Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو درپیش چیلنجز

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو درپیش چیلنجز

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سبکدوش ہونے والے چیف جسٹس عمر بندیال کے بعد پاکستان کے 29 ویں چیف جسٹس کا عہدہ سنبھال لیا ہے۔ تاہم، انہیں بہت سے اہم مسائل ورثے میں ملے ہیں جو فوری توجہ اور حل کے طالب ہیں۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو جن اہم ترین خدشات کو دور کرنے کی ضرورت ہے ان میں سے ایک وہ تاثر ہے جو ان کے پیشرو کے دور میں پیدا ہوا تھا۔ یہ خیال کیا جاتا تھا کہ بنچ بنیادی طور پر ججوں کے نظریات لے کر تشکیل دیے گئے تھے، جس کے نتیجے میں متوقع نتائج نکلتے ہیں، خاص طور پر سابق وزیر اعظم خان کے معاملات میں۔ اس طرز عمل نے سپریم کورٹ کی تقسیم میں اہم کردار ادا کیا، اور اس کے فیصلوں کو اکثر عوام کی طرف سے شکوک و شبہات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس تاثر کو تبدیل کرنے کے لیے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو نہ صرف بینچ کی تشکیل کو متنوع بنانا چاہیے بلکہ مزید جامع نقطہ نظر کو بھی یقینی بنانا چاہیے۔ ایک مثالی مثال مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی جانب سے چیف جسٹس کے اختیارات کو روکنے اور پنجاب میں انتخابات سے متعلق ایک اور قانون سازی کا جائزہ لینے کے لیے فل کورٹ کے قیام کی بار بار درخواستیں ہیں۔ پچھلی انتظامیہ کے دوران ان درخواستوں کو مسلسل مسترد کیا گیا۔

    یہ مسئلہ سپریم کورٹ (پریکٹس اینڈ پروسیجرز) ایکٹ 2023 سے براہ راست جڑا ہوا ہے، جس میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ مفاد عامہ کے کسی بھی معاملے کو تین سینئر ججوں پر مشتمل بنچ کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ ایک قابل ذکر اقدام میں، سابق چیف جسٹس کی سربراہی میں آٹھ رکنی بنچ نے 13 اپریل کو اس قانون کے نفاذ کو معطل کر دیا۔

    ایک اور اہم چیلنج جس کا چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو سامنا ہے وہ ہے 56,000 سے زائد مقدمات کا، کافی پسماندہ افراد جو حل کے منتظر ہیں۔ سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے دور میں، یہ مقدمات اکثر سابق وزیر اعظم خان کی طرف سے سیاسی معاملات مسلسل لانے کی وجہ سے رہ گئے اور ان کے فیصلے نہ ہو سکے۔ مسٹر سے خطاب کرنے کے لئے "آدھی رات کی عدالتوں” کے تصور کا تعارف۔ خان کی شکایات نے ایک مخصوص فرد کے ساتھ ترجیحی سلوک کا تاثر پیدا کیا۔ لارڈ چیف جسٹس ہیورٹ کے الفاظ میں، "انصاف نہ صرف ہونا چاہیے، بلکہ ہوتا ہوا بھی نظر آنا چاہیے” (Rex v. Sussex Justices، [1924] 1 KB 256)۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    مختلف شہروں میں پیٹرول اور ڈیزل کی سپلائی بند
    حلقہ بندی کمیٹیوں ہر صورت 26 ستمبر تک کام مکمل کرنے کی ہدایت
    سانحہ بلدیہ ٹاؤن:طلبی کے باوجودعدالت سیکرٹری داخلہ اور آئی جی کے پیش نہ ہونے پر برہم
    پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں پر فنکاروں کا رد عمل
    اسلام آباد پولیس اور غیر ملکی شہریوں کے درمیان جھگڑا؟
    یقینا چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو متعدد چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں بینچ کی تشکیل میں اصلاحات، فیصلہ سازی کے عمل میں شفافیت کو یقینی بنانا، اور کیسز کے بھاری بھرکم بوجھ کو تیزی سے حل کرنا شامل ہیں۔ ان کو اپنی مدت کے دوران دیکھتے ہیں کہ وہ سپریم کورٹ آف پاکستان کی سالمیت اور ساکھ کو برقرار رکھنے کے لیے ان چیلنجوں کو کس حد تک مؤثر طریقے سے نمٹتے ہیں۔

  • سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ،بنچ تاخیرکا شکار

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ،بنچ تاخیرکا شکار

    اسلام آباد: سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیخلاف سماعت آج 18 ستمبرکو ہوگی چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں فل کورٹ سماعت کرے گا۔

    باغی ٹی وی: چیف جسٹس پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے حلف اٹھانے کے بعد سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے خلاف سماعت کے لئے فل کورٹ بنانے کا فیصلہ کیا، چیف جسٹس فائزعیسی کا پہلا بنچ ہی تاخیرکا شکارہوگیا سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے درخواستوں پر سماعت ساڑھے 9 بجے مقرر کی گئی تھی تاہم مقررہ وقت گزرنے کے باوجود 10 بجے بھی بنچ نہ پہنچ سکا چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں فل کورٹ اجلاس جاری ہے اور تاخیرکی وجہ براہ راست نشریات کیلئے ہونے والی فل کورٹ میٹنگ ہے۔

    سائفر کیس:چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت پر ایف آئی اے کو نوٹس جاری

    چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی سربراہی میں فُل کورٹ کے دیگرارکان میں جسٹس سردارطارق مسعود، جسٹس اعجازالحسن، جسٹس سید منصورعلی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس امین الدین خان، جسٹس سید مظہرعلی اکبر نقوی، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ اے ملک، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس اطہرمن اللہ، جسٹس سید حسن اظہررضوی اور جسٹس شاہد وحید شامل ہیں رجسٹرار آفس کی جانب سے اٹارنی جنرل، و فاقی سیکریٹری قانون سمیت تمام فریقین کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔

    چیئرمین پی ٹی آئی کی بیٹوں سے ٹیلیفونک ملاقات نہ کروانے پر سپرنٹنڈنٹ اٹک جیل …

    سپریم کورٹ کا فل کورٹ ایجنڈا جاری کردیا گیا جس میں عدالتی کارروائی کی لائیو اسٹریمنگ اور کیسز کی سماعتوں کو موثر بنانے کے لیے گائیڈ لائنز بھی ایجنڈے میں شامل ہےفُل کورٹ ایجنڈے کے مطابق سپریم کورٹ میں زیر التوا مقدمات کو ترجیحی بنیادوں پر دیکھا جائے گا سابق چیف جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں8 رکنی بینچ نے سپریم کورٹ بارایوسی ایشن کی درخواست حکم امتناع جاری کیا تھا۔

    عدالت آنے والے لوگوں سے مہمان جیسا سلوک کریں،چیف جسٹس

    اس قانون میں چیف جسٹس کے ازخود نوٹس اختیارات سمیت مختلف مقدمات کی سماعت کے لیے بینچ تشکیل دینے کے لیے سپریم کورٹ کے تین سینیئر ججز پر مشتمل کمیٹی بنانے کا کہا گیا تھا یہ کیس 15 ستمبر بروز جمعہ کو رجسٹرار آفس کی جانب سے سپریم کورٹ میں 18 ستمبر کو سماعت کے لئے مقرر کیا گیا تھا، اور رجسٹرار آفس نے فریقین کو نوٹسز جاری کردیئے تھے۔

    بالی ووڈ اداکارہ زرین خان کے وارنٹ گرفتاری جاری

  • عدالت آنے والے لوگوں سے مہمان جیسا سلوک کریں،چیف جسٹس

    عدالت آنے والے لوگوں سے مہمان جیسا سلوک کریں،چیف جسٹس

    اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے عملے کو ہدایت کی ہےکہ عدالت آنے والے لوگوں سے مہمان جیسا سلوک کریں۔

    باغی ٹی وی: سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پاکستان کے 29 ویں چیف جسٹس کی حیثیت سے عہدے کا حلف اٹھایاچیف جسٹس پاکستان قاضی فائزعیسیٰ پہلےروز بغیر پروٹوکول سپریم کورٹ پہنچے اور وہ اپنی ذاتی گاڑی میں عدالت آئے جہاں عملے نے ان کا استقبال کیا۔

    اس موقع پر عملے سے گفتگو میں چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ آج میری بہت ساری میٹنگز اور فل کورٹ ہے، آپ لوگوں سے تفصیلی ملوں گا، آپ سب کا تعاون چاہیےلوگ سپریم کورٹ خوشی سے نہیں آتے، اپنے مسائل ختم کرنے کیلئے عدالت آتے ہیں لہٰذا آنے والے لوگوں سے مہمان جیسا سلوک کریں یقیناً کچھ لوگوں کو پریشانی ہوتی ہے، انصاف کے دروازے کھلے اور ہموار رکھیں، آنے والے لوگوں کی مدد کریں۔

    چیف جسٹس پاکستان کےحلف کیساتھ سپریم جوڈیشل کونسل اورجوڈیشل کمیشن میں بھی اہم تبدیلیاں

    چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نےسماعت کے لیے پہلا بینچ تشکیل دیدیا

    سپریم کورٹ کی پہلی خاتون رجسٹرار

    علاوہ ازیں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے گارڈ آف آنر لینے سے انکار کرتے ہوئے پولیس کو اپنی ذمہ داری دل جمی سے ادا کرنے کی ہدایت کردی،اسلام آباد پولیس کی جانب سے چیف جسٹس کو گارڈ آف آنر پیش کیا جانا تھا، پولیس نے سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کو بھی گارڈ آف آنر دیا تھا۔

    دوسری جانب سپریم کورٹ میں سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے خلاف درخواستوں پر سماعت آج ہو گی چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پہلے عدالتی دن پر فل کورٹ کی سربراہی کریں گے، سپریم کورٹ کے 15 ججز پر مشتمل فل کورٹ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کی سماعت کرے گاسپریم کورٹ کے 8 رکنی بینچ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ پر 13 اپریل کو عملدرآمد روکا تھا-

    چیف جسٹس قاضی فائزعیسی نے گارڈ آف آنرلینے سے انکار کردیا

  • چیف جسٹس قاضی فائزعیسی نے گارڈ آف آنرلینے سے انکار کردیا

    چیف جسٹس قاضی فائزعیسی نے گارڈ آف آنرلینے سے انکار کردیا

    اسلام آباد: چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائزعیسی نے گارڈ آف آنرلینے سے انکار کردیا۔

    باغی ٹی وی: جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے گارڈ آف آنر لینے سے انکار کرتے ہوئے پولیس کو اپنی ذمہ داری دل جمی سے ادا کرنے کی ہدایت کردی،اسلام آباد پولیس کی جانب سے چیف جسٹس کو گارڈ آف آنر پیش کیا جانا تھا، پولیس نے سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کو بھی گارڈ آف آنر دیا تھا۔

    دوسری جانب سپریم کورٹ میں سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے خلاف درخواستوں پر سماعت آج ہو گی چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پہلے عدالتی دن پر فل کورٹ کی سربراہی کریں گے، سپریم کورٹ کے 15 ججز پر مشتمل فل کورٹ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کی سماعت کرے گاسپریم کورٹ کے 8 رکنی بینچ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ پر 13 اپریل کو عملدرآمد روکا تھا-

    چیف جسٹس پاکستان کےحلف کیساتھ سپریم جوڈیشل کونسل اورجوڈیشل کمیشن میں بھی اہم تبدیلیاں

    چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نےسماعت کے لیے پہلا بینچ تشکیل دیدیا

    سپریم کورٹ کی پہلی خاتون رجسٹرار

  • چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نےسماعت کے لیے پہلا بینچ تشکیل دیدیا

    چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نےسماعت کے لیے پہلا بینچ تشکیل دیدیا

    اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد سماعت کے لیے پہلا بینچ تشکیل دیدیا۔

    باغی ٹی وی : جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے گزشتہ کئی ماہ سے یہ مؤقف اختیار کر رکھا تھا کہ جب تک سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کا فیصلہ نہیں ہوتا وہ کسی بھی بینچ کا حصہ نہیں بنیں گے اور انہوں نے اس بات کا اظہار ملٹری کورٹ سے متعلق کیس کے بینچ سے علیحد ہوتے وقت بھی کیا تھااب انہوں نے آج اپنےعہدے کا حلف اٹھانے کےبعد سماعت کے لیے پہلا بینچ تشکیل دے دیا ہے جس کی سماعت کل بروز پیر کو ہو گی، کیس کی سماعت سپریم کورٹ کا 14 رکنی فل کورٹ کرے گا۔

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ چیف جسٹس پاکستان کے اختیارات سے متعلق ہے جسے پارلیمنٹ سے منظور کیا تھا تاہم سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 8 رکنی لارجر بینچ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ پر حکم امتناع دیا تھا۔

    چیف جسٹس پاکستان کےحلف کیساتھ سپریم جوڈیشل کونسل اورجوڈیشل کمیشن میں بھی اہم تبدیلیاں

    یاد رہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے 29 ویں چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدے کا حلف اٹھا لیا،چیف جسٹس پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے حلف لینے کے بعد سپریم جوڈیشل کونسل اور جوڈیشل کمیشن میں بھی اہم تبدیلیاں ہوگئی ہیں، اور جسٹس اعجازالاحسن سپریم جوڈیشل کونسل کے رکن بن گئے ہیں،چیف جسٹس پاکستان کے حلف کے ساتھ ہی سپریم جوڈیشل کونسل اور جوڈیشل کمیشن میں بھی اہم تبدیلیاں سامنے آئی ہیں۔

    آئین کے مطابق چیف جسٹس اور 2 سینئر ججزسپریم جوڈیشل کونسل کا حصہ ہوتے ہیں، جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے چیف جسٹس کا حلف اٹھالیا ہے، اور اب جسٹس اعجازالاحسن سپریم جوڈیشل کونسل کے رکن بن گئے ہیں، جب کہ جسٹس سردار طارق پہلے ہی سپریم جوڈیشل کونسل کاحصہ ہیں دوسری جانب جسٹس منیب اختر ججز تقرری کیلئےقائم جوڈیشل کمیشن کا حصہ بن گئےہیں، جب کہ جسٹس سردار طارق، جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس منصورعلی شاہ پہلے ہی کمیشن کا حصہ ہیں۔

    آئی ایم ایف کےایجنڈے کو پوری طاقت سےآگےبڑھایا جا رہا ہے،حافظ نعیم

    واضح رہے کہ جوڈیشل کمیشن کے سربراہ چیف جسٹس اور4 سینئر ججزرکن ہوتے ہیں، جب کہ کمیشن کے دیگر ارکان میں ایک ریٹائرڈ جج، وزیرقانون اور اٹارنی جنرل شامل ہوتے ہیں پاکستان بار کونسل کا ایک نمائندہ بھی جوڈیشل کمیشن کا حصہ ہوتا ہے۔

  • نیب ترامیم سےمتعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ افسوسناک ہے،شہباز شریف

    نیب ترامیم سےمتعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ افسوسناک ہے،شہباز شریف

    لندن: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہبازشریف نے کہا ہے کہ نیب ترامیم سےمتعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ افسوسناک ہے-

    باغی ٹی وی: شہباز شریف نے کہا ہے کہ نیب ترامیم سےمتعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ افسوسناک ہے، ایک ڈکٹیٹر کے قانون کو بحال کیا گیا چیئرمین پی ٹی آئی نے اپنے حواریوں کو این آر او دینے کے لیے دو بار نیب قانون تبدیل کیا سپریم کورٹ کے نیب ترمیم فیصلے پر بات کرتے ہوئے صدر ن لیگ کا کہنا تھا کہ متنازع فیصلے آئے ہیں، پارلیمنٹ کے پاس کردہ قانون کو مسترد کیا گیا۔

    انہوں نے مزید کہا کہ پوچھنا چاہتا ہوں صدارتی آرڈیننس کے وقت جسٹس عمرعطا کہاں تھے،بے بنیاد جھوٹے مقدمات میں نوازشریف کے خلاف فیصلے ہوئے،صدر ن لیگ نے راجہ ریاض کے پارٹی میں شمولیت کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ سینئر سیاستدان کی ن لیگ میں شمولیت سے پارٹی کو تقویت ملےگی۔

    راجہ ریاض نے ن لیگ میں شمولیت اختیار کرلی

    واضح رہے کہ لندن میں راجہ ریاض نے مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف اور صدر شہباز شریف سے ملاقات کی اور راجہ ریاض نے مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کر لی اس سے قبل راجہ ریاض کا کہنا تھاکہ ملاقات میں سیاسی گفتگو ہوگی، نوازشریف کی واپسی اورالیکشن بھی موضوع ہوں گے آئندہ چنددنوں میں اہم فیصلے ہوں گے، میں نے 15 فروری انتخابات کی تاریخ دی ہے، اس سے ہفتہ پہلے یا بعد میں ہوں گے نواز شریف کا زبردست استقبال ہوگا، ان کا اپنا ووٹ بینک ہے، مسلم لیگ پرانی جماعت ہے، اس کے فالوورز گہرائی تک ہیں، ن لیگ کو انتخابات سے بھاگنا ہوتا تو نوازشریف واپس نہ جارہے ہوتے، جوفیصلہ ہوگا بتاکر جاؤں گا۔

    سیاسی جماعت کا عوام کو پیٹرول 165 فی لیٹر فراہم کرنے کا اعلان

  • 90 روز میں الیکشن: تحریک انصاف نے رجسٹرار آفس کے اعتراضات کیخلاف اپیل دائر کردی

    90 روز میں الیکشن: تحریک انصاف نے رجسٹرار آفس کے اعتراضات کیخلاف اپیل دائر کردی

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے الیکشن 90 روز میں کرانے کی درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات کو چیلنج کردیا۔

    باغی ٹی وی:دو روز قبل تحریک انصاف نے 90 دن میں انتخابات کیلئے سپریم کورٹ میں آرٹیکل 184(3) درخواست دائر کی تھی سپریم کو رٹ نے پی ٹی آئی کی 90 روز میں انتخابات کرانے کی آئینی درخواست اعتراض لگا کر واپس کردی تھی پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ میں آرٹیکل 184/3 درخواست دائر کی تھی رجسٹرار آفس نے پی ٹی آٸی کو تحریری طور پر آگاہ کردیا تھا، در خواست گزار نے کسی متعلقہ فورم سے رجوع نہیں کیا، درخواست میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ کونسا بنیادی حق متاثر ہوا ہے۔

    سائفرگمشد گی کیس:چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت سماعت کیلئے مقرر

    جس کے بعد تحریک انصاف نے رجسٹرار آفس کے اعتراضات کیخلاف اپیل دائر کردی اپیل میں کہا گیا ہے کہ رجسٹرار نے درخواست ناقا بل سماعت ہونے کے اعتراضات لگا کر واپس کردی،رجسٹرار آفس کے اعتراضات جوڈیشل نوعیت کے ہیں درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ رجسٹرار آفس جوڈیشل نوعیت کے اعتراضات نہیں لگا سکتا،رجسٹرار آفس کے اعتراضات کو ختم کر کے درخواست سماعت کیلئے مقرر کی جائے-

    کوئٹہ میں ایرانی پٹرول کی مانگ میں اضافہ

  • میری حالت اب ڈوبتے سورج جیسی ، چیف جسٹس عمرعطا بندیال آبدیدہ ہو گئے

    میری حالت اب ڈوبتے سورج جیسی ، چیف جسٹس عمرعطا بندیال آبدیدہ ہو گئے

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے سپریم کورٹ افسران و اسٹاف کیساتھ الوداعی خطاب کیا ہے،

    چیف جسٹس عمر عطاء بندیال دوران خطاب آبدیدہ ہوگئے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نےخود کو ڈوبتے سورج سے تشبیہ دی اور کہا کہ آپ کیساتھ بطور سپریم کورٹ جج نو سال بڑے اچھے گزرے۔ میری حالت اب ڈوبتے سورج جیسی ہے۔ آپ لوگوں کا ابھی وقت پڑا ہے۔ آپ سب اپنی بھر پور لگن سے کام کریں۔ ملک کو معاشی و دیگر چیلیجز کا سامنا ہے۔ جب سب اکھٹے ہونگے تو یہ بحران نہیں رہے گا،میں جانتا ہوں آنے والا دور آپ کیلئے مشکل ہو گا،آپ سب نے صبر و تحمل سے اپنا کام کرنا ہے، آپ سب کے تعاون کا بہت بہت شکریہ۔

    چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطابندیال اپنی 65 سالہ آئینی مدت ملازمت مکمل کرنے کے بعد ہفتہ کے روزاپنے عہدے سے ریٹائرڈ ہوگئے، جسٹس عمر عطا بندیال نے دو فروری 2022 کو سابق چیف جسٹس گلزار احمد خان کی ریٹائرمنٹ کے بعد 3فروری 2022 کو پاکستان کے 28 ویں چیف جسٹس کے طور پر حلف اٹھایا تھا،عمر عطا بندیال نے بطور چیف جسٹس آف پاکستان تقریباً 19 ماہ اور14 روز تک خدمات انجام دیں ،

    نامزد چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ 17 ستمبر 2023ء کو اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے،سنیارٹی اسکیم کے مطابق جسٹس قاضی فائز عیسی 25 اکتوبر 2024 تک چیف جسٹس رہیں گے جس کے بعد 282 ایام کے لیے جسٹس اعجازالاحسن عہدے پر تعینات ہوں گے،بعدازاں 4 اگست 2025 سے جسٹس منصور علی شاہ عہدہ سنبھالیں گے۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جڑانوالہ آمد

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی بطور چیف جسٹس آف پاکستان تعیناتی

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    سردار تنویر الیاس کی نااہلی ، غفلت ، غیر سنجیدگی اور ناتجربہ کاری کھل کر سامنے آگئی 

  • نیب ترامیم کیس پر سپریم کورٹ کا فیصلہ، نیب اجلاس طلب

    نیب ترامیم کیس پر سپریم کورٹ کا فیصلہ، نیب اجلاس طلب

    نیب ترامیم کیس پر سپریم کورٹ کا فیصلہ، نیب اجلاس طلب کر لیا گیا

    چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نذیر احمد بٹ نے نیب کا اہم اجلاس پیر کو طلب کرلیا ،چیئرمین نیب پیر کے روز نیب ہیڈکوارٹرز میں اہم اجلاس کی صدارت کریں گے ،نیب نے ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل اکبر تارڑ کو قائم مقام پراسیکیوٹر جنرل تعینات کردیا ،پراسیکیوٹر جنرل نیب اصغر حیدر کے مستعفی ہونے کے بعد یہ عہدہ خالی ہوا تھا

    واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف سمیت تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے نیب ترامیم سے فائدہ اٹھایا ،سابق وزیر اعظم شہباز شریف اور سابق وفاقی وزراء بھی نیب ترامیم سے مستفید ہوئے ،سیاسی جماعتوں کے دیگر قائدین میں نواز شریف، آصف علی زرداری، مولانا فضل الرحمان، مریم نواز، فریال تالپور، اسحاق ڈار، خواجہ محمد آصف، خواجہ سعد رفیق، رانا ثناء اللہ، جاوید لطیف، مخدوم خسرو بختیار،عامر محمود کیانی، اکرم درانی،سلیم مانڈی والا، نور عالم خان، نواب اسلم رئیسانی،ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ، نواب ثناء اللہ زہری، برجیس طاہر، نواب علی وسان، شرجیل انعام میمن، لیاقت جتوئی، امیر مقام، گورم بگٹی، جعفر خان منڈووک، گورام بگٹی بھی نیب ترامیم سے مستفید ہوئے

    سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد نیب ترامیم سے مستفید ہونے والے تمام سیاسی قائدین کے کیسز بحال ہوگئے ، نیب ترامیم سے فائدہ اٹھانے والے عوامی عہدیداروں کے مقدمات اور انکوائریاں دوبارہ کھل گئیں سپریم کورٹ نے نیب کو 7 روز کے اندر کرپشن کے تمام کسیز کھولنے کے احکامات جاری کیے ،فیصلے کے بعد نیب نے تاحال کوئی مقدمہ بحال کیا نہ ہی کسی انکوائری کو دوبارہ شروع کیا

    نیب ترامیم فیصلے کے بعد نیب حکام کو پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیس کے فیصلے کا انتظار
    سپریم کورٹ کے گزشتہ روز کے فیصلے کے بعد نیب کیا کرے گی اندرونی کہانی سامنے آ گئی ،سپریم کورٹ کے نیب ترامیم کے فیصلے کے بعد نیب کو ایک اور بڑے فیصلے کا انتظار ہے،نیب حکام اس وقت سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے فیصلے کا انتظار کرہے ہیں ، نامزد چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیس لارجر بینچ کے سامنے سماعت کیلئے مقرر کررکھا ہے نیب حکام سمجھتے ہیں اگر پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ بحال ہوتا ہے تو نیب ترامیم کا فیصلہ کالعدم ہوجائے گا،جسٹس منصور علی شاہ نے بھی اپنے اختلافی نوٹ میں پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کا ذکر کیا،جسٹس منصور علی شاہ کا بھی موقف تھا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے بعد تین رکنی بینچ نیب ترامیم کیس کی سماعت نہیں کرسکتا

     میاں نواز شریف کی لیگل ٹیم نے ساری تیاری کر لی ہے،

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ سماعت کیلئے مقرر

    آئین ہماری اور پاکستان کی پہچان ، آئین کے محافظ ہیں، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    جسٹس قاضی فائز عیسی کیخلاف کیورواٹیو ریویو،اٹارنی جنرل چیف جسٹس کے چمبر میں پیش 

    حکومت صدارتی حکمنامہ کے ذریعے چیف جسٹس کو جبری رخصت پر بھیجے،امان اللہ کنرانی

    9 رکنی بینچ کے3 رکنی رہ جانا اندرونی اختلاف اورکیس پرعدم اتفاق کا نتیجہ ہے،رانا تنویر

    چیف جسٹس کے بغیر کوئی جج از خود نوٹس نہیں لے سکتا،

    سپریم کورٹ نے نیب قوانین کو کالعدم قراردے دیا ,

    سپریم کورٹ نے نیب ترامیم کی متعدد شقوں کو آئین کے برعکس قرار دے دیا.سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ کالعدم قرار دی شقوں کے تحت نیب قانون کے تحت کاروائی کرے ،سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ احتساب عدالتوں کے نیب ترامیم کی روشنی میں دیے گئے احکامات کالعدم قرار دیئے جاتے ہیں،آمدن سے زیادہ اثاثہ جات والی ترامیم سرکاری افسران کی حد تک برقرار رہیں گی،پلی بارگین کے حوالے سے کی گئی نیب ترمیم کالعدم قرار دے دی گئی ہیں،عوامی عہدوں پر بیٹھے تمام افراد کے مقدمات بحال کر دیئے گئے ہیں ، نیب ترامیم کے سیکشن 10 اور سیکشن14 کی پہلی ترمیم کالعدم قرار دی جاتی ہیں ،نیب کو سات دن میں تمام ریکارڈ متعلقہ عدالتوں بھیجنے کا حکم دیا گیا ہے،تمام تحقیقات اور انکوائریز بحال کرنے کا حکم دیا گیا ہے، نیب کو 50 کروڑ روپے سے کم مالیت کے کرپشن کیسز کی تحقیقات کی اجازت مل گئی،سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ کرپشن کیسز جہاں رکے تھے وہیں سے 7 روز میں شروع کیے جائیں،سپریم کورٹ نے نیب ترامیم کی کچھ شقیں کالعدم قراردی ہیں عدالت نے فیصلے میں کہا کہ نیب ترامیم سے مفاد عامہ کے آئین میں درج حقوق متاثر ہوئے نیب ترامیم کے تحت بند کی گئی تمام تحقیقات اور انکوائریز بحال کی جائیں

  • سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ سماعت کیلئے مقرر

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ سماعت کیلئے مقرر

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا پہلا اہم کیس،سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ سماعت کیلئے مقررکر دیا گیا

    سپریم کورٹ کا لارجر بینچ 18 ستمبر کو اہم کیس کی سماعت کریگا ،نئے چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں لارجر بینچ کیس کی سماعت کرے گا،رجسٹرار آفس نے سپریم کورٹ پریکٹس ایکٹ کو سماعت کے لیے مقرر کرنے کی کاز لسٹ جاری کردی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 8 رکنی لارجر بینچ نے سپریم کورٹ پریکٹس بل پر 13 اپریل کو عمل در آمد روک دیا تھا

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،جسٹس منصور علی شاہ کی فل کورٹ تشکیل دینے کی تجویز

    سپریم کورٹ نے 8 جون کی سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

     ریاست مخالف پروپیگنڈے کوبرداشت کریں گے نہ جھکیں گے۔

     چیف جسٹس عامر فاروق نے معاملے کا نوٹس لے لیا

    نیب ترامیم کیخلاف کیس سننے کیلٸے فل کورٹ تشکیل دینے یا پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ پر فیصلے تک کارروائی روکنے کی رائے دی

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دینے سے متعلق درخواست دائر کی گئی ہے ،سابق ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے آئینی درخواست سپریم کورٹ میں دائر کی۔ انہوں نے عدالت عظمیٰ سے آرٹیکل 3/183 اختیارات کے ریگولیٹ کا قانون کالعدم قرار دینے کی استدعا کی ،دائر کردہ درخواست میں کہا گیا ہے کہ عدلیہ کی آزادی اور عوام کے بنیادی حقوق کو سنگین خطرہ ہے، سیاسی لیڈر شپ کے اسمبلی کے اندر، باہر بیانات 3 رکنی بینچ کیلئے دھمکیوں کے مترادف ہیں۔ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دیا جائے، پارلیمنٹ کے قانون کو غیر آئینی قرار دیکر کالعدم کر دیا جائے۔

    آئین ہماری اور پاکستان کی پہچان ، آئین کے محافظ ہیں، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    جسٹس قاضی فائز عیسی کیخلاف کیورواٹیو ریویو،اٹارنی جنرل چیف جسٹس کے چمبر میں پیش 

    حکومت صدارتی حکمنامہ کے ذریعے چیف جسٹس کو جبری رخصت پر بھیجے،امان اللہ کنرانی

    9 رکنی بینچ کے3 رکنی رہ جانا اندرونی اختلاف اورکیس پرعدم اتفاق کا نتیجہ ہے،رانا تنویر

    چیف جسٹس کے بغیر کوئی جج از خود نوٹس نہیں لے سکتا،

     انصاف ہونا چاہیئے اور ہوتا نظر بھی آنا چاہیئے،

     عدالتوں میں کیسسز کا پیشگی ٹھیکہ رجسٹرار کو دے دیا جائے