Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • سنی اتحاد کونسل مخصوص نشستوں کی حقدار نہیں،جسٹس جمال مندوخیل

    سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں کے فیصلے پر نظر ثانی کیس کی براہ راست سماعت جاری ہے،عدالتی کارروائی براہ راست سپریم کورٹ یوٹیوب چینل پر دکھائی جا رہی ہے-

    جسٹس امین الدین کی سربراہی میں 11 رکنی بینچ کیس کی سماعت کر رہا ہے، جبکہ درخواست گزار کی جانب سے وکیل مخدوم علی خان دلائل دے رہے ہیں ،سماعت کے دوران جسٹس مسرت ہلالی نے سوال اٹھایا کہ سنی اتحاد کونسل نے مخصوص نشستوں پر کیسے دعویٰ کیا؟ انہوں نے استفسار کیا کہ سنی اتحاد کونسل (ایس آئی سی) کو مخصوص نشستیں کیسے مل سکتی ہیں؟ پارلیمنٹ میں آنے والی جماعت میں آزاد امیدوار شامل ہو سکتے ہیں، لیکن جو پارلیمنٹ میں نہ ہو اس میں کیسے آزاد لوگ شامل ہو سکتے ہیں؟-

    جس پر وکیل مخدوم علی خان نے مؤقف اختیار کیا کہ ایس آئی سی کے مطابق آزاد امیدواران ان کے ساتھ شامل ہو گئے تھے، جسٹس مسرت ہلالی نے سوال کیا کہ کیا سنی اتحاد کونسل نے انتخابات میں حصہ لیا تھا؟ جس پر وکیل نے جواب دیا کہ سنی اتحاد کونسل نے انتخابات میں حصہ نہیں لیا، جبکہ سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین نے خود آزاد حیثیت میں الیکشن لڑا۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ سنی اتحاد کونسل مخصوص نشستوں کی حقدار نہیں ،سنی اتحاد کونسل پارلیمانی پارٹی بنا سکتی تھی، لیکن مخصوص نشستوں کی حقدار نہیں، جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ آزاد اراکین نے جیتی ہوئی پارٹی میں شامل ہونا تھا۔

    وکیل مخدوم علی خان نے دلائل دیئے کہ مخصوص نشستوں پر منتخب اراکین کو ڈی نوٹیفائی کر دیا گیا، جبکہ ارکان کو ڈی نوٹیفائی کرنے سے قبل نوٹس نہیں دیا گیا، جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیئے کہ عدالت نے الیکشن کمیشن کے نوٹیفیکیشن کو کالعدم قرار دیا تھا، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ عدالت کے سامنے سنی اتحاد کونسل آرٹیکل 185/3 میں آئی تھی، اور عدالت کے سامنے الیکشن کمیشن کا نوٹی فیکیشن تھا۔

    مخدوم علی خان نے مؤقف اپنایا کہ نوٹیفیکیشن سے اگر کوئی متاثرہ ہوتا تھا تو عدالت کو نوٹس کرنا چاہیے تھاعدالتی فیصلے میں آرٹیکل 225 کا ذکر تک نہیں ہے، حالانکہ آرٹیکل 225 کے تحت کسی الیکشن پر سوال نہیں اٹھایا جا سکتا، جسٹس جمال خان مندوخیل نے سوال کیا کہ آرٹیکل 225 کا اس کیس میں اطلاق کیسے ہوتا ہے؟ –

    جس پر جسٹس محمد علی مظہر نے وضاحت کی کہ یہ معاملہ مخصوص نشستوں کا ہے، اور مخصوص سیٹیں متناسب نمائندگی پر الاٹ ہوتی ہیں، مخدوم علی خان نے کہا کہ مخصوص نشستوں کی فہرستیں الیکشن سے قبل جمع ہوتی ہیں، اور کاغذات نامزدگی پر غلطی کی صورت میں معاملہ ٹریبونل کے سامنے جاتا ہے۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اگر آپ کی دلیل مان لیں تو پشاور ہائیکورٹ کا دائرہ اختیار نہیں تھا مخدوم علی خان نے کہا کہ اس وقت تک مخصوص ارکان کے نوٹیفیکیشن جاری نہیں ہوئے تھےعدالتی فیصلے موجود ہیں کہ آئین و قانون سے برعکس فیصلہ ناقص ہوگا، اور عدالت کی ذمہ داری ہے کہ اس غلطی کو درست کیا جائے۔

    جسٹس مندوخیل نے استفسار کیا کہ اگر اکثریتی ججز یہ سمجھیں کہ فیصلہ درست ہے اور نظرثانی درست ہے تو ایسی صورت میں کیا ہوگا؟ جس پر مخدوم علی خان نے جواب دیا کہ ایسی صورت میں نظرثانی مسترد ہو جائے گی۔

    جسٹس شاہد بلال نے استفسار کیا کہ کیا پی ٹی آئی مخصوص نشستوں کے کیس میں فریق تھی؟ اور کیا جو جماعت فریق نہ ہو، اسے نشستیں دی جا سکتی ہیں؟ جس پر وکیل مخدوم علی خان نے جواب دیا کہ جو سیاسی جماعت فریق نہ ہو، اسے نشستیں نہیں مل سکتیں، وکیل مخدوم علی خان کے مطابق جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا تھا کہ پی ٹی آئی اس کیس میں فریق نہیں تھی۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اُس وقت الیکشن کمیشن کے کردار کو ہم نے دیکھنا تھا میرے مطابق الیکشن کمیشن نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی تھی، نشستیں دینا نہ دینا اور مسئلہ ہے، اصل میں الیکشن کمیشن کا کردار دیکھنا تھا۔

    عدالت نے مشاہدہ کیا کہ 39 لوگوں کو پی ٹی آئی کا ڈکلیئر کر کے نشستیں دینے کا کہا گیا تھا جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کوئی فارمولا نہیں تھا کہ درمیان کا راستہ چنا جائے میں نے ساری رات جاگ کر دستیاب ریکارڈ کا جائزہ لیا عدالت نے بتایا کہ پارٹی سرٹیفکیٹ اور پارٹی وابستگی کے خانے میں 39 لوگوں نے پی ٹی آئی لکھا۔

    جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ یہ ریکارڈ عدالت کے سامنے نہیں تھا، تاہم جسٹس مندوخیل نے وضاحت دی کہ یہ ریکارڈ عدالت کی جانب سے الیکشن کمیشن سے مانگا گیا تھا، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ فیصلے میں 39 لوگوں کو تحریک انصاف کا ڈکلیئر کیا گیا جبکہ 41 لوگوں کو وقت دیا گیا کہ وہ 15 روز میں کسی سیاسی جماعت کو جوائن کریں۔

    مخدوم علی خان نے کہا کہ اکثریتی فیصلے میں لکھا گیا کہ اس عدالت کے سامنے تکنیکی نوعیت کی غلطی رکاوٹ نہیں بنے گی، یہ عدالت مکمل انصاف کا اختیار کرتے ہوئے نشستیں پی ٹی آئی کو دیتی ہے، اسی وجہ سے جسٹس امین الدین خان اور جسٹس نعیم افغان نے لکھا کہ تحریک انصاف ہمارے سامنے فریق نہیں-

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ میرے مطابق الیکشن کے دوران پریذائیڈنگ افسران نے آئین کے تحت اپنی ذمہ داری ادا نہیں کی،ہمارے سامنے آئی اپیل انتخابات میں غلطیوں کا تسلسل تھی،ہم نے اپنے فیصلے میں لکھا تھا کہ لوگوں کو حق رائے دہی سے محروم نہیں رکھا جاسکتا، کوئی ہمارے سامنے ہو یا نہیں پریذائیڈنگ افسران کی غلطی عوام کو کیسے دی جاسکتی ہے؟پریذائیڈنگ افسران نے فارم 33 درست طریقے سے نہیں بنائے-ٕ

    ، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے لکھا کہ مکمل اختیار اہم معاملہ ہے احتیاط سے استعمال کیا جائے،مخدوم علی خان نے کہا کہ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے لکھا کہ مکمل انصاف کا اختیار ڈیو پراسس کو ختم کرسکتا ہے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ انتخابی نشان نہ ہونے سے سیاسی جماعت ختم نہیں ہوتی،سیاسی جماعت الیکشن نہیں لڑتی امیدوار لڑتے ہیں، انتخابی نشان عوام کی آگاہی کیلئے ہوتاہے انتخابی نشان نہ ہونے سے کسی کو انتخابات سے نہیں روکا جاسکتا،سنی اتحاد کونسل کے بجائے آزاد امیدوار اگر پی ٹی آئی میں رہتے تو آج مسئلہ نہ ہوتا،نی اتحاد کونسل اپنے انتخابی نشان پر الیکشن لڑتی تو پھر بھی مسئلہ نہ ہوتا-

    مخدوم علی خان نے کہا کہ اکثریتی فیصلے میں مکمل انصاف کیساتھ نظریہ آئینی وفاداری بھی استعمال کیا گیا،آئین سے وفاداری کے نظریہ کی بات جذباتی لگتی ہے،جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ کیا پشاور ہائیکورٹ یا الیکشن کمیشن میں پی ٹی آئی نے نوٹیفکیشن چیلنج کیے-

    وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ پی ٹی آئی نے نوٹیفکیشن چیلنج نہیں کیے تھے،مخصوص نشستوں کے اکثریتی فیصلے میں آئین کو دوبارہ تحریر کیا گیا،نظرثانی درخواستیں منظور کی جائیں،نظرثانی کیس میں عدالت اپنی رائے تبدیل کر سکتی ہے-

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا میں مخصوص نشستوں کے کیس کا اپنا فیصلہ بدل سکتا ہوں،وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ بالکل آپ اپنی رائے بدل سکتے ہیں،جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ پٹھان کی ایک زبان ہوتی ہے،مخدوم علی خان نے کہا کہ زبان ایک ہوتی ہے مگر رائے تو بدل سکتے ہیں، وکیل مخدوم علی خان کے دلائل مکمل ہوئے-

    وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ اپنے تحریری دلائل جمع کرا چکے ہیں،وکیل مسلم لیگ ن کہا کہ ہم نے بھی تحریری دلائل جمع کرا دیئے ہیں، وکیل پیپلزپارٹی نے کہا کہ پیپلزپارٹی کل تحریری دلائل جمع کرا دے گی،

    وکیل سنی اتحاد کونسل نے کہا کہ تحریری جوابات جمع کرا کے یہ جواب الجواب کا حق ختم کر چکے ہیں، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو ہم جواب الجواب دیں گے-

    جسٹس امین الدین نے کہا کہ یہ عدالت نے طے کرنا ہے کہ جواب الجواب کا حق دینا ہے یا نہیں، کل سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی دلائل دیں گے-

    مخدوم علی خان کے دلائل مکمل ہو ئے الیکشن کمیشن نے تحریری معروضات عدالت میں پیش کر دی ،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ
    تحریری معروضات ہی ہمارا موقف ہوگا

    ن لیگ اور پیپلز پارٹی بھی کل اپنی تحریری معروضات پیش کریگی مخصوص نشستوں کے کیس کی سماعت کل ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی ہوئی کل سُنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی دلائل کا آغاز کرینگے-

  • سنیارٹی لسٹ یکساں ہو تو کوئی جھگڑا ہی نہیں ہو گا،سپریم کورٹ

    ہائی کورٹ ججز کی ٹرانسفرز سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران جسٹس شکیل احمد نے ریمارکس دیے کہ ’سنیارٹی لسٹ یکساں ہو تو کوئی جھگڑا ہی نہیں ہو گا۔

    سپریم کورٹ میں ہائی کورٹ ججز کی ٹرانسفرز سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی پانچ رکنی آئینی بینچ جس کی سربراہی جسٹس محمد علی مظہر کر رہے ہیں، نے کیس کی سماعت کی، سماعت کے دوران جسٹس شکیل احمد نے ریمارکس دیے کہ ’سنیارٹی لسٹ یکساں ہو تو کوئی جھگڑا ہی نہیں ہو گا، اگر بھارت کی طرح ہائی کورٹ ججز کی مشترکہ سنیارٹی لسٹ ہو تو کیا ہوگا؟ جس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ بھارت میں تو جج کا تبادلہ رضامندی کے بغیر کیا جاتا ہے۔

    وکیل فیصل صدیقی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کا قیام آئین کے آرٹیکل 175 کے تحت ہوا اور قانون میں صوبوں سے ججز کی تقرری کا ذکر ہے، تاہم قانون تبادلے کی اجازت نہیں دیتا، اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ آپ کا کہنا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں ججز کا تبادلہ نہیں ہو سکتا؟-

    سعودی سپریم کورٹ نے عوام سے ذوالحجہ کا چاند دیکھنے کی اپیل کر دی

    فیصل صدیقی نے جواب دیا کہ تبادلہ ہو بھی جائے تو وہ مستقل نہیں ہوگا انہوں نے وضاحت کی کہ تبادلہ پر واپس جانے پر جج کو دوبارہ حلف نہیں اٹھانا ہوگا، اور اگر اٹھایا بھی جائے تو پہلا حلف ہی تسلسل مانا جائے گا، مشترکہ سنیارٹی لسٹ پر سب ججز نتائج سے آگاہ ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ جج کا مستقل تبادلہ کرنا جوڈیشل کمیشن کے اختیارات لینے کے مترادف ہے۔

    جسٹس مظہر نے سوال اٹھایا کہ کیا آرٹیکل 175 اے کی وجہ سے تبادلے کا آرٹیکل 200 ختم ہوگیا؟ اور کیا اب آرٹیکل 175 اے کے بعد ججز کا تبادلہ نہیں ہو سکتا؟

    فیصل صدیقی نے وضاحت کی کہ بھارت میں ججز کی سنیارٹی لسٹ مشترکہ ہے اور دہائیوں میں بنتی ہے، جسے راتوں رات ٹرانسفر کر کے تبدیل نہیں کیا جا سکتا،انہوں نے راتوں رات سینارٹی لسٹ ایگزیکٹو کے ذریعے تبدیل کرنے کو ”غاصبانہ عمل“ قرار دیا۔

    چین پاکستان کی سرحدوں یا خودمختاری کی پامالی کی اجازت کسی ملک کو نہیں دے گا

    جسٹس محمد علی مظہر نے بتایا کہ ججز کے تبادلے کے لیے دو ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان اور چیف جسٹس پاکستان نے رائے دی ایک جج کے ٹرانسفر کے عمل میں چار درجات پر عدلیہ کی شمولیت ہوتی ہے اور اگر کسی ایک درجے پر بھی انکار ہو جائے تو تبادلہ نہیں ہو سکتا اگر تبادلہ ہونے والا جج انکار کر دے یا متعلقہ ہائی کورٹ کا چیف جسٹس انکار کرے تو عمل رک جائے گا، اور حتیٰ کہ اگر پہلے تین مراحل کے بعد چیف جسٹس پاکستان انکار کر دیں تو بھی عمل رک جائے گا اگر سب کچھ ایگزیکٹو کے ہاتھ میں ہوتا تو الگ بات تھی، لیکن اس عمل میں چار جوڈیشل فورمز سے رائے لی گئی۔

    فیصل صدیقی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ قانون کے عمل میں بدنیتی کا مظاہرہ کیا گیا اور سینارٹی کے معاملے میں عدلیہ کو اندھیرے میں رکھا گیا۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کا روس پر مزید پابندیاں لگانے پر غور

    بعد ازاں سپریم کورٹ نے فیصل صدیقی کے دلائل مکمل ہونے کے بعد کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان کل اپنے دلائل دیں گے۔

  • نور مقدم قتل کیس:سپریم کورٹ نے ظاہر جعفر کی اپیل پر فیصلہ سنا دیا،سزائے موت برقرار

    نور مقدم قتل کیس:سپریم کورٹ نے ظاہر جعفر کی اپیل پر فیصلہ سنا دیا،سزائے موت برقرار

    سپریم کورٹ نے نور مقدم قتل کیس میں مجرم کی سزائے موت کی اپیل پر فیصلہ سنادیا، عدالت نے مجرم ظاہر جعفر کے خلاف قتل کی دفعات میں سزائے موت برقرار رکھی ہے۔

    جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بنچ نے مجرم کی سزا کے خلاف اپیل پر فیصلہ سنا دیا۔

    سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم کاکڑ نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ عدالت ظاہر جعفر کی سزائے موت برقرار رکھتی ہےسپریم کورٹ نے ریپ میں مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کردی، جبکہ اغوا کے مقدمہ میں 10 سال قید کی سزا کم کرکے ایک سال کردی گئی، اس کے علاوہ نور مقدم کے اہل خانہ کو معاوضے کی ادائیگی کا حکم بھی برقرار رکھا گیا۔

    عدالت نے ظاہر جعفر کے مالی اور چوکیدارکی سزاؤں میں بھی کمی کردی فیصلے میں کہا گیا کہ مالی جان محمد اور چوکیدار افتخار جتنے سال کاٹ چکے کافی ہے،عدالت نے کہا کہ فیصلے کی تفصیلی وجوہات بعد میں جاری کی جائے گی۔

    نورمقدم کیس، جس فوٹیج پر آپ اعتراض اٹھا رہے ہیں اسکو آپ تسلیم کر چکے ہیں،عدالت

    وفاقی وزیر صحت کی چینی ہم منصب سے ملاقات

    بیٹی کے اغوا اور زیادتی کا جھوٹا کیس درج کروانے والا باپ گرفتار

  • مخصوص نشستیں:نظرثانی کیس چھوٹا بینچ بھی سن سکتا ہے،  جسٹس امین الدین

    مخصوص نشستیں:نظرثانی کیس چھوٹا بینچ بھی سن سکتا ہے، جسٹس امین الدین

    سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں کے متعلق نظرثانی کیس کی سماعت کے دوران جسٹس امین الدین نے کہا کہ نظرثانی کیس چھوٹا بنچ بھی سن سکتا ہے۔

    جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 11 رکنی بینچ نے اس اہم آئینی معاملے کی سماعت کی، سماعت کے دوران سینئر وکلاء حامد خان اور فیصل صدیقی عدالت میں پیش ہوئے، سماعت کے آغاز پر حامد خان نے کہا کہ انہوں نے متفرق درخواستیں دائر کی ہیں، جس پر جسٹس امین الدین نے ریمارکس دیے کہ آپ کی درخواست ہمیں ابھی نہیں ملی اور انہیں ایڈووکیٹ آن ریکارڈ سے پتہ کرنے کا مشورہ دیا۔

    اس موقع پر وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ ان کی تین متفرق درخواستیں بینچ کے سامنے موجود ہیں،فیصل صدیقی نے کہا کہ انہوں نے اس بنچ کی تشکیل پر آئینی بنیادوں پر اعتراض اٹھایا ہے کہ نظرثانی سے متعلق ایک آئینی اصول طے شدہ ہے کہ جتنے رکنی بنچ نے فیصلہ دیا ہو، اتنے ہی ارکان پر مشتمل بنچ کو نظرثانی کیس سننا چاہیے۔

    جسٹس امین الدین نے اس موقع پر کہا کہ یہاں 2 ارکان نے درخواستیں خارج کہہ کر خود بینچ میں بیٹھنے سے انکار کیا، فیصل صدیقی نے جواب میں کہا کہ ماضی میں بھی ایسا ہو چکا ہے اور وہ عدالت کی معاونت کریں گے،اس موقع پر فیصل صدیقی نے واضح کیا کہ ان کا اعتراض کسی جج کی ذات پر نہیں بلکہ یہ ایک خالصتاً آئینی اعتراض ہے۔

    جسٹس امین الدین نے مزید کہا کہ 13 رکنی بینچ میں سے 2 ججز نے خود کو علیحدہ کر لیا، جبکہ جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیے کہ دونوں ججوں نے نوٹس نہ دینے کا خود فیصلہ کیا ہے، انہوں نے سوال اٹھایا کہ ججز کے اپنے اعتراض کے بعد کیا باقی رہ جاتا ہے؟ جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ وہ دونوں جج اپنا فیصلہ دے چکے ہیں، اب بیٹھ کر کیا کریں گے؟-

    آئی ایم ایف کا وفد پاکستان پہنچ گیا،بجٹ مذاکرات کا دوسرا دور شروع

    فیصل صدیقی نے کہا کہ نظرثانی ہمیشہ مرکزی کیس سننے والا بینچ ہی سنتا ہے اور چونکہ مرکزی کیس 13رکنی بینچ نے سنا تھا، لہٰذا نظرثانی بھی اسی بینچ کو سننا چاہیےجسٹس امین الدین نے ریمارکس دیے کہ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد نظرثانی کیس اب چھوٹا بنچ بھی سن سکتا ہے،ترمیم کے بعد 13 رکنی بنچ کا فیصلہ اب 8 یا 9 رکنی آئینی بنچ بھی سن سکتا ہے۔

    سماعت کے دوران آئینی نکات پر تفصیلی بحث ہوئی فیصل صدیقی نے کہا کہ اگر آئینی بینچ کی تشکیل سے متعلق آرٹیکل 3 پڑھا جائے تو سب کچھ واضح ہو جائے گا آئینی بینچ کا دائرہ اختیار کیسز کی حد تک طے شدہ ہے جسٹس امین الدین خان نے فیصل صدیقی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ مزید کتنا وقت لیں گے، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ اعتراضات پر تفصیل سے دلائل دوں گا،کوئی فرق نہیں پڑے گا اگر میں ایک سماعت اور لے لوں گا،میں کل بھی یہاں ہوں گا، کل دلائل دے دوں گا۔

    رومانیہ:صدر ٹرمپ کے حمایت یافتہ صدارتی امیدوار کو شکست

    جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ آپ اعتراضات پر اتنے لمبے دلائل دے رہے ہیں، فیصل صدیقی نے جواب دیا کہ میرے لیے یہ کیس ضروری نہیں اور میرا موکل بھی ضروری نہیں ہے، میرے لیے عدالت کا نظرثانی دائرہ سماعت ضروری ہے، ایک بار طے ہو جانا چاہیے کہ نظرثانی کون سا بینچ سنے گا۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ آئینی بینچ میں جو ججز میسر تھے سب اس بینچ میں شامل تھے،2ججز نے مرضی سے خود کو بینچ سے الگ کر لیا،اس کے بعد جو ججز میسرتھے وہ سب اب اس بینچ میں شامل ہیں-

    پریکٹس اینڈ پروسیجر جب چیلنج ہوا تھا اس میں فل کورٹ بیٹھی تھی، اس وقت سوال تھا کہ اگر یہ سب ججز سن رہے ہیں تو ان کیخلاف اپیل کون سنے گا،تو اس سے متعلق سب ججز نے اپنی اپنی رائے دی تھی،فرض کریں اگر آئینی بینچ میں 2 ججز مزید شامل ہو جائیں تو ٹوٹل آئینی بینچ ججز 15 اور اس بینچ میں 13 ججز ہو جائیں گے۔

    پاک بھارت کشیدگی: اس سال شیڈول ایشیا کپ نہ ہونے کا خدشہ

    اگر دوبارہ ان 13 میں سے 2 ججز نے خود کو بینچ سے الگ کر لیا تو پھر باقی 11 ججز بچ جائیں گے پھر کیا کریں گے، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ یہ 11رکنی بینچ ان2 الگ ہونے والے ججز کی مرضی سے بنایا گیا ہے، آپ ہمیں صرف اعتراض نہیں اس کا حل بھی بتائیں۔

    وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ کیس سماعت ملتوی کر کے کیس کو دوبارہ سے جوڈیشل کمیشن کو بھیج دیں،جوڈیشل کمیشن 2 ججز کو مزید آئینی بینچ میں شامل کر دے جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیئے کہ جو 2ججز اس درخواست کو ڈس مس کر چکے ہیں ان کا کیاا سٹیٹس ہوگا، کیا وہ ججز دوبارہ سے پھر بیٹھیں گے،اگر وہ2 ججز بیٹھیں گے تو کیا وہ اپنے فیصلے پر دوبارہ نظرثانی کرسکیں گے، وکیل نے جواب دیا کہ جی بالکل، اگر وہ 2 ججز دوبارہ سے بیٹھیں گے تو وہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرسکیں گے۔

    بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت کل دن ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کر دی۔

    شیخ مجیب کی بائیوپک میں حسینہ کا کردار ادا کرنے والی اداکارہ گرفتار

  • نور مقدم قتل کیس:عدالت کا آج ہی فیصلہ سنانے کا عندیہ

    نور مقدم قتل کیس:عدالت کا آج ہی فیصلہ سنانے کا عندیہ

    سپریم کورٹ میں نور مقدم قتل کیس کی سماعت کے دوران جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ ججز کو تھوڑی بہت پین لینی چاہیے، ایسا نہیں ہو سکتا کہ اپیل منظور کریں اور پھر کیس نہ سنیں-

    سپریم کورٹ میں نور مقدم قتل کیس کی سماعت کے دوران ملزم ظاہر جعفر کے وکیل سلمان صفدر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کی 2013 سے لے کر آج تک کی مکمل میڈیکل ہسٹری عدالت میں پیش کی جا چکی ہے ٹرائل کورٹ نے قتل پر سزائے موت، ریپ پر عمر قید اور اغوا پر دس سال قید کی سزا سنائی تھی، تاہم اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریپ پر سزا کو بڑھا کر سزائے موت کر دیاابتدائی ایف آئی آر صرف قتل کے الزام پر درج ہوئی تھی، بعد ازاں واقعے کے 22 روز بعد ریپ اور اغواء کی دفعات شامل کی گئیں، وکیل کے مطابق جائے وقوعہ ملزم کا ذاتی گھر تھا لیکن اس حوالے سے شواہد پیش نہیں کیے گئے سلمان صفدر کا مؤقف تھا کہ واقعہ کا کوئی چشم دید گواہ موجود نہیں اور تمام شواہد واقعاتی نوعیت کے ہیں۔

    پاکستان کی حمایت پر بھارت کا ترکی و آذربائیجان سے تجارتی و تعلیمی بائیکاٹ

    سماعت کے دوران جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیئے کہ ججز کو تھوڑی بہت پین لینی چاہیے، ایسا نہیں ہو سکتا کہ اپیل منظور کریں اور پھر کیس نہ سنیں۔ انہوں نے کہا کہ دس دس سال تک لوگ ڈیتھ سیل میں رہتے ہیں اب ایسا نہیں ہوگا، اگر ساڑھے گیارہ بجے والا دوسرا بینچ نہ ٹوٹا تو ایک بجے نور مقدم کیس کی سماعت ہوگی، بصورت دیگر پہلے سماعت کی جائے گی۔

    جو بائیڈن میں پروسٹیٹ کینسر کی تشخیص

    سلمان صفدر نے جج ارشد ملک ویڈیو اسکینڈل کیس کا حوالہ بھی دیا، جس پر جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اب اگر پیرامیٹرز پر انحصار کریں تو خانہ کعبہ میں کھڑے ہوکر کچھ بات کریں، وہ بھی ثابت کرنا مشکل ہو جائے گا،عدالت نے دوران سماعت وقفہ کیا اور عندیہ دیا کہ فریقین کو سن کر آج ہی فیصلہ سنایا جائے گا جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا اگر ریلیف بنتا ہوا دکھائی دیا تو دے دیں گے ورنہ شہید کر دیں گے۔

    ایئر چیف مارشل کی اسکواڈرن لیڈر عثمان یوسف شہید کے گھر آمد، اہلخانہ سے اظہار تعزیت

    نور مقدم قتل کیس کی سماعت وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہوئی تو ملزم ظاہر جعفر کے وکیل سلمان صفدر نے عدالت کے سامنے مؤقف اختیار کیا کہ جب واقعہ پیش آیا اُس وقت ان کے موکل کی ذہنی حالت درست نہیں تھی، ٹرائل کورٹ نے ظاہرجعفر کی ذہنی حالت کا معائنہ مناسب طریقے سے نہیں کروایا۔

    جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیئے کہ آپ کو جو بھی اعتراضات تھے، وہ اُس وقت درخواست دائر کر کے عدالت کے علم میں لانے چاہیے تھے،وکیل سلمان صفدر نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کا نکتہ یہ ہے کہ ملزم ظاہرجعفر ٹرائل کی کسی بھی اسٹیج پر میڈیکلی فٹ نہیں تھا۔

    عدالت نے استفسار کیا کہ کیا ظاہرجعفر کی ذہنی حالت جانچنے کے لیے کسی بورڈ کا قیام عمل میں لایا گیا تھا؟‘ اس پر وکیل صفدر نے جواب دیا کہ یہی تو افسوس ناک امر ہے، کسی بھی اسٹیج پر کوئی میڈیکل بورڈ تشکیل نہیں دیا گیا،شواہد میں سی سی ٹی وی اور ڈی وی آر کا ذکر کیا گیا ہے جبکہ ملزم ظاہرجعفر نے فریم آف چارج کے وقت اغوا، ریپ اور قتل، تینوں الزامات سے انکار کیا تھا۔

  • سپریم کورٹ  میں آئندہ ہفتے کے لیے ججز کا روسٹر جاری کر دیا گیا

    سپریم کورٹ میں آئندہ ہفتے کے لیے ججز کا روسٹر جاری کر دیا گیا

    سپریم کورٹ میں آئندہ ہفتے کا ججز روسٹر جاری کر دیا گیا، مختلف بینچز میں متعین ججز مختلف نوعیت کے مقدمات کی سماعت کریں گے۔

    پہلے بینچ کی سربراہی چیف جسٹس یحٰی آفریدی کریں گے، جبکہ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب بھی اس بینچ کا حصہ ہوں گے، دوسرا بینچ جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس عقیل عباسی پر مشتمل ہوگا، جبکہ جسٹس منیب اختر اور جسٹس شکیل احمد تیسرے بینچ میں کیسز کی سماعت کریں گے۔

    پانچویں بینچ میں جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس عرفان سعید اور جسٹس شہزاد احمد شامل ہوں گے، جبکہ چھٹے بینچ میں جسٹس شاہد وحید اور جسٹس مسرت ہلالی فرائض انجام دیں گے،جسٹس نعیم اختر افغان، جسٹس صلاح الدین پنوار اور جسٹس عامر فاروق ساتویں بینچ میں شامل ہوں گے۔

    وزیراعظم کا نیا پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی ختم کرنے کا فیصلہ

    سروسز میٹرز کے مقدمات کی سماعت کے لیے جسٹس نعیم اختر افغان کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ بھی تشکیل دیا گیا ہے، جس میں جسٹس محمد شفیع صدیقی، جسٹس صلاح الدین پنوار، جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب شامل ہوں گے۔

    جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی آٹھوا ریگولر بیچ کیسز سنے گا، جسٹس اشتیاق ابراہیم اور جسٹس علی باقر نجفی بینچ کا حصہ ہیں جسٹس سردار طارق مسعود اور جسٹس مظہر عالم میاں خیل نوویں بینچ کا حصہ ہیں۔

    10 ارب ہرجانہ کیس: عمران خان کے وکیل کی وزیراعظم سے ویڈیو لنک پر جرح

  • سابقہ فاٹا اور پاٹا میں سیلز ٹیکس ترمیمی ایکٹ بحال

    سابقہ فاٹا اور پاٹا میں سیلز ٹیکس ترمیمی ایکٹ بحال

    اسلام آباد: سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے سابقہ فاٹا اور پاٹا میں سیلز ٹیکس ترمیمی ایکٹ بحال کر دیا۔

    جسٹس امین الدین کی سربراہی میں 5 رکنی آئینی بینچ نے گھی اور اسٹیل ملز ایسوسی ایشن کی اپیلوں پر حکم امتناع جاری کرتے ہوئے سابقہ فاٹا اور پاٹا میں سیلز ٹیکس ترمیمی ایکٹ بحال کر دیا ،گھی واسٹیل ملز ایسوسی ایشن کے وکیل حافظ احسان کا کہنا تھا ہائیکورٹ پارلیمان کے متبادل قانون سازی نہیں کر سکتی، ہائیکورٹ درخواست میں کی گئی استدعا سے بڑھ کر ریلیف نہیں دے سکتی۔

    وکیل درخواست گزار کا کہنا تھا پشاور ہائیکورٹ نے اختیارات سے تجاوز کیا، یہ اربوں روپے کے ٹیکس کا معاملہ ہے، فاٹا اور پاٹا کیلئے کسٹم کلیئرنس کراتے وقت آرڈر دینا ہوتا تھاعدالت نے قانون سے ہٹ کر چیک دینے کا حکم دے دیا۔

    سچ بولنے کا جرم،بھارت میں بین الاقوامی میڈیا پر بھی پابندیاں

    سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کر دیئے اور اپیلوں پر مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔

    واضح رہے کہ پشاور ہائیکورٹ نے سابقہ فاٹا اور پاٹا میں سیلز ترمیمی ایکٹ کالعدم قرار دیا تھا۔

    سندھ طاس معاہدے کی معطلی:صدر عالمی بینک بھی بول پڑے

  • فوجی عدالتوں میں سویلینز ٹرائل کو غیر آئینی قرار دینے کا فیصلہ کالعدم قرار

    فوجی عدالتوں میں سویلینز ٹرائل کو غیر آئینی قرار دینے کا فیصلہ کالعدم قرار

    سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں میں سویلینز ٹرائل کو غیر آئینی قرار دینے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

    جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 7 رکنی بینچ نے فیصلہ سنایا ، سپریم کورٹ نے وزارت دفاع سمیت دیگر اپیلوں کو منظور کرلیا، اپیلیں منظور کرنے والے ججز میں جسٹس امین الدین خان، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس شاہد بلال جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس حسن رضوی بھی اکثریتی فیصلے میں شامل ہیں، جسٹس جمال مندو خیل اور نعیم افغان نے اختلاف کیا۔

    سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں میں سویلینز ٹرائل کو غیر آئینی قرار دینے کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے آرمی ایکٹ کی 2 ڈی ون اور ٹو کو بحال کردیا، سپریم کورٹ نے آرمی ایکٹ کی شق 59(4) کو بھی بحال کردیا۔

    عظمیٰ بخاری کا سرگودھا میں صحافی کالونی کے قیام اور گرانٹ جاری کرنے کا اعلان

    فوجی عدالتوں کے فیصلے کےخلاف اپیل کا حق دینے کیلئے معاملہ حکومت کو بھجوا دیا گیا، فیصلے میں کہا گیاکہ حکومت 45 دن میں اپیل کا حق دینے کے حوالے سے قانون سازی کرے، ہائی کورٹ میں اپیل کا حق دینے کیلئے آرمی ایکٹ میں ترامیم کی جائیں، اٹارنی جنرل کے مطابق 39 فوجی تنصیبات پر 9مئی کو حملے ہوئے۔

    سپریم کورٹ نے آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی کالعدم دفعات بحال کر دیں، فیصلے میں کہا گیا کہ حکومت اپیل کا حق دینے کے حوالے سے قانون سازی کرے، حکومت چاہے تو فوجی عدالتوں کی سزا کے خلاف ہائیکورٹ میں آزادانہ اپیل کا حق دے سکتی ہے۔

    <a href="https://login.baaghitv.com/the-vermilion-has-become-the-tandoor/" title="”سندور بن گیا تندور“بھارتیپنجاب اور سندھ اسمبلیوں میں بھارتی جارحیت کیخلاف قراردادیں تباہی پر پاکستانیوں کی دلچسپ میمز”>”سندور بن گیا تندور“بھارتی تباہی پر پاکستانیوں کی دلچسپ میمز

    جسٹس نعیم اختر افغان نے اختلافی نوٹ میں کہا کہ آرمی ایکٹ آرمڈ فورسز کے لیے ہے،آرٹیکل 175 کے تحت عدالتوں کے قیام اور اختیارات واضح ہیں، آرٹیکل 175 کے تحت عدالتی نظام ایگزیکٹو سے مکمل الگ ہے آئین اور اسلام میں شفاف ٹرائل اور معلومات تک رسائی کا حق دے رکھا ہےآئین کا آرٹیکل 10 اے اور آرٹیکل 25 بالکل واضح ہے9 مئی کے ملزمان کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل کالعدم قرار دیا جاتا ہے، نو مئی کے تمام کیسز عام عدالتوں میں چلائے جائیں، گرفتار ملزمان کا درجہ انڈر ٹرائل قیدی کا ہو گا۔

  • سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں کے کیس کی سماعت کیلئے نیا بینچ تشکیل

    سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں کے کیس کی سماعت کیلئے نیا بینچ تشکیل

    سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں کے کیس کی سماعت کے لیے نیا 11 رکنی بینچ تشکیل دے دیا گیا۔

    سپریم کورٹ کے جاری شیڈول کے مطابق جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس عقیل عباسی کو بینچ میں شامل نہیں کیا گیا، جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس عقیل عباسی نے نظر ثانی درخواستوں کو مسترد کردیا تھا۔

    جسٹس امین الدین 11 رکنی بینچ کے سربراہ ہوں گے جبکہ بینچ میں شامل دیگر ججز میں جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس سید حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس نعیم اختر افان، جسٹس شاہد بلال حسن، جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پنہور، جسٹس عامر فاروق اور جسٹس علی باقر نجفی شامل ہیں۔

    واضح رہے کہ مخصوص نشستوں پر نظرثانی کیس کی سماعت سے قبل جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے اہم فیصلہ جاری کیا ہے، جس کے مطابق محض ایک فریق کا عدم اطمینان نظرثانی کی بنیاد نہیں ہوسکتا،جسٹس منصور علی شاہ نے نظرثانی کے اسکوپ پر فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ نظرثانی آرٹیکل 188 اور رولز کے تحت ہی ہو سکتی ہے، نظرثانی کے لیے فیصلے میں کسی واضح غلطی کی نشاندہی لازم ہے۔

  • جسٹس منصور علی شاہ قائم مقام چیف جسٹس کا حلف اٹھائیں گے

    جسٹس منصور علی شاہ قائم مقام چیف جسٹس کا حلف اٹھائیں گے

    سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس منصور علی شاہ 21 اپریل کو بطور قائم مقام چیف جسٹس آف پاکستان اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔

    باغی ٹی وی : حلف برداری کی یہ تقریب سپریم کورٹ میں منعقد ہوگی، جہاں جسٹس منیب اختر اُن سے حلف لیں گے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی پانچ روزہ غیر ملکی دورے پر روانہ ہوں گے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی 20 اپریل کو چین روانہ ہوں گے، جہاں وہ 22 سے 26 اپریل تک چین کے شہر ہانگژو میں ہونے والی ایس سی او عدالتی کانفرنس میں شرکت کریں گے۔

    ذرائع کے مطابق، چیف جسٹس کے ہمراہ جسٹس امین الدین خان، جسٹس شاہد وحید، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج گوادر ظفر جان اور سینئر سول جج ضلع لکی مروت نادیہ گل وزیر بھی وفد کا حصہ ہوں گے اس دوران، چیف جسٹس پاکستان چین کے ساتھ تاریخی مفاہمتی یادداشت پر دستخط بھی کریں گے۔

    ماضی میں میری زندگی میں ایک بہت پیارا شخص آ چکا ہے،نعیمہ بٹ

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی ایران اور ترکی کے اعلیٰ عدالتی حکام سے دو طرفہ ملاقاتیں بھی شیڈول ہیں وہ ترکی کی آئینی عدالت کی 63 ویں سالگرہ کی خصوصی تقریبات میں بھی شرکت کریں گے۔

    چیف جسٹس اور ان کا وفد 27 اپریل کو وطن واپس پہنچے گا، اس دوران جسٹس منصور علی شاہ قائم مقام چیف جسٹس کے فرائض انجام دیں گے۔

    ماضی میں میری زندگی میں ایک بہت پیارا شخص آ چکا ہے،نعیمہ بٹ