Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • ممبئی ٹرین دھماکہ کیس:  مسلمان  نوجوانوں  کی رہائی کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج

    ممبئی ٹرین دھماکہ کیس: مسلمان نوجوانوں کی رہائی کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج

    مہاراشٹر حکومت کی جانب سے یہ اعلان سامنے آیا کہ وہ 12 مسلم نوجوانوں کو ممبئی ٹرین بم دھماکوں کے مقدمے سے باعزت بری کرنے کے ممبئی ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرے گی-

    بھارتی میڈیا کے مطابق مہاراشٹر حکومت کی جانب سے اس اعلان کے بعد ان افراد اور ان کے اہلِ خانہ کی امیدوں کو ایک بار پھر غیر یقینی کی کیفیت میں ڈال دیا اب جبکہ سپریم کورٹ نے 24 جولائی کو اس معاملے کی سماعت کے لیے تاریخ مقررکی، تو یہ کیس انصاف کے ایک نئے، اور ممکنہ طور پر فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکا ہے،یہ 12 افراد وہ ہیں جنہیں نہ صرف برسوں تک قید میں رکھا گیا بلکہ دہشت گردی جیسے سنگین الزامات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان میں سے کئی نے جیل میں اذیتیں برداشت کیں-

    اب جب عدالتِ عالیہ نے انہیں بے گناہ قرار دے دیا ہے تو یہ قانونی نظام کے اندر ایک اہم مثال بن چکی تھی ہائی کورٹ کے فیصلے نے نہ صرف ان افراد کو انصاف دیا بلکہ تحقیقاتی نظام پر بھی کئی بنیادی سوالات اٹھا دیے عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ استغاثہ جرم کو ثابت کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا اور تفتیش میں خامیاں اور تضادات واضح تھے اس سے عدالتی نظام کی ساکھ کو تقویت ملی کہ وہ بلاامتیاز انصاف فراہم کر سکتا ہے، چاہے اس میں کتنا ہی وقت کیوںعمران خان کے بیٹے سیاسی مہم چلانا چاہتے ہیں تو انہیں کوئی نہیں روک رہا،عطا تارڑ نہ لگے۔

    ایشیا کپ کا جلد اعلان ہوگا، بھارتی بورڈ سے بات چیت جاری ہے،محسن نقوی

    اب سپریم کورٹ میں ہونے والی سماعت کا دائرہ محض قانونی دلائل تک محدود نہیں، بلکہ یہ سماعت اس سوال کا جواب بھی دے گی کہ کیا برسوں بعد بے گناہ قرار دیے گئے افراد کو ایک بار پھر عدالتی عمل میں جھونکنا انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہے؟ یہ محض ایک اپیل نہیں، بلکہ انصاف کے دائرہ کار، ریاستی رویے اور انسانی وقار کے درمیان توازن کا امتحان ہے۔

  • ترقی سرکاری ملازمین کا حق ہے ، سپریم کورٹ

    ترقی سرکاری ملازمین کا حق ہے ، سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ نے سرکاری ملازمین کی ترقی سے متعلق سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہر سرکاری ملازم کو پرفارمنس پرموشن کے لیے زیر غور لانا اس کا بنیادی قانونی حق ہے۔

    جسٹس محمد علی مظہر کے تحریر کردہ پانچ صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ہائی پاورڈ سلیکشن بورڈ دوبارہ 2 ماہ میں کیس میرٹ پر سنے،درخواست گزار پولیس سروس کے سینئر افسر تھے، 3 بار ترقی سے محروم رہے،2013 سے 2018 تک تمام کارکردگی رپورٹس بہترین تھیں، ہائی پاورڈ سلیکشن بورڈ نے ملازم کو بغیر ٹھوس وجہ ترقی نہیں دی، 2019 کی کارکردگی رپورٹ نہ ہونے کی وجہ فیلڈ پوسٹنگ کا نہ ملنا تھا۔

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کاغذی ترقی جس میں سنیارٹی اور مالی فوائد متاثر نہ ہوں سرکاری ملازمین کا قانونی حق ہے، ترقی کے اہل افسر کو ریٹائرمنٹ کے بعد بھی پروموشن دی جا سکتی ہے،ہائی پاورڈ سلیکشن بورڈ منٹس میں منفی ریمارکس بغیر کسی ثبوت کے شامل کیے گئے، درخواست گزار کی ساکھ پر کوئی الزام ثابت نہیں ہوا، دیر سے انصاف دینا غیر منصفانہ ہے، تمام سرکاری ادارے ترقی کے معاملات میں شفاف اور فوری فیصلے کریں۔

    تاجروں کا 19 جولائی کو ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال منسوخ نہ کرنے کا علان

    کراچی : سول ہسپتال کی لفٹ میں 14 سالہ بچے کیساتھ بدفعلی

    40 ہزار پاکستانی زائرین عراق، شام اور ایران میں غائب، وزیر مذہبی امور

  • کوئٹہ رجسٹری: سپریم کورٹ کے بینچز کل سے کیسز کی سماعت کریں گے

    کوئٹہ رجسٹری: سپریم کورٹ کے بینچز کل سے کیسز کی سماعت کریں گے

    سپریم کورٹ رجسٹری میں پیر 14 جولائی سے کیسز کی سماعت کا آغاز ہوگا، جس کے لیے کاز لسٹ جاری کر دی گئی ہے۔ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ 18 جولائی تک کوئٹہ رجسٹری میں مختلف مقدمات کی سماعت کرے گا۔

    سپریم کورٹ کے جاری کردہ روسٹر کے مطابق، جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شکیل احمد بھی چیف جسٹس کے ہمراہ بینچ کا حصہ ہوں گے۔
    عدالتی شیڈول کے تحت 14 سے 16 جولائی کے دوران تین رکنی بینچ 60 کیسز کی سماعت کرے گا۔17 جولائی کو سپریم کورٹ کے دو بینچز کوئٹہ رجسٹری میں کیسز کی سماعت کریں گے۔بینچ نمبر 1 میں چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس شکیل احمد شامل ہوں گے، جبکہ بینچ نمبر 2 جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل ہوگا۔

    18 جولائی کو ایک بار پھر چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ سماعت کرے گا، جس میں جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شکیل احمد شامل ہوں گے۔سپریم کورٹ کے بینچز مجموعی طور پر 14 سے 18 جولائی کے دوران 111 کیسز کی سماعت کریں گے۔

    حمیرا اصغر کی موت کیسےہوئی ؟پولیس کی تحقیقاتی ٹیم تشکیل

  • لاہور ہائیکورٹ بار اور لاہور بار نے ججز سنیارٹی کیس کا فیصلہ چیلنج کر دیا

    لاہور ہائیکورٹ بار اور لاہور بار نے ججز سنیارٹی کیس کا فیصلہ چیلنج کر دیا

    لاہور ہائی کورٹ بار اور لاہور بار نے ججز سنیارٹی کیس کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا۔

    دونوں بارز نے سپریم کورٹ کے فیصلے کیخلاف الگ الگ انٹراکورٹ اپیلیں دائر کر دیں، اپیلوں میں پانچ رکنی بنچ کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ،اپیلوں پر فیصلے تک پانچ رکنی بنچ کا فیصلہ اور اس کے نتیجہ میں ہونے والے اقدامات معطل کرنے کی استدعا بھی کی گئی اپیلوں میں موقف اپنایا گیا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ آئین اور طے شدہ عدالتی اصولوں کیخلاف ہے، ججز کی سنیارٹی طے کرنے کا مسلمہ طریقہ کار موجود ہے،صدر مملکت کو سنیارٹی طے کرنے کی ہدایت کرنے کی آئین میں گنجائش نہیں۔

    میلبرن: طیارے میں سانپ کی موجودگی کے باعث پرواز تاخیر کا شکار

    واضح رہے کہ جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی آئینی بینچ نے تین ججز کی اسلام آباد ہائیکورٹ میں منتقلی کو آئینی و قانونی قرار دیتے ہوئے، ججز کی طرف سے دائر کردہ درخواستوں کو تین دو کے تناسب سے مسترد کر دیا تھا فیصلے میں کہا گیا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 200 کے تحت صدر مملکت کو ججز کی منتقلی کا اختیار حاصل ہے اور یہ تقرری کے اختیار سے جداگانہ معاملہ ہے۔

    سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں صدر مملکت نے 29 جون کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس سرفراز ڈوگر کو اس عدالت کا سینئر ترین جج قرار دیا اور ان سمیت دو دیگر ججز کے تبادلوں کو مستقل قرار دیا تھا۔ اس کے بعد یکم جولائی کو چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن آف پاکستان نے جسٹس سرفراز ڈوگر کو چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ، جسٹس جنید غفار کو چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ، جسٹس عتیق شاہ کو چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ اور جسٹس روزی خان کو چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ تعینات کرنے کی منظوری دے دی تھی۔

    حکومتی اور دفاعی اداروں پر بھارتی سائبر حملوں کا خدشہ، سائبر سیکیورٹی ایڈوائزری جاری

    ان تعیناتیوں کی منظوری کے بعد 7 جولائی کو وزارت قانون کی جانب سے باقاعدہ نوٹیفیکیشنز جاری کیے گئے، اور 8 جولائی کو چاروں ہائیکورٹس کے نئے چیف جسٹس صاحبان نے اپنے عہدوں کا حلف اٹھا لیا۔

  • کل تک مخصوص نشستوں کی الاٹمنٹ بحال ہونے کا امکان

    کل تک مخصوص نشستوں کی الاٹمنٹ بحال ہونے کا امکان

    سپریم کورٹ کے مخصوص نشستوں سے متعلق فیصلے کی کاپی الیکشن کمیشن کو موصول ہو چکی ہے-

    ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن مخصوص نشستوں کی الاٹمنٹ کا نوٹیفکیشن کل تک جاری کر دے گا، جس کے بعد قومی اسمبلی میں حکومتی اتحاد کو دوبارہ دو تہائی اکثریت حاصل ہو جائے گی، قانونی ٹیم کی تیار کردہ رپورٹ کی روشنی میں مخصوص نشستوں کی بحالی کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔

    عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ تمام سول نظرثانی درخواستیں منظور کرلی گئی ہیں، جس کے بعد پی ٹی آئی قومی اسمبلی کی 22 اور صوبائی اسمبلی کی 55 مخصوص نشستوں سے محروم ہو گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی 77 ارکانِ اسمبلی کی رکنیت بھی بحال کر دی گئی ہے۔

    پنجاب اسمبلی میں خواتین اور اقلیتوں کی 27 مخصوص نشستیں بحال ہو گئی ہیں جن میں سے مسلم لیگ ن کو 21 خواتین اور 2 اقلیتی نشستیں، جب کہ پیپلز پارٹی، ق لیگ اور استحکام پاکستان پارٹی کو ایک ایک نشست ملی ہے۔ سندھ اسمبلی میں پیپلز پارٹی کو دو اور ایم کیو ایم پاکستان کو ایک نشست ملی ہے۔

    خیبرپختونخوا اسمبلی میں 25 مخصوص نشستیں بحال ہوئیں جن میں مسلم لیگ ن اور جے یو آئی ف کو 7،7 خواتین نشستیں ملیں جبکہ باقی نشستیں پیپلز پارٹی، اے این پی اور پی ٹی آئی پی کو دی گئیں۔ اقلیتی نشستوں میں 2 ن لیگ اور 2 جے یو آئی ف کو ملیں۔

    قومی اسمبلی میں مسلم لیگ ن کو 15، پیپلز پارٹی کو 4 اور جے یو آئی کو 3 اضافی نشستیں ملی ہیں اس فیصلے کے بعد قومی اسمبلی میں مسلم لیگ ن کے ارکان کی تعداد 125، پیپلز پارٹی کے 74، اور جے یو آئی ف کے 11 ہو گئی ہے، جب کہ حکومتی اتحاد کو اب 233 نشستوں کے ساتھ دو تہائی اکثریت حاصل ہے۔

    الیکشن کمیشن کی جانب سے آئندہ چند دنوں میں باضابطہ نوٹیفکیشن جاری ہونے کی توقع ہے جس کے بعد سینیٹ کی زیر التوا نشستوں پر بھی جلد انتخابات ہونے کا امکان ہے۔

  • مخصوص نشستوں سے متعلق سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کا فیصلہ افسوس ناک ہے، حافظ نعیم الرحمٰن

    مخصوص نشستوں سے متعلق سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کا فیصلہ افسوس ناک ہے، حافظ نعیم الرحمٰن

    امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے مخصوص نشستوں سے متعلق سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کا فیصلہ افسوس ناک ہے۔

    امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے منصور میں تربیت گاہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کا مخصوص نشستوں سے متعلق فیصلہ شرمناک ہے، مخصوص نشستوں پر تحریک انصاف کا حق تھا، جماعت اسلامی اس فیصلے سے متفق نہیں ہے، ہم مولانا کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ جو 30 سیٹیں مولانا کو مل رہی ہیں وہ لیں گے یا نہیں، ہم حق اور انصاف کے ساتھ کھڑے ہیں ملک میں اقتدار کی میوزیکل چیئر چل رہی ہے،ہم نےجیتی ہوئی نشست الیکشن کمیشن کوواپس کردی، پیپلز پارٹی نے کراچی میں بلدیاتی الیکشن پر ڈاکہ ڈالا، ڈاکہ ڈال کر جعلی طریقے سے میئر کراچی مسلط کیا گیا، میئرکراچی کےانتخاباتی الیکشن کے وقت پی ٹی آئی کے 32 لوگ نہیں آئے تھے۔

    حافظ نعیم الرحمٰن نے شکوہ کیا کہ عام انتخابات میں بھی ہماری جیتی ہوئی نشستیں نہیں دی گئیں، انہوں نے کہاکہ ہم سیاست کو عبادت سمجھ کر کرتےہیں، ن لیگ اور پیپلز پارٹی سے تو مجھے کوئی توقع نہیں، ہر دونمبری سے اقتدارمیں رہنے والوں کوکامیاب سیاست دان کہا جاتا ہےاس الیکشن میں آپ نے دیکھا کیسے ایک پارٹی کو جتوایا گیا، ہمارے حق پر ڈاکا ڈالا گیا کراچی میں مئیر کی سیٹ پر ڈاکہ مارا گیا، بلدیاتی الیکشن میں بھی ہمارے ساتھ ناانصافی کی گئی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ہم نے جیتی ہوئی نشست الیکشن کمیشن کو واپس کردی، فارم 45 کے مطابق ہمارے ووٹ کم تھے لیکن 47 میں ہمیں جتوا دیا گیا، ہم نے پھر بھی الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف گئے، ہم نے دنیا کو بتایا کہ ہم جیتے نہیں ہے جماعت اسلامی وہ انقلاب لانا چاہتا ہیں جس میں لوگوں کی اصلاح ہو، جماعت اسلامی شیعہ، سنی یا دیوبندیوں کی نہیں تمام فرقوں کی جماعت ہے، مسلکوں کی بنیاد پر لوگوں نے دکانیں بنائی ہے لیکن جماعت اس تفریق کو ختم کرتی ہے، جماعت اسلامی صرف مسلمانوں کے لیے بلکہ انسانیت کے لیے کام کرتی ہے، ہم یہ نہیں دیکھتے کہ کون مسلم یا اس کا مسلک کیا ہے ہم انسانیت کی خدمت کرتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان کا جغرافیہ، عقیدے اور نظریہ کی بنیاد پر ہے، پاکستان کئی قربانیوں کے بعد حاصل کیا گیا، لوگوں نے پاکستان کو تقسیم کرنے کی کوشش کی گئی لیکن کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکا، انہوں نے کہا کہ جب انڈیا سے جنگ جاری تھی ہم نے حکومت کی حمایت کی اسکی وجہ حکومت نہیں بلکہ پاکستان تھا۔

    حافظ نعیم الرحمٰن نے کہاکہ جماعت اسلامی میں کوئی اکیلا نہیں بلکہ ایک قیادت اجتماعی فیصلہ کرتی ہے، ہم باقی جماعتوں کی طرح ایک کا فیصلہ سب پر نہیں تھوپ دیتےجب باجوہ صاحب کی ایکسٹنشن ہوئی تھی تو سب نے مل کر ایکسٹینشن دی تھی،لیکن جب بات کشمیر، فلسطین کی بات ہو تو سب الگ ہو جاتے ہیں، جماعت اسلامی ہمیشہ میرٹ پر فیصلہ کرتی ہے۔

    انہوں نے کہاکہ میدان کی جیتی ہوئی جنگ اگر ہم ٹرمپ کی چاپلوسی پر ہار جائیں تو عوام برداشت نہیں کرے گی، ہم کشمیر کو پیچھے رکھ کر انڈیا کے ساتھ کسی طرح کے مذاکرات نہیں کر اسکتے،کشمیر کے لیے ہزاروں لوگوں نے قربانیاں دی ہیں، امریکا کا ساتھ دینے سے ہم کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے، امریکا کی وجہ سے 150 ارب ڈالر سے زائد ہمیں نقصان ہو چکا ہے۔

    انہوں نے کہاکہ ٹرمپ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ہمیں نوبل پرائز کے لیے نام نامزد کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، ٹرمپ کہے کہ جنگ بندی کرو اور حماس کو ختم کر دو یہ کیسے ہو سکتا ہے، یہ خود دہشت گردی ہے جس کا اعلان ٹرمپ کررہا ہےجب اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تو ٹرمپ نے کہا کہ بہت اچھا کیا، ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران باز نہیں آیا تو مزید حملے کریں گے، جب ایران نے اسرائیل کو جواب دیا تو گرگٹ کی طرح رنگ بدلنے لگا، تب ٹرمپ کا بیان بدل گیا۔

    انہوں نے کہاکہ پاکستان اور بھارت کے معاملے میں بھی ٹرمپ نے ایسا کیا، ٹرمپ کو جنگ بندی اور امن کا خیال اس وقت آتا ہے جب اس کا پسندیدہ پہلوان ’ڈِگ‘ نہ جائے جماعت اسلامی حکومت اور ریاست کو قوم کا سودا نہیں کرنے دیں گے، حکومتی نمائندوں اور ریاست سے کہنا چاہتا ہوں امریکا کے ہاتھوں قوم کا سودا نہ کریں، اگر آپ نے ایسا کیا تو سیاسی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    انہوں نے کہاکہ خیبرپختونخوا کے ضلع سوات میں پیش آنے والا واقعہ قابل افسوس ہے، لوگ دو گھنٹے مدد کے لیے پکارتے رہے، کوئی ریسکیو ٹیم وہاں نہ پہنچی اور لوگ قیمتی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، افسوس کی بات ہے کہ حکمرانوں میں ندامت نہیں ہے، پی ٹی آئی نے بھی کے پی کے میں کچھ نہیں کیا پنجاب کا 10 کھرب کا اسکینڈل سامنے آیا ہے، خیبرپختونخوا میں بھی اسکینڈل سامنے آئے جبکہ سندھ تو اسکینڈلز پر ہی پل رہا ہے، بلوچستان کا تو بجٹ ہی پتہ نہیں کہا جا رہا ہے، اب جماعت اسلامی اس ملک کو ان جماعتوں کے حوالے نہیں کر سکتی۔

  • مخصوص نشستوں کا کیس:سپریم کورٹ کے فیصلے سے دکھ اور مایوسی ہوئی ہے، بیرسٹر گوہر

    مخصوص نشستوں کا کیس:سپریم کورٹ کے فیصلے سے دکھ اور مایوسی ہوئی ہے، بیرسٹر گوہر

    پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے مخصوص نشستوں کے کیس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ مایوس کن اور ناانصافی قرار دے دیا۔

    چئیرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے دکھ اور مایوسی ہوئی ہے، 39 امیدواروں کے نوٹفکیشن کو کسی نے چیلنج نہیں کیا تھا ہمیں امید تھی کہ مخصوص نشستیں ہمیں مل جائیں گی، ہمارے سے نشستیں لے کر مینڈیٹ چوروں کو دے دیا گیا، سپریم کورٹ فل بینچ بیٹھ کر ریوو کرتا تو ہمیں اعتراض نہ ہوتا۔

    سوات میں سیاحوں کو مرنے کے لئے چھوڑ دینے کا ذمہ دار کون ہے؟حافظ خالد نیک

    واضح رہے کہ خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے مخصوص نشستوں کا فیصلہ سنا دیا، 7 ججز کی اکثریت کے ساتھ نظرِ ثانی درخواستیں منظور کر لی گئیں، تمام سول نظرِ ثانی درخواستیں منظور کی جاتی ہیں، 12جولائی 2024ء کا اکثریتی فیصلہ کالعدم قرار دیا جاتا ہے، پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ بحال کر دیا گیا 2 ججوں جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس عقیل عباسی نے پہلے دن ہی ان درخواستوں کو مسترد کیا تھا، جسٹس صلاح الدین پنھور نے آج بینچ سے علیحدگی اختیار کی۔

    یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد قومی اسمبلی میں حکومت کو دو تہائی اکثریت مل جائے گی-

    بھارت کو ذمہ داری سے راہِ فرار اختیار کرنے نہیں دیں گے ،شازیہ مری

  • سپریم کورٹ: آئندہ ہفتے کی سماعت کےلیے  بینچز تشکیل

    سپریم کورٹ: آئندہ ہفتے کی سماعت کےلیے بینچز تشکیل

    اسلام آباد: سپریم کورٹ میں آئندہ ہفتے کی سماعت کےلیے پانچ بینچز تشکیل دے دیے گئے ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق چار بینچ اسلام آباد جبکہ ایک بینچ لاہور رجسٹری میں مقدمات کی سماعت کرے گا اسلام آباد رجسٹری میں بینچ ون چیف جسٹس پاکستان یحییٰ خان آفریدی اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل ہوگا بینچ ٹو جسٹس منیب اختر اور جسٹس عقیل احمد عباسی پر مشتمل ہے، تیسرا بینچ جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل ہوگا بینچ چار جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس عرفان سعادت اور جسٹس ملک شہزاد پر مشتمل ہوگا سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں جسٹس امین الدین خان، جسٹس شاہد بلال اور جسٹس عامر فاروق پر مشتمل بنچ کیسز سنے گا۔

    ٹرمپ کا کینیڈا کے ساتھ تمام تجارتی بات چیت ختم کرنے کا اعلان

    ایرانی سپریم لیڈر کو بچایا، مگر انہوں نے شکریہ تک ادا نہیں کیا،ٹرمپ

    3,194 خواتین کو شادی کے پیغام،کروڑوں ہتھیانے والا گرفتار

  • مخصوص نشستوں سے متعلق نظر ثانی کیس: جسٹس جمال مندوخیل اور وکیل حامد خان کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

    مخصوص نشستوں سے متعلق نظر ثانی کیس: جسٹس جمال مندوخیل اور وکیل حامد خان کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

    اسلام آباد: سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں کے نظرثانی کیس کی سماعت کے درمیان جسٹس جمال مندوخیل اور وکیل حامد خان کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا جبکہ دورانِ سماعت جسٹس صلاح الدین پنہور نے خود کو بینچ سے الگ کر لیا، جس کے باعث بینچ ٹوٹ گیا،مخصوص نشستوں کے فیصلے کیخلاف نظر ثانی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ ہوگیا، سپریم کورٹ آئینی بینچ کچھ دیر میں مختصر فیصلہ سنائے گا۔

    سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں سے متعلق فیصلے کے خلاف نظرثانی درخواستوں کی سماعت ہوئی کیس کی سماعت جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں قائم گیارہ رکنی آئینی بینچ کر رہا تھا،آئینی بینچ میں جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس نعیم اختر افغان، جسٹس عقیل عباسی، جسٹس شاہد بلال حسن، جسٹس ہاشم کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پنہور، جسٹس عامر فاروق اور جسٹس علی باقر نجفی شامل تھے۔

    سماعت کے دوران سنی اتحاد کونسل کے وکیل حامد خان اپنے دلائل پیش کر رہے تھے کہ اس دوران جسٹس صلاح الدین پنہور نے ریمارکس دیے کہ میں اپنا مختصر فیصلہ پڑھنا چاہتا ہوں،جسٹس پنہور نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ کیس کی کئی سماعتوں کا حصہ رہے ہیں، تاہم گزشتہ سماعت پر وکیل حامد خان کی جانب سے دیے گئے ریمارکس پر دکھ پہنچا وکیل حامد خان سے 2010 میں مل کر کام بھی کر چکا ہوں، لیکن گزشتہ سماعت پر چھبیسویں آئینی ترمیم کےبعد آنیوالے ججز پر اعتراضات کیے گئے،ان اعتراضات میں شامل ججز میں میں بھی شامل ہوں۔

    افواج پاکستان موجودہ دور کے جنگی تقاضوں کے مطابق ہمہ وقت تیار ہیں،فیلڈ مارشل

    جسٹس صلاح الدین پنہور نے کہا کہ وہ خود کو اس بینچ سے الگ کر رہے ہیں تاکہ عدالتی غیر جانبداری پر کوئی سوال نہ اٹھے،تاہم اس عدالتی کارروائی کے بعد بینچ 11 رکنی سے کم ہو کر 10 رکنی رہ گیا ہے،بینچ کے 10 رکنی ہونے کے بعد بھی وکیل حامد خان نے بینچ پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ 10 رکنی بینچ یہ کیس نہیں سن سکتا۔

    جس پر جسٹس جمال مندوخیل نےردعمل دیتے ہوئے کہا آپ یہ کس قانون کے تحت کہہ رہے ہیں؟ اس طرح نہیں چلے گا، آپ غیر ضروری باتیں نہ کریں۔انہوں نے مزید کہا آپ صرف رولز سے عدالت کو آگاہ کریں، جسٹس امین الدین خان نے وکیل کا اعتراض مسترد کرتے ہوئے کہا ہم آپ کا اعتراض مسترد کرتے ہیں۔

    حج 2026 کیلئے عازمین کی لازمی رجسٹریشن کا باقاعدہ آغاز ہو گیا

    حامد خان نے کہا کہ مثالیں موجود ہیں آپ یہ سماعت نہیں کر سکتے، اس پر جسٹس مندوخیل نے کہا کہاں لکھا ہے کہ ہم کیس کی سماعت نہیں کر سکتے، سپریم کورٹ رولزمیں دکھائیں کیسے نہیں کرسکتے سماعت؟ اگر آپ نے دلائل دینا ہیں تو دیں ورنہ واپس کرسی پر بیٹھ جائیں، یہ سپریم کورٹ ہے، مذاق بنانے کی اجازت نہیں دیں گے، آپ اچھے وکیل ہیں مگر جو آپ نےکیا ہے یہ اچھے وکیل کارویہ نہیں ہے۔

    اس موقع پر حامد خان نے جسٹس مندوخیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا آپ اتنی سختی کیسے کرسکتے ہیں؟ میں سپریم کورٹ کی عزت کرتا ہوں آپ میرے کنڈکٹ پر بات کیسے کرسکتے ہیں، آپ دوسروں کو بات نہیں کرنے دیتے، سن تو لیں ، عزت سے بات کریں۔

    وکیل حامد خان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ قاضی فائز عیسیٰ کیس کی مثال ہے، قاضی فائزعیسیٰ کیس میں طےہوا اصل کیس سےکم ججز نظرثانی کیس کی سماعت نہیں کرسکتے، اس پر جسٹس مندوخیل نے کہا کہ قاضی فائز عیسی کا نام نہ لیں آپ سپریم کورٹ رول پڑھیں، حامد خان نے جواب دیا میں کیوں قاضی فائز عیسی کا نام نہ لوں؟ اس پر جسٹس مندوخیل نے کہا کہ ہمیں سختی کرنا آتی ہے، آپ کو کہا ہے رول پڑھیں۔

    قانون سے کھلواڑ کرتے بیوروکریسی کے سپر ہیروز.تحریر:ملک سلمان

    حامد خان نے جسٹس جمال مندوخیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ غصے کی حالت میں ہیں یہ سماعت نہ کریں، اس پر جسٹس مندوخیل نے جواب دیا مائنڈ یور لینگویج، میں کس حالت میں ہوں مجھے معلوم ہے، میں اس ادارے کی خاطر اپنی والدہ کی فاتحہ چھوڑ کرآیا ہوں آپ مذاق پر تُلے ہیں۔

    وکیل حامد خان نے دلائل دیے کہ 13 ججز کے فیصلے کے خلاف 10 جج بیٹھ کر سماعت نہیں کرسکتے، اس پر جسٹس مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ 13 میں سے الگ ہونے والے ججز کی رائے بھی شمار ہوگی۔

    وکیل حامد خان سے مکالمہ کرتے ہوئے جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ کا ہم احترام کرتے ہیں مگر 26 ویں ترمیم ہم نے نہیں پارلیمنٹ نے کی، آپ نے 26 ویں ترمیم کے خلاف ووٹ نہیں دیا، آپ نے بائیکاٹ کیا، جب تک 26 ویں ترمیم آئین کا حصہ ہے ہم اس کے پابند ہیں یا تو آپ اس سسٹم کو تسلیم کر لیں یا پھر وکالت چھوڑ دیں۔

    خامنہ ای کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، اسرائیلی وزیر دفاع

    بعد ازاں سپریم کورٹ نے مخصوص نشستوں سے متعلق کیس میں حامد خان کا بینچ پر اعتراض مسترد کردیا۔

  • جوڈیشل کمیشن نے سپریم کورٹ کی آئینی بینچ کی مدت بڑھادی

    جوڈیشل کمیشن نے سپریم کورٹ کی آئینی بینچ کی مدت بڑھادی

    اسلام آباد میں جوڈیشل کمیشن نے اکثریتی رائے سے سپریم کورٹ کی آئینی بینچ کی مدت میں مزید 6ماہ کی توسیع کر دی، جو اب 30 نومبر 2025 تک کام کرے گی۔

    پاکستان کی جوڈیشل کمیشن (جے سی پی) نے اکثریتی ارکان کی منظوری سے سپریم کورٹ کی آئینی بینچ کی مدت 30 نومبر 2025 تک بڑھا دی، اس بینچ کی مدت رواں ماہ ختم ہونے والی تھی 26ویں آئینی ترمیم کے تحت، 5 نومبر 2024 کو سات رکنی آئینی بینچ تشکیل دیا گیا تھا، جس کی ابتدائی مدت 60 دن مقرر کی گئی تھی۔

    بینچ میں جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ اے ملک، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس شاہد بلال حسن شامل تھے،بعد ازاں دسمبر میں اس بینچ کی مدت میں چھ ماہ کی توسیع کر دی گئی تھی،فروری میں بینچ کو توسیع دے کر اس کے ارکان کی تعداد 13 کر دی گئی تھی، جن میں جسٹس ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پہنور، جسٹس شکیل احمد، جسٹس عامر فاروق اور جسٹس اشتیاق ابراہیم کو شامل کیا گیا۔

    جے سی پی نے جمعرات کو دو اجلاس منعقد کیے،کمیشن نے 23 جولائی سے مزید چھ ماہ کے لیے توسیع کی منظوری دی اور جسٹس عدنان اقبال چوہدری اور جسٹس جعفر رضا کو نامزد کیا، جب کہ جسٹس آغا فیصل اور جسٹس ثنا اکرم منہاس کی جگہ لی گئی۔