Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • سپریم کورٹ کے ججز کے بیرون ملک سفر اور چھٹیوں کیلئے نیا ضابطہ کار طے

    سپریم کورٹ کے ججز کے بیرون ملک سفر اور چھٹیوں کیلئے نیا ضابطہ کار طے

    سپریم کورٹ کے ججز کو بیرون ملک جانے کے لیے چیف جسٹس آف پاکستان سے این او سی لینا لازمی ہوگا۔

    سپریم کورٹ رجسٹرار آفس کی جانب سے جاری کردہ جنرل اسٹینڈنگ آرڈر کے تحت سپریم کورٹ کے ججز کے بیرون ملک سفر اور چھٹیوں کے لیے ضابطہ کار طے کر دیا گیا ہے، جس کے تحت اب ججز کو بیرون ملک جانے کے لیے چیف جسٹس آف پاکستان سے این او سی لینا لازمی ہوگا،جس کے مطابق چیف جسٹس کو اختیار ہوگا کہ وہ کسی بھی جج کی چھٹی منظور یا مسترد کر سکیں، حتیٰ کہ ضرورت پڑنے پر جج کو واپس بھی بلا سکتے ہیں،تاہم چیف جسٹس یہ اختیارات عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے استعمال کریں گے۔

    ایس او پی کے مطابق ججز کو ہر قسم کی چھٹی کے لیے پیشگی منظوری لینا ہوگی، اور اس کے ساتھ معقول وجہ بھی بیان کرنا لازم ہوگا چھٹی کے دوران جج صاحبان کو اپنا موجودہ پتہ اور رابطے کی تفصیلات بھی فراہم کرنا ہوں گی، صرف سرکاری دوروں کے لیے وزارتِ خارجہ سے پروٹوکول کی درخواست کی جائے گی۔

  • سپریم کورٹ نے ججز سنیارٹی اور ٹرانسفر کیس کا فیصلہ سنا دیا

    سپریم کورٹ نے ججز سنیارٹی اور ٹرانسفر کیس کا فیصلہ سنا دیا

    اسلام آباد: سپریم کورٹ نے ججز تبادلہ و سنیارٹی کیس سے متعلق اہم آئینی مقدمےکا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا جو کہ اب سنا دیاگیا ہے،عدالت نے دو تین کی اکثریت سے ججز کی درخواستوں کو مسترد کردیا۔

    سپریم کورٹ میں ججز تبادلہ و سنیارٹی کیس کی سماعت ہوئی پانچ رکنی آئینی بینچ، جس کی سربراہی جسٹس محمد علی مظہر کر رہے ہیں سماعت کے دوران عدالت نے تمام فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا تھا جو کہ سنا دیا گیا ہےجبکہ تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔

    سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے فیصلہ 3-2 سے سنایا، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس شاہد بلال اور جسٹس صلاح الدین پنہورنے اکثریت فیصلے سے اتفاق کیا،عدالت نے کہا کہ ججز کا تبادلہ غیر آئینی نہیں ہےعدالت نے ججز کی سنیارٹی کا معاملہ صدر پاکستان کو ریمارنڈ کر دیا اکثریتی فیصلے میں عدالت نے قرار دیا کہ جسٹس سردار سرفراز ڈوگر کا ٹرانسفر آئین و قانون کے مطابق ہے۔

    اکثریتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ججز کے تبادلے کے نوٹیفکیشن کو کالعدم قرار نہیں دے رہے صدر مملکت سنیارٹی کے معاملے کو جتنی جلد ممکن ہو طے کریں، جب تک صدر مملکت سنیارٹی طے نہیں کرتے، قائم مقام چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر ہی امور سرانجام دیتے رہیں گے۔

    کیس سے متعلق سپریم کورٹ کے اکثریتی فیصلے پر جسٹس نعیم اختر اور جسٹس شکیل احمد نے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ ہائی کورٹ میں ججز کا تبادلہ بدنیتی پر مبنی تھا اسلام آباد ہائیکورٹ میں ججز ٹرانسفر کو کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔ ٹرانسفر کے معاملے پر صدر مملکت نے آئینی خلاف ورزی کی۔

    ججز ٹرانسفر کیس میں 2 ججز کے اختلافی نوٹ میں مزید کہا گیا کہ آئین پاکستان تبادلہ ہو کر آئے ججز کو مستقل طور ہائیکورٹ کا جج بنانے کی اجازت نہیں دیتا تبادلہ ہو کر آئے ججز کے لیے کوئی وقت مقرر کرنا ہوتا ہے ججز کا تبادلہ جلد بازی میں کیا گیا اور وجوہات بھی نہیں دیں گئیں اسلام آباد ہائیکورٹ میں ججز تبادلہ بدنیتی پر مبنی تھا۔

    واضح رہے کہ جسٹس سرفراز ڈوگر، جسٹس محمد آصف اور جسٹس خادم حسین سومرو کا اسلام آباد ہائی کورٹ تبادلہ ہوا تھا 3 ججز کے تبادلوں کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ کے 5 ججوں نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔

    تبادلے اور سنیارٹی کے خلاف جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس بابر ستار، جسٹس طارق جہانگیری نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ اور سپریم کورٹ سے رجوع کرنے والے 5 ہائی کورٹ ججز میں جسٹس سردار اعجاز اسحاق اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز بھی شامل ہیں،ججز ٹرانسفر اور سنیارٹی کے خلاف بانی پی ٹی آئی اور کراچی بار نے بھی درخواستیں دائر کی تھی۔

  • لاہور ہائیکورٹ بار کی فوجی عدالتوں سے متعلق فیصلے پر نظرثانی کیلئے درخواست

    لاہور ہائیکورٹ بار کی فوجی عدالتوں سے متعلق فیصلے پر نظرثانی کیلئے درخواست

    اسلام آباد:لاہور ہائی کورٹ بار نے فوجی عدالتوں سے متعلق فیصلے پر نظر ثانی کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی۔

    لاہور ہائی کورٹ بار نے درخواست میں کہا ہے کہ سپریم کورٹ کا 7 مئی کا فیصلہ آئین اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، شہریوں کے مقدمات فوجی عدالتوں میں چلانا آرٹیکل 10A اور 175(3) کے خلاف ہے۔

    درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ فوجی عدالتوں میں شفاف ٹرائل اوراپیل کا حق نہیں اور منصفانہ سماعت ممکن نہیں اور سپریم کورٹ کا فیصلہ اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی ہے،لاہور ہائیکورٹ بار نے استدعا کی ہے کہ تاریخ میں کبھی شہریوں پر فوجی عدالتوں کا اطلاق نہیں ہوا لہٰذا سپریم کورٹ فوجی عدالتوں میں سویلین ٹرائل کالعدم قرار دے۔

    خیبرپختونخوا کا بجٹ پیش،ماہانہ اجرت ،تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ

    اسرائیلی حملے سے قبل ایران میں موساد کمانڈوز کی کارروائیاں سامنے آگئیں،ویڈیوز

    اسرائیل کا ایران پر حملہ، ایران اور عراق سمیت کئی ممالک نے فضائی حدود بند کردیں

  • مخصوص نشستیں نظرثانی کیس: ہمیں کوئی مسئلہ نہیں کہ نشستیں پی ٹی آئی کو ملیں یا کسی اور کو،وکیل فیصل صدیقی

    مخصوص نشستیں نظرثانی کیس: ہمیں کوئی مسئلہ نہیں کہ نشستیں پی ٹی آئی کو ملیں یا کسی اور کو،وکیل فیصل صدیقی

    سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں کے فیصلے کے خلاف حکومتی نظرثانی درخواستوں کی سماعت میں وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ انہیں کوئی مسئلہ نہیں کہ نشستیں پی ٹی آئی کو ملیں یا کسی اور کو-

    سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں کے فیصلے کے خلاف حکومتی نظرثانی درخواستوں کی سماعت ہوئی جسٹس امین الدین کی سربراہی میں 11 رکنی آئینی بینچ نے کیس کی سماعت کی، سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی نے دلائل دئیے۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے ن لیگی وکیل سے سوال کیا کہ ایک جماعت کے امیدواروں کو آزاد کیسے قرار دیا گیا؟ اور کیا انہوں نے اپنی تحریری گزارشات میں اس کا جواب دیا؟ جس پر وکیل حارث عظمت نے کہا کہ جواب دینے کی کوشش کی ہے، فیصل صدیقی نے کہا کہ کچھ درخواستوں میں سپریم کورٹ رولز کو مدنظر نہیں رکھا گیا، اس لیے ان درخواستوں کو مسترد کیا جائے۔

    فیصل صدیقی نے کہا کہ ان سے پوچھا گیا تھا کہ سنی اتحاد کونسل کا انتخابی نشان کیا ہے، جس پر انہوں نے بتایا کہ نشان گھوڑا ہے، مگر حامد رضا آزاد حیثیت میں الیکشن لڑے وہ اس کا جواب دیں گے کہ حامد رضا آزاد حیثیت میں کیوں لڑے۔

    جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ ہمارے سامنے یہ معاملہ نہیں کہ کون کیسے لڑا جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ انہیں سوال کا تسلی بخش جواب نہیں ملا، صاحبزادہ حامد رضا کی 2013 سے سیاسی جماعت موجود ہے، اور جو جماعت الیکشن لڑے وہی پارلیمانی پارٹی بناتی ہے، تو پھر وہ اپنی جماعت سے نہیں لڑے تو پارلیمانی جماعت کیوں بنائی؟مخصوص نشستوں کے فیصلے میں کہا گیا کہ ووٹ بنیادی حق ہے، جبکہ ووٹ بنیادی حق نہیں ہےفیصلے میں تین دن کی مدت کو بڑھا کر 15 دن کرنا آئین دوبارہ تحریر کرنے جیسا تھا۔

    فیصل صدیقی نے کہا کہ گیارہ ججز نے آزاد امیدواروں کو پی ٹی آئی کا تسلیم کیا،جس پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ 39 امیدواروں کی حد تک وہ اور قاضی فائز عیسیٰ بھی آٹھ ججز سے متفق تھے، اور جسٹس یحییٰ آفریدی نے بھی پی ٹی آئی کو پارٹی تسلیم کیا، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اقلیتی ججز نے بھی انہی گراؤنڈز پر پی ٹی آئی کو مانا جن پر اکثریتی ججز نے مانا تھا۔

    فیصل صدیقی نے کہا کہ اب نظرثانی درخواستوں میں ان اقلیتی فیصلوں پر انحصار کیا جا رہا ہے، جبکہ ان درخواستوں میں کہا گیا تھا کہ پی ٹی آئی کو ریلیف مل ہی نہیں سکتا تھا، نظرثانی ان فیصلوں پر انحصار کر کے کیسے لائی جا سکتی ہے جبکہ ان فیصلوں میں تو پی ٹی آئی کو پارٹی تسلیم کیا گیا ہے، جسٹس صلاح الدین پنہور نےکہا کہ نظرثانی لانے والوں نے تو جس فیصلے کو چیلنج کیااسے ہمارے سامنے پڑھا ہی نہیں۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ کیا جج آئینی اسکوپ سے باہر جا کر فیصلہ دے سکتے ہیں؟ عوامی امنگوں اور جمہوریت کے لیے ہی سہی، مگر کیا جج آئین ری رائٹ کر سکتے ہیں؟ فیصل صدیقی نے جواب دیا کہ کوئی آئین ”ری رائٹ“ نہیں کیا گیا جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ ری رائٹ کیا گیا، تین دن کی مدت کو بڑھا کر 15 دن کیا گیا فیصل صدیقی نے کہا کہ جمہوریت میں سب کو برابر کے حقوق ملنے چاہئیں، اور پی ٹی آئی کے امیدواروں کو جان بوجھ کر حقوق نہیں دیے گئے۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ جمہوریت کی بات کی گئی ہے، تو کیا امیدواروں کا اپنی مرضی سے فیصلہ کرنا جمہوریت نہیں؟ کسی کو زبردستی دوسری جماعت میں شمولیت پر مجبور تو نہیں کیا جا سکتا، جو آزاد امیدوار کسی اور پارلیمانی جماعت میں جانا چاہیں، جا سکتے ہیں۔

    فیصل صدیقی نے کہا کہ اس ساری صورتحال میں الیکشن کمیشن کا کردار اہم ہے، اور الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے امیدواروں کو آزاد قرار دیا اکثریتی ججز نے کہا کہ مخصوص نشستیں پی ٹی آئی کو ملنی چاہئیں،جس پر جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ یہ آپ اپنے لیے مسائل پیدا کر رہے ہیں۔

    فیصل صدیقی نے کہا کہ انہیں کوئی مسئلہ نہیں کہ نشستیں پی ٹی آئی کو ملیں یا کسی اور کو، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ کی فلم تو پھر فلاپ ہو جائے گی، جس پر فیصل صدیقی نے کہا کہ فلم آپ کی مرضی سے فلاپ ہونی ہے، آپ کا فیصلہ قبول ہو گا۔

    فیصل صدیقی نے کہا کہ جمہوریت میں سب کو برابر کے حقوق ملنے چاہئیں، اور یہ پہلا موقع ہے کہ 13 رکنی بینچ کے فیصلے پر نظرثانی آئی ہےجس فیصلے پر نظرثانی آئی وہ ابھی تک عدالت کے سامنے پڑھا ہی نہیں گیا، اور عدالت سے کہا کہ وہ حیران ہیں کہ کہا جا رہا ہے اکثریتی فیصلہ نظرثانی میں پڑھا ہی نہ جائے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ کو کس نے روکا ہے فیصلہ پڑھنے سے؟ کیوں گلہ کر رہے ہیں؟

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ تحریک انصاف انٹرا پارٹی کیس کے فیصلے کے بعد بھی ایک جماعت تھی، اور اس معاملے پر پی ٹی آئی کو کوئی غلط فہمی نہیں تھی اگر غلط فہمی ہوتی تو وہ پارٹی سرٹیفکیٹ جاری نہ کرتے۔

    فیصل صدیقی نے کہا کہ پورا پاکستان دیکھ رہا ہے، وہ اقلیتی فیصلہ بھی پڑھنا چاہتے ہیں وہ جسٹس امین کے فیصلے سے متفق نہیں مگر وہ ایک ”فورس فل“ فیصلہ تھا جسٹس امین الدین سے فیصل صدیقی نے کہا کہ آپ کی چیل کی طرح مجھ پر نگاہ ہے، جس پر جسٹس امین نے کہا کہ اس کے باوجود آپ اتنا وقت لے رہے ہیں جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ تعریف کرنا ویسے کوئی آپ سے سیکھے، فیصل صدیقی نے کہا کہ سوری، چیل نہیں، عقاب کی طرح بولنا تھا۔

    فیصل صدیقی نے کہا کہ تحریک انصاف کو انتخابات لڑنے سے روکا گیا۔ جس پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آئین سے بتا دیں کہ جماعت انتخابات لڑتی ہے یا امیدوار؟ کیسے کہہ رہے ہیں کہ پارٹی انتخابات میں حصہ لیتی ہے؟ فیصل صدیقی نے جواب دیا کہ پارٹی کے امیدوار انتخابات لڑتے ہیں، اور مشترکہ نشان کا یہی مطلب ہےسیاسی جماعت کے پاس انتخابات لڑنے کا حق بھی ہے جسٹس مندوخیل نے کہا کہ کوئی امیدوار اگر پارٹی کے نشان پر انتخابات لڑنا چاہتا ہے تو پارٹی سے امیدوار سرٹیفیکیٹ لے گا۔

    عدالت نے کیس کی سماعت 16 جون تک ملتوی کر دی۔

  • مخصوص نشستیں نظر ثانی کیس: کبھی کبھار ہار کر بھی جیت جاتے ہیں، وکیل فیصل صدیقی

    مخصوص نشستیں نظر ثانی کیس: کبھی کبھار ہار کر بھی جیت جاتے ہیں، وکیل فیصل صدیقی

    سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں سے متعلق نظرثانی درخواستوں پرسماعت میں وکیل فیصل صدیقی سے جسٹس مسرت ہلالی نے سوال کیا کہ آپ سنی اتحاد کونسل کے وکیل ہیں، آپ پی ٹی آئی کی نمائندگی کیسے کر سکتے ہیں؟-

    سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں سے متعلق نظرثانی درخواستوں پرسماعت جاری ہے جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں گیارہ رکنی آئینی بینچ کیس کی سماعت کر رہا ہے، جسے سپریم کورٹ کے یوٹیوب چینل پر براہ راست نشر کیا جا رہا ہے۔

    سماعت کے دوران وکیل فیصل صدیقی سے جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ آپ ریویو کی حمایت کر رہے ہیں یا مخالفت؟‘ آپ کو تو اس کی حمایت کرنی چاہیے تھی، جس پر فیصل صدیقی نے جواب دیا کہ ہمارا انداز محبت والا ہے، ہم ہار کر بھی جیت جاتے ہیں۔

    بعد ازاں معروف وکیل سلمان اکرم راجہ بھی روسٹرم پر آ گئے، اس دوران جسٹس جمال مندوخیل نے ایک بار پھر فیصل صدیقی سے مکالمہ کرتے ہوئے پوچھا کہ آپ نظرثانی کو سپورٹ کر رہے ہیں یا مخالفت؟جس پر فیصل صدیقی نے جواب دیا کہ میں جسٹس مندو خیل کے فیصلے کو کسی حد تک سپورٹ کر رہا ہوں، کبھی کبھار ہار کر بھی جیت جاتے ہیں، جس پر جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ سب سے زیادہ متاثرہ آپ تھے، تو فیصل صدیقی نےکہاہمیں تو سب سے زیادہ خوشی ہے۔

    جسٹس مندوخیل نے سلمان اکرم راجہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی کیس میں وہ پی ٹی آئی کی طرف سے سنی اتحاد کونسل کو سپورٹ کر رہے تھے، جس پر وکیل حامد خان نے کہا کہ جان بوجھ کر پی ٹی آئی کو فریق نہیں بنایا گیا، فیصل صدیقی نے نشاندہی کی کہ بینچ میں شامل اکثریت ججز نے مرکزی کیس نہیں سنا، اور موجودہ بینچ میں چھ نئے ججز شامل ہیں، یہ آٹھ ججز کا نہیں، گیارہ ججز کا فیصلہ تھا۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ نظرثانی کی درخواست صرف اقلیتی فیصلے کے خلاف دائر کی گئی فیصل صدیقی نے کہا کہ نظرثانی درخوا ست میں جسٹس جمال مندوخیل کے فیصلے پر انحصار کیا گیا ہے، میں اپنی سات گزارشات عدالت کے سامنے رکھوں گا‘۔

    فیصل صدیقی نے کہا پہلے اسی اعتراض کا جواب دوں گا کہ پی ٹی آئی فریق نہیں تھی تو ریلیف کیسے دیا گیا؟‘ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی انتخابات تسلیم نہیں کیے اور ان کا انتخابی نشان واپس لے لیا، یہی وہ نکتہ تھا جہاں سے تنازعہ شروع ہوا۔

    جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ یہ حقائق ہمارے سامنے نہیں ہیں،جس پر فیصل صدیقی نے کہا کہ اگر میں یہ حقائق نہیں بتاؤں گا تو نئے ججز کو تنازعہ سمجھ نہیں آئے گا،الیکشن کمیشن کے فیصلے کو سپریم کورٹ نے برقرار رکھا۔

    جسٹس مسرت ہلالی نے سوال کیا کہ کیا اس فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا؟‘ فیصل صدیقی نے جواب دیا کہ ’سلمان اکرم راجہ نے چیلنج کیا، اس کا ذکر رپورٹڈ فیصلے میں موجود ہے،جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ سپریم کورٹ نے صرف انتخابی نشان کا فیصلہ کیا تھا، پارٹی برقرار تھی، جس پر فیصل صدیقی نے کہا کہ دس ججز نے قرار دیا کہ الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ فیصلے کی غلط تشریح کی۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ کیا پی ٹی آئی نے اس فیصلے کی غلط تشریح کو چیلنج کیا؟ فیصل صدیقی نے جواب دیا کہ سلمان اکرم راجہ نے ریٹرننگ افسر کا فیصلہ چیلنج کیا تھا،ریٹرننگ افسر نے سلمان اکرم راجہ کو پی ٹی آئی امیدوار تسلیم نہیں کیا، جس پر سلمان اکرم راجہ نے ہائیکورٹ سے رجوع کیا اور کیس ریمانڈ کر دیا گیا جسٹس جمال مندوخیل نے پوچھا کہ کیا سلمان اکرم راجہ نے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی؟

    جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیئے پی ٹی آئی نے خود ہی سمجھ لیا تھا کہ وہ سیاسی جماعت نہیں رہی، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ پی ٹی آئی خود کو پارٹی سمجھتی تھی تب ہی ٹکٹ جاری کیے تھے،فیصل صدیقی نے بتایا کہ سنی اتحاد کونسل نے مخصوص نشستوں کے حصول کے لیے درخواست دائر کی، جبکہ ن لیگ، پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم اور جے یو آئی نے بھی درخواستیں دائر کیں جن میں کہا گیا کہ سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ دی جائیں بلکہ یہ نشستیں انہیں دی جائیں۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ یہ اصل کیس تھا، فیصل صدیقی نے نشاندہی کی کہ ان جماعتوں کو ان کی متناسب نمائندگی کے مطابق نشستیں مل چکی تھیں، جبکہ مخصوص نشستوں سے متعلق قومی اور صوبائی اسمبلی کی 78 نشستیں ہیں جن پر تنازع ہے اگر یہ نشستیں دیگر سیاسی جماعتوں کو دے دی جائیں تو حکومت کو دو تہائی اکثریت مل جائے گی، اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ یہ متنازعہ دو تہائی اکثریت ہو گی، جس روز انتخابی نشان الاٹ ہونا تھا، اسی روز سپریم کورٹ نے انٹرا پارٹی انتخابات کا فیصلہ دیا-

    جس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ جی ہاں، جو رات تک کیس سنا گیا اور فیصلہ دیا گیا، فیصل صدیقی نے کہا کہ اسی روز تحریک انصاف نے ایک نشان پر الیکشن لڑنے کے لیے تحریک انصاف نظریاتی کے ٹکٹس جمع کرائے، کچھ دیر بعد پی ٹی آئی نظریاتی کے چیئرمین نے میڈیا پر آ کر ٹکٹس سے انکار کر دیا، جس کے بعد الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کو نشان دینے سے انکار کر دیا۔

    وکیل فیصل صدیقی ن بتایا کہ مخدوم علی خان نے اعتراض اٹھایا تھا کہ یہ درخواست پشاور ہائیکورٹ میں قابلِ سماعت نہیں تھی، جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ کہا انتخابی نشان نہ دینا الیکشن کمیشن کا فیصلہ تھا یا سپریم کورٹ کا؟‘ جس پر فیصل صدیقی نے کہا کہ انتخابی نشان نہ دینا الیکشن کمیشن کا فیصلہ تھا، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ سپریم کورٹ میں تو صرف تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی الیکشن کا مقدمہ تھا۔

    فیصل صدیقی نے عدالت میں اکثریتی فیصلے کے پیرا گراف پڑھ کر سنائے اس پر جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ حقائق پر تو کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہے، جسٹس جمال مندوخیل نے نشاندہی کی کہ الیکشن کے دوران بھی تحریک انصاف نے سرٹیفیکیٹس جمع کروائے۔

    جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیئے کہ فیصلے میں آدھے جیتے ہوئے امیدواروں کو حق دیا گیا کہ کسی سیاسی جماعت میں جائیں، کیا بہتر نہ ہوتا کہ تمام امیدواروں کو یہ حق دیا جاتا؟ فیصل صدیقی نے جواب میں کہا کہ آپ درست کہہ رہے ہیں، میری ہار میں ہی میری جیت ہے۔

    اس موقع پر جسٹس مسرت ہلالی نے سوال اٹھایا کہ آپ سنی اتحاد کونسل کے وکیل ہیں، آپ پی ٹی آئی کی نمائندگی کیسے کر سکتے ہیں؟‘ اسی نقطے پر مرکزی کیس میں بھی آپ سے سوال پوچھا گیا تھا، کیا آپ نے تحریک انصاف کی نمائندگی کے لیے اجازت لی ہے‘

    فیصل صدیقی نے وضاحت دی کہ کیس کے حقائق کی وجہ سے مجھے اس اجازت کی ضرورت نہیں، سپریم کورٹ کے فیصلے پر الیکشن کمیشن نے عملدرآمد نہیں کیا، لہٰذا وہ امیدوار آج بھی سنی اتحاد کونسل کے ہیں، جب تک فیصلے پر عملدرآمد نہیں ہوتا، ان امیدواروں کو سنی اتحاد کونسل کا مانا جائے گا۔

    سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ نظرثانی درخواستیں ناقابل سماعت ہیں انہوں نے آرٹیکل 63 اے کے نظرثانی کیس سمیت دیگر عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نظرثانی صرف ان نکات پر ہوسکتی ہے جہاں فیصلے میں کوئی غلطی یا قانونی نقص ہو۔

    فیصل صدیقی نے عدالت سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ وہ یہ بات کرنا چاہتے ہیں کہ نظرثانی کن نکات پر ممکن ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مخصوص نشستوں کے خلاف دائر نظرثانی درخواستیں قابل سماعت نہیں ہیں کیونکہ ان میں وہ قانونی بنیاد موجود نہیں جس کی بنیاد پر نظرثانی کی جا سکے۔

    عدالت نے سماعت کے بعد کیس کو 29 مئی تک ملتوی کر دیا سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی اپنے دلائل جاری رکھیں گے۔

  • اسلام آباد ہائیکورٹ میں سینیارٹی کیسے اور کس اصول کے تحت دی گئی؟، جسٹس نعیم اختر افغان

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں سینیارٹی کیسے اور کس اصول کے تحت دی گئی؟، جسٹس نعیم اختر افغان

    پریم کورٹ میں ججز ٹرانسفر کیس میں جسٹس نعیم اختر افغان نے کہاکہ جسٹس ڈوگر کا لاہور ہائیکورٹ میں سینیارٹی لسٹ میں 15واں نمبر تھا، اسلام آباد ہائیکورٹ میں سینیارٹی کیسے اور کس اصول کے تحت دی گئی۔

    سپریم کورٹ میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کی ٹرانسفر سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی،دورانِ سماعت اٹارنی جنرل نے دلائل مکمل کرتے ہوئے عدالت سے استدعا کی کہ اسلام آباد ہائیکورٹ ججز کی درخواست کو میرٹ پر مسترد کیا جائے جبکہ دیگر درخواستوں کو ناقابلِ سماعت قرار دے کر خارج کیا جائے۔

    سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں ٹرانسفرنگ ججز کی نئی تقرری نہیں ہوئی اور ان ججز کو نئے حلف کی بھی ضرورت نہیں سپریم کورٹ قرار دے چکی ہے کہ سنیارٹی تقرری کے دن سے شروع ہوگی۔

    جسٹس شکیل احمد نے کہا کہ سیکرٹری لاء نے ٹرانسفرنگ ججز کی حلف نہ اٹھانے کی وضاحت کیوں دی؟ جس پر اٹارنی جنرل نے وضاحت کی کہ ایڈوانس کی منظوری کے بعد ججز کے نوٹیفکیشن میں ابہام نہ ہو، اس لیے وضاحت دی گئی اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ججز کی سنیارٹی کا تعین کیا اور وہ اس میں مکمل طور پر آزاد تھے چار ہائیکورٹس کے چیف جسٹسز اور رجسٹرارز کی رپورٹس میں ججز کے تبادلے پر کوئی سوال نہیں اٹھایا گیا۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ ججز کی ریپریزنٹیشن اور فیصلے کو درخواست گزار وکلاء نے دلائل میں ذکر تک نہیں کیا، اور کسی نے ریپریزنٹیشن اور فیصلے کو پڑھا نہ ہی دلائل دیے ریپریزنٹیشن میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز نے کیا استدعا کی تھی؟ جس پر اٹارنی جنر ل نے بتایا کہ ججز نے ٹرانسفرنگ ججز کے دوبارہ حلف اٹھانے پر سنیارٹی کے تعین کی استدعا کی تھی، جسٹس مظہر نے کہا کہ عدالت کو درخواست گزار ججز کے وکلاء نے تمام باتیں نہیں بتائیں۔

    اٹارنی جنرل نے آئین کے آرٹیکل 200 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ججز ٹرانسفرز کا طریقہ اس آرٹیکل میں واضح ہے اور اس پر ویٹو پاور عدلیہ کو دی گئی ہے، ایگزیکٹیو کو نہیں، ججز کے ٹرانسفر کے وقت تمام چیف جسٹسز نے اپنی آمادگی ظاہر کی تھی۔

    جسٹس صلاح الدین نے اعتراض کیا کہ سینیارٹی کے معاملے پر کسی چیف جسٹس سے رائے نہیں لی گئی اٹارنی جنرل کا مؤقف تھا کہ سنیارٹی کوئی ایسا معاملہ نہیں تھا جسے چیف جسٹسز کے علم میں لایا جاتا، اور یہ تعین اسلام آباد ہائیکورٹ کے اُس وقت کے چیف جسٹس کا اختیار تھا۔

    جسٹس نعیم اختر افغان نے سوال اٹھایا کہ ججز کے ٹرانسفر کے حوالے سے کون سا اصول اپنایا گیا اور کیوں جسٹس سرفراز ڈوگر کو ٹرانسفر کے لیے چنا گیا؟ انہوں نے نشاندہی کی کہ جسٹس ڈوگر لاہور ہائیکورٹ میں سنیارٹی میں 15ویں نمبر پر تھے اور اسلام آباد ہائیکورٹ میں پہلے نمبر پر آ گئے۔

    جسٹس صلاح الدین نے کہا کہ دوسرے ہائیکورٹس سے ججز ٹرانسفر ہو کر آئے تو اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کو سنیارٹی طے کرنے کا اختیار نہیں تھا، جبکہ اٹارنی جنرل نے کہا کہ چونکہ ججز اسلام آباد ہائیکورٹ میں ٹرانسفر ہو چکے تھے، اس لیے چیف جسٹس ہی مجاز تھے،جسٹس صلاح الدین نے کہا کہ یہ طے ہونا ابھی باقی ہے کہ ٹرانسفر شدہ ججز اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز ہیں یا پرانی ہائیکورٹس کے۔

    جسٹس شکیل احمد نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ تین سوالات پر عدالت کی معاونت کی جائے اگر یہ ٹرانسفرز مستقل ہیں تو ججز کی تعیناتی آئین کے آرٹیکل 175 اے کے ذریعے ہونی چاہیے، بلوچستان ہائیکورٹ سے جو ججز ٹرانسفر ہوئے، وہ ایڈیشنل ججز ہیں، اور سوال اٹھایا کہ ان کی کارکردگی کو کون جانچے گا، بلوچستان ہائیکورٹ یا اسلام آباد ہائیکورٹ کا چیف جسٹس؟ ٹرانسفر کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ کی ججز انتظا می کمیٹی پر کیا اثر پڑا؟

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ اٹھارہویں ترمیم میں آرٹیکل 175 اے شامل ہوا مگر آئین سازوں نے آرٹیکل 200 کو نہیں نکالا یہ قابل قبول نہیں کہ آرٹیکل 175 اے کے بعد ججز کا آرٹیکل 200 پر تبادلہ نہ ہو سکے جسٹس شکیل احمد نے کہا کہ ججز کا تبادلہ آرٹیکل 200 کے تحت عوامی مفاد میں ہوگا، اور پوچھا کہ یہاں ججز کے تبادلہ میں عوامی مفاد کیا تھا کیونکہ نوٹیفکیشن میں اس کا ذکر نہیں، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ججز کے ٹرانسفر پر سیفٹی وال لگا ہے۔

    جسٹس نعیم افغان نے سوال کیا کہ کیا آرٹیکل 200 کے ذیلی سیکشن 1 اور 2 کو ایک ساتھ پڑھا جائے اور آیا تبادلہ عبوری ہوگا؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ عارضی تبادلے کی صورت میں اضافی الاؤنسز ملتے ہیں جبکہ مستقل تبادلہ ہو تو کوئی اضافی الاؤنس نہیں ملتا، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ذیلی سیکشن کی زبان واضح نہیں ہے اور نوٹیفکیشن میں یہ ذکر بھی نہیں کہ ٹرانسفر مستقل ہے یا عارضی۔

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ ٹرانسفر ججز میں کسی نے عارضی یا مستقل ٹرانسفر کا اعتراض نہیں اٹھایا اور تمام سے مستقل ٹرانسفر کی رضامندی لی گئی تھی۔

    سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے جوڈیشل کمیشن کے اجلاسوں کے منٹس آف میٹنگ بھی طلب کر لیے جسٹس نعیم اختر افغان نے 17 جنوری اور 10 فروری کے جوڈیشل کمیشن اجلاسوں کی تفصیلات طلب کیں جسٹس محمد علی مظہر نے اٹارنی جنرل سے پوچھا کہ ان اجلاسو ں میں کیا ہوا تھا؟ جس پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ 17 جنوری کے اجلاس میں اسلام آباد ہائیکورٹ میں دو ایڈیشنل ججز کی تقرری ہوئی جبکہ 10 فروری کے اجلاس میں جسٹس عامر فاروق کی سپریم کورٹ میں تقرری ہوئی۔

    جسٹس افغان نے پوچھا کہ کیا 10 فروری کے اجلاس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز لسٹ میں جسٹس ڈوگر بھی شامل تھے؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ جی، وہ لسٹ میں شامل تھے مگر ان کے نام پر غور نہیں ہوا، عدالت نے کیس کی مزید سماعت 29 مئی تک ملتوی کر دی۔

  • سنی اتحاد کونسل مخصوص نشستوں کی حقدار نہیں،جسٹس جمال مندوخیل

    سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں کے فیصلے پر نظر ثانی کیس کی براہ راست سماعت جاری ہے،عدالتی کارروائی براہ راست سپریم کورٹ یوٹیوب چینل پر دکھائی جا رہی ہے-

    جسٹس امین الدین کی سربراہی میں 11 رکنی بینچ کیس کی سماعت کر رہا ہے، جبکہ درخواست گزار کی جانب سے وکیل مخدوم علی خان دلائل دے رہے ہیں ،سماعت کے دوران جسٹس مسرت ہلالی نے سوال اٹھایا کہ سنی اتحاد کونسل نے مخصوص نشستوں پر کیسے دعویٰ کیا؟ انہوں نے استفسار کیا کہ سنی اتحاد کونسل (ایس آئی سی) کو مخصوص نشستیں کیسے مل سکتی ہیں؟ پارلیمنٹ میں آنے والی جماعت میں آزاد امیدوار شامل ہو سکتے ہیں، لیکن جو پارلیمنٹ میں نہ ہو اس میں کیسے آزاد لوگ شامل ہو سکتے ہیں؟-

    جس پر وکیل مخدوم علی خان نے مؤقف اختیار کیا کہ ایس آئی سی کے مطابق آزاد امیدواران ان کے ساتھ شامل ہو گئے تھے، جسٹس مسرت ہلالی نے سوال کیا کہ کیا سنی اتحاد کونسل نے انتخابات میں حصہ لیا تھا؟ جس پر وکیل نے جواب دیا کہ سنی اتحاد کونسل نے انتخابات میں حصہ نہیں لیا، جبکہ سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین نے خود آزاد حیثیت میں الیکشن لڑا۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ سنی اتحاد کونسل مخصوص نشستوں کی حقدار نہیں ،سنی اتحاد کونسل پارلیمانی پارٹی بنا سکتی تھی، لیکن مخصوص نشستوں کی حقدار نہیں، جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ آزاد اراکین نے جیتی ہوئی پارٹی میں شامل ہونا تھا۔

    وکیل مخدوم علی خان نے دلائل دیئے کہ مخصوص نشستوں پر منتخب اراکین کو ڈی نوٹیفائی کر دیا گیا، جبکہ ارکان کو ڈی نوٹیفائی کرنے سے قبل نوٹس نہیں دیا گیا، جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیئے کہ عدالت نے الیکشن کمیشن کے نوٹیفیکیشن کو کالعدم قرار دیا تھا، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ عدالت کے سامنے سنی اتحاد کونسل آرٹیکل 185/3 میں آئی تھی، اور عدالت کے سامنے الیکشن کمیشن کا نوٹی فیکیشن تھا۔

    مخدوم علی خان نے مؤقف اپنایا کہ نوٹیفیکیشن سے اگر کوئی متاثرہ ہوتا تھا تو عدالت کو نوٹس کرنا چاہیے تھاعدالتی فیصلے میں آرٹیکل 225 کا ذکر تک نہیں ہے، حالانکہ آرٹیکل 225 کے تحت کسی الیکشن پر سوال نہیں اٹھایا جا سکتا، جسٹس جمال خان مندوخیل نے سوال کیا کہ آرٹیکل 225 کا اس کیس میں اطلاق کیسے ہوتا ہے؟ –

    جس پر جسٹس محمد علی مظہر نے وضاحت کی کہ یہ معاملہ مخصوص نشستوں کا ہے، اور مخصوص سیٹیں متناسب نمائندگی پر الاٹ ہوتی ہیں، مخدوم علی خان نے کہا کہ مخصوص نشستوں کی فہرستیں الیکشن سے قبل جمع ہوتی ہیں، اور کاغذات نامزدگی پر غلطی کی صورت میں معاملہ ٹریبونل کے سامنے جاتا ہے۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اگر آپ کی دلیل مان لیں تو پشاور ہائیکورٹ کا دائرہ اختیار نہیں تھا مخدوم علی خان نے کہا کہ اس وقت تک مخصوص ارکان کے نوٹیفیکیشن جاری نہیں ہوئے تھےعدالتی فیصلے موجود ہیں کہ آئین و قانون سے برعکس فیصلہ ناقص ہوگا، اور عدالت کی ذمہ داری ہے کہ اس غلطی کو درست کیا جائے۔

    جسٹس مندوخیل نے استفسار کیا کہ اگر اکثریتی ججز یہ سمجھیں کہ فیصلہ درست ہے اور نظرثانی درست ہے تو ایسی صورت میں کیا ہوگا؟ جس پر مخدوم علی خان نے جواب دیا کہ ایسی صورت میں نظرثانی مسترد ہو جائے گی۔

    جسٹس شاہد بلال نے استفسار کیا کہ کیا پی ٹی آئی مخصوص نشستوں کے کیس میں فریق تھی؟ اور کیا جو جماعت فریق نہ ہو، اسے نشستیں دی جا سکتی ہیں؟ جس پر وکیل مخدوم علی خان نے جواب دیا کہ جو سیاسی جماعت فریق نہ ہو، اسے نشستیں نہیں مل سکتیں، وکیل مخدوم علی خان کے مطابق جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا تھا کہ پی ٹی آئی اس کیس میں فریق نہیں تھی۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اُس وقت الیکشن کمیشن کے کردار کو ہم نے دیکھنا تھا میرے مطابق الیکشن کمیشن نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی تھی، نشستیں دینا نہ دینا اور مسئلہ ہے، اصل میں الیکشن کمیشن کا کردار دیکھنا تھا۔

    عدالت نے مشاہدہ کیا کہ 39 لوگوں کو پی ٹی آئی کا ڈکلیئر کر کے نشستیں دینے کا کہا گیا تھا جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کوئی فارمولا نہیں تھا کہ درمیان کا راستہ چنا جائے میں نے ساری رات جاگ کر دستیاب ریکارڈ کا جائزہ لیا عدالت نے بتایا کہ پارٹی سرٹیفکیٹ اور پارٹی وابستگی کے خانے میں 39 لوگوں نے پی ٹی آئی لکھا۔

    جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ یہ ریکارڈ عدالت کے سامنے نہیں تھا، تاہم جسٹس مندوخیل نے وضاحت دی کہ یہ ریکارڈ عدالت کی جانب سے الیکشن کمیشن سے مانگا گیا تھا، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ فیصلے میں 39 لوگوں کو تحریک انصاف کا ڈکلیئر کیا گیا جبکہ 41 لوگوں کو وقت دیا گیا کہ وہ 15 روز میں کسی سیاسی جماعت کو جوائن کریں۔

    مخدوم علی خان نے کہا کہ اکثریتی فیصلے میں لکھا گیا کہ اس عدالت کے سامنے تکنیکی نوعیت کی غلطی رکاوٹ نہیں بنے گی، یہ عدالت مکمل انصاف کا اختیار کرتے ہوئے نشستیں پی ٹی آئی کو دیتی ہے، اسی وجہ سے جسٹس امین الدین خان اور جسٹس نعیم افغان نے لکھا کہ تحریک انصاف ہمارے سامنے فریق نہیں-

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ میرے مطابق الیکشن کے دوران پریذائیڈنگ افسران نے آئین کے تحت اپنی ذمہ داری ادا نہیں کی،ہمارے سامنے آئی اپیل انتخابات میں غلطیوں کا تسلسل تھی،ہم نے اپنے فیصلے میں لکھا تھا کہ لوگوں کو حق رائے دہی سے محروم نہیں رکھا جاسکتا، کوئی ہمارے سامنے ہو یا نہیں پریذائیڈنگ افسران کی غلطی عوام کو کیسے دی جاسکتی ہے؟پریذائیڈنگ افسران نے فارم 33 درست طریقے سے نہیں بنائے-ٕ

    ، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے لکھا کہ مکمل اختیار اہم معاملہ ہے احتیاط سے استعمال کیا جائے،مخدوم علی خان نے کہا کہ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے لکھا کہ مکمل انصاف کا اختیار ڈیو پراسس کو ختم کرسکتا ہے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ انتخابی نشان نہ ہونے سے سیاسی جماعت ختم نہیں ہوتی،سیاسی جماعت الیکشن نہیں لڑتی امیدوار لڑتے ہیں، انتخابی نشان عوام کی آگاہی کیلئے ہوتاہے انتخابی نشان نہ ہونے سے کسی کو انتخابات سے نہیں روکا جاسکتا،سنی اتحاد کونسل کے بجائے آزاد امیدوار اگر پی ٹی آئی میں رہتے تو آج مسئلہ نہ ہوتا،نی اتحاد کونسل اپنے انتخابی نشان پر الیکشن لڑتی تو پھر بھی مسئلہ نہ ہوتا-

    مخدوم علی خان نے کہا کہ اکثریتی فیصلے میں مکمل انصاف کیساتھ نظریہ آئینی وفاداری بھی استعمال کیا گیا،آئین سے وفاداری کے نظریہ کی بات جذباتی لگتی ہے،جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ کیا پشاور ہائیکورٹ یا الیکشن کمیشن میں پی ٹی آئی نے نوٹیفکیشن چیلنج کیے-

    وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ پی ٹی آئی نے نوٹیفکیشن چیلنج نہیں کیے تھے،مخصوص نشستوں کے اکثریتی فیصلے میں آئین کو دوبارہ تحریر کیا گیا،نظرثانی درخواستیں منظور کی جائیں،نظرثانی کیس میں عدالت اپنی رائے تبدیل کر سکتی ہے-

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا میں مخصوص نشستوں کے کیس کا اپنا فیصلہ بدل سکتا ہوں،وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ بالکل آپ اپنی رائے بدل سکتے ہیں،جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ پٹھان کی ایک زبان ہوتی ہے،مخدوم علی خان نے کہا کہ زبان ایک ہوتی ہے مگر رائے تو بدل سکتے ہیں، وکیل مخدوم علی خان کے دلائل مکمل ہوئے-

    وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ اپنے تحریری دلائل جمع کرا چکے ہیں،وکیل مسلم لیگ ن کہا کہ ہم نے بھی تحریری دلائل جمع کرا دیئے ہیں، وکیل پیپلزپارٹی نے کہا کہ پیپلزپارٹی کل تحریری دلائل جمع کرا دے گی،

    وکیل سنی اتحاد کونسل نے کہا کہ تحریری جوابات جمع کرا کے یہ جواب الجواب کا حق ختم کر چکے ہیں، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو ہم جواب الجواب دیں گے-

    جسٹس امین الدین نے کہا کہ یہ عدالت نے طے کرنا ہے کہ جواب الجواب کا حق دینا ہے یا نہیں، کل سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی دلائل دیں گے-

    مخدوم علی خان کے دلائل مکمل ہو ئے الیکشن کمیشن نے تحریری معروضات عدالت میں پیش کر دی ،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ
    تحریری معروضات ہی ہمارا موقف ہوگا

    ن لیگ اور پیپلز پارٹی بھی کل اپنی تحریری معروضات پیش کریگی مخصوص نشستوں کے کیس کی سماعت کل ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی ہوئی کل سُنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی دلائل کا آغاز کرینگے-

  • سنیارٹی لسٹ یکساں ہو تو کوئی جھگڑا ہی نہیں ہو گا،سپریم کورٹ

    ہائی کورٹ ججز کی ٹرانسفرز سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران جسٹس شکیل احمد نے ریمارکس دیے کہ ’سنیارٹی لسٹ یکساں ہو تو کوئی جھگڑا ہی نہیں ہو گا۔

    سپریم کورٹ میں ہائی کورٹ ججز کی ٹرانسفرز سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی پانچ رکنی آئینی بینچ جس کی سربراہی جسٹس محمد علی مظہر کر رہے ہیں، نے کیس کی سماعت کی، سماعت کے دوران جسٹس شکیل احمد نے ریمارکس دیے کہ ’سنیارٹی لسٹ یکساں ہو تو کوئی جھگڑا ہی نہیں ہو گا، اگر بھارت کی طرح ہائی کورٹ ججز کی مشترکہ سنیارٹی لسٹ ہو تو کیا ہوگا؟ جس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ بھارت میں تو جج کا تبادلہ رضامندی کے بغیر کیا جاتا ہے۔

    وکیل فیصل صدیقی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کا قیام آئین کے آرٹیکل 175 کے تحت ہوا اور قانون میں صوبوں سے ججز کی تقرری کا ذکر ہے، تاہم قانون تبادلے کی اجازت نہیں دیتا، اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ آپ کا کہنا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں ججز کا تبادلہ نہیں ہو سکتا؟-

    سعودی سپریم کورٹ نے عوام سے ذوالحجہ کا چاند دیکھنے کی اپیل کر دی

    فیصل صدیقی نے جواب دیا کہ تبادلہ ہو بھی جائے تو وہ مستقل نہیں ہوگا انہوں نے وضاحت کی کہ تبادلہ پر واپس جانے پر جج کو دوبارہ حلف نہیں اٹھانا ہوگا، اور اگر اٹھایا بھی جائے تو پہلا حلف ہی تسلسل مانا جائے گا، مشترکہ سنیارٹی لسٹ پر سب ججز نتائج سے آگاہ ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ جج کا مستقل تبادلہ کرنا جوڈیشل کمیشن کے اختیارات لینے کے مترادف ہے۔

    جسٹس مظہر نے سوال اٹھایا کہ کیا آرٹیکل 175 اے کی وجہ سے تبادلے کا آرٹیکل 200 ختم ہوگیا؟ اور کیا اب آرٹیکل 175 اے کے بعد ججز کا تبادلہ نہیں ہو سکتا؟

    فیصل صدیقی نے وضاحت کی کہ بھارت میں ججز کی سنیارٹی لسٹ مشترکہ ہے اور دہائیوں میں بنتی ہے، جسے راتوں رات ٹرانسفر کر کے تبدیل نہیں کیا جا سکتا،انہوں نے راتوں رات سینارٹی لسٹ ایگزیکٹو کے ذریعے تبدیل کرنے کو ”غاصبانہ عمل“ قرار دیا۔

    چین پاکستان کی سرحدوں یا خودمختاری کی پامالی کی اجازت کسی ملک کو نہیں دے گا

    جسٹس محمد علی مظہر نے بتایا کہ ججز کے تبادلے کے لیے دو ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان اور چیف جسٹس پاکستان نے رائے دی ایک جج کے ٹرانسفر کے عمل میں چار درجات پر عدلیہ کی شمولیت ہوتی ہے اور اگر کسی ایک درجے پر بھی انکار ہو جائے تو تبادلہ نہیں ہو سکتا اگر تبادلہ ہونے والا جج انکار کر دے یا متعلقہ ہائی کورٹ کا چیف جسٹس انکار کرے تو عمل رک جائے گا، اور حتیٰ کہ اگر پہلے تین مراحل کے بعد چیف جسٹس پاکستان انکار کر دیں تو بھی عمل رک جائے گا اگر سب کچھ ایگزیکٹو کے ہاتھ میں ہوتا تو الگ بات تھی، لیکن اس عمل میں چار جوڈیشل فورمز سے رائے لی گئی۔

    فیصل صدیقی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ قانون کے عمل میں بدنیتی کا مظاہرہ کیا گیا اور سینارٹی کے معاملے میں عدلیہ کو اندھیرے میں رکھا گیا۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کا روس پر مزید پابندیاں لگانے پر غور

    بعد ازاں سپریم کورٹ نے فیصل صدیقی کے دلائل مکمل ہونے کے بعد کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان کل اپنے دلائل دیں گے۔

  • نور مقدم قتل کیس:سپریم کورٹ نے ظاہر جعفر کی اپیل پر فیصلہ سنا دیا،سزائے موت برقرار

    نور مقدم قتل کیس:سپریم کورٹ نے ظاہر جعفر کی اپیل پر فیصلہ سنا دیا،سزائے موت برقرار

    سپریم کورٹ نے نور مقدم قتل کیس میں مجرم کی سزائے موت کی اپیل پر فیصلہ سنادیا، عدالت نے مجرم ظاہر جعفر کے خلاف قتل کی دفعات میں سزائے موت برقرار رکھی ہے۔

    جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بنچ نے مجرم کی سزا کے خلاف اپیل پر فیصلہ سنا دیا۔

    سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم کاکڑ نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ عدالت ظاہر جعفر کی سزائے موت برقرار رکھتی ہےسپریم کورٹ نے ریپ میں مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کردی، جبکہ اغوا کے مقدمہ میں 10 سال قید کی سزا کم کرکے ایک سال کردی گئی، اس کے علاوہ نور مقدم کے اہل خانہ کو معاوضے کی ادائیگی کا حکم بھی برقرار رکھا گیا۔

    عدالت نے ظاہر جعفر کے مالی اور چوکیدارکی سزاؤں میں بھی کمی کردی فیصلے میں کہا گیا کہ مالی جان محمد اور چوکیدار افتخار جتنے سال کاٹ چکے کافی ہے،عدالت نے کہا کہ فیصلے کی تفصیلی وجوہات بعد میں جاری کی جائے گی۔

    نورمقدم کیس، جس فوٹیج پر آپ اعتراض اٹھا رہے ہیں اسکو آپ تسلیم کر چکے ہیں،عدالت

    وفاقی وزیر صحت کی چینی ہم منصب سے ملاقات

    بیٹی کے اغوا اور زیادتی کا جھوٹا کیس درج کروانے والا باپ گرفتار

  • مخصوص نشستیں:نظرثانی کیس چھوٹا بینچ بھی سن سکتا ہے،  جسٹس امین الدین

    مخصوص نشستیں:نظرثانی کیس چھوٹا بینچ بھی سن سکتا ہے، جسٹس امین الدین

    سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں کے متعلق نظرثانی کیس کی سماعت کے دوران جسٹس امین الدین نے کہا کہ نظرثانی کیس چھوٹا بنچ بھی سن سکتا ہے۔

    جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 11 رکنی بینچ نے اس اہم آئینی معاملے کی سماعت کی، سماعت کے دوران سینئر وکلاء حامد خان اور فیصل صدیقی عدالت میں پیش ہوئے، سماعت کے آغاز پر حامد خان نے کہا کہ انہوں نے متفرق درخواستیں دائر کی ہیں، جس پر جسٹس امین الدین نے ریمارکس دیے کہ آپ کی درخواست ہمیں ابھی نہیں ملی اور انہیں ایڈووکیٹ آن ریکارڈ سے پتہ کرنے کا مشورہ دیا۔

    اس موقع پر وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ ان کی تین متفرق درخواستیں بینچ کے سامنے موجود ہیں،فیصل صدیقی نے کہا کہ انہوں نے اس بنچ کی تشکیل پر آئینی بنیادوں پر اعتراض اٹھایا ہے کہ نظرثانی سے متعلق ایک آئینی اصول طے شدہ ہے کہ جتنے رکنی بنچ نے فیصلہ دیا ہو، اتنے ہی ارکان پر مشتمل بنچ کو نظرثانی کیس سننا چاہیے۔

    جسٹس امین الدین نے اس موقع پر کہا کہ یہاں 2 ارکان نے درخواستیں خارج کہہ کر خود بینچ میں بیٹھنے سے انکار کیا، فیصل صدیقی نے جواب میں کہا کہ ماضی میں بھی ایسا ہو چکا ہے اور وہ عدالت کی معاونت کریں گے،اس موقع پر فیصل صدیقی نے واضح کیا کہ ان کا اعتراض کسی جج کی ذات پر نہیں بلکہ یہ ایک خالصتاً آئینی اعتراض ہے۔

    جسٹس امین الدین نے مزید کہا کہ 13 رکنی بینچ میں سے 2 ججز نے خود کو علیحدہ کر لیا، جبکہ جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیے کہ دونوں ججوں نے نوٹس نہ دینے کا خود فیصلہ کیا ہے، انہوں نے سوال اٹھایا کہ ججز کے اپنے اعتراض کے بعد کیا باقی رہ جاتا ہے؟ جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ وہ دونوں جج اپنا فیصلہ دے چکے ہیں، اب بیٹھ کر کیا کریں گے؟-

    آئی ایم ایف کا وفد پاکستان پہنچ گیا،بجٹ مذاکرات کا دوسرا دور شروع

    فیصل صدیقی نے کہا کہ نظرثانی ہمیشہ مرکزی کیس سننے والا بینچ ہی سنتا ہے اور چونکہ مرکزی کیس 13رکنی بینچ نے سنا تھا، لہٰذا نظرثانی بھی اسی بینچ کو سننا چاہیےجسٹس امین الدین نے ریمارکس دیے کہ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد نظرثانی کیس اب چھوٹا بنچ بھی سن سکتا ہے،ترمیم کے بعد 13 رکنی بنچ کا فیصلہ اب 8 یا 9 رکنی آئینی بنچ بھی سن سکتا ہے۔

    سماعت کے دوران آئینی نکات پر تفصیلی بحث ہوئی فیصل صدیقی نے کہا کہ اگر آئینی بینچ کی تشکیل سے متعلق آرٹیکل 3 پڑھا جائے تو سب کچھ واضح ہو جائے گا آئینی بینچ کا دائرہ اختیار کیسز کی حد تک طے شدہ ہے جسٹس امین الدین خان نے فیصل صدیقی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ مزید کتنا وقت لیں گے، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ اعتراضات پر تفصیل سے دلائل دوں گا،کوئی فرق نہیں پڑے گا اگر میں ایک سماعت اور لے لوں گا،میں کل بھی یہاں ہوں گا، کل دلائل دے دوں گا۔

    رومانیہ:صدر ٹرمپ کے حمایت یافتہ صدارتی امیدوار کو شکست

    جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ آپ اعتراضات پر اتنے لمبے دلائل دے رہے ہیں، فیصل صدیقی نے جواب دیا کہ میرے لیے یہ کیس ضروری نہیں اور میرا موکل بھی ضروری نہیں ہے، میرے لیے عدالت کا نظرثانی دائرہ سماعت ضروری ہے، ایک بار طے ہو جانا چاہیے کہ نظرثانی کون سا بینچ سنے گا۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ آئینی بینچ میں جو ججز میسر تھے سب اس بینچ میں شامل تھے،2ججز نے مرضی سے خود کو بینچ سے الگ کر لیا،اس کے بعد جو ججز میسرتھے وہ سب اب اس بینچ میں شامل ہیں-

    پریکٹس اینڈ پروسیجر جب چیلنج ہوا تھا اس میں فل کورٹ بیٹھی تھی، اس وقت سوال تھا کہ اگر یہ سب ججز سن رہے ہیں تو ان کیخلاف اپیل کون سنے گا،تو اس سے متعلق سب ججز نے اپنی اپنی رائے دی تھی،فرض کریں اگر آئینی بینچ میں 2 ججز مزید شامل ہو جائیں تو ٹوٹل آئینی بینچ ججز 15 اور اس بینچ میں 13 ججز ہو جائیں گے۔

    پاک بھارت کشیدگی: اس سال شیڈول ایشیا کپ نہ ہونے کا خدشہ

    اگر دوبارہ ان 13 میں سے 2 ججز نے خود کو بینچ سے الگ کر لیا تو پھر باقی 11 ججز بچ جائیں گے پھر کیا کریں گے، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ یہ 11رکنی بینچ ان2 الگ ہونے والے ججز کی مرضی سے بنایا گیا ہے، آپ ہمیں صرف اعتراض نہیں اس کا حل بھی بتائیں۔

    وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ کیس سماعت ملتوی کر کے کیس کو دوبارہ سے جوڈیشل کمیشن کو بھیج دیں،جوڈیشل کمیشن 2 ججز کو مزید آئینی بینچ میں شامل کر دے جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیئے کہ جو 2ججز اس درخواست کو ڈس مس کر چکے ہیں ان کا کیاا سٹیٹس ہوگا، کیا وہ ججز دوبارہ سے پھر بیٹھیں گے،اگر وہ2 ججز بیٹھیں گے تو کیا وہ اپنے فیصلے پر دوبارہ نظرثانی کرسکیں گے، وکیل نے جواب دیا کہ جی بالکل، اگر وہ 2 ججز دوبارہ سے بیٹھیں گے تو وہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرسکیں گے۔

    بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت کل دن ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کر دی۔

    شیخ مجیب کی بائیوپک میں حسینہ کا کردار ادا کرنے والی اداکارہ گرفتار