاملے کو، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ہم الیکشن کمیشن کو ایک آئینی ادارہ تسلیم کرتے ہیں ، امیدوار کو آزاد تصور کیسے کیا جائے جب امیدوار نے سرٹیفیکیٹ واپس نہیں لیا ،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے پشاور کے پانچ رکنی بینچ کو مطمئن کیا، میرے دلائل کو ججز نے باہر نہیں پھینکا، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ایسا نہ کہیں کہ پانچ رکنی بینچ نے فیصلہ دے دیا تو بس ہوگیا، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ امیدوار تو کہہ رہا کہ میں فلاں سیاسی جماعت سے منسلک ہوں لیکن الیکشن کمیشن نے کہا کہ نہیں آپ آزاد امیدوار ہیں،امیدوار نے تو نہیں کہا کہ میں آزاد امیدوار ہوں، وہ تو کہہ رہا کہ سیاسی جماعت سے منسلک ہوں، اگر الیکشن کمیشن نے کوئی دستاویز نہیں دیکھا تو عدالت کو دکھانے کا توکوئی جواز نہیں،

    آپ کوئی ایک قانون کی شق دکھا دیں الیکشن کمیشن نے انہیں کیسے آزاد ڈیکلئیر کر دیا؟جسٹس جمال مندوخیل
    الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی غلط تشریح کر کے میجر پارٹی کو الیکشن سے نکال دیا، جسٹس اطہرمن اللہ
    جسٹس امین الدین نے کہا کہ ہم ایک اپیل سن رہے ہیں ہمارے سامنے انتخابی نشان کی الاٹمنٹ کا معاملہ نہیں، اس کے باوجود ہمارے سامنے 90 فیصد دلائل انتخابی نشان پر ہو رہے ہیں،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ میں یہی کہہ رہا ہوں کہ پشاور ہائیکورٹ کے پانچ جج ہمارے فیصلے کو برقرار رکھ چکے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ہم پشاور ہائیکورٹ کے پانچ ججوں کے فیصلے کے پابند نہیں،ہم نے جو اصل مسئلہ ہے اسے دیکھنا ہے، سوال یہ ہے الیکشن کمیشن سیاسی جماعت کو ڈس فرنچائز کیسے کر سکتا ہے؟ الیکشن کمیشن نے کب کہاں بیٹھ کر فیصلہ کیا انتخابی نشان نہیں ہو گا تو پی ٹی آئی جماعت نہیں ہو گی؟ الیکشن کمیشن کے اس فیصلے اور اس میٹنگ کا ریکارڈ دکھائیں، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ میں ریکارڈ دیکھ کر بتاوں گا، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ یہ بھی بتائیں الیکشن کمیشن کا اختیار کیا ہے کسی کو آزاد ڈیکلئیر کرنے کا؟ وابستگی کا معاہدہ امیدوار اور جماعت کے درمیان ہوتا ہے ، آپ کوئی ایک قانون کی شق دکھا دیں الیکشن کمیشن نے انہیں کیسے آزاد ڈیکلئیر کر دیا؟ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اس کا جواب یہی ہے نا کہ آپ نے بس انتخابی نشان نہ ہونے پر اس جماعت کو الیکشن سے باہر رکھا؟ بس ہمیں یہ بتا دیں الیکشن کمیشن نے کب کہاں بیٹھ کر یہ سوچا، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اس کا مطلب ہوا کہ الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی غلط تشریح کر کے میجر پارٹی کو الیکشن سے نکال دیا، اب انتخابی نشان کا فیصلہ دینے والا بنچ آپ کو خود بتا رہا ہے آپ کی تشریح غلط تھی،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ یہ صرف آبزرویشن ہیں ابھی اس متعلق کوئی فیصلہ نہیں آیا، انتخابی نشان والے فیصلے کیخلاف نظر ثانی زیر التوا ہے،یہ بات درست نہیں ہے، ہم نے تشریح صیحح کی،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ‏الیکشن کمیشن نے امیدواروں کو آزاد ڈیکلیئر کرکے آرٹیکل 17 کی خلاف ورزی کی۔ جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ 80 سے زائد امیدواروں کو، چھ امیدواروں نے سرٹیفیکیٹ اور ڈیکلریشن ایک ہی پارٹی کا بھی دیا لیکن چھ کو بھی الیکشن کمیشن نے آزادامیدوار قرار دےدیا، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ مجھے بتائیں کاغذات نامزدگی واپس نہ لیں تو حلف کی کیا حیثیت ہے؟ میرے سوال کا جواب نہیں دیا جارہا،جسٹس منصور علی شاہ نے وکیل الیکشن کمیشن سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ مجھے ایسا لگ رہا آپ نے شیکسپیئر کا ڈرامہ دیکھا ہے, وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ چند امیدواروں نے کاغذات نامزدگی واپس لیے اور آزادامیدوار خود کو ظاہرکیا، آزادامیدوار سنی اتحاد میں شامل ہوئے، کیس میرا نہیں، سنی اتحاد کا ہے،دیکھنا ہوگا کہ اپیل میں سنی اتحاد نے کیا دلائل و حقائق سامنے رکھے، آزادامیدوار ہونے کے لیے پارٹی جوائن کرنا ضروری ہے،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آزادامیدوار نے خود کو امیدوار ظاہرنہیں کیا، الیکشن کمیشن نے آزاد ڈیکلیئر کیا، الیکشن کمیشن نے امیدوار کو آزاد بنایا، الیکشن لڑا، پھر جماعت کے ساتھ منسلک ہونا چاہ رہے تو الیکشن کمیشن کہہ رہا کیسے شامل ہوسکتے؟ الیکشن کمیشن نے امیدوار کو آزادامیدوار کہا اور اب جب امیدوار اپنی پارٹی میں شامل ہونا چاہ رہا تو الیکشن کمیشن مذاق اڑا رہا،

    نشان نہ ملنے پر کسی امیدوار کا کیسے کسی پارٹی سے تعلق ٹوٹ سکتا؟ چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ مجھے سننا پسند ہے، میرا اپنا دماغ بھی ہے لیکن وکیل کو سننا چاہتاہوں، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ تحریک انصاف نظریاتی کا ٹکٹ تو کسی کو ملا ہی نہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کچھ حقائق واضح ہوتے جس کے لیے آپ کا یا میرا بولنا نہیں ضروری، الیکشن کمیشن کے عدالت کو فراہم کیے گئے دستاویزات میں تضاد ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ فارم 33 الیکشن کمیشن بناتا جس میں امیدوار اپنا سرٹیفیکیٹ دیتا ہے ، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ حامد رضا نے شٹل کاک مانگا لیکن شٹل کاک تو الیکشن کمیشن کے پاس نشان دستیاب تھا ہی نہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ نشان نہ ملنے پر کسی امیدوار کا کیسے کسی پارٹی سے تعلق ٹوٹ سکتا؟

    ڈی جی لاء نے روسٹرم پر مخصوص نشستوں کے حصول سے متعلق سنی اتحادکونسل کامنشور پڑھا،جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ کیا الیکشن کمیشن ہر سیاسی جماعت کا منشور پڑھ کر انہیں مخصوص نشستیں دیتا ہے؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ مجھے ضروری لگا کہ سنی اتحاد کا منشور عدالت کے سامنے لایاجائے، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ کیا میں تمام پارٹیوں کا دیکھوں یا ایک پارٹی کا منشور دیکھوں؟ دیگر پارٹیوں کے منشور کو نظر انداز کیوں کروں؟وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ آپ کسی اور پارٹی کا منشور نہ دیکھیں، آپ میری بات سنیں، میں ہر کسی کو سوال کا جواب دینے کی کوشش کررہاہوں،

    الیکشن کمیشن کو اختیار نہیں کہ کسی پارٹی کو انتخابات سے باہر کرے،جسٹس اطہرمن اللہ
    وکیل سکندر بشیر کی جانب سے مخصوص نشستوں سے متعلق الیکشن ایکٹ کے مختلف سیکشنز پڑھے گئے ،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ اگر مخصوص نشست لینی ہے تو جنرل سیٹ جینتی پڑےگی جو سنی اتحاد جیتنے میں ناکام رہی،آزاد امیدواروں کا سنی اتحاد سے کوئی تعلق نہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل الیکشن کمیشن سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ فل کورٹ کے سامنے دلائل دینے والے وکلاء کے ساتھ میری ہمدردیاں ہیں، فل کورٹ میں مختلف خیالات سامنے آتے ہیں، جسٹس اطہرمن اللہ نے وکیل الیکشن کمیشن سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ دیگر فریقین کے وکلاء کو بھی ایسے ہی ٹریٹ کیا گیا جیسے آپ کو کیاگیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا تحریک انصاف اور سنی اتحاد نےکوئی لسٹ دی؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ تحریک انصاف نے مخصوص نشستوں کی لسٹ دی، سنی اتحاد نے نہیں دی، جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کو مخصوص نشستیں دیں؟وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ تحریک انصاف کو کوئی مخصوص نشست نہیں دی گئی،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کو انتخابات سے الگ کردیاتھا، سپریم کورٹ اگر کہے کہ الیکشن کمیشن نے فیصلے کی غلط تشریح کی تو کیا اثرات پڑیں گے؟الیکشن کمیشن کو اختیار نہیں کہ کسی پارٹی کو انتخابات سے باہر کرے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل الیکشن کمیشن سے سوال کیا کہ کتنا وقت لگےگا؟ ایک دو منٹ؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ مجھے کافی وقت دلائل دینے میں لگیں گے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم تو کوشش کررہے کہ جلد ختم کریں، پیر کا دن رکھ لیں؟ ساڑھے گیارہ بجے؟ تحریک انصاف کی لسٹ آج فراہم کردیں،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ میں تحریک انصاف کی لسٹ دےدوں گا،سپریم کورٹ نے دیگر وکلاء کو تحریک انصاف کی مخصوص نشستوں سے متعلق لسٹ فراہم کرنے کی ہدایت کردی، جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ دیگر امیدواروں کے سرٹیفیکیٹ اور ڈیکلریشن بھی فراہم کردیں، وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے کیس میں فریق بننے کی درخواست دائر کی ہے،صرف عدالت کے نوٹس میں لانا چاہتا ہوں کہ درخواست دائر کر دی ہے،

    ‏مخصوص نشستوں کا کیس یکم جولائی بروز سوموار تک ملتوی کر دیا گیا،‏فل کورٹ بینچ مخصوص نشستوں پر سماعت آج بھی مکمل نہ کر سکا

    سنی اتحادکونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر سماعت 24 جون تک ملتوی

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    مخصوص نشستیں، فیصلہ پی ٹی آئی کے حق میں نظر نہیں آ رہا، مبشر لقمان

    واضح رہے کہ 6 مئی کو سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی جانب سے مخصوص نشستیں دوسری جماعتوں کو دینے سے متعلق کیس میں پشاور ہائیکورٹ اور الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل کردیا تھا،سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ تمام جماعتوں کو اپنا مینڈیٹ واپس لینے کیلئے یہ اعتراف کرلینا چاہئیے کہ الیکشن والے دن بہت بڑی فاش غلطی ہوئی

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    میں آپکی بیویوں کے کرتوت بتاؤں گی، حریم شاہ کی دو سیاستدانوں کو وارننگ

  • میری پریس کانفرنس کا مقصد عدلیہ کی توہین نہیں تھا،فیصل واوڈا نےسپریم کورٹ سے معافی مانگ لی

    میری پریس کانفرنس کا مقصد عدلیہ کی توہین نہیں تھا،فیصل واوڈا نےسپریم کورٹ سے معافی مانگ لی

    اسلام آباد: سابق وفاقی وزیر سینیٹر فیصل واوڈا نے توہین عدالت کیس میں سپریم کورٹ سے غیر مشروط معافی مانگ لی۔

    سیینٹر فیصل واوڈا نے عدالت میں شوکاز کا نیا جواب جمع کرایا جس میں غیر مشروط معافی مانگتے ہوئے کہا گیا ہےکہ خود کو سپریم کورٹ کے رحم و کرم پر چھوڑتا ہوں، میرے خلاف توہین عدالت کی کارروائی ختم کی جائے، میری پریس کانفرنس سے عدلیہ کا وقار مجروح ہوا تو غیر مشروط معافی مانگتا ہوں، میری پریس کانفرنس کا مقصد عدلیہ کی توہین نہیں تھا۔

    فیصل واوڈا نے مؤقف اپنایا کہ عدلیہ کا مکمل احترام کرتا ہوں، 5 جون کی عدالتی کارروائی کے بعد مذہبی اسکالرز سے ملاقات کی، مذہبی اسکالرز سے پوچھا کہ ایک سینیٹر کا کردار کیا ہونا چاہیے، مجھے رائے دی گئی کہ انصاف کے ساتھ کھڑے رہیں چاہے یہ بات آپ کے اقرباء کیخلاف ہی کیوں نہ ہو۔

    توہین الیکشن کمیشن کیس:ہمارے ساتھ جو ہوا ہے اب اس کیس کی گنجائش نہیں …

    فیصل وواڈا کے جواب میں قرآن و احادیث کے حوالہ جات بھی دیے گئے اور کہا گیا کہ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں صدق دل سے غیرمشروط معافی مانگتا ہوں، قرآن پاک کی تلاوت کے بعد انتہائی متاثر ہوا ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بھی تجویز دی کہ معاملہ انا کا نہیں، احساس ہوگیا ہے کہ معاشرے میں عدلیہ کی اچھی ساکھ برقرار رکھنا ضروری ہے لہٰذا سپریم کورٹ سے استدعا ہے کہ توہین عدالت میں جاری کردہ شوکاز نوٹس واپس لیا جائے۔

    بنوں : صوبائی وزیر کے اسکواڈ کی گاڑی پر بم حملہ، 3 راہ گیر زخمی

  • سپریم کورٹ، مخصوص نشستوں بارے کیس کی سماعت جمعرات تک ملتوی

    سپریم کورٹ، مخصوص نشستوں بارے کیس کی سماعت جمعرات تک ملتوی

    سپریم کورٹ،سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں فل کورٹ نے سماعت کی، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ عدالت نے کچھ سوالات پوچھے، ابھی دلائل دوں یا جواب الجواب میں؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ چھوٹے دلائل ہیں تو ابھی دےدیں،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ کاغذات نامزدگی میں چیئرمین کی سنی اتحاد کونسل سے وابستگی ظاہر ہوتی، سنی اتحاد کونسل کا نشان نہ ملنے پر چیئرمین نے بطور آزادامیدوار انتخابات لڑے، جمیعت علمائے ف میں بھی اقلیتیوں کو ممبر شپ نہیں دی جاتی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ نے ہوا میں بات کی، ایسے بیان نہیں دے سکتے، آپ دستاویزات دیں،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ میں دستاویزات بھی دوں گا، الیکشن کمیشن بھی کنفرم کردےگا، جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ کیا کاغذات نامزدگی کیساتھ پارٹی ٹکٹ جمع کرایا گیا تھا؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ پارٹی سرٹیفکیٹ جمع کرانے سے حامد رضا کو روکا جا رہا تھا،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ کہہ رہے حامدرضانے سنی اتحاد کی جانب سے کاغذات نامزدگی جمع نہیں کروائے؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ حامدرضا کو ٹاور کا نشان دیاگیا، سنی اتحاد کا نشان گھوڑاہے، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ حامدرضا کو گھوڑے کا نشان کیوں نہیں ملا؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے زبردستی آزاد امیدوار کا نشان الاٹ کیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ فیصل صدیقی صاحب اگر آپ نے کاغذات فائل کئے ہونگے تو سوالات نہیں پوچھنے پڑتے، کاغذات کے بغیر آپ کو بات نہیں کرنے دیں گے، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ کاغذات نامزدگی کا ریکارڈ الیکشن کمیشن سے مانگا گیا تھا،

    الیکشن کمیشن نے چیئرمین سنی اتحاد کونسل حامد رضا کے کاغذات نامزدگی پیش کر دیے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ہدایت کی کہ حامد رضا کے کاغذات نامزدگی کی کاپیاں کروا کر تمام ججز کو دیں،

    سنی اتحاد کونسل کو پارلیمانی جماعت تسلیم کرنے کا نوٹیفکیشن کب جاری ہوا؟ جسٹس منصور علی شاہ
    مخصوص نشستوں پر منتخب اراکین کے وکیل مخدوم علی خان نے دلائل کا آغاز کر دیا، مخدوم علی خان نے کہا کہ الیکشن پروگرام الیکشن ایکٹ کے تحت جاری کیاگیا، کاغذات نامزدگی تاریخ سے قبل جمع کروانا ضروری ہوتا، تاریخ میں توسیع بھی کی گئی،24 دسمبر تک مخصوص نشستوں کی لسٹ کی تاریخ جاری کی گئی،الیکشن کمیشن کنفرم کرےگا، سنی اتحاد نے مخصوص نشستوں سے متعلق لسٹ جمع نہیں کروائی، جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ سنی اتحاد کونسل کو پارلیمانی جماعت تسلیم کرنے کا نوٹیفکیشن کب جاری ہوا؟ وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ اس سوال کا جواب الیکشن کمیشن بہتر دے سکتا ہے، سپریم کورٹ نے حکم امتناع دیا تو اضافی مخصوص نشستوں پر منتخب ارکان کی رکنیت معطل ہوگئی،انتخابات سے پہلے مخصوص نشستوں کی فہرست جمع کرانے والے ہی بعد میں دعویٰ کر سکتے ہیں،الیکشن ایکٹ سیکشن 206 کے مطابق سیاسی جماعتوں کو شفاف طریقہ کار سے نشستوں کے لیے لسٹ دینی ہوتی، سنی اتحاد کی طرف سے کسی امیدوار نے انتخابات میں حصہ نہیں لیا جس کی وجہ سے خواتین کی لسٹ موجود نہیں اور جمع نہیں کرائی گئی،جمع کروائی گئی لسٹ تبدیل نہیں کی جاسکتی، الیکشن کمیشن کنفرم کردےگا،پانچ رکنی پشاور ہائیکورٹ کے بینچ نے دونوں کیسز میں سنی اتحاد کے خلاف فیصلہ دیا، سنی اتحاد نے الیکشن کمیشن کو بتایا کہ آزادامیدوار شامل ہوئے ہیں

    حامد رضا کو پارٹی ٹکٹ پر الیکشن لڑنے سے کیوں روکا گیا،جسٹس عائشہ ملک
    وکیل مخدوم علی خان نے الیکشن ایکٹ کے مختلف سیکشنز کا حوالہ دیااور کہا کہ مخصوص نشستیں حاصل کی گئی جنرل سیٹوں پر انحصار کرتی ہیں،آزادامیدوار تین دنوں کے اندر کسی جماعت میں شامل ہوں تو مخصوص نشستوں کے لیے گنا جائےگا،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ عدالت کو بتایا گیا ہے کہ کاغذات نامزدگی میں حامد رضا نے سنی اتحاد کونسل سے وابستگی ظاہر کی، اگر یہ بات درست ہوئی تو یہ سنی اتحاد کونسل کی پارلیمان میں جنرل نشست ہوگی، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ وابستگی کیلئے پارٹی ٹکٹ کا ہونا ضروری ہے، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ فی الوقت صاحبزادہ حامد رضا کا خط ریکارڈ پر موجود ہے کہ انکے نشان پر کوئی الیکشن نہیں لڑا، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ انتخابی نشان کا پارٹی کی جانب سے انتخابات میں حصہ لینے سے تعلق نہیں، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ سوال یہ بھی ہے کہ حامد رضا کو پارٹی ٹکٹ پر الیکشن لڑنے سے کیوں روکا گیا، الیکشن کمیشن اس معاملے کی تصدیق کرے تو کیس نیا رخ اختیار کر سکتا ہے، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل کا انتخابی نشان موجود تھا لیکن کسی نے اس پر الیکشن نہیں لڑا، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ اپیلوں میں یہ نکتہ بھی نہیں اٹھایا گیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ قانون واضح ہے کہ جو نکات اپیلوں میں اٹھائے گئے ہیں انہی تک محدود رہیں گے، ججز کا کام کسی فریق کا کیس بنانا یا بگاڑنا نہیں ہوتا،

    اپنے موقف پر قائم ہوں پارٹی وابستگی ظاہر کرکے جماعت تبدیل کرنے والا نااہل تصور ہوگا، جسٹس جمال مندوخیل

    جسٹس عرفا ن سعادت نے کہا کہ تحریک انصاف اور تحریک انصاف نظریاتی میں کیا فرق ہے،کبھی تحریک انصاف ہوجاتی ہے کبھی تحریک انصاف نظریاتی ان میں فرق بتائیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا تحریک انصاف نظرثانی سیاسی جماعت ہے،وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ تحریک انصاف نظریاتی سیاسی جماعت ہے جس کا انتخابی نشان بلے باز ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پہلے دن سے کہہ رہا تحریک انصاف نے ایسا کیوں کیا؟ اپنی پارٹی میں رہنا چاہیے تھا، سنی اتحاد میں شامل نہیں ہونا چاہیے تھا، ہم نے تو نہیں کہا کہ سنی اتحاد میں شامل ہوں، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ انتخابات کو سپریم کورٹ میں دیکھا جارہا، الیکشن کمیشن نے امیدواروں کو آزاد کیسے ظاہرکیا؟ کسی سیاسی جماعت نہیں بلکہ الیکشن کے حوالے سے بات کررہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اپنے موقف پر قائم ہوں کہ پارٹی وابستگی ظاہر کرکے جماعت تبدیل کرنے والا نااہل تصور ہوگا، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ سارا معاملہ شروع ہی سیاسی جماعت کے امیدواروں کو آزاد قرار دینے سے ہوا، کیسے ممکن ہے کہ اس بنیادی سوال کو چھوڑ دیں، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل اپنا کیس جیتے یا ہارے، دوسری جماعتوں کو اس سے کیا فائدہ ہوگا؟ مخصوص نشستیں متناسب نمائندگی کے اصول پر ہی مل سکتی ہیں،متناسب نمائندگی کے اصول سے ہٹ کر نشستیں نہیں دی جا سکتیں، اضافی نشستیں لینے والے بتائیں کہ ان کا موقف کیا ہے؟ دیگر جماعتوں کو چھوڑیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا ہمیں آئین دوبارہ لکھنا شروع کر دینا چاہیے؟ جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ آئین میں پہلے سے درج متناسب نمائندگی کا فارمولہ سمجھائیں! فارمولا کیا ہے، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ سنی اتحاد نے انتخابات میں حصہ لیا نا مخصوص نشستوں کی لسٹ فراہم کی، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ ایسے کیا متناسب سیٹیں دیگر سیاسی جماعتوں کو مل جائیں گی؟فرض کریں سنی اتحاد کو نہیں ملتیں مخصوص نشستیں لیکن آپ کو کیسے ملنی چاہیے ؟ وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ میں فرضی سوالات کے جوابات نہیں دوں گا، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ اگر کوئی ممبر استعفیٰ دےدے یا انتقال کرجائے تو ایسا تو نہیں پارلیمنٹ کام کرنا چھوڑ دےگی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر کوئی جج ریٹائر ہوجائے تو سپریم کورٹ کام کرنا تھوڑی چھوڑ دےگی؟ اگر کوئی ممبر نہیں یا نشست خالی ہے تو ضمنی انتخابات ہو جائیں گے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ماضی میں بھی انتخابات میں پارلیمنٹ مکمل کرنے کیلئے مخصوص نشستیں دی گئیں،وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ ایسا کیس کبھی نہیں آیا کہ کسی پارٹی نے انتخابات لڑے نہیں اور مخصوص نشستیں مانگ رہی ہو،جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ کیا مخصوص نشستیں خالی رہ سکتی ہیں؟ وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ مخصوص نشستیں خالی نہیں رہ سکتیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جب آمر آئے سب ساتھ مل جاتے ہیں منسٹر اور اٹارنی جنرل بن جاتے ہیں،جب جمہوریت آئے چھریاں نکال کر آجاتے ہیں،اپنے آئین پر عملدرآمد کے بجائے دوسرے ممالک کی مثالیں دی جاتی ہیں،آئین کا تقدس ہے اور اس پر عمل کرنا سب پر لازم ہے،

    سب ماضی کی بات کرتے ہیں آج کی کیوں نہیں؟ہمیں کسی دن تو کہنا ہو گا بس بہت ہو گیا، جسٹس اطہرمن اللہ
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے وکیل مخدوم علی خان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ بھی ڈکٹیٹر کے اٹارنی جنرل رہ چکے ہیں،میں نے مشرف دور میں وکالت چھوڑ دی تھی،ڈکٹیٹر کے وقت منسٹر بھی بن جائیں پھر اصول کی بات کریں؟ تاریخ کی بات کر رہے ہیں تو مکمل تاریخ کی بات کریں، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ انتہائی احترام سے کہہ رہا ہوں آج آئین کی پاسداری نہیں ہو رہی، ہم آج ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کیلئے جوابدہ ہوں گے،ہم بطور سپریم کورٹ آنکھیں بند نہیں کر سکتے،ہم نے بطور سپریم کورٹ سر ریت میں دبا لئے ہیں، لاپتہ افراد کے کیسز ہیں، بنیادی حقوق کی پامالیاں ہیں، یہ سب سیاسی مقدمات نہیں انسانی حقوق کا معاملہ ہے،ہم سب ماضی کی بات کرتے ہیں آج کی کیوں نہیں؟ہمیں کسی دن تو کہنا ہو گا بس بہت ہو گیا، میری نظر میں آج بھی سب سے اہم درخواست اس عدالت میں 8 فروری الیکشن میں دھاندلی کی ہے،

    سیاسی جماعت کے منشور میں اقلیتی خانہ شامل نہیں تو اقلیتوں کی لسٹ نہیں دی جائےگی،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ تاریخ بہترین استاد ہے ورنہ بار بار غلطیاں کی جاتی ہیں، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ میں کبھی نہیں کہوں گا کہ میں نے غلطیاں نہیں کیں، سنی اتحاد نے جس طرح کیس کو عدالت میں پیش کیا ویسے ہی اسے دیکھنا چاہیے، سنی اتحاد نے مخصوص نشستوں سے متعلق لسٹ جمع نہیں کروائی، سیاسی جماعتوں کو انتخابات سے قبل مخصوص نشستوں کی لسٹ مہیا کرنا ہوتیں،جو سیاسی جماعتیں انتخابات میں حصہ نہیں لے رہیں ان پر مخصوص نشستوں کی لسٹ مہیا کرنا لازم نہیں،جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ انتخابات کو سیکرٹ بیلٹ کے تحت ہونا چاہئے سیکرٹ بیلٹ کہاں ہے؟وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ ووٹرز کو معلوم ہوتا ہے کہ ووٹ دینے والی جماعت کی مخصوص نشستوں کی لسٹ کیا ہے،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ہم ججز اور الیکشن کمیشن بھی آئین کی پاسداری کا حلف لیتا ہے،وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ کوئی نہیں کہتاکہ ووٹرز سے ان کا حق چھین لیا جائےگا، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ خواتین کی نمائندگی کو کیسے نظرانداز کیا جاسکتا،اقلیتوں اور خواتین کو نمائندگی دینا اصل مقصد ہے، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ آئین میں الیکشن میں منتخب ہونے کا لفظ لکھا ہے،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ صدر اور سینٹ انتخابات کیلئے الگ الیکٹوریٹ دیا ہوتا ہے،کیس میں لگ رہا جیسے انتخابات ہوہی نہیں رہے لیکن آپ کہہ رہے کہ الیکشن ہورہا ہے،آپ مجھے دکھا دیں کہ کوئی الیکشن ہورہا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر ایسی باتوں میں پھنس گئے تو دیگر کو سن نہیں پائیں گے آج کیس مکمل کرنا ہے، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ سیاسی جماعت اگر خواتین یا اقلیتی نشستوں کے لیے لسٹ نہیں دیتی تو کیا پارلیمنٹ میں سیٹ خالی رکھی جائےگی، انتخابات میں سیاسی جماعت ہی صرف سیٹ جیٹ سکتی ہے،جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ سیاسی جماعت کون ہیں؟ وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ مخصوص نشستوں کی لسٹ دینے والی سیاسی جماعت کہلاتی ہے،جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ یعنی جو لسٹ نہیں دیتی اسے سیاسی جماعت نہیں کہیں گے، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ جب کوئی سیاسی جماعت سیٹیں جیتے تو انتخابات میں جیت کا معلوم ہوتا ہے،جیتنے والی سیاسی جماعتوں میں آزاد امیدوار شامل ہوتے ہیں،جس سیاسی جماعت کے پاس سیٹ ہی نہیں اس میں آزاد امیدوار شامل نہیں ہوسکتے، جس سیاسی جماعت کی مخصوص نشستوں کی لسٹ ہی نہیں تو الیکٹوریٹ پر عملدرآمد نہیں کیا جارہا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ ایک سیاسی جماعت کے منشور میں اقلیتی خانہ شامل نہیں تو اقلیتوں کی لسٹ نہیں دی جائےگی،اگر خواتین یا اقلیتوں کی لسٹ نہیں دی گئی تو اثرات تو ہوں گے،اگر پرائز بانڈ خریدا ہی نہیں تو پرائز بانڈ نکل کیسے آئے گا خریدنا تو ضروری ہے،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ عوام کے حقوق کو کبھی اہمیت نہیں دی گئی،ہمیں درخواستگزاروں نے بتایا کہ اہم درخواستیں زیرالتوا ہیں،وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ درخواستیں کیوں زیرالتوا ہیں اس کا جواب عدالت دے وکیل تو نہیں دے سکتا،اگر سیاسی جماعت نے انتخابات سے قبل لسٹ نہیں دی اور بعد میں دے تو مزید غیر جمہوری ہوگا،جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ حالیہ انتخابات میں آزاد امیدواروں نے دیگر سیاسی جماعتوں کی نسبت سیٹیں زیادہ جیتیں،مسئلہ یہ ہے کہ کس حساب سے سیٹیں بانٹی جائینگی،قومی اسمبلی میں ن لیگ کو 17 اور بعد میں مزید 10 مخصوص نشستیں دی گئیں، آپ کہہ رہے اگرسنی اتحاد کونسل سیاسی جماعت رہتی تو 17 سیٹیں ہوتیں، اب جب نہیں تو 27 سیٹیں ن لیگ کی ہوگئیں،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ پارلیمنٹ میں دو طریقہ کار سے سیٹیں تقسیم گئی ہیں،وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ آزادامیدوار نے ایسی سیاسی جماعت شامل ہونا ہوتا جس نے کم سے کم ایک سیٹ جیتی ہو،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا صرف یہی ضروری ہے کہ سیٹیں زیادہ ہوں یا انتخابات میں خواتین، اقلیتوں کی نمائندگی پر بات کرنا ضروری ہے، اقلیتی، خواتین کسی سیاسی جماعت میں ہیں یا نہیں لیکن ان کی نمائندگی کو محفوظ کرنا ہے،تاریخ پر بات کرنی چاہیے اور تاریخ سے سیکھنا چاہیے، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ اگر دو سیاسی جماعت ہیں تو انہی پر مخصوص نشستیں بانٹ دی جائیں گی، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ مخصوص نشستوں سے انتخابات کا رزلٹ آسانی سے تبدیل کیا جاسکتا، دو سیاسی جماعتیں ہیں تو کیا انہیں پر مخصوص نشستیں بانٹ دی جائیں گی، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ مخصوص نشستیں بانٹنے کا طریقہ ہر انتخابات میں تبدیل ہوتا رہتاہے، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ میں سیاسی جماعتوں کی لسٹ دیکھنے کا نہیں کہہ رہا، آئین کہہ رہا ہے کہ سیاسی جماعتوں کی لسٹ دیکھیں،

    ماضی کے انتخابات میں ن لیگ ، پیپلزپارٹی کہیں نہ کہیں متاثرہ رہی لیکن سپریم کورٹ مدد کے لیے سامنے نہیں آئی، جسٹس اطہرمن اللہ
    حقیقت یہ ہے کہ سنی اتحاد کونسل نے نا لسٹ دی اور نا ہی انتخابات میں حصہ لیا،وکیل مخدوم علی خان
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سسٹم کی خوبصورتی ہے کہ اقلیتی بھی آپ کی سیاسی جماعت میں اکر بیٹھیں، اگر سیاسی حریف نہیں پسند تو سسٹم کی خوبصورتی ہے کہ دونوں حریف ساتھ بیٹھیں گے،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اقلیتی، خواتین کو ضرور پارلیمنٹ میں نمائندگی ملنی چاہیے،ماضی کے انتخابات میں ن لیگ ، پیپلزپارٹی کہیں نہ کہیں متاثرہ رہی لیکن سپریم کورٹ مدد کے لیے سامنے نہیں آئی، جیسا 2018 میں ہوا اب بھی ویسا ہی ہورہاہے، متاثرہ ایک ہی سیاسی جماعت رہی، ہم نے اپنی تاریخ سے کچھ نہیں سیکھا، ابھی تو ہم موجودہ درخواستوں پر کرلیں گے بات لیکن مستقبل میں ایسا وقت ضرور آئےگا جب سپریم کورٹ دوبارہ افسوس کرےگی، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ سنی اتحاد کونسل نے نا لسٹ دی اور نا ہی انتخابات میں حصہ لیا،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ 2 فروری 2024 والا الیکشن کمیشن کا فیصلہ سپریم کورٹ کی غلط تشریح پر ہے، کیا ہمیں الیکشن کمیشن کے غلط تشریح پر مبنی فیصلہ نہیں دیکھنا چاہیے یا نظر انداز کردینا چاہیے، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ اگر ایک سیاسی جماعت ہے جو بہت مشہور ہے لیکن انتخابات سے بایئکاٹ کرلیتی ہے، کیا عوام کی سپورٹ کے باوجود بائیکاٹ کرنے والی پارٹی کو مخصوص نشستیں ملیں گی؟ مخصوص نشستیں حاصل کرنے والی جماعتوں کے وکیل مخدوم علی خان کے دلائل مکمل ہو گئے

    الیکشن کمیشن کے وکیل سکندر بشیر مہمند نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ انتخابات کا شیڈول ایک اہم دستاویز ہوتا جس میں مخصوص اور جنرل سیٹیں شامل ہوتی ہیں،جنرل اور مخصوص نشستوں کے لیے کاغذات نامزدگی کے لیے ایک تاریخ دی جاتی،مخصوص نشستوں کابھی نوٹیفکیشن ہوتاہے، فارم 33 جنرل اور مخصوص نشستوں کے لیے ہوتاہے،ریٹرننگ افسران مخصوص، جنرل نشستوں کے فارم 33 کی اسکروٹنی کرتے ہیں، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ کیا الیکشن کمیشن فیصلہ کرےگا کہ امیدوار کی کس سیاسی جماعت سے وابستگی ہے؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ فارم66 مخصوص نشستوں کے حوالے سے سیاسی جماعتوں کی جانب سے دی گئی لسٹ ہوتی،
    جنرل اور مخصوص نشستوں کی لسٹ کا طریقہ کار بلکل ایک طرح کا ہے،کاغذات نامزدگی پہلی اسٹیج ہوتی ہے، خواتین، اقلیتوں کی سیٹوں کی اہمیت اتنی ہی ہے جتنی جنرل نشستوں کی ہے،خواتین کی مخصوص نشست وزیراعظم کے لیے بھی امیدوار ہوسکتا،

    انتحابی نشان واپس ہونے سے ایک جماعت کو انتخابات لڑنے سے کیسے روکا جاسکتا ہے،جسٹس اطہرمن اللہ
    وقفہ کے بعد دوبارہ سماعت کریں گے،لگتا ہے آج یہ کیس لمبا چلے گا ڈنر یہیں ہوگا،چیف جسٹس
    جسٹس منیب اختر نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی امیدواروں کو آزاد ڈکلیئر کر دیا،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی تشریح کیسے کی ہے،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ جب انتحابی نشان واپس ہوگیا تو پی ٹی آئی نے وقت پر نئے انتخابی نشان کیلئے درخواست نہیں دی،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ انتحابی نشان واپس ہونے سے ایک جماعت کو انتخابات لڑنے سے کیسے روکا جاسکتا ہے،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آپ کے مطابق بلے کے نشان کے فیصلے سے سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کو انتخابات سے باہر کیا؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ایسا نہیں ہے معذرت اگر ایسا سمجھا گیا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ فیصلے کو کم از کم پڑھ لیں فیصلہ نہیں بلکہ یہ قانون ہے،آج انٹرا پارٹی انتخابات نہیں کروائے تو کل ہو سکتے ہیں، میں حیران تھا کہ تحریک انصاف انٹرا پارٹی الیکشن نہیں کرا رہی،الیکشن کمیشن کے وکیل سوالات نوٹ کر کے آخر میں جواب دیں،ہزاروں کیسز پڑے ہیں اس ایک ہی کیس کو تو نہیں سنیں گے،تین بجے تک سماعت میں وقفہ کرتے ہیں،آج ہم ججز کا کھانا ہے وقفہ کے بعد دوبارہ سماعت کریں گے،لگتا ہے آج یہ کیس لمبا چلے گا ڈنر یہیں ہوگا،کیس کی سماعت میں تین بجے تک وقفہ کر دیا گیا

    سپریم کورٹ سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کے کیس کی وقفے کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہوئی،الیکشن کمیشن کے وکیل سکندر بشیر نے دلائل دیئے،جسٹس یحیی آفریدی کے بعد الیکشن کمیشن کے وکیل کی جسٹس اطہر من اللہ سے تلخ کلامی ہوئی،متعدد بار روکنے کے باوجود سکندر بشیر بولتے رہے۔جسٹس عائشہ ملک بھی الیکشن کمیشن کے وکیل کے رویئے پر برہم ہو گئیں ،ریمارکس دیتے ہوئےکہا کہ یہ جواب دینے کا غیر مناسب طریقہ ہے۔

    پریس کانفرنس ہوتی رہیں،پورے پاکستان نے دیکھا،الیکشن کمیشن نےانکوائری کی کیوں یہ ہوا؟ جسٹس اطہرمن اللہ
    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ پریس کانفرنس ہوتی رہیں،پورے پاکستان نے دیکھا،الیکشن کمیشن نےانکوائری کی کیوں یہ ہوا؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ میں اسکاجواب نہیں دوں گا،مائی لارڈ میں نے پریس کانفرنس دیکھی ہی نہیں، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ یعنی آپ کامطلب ہےکہ الیکشن کمیشن کسی بےقاعدگی کی ذمہ داری لینےکو تیارنہیں، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ انتخابات سے قبل اور بعد کی جمع ہونے والی شکایت بھی دے دیں،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے صاحبزادہ حامد رضا کو قانون کے مطابق ان کی پارٹی کا نشان کیوں نہیں دیا؟آپ نے اسے شٹل کا ک کا نشان کیوں دیا.یہ ایک غیر معمولی صورتحال تھی کہ پارٹی کو انکا نشان نہیں دیا گیا۔ جسٹس یحییٰ آفریدی نے استفسار کیا کہ سنی اتحاد نے کبھی مخصوص نشستوں سے متعلق اپنی لسٹ دی؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ سنی اتحاد نے مخصوص نشستوں سے متعلق کوئی لسٹ نہیں دی،صوبائی، قومی میں اقلیتی، خواتین کی الگ الگ لسٹیں بنتیں، کُل 13 لسٹیں بنتیں ہیں، سنی اتحاد نے ایک بھی نہیں دی،

    بلے کے نشان پر نہیں، سپریم کورٹ نے انٹرا پارٹی الیکشن پر فیصلہ دیا تھا، چیف جسٹس
    دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ججز پر برہم ہو گئے،ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اب میں سپریم کورٹ فیصلے پر کسی کو ریمارکس نہیں دینے دوں گا،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے بلے کے نشان پر فیصلے سے کنفیوژ کررہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جسٹس اطہرمن اللہ کو روک دیا، اور کہا کہ بلے کے نشان پر نہیں، سپریم کورٹ نے انٹرا پارٹی الیکشن پر فیصلہ دیا تھا، انٹرا پارٹی الیکشن اور بلے کے نشان کا فیصلہ کہنے میں فرق ہے، ایک طرف ریویو کررہے اور دوسری طرف تبصرہ کررہے، کسی اور بینچ کا فیصلے پر ریمارکس دینا درست نہیں ، آگے چلیں، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کوئی بھی فیصلے کی قانونی حیثیت پر سوال نہیں اٹھا رہا،کیا الیکشن کمیشن نے بتایاکہ اگر بلا نہیں ہوگا تو تمام امیدوار ایک نشان پر انتخابات کیسے لڑیں گے؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ انٹرا پارٹی الیکشن نہ کروانے پر تھا اس کے اثرات ہوسکتے تھے، جمہوریت کی ضرور بات کرنی ہے لیکن انٹرا پارٹی الیکشن نہیں کروانا، ہمارا کام یہ دیکھنا نہیں کہ کون کس کو منتخب کرتا ہے، 91 پوسٹس تھیں تحریک انصاف کے سب عہدیدار بلامقابلہ منتخب ہوئے، بطور وزیراعظم الیکشن کمیشن کو خط لکھا کہ انٹراپارٹی انتخابات کیلئے ایک سال دے دیں، اب تو شاید وہ الیکشن کمیشن کے دشمن ہوگئے، مجھے نہیں سمجھ آتی کیوں اپنی سیاسی جماعت میں انٹراپارٹی الیکشن نہیں کرواتے کیا یہی جمہوریت ہے؟

    الیکشن کمیشن کے وکیل ریکارڈ صیحح طرح سے سپریم کورٹ میں پیش کرنے میں ناکام ہو گئے، جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے میرے خیال سے الیکشن کمیشن کو آج ریکارڈ دے دینا چاہئے تھا،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ میں 6 بجے دفتر پہنچا،جسٹس منصور علی شاہ ریکارڈ ڈھونڈتے رہے،سُنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی مدد کو آگئے، ریکارڈ پیش کرنا چاہا تو الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا شکریہ،الیکشن کمیشن وکیل صیحح طرح سے ریکارڈ پیش نہ کرنے پر معذرت کرتے رہے،وکیل الیکشن کمیشن صفحے بدلتے رہے، مدد لیتے رہے،ججز ایک دوسرے کے صفحے دیکھتے رہے اور پوچھتے رہے، کنفیوژن ہوگئی

    سُپریم کورٹ میں سُنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت جمعرات کی صبح 11:30 بجے تک ملتوی کر دی گئی.

    سنی اتحادکونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر سماعت 24 جون تک ملتوی

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    مخصوص نشستیں، فیصلہ پی ٹی آئی کے حق میں نظر نہیں آ رہا، مبشر لقمان

    واضح رہے کہ 6 مئی کو سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی جانب سے مخصوص نشستیں دوسری جماعتوں کو دینے سے متعلق کیس میں پشاور ہائیکورٹ اور الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل کردیا تھا،سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ تمام جماعتوں کو اپنا مینڈیٹ واپس لینے کیلئے یہ اعتراف کرلینا چاہئیے کہ الیکشن والے دن بہت بڑی فاش غلطی ہوئی

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    میں آپکی بیویوں کے کرتوت بتاؤں گی، حریم شاہ کی دو سیاستدانوں کو وارننگ

  • سپریم کورٹ، تین ججز کی حلف برداری کی تقریب

    سپریم کورٹ، تین ججز کی حلف برداری کی تقریب

    سپریم کورٹ میں تین ججز کی حلف برداری کی تقریب منعقد ہوئی

    جسٹس عقیل احمد عباسی، جسٹس شہزاد احمد خان اور جسٹس شاہد بلال حسن نے بطور جج سپریم کورٹ حلف اٹھا لیا، چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے ان سے حلف لیا، اس موقع پر ججز، وکلا او ر میڈیا موجود تھا، سابق چیف جسٹس افتخار چودھری بھی حلف برداری کی تقریب میں شریک ہوئے

    واضح رہے کہ گزشتہ روز سپریم کورٹ میں 3 ججوں کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا،نوٹیفکیشن میں جسٹس عقیل احمد عباسی، جسٹس ملک شہزاد احمد خان اور جسٹس شاہد بلال حسن کی بطور جج سپریم کورٹ آف پاکستان میں تعیناتی کی منظوری دی گئی تھی،صدرِ مملکت نے آئین کے آرٹیکل 177 کے تحت ان تعیناتیوں کی منظوری دی۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق آئین کے آرٹیکل 196 کے تحت جسٹس شجاعت علی خان قائم مقام چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مقرر کر دیے گئے،جسٹس شجاعت علی خان مستقل چیف جسٹس کی تقرری تک قائم مقام چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ رہیں گے،جسٹس محمد شفیع صدیقی کو قائم مقام چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ مقرر کیا گیا ہے۔

    آپریشن عزم استحکام کی مخالفت کر کے کیا پی ٹی آئی ملک دشمن قوتوں کی حمایت کر رہی ہے؟ شیری رحمان

    ماضی کے جتنے آپریشن ہوئےانکے نتائج تو سامنے رکھیں،مولانا فضل الرحمان

    ایپکس کمیٹی میں ایک نام عزم استحکام آیا لیکن آپریشن کا ذکر نہیں تھا،وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ

    آپریشن عزم استحکام،کامیابی کیلئے اتحاد ضروری،تجزیہ: شہزاد قریشی

  • صدر مملکت  کی سپریم کورٹ  میں تین ججوں کی تقرری کی منظوری

    صدر مملکت کی سپریم کورٹ میں تین ججوں کی تقرری کی منظوری

    اسلام آباد: صدر مملکت نے سپریم کورٹ میں تین ججوں کی تقرری کی منظوری دے دی،جوڈیشل کمیشن نے تینوں ججز کی تقرری کی سفارش کی تھی۔

    باغی ٹی وی : صدر مملکت نے جسٹس عقیل احمد عباسی، جسٹس ملک شہزاد احمد خان اور جسٹس شاہد بلال حسن کو سپریم کورٹ کا جج تعینات کرنے کی منظوری دے دی ،صدر مملکت کی منظوری کے بعد وزارت قانون نے تینوں ججوں کی سپریم کورٹ میں تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔

    واضح رہے کہ جوڈیشل کمیشن نے تینوں ججز کی تقرری کی سفارش کی تھی۔

    بجلی کا شارٹ فال 6 ہزار 419 میگاواٹ تک پہنچ گیا

    پاکستان کرکٹ اور سایہ کارپوریشن کی ہائی جیکنگ

    دوسری جانب صدر پاکستان نے سندھ ہائیکورٹ کے سینئر جج جسٹس محمد شفیع صدیقی کو سندھ ہائیکورٹ کا قائم مقام چیف جسٹس مقرر کردیا نوٹیفکیشن کے مطابق جسٹس محمد شفیع صدیقی جوڈیشل کمیشن پاکستان کی منظوری تک بطور قائم مقام چیف جسٹس فرائض ادا کریں گے جسٹس شفیع صدیقی کو جسٹس عقیل احمد عباسی کے سپریم کورٹ کا جج مقرر ہونے کے بعد قائم مقام چیف جسٹس مقرر کیا گیا ہے۔
    sindh hcsindh hc
    جوڈیشل کمیشن پاکستان اپنے اگلے اجلاس میں سندھ ہائیکورٹ کا ریگولر چیف جسٹس مقرر کرنے کی منظوری دے گا،جسٹس محمد شفیع صدیقی آج قائم مقام چیف جسٹس کا حلف اٹھائیں گے۔

    جولائی میں متوقع بارشوں کی شدت اور ممکنہ اثرات کے حوالے سے جامع …

  • اڈیالہ جیل میں سزا یافتہ عمران خان الیکشن لڑنے کے خواہشمند

    اڈیالہ جیل میں سزا یافتہ عمران خان الیکشن لڑنے کے خواہشمند

    ‏اڈیالہ جیل میں گرفتار، سابق وزیراعظم عمران خان الیکشن لڑنے کے خواہشمند ہیں، عمران خان نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی ہے،عمران خان نے اپنی نااہلی کے خلاف زیر التواء اپیل کی جلد سماعت کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی

    سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی نااہلی کے خلاف اپیل کو جلد سماعت کیلئے مقرر کیا جائے، درخواست بانی پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر کی جانب سے دائر کی گئی ،درخواست میں کہا گیا کہ درخواست گزار سابق وزیراعظم اور سب سے بڑی سیاسی جماعت کا سربراہ ہے،درخواست گزار کو الیکشن کمیشن کی جانب سے نااہل کرنے کے بعد پارٹی سربراہ کے عہدے سے ہٹانے کی کاروائی جاری ہے، الیکشن کمیشن کے احکامات کے خلاف اسلام آباد اور لاہور ہائیکورٹ میں مقدمات زیر التواء ہیں، سپریم کورٹ میں زیر التوا کیس کی وجہ سے ہائیکورٹس میں کاروائی آگے نہیں بڑھ پا رہی، ان مقدمات کی وجہ سے درخواست گزار چیئرمین پی ٹی آئی، ممبر اسمبلی منتخب نہیں ہو پا رہا، زیر التواء اپیل کی وجہ سے درخواست ضمنی انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتا، بانی پی ٹی آئی کی جانب اپنی نااہلی کے خلاف 10 جنوری 2024 کو سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی گئی تھی

    قبل ازیں عمران خان نے توشہ خانہ کیس میں سزا کا فیصلہ معطل کرنے کیلئے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی،سپریم کورٹ سے اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے ، اپیل میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ توشہ خانہ کیس میں سزا پہلے ہی معطل ہوچکی ہے، ہائی کورٹ نے صرف سزا معطل کی پورا فیصلہ نہیں،ہائی کورٹ فیصلے میں غلطی کا الیکشن کمیشن نے فائدہ اٹھایا،الیکشن کمیشن نے چیئیرمین پی ٹی آئی کی نااہلی کو نوٹیفیکیشن جاری کر دیا، چیئرمین پی ٹی آئی ملک کے سابق وزیراعظم ہیں، ملک کی سب سے بڑی جماعت کے لیڈر کو انتخابات سے باہر نہیں رکھا جا سکتا، سپریم کورٹ توشہ خانہ کیس میں سزا پر مبنی فیصلہ معطل کرے تاکہ انتخابات میں حصہ لیا جا سکے،

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

  • سپریم کورٹ، مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت ملتوی

    سپریم کورٹ، مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت ملتوی

    سپریم کورٹ، میں مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 13 رکنی فل کورٹ نے کی،سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی نے اعلیٰ عدلیہ کے جسٹس منیب اختر،جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس منصور علی شاہ کے فیصلوں کا حوالہ دیا اور کہا کہ فیصلوں میں آئینی تشریح کی قدرتی حدود سےمطابقت پر زور دیا گیا ہے، آرٹیکل 51 اور 106 سے 3 ضروری نکات بتانا ضروری ہیں، آزاد امیدوار کسی بھی سیاسی جماعت میں شامل ہو سکتے ہیں، الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعت کی غلط تشریح دی ہے، الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستوں سے متعلق آئین کو نظر انداز کیا۔

    آپ اپنی نہیں آئین کے مطابق تشریح بتائیں۔چیف جسٹس کا وکیل سے مکالمہ
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فیصل صدیقی سے کہا کہ الیکشن کمیشن یا آپ کیا سوچ رہے ہیں وہ چھوڑ دیں، الیکشن کمیشن بھی آئین پر انحصار کرے گا، الیکشن کمیشن آئین کی غلط تشریح بھی کر سکتا ہے، عدالت کسی کی طرف سے آئین کی تشریح پر انحصار نہیں کرتی، آپ اپنی نہیں آئین کے مطابق تشریح بتائیں۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور فیصل صدیقی میں بلے کے نشان پر اہم بحث ہوئی، وکیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے آپ کے فیصلے کی جس لیول پر انٹرپٹیشن کی آپ دیکھئے گا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم یہ نہیں دیکھیں گے الیکشن کمیشن نے کیا کیا،وکیل نے کہا کہ اس ملک میں متاثرہ فریق کیلئے کوئی چوائس نہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ سیاسی باتیں نہ کریں،صرف آئین پر رہیں،وکیل نے کہا کہ ایک رات پہلے انتخابی نشان لے لیا گیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کا تو نہیں لیا، آپ تو سنی اتحاد کونسل کے وکیل ہیں آپ کا نشان کیا ہے؟ وکیل نے جواب دیا ،گھوڑا

    پی ٹی آئی سیاسی جماعت موجود ہے، آزاد امیدوار اس میں شامل کیوں نہیں ہوئے؟ چیف جسٹس
    وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ تحریکِ انصاف نظریاتی،بلے باز کے نشان سے متعلق وضاحت کروں گا کہ کیا ہوا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم سب جانتے ہیں کیا ہوا، آپ فیکٹس پر ذرا فوکس کرلیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ انتخابی نشان لئے جانے کے بعد معاملہ کنفیوژ ہوگیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ بالکل آسان ہے، پی ٹی آئی سیاسی جماعت موجود ہے، آزاد امیدوار اس میں شامل کیوں نہیں ہوئے؟ اگر اس دلیل کو درست مان لیا جائے تو آپ نے دوسری جماعت میں شمولیت اختیار کرکے خودکشی کیوں کی، ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آئین پر عمل نہ کرکے ملک کی دھجیاں اڑا دی گئیں، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ آئین کی آپ کی تشریح الگ ہے میری الگ ہے،

    جسٹس منیب اختر نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی امیدواروں کو سپریم کورٹ فیصلے کے سبب آزاد امیدوار قرار دیا، جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ تمام امیدوار پی ٹی آئی کے تھے حقائق منافی ہیں، پاکستان تحریک انصاف نظریاتی کے سرٹیفکیٹس جمع کروا کر واپس کیوں لیے گئے، جسٹس جمال خان مندو خیل نے کہا کہ جنھوں نے الیکشن لڑنے کی زحمت ہی نہیں کی انھیں کیوں مخصوص نشستیں دی جائیں، جسٹس عرفان سعادت خان نے کہا کہ آپ کے دلائل سے تو آئین میں دیے گئے الفاظ ہی غیر موثر ہو جائیں گے، سنی اتحاد کونسل تو پولیٹیکل پارٹی ہی نہیں ہے، جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ پارٹی الیکشن نہیں لڑتی بلکہ امیدوار الیکشن لڑتے ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کے دلائل مفادات کا ٹکراؤ ہیں، یا آپ سنی اتحاد کونسل کی نمائندگی کریں یا پی ٹی آئی کی نمائندگی کریں، ہم نے صرف دیکھنا ہے آئین کیا کہتا ہے، ہم یہ نہیں دیکھیں گے الیکشن کمیشن نے کیا کیا، نظریاتی میں گئے اور پھر سنی اتحاد کونسل میں چلے گئے، آپ صرف سنی اتحاد کونسل کی نمائندگی کر رہے ہیں، ملک میں ایسے عظیم ججز بھی گزرے ہیں جنھوں نے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کیا،صرف آئین پر رہیں،

    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ انتخابی نشان چلے جانے کے بعد پولیٹیکل پارٹی نہیں رہی،لیکن پولیٹیکل ان لسٹڈ پولیٹیکل پارٹی تو ہے، الیکشن کمیشن نے ان لسٹڈ پارٹی تو قرار دیا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پی ٹی آئی اگر اب بھی پولیٹیکل پارٹی وجود رکھتی ہے تو انھوں نے دوسری جماعت میں کیوں شمولیت اختیار کی، اگر اس دلیل کو درست مان لیا جائے تو آپ نے دوسری جماعت میں شمولیت اختیار کرکے خودکشی کیوں کی، یہ تو آپکے اپنے دلائل کے خلاف ہے،

    جب آئین کے الفاظ واضح ہیں تو ہماری کیا مجال ہم تشریح کریں کیا ہم پارلیمنٹ سے زیادہ عقلمند یا ہوشیار ہو چکے ہیں،چیف جسٹس
    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے امیدواروں کو آزاد قرار دیا تو اپیل کیوں دائر نہیں کی،وکیل سنی اتحاد کونسل نے کہا کہ اس سوال کا جواب سلیمان اکرم راجہ دیں گے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ رولز آئین کو کنٹرول نہیں کیا جا سکتا، وکیل سنی اتحاد کونسل نے کہا کہ جسٹس منصور علی شاہ صاحب نے کہا تھا 80 فیصد لوگ آزاد ہو جاتے ہیں تو کیا دس فیصد والی سیاسی جماعتوں کو ساری مخصوص نشستیں دے دیں گے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جی بالکل آئین یہی کہتا ہے، کسی کی مرضی پر عمل نہیں ہو سکتا، اس ملک کی دھجیاں اسی لیے اڑائی گئیں کیونکہ آئین پر عمل نہیں ہوتا،میں نے حلف آئین کے تحت لیا ہے،پارلیمنٹ سے جاکر آئین میں ترمیم کرا لیں، ہمارے آئین کو بنے پچاس سال ہوئے ہیں،امریکہ اور برطانیہ کے آئین کو صدیاں گزر چکی ہیں، جب آئین کے الفاظ واضح ہیں تو ہماری کیا مجال ہم تشریح کریں کیا ہم پارلیمنٹ سے زیادہ عقلمند یا ہوشیار ہو چکے ہیں، اگر ہم نے ایسا کیا تو یہ ہماری انا کی بات ہو جائے گی،مشکل سے ملک پٹری پہ آتا ہے پھر کوئی آکر اڑا دیتا ہے،پھر کوئی بنیادی جمہوریت پسند بن جاتا ہے، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ عدالت فورٹریس آف ڈکشنری نہیں ہونا چاہیے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جن ملکوں کا آپ حوالہ دےرہے ان کے آئین کل نہیں بنے،پاکستان کے آئین کو بنے پچاس سال ہوئے اور اس کا حال کیا کیا ہے، انگلستان میں لکھا ہوا آئین نہیں، تاریخ دیکھتے ہیں،

    جنھوں نے پریس کانفرنسز نہیں کیں، انھیں اٹھا لیا گیا، کیا سپریم کورٹ اس پر اپنی آنکھیں بند کر لے،جسٹس اطہرمن اللہ
    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ الیکشن پر سوالات اٹھائے گئے، جو کچھ 2018 میں ہوا وہی ابھی ہوا، جنھوں نے پریس کانفرنسز نہیں کیں، انھیں اٹھا لیا گیا،یہ باتیں سب کے علم میں ہیں، کیا سپریم کورٹ اس پر اپنی آنکھیں بند کر لے، وکیل سنی اتحاد کونسل نے کہا کہ میں آپکی باتوں سے مکمل متفق ہوں،

    دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر عارف علوی پی ٹی آئی کے صدر تھے، کیا انہوں نے انتخابات کی تاریخ دی ، سپریم کورٹ کا تین رکنی بنچ تھا جو انتخابات نہیں کروا سکا،ہم نے انتخابات کی تاریخ دلوائی تھی،انتخابات ہم نے کروائے ، پی ٹی آئی نے تو لاہور ہائیکورٹ میں الیکشن رکوانے کی کوشش کی ، کبھی کبھی سچ بول دیا کریں ، باہر جا کر بڑے بڑے شو کر کےجھوٹ نا بولا کریں، الیکشن ہم نے کروائے تھے، تحریک انصاف اور ان کے صدر عارف علوی اور عمران خان تو الیکشن روکنے پر لگے ہوئے تھے۔الیکشن کمیشن ایک عرصے سے تحریک انصاف کو پارٹی الیکشن کروانے کا کہہ رہا تھا لیکن پارٹی الیکشن نہیں کروائے،عمران خان بطور وزیراعظم بھی الیکشن کمیشن پر اثر انداز ہورہے تھے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بلے کے فیصلے پر نظرثانی درخواست سے لا علمی کا اظہار کردیا
    چیف جسٹس قاضی فائز جب 13 جنوری بلے کے نشان کے کیس کے فیصلے سے متعلق وضاحت دے رہے تھے تو وکیل فیصل صدیقی نے کہا میں اس پر بات نہیں کروں گا کیونکہ نظرثانی درخواست زیر التوا ہے جس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مجھے تو نہیں معلوم نظر ثانی درخواست دائر ہوئی ہے ،مجھے علم نہیں، پتہ کریں، حامد خان کئی بار ملے کبھی ذکر نہیں کیا، حامد خان نے بھی نظر ثانی درخواست دائر ہونے کی تصدیق کی اور کہا کہ گزشتہ سماعت پر بھی بات ہوئی تھی جسٹس اطہر من اللہ نے یاد دہانی کرائی تھی کہ نظر ثانی زیر التوا ہے اس لیے اس حوالے سے بات نا کی جائے .چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بلے کے فیصلے پر نظرثانی درخواست سے لا علمی کا اظہار کردیا،آفس سے تفصیلات مانگ لیں،پی ٹی آئی وکیل سے کہا کہ آپ نے یاددہانی نہیں کروائی.

    الیکشن کمیشن ووٹرز کے حقوق کا محافظ ہونے کے بجائے مخالف بن گیا ، جسٹس اطہرمن اللہ
    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ جو جماعت سیاسی نہیں اور الیکشن نہیں لڑی اس کی مخصوص نشستیں کہاں جائیں گی،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ میرے خیال میں پی ٹی آئی کے آزاد امیدواروں کو مخصوص نشستیں مل سکتی ہیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن ووٹرز کے حقوق کا محافظ ہونے کے بجائے مخالف بن گیا ہے، مخصوص نشستیں سنی اتحاد کو ملنی ہیں یا پی ٹی آئی کو یہ الیکشن کمیشن نے طے کرنا تھا،

    آپ کو 80 سے زائد سیٹیں ملیں، آپ کو فائدہ ہوا، آپ سے کچھ چھینا نہیں گیا،چیف جسٹس
    جسٹس اطہر من اللہ اور چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ میں بحث ہوئی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ مجھے سمجھ نہیں آتا آئین کو پسند کیوں نہیں کرتے؟ آئین آئین ہوتا ہے، وکیل نے کہا کہ ایک بات کرنا چاہتا ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ نہیں، آپ سیاسی بات کرتے ہیں، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہورہی ہے، ہم یہاں انسانی حقوق کے دفاع کیلئے موجود ہیں، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ اگر سنی اتحاد اور تحریک انصاف ایک ہو جاتیں تو معاملہ حل ہوجاتا لیکن وہ بھی نہیں کیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کو 80 سے زائد سیٹیں ملیں، آپ کو فائدہ ہوا، آپ سے کچھ چھینا نہیں گیا، عدالت سمجھتی سیاسی جماعت کی ممبرشپ اہمیت کی حامل ہوتی،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ جنہوں نے آپ کو جوائن کیا کیا ان میں کوئی غیر مسلم ہے، اہم سوال ہے، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ مجھے معلوم نہیں، دیکھنا پڑےگا،

    پاکستان کا جھنڈا دیکھیں اس میں کیا اقلیتوں کا حق شامل نہیں ،کیا آپ کی پارٹی کا آئین ، آئین پاکستان کی خلاف ورزی نہیں،چیف جسٹس
    جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ الیکشن کمیشن کیمطابق سنی اتحاد کونسل کا آئین خواتین اور غیر مسلم کو ممبر نہیں بناتا کیا یہ درست ہے؟وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ خواتین کو نہیں غیر مسلم کی حد تک یہ پابندی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پاکستان کا جھنڈا دیکھیں اس میں کیا اقلیتوں کا حق شامل نہیں ،قائد اعظم کا فرمان بھی دیکھ لیں ،کیا آپ کی پارٹی کا آئین ، آئین پاکستان کی خلاف ورزی نہیں،بطور آفیسر آف کورٹ اس سوال کا جواب دیں ،وکیل نے کہا کہ میں اس سوال کا جواب اس لئے نہیں دے رہا کہ یہ اتنا سادہ نہیں،ہر آزاد ایم این اے، ایم پی ائے کا حق ہے کہ جس جماعت میں شامل ہو، میں دفاع نہیں کروں گا کہ پی ٹی آئی، سنی اتحاد نے بڑی غلطیاں کیں، مخصوص نشستیں صرف متناسب نمائندگی کے سسٹم کے تحت ہی دی جا سکتی ہیں، متناسب نمائندگی کے نظام کے علاوہ مخصوص نشستیں الاٹ کرنے کا کوئی تصور نہیں،مخصوص نشستیں امیدواروں کا نہیں سیاسی جماعتوں کا حق ہوتا ہے،الیکشن کمیشن ایک جانب کہتا ہے آزاد امیدوار کسی بھی سیاسی جماعت میں شامل ہوسکتا ہے، دوسری جانب الیکشن کمیشن کا موقف ہے کہ شمولیت صرف پارلیمان میں موجود جماعت میں ہوسکتی ہے،الیکشن کمیشن کی یہ تشریح خودکشی کے مترادف ہے،

    وقت آ گیا ہے کہ ملک آئین کے مطابق چلایا جائے،چیف جسٹس
    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن آج بھی پی ٹی آئی کو سیاسی جماعت مانتا ہے، ایوان کو نامکمل نہیں چھوڑا جا سکتا، میری نظر میں ایوان کو مکمل کرنا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے،الیکشن کمیشن ووٹرز کے حقوق کا محافظ ہونے کے بجائے مخالف بن گیا ہے، مخصوص نشستیں سنی اتحاد کو ملنی ہیں یا پی ٹی آئی کو یہ الیکشن کمیشن نے طے کرنا تھا، ہمارے ہوتے ہوئے بھی بنیادی حقوق پامال ہو رہے ہیں ان کا تحفظ ہماری ذمہ داری ہے، ملک آئین کے مطابق چلا ہی کب ہے؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ ملک آئین کے مطابق چلایا جائے، سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی نے دلائل مکمل کر لئے.

    وکیل اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی اسدجان نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ خلاف آئین ہے،فیصل صدیقی اپیل کے حوالے سے تفصیل سے دلائل دے چکے،ہماری تین درخواستیں تھیں عدالت چاہے تو معاونت کےلیے تیار ہوں،مزید معاونت بھی کردوں گا، وکیل اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی اسدجان کے دلائل مکمل کرلیے.

    سب کچھ ہے آپ کے پاس لیکن کاغذات نہیں ہیں،جسٹس منصور علی شاہ
    کنول شوزب کے وکیل سلمان اکرم راجا نے دلائل کا آغاز کردیا،اٹارنی جنرل نے کہا کہ کنول شوزب پی ٹی آئی ویمن ونگ کی صدر ہیں، الیکشن ایکٹ کیمطابق کوئی شخص دو جماعتوں کا رکن نہیں ہو سکتا، کنول شوزب کوپہلے سنی اتحاد کونسل میں شامل ہونا پڑے گا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کنول شوزب کیا اکیلی تھیں جو سنی اتحاد کونسل میں نہیں گئیں؟ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ کنول شوزب عام انتخابات میں منتخب نہیں ہوئیں، مخصوص نشستیں پی ٹی آئی یا سنی اتحاد کونسل کو ملنے پر انہیں منتخب ہونا تھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اوکے، تو یہ متاثرہ فریق ہیں، کیا کنول شوزب نے سنی اتحاد کونسل میں شمولیت اختیار کی؟ وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ کنول شوزب انتخابات میں کامیاب نہیں ہوئی تھیں، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کنول شوزب متعلقہ فورم سے رجوع کیے بغیر کیسے براہ راست سپریم کورٹ آ سکتی ہیں؟ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا آرڈر چیلنج کیا گیا تھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جس عدالت میں چیلنج کیا تھا اس کا فیصلہ کہاں ہے؟ وکیل نے کہا کہ فیصلہ کچھ دیر تک ریکارڈ کا حصہ بنا دوں گا، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ جو حکم نامہ سپریم کورٹ میں چیلنج ہی نہیں کیا گیا اس کا جائزہ کیسے لے سکتے ہیں؟ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا کنول شوز ب سنی اتحاد کونسل کی فہرست میں شامل ہیں؟ وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ کنول شوزب کا نام سنی اتحاد کونسل کی فہرست میں موجود ہے، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل کی فہرست میں نام دکھائیں،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے فہرست لی ہی نہیں تو ریکارڈ سے کیسے دکھا سکتا ہوں، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ سب کچھ ہے آپ کے پاس لیکن کاغذات نہیں ہیں، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ عدالت کو بتایا گیا تھا کہ آٹھ فروری کے حوالے سے بھی درخواست زیر التواء ہے،عدالت نے ہر غیرمتعلقہ معاملے پر ازخودنوٹس لیا ہے لیکن الیکشن پر نہیں، انتخابات سے متعلق دائر درخواست سن لی جائے تو شاید یہ تمام ایشوز حل ہوجائیں،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل سلمان اکرم راجہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ فیصل صدیقی کا کیس تباہ کر رہے ہیں،وکیل نے کہا کہ کسی کا کیس تباہ نہیں کر رہا، سمجھ نہیں آ رہا آپ بار بار یہ کیوں کہہ رہے ہیں، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ دلائل کیلئے کتنا وقت لیں گے،سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ایک گھنٹے سے زائد وقت لوں گا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل سلمان اکرم راجہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایک گھنٹہ آپ کو نہیں دے سکتے،اس کیس کو ہم اتنا طویل نہیں کر سکتے،ہزاروں دیگر مقدمات زیر التوا ہیں،زیر التوا مقدمات والوں پر تھوڑا رحم کر لیں، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ میں جسٹس اطہر من اللہ سے وسیع تناظر میں متفق ہوں،میری رائے میں پی ٹی آئی کو ہمارے سامنے آنا چاہیے تھا، پی ٹی آئی کو آکر کہنا چاہئے تھا یہ ہماری نشستیں ہیں،

    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کیا ایسے حالات تھے کہ پی ٹی آئی امیدواروں کو سُنی اتحاد کونسل میں جانا پڑا؟ کیا پی ٹی آئی کو پارٹی نہ ماننے والے آرڈر کیخلاف درخواست اسی کیس کے ساتھ نہیں سُنی جانی چاہئے؟وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ سُپریم کورٹ نے ہماری اپیل واپس کر دی، رجسٹرار آفس کے اعتراضات دور کر دیئے تھے، رجسٹرار آفس نے کہا انتخابی عمل نشان الاٹ کرنے سے آگے بڑھ چکا ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ یہ اہم ترین معاملہ تھا لیکن آپ نے اپیل دائر نہیں کی، چیمبر اپیل دائر نہ کرنے سے اہم ترین معاملہ غیرموثر ہوگیا، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ کیا چیمبر اپیل دائر کرنے کا وقت گزر چکا ہے؟جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ تکنیکی معاملات میں جانے کے بجائے عدالت 184/3 کا اختیار کیوں نہیں استعمال کر سکتی؟ جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ سُنی اتحاد کونسل اگر بیان دے کہ کنول شوزب انکی امیدوار ہونگی تو درخواست سن سکتے ہیں،

    ملک مجبوریوں پر نہیں چل سکتا۔ جس نے آپکو غلط مشورہ دیا اس پر مقدمہ دائر کریں۔ چیف جسٹس
    جسٹس اطہرمن اللہ نے سلمان اکرم راجہ سے سوال کیا کہ سلمان صاحب 86 لوگ ایک جماعت سے الیکشن لڑ کر بعد میں ایک شخص کو جوائن کر گئے کیوں؟ ہمیں وہ مجبوری تو بتا دیں وہ مجبوری کیا تھی؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ مجبوریوں پر جائیں تو ملک نہیں چلے گا، کل کوئی کہے گا مجبوری ہے سگنل پر رک نہیں سکتا، سلمان اکرم راجہ صاحب بات سن بھی لیا کریں کیا ہم اب آپکے مفروضوں پر چلیں گے یا آئین پر چلیں گے۔ کل کو ہر کوئی آکر کہہ دے گا کہ یہ مجبوری تھی اسلئے آئین چھوڑ دیں، ملک مجبوریوں پر نہیں چل سکتا۔ جس نے آپکو غلط مشورہ دیا اس پر مقدمہ دائر کریں۔ جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ یہاں عوام کے حق پر ڈاکہ ڈالا گیا،فاطمہ جناح نے انتخابات میں حصہ لیا تو تب بھی عوام سے حق چھینا گیا،مکمل سچ کوئی نہیں بولتا،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ سیاسی بیانات میں نہیں جاوں گا آئین و قانون پر دلائل دوں گا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جیتنے کے بعد آزاد اُمیدوار سُنی اتحاد کونسل میں کیوں شامل ہوئے؟ آپ کو پی ٹی آئی میں شامل ہونا چاہئے تھا، آپ پی ٹی آئی کا انتخاب کرتے تو آپ کا کیس اچھا ہوسکتا تھا.

    سپریم کورٹ، دوران سماعت خاتون کے موبائل فون سے لائٹ جلنے پر چیف جسٹس کا نوٹس
    سپریم کورٹ میں سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران خاتون کے فون سےہری لائٹ جلنے پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے نوٹس لے لیا،سلمان اکرم راجہ دلائل دے رہے تھے کہ اس دوران خاتون کے موبائل فون سے لائٹ جلی جس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ یہ پیچھے سے کون تصویر لے رہا تھا؟وکلا نے کہاکہ خاتون کے پاس ڈائری ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ یہ خاتون بیٹھی ہیں، کیا گرین چیز سے پکچر لے رہی ہیں؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے خاتون سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کھڑی ہو جائیں ، آپ کے ہاتھ میں کیا چیز ہے ؟خاتون کے فون میں دیکھیے کیا کر رہی ہیں اور ہری لائٹ کیا تھی جو دیکھنے میں آئی؟

    آپ آئین کے بر خلاف جا رہے ،آج تک کبھی ایسا ہوا نہیں کہ مخصوص نشستوں کو خالی رکھا جائے،چیف جسٹس
    وقفے کے بعد دوبارہ سماعت ہوئی تو جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ 86امیدوار آزاد منتخب نہیں ہوئے، لوگوں نے انہیں سیاسی جماعت پی ٹی آئی کے طور پر منتخب کیا، 86 امیدواروں کو کیوں لگا کہ ایک ہی جماعت سے منسلک ہونا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سلمان صاحب تھوڑا سا برداشت رکھیں، اگر آپ اپنا آزاد کا سٹیٹس برقرار رکھیں گے تو پھر بھی اُنہی سیاسی جماعتوں کو جائیں گی آپ کو نہیں ملیں گی، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ سیاسی جماعت کو جیتی گئی نشستوں سے زیادہ نہیں مل سکتیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ نے توشروع میں کہا تھا ایک رکن بھی پارلیمنٹ میں خالی نہیں چھوڑا جاسکتا، آپ کہہ رہے کہ سنی اتحاد کونسل کو جوائن کرنا کوئی مسئلہ نہیں ,ہر چیز قانون کی بنیاد پر ہوتی ہے ,بظاہر قانون کی زبان بڑی واضح ہے ,ہر سیاسی جماعت کی اپنی منزل ہے ،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے فیصلہ کے بعد مشاورت سے سنی اتحاد کونسل کو اپنایا گیا،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ جسٹس یحییٰ خان آفریدی نے درست کہا کہ جب آپ آزاد امیدوار ہیں تو پھر ایسی جماعت میں جانا ہوگا جس نے سیٹ انتخابات میں حاصل کی ہوں گی ، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ کیا آپ کہنا چاہ رہے کہ الیکشن میں نہ جیتے آزاد ملے تو سیٹ حاصل کرلی ؟ جواضح کردیا گیا ہے کہ جو سیٹیں آپ نے جیتی ان میں آزاد شامل ہوں گے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ الیکشن میں جیتی گئی سیٹیں اور حاصل کردہ دونوں میں فرق ہیں، وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ حاصل کردہ سیٹوں سے مطلب جیتی گئی سیٹ لیا جا رہا، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل کو سیاسی جماعت ماننے سے کونسا آئینی اصول کی خلاف ورزی ہوگی ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عوام کو پتہ ہونا چاہیے کون جیتا کون آگیا ،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ 25 بڑی سیاسی جماعتیں ہیں ووٹر سب کے منشور نہیں پڑھتا ج،چھوٹی سیاسی جماعت میں اگر آذاد امیدوار شامل ہوجاے تو کیا ہوگا ؟چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر کوئی ارب پتی سیاسی جماعت خرید لے ؟کل کوئی ارب پتی کہے کیا الیکشن لڑنا پارٹی اور آزاد امیدوار خریدوں گا پھر ؟جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ 86 نمائندے آزاد نہیں تھے انہیں پی ٹی آئی کی وجہ سے ووٹ پڑے، وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ہم آزاد امیدوار ہونے کی ہی وجہ سے سیاسی جماعت میں شامل ہوئے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ سمجھ لیں کوئی آزاد امیدوار نہیں ؟چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر آذاد امیدوار آزاد ہی رہتے تو پھر مخصوص نشستوں کا کیا ہوتا ؟وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ پھر مخصوص نشستیں خالی رہتیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ یہ تو آپ آئین کے بر خلاف جا رہے ہیں،آج تک کبھی ایسا ہوا نہیں مخصوص نشستوں کو خالی رکھا جائے ،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ شروع میں الیکشن کمیشن نے ساری سیٹیں سیاسی جماعتوں میں تقسیم کردی،بعد میں مقدمہ بازی کی وجہ ان سیٹوں کو روک دیا گیا،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی وجہ سے ہم آزاد ممبر ہوئے ،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن میں سپریم کورٹ کے فیصلے کو مکمل طور پر غلط سمجھا گیا.

    پی ٹی آئی نے انتخابات میں بہت غلط فیصلے کیے،پی ٹی آئی نے اپنی غلطیوں کو بار بار دہرایا،جسٹس منصور علی شاہ
    جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ گر آزادامیدوار ایک جماعت میں دو تین ماہ بعد شامل ہوتے تو کیا جماعت کو مخصوص نشستیں ملنے کی اہلیت ہوگی،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ اسی وجہ سے تین دنوں میں شامل ہونے کا قانون ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ بہت ہی عجیب سا قانون ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ یہ تو ماننے والی بات ہے کہ پی ٹی آئی نے انتخابات میں بہت غلط فیصلے کیے،پی ٹی آئی نے اپنی غلطیوں کو بار بار دہرایا ہے، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ ہمارے سامنے درخواست گزار سنی اتحاد کونسل ہے آپ کو پی ٹی آئی کا امیدوار سمجھا جائے یا سنی اتحاد کونسل کا،آپ پی ٹی آئی امیدوار کے وکیل ہیں سنی اتحاد کونسل کی بات نہیں کر سکتے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ یہ بات تو ماننے والی ہے مجموعی طور پرتحریک انصاف نے برے انداز میں کیس کو چلایا ،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ عدالت کے سامنے چودہ مختلف فیصلے رکھوں گا ،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا آپ سنی اتحاد یا پی ٹی آئی کو چاہتے ہیں،صرف درخواست گزار کی بات ہو رہی ہے، وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ صرف درخواست گزار کی انفرادی بات نہ کی جائے، جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ آپ ہمارے سوالات کے جوابات نہیں دے رہے ،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ میں عدالت سے معذرت خواہ ہوں ،جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ آپ اپنے درخواست گزار کی بات کریں دوسروں کی بات کیسی کر رہے ہیں، ؟جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ووٹرز نے سنی اتحاد کونسل جوائن کرنے پر احتجاج کیا،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ نہیں ہمارے خلاف صرف الیکشن کمیشن تھا،

    الیکشن کمیشن آئینی ادارہ ، عزت کا حقدار ، یہی مسئلہ ہے کہ پاکستان میں کچھ پھلنے پھولنے نہیں دیاجاتا،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کی غلطیوں کا حل ہم ڈھونڈیں؟ ہم نے الیکشن کمیشن کو نہیں منظور کیا، آپ نے کیا، غلطیاں تو کی نا،کنول شوذب کوئی عوام کی نمائندہ نہیں ہیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ 2018 میں ایک سیاسی جماعت مشکلات کا شکار تھی، 2024 میں بھی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر آپ کو الیکشن کمیشن میں خرابی محسوس ہوئی درخواست دائر کریں یا قوانین میں ترامیم کریں، الیکشن کمیشن آئینی ادارہ ہے، عزت کا حقدار ہے، یہی مسئلہ ہے کہ پاکستان میں کچھ پھلنے پھولنے نہیں دیاجاتا،سپریم کورٹ بھی عزت کے ساتھ برتاؤ کی حقدار ہے،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ 86 ممبران نے کاغذات جمع کرواتے وقت کہاکہ تحریک انصاف کے ہیں؟ کیا عوام کو انتخابات کے سسٹم پر بھروسہ ہے؟ کیوں سچ نہیں بول سکتے؟وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ میرا دل کچھ اور کہہ رہا ہے لیکن مجھے دماغ کے ساتھ دلائل دینے ہیں،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ سیاسی جماعتوں سے کسی کو اختلاف نہیں، آزاد امیدواروں کو کوئی تو شناخت ملے،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ایسا نہیں کہہ سکتےکہ پارلیمنٹ میں موجود سیاسی جماعت کی معاشرے میں کوئی حیثیت نہیں،میں بطور آزاد امیدوار ہی کیس کو دیکھ رہا، بطور پی ٹی آئی امیدوار نہیں، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ سلمان اکرم راجہ صاحب آپ جذبات میں دلائل دے رہے ہیں،جب سی ٹی اسکین کروانے جائیں تو ایک گولی دیتے ہیں جو ریلیکس کر دیتی ہے،از راہ تفنن بات کر رہا ہوں سلمان اکرم راجہ صاحب آپ بھی وہ گولی کھا لیا کریں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ جمیعت علمائے اسلام میں بھی شامل ہوسکتےتھے، کس کی رائے تھی سنی اتحاد میں شامل ہونے کی؟وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ممکن تھا کہ دیگر جماعتوں کے ساتھ سیاسی ذہنیت نہ ملے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کیا آپ اپنے ووٹرز کا حق دے رہے؟ وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ہمیں الیکشن کمیشن نے ایسا کرنے پر مجبور کیا، ووٹرز ہمارے ساتھ ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اچکزئی صاحب کی جماعت میں بھی جا سکتے تھے،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ہمیں ایسی جماعت کی تلاش تھی جس کے ساتھ چل سکیں کل وہ ہم میں ضم ہو سکے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ کو انتخابی نشان والے کیس میں بھی کہا تھا مخصوص نشستوں کا مسئلہ ہو تو عدالت آجانا، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ عدالتی فیصلے کی غلط تشریح سے مسئلہ پیدا ہوا تو کیا یہ عدالت اسے درست کر سکتی ہے؟ وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ اگر عدالت آرٹیکل 187 کے تحت مکمل انصاف کرے تو میں اسے عظیم فیصلہ کہوں گا، پاکستان کے عوام بھی اس فیصلے پر جشن منائیں گے، سنی اتحاد نے انتخابات سے قبل اعلان کیا کہ تحریک انصاف میں ضم ہو جائیں گے، جب تحریک انصاف بطور آزاد انتخابات لڑی تو حامدرضا نے بھی آزادامیدوار الیکشن لڑا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ حامدرضا اپنی ہی جماعت سے الیکشن نہیں لڑے ؟ وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ حامد رضا بطور تحریک انصاف امیدوار الیکشن لڑ رہے تھے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کو یہی نہیں معلوم کہ حامدرضا نے اپنے کاغذات میں کس پارٹی کا نام لکھا، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ حامدرضا نے بطور آزادامیدوار انتخابات میں حصہ لیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کو کنول شوذب کا معلوم نہیں، حامدرضا نے کیوں آزادامیدوار الیکشن لڑا، سنی اتحاد کہاں ہے؟ وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری تھی کہ صاف شفاف انتخابات کروائے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ 86 لوگوں کی بات نہ کریں، آپ ایک درخواستگزار ہیں، 86 درخواستگزار نہیں، ایم کیو ایم آپ کی حکومت کا حصہ تھی؟وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ یہ سیاسی سوال ہے، ہم آئین کی تشریح چاہتےہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کل ایم کیو ایم والے آپ کے ساتھ تھے، آج نہیں، کل سنی اتحاد نے بھی ایسا کیا تو ہمارے پاس آئیں گے؟کنول شوزب کے وکیل سلمان اکرم راجہ کے دلائل مکمل ہوگئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ کل صبح ساڑھے نو بجے کیس کی سماعت کریں گے،کل تمام وکلا کو سن کر کیس ختم کریں گے،تمام وکلا مختصر دلائل دیں،پیپلزپارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک،الیکشن کمیشن کے وکیل اور اٹارنی جنرل کے دلائل رہ گئے ہیں،وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ میں ایک متاثرہ فریق کی نمائندگی کر رہا ہوں،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے آج کی سماعت کا حکمنامہ لکھوایا،جس میں کہا گیا کہ سنی اتحاد کونسل کی وکیل فیصل صدیقی اور کنول شوزب کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے دلائل مکمل کرلیے ، کیس کی آئندہ سماعت 25 جون کو دوبارہ ہوگی ،

    الیکشن کمیشن کا مخصوص نشتوں کی الاٹمنٹ کا فیصلہ آئین و قانون کے مطابق ہے،الیکشن کمیشن
    قبل ازیں سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشتوں کا کیس،الیکشن کمیشن نے جواب سپریم کورٹ میں جمع کرادیا،سپریم کورٹ میں جمع کروائے گئے جواب میں الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشتیں الاٹ نہیں کی جاسکتیں، مخصوص نشتوں کی فہرست جمع کرانے کی آخری تاریخ 24 جنوری تھی،سنی اتحاد کونسل نے مخصوص نشتوں کیلئے کوئی فہرست جمع نہین کرائی۔امیداروں کی طرف سے تحریک انصاف نظریاتی کا انتخابی نشان دینے کا سرٹیفیکیٹ مانگا گیا۔ امیدوار تحریک انصاف نظریاتی کے انتخابی نشان سے خود دستبردار ہوگئے۔تحریک انصاف نظریاتی کے انتخابی نشان سے دستبردار ہونے کے بعد امیدوار آزاد قرار پائے۔الیکشن کے بعد آزاد امیدوار سنی اتحاد کونسل میں شامل ہوئے۔سنی اتحاد کونسل کو الیکشن نے مخصوص نشتیں نہ دینے کا چار ایک سے فیصلہ دیا۔ پشاور ہائیکورٹ نے سنی اتحاد کونسل اپیل پر الیکشن کمیشن کا فیصلہ برقرار رکھا۔سنی اتحاد کونسل مخصوص نشتوں کیلئے اہل نہیں۔ مخصوص نشتیں نہ دینے کے الیکشن کمیشن اور پشاور ہائیکورٹ فیصلہ میں کوئی سقم نہیں۔ الیکشن کمیشن کا مخصوص نشتوں کی الاٹمنٹ کا فیصلہ آئین و قانون کے مطابق ہے۔ سنی اتحاد کونسل کے آئین کے مطابق غیر مسلم اس جماعت کاممبر نہیں بن سکتا۔سنی اتحاد کونسل آئین کی غیر مسلم کی شمولیت کیخلاف شرط غیر آئینی ہے۔ سنی اتحاد کونسل مخصوص خواتین اور مخصوص اقلیتوں کی سیٹوں کی اہل نہیں۔

    سنی اتحادکونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر سماعت 24 جون تک ملتوی

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    مخصوص نشستیں، فیصلہ پی ٹی آئی کے حق میں نظر نہیں آ رہا، مبشر لقمان

    واضح رہے کہ 6 مئی کو سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی جانب سے مخصوص نشستیں دوسری جماعتوں کو دینے سے متعلق کیس میں پشاور ہائیکورٹ اور الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل کردیا تھا،سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ تمام جماعتوں کو اپنا مینڈیٹ واپس لینے کیلئے یہ اعتراف کرلینا چاہئیے کہ الیکشن والے دن بہت بڑی فاش غلطی ہوئی

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    میں آپکی بیویوں کے کرتوت بتاؤں گی، حریم شاہ کی دو سیاستدانوں کو وارننگ

  • سپریم کورٹ، مخصوص نشستوں کا کیس،الیکشن کمیشن نے جمع کروایا جواب

    سپریم کورٹ، مخصوص نشستوں کا کیس،الیکشن کمیشن نے جمع کروایا جواب

    سپریم کورٹ،سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشتوں کا کیس،الیکشن کمیشن نے جواب سپریم کورٹ میں جمع کرادیا

    سپریم کورٹ میں جمع کروائے گئے جواب میں الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشتیں الاٹ نہیں کی جاسکتیں، مخصوص نشتوں کی فہرست جمع کرانے کی آخری تاریخ 24 جنوری تھی،سنی اتحاد کونسل نے مخصوص نشتوں کیلئے کوئی فہرست جمع نہین کرائی۔امیداروں کی طرف سے تحریک انصاف نظریاتی کا انتخابی نشان دینے کا سرٹیفیکیٹ مانگا گیا۔ امیدوار تحریک انصاف نظریاتی کے انتخابی نشان سے خود دستبردار ہوگئے۔تحریک انصاف نظریاتی کے انتخابی نشان سے دستبردار ہونے کے بعد امیدوار آزاد قرار پائے۔الیکشن کے بعد آزاد امیدوار سنی اتحاد کونسل میں شامل ہوئے۔سنی اتحاد کونسل کو الیکشن نے مخصوص نشتیں نہ دینے کا چار ایک سے فیصلہ دیا۔ پشاور ہائیکورٹ نے سنی اتحاد کونسل اپیل پر الیکشن کمیشن کا فیصلہ برقرار رکھا۔سنی اتحاد کونسل مخصوص نشتوں کیلئے اہل نہیں۔ مخصوص نشتیں نہ دینے کے الیکشن کمیشن اور پشاور ہائیکورٹ فیصلہ میں کوئی سقم نہیں۔ الیکشن کمیشن کا مخصوص نشتوں کی الاٹمنٹ کا فیصلہ آئین و قانون کے مطابق ہے۔ سنی اتحاد کونسل کے آئین کے مطابق غیر مسلم اس جماعت کاممبر نہیں بن سکتا۔سنی اتحاد کونسل آئین کی غیر مسلم کی شمولیت کیخلاف شرط غیر آئینی ہے۔ سنی اتحاد کونسل مخصوص خواتین اور مخصوص اقلیتوں کی سیٹوں کی اہل نہیں۔

    سنی اتحادکونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر سماعت 24 جون تک ملتوی

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    مخصوص نشستیں، فیصلہ پی ٹی آئی کے حق میں نظر نہیں آ رہا، مبشر لقمان

    واضح رہے کہ 6 مئی کو سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی جانب سے مخصوص نشستیں دوسری جماعتوں کو دینے سے متعلق کیس میں پشاور ہائیکورٹ اور الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل کردیا تھا،سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ تمام جماعتوں کو اپنا مینڈیٹ واپس لینے کیلئے یہ اعتراف کرلینا چاہئیے کہ الیکشن والے دن بہت بڑی فاش غلطی ہوئی

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    میں آپکی بیویوں کے کرتوت بتاؤں گی، حریم شاہ کی دو سیاستدانوں کو وارننگ

  • انتخابات میں دھاندلی، درخواست جلد سماعت کیلئے مقرر کرنے کی درخواست دائر

    انتخابات میں دھاندلی، درخواست جلد سماعت کیلئے مقرر کرنے کی درخواست دائر

    سابق وزیراعظم،تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی ہے جس میں الیکشن دھاندلی کے حوالہ سے آئینی درخواست پر جلد سماعت کی استدعا کی گئی ہے

    عمران خان کے وکیل حامد خان نے جلد سماعت کی متفرق درخواست سپریم کورٹ میں دائر کی، عمران خان کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ 8 فروری کو ہونے والے انتخابات میں دھاندلی کی انکوائری کی درخواست زیر التواء ہے،دھاندلی کے خلاف درخواست میں عوامی مفاد و بنیادی حقوق کا سوال اٹھایا گیا ہے، بانی پی ٹی آئی عمران خان نے نیب کیس میں دھاندلی کے خلاف درخواست پر سماعت کی استدعا کی تھی، دھاندلی الزامات پر جوڈیشل کمیشن کی درخواست کو 25 جون کو سماعت کے لیے فکس کیا جائے۔

    واضح رہے کہ ماہ مارچ میں عمران خان نے انتخابات میں دھاندلی کے حوالہ سے جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کے لئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں عمران خان کی جانب سے استدعا کی گئی کہ سپریم کورٹ کے حاضر سروس ججز پر مشتمل جوڈیشل کمیشن بنایا جائے،جوڈیشل کمیشن عام انتخابات کا آڈٹ اوراس کے بعد آنے والے نتائج کا آڈٹ کرے، ملک میں بننے والی وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو فوری کام سے روکا جائے، جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کو پبلک کیا جائے

    "عین”سے عمران،تحریک انصاف میں ابھی بھی "عین” کی مقبولیت جاری

    میں آپکے لیڈر کے کرتوت جانتا ہوں،ہم نے ملک جادو ٹونے پر نہیں چلانا، عون چودھری

    مولانا نے کشتیاں جلا دیں، واپسی ناممکن،مبشر لقمان کو کیا بتایا؟ کہانی بے نقاب

    قبل ازیں تحریک انصاف کے رہنما شیر افضل مروت نے انتخابات کے نتائج کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے،شیر افضل مروت نے سابق کمشنر راولپنڈی لیاقت علی چٹھہ کے الزامات پر بنائی گئی الیکشن کمیشن کمیٹی اور چیف الیکشن کمشنر اور ممبر الیکشن کمشن کی تعیناتی چیلنج کر دی، شیر افضل مروت نے اس حوالہ سے درخواست دائر کر دی ہے،شہر افضل مروت نے سپریم کورٹ سے استدعا کی کہ چیف الیکشن کمشنر اور ممبران کی تعیناتی کالعدم قرار دی جائے،قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے تمام فارم 47 کالعدم قرار دئیے جائیں، الیکشن کمیشن کی جانب سے تشکیل دی گئی اعلیٰ سطح کی کمیٹی کالعدم قرار دی جائے، دھاندلی کے الزامات کی انکوائری کے لیے وزارتِ داخلہ کو جوڈیشیل کمیشن بنانے جا حکم دیا جائے،جوڈیشیل کمیشن ملک بھر کے الیکشن نتائج راولپنڈی سمیت کنسالیڈیشن کرے،وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی تشکیل روک دی جائے،

    کمشنر راولپنڈی کے دھاندلی کے الزامات، سیاسی جماعتوں کا ردعمل

    خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی نہیں یہودی لابی کی جیت ہوئی،عائشہ گلالئی

    ہاں ،ہم سے دھاندلی کروائی گئی،کمشنر پنڈی مستعفی،سب بے نقاب کر دیا

    الزام لگانا حق ،ثبوت بھی پیش کر دیں، چیف جسٹس کا کمشنر کے الزامات پر ردعمل

    مستعفی کمشنر راولپنڈی لیاقت چٹھہ نے 13 فروری کو امریکی ویزہ لیا،انکشاف

    الزام لگانا حق ،ثبوت بھی پیش کر دیں، چیف جسٹس کا کمشنر کے الزامات پر ردعمل

    مستعفی کمشنر پنڈی لیاقت چٹھہ تحریک انصاف دور حکومت میں کہاں تعینات رہے؟

  • لاہور ہائیکورٹ کے ججز کیلئے سپریم کورٹ میں تقرری پر الوداعی تقریب

    لاہور ہائیکورٹ کے ججز کیلئے سپریم کورٹ میں تقرری پر الوداعی تقریب

    لاہور: چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ ملک شہزاد احمد خان اور جسٹس شاہد بلال حسن کے سپریم کورٹ آف پاکستان میں تقرر کے بعد الوداعی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔

    باغی ٹی وی : چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ ملک شہزاد احمد خان اور جسٹس شاہد بلال حسن کے اعزاز میں رسمی الوداعی تقریب ہائی کورٹ کے ججز لاؤ نج میں منعقد کی گئی، جس میں جسٹس شجاعت علی خان، جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس عالیہ نیلم سمیت لاہور ہائیکورٹ پرنسپل سیٹ پر تعینات تمام ججز نے شرکت کی۔

    لاہور ہائیکورٹ کے علاقائی بنچز پر فرائض انجام دینے والے ججز بذریعہ ویڈیو لنک الوداعی تقریب میں شریک تھے رسمی الوداعی تقریب کے بعد چیف جسٹس ملک شہزاد احمد خان اور جسٹس شاہد بلال حسن کو گلدستہ پیش کرکے رخصت کیا گیا۔

    یہاں ایک دوسرے پرگالم گلوچ ہوتی ہے،ہم چاہتے ہیں احترام ہو،چیف جسٹس

    بھارت میں زہریلی شراب پینے سے 25 افراد ہلاک ،68 کی حالت غیر

    دہشت گردوں کو ہتھیاروں کی ترسیل روکنا اقوام متحدہ اور اس کے تمام ارکان …