Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • مخصوص نشستوں کا کیس:سپریم کورٹ کے فیصلے سے دکھ اور مایوسی ہوئی ہے، بیرسٹر گوہر

    مخصوص نشستوں کا کیس:سپریم کورٹ کے فیصلے سے دکھ اور مایوسی ہوئی ہے، بیرسٹر گوہر

    پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے مخصوص نشستوں کے کیس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ مایوس کن اور ناانصافی قرار دے دیا۔

    چئیرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے دکھ اور مایوسی ہوئی ہے، 39 امیدواروں کے نوٹفکیشن کو کسی نے چیلنج نہیں کیا تھا ہمیں امید تھی کہ مخصوص نشستیں ہمیں مل جائیں گی، ہمارے سے نشستیں لے کر مینڈیٹ چوروں کو دے دیا گیا، سپریم کورٹ فل بینچ بیٹھ کر ریوو کرتا تو ہمیں اعتراض نہ ہوتا۔

    سوات میں سیاحوں کو مرنے کے لئے چھوڑ دینے کا ذمہ دار کون ہے؟حافظ خالد نیک

    واضح رہے کہ خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے مخصوص نشستوں کا فیصلہ سنا دیا، 7 ججز کی اکثریت کے ساتھ نظرِ ثانی درخواستیں منظور کر لی گئیں، تمام سول نظرِ ثانی درخواستیں منظور کی جاتی ہیں، 12جولائی 2024ء کا اکثریتی فیصلہ کالعدم قرار دیا جاتا ہے، پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ بحال کر دیا گیا 2 ججوں جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس عقیل عباسی نے پہلے دن ہی ان درخواستوں کو مسترد کیا تھا، جسٹس صلاح الدین پنھور نے آج بینچ سے علیحدگی اختیار کی۔

    یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد قومی اسمبلی میں حکومت کو دو تہائی اکثریت مل جائے گی-

    بھارت کو ذمہ داری سے راہِ فرار اختیار کرنے نہیں دیں گے ،شازیہ مری

  • سپریم کورٹ: آئندہ ہفتے کی سماعت کےلیے  بینچز تشکیل

    سپریم کورٹ: آئندہ ہفتے کی سماعت کےلیے بینچز تشکیل

    اسلام آباد: سپریم کورٹ میں آئندہ ہفتے کی سماعت کےلیے پانچ بینچز تشکیل دے دیے گئے ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق چار بینچ اسلام آباد جبکہ ایک بینچ لاہور رجسٹری میں مقدمات کی سماعت کرے گا اسلام آباد رجسٹری میں بینچ ون چیف جسٹس پاکستان یحییٰ خان آفریدی اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل ہوگا بینچ ٹو جسٹس منیب اختر اور جسٹس عقیل احمد عباسی پر مشتمل ہے، تیسرا بینچ جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل ہوگا بینچ چار جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس عرفان سعادت اور جسٹس ملک شہزاد پر مشتمل ہوگا سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں جسٹس امین الدین خان، جسٹس شاہد بلال اور جسٹس عامر فاروق پر مشتمل بنچ کیسز سنے گا۔

    ٹرمپ کا کینیڈا کے ساتھ تمام تجارتی بات چیت ختم کرنے کا اعلان

    ایرانی سپریم لیڈر کو بچایا، مگر انہوں نے شکریہ تک ادا نہیں کیا،ٹرمپ

    3,194 خواتین کو شادی کے پیغام،کروڑوں ہتھیانے والا گرفتار

  • مخصوص نشستوں سے متعلق نظر ثانی کیس: جسٹس جمال مندوخیل اور وکیل حامد خان کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

    مخصوص نشستوں سے متعلق نظر ثانی کیس: جسٹس جمال مندوخیل اور وکیل حامد خان کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

    اسلام آباد: سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں کے نظرثانی کیس کی سماعت کے درمیان جسٹس جمال مندوخیل اور وکیل حامد خان کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا جبکہ دورانِ سماعت جسٹس صلاح الدین پنہور نے خود کو بینچ سے الگ کر لیا، جس کے باعث بینچ ٹوٹ گیا،مخصوص نشستوں کے فیصلے کیخلاف نظر ثانی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ ہوگیا، سپریم کورٹ آئینی بینچ کچھ دیر میں مختصر فیصلہ سنائے گا۔

    سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں سے متعلق فیصلے کے خلاف نظرثانی درخواستوں کی سماعت ہوئی کیس کی سماعت جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں قائم گیارہ رکنی آئینی بینچ کر رہا تھا،آئینی بینچ میں جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس نعیم اختر افغان، جسٹس عقیل عباسی، جسٹس شاہد بلال حسن، جسٹس ہاشم کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پنہور، جسٹس عامر فاروق اور جسٹس علی باقر نجفی شامل تھے۔

    سماعت کے دوران سنی اتحاد کونسل کے وکیل حامد خان اپنے دلائل پیش کر رہے تھے کہ اس دوران جسٹس صلاح الدین پنہور نے ریمارکس دیے کہ میں اپنا مختصر فیصلہ پڑھنا چاہتا ہوں،جسٹس پنہور نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ کیس کی کئی سماعتوں کا حصہ رہے ہیں، تاہم گزشتہ سماعت پر وکیل حامد خان کی جانب سے دیے گئے ریمارکس پر دکھ پہنچا وکیل حامد خان سے 2010 میں مل کر کام بھی کر چکا ہوں، لیکن گزشتہ سماعت پر چھبیسویں آئینی ترمیم کےبعد آنیوالے ججز پر اعتراضات کیے گئے،ان اعتراضات میں شامل ججز میں میں بھی شامل ہوں۔

    افواج پاکستان موجودہ دور کے جنگی تقاضوں کے مطابق ہمہ وقت تیار ہیں،فیلڈ مارشل

    جسٹس صلاح الدین پنہور نے کہا کہ وہ خود کو اس بینچ سے الگ کر رہے ہیں تاکہ عدالتی غیر جانبداری پر کوئی سوال نہ اٹھے،تاہم اس عدالتی کارروائی کے بعد بینچ 11 رکنی سے کم ہو کر 10 رکنی رہ گیا ہے،بینچ کے 10 رکنی ہونے کے بعد بھی وکیل حامد خان نے بینچ پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ 10 رکنی بینچ یہ کیس نہیں سن سکتا۔

    جس پر جسٹس جمال مندوخیل نےردعمل دیتے ہوئے کہا آپ یہ کس قانون کے تحت کہہ رہے ہیں؟ اس طرح نہیں چلے گا، آپ غیر ضروری باتیں نہ کریں۔انہوں نے مزید کہا آپ صرف رولز سے عدالت کو آگاہ کریں، جسٹس امین الدین خان نے وکیل کا اعتراض مسترد کرتے ہوئے کہا ہم آپ کا اعتراض مسترد کرتے ہیں۔

    حج 2026 کیلئے عازمین کی لازمی رجسٹریشن کا باقاعدہ آغاز ہو گیا

    حامد خان نے کہا کہ مثالیں موجود ہیں آپ یہ سماعت نہیں کر سکتے، اس پر جسٹس مندوخیل نے کہا کہاں لکھا ہے کہ ہم کیس کی سماعت نہیں کر سکتے، سپریم کورٹ رولزمیں دکھائیں کیسے نہیں کرسکتے سماعت؟ اگر آپ نے دلائل دینا ہیں تو دیں ورنہ واپس کرسی پر بیٹھ جائیں، یہ سپریم کورٹ ہے، مذاق بنانے کی اجازت نہیں دیں گے، آپ اچھے وکیل ہیں مگر جو آپ نےکیا ہے یہ اچھے وکیل کارویہ نہیں ہے۔

    اس موقع پر حامد خان نے جسٹس مندوخیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا آپ اتنی سختی کیسے کرسکتے ہیں؟ میں سپریم کورٹ کی عزت کرتا ہوں آپ میرے کنڈکٹ پر بات کیسے کرسکتے ہیں، آپ دوسروں کو بات نہیں کرنے دیتے، سن تو لیں ، عزت سے بات کریں۔

    وکیل حامد خان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ قاضی فائز عیسیٰ کیس کی مثال ہے، قاضی فائزعیسیٰ کیس میں طےہوا اصل کیس سےکم ججز نظرثانی کیس کی سماعت نہیں کرسکتے، اس پر جسٹس مندوخیل نے کہا کہ قاضی فائز عیسی کا نام نہ لیں آپ سپریم کورٹ رول پڑھیں، حامد خان نے جواب دیا میں کیوں قاضی فائز عیسی کا نام نہ لوں؟ اس پر جسٹس مندوخیل نے کہا کہ ہمیں سختی کرنا آتی ہے، آپ کو کہا ہے رول پڑھیں۔

    قانون سے کھلواڑ کرتے بیوروکریسی کے سپر ہیروز.تحریر:ملک سلمان

    حامد خان نے جسٹس جمال مندوخیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ غصے کی حالت میں ہیں یہ سماعت نہ کریں، اس پر جسٹس مندوخیل نے جواب دیا مائنڈ یور لینگویج، میں کس حالت میں ہوں مجھے معلوم ہے، میں اس ادارے کی خاطر اپنی والدہ کی فاتحہ چھوڑ کرآیا ہوں آپ مذاق پر تُلے ہیں۔

    وکیل حامد خان نے دلائل دیے کہ 13 ججز کے فیصلے کے خلاف 10 جج بیٹھ کر سماعت نہیں کرسکتے، اس پر جسٹس مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ 13 میں سے الگ ہونے والے ججز کی رائے بھی شمار ہوگی۔

    وکیل حامد خان سے مکالمہ کرتے ہوئے جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ کا ہم احترام کرتے ہیں مگر 26 ویں ترمیم ہم نے نہیں پارلیمنٹ نے کی، آپ نے 26 ویں ترمیم کے خلاف ووٹ نہیں دیا، آپ نے بائیکاٹ کیا، جب تک 26 ویں ترمیم آئین کا حصہ ہے ہم اس کے پابند ہیں یا تو آپ اس سسٹم کو تسلیم کر لیں یا پھر وکالت چھوڑ دیں۔

    خامنہ ای کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، اسرائیلی وزیر دفاع

    بعد ازاں سپریم کورٹ نے مخصوص نشستوں سے متعلق کیس میں حامد خان کا بینچ پر اعتراض مسترد کردیا۔

  • جوڈیشل کمیشن نے سپریم کورٹ کی آئینی بینچ کی مدت بڑھادی

    جوڈیشل کمیشن نے سپریم کورٹ کی آئینی بینچ کی مدت بڑھادی

    اسلام آباد میں جوڈیشل کمیشن نے اکثریتی رائے سے سپریم کورٹ کی آئینی بینچ کی مدت میں مزید 6ماہ کی توسیع کر دی، جو اب 30 نومبر 2025 تک کام کرے گی۔

    پاکستان کی جوڈیشل کمیشن (جے سی پی) نے اکثریتی ارکان کی منظوری سے سپریم کورٹ کی آئینی بینچ کی مدت 30 نومبر 2025 تک بڑھا دی، اس بینچ کی مدت رواں ماہ ختم ہونے والی تھی 26ویں آئینی ترمیم کے تحت، 5 نومبر 2024 کو سات رکنی آئینی بینچ تشکیل دیا گیا تھا، جس کی ابتدائی مدت 60 دن مقرر کی گئی تھی۔

    بینچ میں جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ اے ملک، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس شاہد بلال حسن شامل تھے،بعد ازاں دسمبر میں اس بینچ کی مدت میں چھ ماہ کی توسیع کر دی گئی تھی،فروری میں بینچ کو توسیع دے کر اس کے ارکان کی تعداد 13 کر دی گئی تھی، جن میں جسٹس ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پہنور، جسٹس شکیل احمد، جسٹس عامر فاروق اور جسٹس اشتیاق ابراہیم کو شامل کیا گیا۔

    جے سی پی نے جمعرات کو دو اجلاس منعقد کیے،کمیشن نے 23 جولائی سے مزید چھ ماہ کے لیے توسیع کی منظوری دی اور جسٹس عدنان اقبال چوہدری اور جسٹس جعفر رضا کو نامزد کیا، جب کہ جسٹس آغا فیصل اور جسٹس ثنا اکرم منہاس کی جگہ لی گئی۔

  • سپریم کورٹ کے ججز کے بیرون ملک سفر اور چھٹیوں کیلئے نیا ضابطہ کار طے

    سپریم کورٹ کے ججز کے بیرون ملک سفر اور چھٹیوں کیلئے نیا ضابطہ کار طے

    سپریم کورٹ کے ججز کو بیرون ملک جانے کے لیے چیف جسٹس آف پاکستان سے این او سی لینا لازمی ہوگا۔

    سپریم کورٹ رجسٹرار آفس کی جانب سے جاری کردہ جنرل اسٹینڈنگ آرڈر کے تحت سپریم کورٹ کے ججز کے بیرون ملک سفر اور چھٹیوں کے لیے ضابطہ کار طے کر دیا گیا ہے، جس کے تحت اب ججز کو بیرون ملک جانے کے لیے چیف جسٹس آف پاکستان سے این او سی لینا لازمی ہوگا،جس کے مطابق چیف جسٹس کو اختیار ہوگا کہ وہ کسی بھی جج کی چھٹی منظور یا مسترد کر سکیں، حتیٰ کہ ضرورت پڑنے پر جج کو واپس بھی بلا سکتے ہیں،تاہم چیف جسٹس یہ اختیارات عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے استعمال کریں گے۔

    ایس او پی کے مطابق ججز کو ہر قسم کی چھٹی کے لیے پیشگی منظوری لینا ہوگی، اور اس کے ساتھ معقول وجہ بھی بیان کرنا لازم ہوگا چھٹی کے دوران جج صاحبان کو اپنا موجودہ پتہ اور رابطے کی تفصیلات بھی فراہم کرنا ہوں گی، صرف سرکاری دوروں کے لیے وزارتِ خارجہ سے پروٹوکول کی درخواست کی جائے گی۔

  • سپریم کورٹ نے ججز سنیارٹی اور ٹرانسفر کیس کا فیصلہ سنا دیا

    سپریم کورٹ نے ججز سنیارٹی اور ٹرانسفر کیس کا فیصلہ سنا دیا

    اسلام آباد: سپریم کورٹ نے ججز تبادلہ و سنیارٹی کیس سے متعلق اہم آئینی مقدمےکا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا جو کہ اب سنا دیاگیا ہے،عدالت نے دو تین کی اکثریت سے ججز کی درخواستوں کو مسترد کردیا۔

    سپریم کورٹ میں ججز تبادلہ و سنیارٹی کیس کی سماعت ہوئی پانچ رکنی آئینی بینچ، جس کی سربراہی جسٹس محمد علی مظہر کر رہے ہیں سماعت کے دوران عدالت نے تمام فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا تھا جو کہ سنا دیا گیا ہےجبکہ تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔

    سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے فیصلہ 3-2 سے سنایا، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس شاہد بلال اور جسٹس صلاح الدین پنہورنے اکثریت فیصلے سے اتفاق کیا،عدالت نے کہا کہ ججز کا تبادلہ غیر آئینی نہیں ہےعدالت نے ججز کی سنیارٹی کا معاملہ صدر پاکستان کو ریمارنڈ کر دیا اکثریتی فیصلے میں عدالت نے قرار دیا کہ جسٹس سردار سرفراز ڈوگر کا ٹرانسفر آئین و قانون کے مطابق ہے۔

    اکثریتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ججز کے تبادلے کے نوٹیفکیشن کو کالعدم قرار نہیں دے رہے صدر مملکت سنیارٹی کے معاملے کو جتنی جلد ممکن ہو طے کریں، جب تک صدر مملکت سنیارٹی طے نہیں کرتے، قائم مقام چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر ہی امور سرانجام دیتے رہیں گے۔

    کیس سے متعلق سپریم کورٹ کے اکثریتی فیصلے پر جسٹس نعیم اختر اور جسٹس شکیل احمد نے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ ہائی کورٹ میں ججز کا تبادلہ بدنیتی پر مبنی تھا اسلام آباد ہائیکورٹ میں ججز ٹرانسفر کو کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔ ٹرانسفر کے معاملے پر صدر مملکت نے آئینی خلاف ورزی کی۔

    ججز ٹرانسفر کیس میں 2 ججز کے اختلافی نوٹ میں مزید کہا گیا کہ آئین پاکستان تبادلہ ہو کر آئے ججز کو مستقل طور ہائیکورٹ کا جج بنانے کی اجازت نہیں دیتا تبادلہ ہو کر آئے ججز کے لیے کوئی وقت مقرر کرنا ہوتا ہے ججز کا تبادلہ جلد بازی میں کیا گیا اور وجوہات بھی نہیں دیں گئیں اسلام آباد ہائیکورٹ میں ججز تبادلہ بدنیتی پر مبنی تھا۔

    واضح رہے کہ جسٹس سرفراز ڈوگر، جسٹس محمد آصف اور جسٹس خادم حسین سومرو کا اسلام آباد ہائی کورٹ تبادلہ ہوا تھا 3 ججز کے تبادلوں کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ کے 5 ججوں نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔

    تبادلے اور سنیارٹی کے خلاف جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس بابر ستار، جسٹس طارق جہانگیری نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ اور سپریم کورٹ سے رجوع کرنے والے 5 ہائی کورٹ ججز میں جسٹس سردار اعجاز اسحاق اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز بھی شامل ہیں،ججز ٹرانسفر اور سنیارٹی کے خلاف بانی پی ٹی آئی اور کراچی بار نے بھی درخواستیں دائر کی تھی۔

  • لاہور ہائیکورٹ بار کی فوجی عدالتوں سے متعلق فیصلے پر نظرثانی کیلئے درخواست

    لاہور ہائیکورٹ بار کی فوجی عدالتوں سے متعلق فیصلے پر نظرثانی کیلئے درخواست

    اسلام آباد:لاہور ہائی کورٹ بار نے فوجی عدالتوں سے متعلق فیصلے پر نظر ثانی کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی۔

    لاہور ہائی کورٹ بار نے درخواست میں کہا ہے کہ سپریم کورٹ کا 7 مئی کا فیصلہ آئین اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، شہریوں کے مقدمات فوجی عدالتوں میں چلانا آرٹیکل 10A اور 175(3) کے خلاف ہے۔

    درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ فوجی عدالتوں میں شفاف ٹرائل اوراپیل کا حق نہیں اور منصفانہ سماعت ممکن نہیں اور سپریم کورٹ کا فیصلہ اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی ہے،لاہور ہائیکورٹ بار نے استدعا کی ہے کہ تاریخ میں کبھی شہریوں پر فوجی عدالتوں کا اطلاق نہیں ہوا لہٰذا سپریم کورٹ فوجی عدالتوں میں سویلین ٹرائل کالعدم قرار دے۔

    خیبرپختونخوا کا بجٹ پیش،ماہانہ اجرت ،تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ

    اسرائیلی حملے سے قبل ایران میں موساد کمانڈوز کی کارروائیاں سامنے آگئیں،ویڈیوز

    اسرائیل کا ایران پر حملہ، ایران اور عراق سمیت کئی ممالک نے فضائی حدود بند کردیں

  • مخصوص نشستیں نظرثانی کیس: ہمیں کوئی مسئلہ نہیں کہ نشستیں پی ٹی آئی کو ملیں یا کسی اور کو،وکیل فیصل صدیقی

    مخصوص نشستیں نظرثانی کیس: ہمیں کوئی مسئلہ نہیں کہ نشستیں پی ٹی آئی کو ملیں یا کسی اور کو،وکیل فیصل صدیقی

    سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں کے فیصلے کے خلاف حکومتی نظرثانی درخواستوں کی سماعت میں وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ انہیں کوئی مسئلہ نہیں کہ نشستیں پی ٹی آئی کو ملیں یا کسی اور کو-

    سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں کے فیصلے کے خلاف حکومتی نظرثانی درخواستوں کی سماعت ہوئی جسٹس امین الدین کی سربراہی میں 11 رکنی آئینی بینچ نے کیس کی سماعت کی، سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی نے دلائل دئیے۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے ن لیگی وکیل سے سوال کیا کہ ایک جماعت کے امیدواروں کو آزاد کیسے قرار دیا گیا؟ اور کیا انہوں نے اپنی تحریری گزارشات میں اس کا جواب دیا؟ جس پر وکیل حارث عظمت نے کہا کہ جواب دینے کی کوشش کی ہے، فیصل صدیقی نے کہا کہ کچھ درخواستوں میں سپریم کورٹ رولز کو مدنظر نہیں رکھا گیا، اس لیے ان درخواستوں کو مسترد کیا جائے۔

    فیصل صدیقی نے کہا کہ ان سے پوچھا گیا تھا کہ سنی اتحاد کونسل کا انتخابی نشان کیا ہے، جس پر انہوں نے بتایا کہ نشان گھوڑا ہے، مگر حامد رضا آزاد حیثیت میں الیکشن لڑے وہ اس کا جواب دیں گے کہ حامد رضا آزاد حیثیت میں کیوں لڑے۔

    جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ ہمارے سامنے یہ معاملہ نہیں کہ کون کیسے لڑا جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ انہیں سوال کا تسلی بخش جواب نہیں ملا، صاحبزادہ حامد رضا کی 2013 سے سیاسی جماعت موجود ہے، اور جو جماعت الیکشن لڑے وہی پارلیمانی پارٹی بناتی ہے، تو پھر وہ اپنی جماعت سے نہیں لڑے تو پارلیمانی جماعت کیوں بنائی؟مخصوص نشستوں کے فیصلے میں کہا گیا کہ ووٹ بنیادی حق ہے، جبکہ ووٹ بنیادی حق نہیں ہےفیصلے میں تین دن کی مدت کو بڑھا کر 15 دن کرنا آئین دوبارہ تحریر کرنے جیسا تھا۔

    فیصل صدیقی نے کہا کہ گیارہ ججز نے آزاد امیدواروں کو پی ٹی آئی کا تسلیم کیا،جس پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ 39 امیدواروں کی حد تک وہ اور قاضی فائز عیسیٰ بھی آٹھ ججز سے متفق تھے، اور جسٹس یحییٰ آفریدی نے بھی پی ٹی آئی کو پارٹی تسلیم کیا، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اقلیتی ججز نے بھی انہی گراؤنڈز پر پی ٹی آئی کو مانا جن پر اکثریتی ججز نے مانا تھا۔

    فیصل صدیقی نے کہا کہ اب نظرثانی درخواستوں میں ان اقلیتی فیصلوں پر انحصار کیا جا رہا ہے، جبکہ ان درخواستوں میں کہا گیا تھا کہ پی ٹی آئی کو ریلیف مل ہی نہیں سکتا تھا، نظرثانی ان فیصلوں پر انحصار کر کے کیسے لائی جا سکتی ہے جبکہ ان فیصلوں میں تو پی ٹی آئی کو پارٹی تسلیم کیا گیا ہے، جسٹس صلاح الدین پنہور نےکہا کہ نظرثانی لانے والوں نے تو جس فیصلے کو چیلنج کیااسے ہمارے سامنے پڑھا ہی نہیں۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ کیا جج آئینی اسکوپ سے باہر جا کر فیصلہ دے سکتے ہیں؟ عوامی امنگوں اور جمہوریت کے لیے ہی سہی، مگر کیا جج آئین ری رائٹ کر سکتے ہیں؟ فیصل صدیقی نے جواب دیا کہ کوئی آئین ”ری رائٹ“ نہیں کیا گیا جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ ری رائٹ کیا گیا، تین دن کی مدت کو بڑھا کر 15 دن کیا گیا فیصل صدیقی نے کہا کہ جمہوریت میں سب کو برابر کے حقوق ملنے چاہئیں، اور پی ٹی آئی کے امیدواروں کو جان بوجھ کر حقوق نہیں دیے گئے۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ جمہوریت کی بات کی گئی ہے، تو کیا امیدواروں کا اپنی مرضی سے فیصلہ کرنا جمہوریت نہیں؟ کسی کو زبردستی دوسری جماعت میں شمولیت پر مجبور تو نہیں کیا جا سکتا، جو آزاد امیدوار کسی اور پارلیمانی جماعت میں جانا چاہیں، جا سکتے ہیں۔

    فیصل صدیقی نے کہا کہ اس ساری صورتحال میں الیکشن کمیشن کا کردار اہم ہے، اور الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے امیدواروں کو آزاد قرار دیا اکثریتی ججز نے کہا کہ مخصوص نشستیں پی ٹی آئی کو ملنی چاہئیں،جس پر جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ یہ آپ اپنے لیے مسائل پیدا کر رہے ہیں۔

    فیصل صدیقی نے کہا کہ انہیں کوئی مسئلہ نہیں کہ نشستیں پی ٹی آئی کو ملیں یا کسی اور کو، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ کی فلم تو پھر فلاپ ہو جائے گی، جس پر فیصل صدیقی نے کہا کہ فلم آپ کی مرضی سے فلاپ ہونی ہے، آپ کا فیصلہ قبول ہو گا۔

    فیصل صدیقی نے کہا کہ جمہوریت میں سب کو برابر کے حقوق ملنے چاہئیں، اور یہ پہلا موقع ہے کہ 13 رکنی بینچ کے فیصلے پر نظرثانی آئی ہےجس فیصلے پر نظرثانی آئی وہ ابھی تک عدالت کے سامنے پڑھا ہی نہیں گیا، اور عدالت سے کہا کہ وہ حیران ہیں کہ کہا جا رہا ہے اکثریتی فیصلہ نظرثانی میں پڑھا ہی نہ جائے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ کو کس نے روکا ہے فیصلہ پڑھنے سے؟ کیوں گلہ کر رہے ہیں؟

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ تحریک انصاف انٹرا پارٹی کیس کے فیصلے کے بعد بھی ایک جماعت تھی، اور اس معاملے پر پی ٹی آئی کو کوئی غلط فہمی نہیں تھی اگر غلط فہمی ہوتی تو وہ پارٹی سرٹیفکیٹ جاری نہ کرتے۔

    فیصل صدیقی نے کہا کہ پورا پاکستان دیکھ رہا ہے، وہ اقلیتی فیصلہ بھی پڑھنا چاہتے ہیں وہ جسٹس امین کے فیصلے سے متفق نہیں مگر وہ ایک ”فورس فل“ فیصلہ تھا جسٹس امین الدین سے فیصل صدیقی نے کہا کہ آپ کی چیل کی طرح مجھ پر نگاہ ہے، جس پر جسٹس امین نے کہا کہ اس کے باوجود آپ اتنا وقت لے رہے ہیں جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ تعریف کرنا ویسے کوئی آپ سے سیکھے، فیصل صدیقی نے کہا کہ سوری، چیل نہیں، عقاب کی طرح بولنا تھا۔

    فیصل صدیقی نے کہا کہ تحریک انصاف کو انتخابات لڑنے سے روکا گیا۔ جس پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آئین سے بتا دیں کہ جماعت انتخابات لڑتی ہے یا امیدوار؟ کیسے کہہ رہے ہیں کہ پارٹی انتخابات میں حصہ لیتی ہے؟ فیصل صدیقی نے جواب دیا کہ پارٹی کے امیدوار انتخابات لڑتے ہیں، اور مشترکہ نشان کا یہی مطلب ہےسیاسی جماعت کے پاس انتخابات لڑنے کا حق بھی ہے جسٹس مندوخیل نے کہا کہ کوئی امیدوار اگر پارٹی کے نشان پر انتخابات لڑنا چاہتا ہے تو پارٹی سے امیدوار سرٹیفیکیٹ لے گا۔

    عدالت نے کیس کی سماعت 16 جون تک ملتوی کر دی۔

  • مخصوص نشستیں نظر ثانی کیس: کبھی کبھار ہار کر بھی جیت جاتے ہیں، وکیل فیصل صدیقی

    مخصوص نشستیں نظر ثانی کیس: کبھی کبھار ہار کر بھی جیت جاتے ہیں، وکیل فیصل صدیقی

    سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں سے متعلق نظرثانی درخواستوں پرسماعت میں وکیل فیصل صدیقی سے جسٹس مسرت ہلالی نے سوال کیا کہ آپ سنی اتحاد کونسل کے وکیل ہیں، آپ پی ٹی آئی کی نمائندگی کیسے کر سکتے ہیں؟-

    سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں سے متعلق نظرثانی درخواستوں پرسماعت جاری ہے جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں گیارہ رکنی آئینی بینچ کیس کی سماعت کر رہا ہے، جسے سپریم کورٹ کے یوٹیوب چینل پر براہ راست نشر کیا جا رہا ہے۔

    سماعت کے دوران وکیل فیصل صدیقی سے جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ آپ ریویو کی حمایت کر رہے ہیں یا مخالفت؟‘ آپ کو تو اس کی حمایت کرنی چاہیے تھی، جس پر فیصل صدیقی نے جواب دیا کہ ہمارا انداز محبت والا ہے، ہم ہار کر بھی جیت جاتے ہیں۔

    بعد ازاں معروف وکیل سلمان اکرم راجہ بھی روسٹرم پر آ گئے، اس دوران جسٹس جمال مندوخیل نے ایک بار پھر فیصل صدیقی سے مکالمہ کرتے ہوئے پوچھا کہ آپ نظرثانی کو سپورٹ کر رہے ہیں یا مخالفت؟جس پر فیصل صدیقی نے جواب دیا کہ میں جسٹس مندو خیل کے فیصلے کو کسی حد تک سپورٹ کر رہا ہوں، کبھی کبھار ہار کر بھی جیت جاتے ہیں، جس پر جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ سب سے زیادہ متاثرہ آپ تھے، تو فیصل صدیقی نےکہاہمیں تو سب سے زیادہ خوشی ہے۔

    جسٹس مندوخیل نے سلمان اکرم راجہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی کیس میں وہ پی ٹی آئی کی طرف سے سنی اتحاد کونسل کو سپورٹ کر رہے تھے، جس پر وکیل حامد خان نے کہا کہ جان بوجھ کر پی ٹی آئی کو فریق نہیں بنایا گیا، فیصل صدیقی نے نشاندہی کی کہ بینچ میں شامل اکثریت ججز نے مرکزی کیس نہیں سنا، اور موجودہ بینچ میں چھ نئے ججز شامل ہیں، یہ آٹھ ججز کا نہیں، گیارہ ججز کا فیصلہ تھا۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ نظرثانی کی درخواست صرف اقلیتی فیصلے کے خلاف دائر کی گئی فیصل صدیقی نے کہا کہ نظرثانی درخوا ست میں جسٹس جمال مندوخیل کے فیصلے پر انحصار کیا گیا ہے، میں اپنی سات گزارشات عدالت کے سامنے رکھوں گا‘۔

    فیصل صدیقی نے کہا پہلے اسی اعتراض کا جواب دوں گا کہ پی ٹی آئی فریق نہیں تھی تو ریلیف کیسے دیا گیا؟‘ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی انتخابات تسلیم نہیں کیے اور ان کا انتخابی نشان واپس لے لیا، یہی وہ نکتہ تھا جہاں سے تنازعہ شروع ہوا۔

    جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ یہ حقائق ہمارے سامنے نہیں ہیں،جس پر فیصل صدیقی نے کہا کہ اگر میں یہ حقائق نہیں بتاؤں گا تو نئے ججز کو تنازعہ سمجھ نہیں آئے گا،الیکشن کمیشن کے فیصلے کو سپریم کورٹ نے برقرار رکھا۔

    جسٹس مسرت ہلالی نے سوال کیا کہ کیا اس فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا؟‘ فیصل صدیقی نے جواب دیا کہ ’سلمان اکرم راجہ نے چیلنج کیا، اس کا ذکر رپورٹڈ فیصلے میں موجود ہے،جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ سپریم کورٹ نے صرف انتخابی نشان کا فیصلہ کیا تھا، پارٹی برقرار تھی، جس پر فیصل صدیقی نے کہا کہ دس ججز نے قرار دیا کہ الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ فیصلے کی غلط تشریح کی۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ کیا پی ٹی آئی نے اس فیصلے کی غلط تشریح کو چیلنج کیا؟ فیصل صدیقی نے جواب دیا کہ سلمان اکرم راجہ نے ریٹرننگ افسر کا فیصلہ چیلنج کیا تھا،ریٹرننگ افسر نے سلمان اکرم راجہ کو پی ٹی آئی امیدوار تسلیم نہیں کیا، جس پر سلمان اکرم راجہ نے ہائیکورٹ سے رجوع کیا اور کیس ریمانڈ کر دیا گیا جسٹس جمال مندوخیل نے پوچھا کہ کیا سلمان اکرم راجہ نے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی؟

    جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیئے پی ٹی آئی نے خود ہی سمجھ لیا تھا کہ وہ سیاسی جماعت نہیں رہی، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ پی ٹی آئی خود کو پارٹی سمجھتی تھی تب ہی ٹکٹ جاری کیے تھے،فیصل صدیقی نے بتایا کہ سنی اتحاد کونسل نے مخصوص نشستوں کے حصول کے لیے درخواست دائر کی، جبکہ ن لیگ، پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم اور جے یو آئی نے بھی درخواستیں دائر کیں جن میں کہا گیا کہ سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ دی جائیں بلکہ یہ نشستیں انہیں دی جائیں۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ یہ اصل کیس تھا، فیصل صدیقی نے نشاندہی کی کہ ان جماعتوں کو ان کی متناسب نمائندگی کے مطابق نشستیں مل چکی تھیں، جبکہ مخصوص نشستوں سے متعلق قومی اور صوبائی اسمبلی کی 78 نشستیں ہیں جن پر تنازع ہے اگر یہ نشستیں دیگر سیاسی جماعتوں کو دے دی جائیں تو حکومت کو دو تہائی اکثریت مل جائے گی، اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ یہ متنازعہ دو تہائی اکثریت ہو گی، جس روز انتخابی نشان الاٹ ہونا تھا، اسی روز سپریم کورٹ نے انٹرا پارٹی انتخابات کا فیصلہ دیا-

    جس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ جی ہاں، جو رات تک کیس سنا گیا اور فیصلہ دیا گیا، فیصل صدیقی نے کہا کہ اسی روز تحریک انصاف نے ایک نشان پر الیکشن لڑنے کے لیے تحریک انصاف نظریاتی کے ٹکٹس جمع کرائے، کچھ دیر بعد پی ٹی آئی نظریاتی کے چیئرمین نے میڈیا پر آ کر ٹکٹس سے انکار کر دیا، جس کے بعد الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کو نشان دینے سے انکار کر دیا۔

    وکیل فیصل صدیقی ن بتایا کہ مخدوم علی خان نے اعتراض اٹھایا تھا کہ یہ درخواست پشاور ہائیکورٹ میں قابلِ سماعت نہیں تھی، جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ کہا انتخابی نشان نہ دینا الیکشن کمیشن کا فیصلہ تھا یا سپریم کورٹ کا؟‘ جس پر فیصل صدیقی نے کہا کہ انتخابی نشان نہ دینا الیکشن کمیشن کا فیصلہ تھا، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ سپریم کورٹ میں تو صرف تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی الیکشن کا مقدمہ تھا۔

    فیصل صدیقی نے عدالت میں اکثریتی فیصلے کے پیرا گراف پڑھ کر سنائے اس پر جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ حقائق پر تو کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہے، جسٹس جمال مندوخیل نے نشاندہی کی کہ الیکشن کے دوران بھی تحریک انصاف نے سرٹیفیکیٹس جمع کروائے۔

    جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیئے کہ فیصلے میں آدھے جیتے ہوئے امیدواروں کو حق دیا گیا کہ کسی سیاسی جماعت میں جائیں، کیا بہتر نہ ہوتا کہ تمام امیدواروں کو یہ حق دیا جاتا؟ فیصل صدیقی نے جواب میں کہا کہ آپ درست کہہ رہے ہیں، میری ہار میں ہی میری جیت ہے۔

    اس موقع پر جسٹس مسرت ہلالی نے سوال اٹھایا کہ آپ سنی اتحاد کونسل کے وکیل ہیں، آپ پی ٹی آئی کی نمائندگی کیسے کر سکتے ہیں؟‘ اسی نقطے پر مرکزی کیس میں بھی آپ سے سوال پوچھا گیا تھا، کیا آپ نے تحریک انصاف کی نمائندگی کے لیے اجازت لی ہے‘

    فیصل صدیقی نے وضاحت دی کہ کیس کے حقائق کی وجہ سے مجھے اس اجازت کی ضرورت نہیں، سپریم کورٹ کے فیصلے پر الیکشن کمیشن نے عملدرآمد نہیں کیا، لہٰذا وہ امیدوار آج بھی سنی اتحاد کونسل کے ہیں، جب تک فیصلے پر عملدرآمد نہیں ہوتا، ان امیدواروں کو سنی اتحاد کونسل کا مانا جائے گا۔

    سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ نظرثانی درخواستیں ناقابل سماعت ہیں انہوں نے آرٹیکل 63 اے کے نظرثانی کیس سمیت دیگر عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نظرثانی صرف ان نکات پر ہوسکتی ہے جہاں فیصلے میں کوئی غلطی یا قانونی نقص ہو۔

    فیصل صدیقی نے عدالت سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ وہ یہ بات کرنا چاہتے ہیں کہ نظرثانی کن نکات پر ممکن ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مخصوص نشستوں کے خلاف دائر نظرثانی درخواستیں قابل سماعت نہیں ہیں کیونکہ ان میں وہ قانونی بنیاد موجود نہیں جس کی بنیاد پر نظرثانی کی جا سکے۔

    عدالت نے سماعت کے بعد کیس کو 29 مئی تک ملتوی کر دیا سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی اپنے دلائل جاری رکھیں گے۔

  • اسلام آباد ہائیکورٹ میں سینیارٹی کیسے اور کس اصول کے تحت دی گئی؟، جسٹس نعیم اختر افغان

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں سینیارٹی کیسے اور کس اصول کے تحت دی گئی؟، جسٹس نعیم اختر افغان

    پریم کورٹ میں ججز ٹرانسفر کیس میں جسٹس نعیم اختر افغان نے کہاکہ جسٹس ڈوگر کا لاہور ہائیکورٹ میں سینیارٹی لسٹ میں 15واں نمبر تھا، اسلام آباد ہائیکورٹ میں سینیارٹی کیسے اور کس اصول کے تحت دی گئی۔

    سپریم کورٹ میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کی ٹرانسفر سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی،دورانِ سماعت اٹارنی جنرل نے دلائل مکمل کرتے ہوئے عدالت سے استدعا کی کہ اسلام آباد ہائیکورٹ ججز کی درخواست کو میرٹ پر مسترد کیا جائے جبکہ دیگر درخواستوں کو ناقابلِ سماعت قرار دے کر خارج کیا جائے۔

    سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں ٹرانسفرنگ ججز کی نئی تقرری نہیں ہوئی اور ان ججز کو نئے حلف کی بھی ضرورت نہیں سپریم کورٹ قرار دے چکی ہے کہ سنیارٹی تقرری کے دن سے شروع ہوگی۔

    جسٹس شکیل احمد نے کہا کہ سیکرٹری لاء نے ٹرانسفرنگ ججز کی حلف نہ اٹھانے کی وضاحت کیوں دی؟ جس پر اٹارنی جنرل نے وضاحت کی کہ ایڈوانس کی منظوری کے بعد ججز کے نوٹیفکیشن میں ابہام نہ ہو، اس لیے وضاحت دی گئی اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ججز کی سنیارٹی کا تعین کیا اور وہ اس میں مکمل طور پر آزاد تھے چار ہائیکورٹس کے چیف جسٹسز اور رجسٹرارز کی رپورٹس میں ججز کے تبادلے پر کوئی سوال نہیں اٹھایا گیا۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ ججز کی ریپریزنٹیشن اور فیصلے کو درخواست گزار وکلاء نے دلائل میں ذکر تک نہیں کیا، اور کسی نے ریپریزنٹیشن اور فیصلے کو پڑھا نہ ہی دلائل دیے ریپریزنٹیشن میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز نے کیا استدعا کی تھی؟ جس پر اٹارنی جنر ل نے بتایا کہ ججز نے ٹرانسفرنگ ججز کے دوبارہ حلف اٹھانے پر سنیارٹی کے تعین کی استدعا کی تھی، جسٹس مظہر نے کہا کہ عدالت کو درخواست گزار ججز کے وکلاء نے تمام باتیں نہیں بتائیں۔

    اٹارنی جنرل نے آئین کے آرٹیکل 200 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ججز ٹرانسفرز کا طریقہ اس آرٹیکل میں واضح ہے اور اس پر ویٹو پاور عدلیہ کو دی گئی ہے، ایگزیکٹیو کو نہیں، ججز کے ٹرانسفر کے وقت تمام چیف جسٹسز نے اپنی آمادگی ظاہر کی تھی۔

    جسٹس صلاح الدین نے اعتراض کیا کہ سینیارٹی کے معاملے پر کسی چیف جسٹس سے رائے نہیں لی گئی اٹارنی جنرل کا مؤقف تھا کہ سنیارٹی کوئی ایسا معاملہ نہیں تھا جسے چیف جسٹسز کے علم میں لایا جاتا، اور یہ تعین اسلام آباد ہائیکورٹ کے اُس وقت کے چیف جسٹس کا اختیار تھا۔

    جسٹس نعیم اختر افغان نے سوال اٹھایا کہ ججز کے ٹرانسفر کے حوالے سے کون سا اصول اپنایا گیا اور کیوں جسٹس سرفراز ڈوگر کو ٹرانسفر کے لیے چنا گیا؟ انہوں نے نشاندہی کی کہ جسٹس ڈوگر لاہور ہائیکورٹ میں سنیارٹی میں 15ویں نمبر پر تھے اور اسلام آباد ہائیکورٹ میں پہلے نمبر پر آ گئے۔

    جسٹس صلاح الدین نے کہا کہ دوسرے ہائیکورٹس سے ججز ٹرانسفر ہو کر آئے تو اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کو سنیارٹی طے کرنے کا اختیار نہیں تھا، جبکہ اٹارنی جنرل نے کہا کہ چونکہ ججز اسلام آباد ہائیکورٹ میں ٹرانسفر ہو چکے تھے، اس لیے چیف جسٹس ہی مجاز تھے،جسٹس صلاح الدین نے کہا کہ یہ طے ہونا ابھی باقی ہے کہ ٹرانسفر شدہ ججز اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز ہیں یا پرانی ہائیکورٹس کے۔

    جسٹس شکیل احمد نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ تین سوالات پر عدالت کی معاونت کی جائے اگر یہ ٹرانسفرز مستقل ہیں تو ججز کی تعیناتی آئین کے آرٹیکل 175 اے کے ذریعے ہونی چاہیے، بلوچستان ہائیکورٹ سے جو ججز ٹرانسفر ہوئے، وہ ایڈیشنل ججز ہیں، اور سوال اٹھایا کہ ان کی کارکردگی کو کون جانچے گا، بلوچستان ہائیکورٹ یا اسلام آباد ہائیکورٹ کا چیف جسٹس؟ ٹرانسفر کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ کی ججز انتظا می کمیٹی پر کیا اثر پڑا؟

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ اٹھارہویں ترمیم میں آرٹیکل 175 اے شامل ہوا مگر آئین سازوں نے آرٹیکل 200 کو نہیں نکالا یہ قابل قبول نہیں کہ آرٹیکل 175 اے کے بعد ججز کا آرٹیکل 200 پر تبادلہ نہ ہو سکے جسٹس شکیل احمد نے کہا کہ ججز کا تبادلہ آرٹیکل 200 کے تحت عوامی مفاد میں ہوگا، اور پوچھا کہ یہاں ججز کے تبادلہ میں عوامی مفاد کیا تھا کیونکہ نوٹیفکیشن میں اس کا ذکر نہیں، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ججز کے ٹرانسفر پر سیفٹی وال لگا ہے۔

    جسٹس نعیم افغان نے سوال کیا کہ کیا آرٹیکل 200 کے ذیلی سیکشن 1 اور 2 کو ایک ساتھ پڑھا جائے اور آیا تبادلہ عبوری ہوگا؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ عارضی تبادلے کی صورت میں اضافی الاؤنسز ملتے ہیں جبکہ مستقل تبادلہ ہو تو کوئی اضافی الاؤنس نہیں ملتا، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ذیلی سیکشن کی زبان واضح نہیں ہے اور نوٹیفکیشن میں یہ ذکر بھی نہیں کہ ٹرانسفر مستقل ہے یا عارضی۔

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ ٹرانسفر ججز میں کسی نے عارضی یا مستقل ٹرانسفر کا اعتراض نہیں اٹھایا اور تمام سے مستقل ٹرانسفر کی رضامندی لی گئی تھی۔

    سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے جوڈیشل کمیشن کے اجلاسوں کے منٹس آف میٹنگ بھی طلب کر لیے جسٹس نعیم اختر افغان نے 17 جنوری اور 10 فروری کے جوڈیشل کمیشن اجلاسوں کی تفصیلات طلب کیں جسٹس محمد علی مظہر نے اٹارنی جنرل سے پوچھا کہ ان اجلاسو ں میں کیا ہوا تھا؟ جس پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ 17 جنوری کے اجلاس میں اسلام آباد ہائیکورٹ میں دو ایڈیشنل ججز کی تقرری ہوئی جبکہ 10 فروری کے اجلاس میں جسٹس عامر فاروق کی سپریم کورٹ میں تقرری ہوئی۔

    جسٹس افغان نے پوچھا کہ کیا 10 فروری کے اجلاس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز لسٹ میں جسٹس ڈوگر بھی شامل تھے؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ جی، وہ لسٹ میں شامل تھے مگر ان کے نام پر غور نہیں ہوا، عدالت نے کیس کی مزید سماعت 29 مئی تک ملتوی کر دی۔